Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شہدا  کے خون کو ہرگز  نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے،پاسداران انقلاب

    ایرانی پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کی شہادت پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ عظیم شہید اور دیگر شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز شخصیت، مفکر اور انقلابی رہنما قرار دیا اورکہا کہ شہید علی لاریجانی کا خون، دیگر شہدا کی طرح، عزت، طاقت اور قومی بیداری کا ذریعہ بنے گا۔پاسداران انقلاب نے کہا کہ وہ علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔

    یاد رہے کہ ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے۔ایرانی حکام نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی، ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوگئے ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کومشرقی تہران میں نشانہ بنایاگیا، وہ تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔

  • آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی، متحدہ عرب امارات عالمی کوششوں میں کردار ادا کرنے کو تیار

    متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں سمندری سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے کوئی بین الاقوامی اقدام سامنے آتا ہے تو وہ اس میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بات اماراتی صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے کہی۔

    منگل کو کونسل آن فارن ریلیشنز میں گفتگو کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ ابوظہبی کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے پر توجہ دے رہا ہے، تاہم اہم عالمی گزرگاہ میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے کوششوں میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحادی ممالک کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کے تحفظ کے لیے جنگی بحری جہاز بھیجنے کی درخواست پر کئی امریکی اتحادی ہچکچاہٹ کا شکار دکھائی دیے۔

    انور قرقاش نے آبنائے ہرمز کو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سیکیورٹی کی ذمہ داری صرف خطے کے ممالک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی ذمہ داری ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ متحدہ عرب امارات کا ممکنہ کردار کسی وسیع تر بین الاقوامی اقدام کا حصہ ہوگا، جس کی قیادت ممکنہ طور پر امریکہ کرے گا اور جس میں ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کے ممالک بھی شامل ہوں گے۔ان کے بقول، “فی الحال کسی باقاعدہ منصوبے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور تجارت یا توانائی کے معاملات پر دنیا کو یرغمال بنانا قابل مذمت ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے مختلف ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے اور جیسے ہی کوئی مربوط حکمت عملی سامنے آئے گی، متحدہ عرب امارات اس کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوگا۔

  • اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    اسرائیل و امریکہ کے ایران پر حملے،ایرانی جوابی کاروائیاں،ٹرمپ کی نیٹو ،میڈیاپر تنقید

    عالمی سطح پر کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل سے متعلق کئی اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔

    ایران نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے طاقتور ترین فیصلہ سازوں میں شمار ہونے والے علی لاریجانی مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا جب اسرائیل کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ایک کارروائی میں “ختم” کر دیا گیا ہے۔اسی دوران ایران کی نیم فوجی تنظیم بسیج کے سربراہ کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے ایرانی سیکیورٹی ڈھانچے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اتحادیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو نیٹو میں اپنی رکنیت پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ اتحادی ممالک نہ تو ایران کے خلاف جاری جنگ میں مؤثر مدد فراہم کر رہے ہیں اور نہ ہی آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی یقینی بنانے میں کردار ادا کر رہے ہیں۔

    بحری نگرانی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی بحریہ کا ایک جنگی جہاز، جس میں میرینز اور سیلرز سوار ہیں، آبنائے ملاکا کے قریب سنگاپور کے ساحل سے گزرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کی طرف بڑھ رہا ہے۔یہ پیش رفت خطے میں ممکنہ فوجی تیاریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

    امریکہ کے ایک سینئر انسداد دہشتگردی انٹیلی جنس عہدیدار، جنہیں ٹرمپ نے مقرر کیا تھا، نے اچانک استعفیٰ دے دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ “ضمیر کے مطابق ایران میں جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔”صدر ٹرمپ نے اس استعفے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے “اچھی بات” قرار دیا۔

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایون جیل میں قید امریکی شہریوں کی حفاظت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی سلامتی کا دارومدار موجودہ صورتحال پر ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور اسرائیل ایرانی جیلوں کو نشانہ نہیں بناتے تو ان قیدیوں کو محفوظ سمجھا جا سکتا ہے۔‎ان کا کہنا تھا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث مختلف پہلوؤں پر اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جن میں قیدیوں کی صورتحال بھی شامل ہے۔‎یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور مختلف نوعیت کے بیانات اور اقدامات صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

