یوٹرن یا صلح نامہ؟ چارج نرس ماریہ عندلیب کا وضاحتی بیان جاری ایم پی اے، سی ای او ہیلتھ، ایم ایس سے اختلافات کی تردید کرتے ہوئے معذرت کی
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان کی نرسسز نے اعلی الصبح ہسپتال کے باہر احتجاج کیا مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا سی ایم کی ریڈ لائن خواتین ہسپتال کی نرسسز کو ہراسانی کا سامنا، وارڈ ماسٹر کی غنڈہ گردی نامنظور جیسے دیگر تیکھے نعرے درج تھے۔ معاملے کی نزاکت اور احتجاج کی شدت کو بھانپتے ہوئے ایم ایس ڈاکٹر سرمد حسین کیانی اور سینئر ڈاکٹرز و ایڈمنز میدان میں آ گئے۔ انتظامیہ نے احتجاجی نرسوں کو مذاکرات کی میز پر بلایا اور ان کے جائز مطالبات حل کرنے کی ٹھوس یقین دہانی کروائی، جس کے بعد نرسوں نے اپنا احتجاج ختم کیا۔ دوسری جانب اس پورے معاملے میں اس وقت نیا موڑ آگیا جب متاثرہ چارج نرس ماریہ عندلیب نے ایڈمن آفس سے اپنے وضاحتی بیان میں سوشل میڈیا پر انکے تبادلے کو ایم پی اے سمیت شعبہ صحت حکام کے نام سے منسوب کرنے کی جو پوسٹیں گردش کر رہی تھیں مذکورہ نرس نے ان تمام تر الزامات کی گرد جھاڑتے ہوئے کہا کہ ان کا ایم ایس ڈاکٹر سرمد کیانی، سی ای او ہیلتھ راولپنڈی یا ایم پی اے راجہ شوکت عزیز بھٹی کے ساتھ کوئی جھگڑا یا اختلاف نہیں ہے نہ ہی ان میں سے کسی نے میرا تبادلہ کروایا ہے۔ مزید برآں انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنا تبادلہ واپس کروانے کے لیے سی ای او ہیلتھ راولپنڈی سے رجوع کر چکی ہیں جہاں سے انہیں مثبت اشارہ ملا ہے۔ حیرت انگیز طور پر چارج نرس نے ہسپتال انتظامیہ اور ڈی ایچ اے راولپنڈی حکام سے غلط فہمی کی بنا پر کیے گے احتجاج کی وجہ سے کسی بھی قسم کی دل آزاری پر معذرت بھی کر لی ہے، جس نے احتجاج کے پیچھے چھپے اصل حقائق پر کئی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
Author: ممتاز حیدر
-

ٹی ایچ کیو ہسپتال گوجرخان،مذاکرات کی آفر کے بعدنرسوں کا احتجاج ختم
-

نتین یاہو کو بورڈ آف پیس سے بے دخل کیا جائے، خالد مسعود سندھو
مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے پاکستان کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور فیصلہ کن ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم بورڈ آف پیس غزہ کے ساتھ کشمیر کےمسئلہ کو بھی حل کرنے میں کردار ادا کرے، نیتن یاہوجنگی مجرم،بورڈ آف پیس میں شمولیت کی بجائے عالمی عدالت انصاف میں پیش ہوں.
خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کا انحصار اس بات پر ہونا چاہیے کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی افواج واپس نکالے، غزہ کے مظلوم عوام اور حماس کی جانب سے پیش کیے گئے جائز مطالبات کو تسلیم کروانے کیلئے عملی اور بھرپور کردار ادا کیا جائے، اور مستقل جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے،انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا جا چکا ہے، ایسے شخص کو بورڈ آف پیس کا رکن بنانے کے بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق آئی سی سی کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے، ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو نیتن یاہو کی اس بورڈ سے بے دخلی کا فی الفور مطالبہ کرنا چاہئے۔
خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو بورڈ آف پیس کے فورم پر نہ صرف مسئلہ فلسطین بلکہ مسئلہ کشمیر پر بھی بھرپور اور دو ٹوک آواز بلند کرنی چاہیے، کیونکہ دونوں تنازعات اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل طلب ہیں،اگر بورڈ آف پیس فلسطینی عوام کی خواہشات، قربانیوں اور حقِ مزاحمت کے خلاف کوئی فیصلہ کرتا ہے تو پاکستان کو اصولی مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس بورڈ سے خود کو الگ کر لینا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور انصاف، آزادی اور حق کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
-

