Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکی جیل "ریپ کلب” میں 300 خواتین سے زیادتی،آخری ملزم کو ملی سزا

    امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ایک بند کی گئی وفاقی خواتین جیل میں سامنے آنے والے مبینہ جنسی استحصال کے بڑے اسکینڈل کے آخری مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا ہے، جس کے بعد اس کیس میں قانونی کارروائیوں کا باضابطہ اختتام بھی ہو گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ امریکہ کی وفاقی جیل نظام کی تاریخ کا سب سے بڑا جنسی استحصال اسکینڈل سمجھا جاتا ہے۔

    امریکی ڈسٹرکٹ جج نے جمعہ کے روز 32 سالہ سابق طبی عملے کے رکن جیفری ولسن کو 4.3 سال قید کی سزا سنائی۔ جیفری ولسن نے وفاقی خواتین جیل میں قید ایک خاتون قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کا اعتراف کیا تھا۔یہ جیل اوکلینڈ کے مشرق میں واقع تھی اور اسے طویل عرصے تک قیدیوں کی جانب سے غیر رسمی طور پر (ریپ کلب) کے نام سے جانا جاتا رہا، جہاں عملے کی جانب سے مبینہ بدعنوانی اور جنسی استحصال کے متعدد الزامات سامنے آتے رہے۔ بالآخر 2024 میں یہ جیل بند کر دی گئی۔استغاثہ کے مطابق جیفری ولسن نے 2021 اور 2022 کے دوران ایک قیدی، جسے عدالتی دستاویزات میں “C.S.” کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، کے ساتھ متعدد بار جنسی زیادتی کی۔ وہ اس وقت جیل میں بطور میڈیکل ٹیکنیشن کام کر رہا تھا۔

    عدالتی ریکارڈ کے مطابق ولسن نے اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے قیدی سے تعلق قائم کیا، اسے خطوط، ذاتی گفتگو اور مختلف مراعات کے ذریعے متاثر کیا۔ بعد ازاں یہ تعلق مبینہ طور پر جنسی استحصال تک جا پہنچا۔استغاثہ نے یہ بھی بتایا کہ ملزم نے قیدی کو ایک کم نگرانی والے علاقے میں منتقل ہونے کی ترغیب دی اور اسے یہ کہا کہ وہاں “زیادہ آزادی” اور “مزید ملاقاتیں” ممکن ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس نے مبینہ طور پر قیدی کو ممنوعہ موبائل فون، ویپ ڈیوائس، لپ اسٹک اور پری پیڈ کارڈ بھی فراہم کیے۔

    سماعت کے دوران جج نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا “یہ خواتین پہلے ہی ذہنی اور جذباتی طور پر کمزور تھیں، اور آپ جیسے افراد نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا، جو نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ غیر قانونی ہے۔”استغاثہ کے وکیل اینڈریو پالسن نے مؤقف اختیار کیا کہ ولسن نے قیدی کو “آہستہ آہستہ ذہنی طور پر قابو میں لیا” اور یہ ایک واضح طور پر شکاری رویہ تھا۔جیفری ولسن نے مختصر بیان میں اپنے عمل پر معافی مانگی، تاہم یہ بھی کہا کہ اس تعلق کو “رضامندی” سمجھا گیا تھا، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ اس نے اپنے ذاتی مسائل، ازدواجی مشکلات اور ذہنی دباؤ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ اپنے کیے پر “ہر روز پشیمان رہے گا”۔اس کے وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزم نے ماضی میں ایمرجنسی میڈیکل سروسز میں کام کیا تھا، جہاں اسے ذہنی دباؤ اور تکلیف دہ تجربات کا سامنا رہا، جس کے اثرات اس کے رویے پر پڑے۔

    یہ مقدمہ اس بڑے اسکینڈل کا آخری کیس تھا جس میں جیل کے تقریباً 10 سابق ملازمین پر قیدیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات ثابت ہوئے یا وہ سزا یافتہ قرار پائے۔جیل کے سابق وارڈن کو بھی 2023 میں تقریباً 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ مجموعی طور پر 10 میں سے 9 افراد کو سزا ہوئی، جبکہ ایک ملزم ثبوت نہ ہونے یا دوبارہ ٹرائلز میں ناکامی کے بعد بری ہو گیا۔

    استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیل میں برسوں تک ایک ایسا ماحول موجود رہا جہاں اہلکار اپنی طاقت کا غلط استعمال کرتے رہے۔ان کے مطابق قیدیوں کی حفاظت پر مامور اہلکار خود ان کے استحصال میں ملوث رہے،نظامی نگرانی ناکافی تھی،اور اندرونی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں تھا،اسی وجہ سے وفاقی جیل بیورو نے بالآخر اپریل 2024 میں اس ادارے کو بند کر دیا۔

    اس اسکینڈل کے بعد سینکڑوں سابق قیدی خواتین نے جنسی استحصال کے الزامات عائد کیے ہیں۔ تقریباً 300 سے زائد خواتین نے وفاقی حکومت کے خلاف مختلف سول مقدمات دائر کیے،ان دعوؤں کے نتیجے میں پہلے ہی 116 ملین ڈالر کے ایک بڑے تصفیے کی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اصل انصاف ابھی باقی ہے۔

  • خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    خاتون ڈرائیور کی جانب سے گھر میں‌”برہنہ”لیٹے شخص کی ویڈیو بنانے پر فردجرم عائد

    امریکی ریاست نیویارک میں ایک 23 سالہ خاتون ڈرائیور کے خلاف ایک گاہک کی نازیبا حالت میں خفیہ ویڈیو بنانے اور اسے ٹک ٹاک پر وائرل کرنے کے الزام میں باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر شدید بحث کو جنم دیا تھا۔

    ملزمہ اولیویا ہینڈرسن، جو ڈور ڈیش کے لیے ڈیلیوری ڈرائیور کے طور پر کام کرتی تھی، جمعہ کے روز عدالت میں پیش ہوئیں، جہاں ایک گرینڈ جیوری نے ان کے خلاف الزامات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ عدالت میں ان کی جانب سے وکیل نے عدم جرم کی درخواست دائر کی۔عدالتی ریکارڈ اور پراسیکیوشن کے مطابق یہ واقعہ 12 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب ہینڈرسن ایک ڈیلیوری کے لیے ایک گھر پر پہنچی۔ الزام ہے کہ انہوں نے دروازے کے باہر سے ہی ایک شخص کو ویڈیو میں ریکارڈ کیا جو صوفے پر بغیر پتلون کے بے ہوش حالت میں موجود تھا۔ یہ ویڈیو بعد ازاں ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی، جہاں یہ تیزی سے وائرل ہو کر تقریباً 3 کروڑ (30 ملین) ویوز تک پہنچ گئی، تاہم بعد میں اسے ہٹا دیا گیا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق، ویڈیو میں دکھائے گئے شخص کی ذاتی اور نجی حالت کو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ کیا گیا، جسے قانون کے تحت “پرائیویسی کی خلاف ورزی” اور “نازیبا نگرانی” قرار دیا جا رہا ہے۔ فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ شخص کی ایسی حالت میں تصویر کشی کی گئی جب اسے “نجی مقام پر مکمل رازداری کا حق حاصل تھا”۔

    دوسری جانب اولیویا ہینڈرسن نے ابتدا میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک مبینہ ہراسانی کے واقعے کی رپورٹ کر رہی تھیں۔ ان کے مطابق، وہ جب آرڈر ڈیلیور کرنے پہنچیں تو گھر کا دروازہ کھلا تھا اور اندر موجود شخص صوفے پر غیر مناسب حالت میں نظر آیا، جس پر انہوں نے اسے جنسی ہراسانی سمجھا۔تاہم تفتیشی حکام نے بعد میں اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ شخص نشے کی حالت میں بے ہوش تھا اور اس نے نہ تو ڈرائیور سے کوئی رابطہ کیا اور نہ ہی کوئی ہراسانی کی۔