    
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے امریکی میڈیا اداروں کے لائسنس ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جو خطے میں ایران کی جانب سے امریکی اثاثوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق خبریں شائع کر رہے ہیں۔‎انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایسی رپورٹس قومی مفادات کے خلاف جا سکتی ہیں، اس لیے ان پر سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔‎ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا ایرانی عوام کو آزادی دلانے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔‎ان کے اس بیان کے بعد میڈیا کی آزادی اور حکومتی پالیسیوں پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں ناقدین اسے اظہارِ رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ حامی اسے قومی سلامتی کے تناظر میں ضروری اقدام سمجھتے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کی فضائی حدود کو تمام پروازوں کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کو ایک غیر معمولی احتیاطی فیصلہ قرار دیا گیا ہے۔‎حکام کے مطابق یہ فیصلہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا، تاکہ ممکنہ خطرات سے بچاؤ یقینی بنایا جا سکے۔‎اس سے قبل امارات کی وزارتِ دفاع نے بھی بتایا تھا کہ وہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں اور ڈرونز کی نگرانی، سراغ رسانی اور انہیں روکنے کے لیے سرگرم ہے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے اور حالات بہتر ہونے پر فضائی حدود کے حوالے سے مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے میں ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو مخصوص بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک صیہونی میڈیا ادارہ خطے کے بعض ممالک کی سیٹلائٹ اور میڈیا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے خلاف اشتعال انگیزی، غلط معلومات کی ترسیل اور نفسیاتی جنگ میں مصروف ہے۔‎ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس میڈیا کو معاونت جاری رہی تو اس سے منسلک تمام مقامات کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔‎بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے تمام عناصر اور سہولیات کو ایران کی ہدف فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے جو اس سرگرمی میں کسی بھی شکل میں تعاون کر رہے ہوں۔‎اس بیان کے بعد خطے میں میڈیا تنصیبات اور سیٹلائٹ مراکز کی سکیورٹی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے

    
اطالوی میڈیا کے مطابق کویت میں واقع علی السالم ایئربیس پر ایک حملے کے نتیجے میں اٹلی کا جدید نگرانی ڈرون ایم کیو 9 اے پریڈیٹر تباہ ہو گیا ہے۔‎رپورٹس کے مطابق یہ ڈرون ایک محفوظ شیڈ میں موجود تھا جب ایک ڈرون حملے کے ذریعے اس شیڈ کو نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث ڈرون مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔‎ذرائع کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والے اس ڈرون کی مالیت تقریباً 30 سے 35 ملین ڈالر کے درمیان بتائی جا رہی ہے، جو اسے ایک قیمتی عسکری اثاثہ بناتی ہے۔‎واقعے کے بعد ایئربیس پر سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

  • کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کا جھوٹا دعویٰ افغان میڈیا نے کیا بے نقاب

    افغان میڈیا نے کابل اسپتال حملے میں 400 افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

    افغان میڈیا کے مطابق حملے کے دوران ہلاکتوں ، خون کے آثار اور بڑی تباہی کے نشانات نہیں ملے، افغان طالبان حکام کے بحالی مرکز پر حملے کے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ کابل میں بحالی مرکز کے قریب لگی آگ معمولی نوعیت کی تھی، بحالی مرکز کے قریب آگ قریبی طالبان فوجی کیمپ پر حملے کے باعث لگی۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے افغانستان نے بھی 400افراد کی ہلاکت کے جھوٹے دعوے کی تصدیق نہیں کی۔افغان میڈیا کی رپورٹر نے بھی اسپتال میں موجود عینی شاہدین کے ذریعے طالبان رجیم پروپیگنڈا آشکار کیا۔

