Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری، 126 سے 98 ویں نمبر پر آگیا

    پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری، 126 سے 98 ویں نمبر پر آگیا

    اسلام آباد: پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی درجہ بندی میں خوش آئند بہتری سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان کا پاسپورٹ 126 ویں نمبر سے ترقی کرتے ہوئے 98 ویں پوزیشن پر پہنچ گیا ہے۔ اس پیش رفت کو عالمی سطح پر پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس کامیابی پر اظہارِ اطمینان کرتے ہوئے کہا کہ شاندار کارکردگی اور مؤثر اصلاحاتی اقدامات کے باعث پاکستانی پاسپورٹ کی عالمی رینکنگ میں نمایاں بہتری ممکن ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس میں پاسپورٹ کے اجرا کے نظام کو بہتر بنانا، سیکیورٹی فیچرز کو جدید بنانا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات شامل ہیں۔محسن نقوی نے مزید کہا کہ عالمی درجہ بندی میں تیزی سے بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بھر میں پاکستان پر اعتماد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اس ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور مستقبل میں پاکستانی شہریوں کو مزید سفری سہولیات فراہم کرنے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

    وزیر داخلہ کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، بایومیٹرک نظام کی بہتری اور پاسپورٹ آفسز میں سہولیات کی فراہمی نے نہ صرف درخواستوں کے بروقت اجرا کو ممکن بنایا بلکہ عالمی اداروں کے اعتماد میں بھی اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف پاکستانی پاسپورٹ کو مزید مضبوط اور باوقار بنانا ہے تاکہ بیرون ملک سفر کرنے والے پاکستانی شہریوں کو آسانیاں میسر آئیں۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،درختوں کی کٹائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ،درختوں کی کٹائی سے روک دیا گیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی ترقیاتی ادارے کو آئندہ سماعت تک اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی سے روک دیا۔

    عدالت نے سی ڈی اے، ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ اور وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ مانگ لی۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو درختوں کی کٹائی سے روک دیا، سی ڈی اے سے درختوں کی کٹائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی گئی۔عدالت نے سی ڈی اے، ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ، وزارت ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کردیا اور کہا کہ آئندہ سماعت پر شق وار جواب اور تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کردی۔

  • این سی سی آئی اے  افسران سے بدعنوانی  مقدمے میں 4 کروڑسے زائد برآمد

    این سی سی آئی اے افسران سے بدعنوانی مقدمے میں 4 کروڑسے زائد برآمد

    ایف آئی اے نے این سی سی آئی اے کے افسران سے بدعنوانی کے مقدمے میں 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کر لیے

    لاہور کیس میں این سی سی آئی اے کے 8 ملزمان سے نقدی اور اثاثے ضبط کیے گئے،ایف آئی آے نے جواب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں جمع کرا دیا،سب سے زیادہ 1 کروڑ 12 لاکھ 95 ہزار روپے کی ریکوری ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے ہوئی،ڈپٹی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹرز سمیت جونیئر افسران اور ایک نجی شخص سے بھی رقوم برآمد ہوئیں،ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل لاہور نے این سی سی آئی اے کے خلاف ایف آئی آر نمبر 36/2025 درج کی،لاہور کیس میں یوٹیوبر ڈکی بھائی کی اہلیہ سے مبینہ رشوت لینے کا الزام شامل ہے،سائبر کرائم کیس میں سہولت کاری کے بدلے رشوت لینے کی تحقیقات جاری ہیں،تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ این سی سی آئی اے میں وسیع بدعنوانی کا عندیہ دیتا ہے