    اولیویا ہینڈرسن کو ابتدائی سماعت کے بعد رہا کر دیا گیا ہے اور وہ آئندہ سماعت کے لیے جون میں دوبارہ عدالت میں پیش ہوں گی۔ ان کی دسمبر 2025 کی پہلی پیشی کے بعد بھی یہ کیس سوشل میڈیا پر زیر بحث رہا تھا۔جمعہ کے روز عدالت میں ہونے والی کارروائی کے دوران جج نے میڈیا کیمرے اندر لے جانے کی اجازت نہیں دی۔ عدالت کے باہر صحافیوں نے جب ہینڈرسن سے موقف لینے کی کوشش کی تو انہوں نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔

  • آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    آن لائن دباؤ ، لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں،انکشاف

    جدید ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا، فلٹرز اور بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اثرات نے نوجوان لڑکیوں کی زندگی کو جس طرح بدل دیا ہے، اس پر ایک نئی کتاب نے سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

    برطانوی مصنفہ فرییا انڈیا (Freya India) نے اپنی پہلی کتاب “Girls®” میں دعویٰ کیا ہے کہ آج کی نوجوان خواتین خود کو انسان کے بجائے ایک “پروڈکٹ” کی طرح دیکھنے لگی ہیں، جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر، پیک اور ریٹنگ کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔“لڑکیاں خود کو مارکیٹ کی پروڈکٹ سمجھنے لگی ہیں”فرییا انڈیا، جو 26 سالہ مصنفہ ہیں، نے امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ “نوجوان خواتین اب اپنے آپ کو ایک ایسی چیز کے طور پر دیکھ رہی ہیں جسے مارکیٹ کے مطابق بہتر بنایا جائے۔ وہ اپنی زندگی کے تجربات کو پیک کرتی ہیں اور پھر آن لائن لوگوں کی رائے اور ریٹنگ کا انتظار کرتی ہیں۔”ان کے مطابق یہ رجحان صرف ذاتی احساسات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی اور معاشی نظام کا حصہ ہے، جہاں انسانیت کی جگہ “ڈیجیٹل پریزنٹیشن” نے لے لی ہے۔

    کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح نوجوان لڑکیاں اپنی خود اعتمادی کے مسائل کے دوران ایسے ڈیجیٹل ماحول میں گھری ہوئی ہیں جہاں چہرے بدلنے والے فلٹرز ،مصنوعی ذہانت پر مبنی ایڈیٹنگ ٹولز،انسٹاگرام انفلوئنسرز کے مکمل طور پر ایڈٹ شدہ لائف اسٹائل شامل ہیں،ان کے مطابق یہ سب چیزیں حقیقی زندگی کے احساسات کو مزید پیچیدہ اور غیر حقیقی بنا رہی ہیں۔فرییا انڈیا لکھتی ہیں کہ جب نوجوان ذہنی دباؤ یا جذباتی مسائل کا شکار ہوتی ہیں تو انہیں ٹک ٹاک تھراپی ویڈیوز، یوٹیوب مشورے، اور آن لائن میڈیکل اشتہارات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو اصل علاج کے بجائے “فوری حل” پیش کرتے ہیں۔

    کتاب میں ڈیٹنگ ایپس اور پورن انڈسٹری کے اثرات پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ مصنفہ کے مطابق آج کی نوجوان نسل کو محبت اور رشتوں کے حوالے سے بھی ایک مصنوعی دنیا میں رکھا جا رہا ہے، جہاں ٹنڈر جیسے ایپس انسانی تعلقات کو “سوائپ کلچر” میں بدل دیتے ہیں،انفلوئنسرز خوف اور کنفیوژن کو منافع میں تبدیل کرتے ہیں،نوجوان لڑکیوں کو اپنی فطری خواہشات پر بھی شرمندہ کیا جاتا ہے،فرییا انڈیا کے مطابق موجودہ بحران صرف ٹیکنالوجی کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے سماجی تبدیلیاں بھی ہیں، جیسے مذہبی اور اخلاقی نظام کا کمزور ہونا،خاندانی ڈھانچے میں بگاڑ،کمیونٹی اور اجتماعی زندگی کا خاتمہ ہے،ان کے مطابق یہی خلا سوشل میڈیا نے پر کیا، مگر اس نے “حقیقی تعلق” کے بجائے “ڈیجیٹل متبادل” فراہم کیے۔ مصنفہ کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ کس چیز کو نقل کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے “ہم صرف اسکرول کر رہے ہیں، کام کر رہے ہیں، خرید رہے ہیں اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن تنہائی کے ساتھ۔”

