Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طالبان رجیم میں  بنیادی انسانی حقوق کی بدترین  پامالی،  زندگی خوف میں محصور

    طالبان رجیم میں بنیادی انسانی حقوق کی بدترین پامالی، زندگی خوف میں محصور

    طالبان کی عوام دشمن پالیسیوں اور انسانی حقوق کی پامالی نے افغانستان کو شدید انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا

    شرپسند افغان ٹولے نے ناجائز تسلط برقراررکھنے کیلئےجابرانہ ہتھکنڈوں کواپنا وطیرہ بنا لیا،افغان جریدہ ہشت صبح کے مطابق طالبان رجیم کے بڑھتے تشدد اور دباؤ پر عوام خوف اور تشویش میں مبتلا ہوچکے ہیں،ٹیکسی گاڑیوں میں خواتین کو لے جانے پر پابندی ، ڈرائیورطالبان کے خوف سے اکثر انکار کر دیتے ہیں ، افغان طالبان رجیم میں سرکاری ملازمین کو مختلف حیلے بہانوں سے بلا جواز گرفتار کیا جا رہا ہے ، طالبان کی وزارت نے گریجویشن تقریب میں میڈیکل طلبہ کو تضحیک کا نشانہ بھی بنایا تھا، افغان طالبان نے ‘علاقائی پاسپورٹ’ فارم کے ذریعے عوام سے بار بار معلومات جمع کر کے نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی قائم رکھی ہے

    ماہرین کا کہنا ہے خواتین کی نقل و حرکت پر پابندی، ملازمین کی بلاجواز گرفتاری اور مسلسل نگرانی نے افغان عوام کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے،افغان طالبان کی عوام دشمن پالیسیاں، نفسیاتی دباؤ اور مسلسل نگرانی نے ایک پوری نسل کو خوف، اضطراب اور انسانی المیے کی طرف دھکیل دیا،

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 1 لاکھ 90 ہزار 600 کی سطح عبور کر گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان پیر کو بھی برقرار رہا، جہاں کاروباری ہفتے کے پہلے روز مارکیٹ کا آغاز مثبت انداز میں ہوا۔ سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کے باعث ابتدائی لمحات میں ہی 100 انڈیکس میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    تفصیلات کے مطابق کاروبار کے آغاز پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1434 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو ٹریڈنگ کے دوران بڑھتے ہوئے 1800 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ اس نمایاں تیزی کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس ایک لاکھ 90 ہزار 600 پوائنٹس کی اہم نفسیاتی سطح عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

    مارکیٹ ماہرین کے مطابق اسٹاک ایکسچینج میں حالیہ تیزی کی بڑی وجوہات میں معاشی اشاریوں میں بہتری، شرحِ سود اور مہنگائی سے متعلق مثبت توقعات، اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے حوصلہ افزا اشارے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بینکنگ، توانائی اور سیمنٹ کے شعبوں میں خریداری کے رجحان نے بھی انڈیکس کو اوپر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ معاشی استحکام اور پالیسی تسلسل برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں بھی مارکیٹ میں تیزی کا رجحان جاری رہنے کا امکان ہے، تاہم سرمایہ کاروں کو محتاط حکمتِ عملی اپنانے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔

  • لاہور پریس کلب ،انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو گیا

    لاہور پریس کلب ،انتخابات کے نتائج کا اعلان ہو گیا

    لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات 2026ء کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا، انتخابات میں صحافیوں کی بڑی تعداد نے حقِ رائے دہی استعمال کیا، جبکہ پولنگ کا عمل مجموعی طور پر پُرامن رہا۔

