Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

    ڈیرہ اسماعیل خان: شادی کی تقریب میں خودکش دھماکہ، 5 افراد جاں بحق

    ڈیرہ اسماعیل خان میں شادی کی ایک تقریب کے دوران خودکش دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ 10 سے زائد افراد شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں قریشی موڑ کے قریب امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر خودکش دھماکہہوا،جاں بحق ہونے والوں میں امن کمیٹی کے رکن وحید اللّٰہ محسود بھی شامل ہیں جبکہ نور عالم محسود دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) نے خودکش دھماکے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دھماکے بعد فائرنگ بھی ہوئی،پولیس حکام کے مطابق دھماکا امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر پر شادی کی تقریب کے دوران ہوا۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ واقعہ بھتہ خوری سے جڑی ذاتی دشمنی کا شاخسانہ ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور محرکات جانچنے کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد قبضے میں لے لیے ہیں۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ شادی کی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی ، مقامی افراد نے بتایا کہ دھماکے کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں اور علاقے کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ہسپتال انتظامیہ نے ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے اضافی طبی عملہ طلب کر لیا ہے۔

  • امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا،ٹرمپ کی تصدیق

    امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا،ٹرمپ کی تصدیق

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکا ایران کی جانب ایک بڑا بحری بیڑا (آرماڈا) روانہ کر رہا ہے، تاکہ تہران کو اپنے جوہری پروگرام کی بحالی سے روکا جا سکے۔امریکی جنگی جہاز بڑی تعداد میں ایران کی طرف بڑھ رہے ہیں، صدر ٹرمپ نے یہ بیان سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور امریکی بحری اثاثے خطے میں منتقل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،“ہم نے احتیاطاً اس سمت کئی بحری جہاز بھیج دیے ہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تصادم ہو، لیکن ہم ایران کو بہت قریب سے دیکھ رہے ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ایک آرماڈا اس طرف جا رہی ہے، اور ممکن ہے ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔”

    رائٹرز سے بات کرنے والے امریکی حکام کے مطابق، طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن اور کئی جدید گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز آئندہ دنوں میں مشرقِ وسطیٰ پہنچنے کی توقع ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں کے تحفظ کے لیے اضافی فضائی دفاعی نظام تعینات کرنے پر بھی غور کر رہا ہے۔یہ تعیناتیاں صدر ٹرمپ کے فوجی آپشنز میں مزید وسعت پیدا کرتی ہیں اور جون میں ایرانی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں کے بعد سامنے آئی ہیں۔ ان حملوں کو بین الاقوامی سطح پر بڑے پیمانے پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا گیا تھا۔

    امریکی جنگی جہاز گزشتہ ہفتے ایشیا پیسیفک خطے سے روانہ ہونا شروع ہوئے تھے، جب ایران بھر میں احتجاجی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ ایران نے ان مظاہروں کے پیچھے امریکا پر الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ صدر ٹرمپ نے مظاہرین کی ہلاکتوں پر ایران کو مداخلت کی دھمکیاں بھی دیں۔ تاہم بعد ازاں امریکی فضائی حملے منسوخ کر دیے گئے اور گزشتہ ہفتے مظاہروں میں کمی دیکھی گئی۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مطابق، ملک بھر میں ہونے والے کئی ہفتوں کے احتجاج کے دوران “کئی ہزار” افراد ہلاک ہوئے۔

    صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کی وارننگ کے بعد ایران نے تقریباً 840 افراد کی سزائے موت منسوخ کر دی ہیں۔ انہوں نے کہا،“میں نے کہا تھا کہ اگر تم نے ان لوگوں کو پھانسی دی تو تم پر پہلے سے کہیں زیادہ سخت حملہ ہوگا۔ یہ ہمارے جوہری حملوں کو بھی معمولی بنا دے گا۔”ٹرمپ کے مطابق یہ سزائیں نافذ ہونے سے صرف ایک گھنٹہ قبل منسوخ کی گئیں، جسے انہوں نے “مثبت پیش رفت” قرار دیا۔تاہم ایران کے اعلیٰ سرکاری پراسیکیوٹر محمد موحدی نے جمعے کو ٹرمپ کے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ عدلیہ کی خبر رساں ایجنسی میزان نیوز کے مطابق، موحدی نے کہا،“یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط ہے، نہ تو ایسی کوئی تعداد موجود ہے اور نہ ہی عدلیہ نے اس نوعیت کا کوئی فیصلہ کیا ہے۔”

    صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کیا تو امریکا دوبارہ حملہ کرے گا۔ ان کا کہنا تھا،“اگر وہ دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کریں گے تو انہیں کسی اور جگہ جانا پڑے گا، اور ہم وہاں بھی اتنی ہی آسانی سے حملہ کریں گے۔”

    واضح رہے کہ ایران میں احتجاجی مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے گرینڈ بازار میں مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں پورے ملک میں پھیل گئے۔ رائٹرز کو ایک ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ان مظاہروں میں ہلاکتوں کی تصدیق شدہ تعداد 5 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں 500 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔

  • سعودی عرب معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی  فیصلہ کن کھلاڑی

    سعودی عرب معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی فیصلہ کن کھلاڑی

    نایاب اور اہم معدنیات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اعلان کیا کہ گرین لینڈ سے متعلق ایک ممکنہ معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں نایاب زمینی معدنیات (Rare Earth Minerals) کے حقوق بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

    یہ اہم اور نایاب معدنیات جدید دنیا کی کلیدی ٹیکنالوجیز کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں، جن میں صاف توانائی کی منتقلی، مصنوعی ذہانت (AI)، الیکٹرک گاڑیاں، ونڈ ٹربائنز اور جدید فوجی ہتھیار شامل ہیں۔ تاہم ان معدنیات کی پیداوار اور ریفائننگ پر اس وقت چین کا غلبہ ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق چین دنیا کی 90 فیصد سے زائد ریفائن شدہ نایاب معدنیات اور 60 فیصد سے زیادہ کان کنی کی پیداوار پر کنٹرول رکھتا ہے۔

    ریاض میں منعقدہ فیچر منرلز فورم کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے SAFE (Securing America’s Future Energy) کے منرلز سینٹر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ابیگیل ہنٹر نے کہا کہ چین امریکا سے “کئی دہائیاں آگے” ہے، کیونکہ اس نے طویل المدتی حکمتِ عملی، ریاستی سرپرستی، نجی شعبے کے ساتھ ہم آہنگی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے یہ برتری حاصل کی۔

    اسی تناظر میں سعودی عرب تیزی سے اپنے معدنی شعبے کو وسعت دے رہا ہے، تاکہ تیل پر انحصار کم کیا جا سکے اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ میں اضافہ ہو۔ سعودی حکام کا دعویٰ ہے کہ مملکت کے پاس تقریباً 2.5 ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر موجود ہیں، جن میں سونا، زنک، تانبہ، لیتھیم اور نایاب معدنیات جیسے ڈسپروسیم، ٹربیئم، نیوڈیمیم اور پریسیوڈیم شامل ہیں، جو جدید ٹیکنالوجی میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔S&P Global کے مطابق 2021 سے 2025 کے درمیان سعودی عرب نے معدنی تلاش (Exploratory Mining) کے بجٹ میں 595 فیصد اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ یہ سرمایہ کاری کینیڈا اور آسٹریلیا جیسے ترقی یافتہ معدنی ممالک کے مقابلے میں ابھی کم ہے، تاہم نئے کان کنی لائسنسز کے اجرا میں نمایاں تیزی آئی ہے، جن میں ملکی اور غیر ملکی کمپنیاں شامل ہیں۔

