Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر

    پاک فوج کے زیرِ اہتمام نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا پشاور میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئی

    قومی سطح کی یہ ورکشاپ 11 سے 22 جنوری 2026 تک جاری رہی،ورکشاپ میں عمائدین، اکیڈیمیا، میڈیا، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی،ورکشاپ کے 80 فیصد شرکاء کا تعلق خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھاجبکہ 20 فیصد نمائندگی ملک کے دیگر حصوں سے رہی،مجموعی طور پر 91 شرکاء اور پشاور کی جامعات کے 150 اسکالرز نے شرکت کی،شرکاء کو وزیرِ اعظم پاکستان و دیگر ریاستی عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز منعقد کئے گئے،اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء سے خصوصی نشست میں قومی سلامتی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی،اس موقع پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئیمشرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا

  • 9 مئی حملہ کیس، حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار

    9 مئی حملہ کیس، حماد اظہر سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار

    لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو کلب چوک، جی او آر گیٹ پر ہونے والے حملے کے مقدمے میں غیر حاضر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حماد اظہر سمیت 7 ملزمان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق انسدادِ دہشت گردی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کی مسلسل غیر حاضری اور عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر عدالت نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے حماد اظہر سمیت دیگر نامزد ملزمان کے دائمی وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کی گرفتاری تک قانونی کارروائی جاری رکھی جائے گی اور متعلقہ ادارے وارنٹس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔عدالتی حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام دستیاب قانونی وسائل بروئے کار لائے جائیں اور ان کے خلاف اشتہاری کارروائی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

    یاد رہے کہ اسی مقدمے میں عدالت اس سے قبل ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا تھا، جبکہ دیگر مرکزی رہنماؤں کے خلاف سخت سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔انسدادِ دہشت گردی عدالت نے اس کیس میں ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر سرفراز چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق استغاثہ نے ان ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کیے، جن کی بنیاد پر سزا سنانا لازم قرار پایا۔

  • سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    کراچی سانحہ گل پلازہ،انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مزید انسانی باقیات کو اسپتال لایا گیا ہے، مزید چار بیگ اسپتال لائے گئے ہیں،

    انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ اسپتال لائی گئی باقیات کی جانچ کی جارہی ہے، ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہے، ممکنہ طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 ہوگئی،

    دوسری جانب ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے سانحہ گل پلازہ کے سرچنگ آپریشن سے متعلق بتایا ہے کہ آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔ 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جس مقام پر آگ لگنی شروع ہوئی تھی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نےکہا کہ سانحے کو 7 روز ہوچکے ہیں۔ امید نہیں کہ زندگی یہاں کوئی موجود ہے۔ پچھلے تین دن سے جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی ذندہ موجود ہے یا نہیں۔

    دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد انتظامی اداروں کو ہوش آگیا،شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر عملدرآمد کرانے کیلیے اقدامات کئے جانے لگے، گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاوںت کیلیے ایس بی سی اے کی 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، چار ٹیموں میں ایس بی سی اے کے 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں،ضلع جنوبی، شرقی اور وسطی میں عمارتوں میں آتشزدگی سے حفاظتی انتظامات کے سروے کیلیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،ضلع جنوبی میں سروے اور گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل کی نگرانی کیلیے ڈائریکٹر کی نگرانی میں چھ رکنی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا، ضلع جنوبی میں چھ رکنی ٹیم میں دو اسٹنٹ ڈائریکٹر ، ایک سنئیر بلڈنگ انسپکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع وسطی میں بھی عمارتوں کے سروے کیلیے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں متعلقہ ٹیم آتشزدگی کے حوالے سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا جائزہ لے گئی ، ضلع شرقی میں بھی عمارتوں میں آتشزدگی سے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کے سروے کیلیے ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں چار اسٹنٹ ڈائریکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع شرقی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں دوڈپٹی ڈائریکٹر ، دو اسٹنٹ ڈائریکٹر اور دو بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ٹیمیں عمارتوں میں سے آ گ بجھانے کے آلات , ہنگامہ راستہ فعال ہونے کا جائزہ لے گی، ٹیمیں عمارتوں میں فائر الارم سمیت آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کیلیے عملہ کی تربیت کا بھی جائزہ لے گی.

