Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان،شدید بارشیں،سیلاب،17 افراد کی موت

    افغانستان،شدید بارشیں،سیلاب،17 افراد کی موت

    افغانستان میں شدید بارشوں، برف باری اور سیلاب نے تباہی مچا دی، مختلف علاقوں میں کم از کم 17 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے بتایا ہے کہ ملک میں موسمِ سرما کی پہلی بارشوں کا آغاز ہوا ہے، جس کے ساتھ ہی کئی علاقوں میں شدید بارش اور برف باری ریکارڈ کی گئی۔ ترجمان کے مطابق حالیہ بارشوں نے اگرچہ ایک طویل خشک موسم کا خاتمہ کر دیا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔

    ترجمان نے مزید بتایا کہ شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث ملک کے وسطی، شمالی، جنوبی اور مغربی حصے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ مختلف صوبوں میں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں نے گھروں، سڑکوں اور زرعی زمینوں کو نقصان پہنچایا، جس کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔ سیلابی صورتحال کے باعث اب تک کم از کم 17 افراد ہلاک جبکہ 11 افراد زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق کئی علاقوں میں بنیادی انفرااسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا ہے، متعدد سڑکیں بند ہو گئی ہیں اور بجلی و مواصلاتی نظام متاثر ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔ مزید بارشوں اور برف باری کے پیش نظر عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہا تو ہلاکتوں اور نقصانات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    یوم تاسیس مرکزی مسلم لیگ اورقرارداد بقائے پاکستان

    تاریخ کے کچھ دن محض تقویم کا حصہ نہیں ہوتے، وہ قوموں کی اجتماعی یادداشت، فکری اساس اور نظریاتی شناخت کا استعارہ بن جاتے ہیں۔ 30 دسمبر بھی ایسا ہی ایک دن ہے، جب برصغیر کے مسلمانوں نے ڈھاکہ کی سرزمین پر آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھ کر غلامی کی تاریکیوں میں آزادی کی شمع روشن کی۔ یہی شمع وقت کے طویل سفر کے بعد پاکستان کے قیام پر منتج ہوئی، اور آج اسی تسلسل کی فکری و نظریاتی وارث کے طور پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ قوم کے سامنے موجود ہے۔مرکزی مسلم لیگ نے 30 دسمبر کو اپنے یومِ تاسیس کے موقع پر ملک بھر میں جس فکری ولولے، نظریاتی شعور اور تنظیمی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا، وہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ نظریۂ پاکستان محض ماضی کی داستان نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کرنے والی زندہ حقیقت ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ اس یقینِ محکم کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے کہ جس طرح آل انڈیا مسلم لیگ نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں منتشر مسلمانوں کو ایک قیادت، ایک نصب العین اور ایک پرچم تلے جمع کیا، اسی طرح آج مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں قوم کو کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر متحد کرنے، انتشار و افتراق کی سیاست کے خاتمے اور احیائے نظریۂ پاکستان کی عملی جدوجہد میں مصروفِ عمل ہے۔مرکزی صدر خالد مسعود سندھو کی ہدایت پر یومِ تاسیس کے موقع پر ملک کے طول و عرض میں اضلاع اور تحصیل کی سطح پر پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں یوتھ لیگ، ویمن لیگ، مرکزی کسان لیگ، ملی لیبر، شعبہ اساتذہ اور دیگر ذیلی تنظیموں نے بھرپور شرکت کی۔ یہ اجتماعات فکری بیداری اور نظریاتی تجدید کے مراکز تھے۔یومِ تاسیس کی تقریبات سے مرکزی قیادت نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاست کو ذاتی مفادات، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط سے پاک کر کے خدمت، اصول اور نظریے کی بنیاد پر استوار کیا جائے گا۔
    سیف اللہ قصوری، حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف، قاری یعقوب شیخ، حافظ خالد نیک، شفیق الرحمان وڑائچ، انجینئر حارث ڈار، تابش قیوم، محمد سرور چوہدری، حمیدالحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب اور دیگر رہنماؤں کے خطابات نے سامعین کے دلوں میں ایک نئی امید، نیا حوصلہ اور نئی فکری توانائی پیدا کی۔ ان مواقع پر انٹرا پارٹی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں سے حلف بھی لیا گیا، جو جمہوری روایات سے وابستگی کا عملی ثبوت ہے۔