    ماہرین کے مطابق کان کنی صرف معدنیات نکالنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طویل المدتی عمل ہے۔ ابیگیل ہنٹر کے مطابق، “پروسیسنگ پلانٹ بنانے میں تین سے پانچ سال لگ جاتے ہیں، جبکہ بعض ممالک میں یہ عمل 29 سال تک بھی جا سکتا ہے۔”اسی لیے سعودی حکومت سرخ فیتے (Red Tape) میں کمی، ٹیکس مراعات اور بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعے اس شعبے میں تیزی لانا چاہتی ہے۔ فیچر منرلز فورم میں سعودی سرکاری کان کنی کمپنی معادن (Maaden) نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ دس برسوں میں 110 ارب ڈالر دھاتوں اور کان کنی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرے گی۔ معادن کے سی ای او باب وِلٹ نے کہا، “ہم اتنے عاجز ہیں کہ جانتے ہیں یہ کام اکیلے نہیں ہو سکتا، اسی لیے عالمی شراکت داری ضروری ہے۔”

    اگرچہ سعودی معدنیات کی مجموعی مالیت تیل کے ذخائر کے مقابلے میں کم ہے، تاہم ویژن 2030 کے تحت معیشت کو متنوع بنانا مملکت کا بڑا ہدف ہے، جس میں کان کنی کو کلیدی ستون قرار دیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں صرف معدنیات نکالنا ہی نہیں بلکہ مکمل سپلائی چین اور ملکی صنعتوں، خاص طور پر الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ، کو فروغ دینا شامل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی مضبوط انفرااسٹرکچر کی بدولت دوسرے ممالک، خصوصاً افریقی ریاستوں سے نکالی گئی معدنیات کی ریفائننگ کے لیے ایک علاقائی مرکز بن سکتا ہے۔

    سعودی عرب کی اس حکمتِ عملی نے امریکا کی دلچسپی بھی بڑھا دی ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ چین نے گزشتہ برس نایاب معدنیات کی برآمدات پر سخت کنٹرول عائد کیا تھا، جن میں کئی معدنیات فوجی استعمال کی حامل ہیں۔گزشتہ نومبر واشنگٹن میں ہونے والے دورے کے دوران سعودی عرب نے امریکا میں تقریباً ایک ٹریلین ڈالر تک سرمایہ کاری کا اعلان کیا، جس میں معدنی شعبے میں دوطرفہ تعاون بھی شامل تھا۔ امریکی کمپنی MP Materials نے اعلان کیا کہ وہ معادن اور امریکی محکمہ دفاع کے اشتراک سے سعودی عرب میں ایک نئی ریفائنری قائم کرے گی۔

    کریٹیکل منرلز انسٹی ٹیوٹ کی شریک چیئر میلسا سینڈرسن کے مطابق سعودی عرب کی سب سے بڑی طاقت سستی اور قابلِ اعتماد توانائی ہے، جس کے ذریعے وہ چین کا کم لاگت اور نسبتاً ماحول دوست متبادل بن سکتا ہے۔ تاہم ماحولیاتی خدشات، مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام اور افریقی ممالک کے ساتھ پیچیدہ سفارتی تعلقات چیلنج بن سکتے ہیں۔سینڈرسن کے مطابق، “یہ حکمتِ عملی فوری منافع کے لیے نہیں بلکہ طویل المدتی طاقت، اثر و رسوخ اور عالمی سیاست میں مرکزی کردار حاصل کرنے کے لیے ہے۔”ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوئے تو سعودی عرب نہ صرف توانائی بلکہ اہم معدنیات کی عالمی سیاست میں بھی ایک فیصلہ کن کھلاڑی بن کر ابھر سکتا ہے

  • پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب

    پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا ہے کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، صوبے میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے لاہور میں بسنت فیسٹیول کا جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ لاہور میں ٹریفک کیلئے بہترین پلان بنایا گیا، بسنت کو محفوظ بنانے کیلئے تمام ادارے متحرک ہیں، پنجاب کی ثقافت کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا جائے گا، بسنت 800 سال پرانا فیسٹیول ہے، پنجاب حکومت کے زیرانتظام بسنت منائی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں دنگے، فساد اور انتشار کا ماحول ختم کردیا، سیفٹی پلان کے تحت لاہور کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا، وقت سے پہلے پتنگ اڑانے پر گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں، 6، 7 اور 8 فروری کو بسنت منائی جائے گی، غلط ڈور استعمال کرنے پر 5 سال قید کی سزا ہوگی، ڈوراور پتنگ کے مقرر سائز کی خلاف ورزی پر بھی سزا ہوگی۔

    مریم نواز نے مزید کہا کہ پنجاب کے عوام کو خوشیاں لوٹائیں گے، ریڈ زون میں بغیر سیفٹی راڈ کے داخلے پر پابندی ہوگی، پنجاب حکومت موٹر سائیکل سواروں کو 10 لاکھ سیفٹی راڈ دے گی، 3 دنوں میں 500 بسوں پر سفر کی سہولت مفت ہوگی، بسنت کے دوران اورنج لائن، میٹرو اور الیکٹرک بسیں بھی فری چلائیں گے، 3 دن کے دوران 5 لاکھ ٹرپس کا میری طرف سے تحفہ ہے۔

  • جاپان ،وزیرِ اعظم کا 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

    جاپان ،وزیرِ اعظم کا 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان

    جاپان کی وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے ملک میں اچانک سیاسی پیش رفت کے تحت پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کو تحلیل کر دیا ہے، جس کے بعد 8 فروری کو قبل از وقت عام انتخابات کرانے کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نے آج ایوانِ زیریں کی تحلیل کا باضابطہ اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی موجودہ پارلیمانی مدت ختم ہو گئی۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد 12 روزہ انتخابی مہم کا آغاز آئندہ منگل سے ہوگا، جس دوران سیاسی جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھرپور مہم چلائیں گی۔سنائے تاکائچی، جو اکتوبر میں جاپان کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم منتخب ہوئیں، مختصر عرصے میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ مختلف سروے رپورٹس کے مطابق ان کی مقبولیت کی شرح تقریباً 70 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو جاپانی سیاست میں ایک غیر معمولی رجحان سمجھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق وزیرِ اعظم تاکائچی اپنی ذاتی مقبولیت کو بروئے کار لاتے ہوئے حکمران جماعت کی پارلیمانی پوزیشن مزید مضبوط کرنا چاہتی ہیں۔

    بین الاقوامی میڈیا کے مطابق جاپان میں اس وقت حکمران اتحاد، جس میں لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور جاپان انوویشن پارٹی شامل ہیں، ایوانِ زیریں میں محض معمولی اکثریت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قبل از وقت انتخابات کو حکمران اتحاد کے لیے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔ادھر جاپانی عوام کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوامی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث مہنگائی آئندہ انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

    جاپان کے سرکاری نشریاتی ادارے ’این ایچ کے‘ کے مطابق انتخابی مہم کے دوران مہنگائی پر قابو پانے کے اقدامات، معاشی استحکام، اور چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی مرکزی موضوعات ہوں گے۔ خارجہ پالیسی خصوصاً چین کے ساتھ تعلقات انتخابی مباحث کا اہم حصہ بننے جا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ جاپان اور چین کے تعلقات میں اس وقت تناؤ پایا جاتا ہے، جو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی نے نومبر میں تائیوان سے متعلق ایک بیان دیا تھا۔ اس بیان کے بعد چین کی جانب سے جاپان کے خلاف مختلف معاشی اور سفارتی اقدامات کیے گئے، جس نے خطے کی سیاسی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے انتخابات نہ صرف جاپان کی داخلی سیاست بلکہ خطے کی خارجہ پالیسی پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور یہ انتخابات وزیرِ اعظم سنائے تاکائچی کے سیاسی مستقبل کے لیے ایک اہم امتحان ثابت ہوں گے۔

  • لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،شازیہ مری

    لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ کراچی میں افسوسناک واقعے پر سب کو تکلیف ہوئی، دکھ کا جتنا بھی اظہار کیا جائے کم ہوگا۔

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھا رہی ہے لیکن اس واقعے پر جو سیاست کی جارہی ہے وہ افسوسناک ہے، آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کی ضرورت ہے، لگتا ہے کہ آگ لگنے کے واقعے میں اٹھارویں ترمیم کو آگ لگانا چاہتے ہیں،اس واقعے پر بات کرتے کرتے آپ اٹھارویں ترمیم پر بات کرنے لگے ہیں، ایک وفاقی وزیر نے سندھ کے شہر کو وفاق کے قبضے میں دینے کی بات کی، ہم جانتے ہیں آپ نے قبضے کی سیاست کی اور نام لے لے کر خود کو ایکسپوز کیا، ایم کیو ایم کے تمام لوگوں نے وقت کیساتھ ایک دوسرے پر چارج شیٹ دی، ایسی بات کرکے کئی لوگوں کے احساسات کو مجروح کیا گیا،مسلم لیگ ن کے وزیر نے بیان دیا ہو یا کسی اور نے دیا ہو وہ قابل مذمت ہے، کراچی کو سب پتا ہے اس لیے کوئی آپ کے پیچھے نہیں کھڑا۔

  • بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کو دوبارہ خط لکھ دیا، انٹرنیشنل کرکٹ کونسل سے وینیو تنازع پر نظرثانی کی درخواست کی گئی ہے۔

    بنگلادیش نے سیکورٹی خدشات کی بنیاد پر ورلڈکپ کیلئے ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کردیا ہے۔بنگلادیش بورڈ کے صدر امین الاسلام کا کہنا تھا 20 کروڑ عوام اگر ورلڈ کپ سے محروم ہوئے تو نقصان آئی سی سی کا ہوگا، چیمپئنز ٹرافی 2025ء میں بھارت کو سہولت دی گئی تھی۔انہوں نے کہا کہ بھارتی ٹیم نے تمام میچز پاکستان کے بجائے دبئی میں کھیلے لیکن آئی سی سی نے بنگلادیش کے میچز منتقل کرنے کا مطالبہ مسترد کردیا۔

    دوسری جانب آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں بنگلادیش کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلادیش کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوگا،رپورٹ کے مطابق بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو سالانہ آمدن کی کمائی کے تقریباً 60 فیصد، براڈکاسٹ اور اسپانسر شپ کی مد میں ہونے والی آمدن سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلادیشی کھلاڑیوں کے ورلڈکپ کھیلنے پر آمادگی کے باوجود مشیر کھیل ڈاکٹر آصف نذرل نے ورلڈکپ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔

    یاد رہے کہ بنگلادیش نے سکیورٹی خدشات کے باعث بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا،بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے باعث بنگلادیش کی بھارت کے خلاف مستقبل کی دو طرفہ سیریز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس سال میں دوطرفہ سیریز بھی شیڈول ہیں،واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔

  • کئی قومی کھلاڑی دھوکہ دہی کا شکار،کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم

    کئی قومی کھلاڑی دھوکہ دہی کا شکار،کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم

    کئی قومی کھلاڑی فراڈ کے سبب کروڑوں روپے کی جمع پونجی سے محروم ہوگئے۔

    پاکستان کے نامور کرکٹرز بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین آفریدی، شاداب خان سمیت کئی کھلاڑی غیر معمولی منافع کے لیے سرمایہ کاری میں اصل رقم بھی کھو بیٹھے۔کھلاڑیوں نے ایک ارب سے زائد کی سرمایہ کاری مبینہ طور پر پی ایس ایل ٹیم کے اسپانسر کے ساتھ کی تھی، دو ماہ سے منافع بند، اور اسپانسر بیرون ملک جا کر فون بند کر چکا ہے