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ منظور

    پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء کی منظوری دیدی، اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے احتجاج اور شور شرابا کیا۔

    خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر 2 اپوزیشن ارکان اسپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہوگئے، نعرے لگائے اور احتجاجی بینر لہرائے، اسپیکر نے اپوزیشن ارکان کو احتجاج نہ کرنے کی ہدایت کی۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت جاری ہے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ایکٹ 2025ء منظور کرلیا گیا، صدر مملکت آصف علی زرداری نے بل پر اعتراضات عائد کیے تھے، بل میں پیپلزپارٹی کی ترمیم منظور جبکہ جے یو آئی کی ترمیم مسترد کردی گئی۔اپوزیشن کے احتجاج کے دوران دانش اسکولز اتھارٹی بل بھی منظور کرلیا گیا، دانش اسکولز اتھارٹی ترمیمی بل 2025ء کی شق 3 اور4 میں ترامیم کی گئیں۔

    پارلیمنٹ نے گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا بل کے تحت خواتین، مرد، خواجہ سرا، بچوں اور دیگر کمزور افراد کے تحفظ مدد اور بحالی کے لیے مؤثر نظام وضع کیا جائے گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،مجلس شوریٰ نے سانحہ گل پلازہ پر تعزیتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی،قرارداد میں کہا گیا کہ پارلیمنٹ فائر فائٹر فرقان علی کو خراج تحسین پیش کرتی ہے،پارلیمنٹ حکومت سندھ کو متاثرین کے خاندانوں کو سہولیات فراہم کرنے کی سفارش کرتی ہے،

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کی منظوری

    لاہور: وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں رہائشی مسائل کے حل کے لیے ایک اور اہم اقدام اٹھاتے ہوئے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجراء کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے سے جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کی پیش رفت، اہداف اور آئندہ حکمتِ عملی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں گھروں کی توسیع کے لیے بلا سود قرضوں کے اجرا کی باضابطہ منظوری دی گئی، جس کے بعد اب مشترکہ خاندانوں میں رہائش پذیر افراد اپنے موجودہ گھروں کی توسیع کے لیے اس منصوبے کے تحت قرض حاصل کر سکیں گے۔اجلاس کے دوران جون 2026ء تک 1 لاکھ 60 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کیا گیا، جسے وزیر اعلیٰ نے قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو رفتار تیز کرنے کی ہدایت کی۔ مریم نواز نے کہا کہ حکومت پنجاب عام شہری کو باعزت اور محفوظ چھت فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

    اجلاس میں ’’اپنی زمین اپنا گھر‘‘ منصوبے کے تحت 1 ہزار 531 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی، جس سے بے گھر اور کم آمدن افراد کے لیے گھر بنانے کا خواب حقیقت میں بدلنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکام نے اجلاس کو بتایا کہ اس وقت پنجاب بھر میں ’’اپنی چھت اپنا گھر‘‘ پروجیکٹ کے تحت 53 ہزار 843 مکانات زیر تعمیر ہیں، جو منصوبے کی کامیابی کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 164 ارب 66 کروڑ روپے کے ریکارڈ بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، جو ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا ایک بڑا اقدام ہے۔وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اس موقع پر کہا کہ گھر صرف اینٹوں کا ڈھانچہ نہیں بلکہ خاندان کے تحفظ، عزت اور مستقبل کی ضمانت ہوتا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور آسان بنایا جائے تاکہ مستحق افراد بلا رکاوٹ فائدہ اٹھا سکیں۔

  • ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری،بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری،بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع

    ملک کے مختلف حصوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث بالائی علاقوں میں زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں۔

