Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ضلع اوکاڑہ میں میت منتقلی ایمبولنس سروس کا آغاز

    ضلع اوکاڑہ میں میت منتقلی ایمبولنس سروس کا آغاز

    اوکاڑہ(نامہ نگار ملک ظفر)وزیر اعلیٰ پنجاب کا عوام دوست اقدام، ضلع اوکاڑہ میں میت منتقلی ایمبولنس سروس کا آغاز، لواحقین کے لیے مفت سہولت فراہم کی جائے گی.

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کی خصوصی ہدایات پر پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام میت منتقلی ایمبولنس سروس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا۔
    اس سلسلے میں افتتاحی تقریب ریسکیو 1122 سنٹرل اسٹیشن اوکاڑہ میں منعقد ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی ممبر قومی اسمبلی چوہدری ریاض الحق تھے۔ تقریب میں ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال، ڈی ایچ او ڈاکٹر طارق اقبال طور، ریسکیو افسران اور اہلکاروں نے شرکت کی۔تقریب کے دوران ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ظفر اقبال نے میت منتقلی ایمبولنس سروس کے اغراض و مقاصد، طریقہ کار اور عوامی اہمیت کے حوالے سے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ دی۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر کے وژن کے مطابق عوام کو مزید بہتر، باوقار اور بروقت سہولیات کی فراہمی کے لیے یہ سروس شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ہسپتالوں سے میت کی منتقلی کی سہولت شہریوں کو مکمل طور پر مفت فراہم کی جائے گی۔ ریسکیو 1122 کا تربیت یافتہ عملہ میت کو مکمل عزت و احترام کے ساتھ مقررہ مقام تک منتقل کرے گا۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نے مزید کہا کہ اس سروس کا مقصد غم کی گھڑی میں لواحقین کو سہولت فراہم کرنا، مشکلات میں کمی لانا اور میت منتقلی کے اخراجات کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

    مہمانِ خصوصی چوہدری ریاض الحق نے میت منتقلی ایمبولنس سروس کے آغاز کو وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کا اہم اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 ہنگامی خدمات کے ساتھ ساتھ فلاحی شعبے میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سروس کے آغاز سے لواحقین کو مشکل وقت میں باوقار، بروقت اور مفت سہولت میسر آئے گی۔تقریب کے اختتام پر مہمانِ خصوصی اور دیگر شرکاء نے میت منتقلی ایمبولنسز کا معائنہ کیا۔

  • اوکاڑہ،پولیس کی چھ ماہ کی کارکردگی سامنے آ گئی

    اوکاڑہ،پولیس کی چھ ماہ کی کارکردگی سامنے آ گئی

    اوکاڑہ (نامہ نگار)ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے پہلے چھ ماہ 2026 کی کارکردگی کا گزشتہ سال کے اسی عرصہ (01 جنوری 2025 تا 30 جون 2025) سے تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اوکاڑہ پولیس نے مؤثر حکمت عملی، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، سخت قانونی کارروائی اور عوامی تعاون کے ذریعے سنگین جرائم میں نمایاں کمی لانے میں کامیابی حاصل کی۔
    انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر سنگین جرائم میں 56 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ قتل کے مقدمات گزشتہ سال کے 43 کے مقابلے میں رواں سال 36 رہے، جو 20 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسی طرح اقدام قتل کے مقدمات میں 58 فیصد، ڈکیتی و رابری میں 59 فیصد، وہیکل سنیچنگ میں 64 فیصد، موٹر سائیکل چوری میں 49.6 فیصد جبکہ نقب زنی کے مقدمات میں 48 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
    ڈی پی او اوکاڑہ نے بتایا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیوں کے نتیجے میں 2041 اشتہاری ملزمان، 395 عدالتی مفروران اور 498 ٹارگیٹڈ آفینڈرز کو گرفتار کیا گیا۔
    اسی طرح 70 خطرناک گینگز کا خاتمہ کر کے 195 ملزمان گرفتار کیے گئے ، گینگز کے قبضہ سے 6 کروڑ 34 لاکھ روپے مالیت کا مال مسروقہ برآمد کر کے معزز شہریوں کے حوالے کیا گیا۔
    منشیات فروشوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کے دوران 197 کلو گرام چرس، 8.32 کلو گرام آئس، 2.8 کلو گرام افیون، 1.1 کلو گرام ہیروئن اور 11,271 لیٹر شراب برآمد کی گئی۔ اسلحہ کی برآمدگی کے حوالے سے بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی گئیں۔
    ڈی پی او اوکاڑہ ڈاکٹر اسد اعجاز ملہی نے کہا کہ اوکاڑہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ، جرائم کے خاتمے اور قانون کی بالادستی کے لیے بھرپور عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ انداز میں جاری رہیں گی تاکہ ضلع اوکاڑہ کو مزید پرامن بنایا جا سکے۔