    یومِ تاسیس کی تقریبات کی کوریج کے لیے مرکزی ترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم کی زیر نگرانی سنٹرل میڈیا سیل نے ایک منظم، ہمہ گیر اور مؤثر مہم چلائی، جس نے الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھرپور اثر چھوڑا،ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ طہٰ منیب کی قیادت میں مرکزی صدر خالد مسعود سندھو، حافظ طلحہ سعید، قاری یعقوب شیخ، عفت سعید، عطاء اللہ غلزئی اور دیگر رہنماؤں کے خصوصی پوڈکاسٹس ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر جاری کیے گئے، جنہوں نے نوجوان نسل میں نظریاتی شعور کو تازہ کیا،ولولہ انگیز ترانے، فکری گرافکس، بامعنی پوسٹرز، مرکزی صدر کا خصوصی کالم اور سینئر صحافیوں و معروف اینکر پرسنز کے پیغامات نے یومِ تاسیس کو ایک تحریک بنا دیا۔

    ایوانِ اقبال لاہور میں منعقدہ مرکزی پروگرام میں پیش کی گئی قرارداد درحقیقت قوم کے ضمیر کی آواز تھی۔ اس قرارداد میں اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان مسلمانوں کی شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے مزین جدوجہد کا ثمر ہے،مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث سمجھتی ہے،شخصیات نہیں، اصول ہماری سیاست کا محور ہوں گے،کشمیریوں اور فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی غیر مشروط حمایت کی جائے گی،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مسلح افواج اور سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے،سود سے پاک معیشت، عوامی ریلیف اور نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کا عملی ایجنڈا اپنایا جائے گا،یہ قرارداد اس عزم کا اظہار تھی کہ پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر استوار اسلامی فلاحی ریاست بنایا جائے گا۔مرکزی مسلم لیگ نے تحریکِ بقائے پاکستان کے آغاز کا اعلان کر کے یہ واضح کر دیا ہے کہ یہ جماعت محض انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ قوم کی فکری تشکیلِ نو، نظریاتی بیداری اور جدید چیلنجز کے حل کے لیے سنجیدہ جدوجہد کا عزم رکھتی ہے۔خطے کے بدلتے حالات، بالخصوص بنگلہ دیش کی صورتحال، اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، اور جن بنیادوں پر یہ ملک وجود میں آیا تھا، وہی بنیادیں آج بھی قوم کو جوڑنے کی قوت رکھتی ہیں۔ یومِ تاسیس مرکزی مسلم لیگ مستقبل کا وعدہ ہے، یہ وعدہ کہ پاکستان کو نظریاتی کمزوری، معاشی غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر ایک خوددار، خودمختار اور بااصول ریاست بنایا جائے گا۔یہی وہ خواب ہے جو 30 دسمبر 1906ء کو دیکھا گیا تھا، اور یہی وہ خواب ہے جس کی تعبیر کے لیے مرکزی مسلم لیگ آج بھی میدانِ عمل میں موجود ہے۔

  • پاکستان ریلویز کے فریٹ سیکٹر کو ریکارڈ آمدن، چھ ماہ میں 17 ارب روپے حاصل کر لیے

    پاکستان ریلویز کے فریٹ سیکٹر کو ریکارڈ آمدن، چھ ماہ میں 17 ارب روپے حاصل کر لیے

    پاکستان ریلویز کے فریٹ سیکٹر کو ریکارڈ آمدن، چھ ماہ میں 17 ارب روپے حاصل کر لیے

    ہڑتال کے باوجود نومبر، دسمبر میں مسلسل 3 ارب سے زائد ریونیو حاصل کیا گیا،وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی کا کہنا ہے کہ مالی سال کے اختتام پر صرف فریٹ سیکٹر سے 38 ارب سے زائد آمدن حاصل کریں گے،2026 میں پاکستان ریلویز پہلی بار ایک کھرب آمدن والا ادارہ بن جائے گا،2026ء کے اختتام پر ریلوے تمام ٹرینیں اپ گریڈ کر دے گا،مسافروں کو بہترین سفری تجربہ ہو گا، سفر محفوظ ترین بنائیں گے،2026 میں ٹرینوں میں کیمرے لگائیں گے، ریلوے کی مکمل ڈیجیٹائزیشن کر دیں گے،ریلوے پولیس کو جدید تربیت دی گئی ہے، مسافروں کو دوران سفر تحفظ کا احساس ملے گا