    استور میں گزشتہ رات سے مسلسل برفباری جاری ہے جس سے نظامِ زندگی مفلوج ہوگیا ہے اور لوگ گھروں کے اندر محصور ہیں،اسکردو شہر اور گردو نواح میں بھی برفباری کے باعث بالائی علاقوں کے ساتھ زمینی رابطے منقطع ہوگئے ہیں، یہاں بھی معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں،دیر شہر میں بھی برفباری نے شہریوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں جبکہ سیاحتی مقام کمراٹ سمیت لواری ٹنل میں دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے،ڈوگدرہ، کوہستان میں رابطہ سڑکیں بند ہیں اور شہر میں رات سے بجلی کی سپلائی بھی معطل ہے،مالم جبہ میں 3 فٹ اور کالام میں ڈھائی فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی،کوہستان میں پٹن ایف ڈبلیو کیمپ کے پاس راولپنڈی سے گلگت جانے والی بسیں برف میں پھنس گئیں جن میں بچے، بوڑھے اور خواتین بھی شامل ہیں،علاوہ ازیں ہنزہ اور نگر میں برفباری کے باعث رابطہ سڑک بند ہوگئی، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

    دوسری جانب پشاور میں گزشتہ روزسے جاری بارش کا سلسلہ تھم گیا ہے جبکہ گلیات اور مری میں رات کو شدید برفباری ہوئی جس کے بعد پھلگراں ٹول پلازا سے مری کی طرف ہر قسم کی ٹریفک کو بند کردیا گیا۔

    تیراہ (خیبر), برف باری میں پاک فوج کی بروقت امدادی کارروائیاں جاری ہیں،شدید برف باری کے دوران پاک فوج تیراہ سے عارضی طور پر نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی مکمل دیکھ بھال کر رہی ہے۔ریاست مشکل وقت میں اپنے شہریوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے

  • بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد

    بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقادکیا گیا

    عالمی سطح پر بھارتی مظالم کا پردہ چاک ہوتے ہی مودی ایک مرتبہ پھر پاکستان فوبیا کا شکار ہوگیا ،آذربائیجان میں اقلیتوں پر بھارتی مظالم کےخلاف پہلی عالمی کانفرنس ، شرکاء نے شدید اظہارِ تشویش کیا،عالمی نشریاتی ادارہ آزر ٹیک نیوز کے مطابق آذربائیجان میں اقلیتوں کیخلاف بھارت کی جابرانہ پالیسیوں پر پہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ،عالمی کانفرنس بھارتی درندگی کو عالمی انسانی حقوق کے ایجنڈے میں تبدیل کرنے کا واضح اشارہ ہے،1984 کے فسادات میں 8 سے 17 ہزار سکھوں کے منظم قتل پر ریاستی خاموشی سوالیہ نشان ہے،50 ہزار سے زائد سکھ ہجرت پر مجبور جبکہ 90-1980 تک بے تحاشا جبری گمشدگیاں اور ماورائے عدالت قتل کیے گئے،

    پاکستان کی مؤثر اور متوازن خارجہ پالیسی اور بھارتی مظالم کےخلاف آواز بلند ہونے پر گودی میڈیا تلملا اٹھا،عالمی کانفرنس کے بعد گودی میڈیا نے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان پر من گھڑت الزامات لگا دیے ،بھارتی نیوز 18 نے اقلیتوں کیخلاف مودی کے مذموم عزائم کا پردہ چاک کرنے والے سکھ رہنماؤں کو انتہا پسند قرار دے دیا ،کانفرنس میں بھارتی مظالم کو منظم نسل پرستی اور نسل کشی قرار دینے پر گودی میڈیا بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا ،مقبوضہ کشمیر کے مؤقف پر بھی بھارتی میڈیا نے آذربائیجان پر پاکستانی بیانیہ اپنانے کا الزام بھی لگادیا ،اس سے قبل کینیڈا سمیت بیشتر ممالک سکھ رہنماؤں کے قتل میں بھارتی سرپرستی کے شواہد پیش کر چکے ہیں،مودی عالمی احتساب سے بچنے کیلئے انسانی حقوق کی تحریکوں کو انتہا پسندی کا رنگ دینے میں ناکام ہوگیا ہے.

