Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی: سانحہ گل پلازہ،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوگئی

    کراچی: سانحہ گل پلازہ،سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری، ہلاکتوں کی تعداد 71 ہوگئی

    کراچی میں گل پلازہ کے المناک سانحے کو 9 روز گزرنے کے باوجود سرچ اینڈ ریسکیو اور ریکوری آپریشن تاحال مکمل نہ ہوسکا۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ رات عمارت کی تیسری منزل سے مزید انسانی باقیات برآمد ہوئی ہیں، جنہیں شناخت کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کوشش کی جارہی ہے کہ ریکوری اور تلاش کا عمل آج مکمل کرلیا جائے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق آگ لگنے کے بعد سے ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل مسلسل جاری ہے، تاہم عمارت کے شدید متاثر ہونے کے باعث کارروائی میں مشکلات کا سامنا رہا۔ ریسکیو ٹیموں نے نویں روز بھی کام جاری رکھا، اس دوران تیسرے فلور سے انسانی باقیات ملیں جنہیں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سُمعیہ طارق کے مطابق اب تک 71 لاشیں اور انسانی باقیات سول اسپتال لائی جاچکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 22 جاں بحق افراد کی شناخت مکمل ہوچکی ہے، جن میں سے 6 لاشیں قابلِ شناخت تھیں جبکہ 15 لاشوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ممکن ہوئی۔ ڈاکٹر سُمعیہ کے مطابق ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی، جبکہ متعدد لاشوں کی شناخت کا عمل ابھی جاری ہے۔

    دوسری جانب سندھ حکومت نے آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ کی ازسرِ نو تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت اپنے بجٹ سے کثیر المنزلہ گل پلازہ کی تعمیر کرے گی، جو ایک سال کے اندر مکمل کی جائے گی۔ تعمیر مکمل ہونے کے بعد دکانیں الاٹیز کے حوالے کی جائیں گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے اس منصوبے کے لیے ماہرینِ تعمیرات کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچاؤ ممکن بنایا جاسکے۔

    واضح رہے کہ کراچی میں 17 جنوری کی رات شہر کے مشہور گل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ شدید آتشزدگی کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ متاثرہ خاندان تاحال اپنے پیاروں کی شناخت اور انصاف کے منتظر ہیں، جبکہ شہر بھر میں واقعے پر گہرے رنج و غم اور غصے کی فضا پائی جاتی ہے۔

  • پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا اعلان کردیا

    پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا اعلان کردیا

    پاکستان نے ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا اعلان کردیا، سلمان علی آغا کپتان ہوں گے، بابر اعظم اور شاہین شاہ آفریدی بھی ٹیم کا حصہ ہیں، محمد رضوان کو ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔

    لاہور میں ہیڈ کوچ مائیک ہیسن، عاقب جاوید اور کپتان سلمان آغا نے پریس کانفرنس کی، جس میں ٹی 20 ورلڈ کپ کیلئے ٹیم کا اعلان کیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ورلڈ کپ ٹیم کیلئے سلمان آغا کپتان ہوں گے، بابر اعظم بھی ٹیم میں شامل ہیں، دیگر کھلاڑیوں میں صاحبزادہ فرحان، شاداب خان، شاہین آفریدی، عثمان طارق، فہیم اشرف، خواجہ نافع، سلمان مرزا، ابرار احمد، فخر زمان، محمد نواز، عثمان خان، صائم ایوب اور نسیم شاہ شامل ہیں۔عاقب جاوید نے بتایا کہ کنڈیشنز دیکھ کر کمبی نیشن بناتے ہیں، ٹی 20 کرکٹ ون ڈے سے بالکل مختلف ہے، چیلنجنگ کنڈیشنز میں بابر اعظم کا ہونا ضروری ہے، ٹیم میں ایسا کھلاڑی ہونا چاہیے جو ہر کنڈیشن میں کھیل سکے۔