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ جمعے یا آئندہ پیر کو ہوگا،چیئرمین پی سی بی
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت کے معاملے پر چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) کی وزیر اعظم سے ملاقات میں تمام آپشنز کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات میں محسن نقوی نے وزیراعظم کو آئی سی سی کی صورتحال سے آگاہ کیا جبکہ وزیر اعظم شہباز شریف نے محسن نقوی کو معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی۔بعد ازاں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شمولیت کا فیصلہ جمعے یا پیر تک ہوگا۔سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم کو ملاقات میں آئی سی سی معاملات پر بریفنگ دی، وزیر اعظم نے تمام آپشنز کو مدنظر رکھ کر معاملہ سلجھانے کی ہدایت دی۔
قبل ازیں میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم بنگلا دیش کو ٹورنامنٹ سے باہر کیے جانے کے معاملے پر آئی سی سی کے خلاف بھرپور احتجاج کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) محسن نقوی کے درمیان ملاقات میں کیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے نہ صرف ورلڈ کپ میں شرکت کا فیصلہ کیا بلکہ بنگلا دیش کے مؤقف کی مکمل حمایت کرتے ہوئے اس کا کیس عالمی سطح پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کا بھی عزم کیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے آئی سی سی کو باضابطہ خط کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں بنگلا دیش کو ورلڈ کپ سے باہر کرنے کے اقدام کو غیر منصفانہ اور دوہرے معیار کا مظہر قرار دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کی شرکت یا عدم شرکت کے معاملے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی وزیر اعظم ہاؤس پہنچے، جہاں اہم مشاورت کی گئی۔ملاقات کے دوران محسن نقوی نے وزیر اعظم کو آئی سی سی کے دوہرے معیار سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی سی سی بھارت کے لیے ایک قانون جبکہ دیگر ممالک کے لیے دوسرا قانون لاگو کرتا ہے۔ محسن نقوی نے یاد دلایا کہ بھارت نے چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کیا تھا، جس پر اسے متبادل وینیو فراہم کر دیا گیا، جبکہ اسی اصول کے تحت بنگلا دیش کو سہولت دینے کے بجائے ورلڈ کپ سے ہی باہر کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے بتایا کہ بنگلا دیش نے آئی سی سی کو بھارت میں سکیورٹی خدشات کے باعث وہاں جانے سے آگاہ کیا تھا، مگر اس کے باوجود آئی سی سی نے بنگلا دیش کو متبادل وینیو دینے کے بجائے ٹورنامنٹ سے خارج کر دیا، جو کھلا امتیازی سلوک ہے۔
چیئرمین پی سی بی نے وزیر اعظم کو یہ بھی آگاہ کیا کہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کرتا تو اسے شمولیت کے عوض ملنے والی خطیر رقم سے محروم ہونا پڑے گا، جو مالی طور پر پاکستان کرکٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ اگر بھارت کے ساتھ میچ نہ کھیلے جائیں تو اس کا زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا، تاہم فیصلے میں قومی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے گی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی ورلڈ کپ سے بنگلا دیش کی بے دخلی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے احتجاج کے لیے مختلف آپشنز پر غور شروع کر دیا تھا، جس کے تحت سفارتی، انتظامی اور کرکٹ فورمز پر آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کھیل کو سیاست سے بالاتر رکھا جانا چاہیے اور تمام ممالک کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔
-