    تحقیقات میں این سی سی آئی اے لاہور میں ماہانہ رشوت کے منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے،کال سینٹرز، ایگریگیٹ کمپنیوں اور ملزمان سے باقاعدہ طور پر غیر قانونی رقوم وصول کی جاتی رہیں،افسران کی جانب سے اعلیٰ حکام تک رشوت پہنچانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں،تفتیش کے مطابق منافع بخش تعیناتیوں کے لیے بھاری رقوم ادا کی جاتی تھیں،راولپنڈی کیس میں غیر قانونی کال سینٹرز سے 30 کروڑ روپے رشوت لینے کا الزام ہے،ایف آئی آر نمبر 97/2025 میں بحریہ ٹاؤن کے کال سینٹرز کو قانونی تحفظ دینے کا ذکر ہے،چینی شہری گوا کاشیان عرف کیلون کو مقدمے میں اشتہاری قرار دیا گیا ہے،راولپنڈی کے 30 کروڑ کے کیس میں اب تک صرف 15 لاکھ روپے کی برآمدگی ہو سکی،ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز گرفتار، بعد از گرفتاری ضمانت مسترد کر دی گئی،ایف آئی اے نے بینک اکاؤنٹس منجمد، جائیدادوں کی چھان بین اور موبائل فونز فرانزک کے لیے بھیج دیے،مفرور ملزمان کو اشتہاری قرار دینے اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کارروائی جاری ہے،این سی سی آئی اے نے ملزمان کے خلاف محکمانہ کارروائی جبکہ ایف آئی اے نے عبوری چالان کی تیاری شروع کر دی

  • امریکا ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا؟

    امریکا ایران میں کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا؟

    ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ برس ایران کی جوہری تنصیبات پر بمباری کو اپنی بڑی فوجی کامیابیوں میں شمار کیا تھا۔ امریکی فضائیہ کے بی-2 اسٹیلتھ بمبار طیاروں نے دنیا کے سب سے طاقتور 14 بم گرا کر ایران کی دو جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے دوران نہ تو کسی امریکی اہلکار کو نقصان پہنچا اور نہ ہی کسی طیارے کا ضیاع ہوا۔ اس مشن میں درجنوں لڑاکا طیارے، فضائی ایندھن بھرنے والے جہاز اور دیگر معاون طیارے بھی شامل تھے۔

    اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر ایران پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں، تاہم اس بار ان کا مؤقف یہ ہے کہ یہ کارروائی تہران میں سخت گیر حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکلنے والے لاکھوں عام ایرانی شہریوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر کی جائے گی۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکہ نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کی تو یہ گزشتہ موسمِ گرما میں تین جوہری اہداف پر ہونے والی محدود بمباری جیسی نہیں ہوگی۔ مظاہرین کی حمایت میں کی جانے والی کسی بھی کارروائی کا ہدف ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC)، اس سے منسلک بسیج فورسز اور ایرانی پولیس کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز ہو سکتے ہیں، کیونکہ یہی ادارے مظاہرین کے خلاف خونریز کریک ڈاؤن میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔

    مسئلہ یہ ہے کہ یہ کمانڈ سینٹرز اکثر گنجان آباد شہری علاقوں میں واقع ہیں، جس سے عام شہریوں کی ہلاکت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ اگر امریکی حملوں میں شہری مارے گئے تو یہ اقدام الٹا اثر ڈال سکتا ہے۔ہوائی میں مقیم سابق امریکی نیوی کپتان اور تجزیہ کار کارل شسٹر کے مطابق،“امریکہ جو بھی کرے، اسے انتہائی درستگی کے ساتھ کرنا ہوگا تاکہ IRGC کے علاوہ کسی اور کو نقصان نہ پہنچے۔ شہری ہلاکتیں، چاہے غیر ارادی ہی کیوں نہ ہوں، ان اختلاف کرنے والوں کو بھی امریکہ سے دور کر سکتی ہیں جو صرف حکومت سے نفرت پر متحد ہیں۔”

    امریکہ کن اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے؟
    آسٹریلیا کے گریفتھ ایشیا انسٹی ٹیوٹ کے وزٹنگ فیلو پیٹر لیٹن کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں کے خطرات کے باوجود واشنگٹن کے پاس اہداف کی ایک وسیع فہرست موجود ہے۔ان کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت بالواسطہ طور پر نشانے پر آ سکتی ہے، کیونکہ ایران نے گزشتہ برس اسرائیلی حملوں سے سبق سیکھتے ہوئے اہم شخصیات اور اثاثوں کو پھیلانے اور چھپانے کی کوشش کی ہے۔شسٹر بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایرانی قیادت جان چکی ہے کہ جو چیزیں اہم ہیں انہیں محفوظ رکھنا ضروری ہے، لیکن امریکہ یہ ثابت کر چکا ہے کہ جو کچھ اسے مل جائے، وہ اسے نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق اگرچہ اعلیٰ رہنماؤں کے گھروں یا دفاتر پر حملوں کی عسکری اہمیت محدود ہوگی، لیکن یہ مظاہرین کے لیے ایک علامتی پیغام ہوگا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایرانی قیادت اور IRGC کو معاشی طور پر بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔لیٹن کے مطابق، “IRGC اور قیادت کے ملک بھر میں بے شمار تجارتی ادارے اور منافع بخش کاروبار ہیں۔ ان مخصوص تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے جو ان اور ان کے خاندانوں کے لیے مالی طور پر اہم ہیں۔”

    آسٹریلوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا ایک تہائی سے دو تہائی حصہ IRGC کے کنٹرول میں ہے، جس سے اس کے معاشی کمزور پہلوؤں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔شسٹر کا کہنا ہے کہ مقصد یہ ہونا چاہیے کہ IRGC کی قیادت اور اہلکار اپنی بقا کے بارے میں زیادہ فکر مند ہوں بنسبت حکومت کے تحفظ کے، کیونکہ IRGC کبھی خودکش ادارہ نہیں رہا۔

    امریکہ کون سے ہتھیار استعمال کر سکتا ہے؟
    گزشتہ حملوں میں بی-2 بمبار طیارے مرکزی کردار میں تھے، مگر اس بار اہداف کی نوعیت کے باعث دیگر ہتھیار زیادہ موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔شسٹر کے مطابق علاقائی IRGC ہیڈکوارٹرز اور اڈوں کو ٹوماہاک کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو امریکی بحریہ کے آبدوزوں اور جنگی جہازوں سے ایران کے ساحلوں سے دور رہتے ہوئے داغے جا سکتے ہیں۔اس کے علاوہ جوائنٹ ایئر ٹو سرفیس اسٹینڈ آف میزائل (JASSM) بھی ایک آپشن ہے، جو ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 1000 کلومیٹر تک مار کر سکتا ہے۔ یہ میزائل ایف-15، ایف-16، ایف-35، بی-1، بی-2 اور بی-52 بمبار طیاروں سمیت کئی پلیٹ فارمز سے فائر کیے جا سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ڈرونز کا استعمال بھی ممکن ہے، تاہم قریبی فاصلے سے بم گرانے والے طیاروں کا استعمال زیادہ خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

    بحری بیڑے اور فضائی اڈے
    اس وقت امریکی بحری بیڑا USS Abraham Lincoln مشرقِ وسطیٰ سے ہزاروں میل دور جنوبی بحیرۂ چین میں موجود ہے، جس سے فوری کارروائی کے آپشنز محدود ہو گئے ہیں۔ ایسی صورت میں ممکنہ فضائی حملے خلیجی خطے کے فضائی اڈوں یا دور دراز مقامات سے کیے جا سکتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ برس بی-2 بمباروں نے امریکا سے براہِ راست پرواز کر کے کیا تھا۔

    پیٹر لیٹن کے مطابق اگر کوئی کارروائی ہوئی تو وہ “انتہائی ڈرامائی” ہوگی۔“ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے اقدامات پسند ہیں جو میڈیا کی توجہ حاصل کریں، مختصر مدت کے ہوں اور امریکی افواج کے لیے کم سے کم خطرہ رکھیں۔”ان کے بقول، ایک آسان اور محفوظ ہدف خلیج فارس میں واقع تیل کی تنصیبات ہو سکتی ہیں، جن پر حملہ ایران کو درمیانی اور طویل مدت میں شدید معاشی نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ بڑے دھویں کے بادل اور مناظر عالمی میڈیا کے لیے نمایاں ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ ایران پر نئی امریکی کارروائی کے امکانات زیرِ بحث ہیں، مگر اس کے نتائج، خطرات اور خطے پر اثرات غیر معمولی حد تک سنجیدہ ہو سکتے ہیں

  • تہران میں خوف،بے چینی کی فضا،اٹلی کا شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    تہران میں خوف،بے چینی کی فضا،اٹلی کا شہریوں کو ایران چھوڑنے کی ہدایت