    فرییا انڈیا نے بتایا کہ انہوں نے یہ خیال 2021 میں اس وقت محسوس کیا جب وہ ایک کیفے میں کام کر رہی تھیں اور نوجوان لڑکیوں کے رویوں کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ یہی مشاہدات بعد میں ان کی کتاب کی بنیاد بنے۔

  • برطانیہ ، جنگ، تیل بحران ،قرضے،ایئر لائن کا بحران،چھٹیاں خطرے میں

    برطانیہ ، جنگ، تیل بحران ،قرضے،ایئر لائن کا بحران،چھٹیاں خطرے میں

    لندن: عالمی منڈیوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتے ہوئے تنازع کے بعد برطانیہ شدید معاشی دباؤ کی زد میں آ گیا ہے، جسے ماہرین نے “ٹرمپفلیشن شاک” قرار دیا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف حکومت کے اخراجاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے بلکہ ہزاروں شہریوں کی موسمِ گرما کی تعطیلات بھی خطرے میں ڈال دی ہیں۔

    برطانیہ میں حکومتی قرض لینے کی لاگت گزشتہ 30 برس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 30 سالہ گورنمنٹ بانڈز کی ییلڈ 1998 کے بعد سب سے زیادہ ہو گئی، جبکہ 10 سالہ بانڈز بھی عالمی مالیاتی بحران کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران ہیں۔مارکیٹوں میں یہ خدشات بھی پائے جا رہے ہیں کہ اگر برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جماعت بلدیاتی انتخابات میں کمزور کارکردگی دکھاتی ہے تو پارٹی کے اندر بائیں بازو کی قیادت ابھر سکتی ہے، جس سے معاشی پالیسیوں پر مزید غیر یقینی پیدا ہوگی۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کے بعد تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ ایران نے امریکی بحری جہازوں اور یو اے ای کے تیل ذخائر کو نشانہ بنانے کے بعد دوبارہ عسکری کارروائیوں کا آغاز کیا۔امریکی حکام، جن میں دفاعی سیکریٹری شامل ہیں، نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ سیزفائر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، تاہم خطے میں صورتحال بدستور خطرناک ہے۔

    ایوی ایشن انڈسٹری پر بھی شدید اثر پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مئی کے شیڈول میں دنیا بھر کی ایئرلائنز نے تقریباً 20 لاکھ سیٹیں کم کر دی ہیں۔ صرف دو ہفتوں میں 13 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ یا کم کی گئی ہیں۔کمپنیوں جیسے ریان ائیر کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ مزید پروازیں بھی منسوخ کی جا سکتی ہیں۔بین الاقوامی توانائی ڈیٹا کے مطابق جیٹ فیول کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 181 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ سرمایہ کاری ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یورپ، خاص طور پر برطانیہ، جیٹ فیول کی شدید قلت کا شکار ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ یورپ کا سب سے بڑا نیٹ امپورٹر ہے،ملک کے پاس کوئی اسٹریٹجک ریزرو نہیں،صرف چار آئل ریفائنریز فعال ہیں،ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی متاثر رہی تو “فیول راشننگ” تک نوبت آ سکتی ہے۔خلیجی فضائی کمپنیاں جیسے قطر، اتحاد اور امارات 28 فروری سے مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود کی بندش اور ہوائی اڈے میں خلل کے ساتھ ساتھ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے نئے اعداد و شمار کے مطابق، اوسط عالمی جیٹ ایندھن کی قیمت گزشتہ ہفتے ایک ماہ میں پہلی بار بڑھ کر $181 (£134) فی بیرل ہوگئی۔

    ایئرلائن انڈسٹری کی تنظیموں کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو لاکھوں مسافروں کی موسمِ گرما کی چھٹیاں متاثر ہو سکتی ہیں۔ کئی پروازیں پہلے ہی منسوخ یا دوبارہ شیڈول کی جا رہی ہیں، جبکہ کچھ کمپنیوں نے عملے اور روٹس میں کمی شروع کر دی ہے۔یورپی کمیشن نے ایئرلائنز کو تمام ممکنہ حالات کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ برطانوی حکومت نے بھی ایئرلائنز کو اجازت دی ہے کہ وہ مسافروں کو مختلف فلائٹس میں ایڈجسٹ کر کے فیول بچا سکیں، تاہم صارفین کے حقوق کے حوالے سے تنقید بھی سامنے آئی ہے۔

