Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز کے مطابق اب تک تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی یا متاثر ہوئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق یہ زخمی فوجی سات مختلف ممالک میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوئے۔ تاہم زیادہ تر زخمیوں کی حالت زیادہ تشویشناک نہیں تھی اور 180 سے زائد فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔یہ تازہ اعداد و شمار پہلے جاری ہونے والی رپورٹ سے زیادہ ہیں۔ 10 مارچ تک امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا تھا کہ 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک تھی۔ایک امریکی عہدیدار نے پہلے بتایا تھا کہ جن فوجیوں کو شدید زخمی قرار دیا گیا ہے ان میں ایسے کیسز بھی شامل ہیں جن میں جان کو سنگین خطرہ لاحق تھا یا موت کا خدشہ موجود تھا۔

    ادھر امریکی حکام کے مطابق اب تک جاری لڑائی میں 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ یا تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ بعض اوقات فوجی کسی واقعے کے فوراً بعد طبی امداد حاصل نہیں کرتے، خاص طور پر جب چوٹ معمولی نوعیت کی ہو۔ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی افواج کو مختلف محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اس ماہ متوقع ان کا دورۂ چین ایک ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، تاہم موجودہ حالات کے باعث اس دورے کو کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔“ہم چین سے بات کر رہے ہیں۔ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جنگ کی وجہ سے میں یہیں رہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس دورے کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔”امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو آبنائے ہرمز کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق چین اپنی 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کو اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے مؤقف کو جاننا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہی معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات میں زیر بحث آئے گا۔

    ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دورانیے کے بارے میں مبہم انداز میں کہا کہ یہ جنگ “جلد ختم ہو جائے گی۔”انہوں نے کہا “مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس ہفتے ختم ہو جائے گی، لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جب یہ ختم ہو گی تو دنیا زیادہ محفوظ ہو گی۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایران خلیجی خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ان کے مطابق “بڑے سے بڑے ماہرین کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملے کرے گا۔”

  • آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کا جلد اعلان کریں گے: ٹرمپ

    آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کا جلد اعلان کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ان ممالک کے نام ظاہر کریں گے جو امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک زیادہ تر اتحادی ممالک نے اس معاملے میں تعاون سے گریز کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چند ممالک ایسے ہیں جو آگے آئے ہیں اور ہم جلد ان کے ناموں کا اعلان کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ بہت سے ممالک اس اقدام میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پرجوش نظر نہیں آ رہے۔

    آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس اہم گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور توانائی بحران پیدا ہو گیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ چین اور جاپان جیسے ممالک، جو اس راستے سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، انہیں امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ممالک اس گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت سے متعلق سوالات پر کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے نہیں دیں گے۔یاد رہے کہ بطور سینیٹر وینس اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کر چکے تھے اور اسے امریکہ کے لیے وسائل کا بڑا ضیاع قرار دیتے رہے تھے۔

    صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اسرائیل ایسا کبھی نہیں کرے گا۔”ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے اہم جزیرے پر تیل کی تنصیبات کے علاوہ تقریباً تمام اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات سنبھالتا ہے۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں ان تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ جنگ کے آغاز میں برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی ساز و سامان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔اسی طرح انہوں نے فرانس کے صدر کے کردار کے بارے میں بھی محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ فرانس آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں کس حد تک شامل ہوگا۔

    ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ شدید زخمی ہیں یا ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں، کیونکہ تقرری کے اعلان کے بعد سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک سابق امریکی صدر نے انہیں بتایا کہ انہیں اپنے دورِ اقتدار میں ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، تاہم ٹرمپ نے اس صدر کا نام ظاہر نہیں کیا۔

  • آپریشن  غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

    وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

    وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے، افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔

  • موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان کو اوور اسپیڈنگ پر روکنے کے معاملے میں مبینہ نرمی برتنے کے الزامات پر اپنے اہلکاروں کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا، جب موٹر وے پولیس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر چکری انٹرچینج کے قریب رفتار چیک کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران اہلکاروں نے BQB-79 نمبر کی گاڑی کو 166 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے پایا، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی.پیٹرولنگ ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم مرتضیٰ اور سب انسپکٹر سعادت حسن نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر چیک پوسٹ پر گاڑی نہیں روکی اور سفر جاری رکھا۔بعد ازاں گاڑی کو اسلام آباد کے قریب انسپکٹر فراز مہدی نے روک لیا، جنہوں نے ڈرائیور کی شناخت منصور علی خان کے طور پر کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افسر ٹریفک خلاف ورزی پر چالان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم بعد میں اس معاملے میں مبینہ نرمی کے الزامات سامنے آنے پر موٹر وے پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ترجمان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق انکوائری کا مقصد واقعے کی مکمل حقیقت معلوم کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا اہلکاروں نے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی یا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    باجوڑ میں افغان فورسز کی جانب سے پاکستان میں شہری آبادی پر مارٹر گولے کے حملے کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام نے پاک فوج سے فتنہ الخوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کرنے کی گزارش کردی۔

    خیبر پختونخوا کے عوام کی جانب سے افغان فورسز کے حملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صوبے کے شہریوں نے کہا ہے کہ افغان فورسز نے معصوم لوگوں کو شہید کیا۔ جنگ میں آبادی کو نشانہ بنانا غیر انسانی عمل ہے،ایک شہری نے کہا کہ عام لوگوں پر بمباری کرنا اور ایک ہی گھر سے 4 جنازے اٹھانا ظلم اور بربریت ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ عام آبادی کو ہدف نہ بنائے،شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو،باجوڑ کے عوام پاک فوج سے گزارش کرتے ہیں فتنہ خوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کریں، عجیب بات ہے ہم نے اپنی صوبائی حکومت کی طرف سے اس بربریت کی کوئی مذمت نہیں دیکھی، کسی صوبائی وزیر نے نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی آواز اُٹھائی۔ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

  • قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،خالد مسعود سندھو

    قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،خالد مسعود سندھو

    پاکستان سے سیاسی افراتفری ،دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، صدر مرکزی مسلم لیگ
    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل سے ہی ملک میں امن قائم ہوگا،پاکستان قومیت، لسانیت، وطنیت کا نہیں بلکہ لا الہ الا اللہ کا ملک ہے،پاکستان سے سیاسی افراتفری ،دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک ترقی کرے گا، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کر رہی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی کی تربیت دے کر بے روزگاری کا خاتمہ کر رہے ہیں،

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ماہ مباک کی ستائیسویں رات لیلۃ القدر کو پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا یہ مملکت کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کی گئی ایک عظیم امانت ہے، ہمارے اکابرین اور قائدین نے بے شمار قربانیاں دے کر اس وطن کو حاصل کیا تاکہ یہاں ایک ایسا معاشرہ قائم ہو سکے جو اسلامی اصولوں، عدل، مساوات اور اخوت پر مبنی ہو،تا ہم یہاں کے حکمرانوں نے قیام پاکستان کے نظریئے کو پس پشت ڈالا، آج بھی اگر ہم قیامِ پاکستان کے حقیقی مقاصد کو اپنا لیں تو ملک میں حقیقی امن، استحکام اور خوشحالی ممکن ہے، مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست پر یقین رکھتی ہے، اسی سوچ کے تحت ہم نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق آئی ٹی اور ہنر کی تربیت دے رہے ہیں تاکہ بے روزگاری کا خاتمہ ہو اور نوجوان اپنے پاؤں پر کھڑے ہو کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کریں،ماہ رمضان میں خدمت کا رمضان مہم کے تحت ملک بھر میں سحر و افطار دسترخوان سجائے گئے عید کے بعد خدمت کی مہم کو مزید تیز کریں گے.

  • ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانوی وزیراعظم

    ایران کے خلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، برطانوی وزیراعظم

    برطانوی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ایران کیخلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، آبنائے ہرمز کھولنا کوئی آسان کام نہیں، ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی۔

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران کیخلاف جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھیں، ہمیں ایران کے ساتھ معاہدے کی ضرورت ہوگی۔ آبنائے ہرمز کو کھولنا کوئی آسان کام نہیں، سمندری آمد و رفت بحال کرنے کیلئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں، ہم مسئلے کے تیز تر حل کیلئے کام کرتے رہیں گے۔ ہم مشرق وسطیٰ میں جنگ کو مزید پھیلنے نہیں دیں گے اور برطانوی مفاد کا دفاع ہر صورت میں میرا فرض ہے، چاہے کتنے ہی دباؤ ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے حال ہی میں کینیڈا کے وزیراعظم سے ملاقات کی اور جلد ہی یوکرین کے صدر سے ملاقات کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کی وجہ سے گیس اور تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور گلف میں کسی قسم کی جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔

  • عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت عالمی سطح پر کشیدگی کے پیش نظر ملکی معیشت کے استحکام اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ عالمی صورتحال کے پیش نظر عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے مزید اقدامات پر بھی مشاورت جاری ہے، حکومت کے بروقت فیصلوں کی بدولت اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مناسب مقدار موجود ہے، بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر ملک میں معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بر وقت بنائی گئی کمیٹی کے فیصلوں کی بدولت عوام کے لیے تیل کی مسلسل فراہمی ممکن ہوئی، قومی سطح پر کفایت شعاری اور بچت کے لیے اقدامات کا نفاذ ہو چکا ہے اور مزید پر کام جاری ہے،

    وزیراعظم کی کفایت شعاری اور بچت کے تمام نافذ العمل اقدامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ کی ہدایت پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے.وزیراعظم کا کہنا تھاکہ معاشی استحکام اور عوام کے لیے ریلیف حکومت کی اولین ترجیح ہے، تمام اقدامات نہ صرف فوری ریلیف بلکہ طویل مدتی معاشی استحکام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے لیے جا رہے ہیں، حکومت پاکستان عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے پیش نظر کسی بھی قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی تقسیم کار کمپنیوں کو حکومت کے تعین کردہ نرخوں پر تیل کی فروخت یقینی بنانے اور اس معاملے میں شفافیت برقرار رکھنے کی ہدایت کی،اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں موجود تیل کے ذخائر، فیول کی مانگ پوری کرنے لے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمدات اور عوام کو عالمی کشیدگی کے پیش نظر ریلیف دینے کے حوالے سے اقدامات پر بریفنگ دی گئی ،بتایا گیا کہ حکومت پاکستان تیل کی متعین قیمت پر فروخت کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے، تیل کی مسلسل فراہمی اور اس کی متعین قیمت پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے پاک ایپ Pak App میں صارفین کے لیے فیچر شامل کر دیا گیا ہے،اب صارفین پاک ایپ Pak App کے ذریعے ملک میں کہیں بھی تیل کی عدم دستیابی یا مہنگے داموں پر فروخت کے حوالے سے متعلقہ حکام کو آگاہ کر سکتے ہیں جس پر حکومت کی جانب سے فوری اقدامات لیے جائیں گے، اجلاس کے شرکاء نے گزشتہ جمعہ کو وزیراعظم کے تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ نہ کرنے کے فیصلے کو سراہا،اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک تھے