    انتخابی نتائج کے مطابق ارشد انصاری مسلسل 14ویں مرتبہ لاہور پریس کلب کے صدر منتخب ہو گئے۔ انہوں نے جرنلسٹ پینل کی جانب سے انتخاب لڑتے ہوئے 1283 ووٹ حاصل کیے، جبکہ گرینڈ الائنس کے امیدوار اعظم چوہدری کو 711 ووٹ ملے۔ اس طرح صدر کے عہدے پر ارشد انصاری کو 572 ووٹوں کی واضح برتری حاصل رہی۔جنرل سیکرٹری کے عہدے پر جرنلسٹ پینل کے افضال طالب کامیاب قرار پائے، جنہوں نے 1059 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدمقابل گرینڈ الائنس کے عبدالمجید ساجد کو 814 ووٹ ملے، جبکہ آزاد امیدوار اعجاز مرزا صرف 103 ووٹ حاصل کر سکے۔ افضال طالب کو اس نشست پر 245 ووٹوں کی لیڈ حاصل ہوئی۔

    سینئر نائب صدر کے عہدے پر بھی جرنلسٹ پینل نے کامیابی سمیٹی۔ سلمان قریشی نے 1125 ووٹ حاصل کیے، جبکہ گرینڈ الائنس کی امیدوار صائمہ نواز کو 839 ووٹ ملے۔ اس طرح سلمان قریشی نے 286 ووٹوں کی برتری سے کامیابی حاصل کی۔نائب صدر (خاتون نشست) پر گرینڈ الائنس کی ناصرہ عتیق کامیاب رہیں، جنہوں نے 1045 ووٹ حاصل کیے۔ جرنلسٹ پینل کے مدثر تتلہ کو 882 ووٹ ملے، یوں ناصرہ عتیق نے 163 ووٹوں کی لیڈ سے فتح حاصل کی۔

    دوسری نائب صدر کی نشست پر مقابلہ انتہائی سخت رہا، جہاں جرنلسٹ پینل کی مدیحہ الماس نے 986 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی، جبکہ گرینڈ الائنس کی ثمینہ پاشا کو 956 ووٹ ملے۔ اس نشست پر مدیحہ الماس نے محض 30 ووٹوں کی معمولی برتری سے کامیابی حاصل کی۔خزانچی کے عہدے پر جرنلسٹ پینل کے سالک نواز منتخب ہوئے، جنہوں نے 1035 ووٹ حاصل کیے۔ ان کے مدِمقابل گرینڈ الائنس کے حسنین چوہدری کو 926 ووٹ ملے۔ سالک نواز نے 112 ووٹوں کی لیڈ سے کامیابی حاصل کی۔جوائنٹ سیکرٹری کے عہدے پر بھی جرنلسٹ پینل کو برتری حاصل رہی۔ عمران شیخ نے 1002 ووٹ حاصل کیے، جبکہ گرینڈ الائنس کے رانا اکرام کو 959 ووٹ ملے۔ عمران شیخ کو 63 ووٹوں کی سبقت حاصل ہوئی۔

  • ایف بی آر کے سینئر افسر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ

    ایف بی آر کے سینئر افسر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا مقدمہ

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ایک سینئر افسر کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کے تحت فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کی جانب سے تیار کردہ چارج شیٹ میں افسر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے ایک ڈرائیور اور ایک پراپرٹی ڈیلر کو سرکاری ایف بی آر وفد کا حصہ بنا کر فرانس کے ویزے دلوائے۔تحقیقات کے مطابق مذکورہ افسر نے ویزوں کے حصول کے بدلے 53 لاکھ روپے وصول کیے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ افسر نے اپنی سرکاری حیثیت اور اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے جعلی طریقے سے وفد کی فہرست میں غیر متعلقہ افراد کے نام شامل کروائے، جس کے نتیجے میں انہیں فرانس کے ویزے جاری ہوئے۔

    ذرائع کے مطابق یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب دونوں افراد فرانس روانگی کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے، جہاں امیگریشن حکام نے مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر انہیں آف لوڈ کر دیا۔ بعد ازاں دونوں کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی تو ویزا فراڈ کا انکشاف ہوا۔ایف آئی اے نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایف بی آر افسر کے خلاف باقاعدہ فوجداری مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے میں ملوث دیگر افراد اور ممکنہ سہولت کاروں کا بھی سراغ لگایا جا رہا ہے۔