    اٹلی نے ایران میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے فوجی دستوں کے تحفظ کے لیے بھی اضافی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ اطالوی وزارتِ خارجہ نے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا کہ ایران میں اس وقت تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن کی اکثریت تہران میں مقیم ہے۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق خطے میں اطالوی مسلح افواج کے 900 سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جن میں سے تقریباً 500 عراق اور 400 کویت میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ انتونیو تاجانی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اطالوی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔اطالوی حکومت نے ایران میں مظاہرین کے خلاف پرتشدد کریک ڈاؤن اور سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹلی یورپی یونین، نیٹو اور جی سیون کے شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا، تاکہ صورتحال کو کشیدگی سے نکالا جا سکے، انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور خطے میں استحکام و سلامتی کو فروغ دیا جا سکے۔

    تہران میں خوف اور بے چینی کی فضا
    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں جنگ کے خدشات اور سماجی بے چینی نے عوام کی روزمرہ زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ شہری بظاہر معمولاتِ زندگی جاری رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حالیہ دنوں کی ہلاکت خیز کارروائیوں کا صدمہ ہر جگہ محسوس کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ریاستی میڈیا پر ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی سرکاری جنازہ تقریبات دکھائی جا رہی ہیں، جبکہ عدلیہ نے گرفتار مظاہرین کے خلاف سخت اور تیز رفتار سزاؤں کا عندیہ دیا ہے۔

    ایران کی دھمکیاں اور خطے میں فضائی و فوجی اقدامات
    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے زمینی افواج کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے امریکا اور اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ ایران مناسب وقت پر جواب دے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں بدامنی کے پیچھے بیرونی طاقتیں ملوث ہیں اور یہ اقدامات فراموش نہیں کیے جائیں گے۔

    خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث جرمن ایئرلائن لفتھانزا نے اسرائیل اور اردن کے لیے اپنی پروازوں کو محدود کرتے ہوئے صرف دن کی پروازیں چلانے کا اعلان کیا ہے، جبکہ ایرانی اور عراقی فضائی حدود سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح قطر میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکالنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

    ایران میں ساتویں روز بھی انٹرنیٹ کی مکمل یا جزوی بندش جاری ہے۔ سائبر سکیورٹی اداروں کے مطابق یہ اقدام مظاہروں کی اطلاعات کو روکنے اور عالمی نگرانی محدود کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 2,400 سے زائد مظاہرین ہلاک اور 18 ہزار سے زیادہ گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی اصل تعداد انٹرنیٹ بندش کے باعث سامنے نہیں آ پا رہی۔بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ ایک بار پھر پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر رہا ہے۔

  • ایران کے معاملے پر ٹرمپ کاسخت مؤقف، فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

    ایران کے معاملے پر ٹرمپ کاسخت مؤقف، فوجی کارروائی سمیت مختلف آپشنز زیر غور

    واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف جاری پرتشدد اور جان لیوا کریک ڈاؤن پر شدید برہم دکھائی دیتے ہیں اور اپنی ہی کھینچی گئی “ریڈ لائن” کے باعث اب وہ ایرانی حکومت کے خلاف فیصلہ کن اقدام کو ناگزیر سمجھنے لگے ہیں۔ اس معاملے سے آگاہ امریکی حکام کے مطابق صدر ٹرمپ کے قریبی حلقے میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ اب محض بیانات کافی نہیں رہے اور کسی نہ کسی عملی کارروائی کی طرف جانا ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے ایک اہم اجلاس میں صدر کے لیے مختلف آپشنز کو حتمی شکل دینے پر غور کیا۔ صدر ٹرمپ مشی گن کے دورے سے واشنگٹن واپسی کے بعد اس دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں انہیں ایران میں ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار، حکومت کی ممکنہ آئندہ کارروائیوں اور یہاں تک کہ پھانسیوں کے خدشے سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ایک ذریعے کے مطابق بریفنگ کے دوران صدر کو ایران کے اندر سے حاصل کی گئی ویڈیوز بھی دکھائی گئیں جن میں مظاہرین کے خلاف تشدد کے مناظر شامل تھے۔امریکی میڈیا کے مطابق حالیہ دنوں میں ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم کے اندر اس بات پر اختلاف رہا ہے کہ آیا ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائی کی جائے یا نہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فوجی قدم اٹھایا بھی گیا تو اس میں زمینی افواج کی تعیناتی شامل نہیں ہوگی اور امریکہ ایران میں طویل المدتی فوجی مداخلت نہیں چاہتا۔