  • وادی تیراہ میں شدید برف باری، پاک فوج کا بھرپور ریلیف آپریشن جاری

    وادی تیراہ میں شدید برف باری، پاک فوج کا بھرپور ریلیف آپریشن جاری

    وادی تیراہ میں شدید اور مسلسل برف باری کے باعث معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں۔ شدید سردی اور برفانی طوفان کے نتیجے میں کئی علاقے زمینی رابطوں سے منقطع ہو گئے جبکہ روزمرہ سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس صورتحال میں پاک فوج نے مقامی انتظامیہ کے تعاون سے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع کر رکھا ہے جو بلا تعطل جاری ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق مقامی آبادی کو درپیش مشکلات کے ازالے اور زندگی کو معمول پر لانے کے لیے پاک فوج کے دستے متحرک ہیں۔ شدید برف باری کے دوران برف میں پھنسنے والی متعدد گاڑیوں کو نکال کر محفوظ مقامات تک منتقل کیا گیا، جس سے مسافروں اور مقامی افراد کو فوری ریلیف ملا۔ریلیف آپریشن کی نگرانی پاک فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے افسران اور جوان خود کر رہے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں خاندانوں کو کھانے پینے کی اشیاء، کمبل اور دیگر ضروری سامان فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ہنگامی طبی امداد کی سہولیات بھی مہیا کی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    پاک فوج کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں اشیائے ضروریہ کی تقسیم کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ پیشہ ورانہ حکمتِ عملی اور منظم اقدامات کے باعث متعدد علاقوں میں زمینی رابطے بحال کر دیے گئے ہیں، جس سے امدادی سرگرمیوں میں مزید تیزی آئی ہے۔مقامی شہریوں نے مشکل حالات میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی بروقت امدادی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ برفانی موسم میں یہ اقدامات ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جب تک حالات مکمل طور پر بہتر نہیں ہو جاتے، ریلیف آپریشن اسی جذبے کے ساتھ جاری رہے گا۔

  • وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی  بے بنیاد خبروں کی تردید

    وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی بے بنیاد خبروں کی تردید

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے وادی تیرہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کی بے بنیاد خبروں کی تردید کی گئی ہے

    وزارت اطلاعات و نشریات کے مطابق حکومت نے ان گمراہ کن خبروں کا نوٹس لے لیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وادیٔ تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کروایا جا رہا ہے،یہ دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مقاصد کے تحت کیے جا رہے ہیں، ان دعوں کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پھیلانا، سیکیورٹی اداروں کے خلاف غلط معلومات دینا اور ذاتی و سیاسی مفادات کا حصول ہے ، وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادیٔ تیراہ کو خالی کروانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا، قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، ان انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے دوران پُرامن شہریوں کی زندگی کے متاثر نہ ہونے کا مکمل خیال رکھا جاتا ہے، اِن کارروائیوں کے لیے کسی قسم کی آبادی کی منتقلی یا ہجرت کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی ایسا کچھ کیا جا رہا ہے، یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ مقامی آبادی خود خوارج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور تیراہ میں امن و استحکام چاہتی ہے خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے، اس نوٹیفیکیشن کے تحت (اطلاعات کے مطابق 4 ارب روپے) کی رقم جاری کی گئی ہے یہ رقم تیراہ (باغ) کے بعض علاقوں سے ممکنہ، عارضی اور رضاکارانہ طور پر آبادی کی نقل و حرکت کے پیشِ نظر رکھی گئی ہے،اس اقدام کا مقصد پیشگی تیاری اور امدادی اقدامات کرنا ہے، جس میں ٹرانسپورٹ، خوراک کی فراہمی، نقد امداد، اور عارضی قیام و رجسٹریشن مراکز کا قیام اور انتظام شامل ہے، اس دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق یہ مجوزہ رضاکارانہ نقل مکانی مقامی آبادی کی رائے اور خواہشات کی عکاسی کرتی ہے جو ضلعی سطح پر منعقد ہونے والے نمائندہ جرگے کے ذریعے سامنے آئی، اس میں موسمی حالات، انتظامی سہولیات اور دیگر مقامی عوامل کو مدنظر رکھا گیا ہے، اور یہ عمل کیمپوں کے بغیر بھی انجام دیا جائے گا، صوبائی حکومت یا اُس کے کسی عہدیدار کی جانب سے میڈیا کو دیا گیا کوئی بھی ایسا بیان، جس میں اِس نقل مکانی کو مسلح افواج سے جوڑا جائے، سراسر غلط، من گھڑت اور بدنیتی پر مبنی ہے، ایسے بیانات سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے دیے جا رہے ہیں اور بدقسمتی سے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنے کی کوشش ہیں، جو انتہائی افسوسناک ہے،