  • صوبے میں قیام امن کو اولین ترجیح رکھیں،وزیراعلیٰ سندھ کی آئی جی کو ہدایت

    صوبے میں قیام امن کو اولین ترجیح رکھیں،وزیراعلیٰ سندھ کی آئی جی کو ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے نئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعلیٰ سندھ نےسندھ پولیس کی کمان سنبھالنے پر نئے آئی جی کےلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،وزیراعلیٰ سندھ نے نئے آئی جی کو ہدایت کی کہ صوبے میں قیام امن کو اولین ترجیح رکھیں،کچے میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن پوری قوت سے جاری رہنا چاہیے،کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے کی کوششیں مزید تیز کی جائیں،سندھ پولیس کا عوام دوست تاثر بحال کرنے کےلیے بھرپور اقدامات کیے جائیں،سندھ پولیس کو جدید بنانے کا مشن جاری رکھا جائے، سیف سٹی پروجیکٹ کو موثر بنانے پر توجہ دی جائے،منشیات کے خلاف جاری آپریشن کو مزید تیز کیا جائے، حکومت سندھ پولیس کی بہتری کےلیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، پولیس کو بھی نتائج دینے ہوں گے،

  • کے کے آر میں بنگلہ دیشی کھلاڑی،بی جے پی رہنما نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دے دیا

    کے کے آر میں بنگلہ دیشی کھلاڑی،بی جے پی رہنما نے شاہ رخ خان کو غدار قرار دے دیا

    بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسند رہنما اور بھارتی ریاست اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی کے سابق رکن سنگیت سوم نے بالی ووڈ کے معروف اداکار اور انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے شریک مالک شاہ رخ خان پر شدید تنقید کی ہے۔

    یہ تنقید بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں خریدنے پر سامنے آئی ہے۔سنگیت سوم نے میرٹھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے شاہ رخ خان کو بنگلادیشی کھلاڑی کو ٹیم میں شامل کرنے پر ’غدار‘ قرار دیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایک جانب بنگلادیش میں ہندوؤں کے خلاف مبینہ تشدد کے واقعات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں جبکہ دوسری جانب آئی پی ایل میں بنگلادیشی کرکٹرز کو کروڑوں روپے دے کر خریدا جا رہا ہے، جو ان کے بقول ناقابلِ قبول ہے۔

    انتہا پسند رہنما نے الزام عائد کیا کہ شاہ رخ خان نے بنگلادیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمٰن کو 9 کروڑ روپے میں خرید کر ملک کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ اُنہوں نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کو جو بھارت کے مفادات کے خلاف کام کریں، اس ملک میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہونا چاہیے۔سنگیت سوم نے اپنے خطاب میں شاہ رخ خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے عوام نے ہی انہیں شہرت اور مقام دلایا ہے، اگر انہیں دولت اور کامیابی ملی ہے تو وہ اسی ملک کی بدولت ہے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے بنگلادیشی کھلاڑی کو خرید کر بھارت کے ساتھ غداری کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرکٹ محض کھیل نہیں بلکہ قوم کے جذبات سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔اگر مستفیض الرحمٰن جیسے کھلاڑی، جنہیں 16 دسمبر کو آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں 9.2 کروڑ روپے میں خریدا گیا، بھارت آتے ہیں تو وہ یہاں ایئرپورٹ سے باہر بھی نہیں نکل سکیں گے۔ ان بیانات کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    دوسری جانب کرکٹ ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ آئی پی ایل ایک بین الاقوامی لیگ ہے جس میں مختلف ممالک کے کھلاڑی پیشہ ورانہ بنیادوں پر حصہ لیتے ہیں، اور کھلاڑیوں کی خرید و فروخت کا تعلق کھیل اور کارکردگی سے ہوتا ہے، نہ کہ سیاست یا کسی ملک کے اندرونی معاملات سے۔ ناقدین کے مطابق اس طرح کے بیانات کھیل کو سیاست کی نذر کرنے کے مترادف ہیں۔