  • ٹرمپ-شی ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

    ٹرمپ-شی ملاقات، عالمی تعلقات میں بہتری یا بھارت کے لیے خطرے کی گھنٹی

    اپریل 2026 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے بیجنگ میں ملاقات کے امکانات ہیں

    یہ ملاقات امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کے ساتھ تائیوان اور یوکرین کے تنازعات کے خطرات کو کم کر سکتی ہے، دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کی یہ ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرے کی گھنٹی ہے،غیر ملکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ نے 2025 میں ٹرمپ کو بیجنگ دورے کی دعوت دی جبکہ دونوں رہنماؤں کی جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں بھی ملاقات ہوئی،اس ملاقات کو امریکی صدر ٹرمپ نے "انتہائی کامیاب” قرار دیا تھا، صدر ٹرمپ کے ٹیرف اور تجارتی تاخیر نے بھارت امریکہ تعلقات کو متاثر کیا اوربھارت اب بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، ٹرمپ نے نومبر 2025 میں “G-2” کی اصطلاح استعمال کی اور امریکہ اور چین کو دو عظیم طاقتیں قرار دیا، ٹرمپ اور پاکستان کے تعلقات کے باعث بھارت-امریکہ تعلقات متاثر ہوئے، ٹرمپ کے دعوے کہ انھوں نے بھارت-پاکستان تنازعات کو روکا اور آپریشن سندور میں بھارتی فوجی نقصان کی تفصیلات، بھارت کے لیے قابل قبول نہیں ،بھارت ٹرمپ کی ثالثی اور G-2 کے حوالہ کو قبول نہیں کر رہا، امریکہ اور چین کے تعلقات مضبوط ہونے سے بھارت کی اقتصادی اور سفارتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے،

    ماہرین اور تجزیہ کاروں کی رائے میں چین اور امریکہ کی مضبوط قربت بھارت کے تجارتی سودوں اور اقتصادی اثر و رسوخ کو محدود کر دے گی، بھارت کو اپنی پالیسی میں فوری اصلاحات کرنا ہوں گی ورنہ وہ عالمی سطح پر تنہا اور کمزور ہو جائے گا،جی-2 کی اصطلاح اور ٹرمپ شی ملاقات بھارت کے لیے واضح خطرہ کی گھنٹی ہے، چین کے اثر و رسوخ میں اضافہ بھارت کی علاقائی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے،امریکہ چین کے بڑھتے تعلقات کے نتیجے میں بھارت دونوں ممالک کے دباؤ کا شکار ہو جائے گا ،

  • فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ،گورنرسندھ

    فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ،گورنرسندھ

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کر دیا، سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو آج خط لکھنے کا اعلان بھی کردیا۔

    پریس کانفرنس میں کہا کہ ریسکیو ٹیمیں اندر کیوں نہیں پہنچ سکیں؟، جن کو وہاں ہونا چاہئے تھا وہ نہیں تھے، سیاست ہورہی ہے کہ ملبہ کسی اور پر ڈال دیا جائے۔کامران ٹیسوری نے کہا کہ سیاست نہ کریں، یہ بتائیں جانی نقصان کس کے سر ہے؟، وزیراعلیٰ سندھ بھی دیکھیں کہیں آپ کو گمراہ تو نہیں کیا جارہا،فیلڈ مارشل سے اپیل ہے کہ کراچی منتظر ہے، دیکھیں کس نے زیادتی کی ہے۔ گورنر سندھ نے جاں بحق افراد کے ورثاء کو رہائشی پلاٹس دینے کا اعلان بھی کیا۔

    دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہےکہ گل پلازہ واقعے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے، سیاسی جماعتوں میں بعض عناصر دراڑیں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں،کسی واقعے پر ہم پنجاب حکومت کو قصوروار نہیں ٹھہراتے، واقعے کی مکمل انکوائری کی جارہی ہے۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سانحہ گل پلازہ کے متاثرہ خاندان کےگھرپہنچے اور کہا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے۔انہوں نے متاثرہ خاندان کےکاروبار کی بحالی کا بھی وعدہ کیا اور کہا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ریسکیو اہلکار تاحال ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔

  • پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا

    پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا

    اسلام آباد پولیس نےایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا ۔

    ایمان مزاری اور ہادی علی کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا،ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار سے ڈسٹرکٹ کورٹ جارہے تھے، دونوں وکلا اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی وین میں تھے، اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر واجد گیلانی اور منظور ججہ بھی ان کے ہمراہ تھے

    واضح رہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے جیل ہی جانا پڑے۔

    یاد رہے اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا تھا، اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے،فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوگواہوں پرجرح کیلئے 4دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہو گا۔