  • آئی سی سی کا دوہرا معیار،شاہد آفریدی پھٹ پڑے

    آئی سی سی کا دوہرا معیار،شاہد آفریدی پھٹ پڑے

    قومی کرکٹر ، آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے حالیہ فیصلوں پر شدید مایوسی اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے پر عدم تسلسل اور دوہرے معیار اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔

    شاہد آفریدی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ بطور سابق بین الاقوامی کرکٹر، جنہوں نے بنگلہ دیش میں بھی کرکٹ کھیلی اور متعدد آئی سی سی ایونٹس کا حصہ رہے، آئی سی سی کے رویے سے سخت دل برداشتہ ہیں۔ ان کے مطابق آئی سی سی نے 2025 میں پاکستان کا دورہ نہ کرنے کے لیے بھارت کے سکیورٹی خدشات کو قبول کیا، تاہم جب معاملہ بنگلہ دیش سے متعلق آیا تو وہی اصول اور حساسیت دکھائی نہیں دی۔شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ عالمی کرکٹ کی حکمرانی کی بنیاد تسلسل، انصاف اور برابری پر ہونی چاہیے۔ اگر ایک ملک کے سکیورٹی خدشات کو تسلیم کیا جا سکتا ہے تو دوسرے ملک کے معاملات میں بھی اسی معیار کو اپنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ مختلف ممالک کے لیے مختلف اصول طے کرنا عالمی کرکٹ کے لیے نقصان دہ ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بنگلہ دیش کے کھلاڑی اور وہاں کے کروڑوں شائقین کرکٹ عزت اور برابری کے مستحق ہیں، نہ کہ مبہم فیصلوں اور دوہرے معیار کے۔ شاہد آفریدی کے مطابق ایسے فیصلے نہ صرف کھیل کی روح کے منافی ہیں بلکہ کرکٹ کے فروغ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔شاہد آفریدی نے آئی سی سی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کرکٹ کے منتظم ادارے کو پل بنانے چاہئیں، دیواریں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام رکن ممالک کے ساتھ یکساں سلوک کرے تاکہ کرکٹ واقعی ایک عالمی اور منصفانہ کھیل کے طور پر آگے بڑھ سکے۔

  • بنگلادیش ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر، اسکاٹ لینڈ کی شمولیت

    بنگلادیش ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 سے باہر، اسکاٹ لینڈ کی شمولیت

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیشی ٹیم کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کرنے کے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے فیصلے کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بی سی بی نے اس معاملے کو مزید طول نہ دینے اور تنازع کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے اعلان کے فوراً بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں عالمی ایونٹ سے دستبرداری، آئی سی سی کے فیصلے کے مضمرات، اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ حالات میں آئی سی سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے بجائے تنظیمی اور ٹیم کی بہتری پر توجہ دی جائے۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی نے آج باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں بنگلادیش کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا جا رہا ہے۔ آئی سی سی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر بھارت میں میچز کھیلنے سے انکار کے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔

    ادھر اسکاٹ لینڈ کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنی ٹیم کے لیے تاریخی موقع قرار دیا ہے۔ اسکاٹ لینڈ کی شمولیت سے ٹورنامنٹ میں نئی ٹیموں کو خود کو منوانے کا ایک اور موقع ملے گا۔بی سی بی ذرائع کے مطابق بنگلادیش آئندہ برسوں میں آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کے لیے سیکیورٹی، سفارتی اور انتظامی معاملات پر پہلے سے بہتر تیاری کرے گا تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ آور کی شناخت،افغان شہری نکلا