  • وزیراعلیٰ مریم نواز کا 2026 کونوجوانوں کاسال قرار دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نواز کا 2026 کونوجوانوں کاسال قرار دینے کا اعلان

    وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے 2026ء نوجوانوں کا سال قرار دینے کا اعلان کیا اور2026ء میں عوام کی فلاح و بہبود، خوشحالی اور ترقی کے اہداف پورے کرنے کا عزم کا اظہار کیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سال نو کے آغاز پر اپنے پیغام پر مبارکباد دی اورملک و قوم کی خیر وعافیت کی دعاکرتے ہوئے کہا کہ دعاہے کہ سال نو پاکستان سمیت دنیا بھر کے لئے امن اور عافیت کا سال ثابت ہو۔دعاہے اللہ تعالیٰ پاکستان بالخصوص پنجاب کے عوام کو خوشیوں سے ہمکنار کرے اور2026 پاکستان کے عوام کے لئے خوشحالی کا پیامبر ثابت ہو۔انہوں نے کہا کہ دعاہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے ہر نوجوان کو بلندیوں کی راہ پر گامزن کرے۔ دعاہے کہ سال نو گزشتہ سال سے بھی بہترثابت ہو اور ہر سوخوشیاں پھیل جائیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ الحمدللہ!2025 میں عوام سے کیے گئے تمام وعدے نبھائے، نئے سال میں بھی خوشحالی و ترقی کے تسلسل کو جاری رکھیں گے۔ 2025ء میں ایک لاکھ 20ہزار سے زائد گھر بنانے کا وعدہ پور اکیا۔ فیلڈ ہسپتال اور کلینک آن ویل کے ذریعے دوکروڑ سے زائد مریضوں کو ان کی دہلیز پر علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہاکہ 2025 میں سیلاب متاثرین سے بحالی کے لئے مالی معاونت کا وعدہ بھی نبھایا۔ 2025 میں پنجاب کے نوجوانوں کولیپ ٹاپ بھی دیئے اور ہونہار سکالرشپ بھی ملے۔ پنجاب کے کاشتکاروں کو20ہزار ٹریکٹرز کے دوفیز تقریباً مکمل ہوگئے، مزید10ہزار ٹریکٹربھی دیں گے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ 2026 میں عوام کو نواز شریف کینسر ہسپتال، سرگودھا کارڈیالوجی اور جناح کارڈیالوجی سمیت بہت سے تحفے پیش کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پنجاب میں 2024ء سے شروع ہونے والا ترقی اور خوشحالی کا سفر 2026ء میں تیز تر ہوگا۔

  • بھارت کیلئے 2025ء ناکامیوں  اور ہزیمت کا سال ثابت

    بھارت کیلئے 2025ء ناکامیوں اور ہزیمت کا سال ثابت

    فائنانشل ٹائمز کی سالانہ جائزہ کے مطابق سال 2025 بھارت کے لیے استحکام یا مضبوط پیش رفت کا نہیں بحرانوں کا سال ثابت ہوا

    فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پاک بھارت فوجی کشیدگی، امریکا کے ساتھ تجارتی محاذ آرائی، مہلک طیارہ حادثہ، کرنسی کی کمزوری اور معاشی بے چینی نے کو مسائل کی زد میں رکھا،ناکام اسٹریٹجک خود مختاری کے باعث بھارت کو امریکہ، چین اور روس کے ساتھ تعلقات برقرار کھنے پر مجبور ہونا پڑا،امریکا بھارت تجارتی معاہدہ متعدد بار ملتوی ہوا اور امریکی ٹیرف کے نفاذ کی وجہ سے بھارت کو اقتصادی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جی ایس ٹی کی اصلاحات محدود شعبوں تک رہنے کے باعث معاشی ترقی رکاوٹ کا شکار رہی، 2025ء میں بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں گروٹ کا شکار رہا ،

