Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال

    سندھ حکومت نااہل،کراچی وفاق کے کنٹرول میں لیا جائے،مصطفیٰ کمال

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر کراچی کو فوری طور پر وفاق کے کنٹرول میں لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی جیسے ملک کے سب سے بڑے اور معاشی حب شہر کو ایک نااہل صوبائی حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

    نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس آئینی اختیار موجود ہے اور وہ آرٹیکل 148 کے تحت ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کراچی کو اپنے کنٹرول میں لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی پاکستان کی معیشت کی شہ رگ ہے، یہاں کی بدانتظامی کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے، اس لیے فوری اور ٹھوس فیصلے ناگزیر ہو چکے ہیں۔انہوں نے گل پلازا سانحے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس افسوسناک واقعے میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لوگ شہید ہوئے، اور یہ محض حادثہ نہیں بلکہ سندھ حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم نے گل پلازا کی کارکردگی اور ذمہ داران کی غفلت کو ظلم کہا اور آئندہ بھی ظلم کو ظلم کہتے رہیں گے۔ اگر سچ بولنے پر یہی رویہ اختیار کیا جائے گا تو وہ ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ کراچی کو سندھ حکومت کے چنگل سے آزاد کرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کے حالیہ اقدامات نے خود ایم کیو ایم کے موقف کی تائید کر دی ہے کہ یہ حکومت نہ صرف ناکام ہوچکی ہے بلکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں بھی بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے سیکیورٹی واپس لینے کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ان سے خود بھی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، تاہم انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ سیکیورٹی واپس لے کر ہمیں ڈرایا جا سکتا ہے، لیکن وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہونے والے نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کراچی پر حکمرانی کرے اور ایسے اقدامات کے ذریعے ایم کیو ایم کی آواز دبائی نہیں جا سکتی۔مصطفیٰ کمال نے سندھ حکومت پر دوہرا معیار اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جئے سندھ کے عناصر کھلے عام شاہراہوں پر کھڑے ہو کر پاکستان توڑنے کے نعرے لگاتے ہیں، اور سندھ حکومت انہیں سیکیورٹی فراہم کرتی ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل نہ صرف افسوسناک بلکہ ریاست کے لیے خطرناک ہے اور ایسے اقدامات سے ملک کو تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وفاقی حکومت کو باقاعدہ خط بھی لکھا جا چکا ہے اور وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں بھی یہ مؤقف مسلسل پیش کیا جا رہا ہے۔ مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پوری وفاقی حکومت اور ریاستی ادارے ان کے مؤقف کو سن رہے ہیں اور حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہیں۔

  • سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سانگھڑ میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے 8 سالہ بچی جاں بحق

    سندھ میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات پر قابو نہ پایا جا سکا، جہاں ریبیز کے باعث ایک اور معصوم جان ضائع ہو گئی۔

    سانگھڑ کے علاقے جھول میں 8 سالہ بچی آوارہ کتے کے کاٹنے کے بعد ریبیز میں مبتلا ہو کر دم توڑ گئی۔ طبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ سال 2026ء میں کتے کے کاٹنے سے ہلاکت کا پہلا کیس ہے، جس نے صوبے بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دے دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈیڑھ ماہ قبل جھول میں بچی کو آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔ ابتدائی طور پر زخموں کا علاج کیا گیا تاہم بروقت اور مکمل اینٹی ریبیز ویکسین نہ ملنے کے باعث بچی میں ریبیز کی تصدیق ہو گئی۔ حالت بگڑنے پر اسے اسپتال منتقل کیا گیا مگر جانبر نہ ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے جس میں علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

    اعداد و شمار صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران سندھ بھر میں کتے کے کاٹنے کے 3 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال 2025ء میں صوبے میں ریبیز کے باعث 21 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جبکہ اسی سال 60 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، جو اس مسئلے کے پھیلاؤ کی واضح علامت ہیں۔

    طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ویکسین کی قلت، بروقت علاج تک رسائی میں رکاوٹیں اور آگاہی کی کمی اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان کے مطابق کتے کے کاٹنے کی صورت میں فوری طور پر زخم کو صاف پانی اور صابن سے دھونا، اور جلد از جلد اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کا کورس مکمل کرنا جان بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔

  • مریم نواز کی  ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری

    مریم نواز کی ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے ہر ضلع میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر قائم کرنے کی منظوری دیدی، ہر ڈی ایچ کیو میں نیورالوجسٹ اور پیڈز نیورالوجسٹ تعینات کرنے کا اصولی فیصلہ بھی ہوگیا، کہا کہ چاہتے ہیں کسی مریض کو علاج کیلئے بڑے شہر نہ جانا پڑے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت فالج کے علاج کیلئے اقدامات سے متعلق اجلاس ہوا، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ہر ضلع میں ایک ڈاکٹر اور نرس کو فوری طور پر 3 ماہ کی اسٹروک مینجمنٹ ٹریننگ کرائی جائے۔انہوں نے فالج کے مریضوں کیلئے فوری طور پر ٹیلی میڈسن پراجیکٹ شروع کرنے کا حکم بھی دیا، ضلعی اسپتالوں کے ڈاکٹر فوری علاج کیلئے اسپیشلسٹ اور کنسلٹنٹ سے ٹیلیفونک رابطہ کرسکیں گے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ فالج کے علاج کیلئے گولڈن آورز کی اہمیت مسلمہ ہے، پنجاب کے ہر چلڈرن اسپتال میں اسٹروک مینجمنٹ سینٹر بنائیں گے۔پمز کے نیورالوجسٹ ڈاکٹر قاسم بشیر نے اجلاس کو اسٹروک مینجمنٹ پروگرام پر بریفنگ دی۔

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈرامہ بازی بند کریں، گورنر خیبر پختونخوا

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ڈرامہ بازی بند کریں، گورنر خیبر پختونخوا

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر پختونخوا کی موجودہ صورتحال پر ایکس پر اہم پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک پُرامن صوبہ 2013 میں صوبائی حکومت کے حوالے کیا گیا تھا جو آج وہ دوبارہ دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے،اس تمام صورتحال کی ذمہ داری صوبائی قیادت کے سوا کس پر عائد ہوتی ہے

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کا چیف ایگزیکٹو بغیر حکومتی منظوری کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز اور اپنی لاعلمی کا دعویٰ کرے ، تو یہ صرف نااہلی نہیں گورننس کی تباہی کا اعتراف ہے۔میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ شعبدہ بازی اور ڈرامہ بازی کو ختم کریں۔خیبرپختونخواخصوصاً تیراہ اور کرم کی عوام کو اس وقت تقاریر کی نہیں بلکہ واضح قیادت کی ضرورت ہے،وزیراعلیٰ کی ترجیح آئی ڈی پیز کی فوری بحالی اور سیکورٹی ہونی چاہیے، نہ کہ سیاسی ڈرامہ اور انتشار پھیلانا،

  • آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواج کی قربانیوں کو خراج تحسین،نیا نغمہ ریلیز

    آئی ایس پی آر کی جانب سے افواجِ پاکستان کی عظیم قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے شاندار نغمہ ریلیز کر دیا گیا

    یہ نغمہ شدید موسمی حالات، برفانی طوفانوں اور ناقابلِ برداشت سردی میں وطن کی سرحدوں کے دفاع اور مشکل میں گِھری قوم کی خدمت میں مصروف افواجِ پاکستان کے عزم، حوصلے اور بے مثال فرض شناسی کی بھرپور عکاسی کرتا ہے،نغمے میں اس حقیقت کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ پاک فوج وطنِ عزیز اور قوم کے تحفظ کے لیے شب و روز ہر قسم کے خطرات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے، جو اس کے بلند حوصلے اور غیر متزلزل جذبے کا منہ بولتا ثبوت ہے،قدرتی آفات اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پوری قوم افواجِ پاکستان کو اپنا مضبوط سہارا سمجھتی ہے، اور پاک فوج نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر محاذ پر قوم کی امیدوں پر پوری اترتی ہے۔نغمے کے سحر انگیز بول اور دل کو چھو لینے والی آواز نے سماں باندھ دیا، جو بلاشبہ پوری قوم کی افواجِ پاکستان سے والہانہ محبت، اعتماد اور فخر کی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