    ذرائع کے مطابق صدر کے سامنے موجود آپشنز میں ایک اہم آپشن ایران کی سیکیورٹی فورسز سے منسلک تنصیبات پر حملہ کرنا بھی ہے، کیونکہ یہی فورسز مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی ذمہ دار سمجھی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حکام ہر ممکن خطرے کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جن میں فضائی حملے کے دوران کسی غلطی کا امکان یا ایران کی جانب سے غیر معمولی جوابی کارروائی شامل ہے۔ امریکی حکام اس بات سے بھی گریز چاہتے ہیں کہ ایران میں حکومت کے ممکنہ خاتمے کی صورت میں پورا خطہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے۔

    امریکی عہدیداروں کے مطابق صدر ٹرمپ ماضی میں بھی ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر فوجی کارروائی کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں اور اب وہ خود کو ان دھمکیوں پر عمل درآمد کا پابند محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ سابق صدور کی مثالیں ذہن میں رکھتے ہیں، خصوصاً سابق صدر باراک اوباما کا 2013 میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے باوجود کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ، جسے ٹرمپ ایک ناکام “ریڈ لائن” سمجھتے ہیں۔ایک ذریعے نے امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں کہا کہ “صدر نے خود ایک ریڈ لائن کھینچ دی ہے اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہوگا۔ تقریباً طے ہے کہ وہ کوئی قدم اٹھائیں گے، سوال صرف یہ ہے کہ وہ کس نوعیت کا ہوگا۔”

    فیصلہ سازی میں ایک بڑا عنصر ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی ہے۔ تہران پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ اگر امریکہ نے حملہ کیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثاثوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ حالیہ امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران عراق اور شام میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی تیاریوں پر غور کر رہا ہے۔امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایرانی حکومت مظاہروں کے غیر متوقع پھیلاؤ پر خود حیران ہے اور اس وقت ایک نازک توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ مظاہرین کو کنٹرول بھی کیا جائے اور غیر ملکی مداخلت کا جواز بھی نہ بنے۔ اسی مقصد کے تحت ایران میں ہلاک ہونے والوں کی تدفین پر پابندیاں، انٹرنیٹ کی بندش اور اطلاعات کا بلیک آؤٹ دیکھا جا رہا ہے۔

    منگل کو صحافیوں سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، “ایران نے پچھلی بار بھی یہی کہا تھا جب میں نے ان کی جوہری صلاحیت کو ختم کیا، جو اب ان کے پاس نہیں رہی۔ بہتر ہے وہ اپنا رویہ درست رکھیں۔”دوسری جانب امریکی حکام کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے سب سے بڑے فوجی اڈے، قطر کے العدید ایئر بیس، سے بعض اہلکاروں کو احتیاطی طور پر نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اڈہ ماضی میں بھی ایرانی حملے کا نشانہ بن چکا ہے اور یہاں تقریباً 10 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے واپسی پر صحافیوں سے کہا کہ انہیں بخوبی علم ہے کہ وہ کیا قدم اٹھا سکتے ہیں، تاہم انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا، “مجھے بالکل معلوم ہے کہ میں کیا کر سکتا ہوں، فیصلہ کرنا ہے لیکن ظاہر ہے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔”ذرائع کے مطابق صدر کو گزشتہ ہفتے سے ایران کے حوالے سے مسلسل مختلف آپشنز پر مشتمل بریفنگز دی جا رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس سمیت اہم شخصیات نے صدر پر کسی مخصوص فیصلے کے لیے دباؤ نہیں ڈالا بلکہ ہر آپشن کے فوائد اور نقصانات سامنے رکھے گئے ہیں۔ٹرمپ فوجی کارروائی کے علاوہ دیگر راستوں پر بھی غور کر رہے ہیں، جن میں سائبر حملے، نئی اقتصادی پابندیاں اور معلوماتی جنگ شامل ہیں۔ اسی تناظر میں صدر نے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے مالک ایلون مسک سے بھی رابطہ کیا ہے تاکہ ایران میں انٹرنیٹ بندش کے باوجود عوام کو رابطے کی سہولت دی جا سکے۔ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس وقت ایران میں اسٹارلنک کے ذریعے مفت انٹرنیٹ فراہم کیا جا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا، “جب میں ایران میں ہونے والی اموات دیکھتا ہوں تو ایران میرے ذہن میں ہوتا ہے۔” اسی دوران قومی سلامتی کونسل کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، سی آئی اے ڈائریکٹر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس سمیت اہم حکام شریک تھے۔اگرچہ حالیہ دنوں میں صدر نے ایران کے ساتھ سفارتی راستے کی بات بھی کی تھی، تاہم منگل کی صبح انہوں نے اچانک اعلان کیا کہ جب تک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن بند نہیں ہوتا وہ ایرانی حکام سے کسی بھی ملاقات کو منسوخ کر رہے ہیں۔ بعض مشیروں کا خیال ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے پیغامات محض امریکی حملہ روکنے کی کوشش ہیں۔