    ماہرین کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال جلد مستحکم نہ ہوئی تو عالمی معیشت، خاص طور پر برطانیہ، توانائی بحران، مہنگائی اور قرضوں کی بڑھتی لاگت کے ایک نئے دور میں داخل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں کی زندگی اور چھٹیوں کے منصوبوں پر پڑیں گے۔

  • مدرسے کے کمرے میں کمسن بچے کے ہاتھ  باندھ کر بدفعلی

    مدرسے کے کمرے میں کمسن بچے کے ہاتھ باندھ کر بدفعلی

    ضلع اوکاڑہ میں ایک انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں مدرسے میں زیرِ تعلیم کمسن بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ نامزد ملزمان فرار بتائے جاتے ہیں۔

    پولیس رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ تھانہ اے ڈویژن کی حدود میں عامر کالونی کے علاقے میں پیش آیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مدعی محمد اظہر خان نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کا کمسن بیٹا معمول کے مطابق مدرسہ گیا مگر چھٹی کے بعد گھر واپس نہ پہنچا۔ تلاش کے دوران جب وہ مدرسے پہنچے تو ایک کمرے سے بچے کی چیخ و پکار سنائی دی۔کمرے کا دروازہ بند تھا۔ جو سائل و برادرم نے کمرے کے بند دروازے کو دھکا دے کر کھولا تو ملزمان 1 توقیر ارسلان ولد محمد بخش قوم سنگوکا سکنہ چک نمبر 18/1 -2 محمد شهروز ولد شوکت قوم جٹ سکنہ بگیانہ تحصیل و ضلع اوکاڑہ جن کے کپڑے اترے ہوئے تھے اور ملزمان نے پسرم کے کیڑے بھی اتارے ہوئے تھے۔ اور پسرم کو الٹا لٹا کر دونوں ہاتھوں کو رسی سے باندھا ہوا تھا ملزم توقیر ارسلان بدفعلی کر رہا تھا جبکہ ملزم محمد شہروز نے پسرم کو ہاتھوں سے قابو کیا ہوا تھا ۔ ملزمان ہمیں دیکھ کر موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سائل نے پسرم کے ہاتھوں کو رسی سے آزاد کروایا جو کہ نیم بہوشی کی حالت میں رو رہا تھا ۔ پسرم نے بتلایا کہ دونوں ملزمان نے میرے ساتھ زبردستی ہاتھ باندھ کر جان سے مار دینے کی دھمکیاں دے کر قابو کرکے باری باری بدفعلی کی ہے۔ موقع پر فورا مقامی پولیس کو اطلاع دی ۔ پولیس موقع پر آ گئی اور ملزمان کے کیڑے اور رسی قبضہ میں لیے۔ دونوں ملزمان نے میرے نابالغ معصوم بیٹے کے ساتھ باری باری زبردستی بدفعلی کرکے سخت زیادتی کی ہے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے بمطابق قانون سخت سے سخت سزا دی جائے۔

    پولیس حکام کے مطابق متاثرہ بچے کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں۔ مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

  • بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔عطا تارڑ

    بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ معرکہ حق میں پاکستان نے بیانیے اور سفارتی محاذ پر بھارت کو شکست دی

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو بھارت کے خلاف عظیم فتح دی۔پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے معرکہ حق میں انتہائی مثبت کردار ادا کیا۔فتح کے پیچھے پوری قوم کا جذبہ اور لگن موجود تھا۔ہم حق اور سچ پر تھے، سچائی کو شکست دینا ممکن نہیں ہوتا۔بیانیہ کی جنگ میں پاکستان کے میڈیا، سوشل میڈیا، نوجوانوں نے بھرپور ساتھ دیا۔بھارت کی مکاری، جھوٹ اور منافقت سب پر عیاں ہے۔دنیا نے بھارت کے بیانیہ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔زندہ قومیں عزت اور وقارکے ساتھ اپنا مقام خود بناتی ہیں۔حق اور سچ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد موجود رہی۔