  • وزیراعظم  سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کی ملاقات

    اسلام آباد میں وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان نے اہم ملاقات کی، جس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے تحت جاری منصوبوں، بالخصوص لیپ ٹاپ اسکیم سے متعلق امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

    چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم کو بتایا کہ یوتھ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں لیپ ٹاپ اسکیم کی پیش رفت، شفافیت کے طریقۂ کار، مستفید ہونے والے طلبہ کی تعداد اور آئندہ مرحلوں کے لائحۂ عمل سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یوتھ پروگرام کے تحت نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری اقدامات پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی تعلیم و تربیت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی معیار بہتر بنانے اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ "نوجوانوں کی تعلیمی قابلیت کو بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وفاقی حکومت نوجوانوں کی ہنر مندی اور استعدادِ کار میں مزید اضافے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائے گی۔”انہوں نے ہدایت کی کہ لیپ ٹاپ اسکیم سمیت تمام یوتھ پروگرامز میں شفافیت، میرٹ اور رفتار کو یقینی بنایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت نوجوان مستفید ہو سکیں۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے فروغ کے ذریعے نوجوانوں کو عالمی منڈی کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جائے۔

    ملاقات کے اختتام پر چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور روزگار کے لیے تمام منصوبے تیزی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھائے جائیں گے، تاکہ قومی ترقی میں نوجوانوں کا کردار مزید مضبوط ہو سکے۔

  • شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی  کارروائی، مطلوب دہشتگردجہنم واصل

    شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، مطلوب دہشتگردجہنم واصل

    شمالی وزیرستان کے علاقے میرعلی میرانشاہ روڈ پر سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ٹارگٹڈ آپریشن کرتے ہوئے ایک مطلوب عسکریت پسند کو ہلاک کر دیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کی شناخت محمد گل کے نام سے ہوئی ہے، جو علاقے میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کو محمد گل کی نقل و حرکت سے متعلق مستند خفیہ معلومات موصول ہوئی تھیں، جس پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مطلوب دہشتگرد ہلاک ہو گیا، جبکہ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق محمد گل متعدد تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو طویل عرصے سے مطلوب تھا۔ ہلاک دہشتگرد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، جسے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    کارروائی کے بعد علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا، تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا دیگر مشتبہ عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مکمل کلیئرنس تک آپریشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں

  • ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، آئی سی سی نے بنگلہ دیشی صحافیوں کو کوریج سے روک دیا

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ، آئی سی سی نے بنگلہ دیشی صحافیوں کو کوریج سے روک دیا

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن دینے سے انکار کر دیا ہے، جس پر بنگلا دیش میں صحافتی حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔

    بنگلا دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا اور بھارت میں ہونے والے ورلڈ کپ میچز کے لیے بنگلا دیش کے کسی بھی صحافی کو ایکریڈیشن جاری نہیں کی گئی۔ رپورٹس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں کی ایکریڈیشن پہلے منظور کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اچانک منسوخ کر دی گئی۔ایک بنگلا دیشی صحافی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 20 تاریخ کو ایکریڈیشن کی منظوری سے متعلق تصدیقی ای میل موصول ہوئی تھی، مگر کچھ ہی عرصے بعد ایک اور ای میل کے ذریعے ایکریڈیشن مسترد کیے جانے کی اطلاع دے دی گئی، جس پر صحافتی برادری میں شدید حیرت پائی جاتی ہے۔بنگلا دیش کے ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی روایت رہی ہے کہ اگر کسی ملک کی ٹیم کسی ایونٹ میں شریک نہ بھی ہو، تب بھی ایسوسی ایٹ ممبرز کے صحافیوں کو کوریج کے لیے ایکریڈیشن دی جاتی ہے، مگر اس بار اس اصول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