    افغان میڈیا کے مطابق اس وقت کابل سینٹرل اسپتال میں 15 زخمی زیر علاج ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں کامیاب فضائی حملے کیے، ایمونیشن اور ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر تباہ کیا۔ ترجمان افغان وزارت داخلہ نے اس سے پہلے جھوٹا دعویٰ کیا تھا کہ منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر حملے میں چار سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے اسپتال پر حملے کا جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی اور افغان طالبان رجیم کو جھوٹی پوسٹس ڈیلیٹ کرنا پڑیں۔

    کابل اور ننگرہار میں حالیہ کارروائیوں کے بعد پاکستان نے افغان طالبان کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی ہسپتال یا شہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔پاکستانی مؤقف کے مطابق 16 مارچ 2026 کی شب کیے گئے حملے مکمل طور پر مخصوص عسکری اور دہشت گردی سے متعلق اہداف کے خلاف تھے، جن میں اسلحہ ذخیرہ کرنے کی جگہیں، تکنیکی انفراسٹرکچر اور وہ مراکز شامل تھے جو پاکستان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔‎حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کو پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیا گیا اور تمام اہداف کی نوعیت کو واضح کرنے کے لیے ویڈیو شواہد بھی فراہم کیے گئے، جن میں ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔‎پاکستانی حکام نے طالبان کے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے کہ کسی منشیات بحالی مرکز یا ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا، اور اسے پروپیگنڈا مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور یہ کارروائیاں انہی خطرات کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہیں۔‎پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ضروری اقدام جاری رکھے گی

  • ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ‏ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق

    ایران نے قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی۔

    عرب میڈیا کے مطابق ایرانی حکام نے علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ کے شہید ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے علی لاریجانی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے ہاتھ سے لکھا پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا گیا تھا۔قبل ازیں اسرائیل نے ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانےکا دعویٰ کیا تھا۔

    باغی ٹی وی کو تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما علی ریجانی کی ایک مبینہ اسرائیلی حملے میں اپنے بیٹے سمیت موت ہو گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی افواج کی جانب سے کیا گیا،مقامی ذرائع اور بعض غیر سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ نے ایران میں شدید صدمے کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس خبر کے حوالے سے غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تہران میں سکیورٹی اداروں کے اندرونی حالات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایرانی انٹیلی جنس نظام گزشتہ کئی برسوں سے کمزور ہو چکا ہے اور اس میں سنگین خامیاں موجود ہیں، جس کے باعث اس نوعیت کے حملے ممکن ہو رہے ہیں۔دوسری جانب دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ایران کی حکومت یا معتبر عالمی ذرائع اس واقعے کی تصدیق نہیں کرتے، اس خبر کو حتمی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

    صدر ٹرمپ علی لاریجانی کے قتل پر کہا کہ ان کے اعلیٰ ترین شخص کو دراصل کل قتل کر دیا گیا تھا۔وہ مظاہرین کے قتل کا ذمہ دار تھا۔ وہ شخص جو پچھلے دو ہفتوں کے دوران 32,000 افراد کے قتل کا ذمہ دار تھا – وہ مظاہرین کے قتل کا انچارج تھا۔میرا مطلب ہے کہ انہوں نے 32,000 سے زیادہ لوگ مارے ہیں۔

    علی ہاشم لاریجانی آملی 1958ء میں نجف اشرف میں پیدا ہوئے اور اپنا بچپن وہیں گزارا۔ اس کے بعد، ان کے والد شیخ مرزا ہاشم آملی، ستر کی دہائی میں بعث پارٹی کی جانب سے کی جانے والی جبری ملک بدری کے نتیجے میں ایران ہجرت کر گئے۔ان کے والد، شیخ المیرزا ہاشم آملی، حوزہ علمیہ قم کے بڑے مراجع اور فقہاء میں شمار ہوتے تھے۔ علی لاریجانی کے بھائی بھی اہم عہدوں پر فائز رہے ہیں، جن میں صادق لاریجانی (سابق چیف جسٹس) اور جواد لاریجانی (انسانی حقوق کے مشیر) شامل ہیں۔

    قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائےگا۔عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائےگا۔انہوں نےکہا کہ لاریجانی دونوں سیاسی دھڑوں سے بات کرنےکی صلاحیت رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ایران میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔برکات کے مطابق وہ نہایت تعلیم یافتہ ہیں اور مغرب کے علاوہ ایرانی قدامت پسندوں اور اصلاح پسندوں سے بھی بات کرنا جانتے ہیں، یہ ان لوگوں کے لیے بڑا نقصان ہے جو فوجی تصادم کے بجائے متبادل حل چاہتے ہیں

    علی لاریجانی ایران کی دوسری اہم ترین شخصیت ہیں ۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں اس کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے لاریجانی ہیں ۔لاریجانی نے تہران یونیورسٹی سے مغربی فلسفہ میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ریاضی اور کمپیوٹر سائنس میں بھی ڈگریاں رکھتے ہیں ۔ 6 کتابوں کے مصنف ہیں ۔ آج بھی ایران کی داخلی اور خارجی سیاست میں ان کی رائے کو حرفِ آخر کے قریب سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کے گہرے رازوں کے امین اور مشکل وقت میں تزویراتی فیصلے کرنے والے دماغ سمجھے جاتے ہیں۔امریکہ اور مغربی طاقتیں علی لاریجانی کو ایک "سخت گیر لیکن حقیقت پسند” حریف سمجھتی تھیں۔ امریکی تھنک ٹینکس کا ماننا تھا کہ لاریجانی نظریاتی طور پر انقلاب کے وفادار ہیں، لیکن وہ جذبات کے بجائے عقل اور مصلحت کے ساتھ بات چیت کرنا جانتے ہیں۔ امریکہ انہیں ایک ایسا "شطرنج کا کھلاڑی” سمجھتا تھا جو میز پر بیٹھ کر سخت ترین سودے بازی کر سکتا ہے۔ اگرچہ وہ امریکہ کے سخت ناقد رہے ہیں، لیکن انہوں نے ہمیشہ سفارتی راستوں کو کھلا رکھنے کی حمایت کی، جس کی وجہ سے مغرب انہیں ایک "قابلِ اعتبار مذاکرات کار” کے طور پر دیکھتا تھا۔

    دوسری جانب پاسدارن انقلاب نے پاسیج کے سربراہ غلام رضا سلیمانی کی شہادت کی تصدیق کردی ہے،عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے تہران میں پاسیج فورس کے تنصیبات پر حملہ کیا جس میں غلام رضا سلیمانی شہید ہو گئے.

  • پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔روسی سفیر

    پاکستان میں تعینات روسی سفیر البرٹ پی خوریف نے کہا ہے کہ اگر پاکستان نے رابطہ کیا تو روس اسے سستا تیل فراہم کرے گا۔

    اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو تیل بیچنے کے لیے تیار ہیں، پاکستان بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، تیل کی خریداری کے لیے پاکستان کے روس سے رابطے کا ابھی تک میرے علم میں نہیں، پاکستان نے رابطہ کیا تو اسے سستا تیل دیں گے، توانائی کا شعبہ پاکستان اور روس کے درمیان دوطرفہ تعاون کا اہم ترین ستون ہے، ایران کے ساتھ کئی دہائیوں سے فوجی اور تکنیکی تعاون ہے، ایران کا ردعمل امریکی فوجی تنصیبات کے خلاف تھا جوخلیجی آبناؤں میں موجود ہیں، ایران کی کارروائیوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مزید کچھ نہیں کہنا،صورتحال غیریقینی ہے،ٹرمپ کی فوجی مہم جوئی پر پوری دنیا حیران ہے، موجودہ کشیدگی کب اورکیسے ختم ہوگی، اس کی پیشگوئی ممکن نہیں، صورتحال پیچیدہ ہے،ہم ایران میں بچیوں کے اسکول پرحملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، ایران میں اسکول پر حملے میں 170 بچوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے، تمام فریقین سے مطالبہ ہے کہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں، مسائل کا حل اقوام متحدہ کے چارٹرکے تحت سیاسی وسفارتی طریقے سے نکالا جائے۔