    ریٹائرڈلیفٹیننٹ جنرل عامرریاض کا کہنا تھا کہ بھارت کے خلاف پاکستان کو تاریخی کامیابی نصیب ہوئی،علامہ اقبالؒ نے واضح طور پر کہا کہ مسلمانوں کیلئے الگ ملک ہونا چاہیے، جدوجہد آزادی کے لیے لاکھوں لوگوں نے قربانیاں دیں ،آج پاکستان مضبوط ریاست کے طور پر کھڑا ہے،انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بھارتی سیاست پر مکمل کنٹرول ہے،آر ایس ایس کا بنیادی ایجنڈا ہندوتوا کو تقویت دینا ہے،کشمیر آزادی کی تحریک ہے،پہلگام واقعہ بھارت کا فالس فلیگ آپریشن تھا،پہلگام کا جھوٹا واقعہ بھارت کی ریاستی پالیسی کا حصہ تھا،وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعہ کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی،

  • مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت،افغانی نکلا

    مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت،افغانی نکلا

    خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ میںجمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سابق رکن صوبائی اسمبلی مولانا محمد ادریس پر حملہ کرنے والوں میں سے ایک کی شناخت ہو گئی ہے

    پولیس کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب مولانا محمد ادریس اپنی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔ حملہ آوروں نے گاڑی پر عقب سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے جبکہ دو اہلکار زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں ملوث چار دہشت گردوں میں سے ایک کی شناخت کر لی گئی ہے، جس کا تعلق افغانستان سے بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق شناخت ہونے والے ملزم کی مدد سے پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی۔

    دوسری جانب واقعے کا مقدمہ محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے تھانہ مردان میں درج کر لیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کانسٹیبل شیر عالم کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی ہے، جس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق مولانا محمد ادریس گاڑی میں دو پولیس اہلکاروں اور ڈرائیور کے ہمراہ سفر کر رہے تھے کہ نامعلوم افراد نے پیچھے سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

  • شراب پی کر ڈرائیونگ،اداکارہ کو جرم قبول کرنے پر ایک دن کی سزا

    شراب پی کر ڈرائیونگ،اداکارہ کو جرم قبول کرنے پر ایک دن کی سزا

    امریکی پاپ اسٹار برٹنی سپیئرز نے شراب و منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کا اعتراف کر لیا

    برٹنی سپیئرزنے عدالت میں شراب اور منشیات کے زیرِ اثر لاپرواہ ڈرائیونگ کے الزام میں جرم قبول کر لیا ہے۔ تاہم وہ سماعت کے دوران عدالت میں پیش نہیں ہوئیں بلکہ ان کے وکلا نے ان کی جانب سے درخواست جمع کرائی۔عدالت کے فیصلے کے مطابق گلوکارہ کو جیل کی سزا نہیں سنائی گئی بلکہ انہیں ایک دن کی قید دی گئی، جسے ان کی گرفتاری کے دن کے طور پر شمار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں ایک سال کی پروبیشن، ڈرنک ڈرائیونگ سے متعلق تربیتی کورس اور جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔44 سالہ گلوکارہ کی پروبیشن غیر رسمی نوعیت کی ہوگی، جس کے تحت انہیں باقاعدہ طور پر پروبیشن افسر سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ان پر شراب اور کم از کم ایک منشیات کے زیرِ اثر گاڑی چلانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

    یاد رہے کہ 4 مارچ کو کیلیوفورنیا میں پولیس نے انہیں تیز اور غیر محتاط ڈرائیونگ پر روکا تھا۔ گلوکارہ کو فیلڈ ٹیسٹ کے دوران متاثرہ حالت میں پایا گیا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا۔واقعے کے بعد ان کے نمائندے نے بتایا تھا کہ برٹنی سپیئرزنے رضاکارانہ طور پر بحالی مرکز (ری ہیب) میں داخلہ لے لیا تھا۔سماعت کے بعد ان کے وکیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "کوئی بھی جرم قبول کرنے پر خوش نہیں ہوتا، مگر موجودہ حالات میں یہ معاملہ ختم ہونا سب کے لیے بہتر ہے۔”دوسری جانب ڈسٹرکٹ اٹارنی کا کہنا تھا کہ گلوکارہ نے اپنے عمل کی مکمل ذمہ داری قبول کی ہے۔

  • آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی، 51 جہاز روک لئے گئے

    آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی، 51 جہاز روک لئے گئے

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 51 جہازوں کو روکا جا چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر جاری بیان میں بتایا گیا کہ ان جہازوں کو یا تو واپس مڑنے یا قریبی بندرگاہوں کا رخ کرنے کی ہدایت دی گئی۔

    امریکا نے آبنائے ہرمز میں اپنی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے، جبکہ "پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک آپریشن بھی تیز کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امریکی انتظامیہ کے مطابق بحری جہازوں کو اس اہم آبی گزرگاہ سے "محفوظ” طریقے سے گزارنا ہے۔ تاہم گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جن کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز شروع ہوا، تاہم اس کے خدوخال کے بارے میں زیادہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کی معیشت کے حوالے سے سخت بیانات دیتے ہوئے کہا کہ وہ اسے تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا "میں جیتنا چاہتا ہوں، اس لیے ایران کی معیشت کو کریش کرنے کے لیے تیار ہوں۔”ٹرمپ نے ایران کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایرانی کرنسی بے قدر ہو چکی ہے اور افراط زر 150 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ حکومت اپنے فوجیوں کو تنخواہیں دینے کے قابل نہیں۔

    بعد ازاں وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ جانتا ہے کہ اسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اب بڑی بحری طاقت نہیں رہی اور وہ چھوٹی کشتیوں کے ذریعے کارروائیاں کر رہا ہے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم وہ بیک وقت مذاکرات سے انکار کر کے "کھیل کھیل رہا ہے”۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، جس کی صدر ٹرمپ نے بھی توثیق کی۔

  • پاکستان نیوی کی بروقت کارروائی، بحیرہ عرب میں پھنسے 6 بھارتیوں کو ریسکیو کر لیا

    پاکستان نیوی کی بروقت کارروائی، بحیرہ عرب میں پھنسے 6 بھارتیوں کو ریسکیو کر لیا

    پاکستان نیوی نے بحیرہ عرب میں پیش آنے والی ہنگامی صورتحال پر فوری اور مؤثر ردعمل دیتے ہوئے ایک مال بردار جہاز کے عملے کو بحفاظت ریسکیو کر لیا۔

    جہاز MV GAUTAM عمان سے بھارت کی جانب رواں دواں تھا کہ دورانِ سفر اچانک تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر سمندر میں پھنس گیا۔ جیسے ہی جہاز کو پیش آنے والے مسئلے کی اطلاع موصول ہوئی، پاکستان میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے تحت کام کرنے والے بحری جہاز PMSA Ship KASHMIR کو فوری طور پر جائے وقوعہ کی جانب روانہ کیا گیا۔ ریسکیو ٹیم نے کم سے کم وقت میں متاثرہ جہاز تک رسائی حاصل کی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔ریسکیو آپریشن کے دوران جہاز پر موجود تمام 7 افراد کو بروقت امداد فراہم کی گئی، جن میں 6 بھارتی اور ایک انڈونیشی شہری شامل تھا۔ نیوی حکام نے عملے کو خوراک، ابتدائی طبی امداد اور تکنیکی معاونت فراہم کی تاکہ ان کی جان و مال کو لاحق خطرات کو فوری طور پر کم کیا جا سکے۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی بحریہ کی پیشہ ورانہ مہارت اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات کی بدولت ایک ممکنہ سمندری حادثے کو ٹال دیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھلے سمندر میں اس نوعیت کے واقعات میں فوری ردعمل نہ ہو تو انسانی جانوں کے ضیاع کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دفاعی تجزیہ کاروں نے اس کامیاب ریسکیو آپریشن کو خطے میں پاکستان کی بحری صلاحیتوں اور ذمہ دارانہ کردار کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نیوی نہ صرف ملکی سمندری حدود کا دفاع کر رہی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