کرکٹرز کے ساتھ 7 ارب کے فراڈ کی تحقیقات ہونی چاہیے.جاوید بدر
بانی پی ٹی آئی عمران خان کے سابق میڈیا کوآرڈینیٹرجاوید بدر نے کہا ہے کہ پاکستانی موجودہ و سابق کرکٹرز کے ساتھ 7 ارب کے فراڈ کی تحقیقات ہونی چاہیے.
جاوید بدر کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ سے قبل ایسی خبر کا آنا سازش بھی ہوسکتی ہے،پی سی پی اور ایف آئی اے کو مل کر اصل حقائق سامنے لانے چاہیے،اس خبر سے مُلک کی جگ ہنسائی ہورہی ہے ،اتنی بڑی رقم مُلک سے باہر کس طرح گئی،اس خبر کا فائدہ ہندستان اُٹھا کر بدنام کر سکتا ہے ،بہتر ہے کہ پاکستان خود اصل حقائق سامنے لاۓ ،میں نے ڈائریکٹر ایف آئی اے کو تفشیش کے لیے درخواست دے دی ہے،قومی ہیروز کا پیسہ محفوظ نہیں تو عام آدمی کیا سنوائی ہوگی،جو بھی غیر قانونی کام میں ملوث پایا گیا تو اُسے سزا ملنی چاہیے،مُتاثرہ کرکٹرز بابر اعظم انضمام الحق کو خود سامنے آنا چاہیے ،قومی ہیروز کے ساتھ مُلک کی عزت جُڑی ہے،چئیرمین بورڈ مُحسن نقوی کو خود کرکٹرز سے بات کرنی چاہیے ،ایف آئی اے کے پاس خبر پر ایکشن لینے کا اختیار بھی ہے،میرے علم کے مُطابق معاملے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے،ایف آئی اے نے میری درخواست تفشیش کے لیے این سی سی آئی اے کو بھیج دی ہے
-

جے یو آئی کا 8 فروری کودھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ
جے یو آئی نے 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ کیا ہے
ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو ملک بھر میں یومِ سیاہ منائیں گے ،جمہوریت دن بدن کمزور ہو رہی ہے۔آئین پاکستان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمان راولپنڈی میں مرکزی احتجاجی پروگرام سے خطاب کریں گے ۔تمام صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔غیور عوام حکمرانوں کی قرآن و شریعت کے متصادم آئین سازی کے خلاف احتجاج کریں گے ۔مہنگائی ،بے روزگاری ،بدامنی ،،لاقانونیت ، کے خلاف عوام کے شانہ بشانہ ہونگے ۔عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ قبول نہیں ۔شریعت ،آئین اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے ہر آئینی، جمہوری اور پرامن راستہ اختیار کریں گے ۔کارکن تیاری مکمل کریں ۔
-

انسانیت شرمسار گھر کا صحن مقتل بن گیا ،نومولود بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا
گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان کے نواحی علاقے کنیٹ خلیل میں انسانیت لرز اٹھی۔ گیارہ دن کا معصوم بچہ بے رحمی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کئی روز سے لاپتہ نومولود کی لاش گھر کے صحن میں موجود کنویں سے برآمد ہونے پر علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔
تفصیلات کے مطابق، کنیٹ خلیل کے رہائشی کامران ولید کا 11 روزہ شیر خوار بچہ پراسرار طور پر غائب ہو گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانے میں درج کرایا گیا تھا۔ والدین اپنے جگر گوشے کی واپسی کے لیے دعائیں مانگ رہے تھے، مگر آج بروز اتوار اس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب لاپتہ بچے کی لاش گھر کے اندر موجود کنویں میں تیرتی ہوئی پائی گئی۔ مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت لاش کو کنویں سے نکال کر ہسپتال منتقل کیا۔ معصوم جان کے ساتھ پیش آنے والے اس وحشیانہ واقعے نے ہر آنکھ پرنم کر دی ہے۔ پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف زاویوں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کر رہی ہے۔ اس افسوسناک واقعے پر علاقہ مکینوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور وہ ذمہ داروں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی حقائق سامنے آئیں گے۔
-

ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ، وزیراعلیٰ سندھ
کراچی کے علاقے میں پیش آنے والے المناک سانحہ گل پلازا پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واضح کیا ہے کہ حکومت سندھ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور گل پلازا کی جگہ پر نئی سرکاری عمارت تعمیر کی جائے گی۔
وہ کورنگی کازوے پل کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازا کے واقعے پر وہ تفصیل سے بات کریں گے، تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے لواحقین کے دکھ کا ازالہ ممکن نہیں، لیکن حکومت ہر ممکن حد تک متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے۔مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے ہر فرد کے ورثاء کو حکومت سندھ کی جانب سے ایک کروڑ روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی کا مناسب وقت نہیں، ہر معاملے کو 18ویں ترمیم سے جوڑنا درست رویہ نہیں ہے، بعض اوقات غیر سنجیدہ تنقید کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سانحہ گل پلازا کے بعد عمارت کو سیل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ گل پلازا کے ہر دکاندار کو دو ماہ تک 5،5 لاکھ روپے دے گی تاکہ وہ اس عرصے میں اپنے گھریلو اخراجات پورے کر سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ دکانوں میں موجود سامان کے نقصانات کا ازالہ کراچی چیمبر آف کامرس کی مدد سے کیا جائے گا، جبکہ حکومت سندھ مجموعی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے ان افراد کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے متاثرہ تاجروں کو اپنی عمارتوں میں متبادل جگہ فراہم کرنے کی پیشکش کی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب تک گل پلازا کی نئی عمارت مکمل نہیں ہو جاتی، اس عرصے کے دوران دکانداروں کو مالی معاونت فراہم کی جاتی رہے گی۔ دو ماہ کے اندر اندر متاثرہ تاجروں کو متبادل دکانیں فراہم کر دی جائیں گی تاکہ وہ دوبارہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے دکانوں کے لیے ایک کروڑ روپے تک کی سہولت فراہم کی جائے گی اور نئی تعمیر میں جتنی دکانیں پہلے موجود تھیں، ان سے ایک انچ بھی زیادہ تعمیر نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق 80 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ داروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔مراد علی شاہ نے اعتراف کیا کہ حکومتی سطح پر کوتاہیاں بھی رہی ہیں، جنہیں تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سانحے کے بعد دیگر صوبوں میں بھی تحقیقات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔ سندھ میں تمام عمارتوں کا آڈٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، خاص طور پر وہ عمارتیں جہاں لوگوں کی آمد و رفت زیادہ ہے، انہیں ترجیحی بنیادوں پر چیک کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ سروے کے بعد عمارت مالکان کو بتایا جائے گا کہ ایک ہفتے کے اندر کون سے حفاظتی اقدامات لازم ہیں، اور جو عمارتیں ان ہدایات پر عمل نہیں کریں گی، انہیں سیل کر دیا جائے گا، اس معاملے میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ وزیراعلیٰ نے تاجر برادری سے تعاون کی اپیل بھی کی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اگر کسی کے پاس کوئی ثبوت موجود ہے، چاہے وہ ان کے خلاف ہو یا میئر کے خلاف، تو اسے انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید سب کا حق ہے، سوال ضرور کریں لیکن ایسے بیانات نہ دیے جائیں جو حالات کو مزید خراب کریں۔انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ اس حساس موقع پر ایسے سوالات نہ کیے جائیں جن سے غیر ضروری تنازع کھڑا ہو، کیونکہ یہ وقت سیاسی یا الزامی بحث کا نہیں بلکہ متاثرین کے دکھ میں شریک ہونے اور عملی اقدامات کرنے کا ہے۔
کورنگی کازوے پل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ کورنگی کے عوام سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بارشوں کے بعد شہر دو حصوں میں تقسیم ہو جاتا تھا، جس کے حل کے لیے تین سال قبل یہ منصوبہ شروع کیا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ سال قبل پل پر کام شروع ہوا، تاہم ڈیزائن کے کچھ مسائل درپیش تھے۔ اس منصوبے پر 6 ارب روپے سے زائد لاگت آئی ہے اور اس سے انڈس یونیورسٹی، ایس آئی یو ٹی سمیت مختلف جامعات کے طلباء اور شہریوں کو فائدہ پہنچے گا،وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ کراچی کے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سندھ مسلسل کام کر رہی ہے اور عید کے بعد شاہراہ بھٹو کو ایم نائن تک کھول دیا جائے گا، جو شہر کے ٹریفک مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
-