  • اوکاڑہ،حکام تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک

    اوکاڑہ،حکام تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)سب ڈویژنل انفورسمنٹ محمد بن علی تجاوزات کے خاتمے کے لیے متحرک، گول چوک اور 7 نمبر چونگی کے اطراف انسپکشن کے دوران دکانداروں کو مقررہ حدود تک کاروباری سرگرمیوں کی ہدایات، شہر کو تجاوزات سے پاک کرنے اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر محمد بن علی نے انفورسمنٹ ٹیم کے ہمراہ شہر کے مصروف ترین تجارتی مراکز گول چوک اور 7 نمبر چونگی کا دورہ کیا اور انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت سخت چیکنگ کی۔ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر محمد بن علی نے دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو سخت ہدایات جاری کیں کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں صرف اور صرف مقررہ حدود کے اندر ہی محدود رکھیں۔ انہوں نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر سامان سجانے اور ریڑھیاں کھڑی کر کے پیدل چلنے والوں اور ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ بننے والے عناصر کو موقع پر وارننگ دی۔ محمد بن علی نے کہا کہ گول چوک اور 7 نمبر چونگی شہر کے اہم ترین مقامات ہیں جہاں تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انتظامیہ کاروباری طبقے کے روزگار کو متاثر نہیں کرنا چاہتی، لیکن عوامی راستوں کو بلاک کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ دکاندار رضا کارانہ طور پر اپنی حدود سے باہر رکھا سامان ہٹا لیں، بصورتِ دیگر سامان بحق سرکار ضبط کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے اور دکانیں سیل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اس موقع پر انہوں نے انفورسمنٹ اسٹاف کو ہدایت کی کہ ان علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ جاری رکھیں تاکہ دوبارہ تجاوزات قائم نہ ہو سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہر کی خوبصورتی اور ٹریفک کا پہیہ بحال رکھنا بھی از حد ضروری ہے۔ گول چوک اور 7 نمبر چونگی پر دکانداروں اور ریڑھی بانوں کو وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنی کاروباری سرگرمیاں مقررہ حدود میں رکھیں۔ عوامی راستے شہریوں کا حق ہیں اور ان پر کسی کو قابض ہونے نہیں دیا جائے گا۔ وارننگ کے بعد خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی ایکشن لیا جائے گا۔

  • واٹر گن سے سیاحوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے والا 14 سالہ لڑکا ایک ہفتے میں دو بار گرفتار

    واٹر گن سے سیاحوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے والا 14 سالہ لڑکا ایک ہفتے میں دو بار گرفتار

    پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واٹر گن کے ذریعے سیاحوں، سائیکل سواروں اور موٹر سواروں کو ہراساں کرنے کے الزامات میں ایک 14 سالہ لڑکے کو ایک ہی ہفتے میں دو مرتبہ گرفتار کر لیا گیا۔

    فرانسیسی میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ نوجوان گزشتہ کئی ہفتوں سے پیرس کے مشہور سینٹ مارٹن کینال کے اطراف مختلف شرارتوں میں ملوث رہا۔ وہ خود کو سوشل میڈیا پر "کسٹمز آفیسر” قرار دیتا تھا اور شہریوں سے مذاق کے نام پر واٹر گن سے پانی چھڑکنے کے بدلے دو یورو طلب کرتا تھا۔رپورٹس کے مطابق نوجوان نے دعویٰ کیا کہ اسے یہ خیال الجزائر میں بعض بدعنوان کسٹمز اہلکاروں کے طرزِ عمل سے ملا، جہاں مبینہ طور پر رشوت دے کر تلاشی سے بچا جا سکتا ہے۔ اس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اکثر لوگوں پر پانی پھینک کر بغیر معذرت کیے وہاں سے بھاگ جاتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی دیگر ویڈیوز میں اسے نہر کے کنارے موجود ایک خاتون کو پانی میں دھکا دیتے، ایک برقی اسکوٹر پر کرسی باندھ کر گھومتے، نہر میں کرسی پھینکتے، مشروب کا کین چرانے اور ایک پولیس اہلکار پر پانی پھینکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ ایک اور ویڈیو میں اس پر ایک خاتون کے اپارٹمنٹ میں داخل ہو کر نامناسب رویہ اختیار کرنے کا بھی الزام سامنے آیا۔فرانسیسی اخباروں کے مطابق نوجوان کو 27 جون کو توڑ پھوڑ اور اجتماعی تشدد کے الزامات میں پہلی بار گرفتار کیا گیا، جبکہ چند روز بعد دوبارہ گرفتار کر کے اس پر سنگین چوری، پولیس اہلکاروں کی توہین اور گرفتاری میں مزاحمت کے الزامات عائد کیے گئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دوسری گرفتاری ایک ایسے واقعے کے بعد عمل میں آئی جس میں متعدد افراد پر ایک موبائل فون چھیننے کا الزام تھا۔ پولیس نے اس واقعے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔

    ادھر نوجوان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کا مؤکل سوشل میڈیا پر نسل پرستانہ تبصروں، دھمکیوں اور ہراسانی کا نشانہ بن رہا ہے۔ وکیل کے مطابق ایک کم عمر بچے کی شرارتوں کو غیر معمولی سیاسی تنازع بنا دیا گیا ہے، جبکہ مخالفین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کو معمولی شرارت قرار نہیں دیا جا سکتا اور والدین و حکام کو مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔واقعے نے فرانس میں کم عمر افراد کے جرائم، سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کی دوڑ اور والدین کی ذمہ داری سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

  • ٹک ٹاک پر داعش کی بدلتی حکمتِ عملی، نوجوانوں کو خفیہ انداز میں متاثر کرنے کی کوششیں

    ٹک ٹاک پر داعش کی بدلتی حکمتِ عملی، نوجوانوں کو خفیہ انداز میں متاثر کرنے کی کوششیں

    لندن: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ شدت پسند تنظیم داعش سے منسلک عناصر نے اپنی آن لائن سرگرمیوں کا طریقہ کار تبدیل کرتے ہوئے مختصر ویڈیوز کے پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر خفیہ اور جدید انداز میں اپنا بیانیہ پھیلانا شروع کر دیا ہے، جس کا بنیادی ہدف نوجوان صارفین ہیں۔

    تحقیق کے مطابق داعش سے وابستہ اکاؤنٹس اب روایتی پروپیگنڈے یا کھلے عام تنظیمی تشہیر کے بجائے مزاح، میمز، مقبول ثقافتی حوالوں، علامتی زبان اور خفیہ اشاروں کے ذریعے اپنے نظریات کو عام صارفین کے سامنے پیش کرتے ہیں، تاکہ ان کا مواد بظاہر عام تفریحی مواد کا حصہ محسوس ہو۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ دو ماہ کے دوران 355 ٹک ٹاک اکاؤنٹس کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 30 اکاؤنٹس ایسے تھے جن پر داعش سے متعلق مواد شیئر کیا جا رہا تھا۔ تحقیق کے مطابق یہ مواد اکثر براہِ راست نہیں بلکہ تبدیل شدہ الفاظ، مخصوص نعروں، علامتی تصاویر اور خفیہ کوڈز کے ذریعے نشر کیا جاتا ہے، جس سے اس کی شناخت مشکل ہو جاتی ہے۔ماہرین کے مطابق ٹک ٹاک کا سفارشاتی (Recommendation) نظام بھی اس مواد کے پھیلاؤ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر کوئی صارف ایسے مواد کو دیکھے، پسند کرے یا متعلقہ اکاؤنٹس کو فالو کرے تو پلیٹ فارم اسے مزید اسی نوعیت کا مواد تجویز کر سکتا ہے، جس سے بتدریج انتہا پسندانہ بیانیے کی نمائش بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ داعش سے منسلک مواد میں تنظیم کے ماضی کے دورِ اقتدار کو مثبت انداز میں پیش کرنے، گروہی وابستگی، شناخت، قربانی اور مظلومیت جیسے جذباتی موضوعات کو نمایاں کیا جاتا ہے، جبکہ مغربی ممالک اور بعض علاقائی حکومتوں کو منفی انداز میں دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق شدت پسند عناصر مقبول ٹی وی شوز، ٹرینڈنگ آڈیوز، قدرتی مناظر، طرزِ زندگی سے متعلق ویڈیوز اور عام تصاویر کے ساتھ نظریاتی پیغامات کو اس انداز میں جوڑتے ہیں کہ عام صارف کو فوری طور پر اس کا مقصد سمجھ میں نہیں آتا۔تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ بعض اکاؤنٹس کھانے، روزمرہ زندگی یا دیگر عام موضوعات کی تصاویر کے ساتھ خفیہ نظریاتی پیغامات اور مخصوص ہیش ٹیگز استعمال کرتے ہیں، جبکہ تنظیم سے منسلک سابق رہنماؤں اور پرانے پروپیگنڈا مواد کو بھی نئے انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ پلیٹ فارم کے خودکار نظام سے بچا جا سکے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ مختصر ویڈیو پلیٹ فارمز پر انتہا پسندانہ مواد اب براہِ راست بھرتی مہم کے بجائے تدریجی، علامتی اور جذباتی انداز میں پیش کیا جا رہا ہے، جس کے باعث اس کی بروقت شناخت اور مؤثر نگرانی پہلے سے زیادہ مشکل ہو گئی ہے۔تحقیق کے مطابق اس رجحان سے نمٹنے کے لیے صرف مواد حذف کرنا کافی نہیں بلکہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ شدت پسند گروہ جدید سوشل میڈیا کی زبان، انداز اور الگورتھمز کو کس طرح اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

  • غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف   کریک ڈاؤن، 760 ادارے بند

    غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، 760 ادارے بند

    لاہور: وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے باغبان پورہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کے بعد جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور صوبہ بھر میں غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ حادثے کا شکار ہونے والی عمارت اسکول کی اصل عمارت نہیں تھی بلکہ ایک علیحدہ زیرِ تعمیر بلڈنگ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ عمارت کمزور لنٹر پر تعمیر کی گئی تھی اور گزشتہ روز لنٹر مقررہ مدت سے پہلے کھول دیا گیا، جس کے باعث حادثہ پیش آیا۔وزیرِ تعلیم کے مطابق عمارت کی تعمیر کے لیے متعلقہ اداروں سے کوئی اجازت نامہ یا این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا، جبکہ صرف ایک مرلہ جگہ پر بچوں کو پڑھایا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹرز اور مالکان کی غفلت کے باعث ایک معصوم بچے کی جان ضائع ہوئی، جو انتہائی افسوسناک ہے۔رانا سکندر حیات نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو غیر رجسٹرڈ یا غیر محفوظ عمارتوں میں قائم تعلیمی اداروں میں ہرگز نہ بھیجیں اور صرف رجسٹرڈ و محفوظ اداروں کا انتخاب کریں۔

    انہوں نے بتایا کہ ابتدائی کارروائی کے طور پر دو ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور دو اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران (AEOs) کو معطل کر دیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ لاہور میں تقریباً 760 غیر رجسٹرڈ اکیڈمیوں کو فوری طور پر بند کیا جا رہا ہے، جبکہ صوبہ بھر میں تقریباً 14 ہزار اکیڈمیوں اور ٹیوشن سینٹرز کو وارننگ نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔وزیرِ تعلیم نے اعلان کیا کہ ستمبر 2026 سے قبل پنجاب کے تمام اسکولوں اور اکیڈمیوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ جو تعلیمی ادارے مقررہ مدت تک فٹنس سرٹیفکیٹ حاصل نہیں کریں گے، انہیں سیل کر دیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ باغبان پورہ کے تعلیمی ادارے نے نہ تو عمارت کی توسیع کے لیے این او سی حاصل کیا تھا اور نہ ہی اس کے پاس فٹنس سرٹیفکیٹ موجود تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ صرف وہی اسکول اور اکیڈمیاں چلانے کی اجازت دی جائے گی جو رجسٹرڈ ہوں اور حفاظتی معیار پر پورا اترتے ہوں، جبکہ تعلیمی اداروں کی رجسٹریشن کے نظام کو بھی ازسرِنو منظم کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔

  • سونے کی قیمتوں میں دوسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ 12 ہزار 200 روپے مہنگا

    سونے کی قیمتوں میں دوسرے روز بھی بڑا اضافہ، فی تولہ 12 ہزار 200 روپے مہنگا

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی تولہ سونا 12 ہزار 200 روپے مہنگا ہو گیا۔

    صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 40 ہزار 936 روپے تک پہنچ گئی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 10 ہزار 459 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 78 ہزار روپے ہو گئی۔

    دوسری جانب عالمی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمت میں نمایاں تیزی دیکھی گئی، جہاں فی اونس سونا 122 ڈالر مہنگا ہو کر 4 ہزار 185 ڈالر تک پہنچ گیا، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ادھر چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ چاندی 319 روپے مہنگی ہو کر 6 ہزار 764 روپے کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، سرمایہ کاروں کے محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان اور بین الاقوامی معاشی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

  • فیلڈ مارشل عاصم منیر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران پہنچ گئے

    فیلڈ مارشل عاصم منیر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے میں شرکت کے لیے ایران پہنچ گئے

    تہران: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے ایران پہنچ گئے، جہاں ان کا استقبال ایرانی حکام نے کیا۔