    ادھر سعودی عرب، قطر اور عمان سمیت امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک پس پردہ سفارتی کوششیں کر رہے ہیں تاکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکی جا سکے، کیونکہ ان کے مطابق اس کے پورے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ٹرمپ نے منگل کی صبح اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایرانی مظاہرین کو احتجاج جاری رکھنے کا پیغام دیتے ہوئے لکھا، “ایرانی محب وطنو، احتجاج جاری رکھو، اپنے اداروں پر قبضہ کرو، مدد آ رہی ہے۔” انہوں نے آخر میں “میگا” یعنی “میک ایران گریٹ اگین” بھی لکھا۔

    ایرانی قیادت کے لیے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ “وہ انسانیت کا مظاہرہ کریں”، اور خبردار کیا کہ “انہیں لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہیے، ورنہ مسئلہ بہت بڑا ہو جائے گا۔”

  • معروف اسٹیج اداکار قیصر پیا ٹریفک سگنل پر ڈکیتی کا شکار

    معروف اسٹیج اداکار قیصر پیا ٹریفک سگنل پر ڈکیتی کا شکار

    لاہور میں اسٹیج کے معروف اداکار قیصر پیا ایک افسوسناک واردات کا شکار ہو گئے، جہاں نامعلوم ملزمان نے ٹریفک سگنل پر ان سے قیمتی موبائل فون چھین لیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔

    واقعہ شہر کے علاقے گارڈن ٹاؤن میں پیش آیا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔پولیس کے مطابق قیصر پیا اپنی ذاتی گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ گارڈن ٹاؤن کے ایک مصروف ٹریفک سگنل پر گاڑی رک گئی۔ اسی دوران ایک ملزم نے اچانک گاڑی کو ہاتھ مارا اور بلاوجہ تلخ کلامی شروع کر دی، جس سے قیصر پیا کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو گئی۔ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ جھگڑے کے دوران ایک دوسرا ملزم گاڑی کی دوسری جانب سے آیا اور موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیصر پیا کا قیمتی موبائل فون چھین لیا، جس کے بعد دونوں ملزمان تیزی سے موقع سے فرار ہو گئے۔ واردات اتنی اچانک تھی کہ متاثرہ اداکار فوری طور پر کوئی مزاحمت نہ کر سکے۔

    واقعے کے بعد قیصر پیا نے گارڈن ٹاؤن تھانے میں درخواست دی، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملزمان کی شناخت اور گرفتاری ممکن بنائی جا سکے۔

  • امریکا کا  پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلیے امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کرنے کا اعلان

    امریکا کا پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کیلیے امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کرنے کا اعلان

    امریکا نے پاکستان سمیت 75 ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

    امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان 75 ممالک کے تارکین امریکی عوام کے ٹیکسز کی رقم سے استفادہ کرتے تھے،امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کے مطابق جن ممالک کے شہریوں کے لیے امیگرنٹ ویزا پراسیس معطل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ان میں پاکستان، صومالیہ، روس، ایران، افغانستان، برازیل، نائیجریا ، تھائی لینڈ، افغانستان ، روس ، ایران، عراق،اردن ، قازقستان،کویت، کرغزستان، لبنان، لیبیا، نیپال، کانگو، روانڈا، سوڈان ، شام، تنزانیہ اور ازبکستان سمیت دیگر ممالک شامل ہیں،امریکی میڈیا کے مطابق یہ معطلی 21 جنوری سے شروع ہوگی۔ امریکی سفارت خانوں کو ہدایت دی گئی ہےکہ جب تک محکمہ خارجہ اپنے طریقہ کار کا ازسرنو جائزہ نہ لے لے، موجودہ قوانین کے تحت ویزے جاری کرنے سے انکار کیا جائے۔ محکمہ خارجہ کی جانب سے اس عمل کے لیے کوئی مدت مقرر نہیں کی گئی۔

    دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سےایکس پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ پابندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک امریکا اس بات کو یقینی نہیں بنا لیتا کہ نئے تارکین وطن امریکی عوام کی دولت سے ناجائز فائدہ نہیں اٹھائیں گے،امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان ممالک سے آنے والے بہت سے تارکین وطن امریکا پہنچتے ہی ریاست پر بوجھ بن جاتے ہیں،

  • اگلے 24 گھنٹے اہم،امریکا ایران میں مداخلت کر سکتا ہے،خبر رساں ایجنسی

    اگلے 24 گھنٹے اہم،امریکا ایران میں مداخلت کر سکتا ہے،خبر رساں ایجنسی

    ایران میں احتجاجی مظاہروں اور امریکی صدر کی جانب سے مظاہرین کی مدد کے لیے مداخلت کی دھمکیوں کے باعث بڑھتی کشیدگی کے دوران غیر ملکی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا آئندہ 24 گھنٹوں میں ایران میں مداخلت کرسکتا ہے۔

    خطے میں تیزی سے بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنے فوجی اڈوں سے بعض اہلکاروں کا بھی انخلا شروع کر دیا ہے جسے ممکنہ امریکی حملے کی واضح پیشگی علامت قرار دیا جا رہا ہے،ایک امریکی عہدیدار کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدبیر کے طور پر اٹھایا گیا ہے کیونکہ ایران نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا،ایک اور امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث خطے کے اہم فوجی اڈوں سے کچھ عملہ واپس بلایا جا رہا ہے، اسی تناظر میں برطانیہ بھی قطر میں واقع ایک فضائی اڈے سے اپنے بعض اہلکار نکال رہا ہے۔

    ایک مغربی فوجی عہدیدار نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ ’تمام اشارے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی حملہ جلد ہوسکتا ہے،دو یورپی عہدیداروں نے خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ امریکی فوجی مداخلت آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر ہو سکتی ہے جبکہ ایک اسرائیلی عہدیدار کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے مداخلت کا فیصلہ کر لیا ہے اگرچہ اس مداخلت کے دائرہ کار اور وقت کے بارے میں حتمی وضاحت موجود نہیں،قطر نے بھی تصدیق کی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے سب سے بڑے فوجی اڈے العدید ائیر بیس سے عملے میں کمی موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث کی جا رہی ہے۔

  • اپوزیشن صرف ایک قیدی کی رہائی کے پیچھے پڑی ہے،شازیہ مری

    اپوزیشن صرف ایک قیدی کی رہائی کے پیچھے پڑی ہے،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی رہنما ،رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا ہے کہ حکومت کو سپورٹ صرف پاکستان کے مفاد میں کر رہے ہیں،اپوزیشن صرف ایک قیدی کی رہائی کے پیچھے پڑی ہے،اسلام آباد میں درخت کٹتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، لگتے ہوئے نہیں،کراچی جیسے بڑے شہر میں گیس تک نہیں،

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پرائیویٹائزیشن پر بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کا مؤقف واضح ہے، پی پی نے نجکاری کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا ہے،وفاق بار بار نجکاری کا نعرہ لگانے کے بجائے نجی شعبے کی شراکت کے ساتھ چلانے کا منصوبہ بنائے، حکومت اہم ادارے کی نجکاری کرے اور اثاثوں اور ملازمین کا تحفظ نہ ہو، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل ہونا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کامیابی سے سندھ میں چل رہی ہے، پیپلز پارٹی نے نجکاری کے عمل کو سنجیدگی سے دیکھا ہے، قومی ایئرلائن کی نجکاری کرتے ہوئے ملازمین اور اثاثوں کا خیال رکھنا چاہیے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ایک ماڈل ہونا چاہیے،ہ وزیرِ خزانہ نے کئی بار تسلیم کیا کہ سندھ کا پبلک پرائیویٹ ماڈل اچھا ہے اور اختیار کرنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم کابینہ کو ہدایت کریں کہ جو ادارے حکومت نہیں چلا سکتی انہیں شراکت سے چلانا چاہیے۔