  • امریکی ریاست میں نجی طیارہ  ٹیک آف کے دوران تباہ

    امریکی ریاست میں نجی طیارہ ٹیک آف کے دوران تباہ

    امریکا کی ریاست مینے (Maine) کے شہر بینگور میں ایک نجی طیارہ ٹیک آف کے دوران حادثے کا شکار ہو کر گر کر تباہ ہو گیا۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق حادثے کے وقت طیارے میں 8 افراد سوار تھے، تاہم تاحال مسافروں اور عملے کی حالت یا جانی نقصان سے متعلق کوئی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شدید برفانی طوفان کے دوران پیش آیا۔ علاقے میں خراب موسم، تیز ہواؤں اور شدید برف باری کے باعث فضائی آمد و رفت پہلے ہی متاثر تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ طیارہ رن وے سے بلند ہوتے ہی توازن برقرار نہ رکھ سکا اور کچھ ہی لمحوں بعد زمین سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی۔

    حادثے کے فوراً بعد ریسکیو ٹیمیں، فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی سروسز موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ حکام نے حفاظتی اقدامات کے تحت قریبی علاقے کو عارضی طور پر بند کر دیا، جبکہ ایئرپورٹ انتظامیہ نے پروازوں کی آمد و رفت محدود کر دی۔امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی حتمی وجہ جاننے کے لیے طیارے کے بلیک باکس، موسمی حالات، تکنیکی ریکارڈ اور پائلٹ کے تجربے سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

    حکام کے مطابق شدید موسمی حالات کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے، تاہم تحقیقات مکمل ہونے سے قبل کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات تحقیقات کے آگے بڑھنے کے ساتھ سامنے آنے کی توقع ہے۔

  • معروف برطانوی صحافی،وائس آف انڈیا کے نام سے مشہورسرمارک ٹلی چل بسے

    معروف برطانوی صحافی،وائس آف انڈیا کے نام سے مشہورسرمارک ٹلی چل بسے

    برطانیہ کے مشہور براڈکاسٹر، سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سر مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ سر مارک ٹلی کو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی میں طویل خدمات اور بھارت سے متعلق غیر جانبدار رپورٹنگ کے باعث “وائس آف انڈیا” کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    سر مارک ٹلی کئی دہائیوں تک جنوبی ایشیا خصوصاً بھارت میں بی بی سی کے چیف نمائندے رہے۔ انہیں بھارت سے متعلق خبروں کا سب سے معتبر اور مستند رپورٹر اور مبصر تصور کیا جاتا تھا، جن کی رپورٹس کو عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیا جاتا تھا۔سر مارک ٹلی 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد پر ہونے والے حملے کے عینی شاہد تھے۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ میں انتہا پسند ہندو تنظیموں کے کردار کو بے نقاب کیا۔ اس دوران انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی ملیں، جس کے باعث وہ کئی گھنٹے ایک کمرے میں محصور رہنے پر مجبور ہوگئے تھے۔مارک ٹلی نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانیہ سے آزادی کے بعد بھارتی سیکولرازم کو پہنچنے والا “سب سے بڑا دھچکا” قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے نے بھارت کے جمہوری اور سیکولر تشخص پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے۔

    اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران سر مارک ٹلی نے بھارت کے کئی اہم اور حساس واقعات کی رپورٹنگ کی، جن میں بھارت میں مختلف ادوار کے قحط اور انسانی المیے،فرقہ وارانہ فسادات اور سیاسی کشیدگی،بھوپال گیس سانحہ، جسے دنیا کی بدترین صنعتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے،گولڈن ٹیمپل (امرتسر) پر بھارتی فوج کا حملہ،سیاسی قتل و غارت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں شامل ہیں،ان کی رپورٹس سچائی، گہرے تجزیے اور زمینی حقائق پر مبنی ہوتی تھیں، جس کے باعث وہ بھارتی حکومتوں کے لیے کئی مواقع پر ناپسندیدہ مگر عالمی صحافتی حلقوں میں بے حد محترم رہے۔