    ذرائع کے مطابق پاکستان کےسابق اور موجودہ کرکٹرز کےساتھ مبینہ فراڈ ہوا ہے، کرکٹرز نے مبینہ فراڈ کی کسی پلیٹ فارم پرباضابطہ شکایت درج نہیں کرائی،میڈیا رپورٹس کے مطابق کھلاڑیوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ سےبھی مسئلہ حل کرانےکے لیے رابطہ نہیں کیا،ذرائع کے مطابق کرکٹرز نےسابق کپتان کی دیکھا دیکھی میں کاروباری شخص کے ساتھ سرمایہ کاری کی، موجودہ کرکٹرز میں سابق اور موجودہ کپتانوں کےنام بھی شامل ہیں، بعض کرکٹرز نے براہ راست بھی کاروباری شخص کےساتھ سرمایہ کاری کی،کرکٹرز نےاپنےکروڑوں روپےغیر معمولی منافع کےچکرمیں مبینہ طور پردے دیے،ذرائع کا بتانا ہے کہ کرکٹرز کوآغاز میں غیر معمولی منافع بھی ملتا رہا، بعد میں کاروباری شخص منظرسےغائب ہوگیا،کرکٹرزنےچند ہفتےاس متعلق کوششیں کیں، بعض کو کچھ پیسےواپس ملے۔

    ذرائع کے مطابق کرکٹرز کا ایک مشہور ایجنٹ بھی رقم سےمحروم ہونےوالوں میں شامل ہے، فراڈ کرنے والا امریکا میں رہائش پذیرہے جس سےکئی پاکستانی کرکٹر سے دوستی تھی،کرکٹرز کا دعویٰ ہے کہ اس شخص کافون بند ہے، دوماہ سےغیر معمولی منافع کی رقم نہیں مل سکی،ذرائع کے مطابق کرکٹرز اصل رقم واپس لینا چاہتےہیں لیکن فراڈ کرنے والےشخص سےرابطہ نہیں ہورہا۔

  • میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو ،مولانا فضل الرحمان

    میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو ،مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آج جو قانون سازی ہوئی وہ خلاف شریعت ہوئی ہے،ہم نے اسلامی نظریاتی کونسل کو یہ بل بھیجنے کا مطالبہ کیا

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ نہیں سنا گیا ،ایسے قوانین پر لکھا ہوتاہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی خواہش پر ترامیم کی جارہی ہیں،،عائلی قوانین غیر اسلامی منظور کئے گئے،میں اعلان کرتا ہوں ان غیر اسلامی قوانین کی خلاف ورزی میں کراؤں گا، میں اٹھارہ سال سے کم عمر کی شادیاں کراؤں گا دیکھوں گا تم کیا کرتے ہو آپ کے غیر اسلامی قوانین کو پاؤں تلے روندوں گا،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے پہلے صدر نے پاکستان کے خاتمے کی بات بطور منشور پیش کی ،حماس کو کچلنے کے بعد ایران اور پھر ایران میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف تیاری کررہا ہے ،اگر اسرائیل کے اقوام متحدہ میں بیٹھنے کی دلیل پر اس کے ساتھ بیٹھا جاسکتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی پابندی کیوں لگائی گئی ہے،اتنا بڑا فیصلہ لیتے ہوئے پارلیمان سے کیوں نہیں پوچھا گیا ،اللّٰہ کے بجائے حکومت پاکستان ٹرمپ کے بت کو راضی کر رہی ہے اس سے بڑا شرک کوئی نہیں ہوسکتا ، ہم خدا کو ناراض کر رہے ہیں، ہم اس پیس اکارڈ کو مسترد کرتے ہیں، اسرائیل کی غلامی میں پاکستان کام کرنے کے لیے رضامند ہوگیا ہے، یہ مسلمانوں اور فلسطینیوں سے غداری ہے

  • پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    پاکستان میں سرمایہ کاری کی نئی لہر، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، معیشت مستحکم

    خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی مؤثر پالیسیوں اور حکومتی اصلاحات کے باعث پاکستانی معیشت میں استحکام آنا شروع ہو گیا ہے جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد واضح طور پر بحال ہو رہا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے پاکستان میں سرمایہ کاری اور معاشی بحالی سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تیزی سے سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش اور اولین انتخاب بنتا جا رہا ہے۔

    خرم شہزاد کے مطابق سازگار معاشی پالیسیوں، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست اقدامات نے عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص بہتر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس آئی ایف سی کی کاوشوں سے سرمایہ کاری کے مواقع روشن ہوئے ہیں اور مختلف شعبوں میں غیر ملکی دلچسپی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔حالیہ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) کے سرمایہ کار سینٹیمنٹ سروے کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاری پر اعتماد 61 فیصد سے بڑھ کر 73 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جو اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار پاکستانی معیشت کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید ہیں۔مشیرِ خزانہ کے مطابق ملٹی نیشنل کمپنی نیسلے نے پاکستان میں 60 ملین امریکی ڈالر کی اضافی سرمایہ کاری کا اعلان کیا ہے اور پاکستان کو علاقائی ایکسپورٹ حب بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیسلے پاکستان سے 26 ممالک کو برآمدات کرے گا جس سے مقامی مینوفیکچرنگ مضبوط اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

    اسی طرح آذربائیجان کی سرکاری توانائی کمپنی اسٹیٹ آئل کمپنی آف آذربائیجان ریپبلک (سوکار) رواں فروری میں پاکستان کے تیل و گیس کے شعبے میں سرمایہ کاری کو حتمی شکل دے گی۔ خرم شہزاد کے مطابق سوکار پاکستانی مارکیٹ کی وسعت، بڑھتی ہوئی توانائی کی طلب اور اصلاحات کی رفتار کی معترف ہے اور پاکستان کو طویل المدتی توانائی شراکت دار قرار دے چکی ہے۔خرم شہزاد نے بتایا کہ گزشتہ 15 سے 18 ماہ کے دوران 20 سے زائد غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، جس کے نتیجے میں صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ پاکستان آنے والی کمپنیوں میں گوگل، بی وائی ڈی، آرامکو، وافی، ابو ظہبی پورٹس، سیمسنگ، ترکیش پٹرولیم، نووا منرلز سمیت دیگر عالمی ادارے شامل ہیں۔لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں مالی سال 2026 کے جولائی تا نومبر کے پانچ ماہ میں 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں گاڑیوں کی فروخت میں 32 فیصد، سیمنٹ کی فروخت میں 10 فیصد، کھاد کی فروخت میں 24 فیصد اور موبائل فونز کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا، جو صارفین اور صنعت کاروں کے اعتماد کی بحالی کا واضح ثبوت ہے۔مشیرِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں 1.17 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا جو معیشت کی بحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں پاکستان نے 14 سال بعد پہلی بار 2.1 ارب امریکی ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس حاصل کیا جبکہ مہنگائی 23.4 فیصد سے کم ہو کر 4.5 فیصد تک آ گئی۔مزید برآں مالی سال 2025 میں زرمبادلہ کے ذخائر میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، قرضہ جی ڈی پی تناسب 74 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 70 فیصد پر آ گیا اور بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد رہا۔

    مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں ترسیلات زر 19.7 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں جو 11 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی ایکسپورٹس 437 ملین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔ خرم شہزاد کے مطابق درآمدات کا تقریباً 80 فیصد حصہ خام مال، درمیانی اجزاء اور سرمایہ کاری کی اشیاء پر مشتمل ہے جو پیداواری سرگرمیوں کے مستحکم ہونے کا مظہر ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں سرمایہ کاری کا سازگار ماحول، بڑھتا ہوا معاشی استحکام اور عالمی کمپنیوں کی دلچسپی ملک کے روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے لیے موافق فضا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مضبوط اشارہ ہے اور یہ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