    شازیہ مری کا کہنا تھا کہ غلام سرور کے بیان سے گزشتہ 4 سال میں قومی ایئرلائن کو 600 ملین ڈالر نقصان ہوا، غلام سرور کی وجہ سے نقصان کی پوچھ گچھ ہونی چاہیے، اس بیان سے پائلٹس سمیت عملے کی نوکریاں چھن گئیں، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچانے والوں کا احتساب کرنا چاہیے، قومی ایئرلائن کو نقصان پہنچا کر نجکاری کی راہ ہموار کی گئی، قومی ایئرلائن کے نقصانات پر تحقیقات کریں، نجکاری حل نہیں،قومی ایئرلائن کی عمارتیں اربوں کی ہیں، دس ارب روپے میں پی آئی اے کا سودا ہوا، 135 ارب کی فروخت بتائی گی، قومی ایئرلائن کے منافع کی نجکاری جبکہ نقصان حکومت کو دیا گیا۔

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ اسلام آباد میں درختوں کو کاٹا جا رہا ہے، درختوں کی وجہ سے موسمیاتی تبدیلی آ رہی ہے، موسمیاتی تبدیلی کے وجہ سے سیلاب آئے، موسمیاتی تبدیلی کے نقصان کا ازالہ پاکستان کر رہا ہے،ہ اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی ہو رہی ہے، ملک میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سب دیکھ رہے ہیں، پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، 30 ہزار کے قریب درخت کاٹے گئے ہیں، تمام پارلیمنٹیرین کو تحفظات تھے، پی پی نے درختوں کی کٹائی کا معاملہ ایوان میں اٹھایا ہے، وزیر داخلہ نے ایسے جواب دیے کہ نئے سوال پیدا ہو گئے، درختوں کی کٹائی ایسا عمل ہے جو شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے، ہمیں بتایا جائے کہ کتنے درخت لگائے گئے، ہمیں درخت کٹتے نظر آرہے ہیں مگر لگنے والے درخت نظر نہیں آرہے، اگر شفافیت ہے وہ شئیر کریں اور بتائیں، ہر بات پر پریس کانفرنس ہو جاتی ہے، کیوں درختوں کی کٹائی پر بات نہیں ہوئی، ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، سانگھڑ میں 20 ، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، آپ جو ناجائز بلنگ کر رہے ہیں وہ کون سا قانونی ہے، سردی میں بجلی کی صورتحال یہ ہے گرمیوں میں کیا صورتحال ہوگی، گرمیوں میں آپ لوگوں کی چینخیں نکال دیں گے، گیس کی بھی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، 70 فیصد گیس سندھ سے پیدا ہو رہی ہے، بلوچستان کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے اب سندھ کا یہ حال کرنے جا رہے ہیں، سندھ کیوں امپورٹڈ گیس استعمال کرے؟ سب سے پہلا حق اس علاقے کے رہنے والے لوگوں کا ہے جہاں سے گیس نکل رہی ہے، کراچی میں بھی گیس نہیں ہے، دیہی علاقوں کا آپ سوچ سکتے ہیں کیا صورتحال ہے،وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ وہ نوٹس لیں، حکومت نے وعدہ کیا تھا قانون سازی کے لیے اعتماد میں لیا جائے گا۔ صدر مملکت کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ہونا کریمنل اقدام ہے۔ آرڈیننس سے متعلق ہم سے مشورہ کیا جائے، وفاقی وزیرقانون کو اپنے بارے میں خود سوچنا چاہیے، دو دو وزیر وزارتیں سنبھال رہے ہیں، نہیں بتا رہے کہ مسئلہ کیا ہے؟کسی قانون سازی میں اپوزیشن اپنا کام نہیں کر رہی، اپوزیشن صرف شور شرابا کرنے میں مصروف ہے۔