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک بھارت تصادم کا دیرپا نتیجہ بھارتی عسکری برتری کے بجائے واشنگٹن کی پالیسی میں واضح تبدیلی کی صورت میں سامنے آیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کا کریڈٹ لینے اور پاکستانی عسکری قیادت سے بڑھتے روابط کو فنانشنل ٹائمز نے بھارتی سفارتی ناکامی قرار دیا،ماہرین کے مطابق امریکہ میں بھارت کی معاشی اور سفارتی گنجائش محدود ہو چکی ہے جو بھارت کی کمزور پوزیشن کو ظاہر کرتا ہے،بھارت میں روپے کی گروٹ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے مزید معاشی بحران نظر آتا ہے، امریکہ بھارت تجارتی معاہدوں میں ناکامی بھارت کی عالمی معاشی ساکھ میں موجود خلاء کی علامت ہے، بھارت 2025ء میں مسائل حل کرنے کے بجائے زیادہ تر انہیں برداشت کرتا دکھائی دیا، بھارت کیلئے 2026ء اندرونی کمزوریوں ، علاقائی کشیدگی اور عالمی دباؤ کے تناظر میں بڑھتا چیلنج بنتا دکھائی دیتا ہے،

  • وفاقی وزیر داخلہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم کا حتمی ڈیزائن طلب کر لیا

    وفاقی وزیر داخلہ نے اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم کا حتمی ڈیزائن طلب کر لیا

    اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے وفاقی دارالحکومت میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے خصوصی اجلاس کی صدارت کی اور اسٹیٹ آف دی آرٹ کرکٹ اسٹیڈیم کے حتمی ڈیزائن کو 10 روز میں طلب کر لیا۔

    محسن نقوی کی زیرصدارت اجلاس سی ڈی اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد میں عوام کی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر کو بریفنگ دی گئی کہ شہر میں جدید سہولتوں کے حامل کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کے لیے تمام ابتدائی خاکے تیار ہیں، اور وزیر داخلہ نے کہا کہ 10 روز میں حتمی ڈیزائن پیش کیا جائے۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل پارک کے لیے مخصوص ایریا مختص کرنا تاکہ شہر میں سبزے اور تفریحی سہولیات کو بہتر بنایا جا سکے۔سیف سٹی پروجیکٹ کے دائرہ کار کو بڑھانا، جس کے تحت شہر کی سیکیورٹی اور نگرانی نظام کو مزید جدید بنایا جائے گا۔کشمیر چوک پر ٹریفک کی روانی کے لیے ‘اسمارٹ انڈر پاس’ کی تعمیر کا فیصلہ۔ وزیر داخلہ نے اس منصوبے کا حتمی ڈیزائن بھی 10 روز میں طلب کر لیا۔وفاقی دارالحکومت میں فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے معروف تعمیراتی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا،سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے امور کو بہتر بنانے کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی گئی،اجلاس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں تجاوزات کے خلاف آپریشن پر بھی زور دیا اور کہا کہ واگزار کرائی گئی اراضی کا بہترین استعمال عوامی مفاد میں یقینی بنایا جائے گا۔

    علاوہ ازیں، وفاقی دارالحکومت میں نئے کنونشن سینٹر کی تعمیر کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جبکہ فیڈرل کانسٹیبلری، رینجرز اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے ہیڈکوارٹرز کے لیے اراضی مختص کرنے کے سلسلے میں بھی حکومتی تجاویز پر غور جاری ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اسلام آباد میں ترقیاتی منصوبے شفافیت اور معیار کے مطابق مکمل کیے جائیں گے، اور شہر کے شہریوں کو جدید سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  • نئے سال کا پہلادن،معاشی اصلاحات پر وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس

    نئے سال کا پہلادن،معاشی اصلاحات پر وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت نئے سال کے پہلے دن معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری میں اضافہ اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر جائزہ اجلاس ہوا