اسٹیٹ بینک کا مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات، مہنگائی کے رجحانات اور بیرونی شعبے کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح اس وقت 7.4 فیصد پر برقرار ہے، جو پالیسی ریٹ کے حوالے سے ایک اہم اشاریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں مجموعی طور پر استحکام دیکھا جا رہا ہے تاہم بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بدستور موجود ہے، جس پر اسٹیٹ بینک گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
جمیل احمد نے بیرونی شعبے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ ملکی برآمدات (ایکسپورٹس) میں کمی جبکہ درآمدات (امپورٹس) میں اضافہ ہو رہا ہے، جو تجارتی توازن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درآمدی دباؤ کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم زرمبادلہ کے ذخائر اور مالیاتی نظم و ضبط کے ذریعے اس صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ مانیٹری پالیسی کا بنیادی مقصد مہنگائی کو قابو میں رکھنا، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور معاشی سرگرمیوں کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ پالیسی فیصلے آنے والے معاشی اعداد و شمار، عالمی مالیاتی حالات اور اندرونی معاشی دباؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
ماہرینِ معیشت کے مطابق شرح سود برقرار رکھنے کے فیصلے سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کو وقتی استحکام ملے گا، تاہم برآمدات میں کمی اور درآمدات میں اضافے کا رجحان طویل مدت میں معیشت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
-

بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی چھت مانگنے کی درخواست مسترد
لاہور میں بسنت کی تقریبات سے متعلق ایک منفرد مگر متنازع درخواست پر سیشن کورٹ نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
ایک مقامی وکیل کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی جس میں بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی عمارت کی چھت فراہم کرنے کی استدعا کی گئی۔درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے وکیل کے مؤقف کو غور سے سنا تاہم سیشن کورٹ نے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بناتے ہوئے درخواست کو خارج کر دیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سیشن کورٹ کا احاطہ ایک انتہائی حساس اور سیکیورٹی زون ہے، جہاں عدالتی کارروائیاں اور سرکاری امور انجام دیے جاتے ہیں، ایسے میں کسی بھی قسم کی تفریحی یا عوامی تقریب کی اجازت دینا سنگین سیکیورٹی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
عدالت کا کہنا تھا کہ ماضی میں بسنت کے موقع پر پتنگ بازی کے باعث قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع اور امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کے واقعات سامنے آ چکے ہیں، جس کے پیش نظر عدالتی عمارت جیسے حساس مقامات پر اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔سیشن کورٹ نے مزید واضح کیا کہ قانون اور سیکیورٹی ضوابط کے تحت عدالتی عمارتوں کا استعمال صرف اور صرف سرکاری و عدالتی مقاصد کے لیے مخصوص ہے، جبکہ عوامی یا تفریحی تقریبات کے لیے دیگر مناسب مقامات موجود ہیں۔
-

ایران کاکسی بھی ممکنہ جارحیت پر سخت ردعمل کا اعلان
تہران: ایران نے کسی بھی ممکنہ فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور منہ توڑ جواب دینے کا دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران اپنی خودمختاری اور دفاع کے لیے ہر سطح پر تیار ہے اور کسی بھی حملے کا مناسب اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ترجمان نے واضح کیا کہ غیر رسمی یا پرائیویٹ پیغامات کا تبادلہ باقاعدہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی معاملات میں شفاف، سنجیدہ اور باضابطہ سفارتی مکالمہ ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے، جبکہ خفیہ یا غیر رسمی رابطے کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق روس اور چین کے ساتھ دفاعی اور تزویراتی تعاون پوری قوت کے ساتھ جاری ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ تعاون علاقائی استحکام، مشترکہ مفادات اور باہمی اعتماد پر مبنی ہے، اور ایران اپنے اتحادیوں کے ساتھ دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔
بیان میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ مغربی ممالک نے عالمی اقتصادی فورم کے ڈیووس سربراہی اجلاس کے موقع پر ایران کو سائیڈ لائن سفارتی ملاقاتوں سے روکنے کی کوشش کی۔ ترجمان کے مطابق اس اقدام سے مغربی طاقتوں کی دوغلی پالیسی اور سفارتی عدم برداشت ظاہر ہوتی ہے، جو بامعنی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ایرانی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی جارحیت، دباؤ یا دھمکی کا جواب اپنی قومی صلاحیتوں کے مطابق دیا جائے گا۔ ایران نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات کے بجائے مکالمے اور باہمی احترام کی بنیاد پر آگے بڑھے۔