    ڈیرہ اسماعیل خان میں خودکش حملہ آور کی شناخت،افغان شہری نکلا

    ڈیرہ اسماعیل خان: شہر کے علاقے قریشی موڑ پر امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے بعد خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں حملہ آور کی شناخت 21 سالہ عبدالرحمن کے نام سے ہوئی ہے جو افغانی شہری بتایا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب گھر میں شادی کی تقریب جاری تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گھر کا بڑا حصہ منہدم ہو گیا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی نوعیت اور طریقہ کار کا تعین کیا جا رہا ہے جبکہ شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

  • پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ کا بحرہند میں کامیاب ریسکیو آپریشن،سری لنکن شہری کو بچا لیا

    پاک بحریہ نے بحر ہند میں طویل فاصلے پر کامیاب ریسکیو آپریشن کرتے ہوئے سری لنکن شہری کو بچا لیا۔

    اعلامیے کے مطابق پاک بحریہ کے جہازوں تبوک اور معاون نے کھلے سمندر میں بحری جہاز پر موجود سری لنکن شہری کا کامیاب طبی انخلاء کیا،سری لنکن شہری کو فوری طبی امداد کی ضرورت تھی، ریسکیو آپریشن سری لنکن میری ٹائم ریسکیو کوآرڈینیشن سینٹرکی درخواست پر شروع کیا گیا، پاک بحریہ نے اطلاع ملتے ہی فوری طور پر اپنے جہاز روانہ کیے اور بیمار رکن کو بحفاظت نکال لیا، مریض کو فوری طور پر پاک بحریہ کے جہاز تبوک پر ضروری طبی امداد فراہم کی گئی،سری لنکن حکام اور متاثرہ فرد کے اہل خانہ نے فوری ردعمل اور تعاون پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔

  • شہزادہ ہیری کا  ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل، اتحادی افواج کی قربانیوں کا دفاع

    شہزادہ ہیری کا ٹرمپ کے بیان پر ردِعمل، اتحادی افواج کی قربانیوں کا دفاع

    افغانستان جنگ میں خدمات انجام دینے والے برطانوی شہزادہ ہیری نے نیٹو کے غیر امریکی فوجیوں سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر سخت مگر باوقار ردِعمل دیا ہے۔

    شہزادہ ہیری کا کہنا ہے کہ افغانستان جنگ کے دوران برطانوی اور دیگر اتحادی افواج کی قربانیاں ایسی ہیں جنہیں “سچائی اور احترام” کے ساتھ یاد رکھا جانا چاہیے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں یہ تاثر دیا تھا کہ افغانستان جنگ کے دوران نیٹو کے غیر امریکی ممالک کے فوجی فرنٹ لائن پر جانے سے گریزاں رہے۔ اس بیان کے بعد برطانیہ میں شدید ردِعمل سامنے آیا، جہاں وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سمیت متعدد سیاسی و عسکری حلقوں نے اس بیان کو حقائق کے منافی قرار دیا۔شہزادہ ہیری، جو برطانوی فوج کی جانب سے افغانستان میں دو بار تعینات رہے، نے واضح کیا کہ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد امریکا کی مدد کے لیے اس کے اتحادی ممالک نے فوری طور پر ساتھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے اتحادیوں نے مشکل وقت میں ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور میدانِ جنگ میں شانہ بشانہ لڑے۔شہزادہ ہیری نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا،“میں نے افغانستان میں خدمات انجام دیں، میں نے وہاں زندگی بھر کے دوست بنائے اور میں نے اپنے دوستوں کو کھویا بھی۔ صرف برطانیہ کے 457 فوجی اہلکار اس جنگ میں مارے گئے۔”انہوں نے زور دیا کہ ان قربانیوں کو سیاسی بیانات کی نذر نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں ایمانداری اور احترام کے ساتھ تسلیم کیا جانا چاہیے۔ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ تمام اتحادی ممالک آج بھی سفارت کاری اور امن کے دفاع کے لیے متحد اور پرعزم ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق افغانستان جنگ نیٹو اتحاد کے لیے ایک اہم امتحان تھی، جس میں برطانیہ، کینیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک نے بھاری جانی و مالی قربانیاں دیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کا بیان نہ صرف تاریخی حقائق کے برعکس ہے بلکہ اتحادی ممالک کے عوام اور فوجیوں کے جذبات کو بھی مجروح کرتا ہے۔

    برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے،کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں، انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں شدید دکھ اور تکلیف کا احساس پیدا ہوا،برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا،اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا،

    خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا،ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور، نیٹو کی جانب سے باہمی دفاع کی شق صرف ایک بار استعمال کی گئی، جو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد عمل میں آئی، جب رکن ممالک نے افغانستان میں ہزاروں فوجی تعینات کیے۔ تاہم ان کے بقول اتحادی ممالک کی شمولیت محدود نوعیت کی تھی، وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔

    عد ازاں جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ شاید ہمیں نیٹو کو آزمانا چاہیے تھا، آرٹیکل 5 نافذ کرتے اور نیٹو کو مجبور کرتے کہ وہ یہاں آ کر ہماری جنوبی سرحد کو غیر قانونی تارکینِ وطن کی مزید دراندازی سے بچاتا، تاکہ بڑی تعداد میں بارڈر پٹرول اہلکار دیگر ذمہ داریوں کے لیے دستیاب ہوتے،

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق افغانستان میں 20 سالہ جنگ کے دوران مجموعی طور پر 3 ہزار 486 نیٹو فوجی ہلاک ہوئے، جن میں 2 ہزار 461 امریکی فوجی تھے۔ اس جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ 2 ہزار دیگر فوجی اور شہری اہلکار زخمی ہوئے۔

  • امریکا میں شدید سردی کی لہر، 16 کروڑ افراد خطرناک برفانی طوفان کے لیے تیار

    امریکا میں شدید سردی کی لہر، 16 کروڑ افراد خطرناک برفانی طوفان کے لیے تیار

    امریکا بھر میں موسمِ سرما کا ایک طویل اور خطرناک برفانی طوفان متوقع ہے، جس کے باعث کم از کم 16 کروڑ امریکی شہری شدید موسمی حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    امریکی قومی محکمۂ موسمیات کے مطابق یہ طویل المدتی سرمائی طوفان وسطی اور مشرقی امریکا کے وسیع علاقوں کو متاثر کرے گا اور اس کے اثرات ہفتے کے آخر سے آئندہ ہفتے کے آغاز تک جاری رہیں گے۔نیشنل ویدر سروس کے مطابق یہ طاقتور برفانی نظام جمعے کے روز جنوبی ہائی پلینز اور راکی پہاڑی سلسلے سے حرکت شروع کرے گا، ہفتے کے روز مِڈ ساؤتھ اور اوہائیو ویلی سے گزرے گا، جبکہ اتوار کو مڈ اٹلانٹک اور شمال مشرقی ریاستوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔محکمے نے خبردار کیا ہے کہ طوفان کے شمالی حصوں میں شدید برفباری متوقع ہے، جہاں اوکلاہوما سے میساچوسٹس تک کئی علاقوں میں برف کی موٹائی تقریباً ایک فٹ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

    ادھر طوفان کے جنوبی حصوں میں ٹیکساس، مِڈ ساؤتھ، کیرولائناز اور ورجینیا پیڈمونٹ کے علاقوں میں برف، اولے اور منجمد بارش (فریزنگ رین) کا امتزاج دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ٹیکساس سے لے کر جنوبی ریاستوں کے کچھ حصوں تک شدید آئس اسٹورم کا خدشہ ہے، جو بجلی کے طویل بریک ڈاؤن، درختوں کے بڑے پیمانے پر نقصان اور انتہائی خطرناک ڈرائیونگ حالات کا سبب بن سکتا ہے۔محکمے کے مطابق شدید سرد ہوائیں، منفی درجۂ حرارت اور خطرناک ونڈ چِل شمالی وسطی امریکا سے جنوبی پلینز، مسیسیپی ویلی اور مڈویسٹ تک پھیل جائیں گی۔ پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ حالات ہائپوتھرمیا اور کھلی جلد پر فراسٹ بائٹ کے جان لیوا خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