    بنگلا دیش کے اسپورٹس صحافیوں کی مختلف تنظیموں نے اس معاملے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے جلد آئندہ کے لائحہ عمل کے اعلان کا فیصلہ کیا ہے۔ صحافتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے اب تک ایکریڈیشن نہ دینے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی، جو اس تنازع کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

    دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی میڈیا کمیٹی کے چیئرمین امزاد حسین نے بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 130 سے 150 بنگلا دیشی صحافیوں نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے ایکریڈیشن کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں۔امزاد حسین کے مطابق ان کی معلومات کے مطابق بنگلا دیش کے تمام صحافیوں کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی کی جانب سے تاحال بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن نہ دینے کے حوالے سے کوئی سرکاری مؤقف یا وضاحت جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث شکوک و شبہات اور تحفظات میں اضافہ ہو رہا ہے۔تاہم دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی میڈیا ڈیپارٹمنٹ نے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم سے کوریج کے خواہشمند صحافیوں کی فہرست طلب کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنگلا دیشی صحافیوں کی ایکریڈیشن کا عمل دوبارہ شروع کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بنگلا دیشی صحافیوں نے ابتدا میں بھارت میں ہونے والے تمام میچز کی کوریج کے لیے درخواست دی تھی، جبکہ اب امکان ہے کہ سری لنکا میں منعقد ہونے والے میچز کے لیے بنگلا دیشی صحافیوں کو ایکریڈیشن جاری کر دی جائے گی۔

  • تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی،سرکاری دستاویزات نے اصل کہانی واضح کر دی

    تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والے متضاد بیانیوں کے درمیان سرکاری و دستاویزی شواہد نے کئی اہم حقائق کو بے نقاب کر دیا ہے۔ دستیاب نوٹیفکیشنز، مراسلات اور تحریری ریکارڈ کے مطابق تیراہ ویلی سے آبادی کی منتقلی کسی فوجی آپریشن کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ یہ فیصلہ خیبر پختونخوا حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے خالصتاً سول انتظامی بنیادوں پر کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو مسخ کر کے ایک ایسا سیاسی و عوامی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی گئی جس میں ذمہ داری فوج پر ڈال دی گئی۔

    دستاویزات کے مطابق آبادی کی منتقلی کا فیصلہ مقامی حالات، سیکیورٹی خدشات اور انتظامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔ اس عمل میں مقامی جرگوں، عمائدین اور عوامی نمائندوں سے مشاورت کی گئی، جس کے بعد باقاعدہ طور پر نقل مکانی کا فیصلہ سامنے آیا۔ یہ شواہد اس دعوے کی واضح نفی کرتے ہیں کہ تیراہ ویلی سے لوگوں کو کسی زبردستی، دباؤ یا عسکری کارروائی کے تحت بے دخل کیا گیا۔سرکاری لیٹرز اور ریکارڈ میں یہ بھی واضح ہے کہ پاکستان آرمی کا کردار محض انسانی اور امدادی نوعیت کا تھا۔ فوج نے لاجسٹک سپورٹ، ٹرانسپورٹ، عارضی رہائش، طبی امداد اور دیگر سہولیات فراہم کرنے میں معاونت کی، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو محفوظ اور منظم انداز میں منتقل کیا جا سکے۔ تاہم اس انسانی کردار کو بعض حلقوں کی جانب سے دانستہ طور پر عسکری مداخلت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔