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات پر مبنی معاشی گورننس کی پالیسی پر تمام وزارتوں کی طرف سے مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تمام متعلقہ وزارتوں سے عملی اقدامات اور کم سے کم دورانیہ پر مشتمل جامع حکمت عملی کے لیے تجاویز طلب کر لیں اور ساتھ ہدایت دیں کہ تمام وزارتیں اپنے شعبوں سے متعلقہ بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے سفارشات جلد از جلد مرتب کریں. وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں کی آسانی کے لیے ادارہ جاتی اور انتظامی سہولیات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے بیرونی اور ملکی سرمایہ کاروں کو مزید سہولیات دینے کے لئے سفارشات طلب کرلیں اور ہدایت کی کہ سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے برآمدات کے شعبے کی ترویج کی تجاویز اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ موثر معاشی اصلاحات اور مجموعی معاشی ترقی کے لیے تمام وزارتوں کی باہمی ہم آہنگی اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا باہمی تعاون کلیدی کردار رکھتا ہے۔ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے متعلقہ وزارتیں دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانوں کے ذریعے بیرونی سرمایہ کاروں کی سہولت کے لیے مؤثر تعاون کریں۔ سرمایہ کاری کے لیے پاکستانی سفارتخانوں میں سرمایہ کاروں کے لیے سہولیات اور دیگر اہم معلومات کی ابتدائی آگاہی کو یقینی بنایا جائے۔ وزارتیں سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے صنعتی پیداوار ، زراعت اور دیگر تمام اہم شعبوں پر یکساں توجہ دیں۔

    وزیراعظم نے معیشت سے متعلقہ تمام وزارتوں کو عملی اقدامات پر مشتمل جامع حکمت عملی اور سفارشات طلب کرلیں۔ اس موقع پر مختلف وزارتوں کی طرف سے وزیراعظم کو جاری ترقیاتی منصوبوں اور معاشی، ادارہ جاتی انتظامی اصلاحات پر جاری کام کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔ مزید براں وزیراعظم نے معاشی ترقی اور اصلاحات کی تجاویز میں وزارتوں کے مابین باہمی ہم آہنگی اور صوبوں اور وفاقی اداروں کے باہمی تعاون کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔

    اجلاس میں نائب وزیراعظم و وفاقی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر براۓ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر، تمام صوبوں کے چیف سیکٹریز ، نیشنل کوارڈینیٹر ایس آئی ایف سی اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدے داران نے شرکت کی۔

  • پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ

    اسلام آباد: پاکستان اور بھارت کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کے تحت جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کے ساتھ ساتھ قیدیوں کی فہرستوں کا بھی تبادلہ کر لیا گیا ہے۔ یہ تبادلہ نئے سال 2026 کے آغاز پر طے شدہ سفارتی روایات کے مطابق عمل میں آیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یکم جنوری کو پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا سالانہ تبادلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی تحویل میں موجود 257 بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارتی حکام کے حوالے کی، جبکہ بھارتی وزارت خارجہ نے بھارتی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی فہرست نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے نمائندے کو فراہم کی،ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قیدیوں کی فہرستوں کے تبادلے کا مقصد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر قیدیوں کے معاملات کو شفاف بنانا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے محدود مگر اہم سفارتی چینلز کو برقرار رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ قیدیوں، خصوصاً خواتین، بچوں اور ذہنی یا جسمانی طور پر بیمار قیدیوں کے حوالے سے انسانی بنیادوں پر اقدامات کی حمایت کرتا رہا ہے۔

    طاہر حسین اندرابی نے مزید بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستوں کا تبادلہ بھی یکم جنوری کو کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبادلہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کے تحت ہر سال باقاعدگی سے کیا جاتا ہے، جس کا مقصد حساس تنصیبات کے حوالے سے اعتماد سازی اور کسی بھی ممکنہ غلط فہمی سے بچاؤ ہے۔

    سفارتی ذرائع کے مطابق جوہری تنصیبات سے متعلق یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 31 دسمبر 1988 کو طے پایا تھا، جس کے تحت دونوں ممالک ہر سال یکم جنوری کو ایک دوسرے کو اپنی جوہری تنصیبات اور سہولتوں کی فہرستیں فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں جوہری استحکام اور علاقائی سلامتی کے لیے ایک اہم اعتماد سازی اقدام سمجھا جاتا ہے،

    ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے علاقائی اور عالمی امور پر پاکستان کے مؤقف سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں صورتحال کو معمول پر لانے کے لیے جاری علاقائی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے اور یمن کے تنازعے کے پُرامن حل کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس ضمن میں سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کو ناگزیر سمجھتا ہے،ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو ایک الگ ملک تسلیم کرنے کے کسی بھی اقدام کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور وحدت کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق صومالیہ کے مسئلے کے حل کا حامی ہے،دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق پاکستان خطے اور دنیا بھر میں تنازعات کے حل کے لیے مکالمے، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو ہی پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