    سر مارک ٹلی کے انتقال کو عالمی صحافت میں ایک عہد کے خاتمے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ صحافتی حلقوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دانشوروں نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں بے باک، اصول پسند اور سچ کے علمبردار صحافی قرار دیا ہے۔

  • اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہوئے تو ملک نہیں چلے گا: خواجہ آصف

    اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہ ہوئے تو ملک نہیں چلے گا: خواجہ آصف

    لاہور: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، اصل مسئلہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ہے، جب تک اختیارات عوام کے قریب نہیں آئیں گے ملک مؤثر انداز میں نہیں چل سکے گا۔ مقامی سطح پر اختیار اور ذمہ داری دینے سے نہ صرف گورننس بہتر ہوتی ہے بلکہ ٹیکس وصولی میں بھی نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

    لاہور میں ایک نجی یونیورسٹی کے زیر اہتمام جاری تین روزہ تھنک فیسٹ کے دوسرے روز ’تاریخی اور تقابلی تناظر میں عالمی عدم مساوات‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان جیسے ممالک میں معاشی اور سماجی عدم مساوات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ فیصلے اور وسائل مرکز میں مرتکز رہتے ہیں، جس سے نچلی سطح پر مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم کا سب سے بڑا نعرہ اور مقصد اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی تھا، تاہم عملی طور پر اس وژن پر مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ خواجہ آصف کے مطابق اگر صوبے اور ضلعی حکومتیں مضبوط ہوں، لوکل گورنمنٹ کا نظام فعال ہو اور عوامی نمائندوں کو حقیقی اختیارات دیے جائیں تو نہ صرف مسائل کا حل تیز ہوگا بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد بھی بحال ہوگا۔

    وفاقی وزیر دفاع نے سیاسی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سمجھ نہیں آتی کہ سیاسی برادری لوکل گورنمنٹ سسٹم سے اتنی خائف کیوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط مقامی حکومتیں کسی کے لیے خطرہ نہیں بلکہ ریاستی نظام کے استحکام کی ضمانت ہوتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد میں فیصلے کرنے چاہئیں۔

  • افغان حکام کے ضابطے جدیدجاہلیت کا دور ہے،پاکستان علما کونسل

    افغان حکام کے ضابطے جدیدجاہلیت کا دور ہے،پاکستان علما کونسل

    پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے نئے فوجداری ضابطے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    پاکستان علما کونسل نے افغان حکومت کے احکامات پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامیہ کےنام پرمعاشرےکوغلام اور آزاد میں تقسیم کرنا قابل تشویش ہے، افغان حکومت کےاحکامات قرآن و سنت کےاحکامات کےمطابق نہیں ہیں اور ہندواتہ تعلیمات کے مشابہ ہے، افغان طالبان حکومت اپنے آپ کوشرعی اسلامی حکومت قراردیتی ہے، اسے ان امورپراپناموقف فوری طورپر دنیا کے سامنےلانا چاہیے، عہد جاہلیت کےقوانین اور رسومات کو دوبارہ اسلام کےنام پر نافذ نہیں کرناچاہیے۔

    پاکستان علماکونسل کے جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ جو انداز اختیارکیاگیاہےاس سےانسانیت کی توہین اورتذلیل سامنے آتی ہے، اس طرح کےاحکامات کوشرعی نہیں، جدیدجاہلیت کا دور ہی کہا جاسکتا ہے۔

  • مونگ پھلی کے ٹھیلے کی آڑ میں کراچی میں رہائش پذیر دہشتگرد گرفتار

    مونگ پھلی کے ٹھیلے کی آڑ میں کراچی میں رہائش پذیر دہشتگرد گرفتار

    کراچی میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن, انتہائی مطلوب دہشتگرد کو گرفتار کرلیا گیا