    ذرائع کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران پہنچنے پر سینئر ایرانی حکام نے ان کا خیرمقدم کیا۔ وہ کل تہران میں منعقد ہونے والی شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف بھی وفاقی کابینہ کے اہم اراکین کے ہمراہ ایران پہنچ چکے ہیں۔ ان کے علاوہ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی بھی ایرانی سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے۔

    ادھر شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے سلسلے میں وسیع انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان کا جسدِ خاکی امام خمینی حسینیہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں نماز جنازہ کی تیاریاں آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔واضح رہے کہ 28 فروری 2026 کو تہران میں ہونے والے حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم شخصیات جاں بحق ہو گئی تھیں۔ اس واقعے کے بعد ایران میں کئی روزہ سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ نماز جنازہ میں مختلف ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت متوقع ہے۔

  • علامہ ناصر مدنی نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران بے ہوش

    علامہ ناصر مدنی نمازِ جمعہ کے خطبے کے دوران بے ہوش

    جہانیاں: معروف مذہبی اسکالر، عالمِ دین اور یوٹیوبر علامہ ناصر مدنی خانیوال کی تحصیل جہانیاں میں نمازِ جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے اچانک بے ہوش ہوگئے، جس کے بعد انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کرکے مزید علاج کے لیے ملتان منتقل کر دیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق علامہ ناصر مدنی جہانیاں میں ناسکو کے سامنے واقع مسجد البشیر اہلحدیث میں جمعہ کا خطاب کر رہے تھے کہ دورانِ خطبہ اچانک ان کی طبیعت بگڑ گئی۔ مسجد میں موجود افراد نے فوری طور پر انہیں طبی امداد فراہم کی اور ریسکیو کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا، جہاں سے ڈاکٹروں نے انہیں مزید علاج کے لیے ملتان ریفر کر دیا۔عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے وقت ڈی ایس پی جہانیاں ملک عبدالمجید بھی مسجد میں موجود تھے۔شاہدین کا کہنا ہے کہ علامہ ناصر مدنی نے خطبے کے دوران دو مرتبہ کلمہ طیبہ پڑھا اور تیسری مرتبہ کلمہ پڑھتے ہوئے اچانک ممبر پر گر پڑے، جس پر نمازیوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

    ابتدائی اطلاعات میں دل کا دورہ پڑنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، کہ ناصر مدنی کو دل کا دورہ پڑا ہے،تاہم انہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

  • وزیراعظم کی زیر صدارت ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی کی روک تھام پر اہم اجلاس

    وزیراعظم کی زیر صدارت ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی کی روک تھام پر اہم اجلاس

    اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ایڈز، ہیپاٹائٹس سی اور دیگر متعدی امراض کی روک تھام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ان بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے جاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متعدی امراض کے فوری سدباب کے لیے غیر معیاری سرنجز کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مؤثر پابندی عائد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ضابطہ سرنجز کے استعمال یا مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد اور ہسپتالوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔وزیراعظم نے متعدی امراض پر قابو پانے کے لیے ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی اپنی سفارشات مرتب کرتے وقت تمام صوبوں سے مشاورت کو یقینی بنائے تاکہ قومی سطح پر قابلِ عمل اور مؤثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔انہوں نے وزارتِ قانون کو ہدایت کی کہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر موجودہ قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کا جائزہ لے اور ضروری ترامیم کی سفارشات پیش کرے، تاکہ صحت کے شعبے میں مؤثر نگرانی اور قوانین پر سختی سے عملدرآمد ممکن بنایا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومی سطح پر جامع حکمت عملی کی تشکیل اور اس پر مؤثر عملدرآمد ہی متعدی امراض کے مسئلے کا دیرپا حل ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سرنجز کے ذریعے بیماریوں کے پھیلاؤ کے مستقل سدباب کے لیے جامع پالیسی اقدامات تجویز کرے۔وزیراعظم نے زور دیا کہ یہ پالیسی اقدامات میڈیکل آلات تیار کرنے والی صنعت سے مشاورت کے بعد مرتب کیے جائیں تاکہ ان پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ممکن ہو۔ انہوں نے کہا کہ متعدی امراض کے خاتمے کی قومی کوششوں میں عالمی شراکت داروں کی معاونت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ طبی آلات کی معیاری تیاری اور طبی عملے کی عالمی معیار کے مطابق تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ صحت کے نظام کو مزید مضبوط اور محفوظ بنایا جا سکے۔اجلاس میں حکام نے وزیراعظم کو متعدی امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اب تک کیے گئے اقدامات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ بھی دی۔