    نیشنل ویدر سروس کے ویدر پریڈکشن سینٹر کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور آرکٹک فرنٹ امریکا کے مشرقی دو تہائی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ ادارے کے مطابق اتوار تک شمالی اور وسطی پلینز سے لے کر شمال مشرقی ریاستوں میں درجۂ حرارت صفر سے بھی نیچے گر جائے گا، جبکہ ہفتے کے روز شدید سردی خلیجِ میکسیکو کے مغربی ساحل تک پہنچے گی اور منگل تک مشرق کی جانب پھیلتی رہے گی۔ متعدد علاقوں میں ریکارڈ کم درجۂ حرارت متوقع ہے۔کینیڈا سے آنے والی سرد ہواؤں کے باعث شکاگو اور آئیوا کے شہر ڈیس موئنز میں سرکاری اسکولوں نے جمعے کے روز کلاسز منسوخ کر دیں۔ ماہرین کے مطابق بعض علاقوں میں منفی 35 ڈگری فارن ہائیٹ تک ونڈ چِل ریکارڈ ہو سکتی ہے، جس سے صرف 10 منٹ میں فراسٹ بائٹ کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، ایسے میں بچوں کا اسکول جانا یا بس کا انتظار کرنا انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔

    ماہرین موسمیات نے یہ بھی بتایا ہے کہ منجمد درجۂ حرارت فلوریڈا تک پہنچنے کا امکان ہے۔ بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خاص طور پر آئس سے متاثرہ علاقوں میں ہونے والا نقصان سمندری طوفان (ہریکین) کے برابر ہو سکتا ہے۔برفباری کے بعد شدید سردی کے باعث برف اور آئس کے پگھلنے میں وقت لگے گا، جس سے بجلی کی لائنوں اور درختوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور کئی علاقوں میں دنوں تک بجلی بند رہنے کا خدشہ ہے۔ سڑکیں اور فٹ پاتھ آئندہ ہفتے تک پھسلن کا شکار رہ سکتے ہیں۔محکمۂ موسمیات کا کہنا ہے کہ سرمائی طوفانوں کی پیش گوئی خاصی مشکل ہوتی ہے، کیونکہ صرف ایک یا دو ڈگری درجۂ حرارت کا فرق صورتحال کو تباہ کن یا محض بارش میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا درست تعین طوفان کے آغاز کے بعد ہی ممکن ہو سکے گا۔

    اسی تناظر میں جارجیا کے گورنر برائن کیمپ نے دیگر ریاستی گورنرز کی طرح ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض پیش گوئیوں کے مطابق اٹلانٹا میں شدید سرمائی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ کچھ ماڈلز کے مطابق شہر بڑے نقصان سے بچ بھی سکتا ہے۔طوفان سے قبل شہریوں نے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ اٹلانٹا کی رہائشی جینیفر گیرارڈ نے اپنے 21 ماہ کے بچے کے ساتھ قریبی والمارٹ سے کمبل اور بیٹریاں خریدیں۔ دکانوں میں ڈبہ بند خوراک، بیٹریاں اور پانی سب سے زیادہ خریدے جانے والے سامان میں شامل ہیں، جس کے باعث شیلف معمول سے کم بھرے نظر آئے۔جینیفر گیرارڈ کا کہنا تھا“میں پہلے فلوریڈا میں رہتی تھی، وہاں ہم سمندری طوفانوں کے سیزن میں ہمیشہ ایسی تیاری کرتے تھے، اس لیے یہ سب میرے لیے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔”

    محکمۂ موسمیات نے عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، ہنگامی سامان تیار رکھنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی ہے۔