    گرفتار دہشتگرد کا تعلق خیبر پختونخواں کے ضلع باجوڑ سے ہے، گرفتار دہشتگرد اسسٹنٹ کمشنر باجوڑ پرحملے کا مرکزی ملزم ہے،گرفتار دہشتگرد نےخیبر پختون خواں کے منرلز ڈیپارٹمنٹ کی سرکاری مشینری کو نذرِ آتش بھی کیاتھا،دہشتگرد نےگرفتاری سے بچنے کے لیےکراچی میں روپوشی اختیار کررکھی تھی، دورانِ روپوشی دہشتگرد مونگ پھلی کے ٹھیلے کی آڑ میں کراچی میں رہائش پذیر تھا،روپوشی کےدوران دہشتگرد اپنی سہولت کاری و رابطہ نیٹ ورک کو برقرار رکھے ہوئے تھا۔دہشتگرد ضلع باجوڑ میں پیش آنے والے متعدد سنگین دہشتگردانہ واقعات میں براہِ راست ملوث رہا،دہشتگرد کےخلاف خیبر پختونخوا میں انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کےتحت متعدد مقدمات درج تھے

  • پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    پاکستان کی معاشی ترقی کی راہ میں ایک اور سنگِ میل

    اسلام آباد: پاکستان کے مالیاتی شعبے میں ایک اور بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کویت کے تعاون سے رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جدید اور مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک آئندہ ماہ پاکستان میں اپنے باقاعدہ آپریشنز کا آغاز کرے گا۔ حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں بینک میں 10 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، جسے پاکستان کی بہتر ہوتی معاشی صورتحال اور جاری اصلاحاتی عمل پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک کو کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی (KIA) کی معاونت حاصل ہے، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) نے اس منصوبے کی مؤثر سہولت کاری میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ پاکستان کے مالیاتی شعبے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جو نہ صرف اسلامی بینکاری کے فروغ میں مدد دے گا بلکہ ڈیجیٹل معیشت کے استحکام میں بھی نمایاں کردار ادا کرے گا۔مشیرِ وزیر خزانہ خرم شہزاد نے اس موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی معاشی سمت، مالیاتی اصلاحات اور پالیسی تسلسل پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی اعتماد کی عکاس ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان مالیاتی، سرمایہ کاری اور ڈیجیٹل معیشت کے شعبوں میں تعاون مسلسل مضبوط ہو رہا ہے، جو مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ ہموار کرے گا۔خرم شہزاد کے مطابق رقمی اسلامک ڈیجیٹل بینک پاکستان میں ڈیجیٹل تبدیلی (Digital Transformation) کے عمل کو تیز کرے گا اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بینکاری نظام کو زیادہ مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل بینکاری کا بنیادی مقصد زیادہ سے زیادہ افراد، خصوصاً نوجوانوں اور دور دراز علاقوں میں رہنے والی آبادی کو مالیاتی نظام سے جوڑنا ہے تاکہ مالی شمولیت (Financial Inclusion) کو فروغ دیا جا سکے۔

    حکام کے مطابق رقمی بینک مکمل طور پر ڈیجیٹل اسلامی بینک کے طور پر کام کرے گا، جہاں شریعہ کے مطابق جدید مالیاتی مصنوعات اور خدمات فراہم کی جائیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف اسلامی بینکاری کے شعبے میں مسابقت بڑھے گی بلکہ پاکستان کو خطے میں ڈیجیٹل اسلامی مالیات کے ایک ابھرتے ہوئے مرکز کے طور پر متعارف کرانے میں بھی مدد ملے گی۔ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی کی مؤثر سہولت کاری کے باعث پاکستان میں جدید اور پائیدار مالیاتی نظام کی بنیاد مضبوط ہو رہی ہے۔ عالمی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اصلاحات کے درست راستے پر گامزن ہے اور مستقبل قریب میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے، جو مجموعی معاشی ترقی، روزگار کے مواقع اور مالیاتی استحکام میں اہم کردار ادا کرے گی۔