    تحریری شواہد اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس معاملے پر ایک منظم غلط معلوماتی مہم چلائی جا رہی ہے، جس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اصل انتظامی ناکامیوں کو پسِ پردہ رکھنا ہے۔ ذرائع کے مطابق تقریباً 4 ارب روپے کے ریلیف فنڈ کے استعمال پر بھی سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان فنڈز کا ایک بڑا حصہ شفاف اور درست انداز میں استعمال نہیں ہوا، جس پر اب تک مکمل اور تسلی بخش وضاحت سامنے نہیں آ سکی۔دستاویزات یہ تضاد بھی واضح کرتی ہیں کہ ایک جانب سرکاری ریکارڈ اس فیصلے کو سول انتظامیہ کا اقدام قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب بعض سیاسی بیانات اور بیانیاتی مہمات اسے فوجی آپریشن کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ تضاد ریاستی سطح پر بیانیاتی ابہام اور ذمہ داری سے بچنے کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اصل مسئلہ کسی عسکری آپریشن کا نہیں بلکہ انتظامی بدانتظامی، کمزور منصوبہ بندی اور ریلیف فنڈز کے شفاف استعمال میں ناکامی تھا، جسے چھپانے کے لیے بیانیہ تبدیل کیا گیا۔

    سرکاری دستاویزات نے اس تاثر کو بھی بے نقاب کر دیا ہے کہ تیراہ ویلی سے نقل مکانی فوجی جبر یا آپریشن کا نتیجہ تھی۔ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ یہ فیصلہ سول حکومت کی جانب سے کیا گیا اور فوج نے صرف انسانی امداد اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر انسانی امدادی اقدامات کو عسکری جبر کے طور پر پیش کیا جائے تو اس سے نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی شدید طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔ماہرین اور مبصرین اس امر پر زور دے رہے ہیں کہ تیراہ ویلی سے متعلق حقائق کو شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، ریلیف فنڈز کے استعمال کا آزادانہ آڈٹ کیا جائے اور ذمہ داری کا تعین کیا جائے، تاکہ نہ صرف متاثرہ آبادی کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے بلکہ ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی بھی بحال ہو۔

  • گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین،قاتلہ گرفتار

    گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین،قاتلہ گرفتار

    خونی رشتوں کی بے رحمی حسد کی آگ نے بستا گھر اجاڑ دیا تائی نہیں قصائی نے معصوم نومولود کو زندہ کنویں میں پھینک کر ممتا کا کلیجہ چھلنی کر دیا
    کینٹ خلیل میں کہرام گیارہ روزہ بچے کے بہیمانہ قتل کا ڈراپ سین اپنوں کے روپ میں چھپے بھیڑیے بے نقاب ڈرامہ رچانے والی سفاک قاتلہ گرفتار
    گوجرخان (قمرشہزاد) تھانہ جاتلی کے علاقے کینٹ خلیل میں انسانیت سوز واقعہ نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ حسد اور نفرت کی آگ میں اندھی ہونے والی سگی تائی نے ممتا کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اپنے ہی گیارہ دن کے معصوم بھتیجے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

    تفصیلات کے مطابق کینٹ خلیل میں پیش آنے والے اس لرزہ خیز قتل کیس کا ڈراپ سین اس وقت ہوا جب پولیس کی پیشہ ورانہ تحقیقات نے قاتلہ کا نقاب الٹ دیا۔ ملزمہ نے محض حسد کی بنیاد پر اس ننھے پھول کو اغوا کیا اور بے رحمی سے کنویں میں پھینک دیا جس سے معصوم بچہ دم توڑ گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ جاتلی جمال نواز نے اپنی ٹیم کے ہمراہ برق رفتار کارروائی کی اور جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کرتے ہوئے ملزمہ کو دھر لیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزمہ نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے، تاہم مزید حقائق جاننے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں اس بہیمانہ قتل پر شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ شہریوں نے قاتلہ کو نشانِ عبرت بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پولیس کی بروقت کارروائی اور ملزمہ کی گرفتاری پر اہل علاقہ نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایچ او جمال نواز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ معصوم بچے کی لاش ملنے پر گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے اور ہر آنکھ اشکبار ہے۔