    روسی سفیر البرٹ پی خوریف کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اوراسرائیل نے ایران پرطاقت کا استعمال کرکے بحران کو مزید بڑھایا، امریکا اور اسرائیل ایران کی قیادت کو کمزورکرنے کی کوشش کررہے ہیں، اسلامی دنیا میں اختلافات پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

  • افغان طالبان کا اسپتال پر حملے کا الزام بے بنیاد اور جھوٹاہے،عطا تارڑ

    افغان طالبان کا اسپتال پر حملے کا الزام بے بنیاد اور جھوٹاہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم یہ الزام لگا کر مزید جھوٹ بول رہا ہے کہ پاکستان نے کابل میں منشیات کی بحالی کے ہسپتال کو نشانہ بنایا۔ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان، دہشت گردی کے خلاف اپنی جاری جنگ میں صرف ان عسکری اور دہشت گرد اہداف بشمول افغان طالبان رجیم کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جو پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری، پناہ گاہ، تربیت یا حوصلہ افزائی کے لیے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔ کابل اور ننگرہار میں 16 مارچ 2026 کی رات کو کیے گئے حملے قطعی، دانستہ اور پیشہ ورانہ تھے۔ کوئی ہسپتال، کوئی منشیات کی بحالی کا مرکز، اور کسی شہری سہولت کی عمارت کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ اہداف میں فوجی اور دہشت گردی کا بنیادی ڈھانچہ تھا جس میں گولہ بارود اور تکنیکی آلات کے ذخیرہ کرنے کی جگہیں اور پاکستان کے خلاف دشمنی کی سرگرمیوں سے منسلک دیگر تنصیبات شامل تھیں۔ جیسا کہ روایت ہے، تمام چھ حملوں کو فوری طور پر وزارت اطلاعات کی طرف سے ویڈیو فوٹیج کے ساتھ میڈیا کو فراہم کیا گیا، جس سے اہداف کی نوعیت سب کے لیے واضح ہو گئی۔ فراہم کردہ ویڈیوز و تصاویر شک کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے۔ کابل میں آگ کے شعلے اور ثانوی دھماکے مزید اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ گولہ بارود کے ذخیرہ کرنے کی جگہ کو درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔

    عطا تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ پروپیگنڈہ ایک ایسی حکومت کی طرف سے آرہا ہے جس کے عہدیداران نے بار بار جھوٹے بیانات، جھوٹے دعووں، پہلے کی پوسٹوں کو منتخب ڈیلیٹ کرنے، سامعین کو گمراہ کرنے اور سچائی کو چھپانے کے لیے پرانے تصویروں کی گردش پر انحصار کیا ہے۔ ان کا تازہ ترین الزام دھوکہ دہی کی بوسیدہ روایت کا حصہ ہے۔ اصل مسئلہ بدستور برقرار ہے: پاکستان، خطے اور دنیا کو افغان طالبان حکومت کے زیر اثر علاقے سے دہشت گردی کے سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ یہ خطرہ اور بھی وحشیانہ ہو گیا ہے، منشیات کے عادی افراد اور معصوم بچوں کا خودکش بم حملوں سمیت گھناؤنے مقاصد کے لیے استحصال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کا موقف واضح ہے۔ ہم اپنے شہریوں کے دفاع، دہشت گردی کی صلاحیت کو کم کرنے اور سرحد پار سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کرنے والوں کو محفوظ پناہ گاہوں سے محروم کرنے کے لیے ہر ضروری اقدام کرتے رہیں گے۔

  • امریکی طیارہ بردار بحری جہاز میں آتشزدگی، 30 گھنٹوں بعد قابوپا لیا گیا

    امریکی طیارہ بردار بحری جہاز میں آتشزدگی، 30 گھنٹوں بعد قابوپا لیا گیا

    امریکی بحریہ کے جدید طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford میں گزشتہ ہفتے لگنے والی آگ پر قابو پانے میں 30 گھنٹوں سے زائد کا وقت لگ گیا، جس کے باعث جہاز پر موجود سینکڑوں اہلکار شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔

    رپورٹس کے مطابق آگ گزشتہ جمعرات کو جہاز کے مرکزی لانڈری (کپڑے دھونے کے حصے) میں بھڑکی، جو دیکھتے ہی دیکھتے پھیل گئی۔ آگ بجھانے کے بعد معلوم ہوا کہ 600 سے زائد ملاحوں اور عملے کے افراد کے سونے کے بستر تباہ ہو گئے، جس کے باعث وہ اب فرش اور میزوں پر سونے پر مجبور ہیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق واقعے میں دو اہلکار زخمی ہوئے جن کی حالت خطرے سے باہر ہے، تاہم جہاز پر موجود افراد نے بتایا کہ درجنوں اہلکار دھوئیں سے متاثر ہوئے اور انہیں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔آگ کے بعد ایک غیر متوقع مسئلہ یہ بھی سامنے آیا کہ جہاز پر لانڈری کی سہولت معطل ہو گئی ہے، جس کے باعث اہلکار کئی دنوں سے کپڑے دھونے سے محروم ہیں۔

    یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب طیارہ بردار جہاز USS Gerald R. Ford تقریباً 10 ماہ سے مسلسل تعیناتی پر ہے۔ ماہرین کے مطابق عام طور پر ایسے مشنز چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہوتے، اور طویل تعیناتی جہاز اور عملے دونوں کے لیے انتہائی تھکا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ریٹائرڈ امریکی نیوی کے ریئر ایڈمرل John Kirby نے کہا کہ طویل عرصے تک شدید نوعیت کی آپریشنل سرگرمیاں جاری رکھنا نہ صرف جہاز بلکہ عملے کی کارکردگی کو بھی متاثر کرتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ نے اس واقعے پر باضابطہ مؤقف دینے سے گریز کیا ہے۔ یہ طیارہ بردار جہاز اس وقت بحیرہ احمر میں ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے، جہاں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے۔

  • آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ  افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق ،خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹیں تباہ

    آپریشن غضب للحق ،پاک افواج کی افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کیخلاف کامیاب اور موثر کارروائیاں جاری ہیں

    خیبر سیکٹر سے ملحقہ افغان طالبان کی فوجی پوسٹوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا، پاک فوج نے اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل کے ذریعے پوسٹوں کو مکمل طور پر تباہ کردیا، پاک فوج کی ان موثر کارروائیوں سے افغان طالبان کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا،سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق تاحال جاری ہے اور اپنے اہداف کےحصول تک جاری رہے گا،

  • ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو مار دیا، اسرائیلی دعویٰ

    ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو مار دیا، اسرائیلی دعویٰ

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کو قتل کردیا گیا ہے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع کے مطابق ایرانی سیکیورٹی چیف علی لاریجانی کوکل رات کے حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔،اس سے قبل اسرائیلی میڈیا کی خبر میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج نے علی لاریجانی کو نشانہ بنایا ہے تاہم فوری طور پر واضح نہیں کہ آیا علی لاریجانی مارے گئے یا زخمی ہوئے،دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اسرائیلی میڈیا کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بہت جلد ایرانی سکیورٹی چیف علی لاریجانی کا پیغام جاری کیا جائے گا۔

    دوسری جانب علی لاریجانی کے ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ ہوا جس میں اُن کے ہاتھ سے لکھا خط ٹویٹ کیا گیا، خط میں لکھا گیا ہے کہ’’ شاید ہم دنیا میں کوئی بڑا کام انجام نہ دے سکے اور زندگی میں کوئی قابلِ قدر چیز حاصل نہ کر سکے، ہم نے زمانے میں کام کیا، اللہ کے نام پر ہماری زندگی محنت اور کوشش میں گزری، ہم بے سرو سامانی میں جیتے رہے اور دوسروں کی خدمت اور محبت میں لگے رہے، ہم نے کبھی کسی کو اذیت نہیں دی، اگرچہ ہمارے پاس کچھ نہیں تھا، ہماری خواہش ہے کہ اسی راہ میں پروردگار کا سایۂ لطف ہم پر قائم رہے‘‘