Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    آپریشن غضب للحق، پاک افغان سرحد پر پاکستان کی جوابی کارروائیاں جاری، درجنوں ٹھکانے تباہ

    پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد پر جاری آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔

    یہ آپریشن 26 فروری 2026 کو ٹی ٹی اے کی جانب سے شروع کی گئی کارروائیوں کے جواب میں جاری ہے اور سرحدی علاقوں میں دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 اور 5 مارچ کی درمیانی شب بلوچستان کے سرحدی علاقوں قلعہ سیف اللہ، چمن، سمبازہ، نوشکی اور چلتن سیکٹرز میں پاکستان کی فورسز نے بھرپور جوابی فائرنگ کی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف کیلیبر کے ہتھیار استعمال کرتے ہوئے سرحد پار موجود ٹی ٹی اے کے ٹھکانوں اور عسکری پوزیشنز کو نشانہ بنایا گیا۔کارروائیوں کے دوران 3 فزیکل چھاپے مارے گئے،36 فائر ریڈز کی گئیں،ان حملوں کا مقصد دشمن کے بنیادی ڈھانچے اور جنگی صلاحیت کو کمزور کرنا تھا۔

    خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں خیبر، کرم اور ملحقہ سیکٹرز میں بھی براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔سکیورٹی فورسز نے طورخم کے قریب دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور سرحد کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ژوب سیکٹر میں واقع تقریباً 32 مربع کلومیٹر کے گدوَانہ انکلیو پر پاکستان فورسز کا مضبوط کنٹرول برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق قریبی دشمن چوکیوں کو خالی کر دیا گیا ہے جبکہ پسپا ہونے والے عناصر کی جانب سے سفید جھنڈے بھی لہرائے گئے۔

    آپریشن کے تازہ مرحلے میں افغانستان کے اندر 35 سے زائد دشمن ٹھکانوں کو مربوط زمینی اور فضائی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کے دوران ٹی ٹی اے کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ہے۔تصدیق شدہ نقصانات کے مطابق 502 افغان اہلکار ہلاک،710 سے زائد زخمی ہوئے،234 چیک پوسٹیں تباہ،38 پوسٹیں قبضہ میں لی گئی،206 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ ہوئے،56 مقامات کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا گیا

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلسل شکست کے باوجود ٹی ٹی اے کے پروپیگنڈا چینلز پاکستان کی چوکیوں پر قبضے اور زیادہ جانی نقصان کے جھوٹے دعوے پھیلا رہے ہیں۔ تاہم زمینی صورتحال پاکستان کے حق میں ہے اور دشمن کی صلاحیت کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق آپریشن غضب للحق اس وقت تک جاری رہے گا جب تک سرحد پر موجود دشمن کے عزائم کو مکمل طور پر ختم نہیں کر دیا جاتا۔

  • پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    پاکستان کی بہتری،تعمیروترقی کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہو گا، خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان کی بہتری اور اس کی تعمیر و ترقی کیلئے ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہوگا ،ہم لسانی اختلافات ختم کرکے خود کو پاکستانی سمجھیں، ہماری شناخت صرف پاکستانی ہے، 1947میں پاکستان بنتے ہی مسئلہ کشمیر کھڑاکردیا گیا تاکہ خطے میں امن نہ ہو اور ٹھیک ایک سال بعد صہیونی ریاست اسرائیل قائم کردی گئی ، اس وقت سے آج تک اس خطے میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان کی عبوری حکومت نےدہشتگردوں کا ساتھ دے کر خود تباہی کا راستہ اختیار کیا،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں سینئر صحافیوں کے اعزازمیں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،تقریب سے مرکزی مسلم لیگ کراچی کے صدر احمد ندیم اعوان اور ترجمان پاکستان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم نے بھی خطاب کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ صیہونی ریاست اسرائیل نے خطہ عرب میں جنگ و جدل کا نظام برپا کیا ہوا، دوسری جانب ہمارا خطہ افغانستان، پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش ،یہاں بھی منصوبہ بندی کے تحت امن دور کیا گیا،اگر سب کا جائزہ لیا جائے تو صیہونیت، ہندوتوا کا گٹھ جوڑ نظر آتا ہے، ایک طرف پاکستان دشمنوں کو کھٹکتا ہے کیونکہ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ، دفاعی طور پر بہترین پوزیشن میں ہے،پاکستان کا اپنامیزائل ، دفاعی سسٹم ہے، دوسری طرف اسلامی ممالک بھی یہ امید رکھتے ہیں پاکستان واحد ایسا ملک ہےجودفاعی اعتبار سے ہر چیلنج کا مقابلہ کرے گا،دنیا کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے،اسی لیے پاکستان کو کمزور کرنے کے لئے دشمن کے پاس تقسیم، دہشتگردی کے علاوہ کوئی راستہ نہیں،کبھی فرقہ واریت، کبھی لسانیت، کبھی علاقائیت،اس طرح ملک کو تقسیم کر کے، بدامنی پھیلا کر دہشتگردی کے ذریعے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی،تاہم ہماری ذمہ داری ہے ملک کو مضبوط بنانے کے لئے کام کریں، ایک قوم بن جائیں اور تمام اختلافات بھلا کر اپنے آپ کو پاکستانی سمجھیں،ہماری شناخت صرف اور صرف پاکستان ہے،اس ملک کی ترقی کے لئے بہتری کے لئے ملکر کام کرنا ہو گا، مرکزی مسلم لیگ کا منشور یہی ہے کہ ملک کی خدمت کریں،خدمت کی سیاست ہم کر رہے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا پر معاشرہ یقین کرتا ہے، میڈیا قوم کی آواز بنتا ہے اور میڈیا کی آواز سے بیانیہ بنتا ہے، قوم، معاشرے کی تعمیر نو میں میڈیا کا اہم کردار ہے، دنیا میں امن کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ دوسروں کے حقوق، آزادی کا خیال کریں، اسرائیل،امریکہ کا ایران پر حملہ بین الاقوامی قوانین کی صریحاخلاف ورزی ہے،افغانستان پاکستان کی جنگ بھی سب کے سامنے ہے، پاکستان نے چالیس سال افغانوں کی خدمت کی،مہمان نوازی کی اور اس کا صلہ آج دہشتگردی کی صورت میں مل رہا ہے،امام بارگاہوں، مساجد میں دھماکے، پاکستانی سیکورٹی فورسز کے جوان ، افسر،عام شہری شہید ہو رہے ہیں، ایک سازش کے تحت شناختی کارڈ دیکھ کر گولی مار دی جاتی ہے، پاکستان کی سیکورٹی فورسز نےافغانستان کے حملے کا بھر پور جواب دیا اور بتایا کہ مذاکرات کی بات کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم جب جواب دینے پر آتے ہیں تو بھر پور طریقے سے دیتے ہیں، ہم نے ایک قوم بن کر اپنے دفاع، اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے تا کہ مشکل وقت سے ملک کو نکالا جائے، ملک خوشحال ہو اور ترقی کرے،

  • تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    تباہ میزائل کا ملبہ ابوظہبی مرینا کے پاس گرنے کی اطلاع

    متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں ایک ہوٹل کے نزدیک میزائل کے ملبے کے گرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر صورتحال کی نگرانی شروع کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائل کو تباہ کرنے کے بعد اس کا کچھ ملبہ یاس مرینا کے قریب ایک ہوٹل کے نزدیک زمین پر گرتا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد فوری طور پر سیکیورٹی ٹیمیں اور ہنگامی امدادی ادارے موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو محفوظ بنانے کے اقدامات کیے گئے۔

    ذرائع کے مطابق دبئی میں بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر ایئر ریڈ سائرن بجنے کی آوازیں سنی گئیں،متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع اور مقامی حکام نے عوام کو پرامن رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام مسلسل فعال ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

  • ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    ایرانی میزائل نے آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا،بحرین

    بحرین کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغا گیا ایک میزائل ملک کی ایک اہم آئل ریفائنری سے ٹکرا گیا۔

    حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں ریفائنری کے ایک حصے میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی اور ریفائنری معمول کے مطابق کام جاری رکھے ہوئے ہے۔بحرینی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ میزائل حملے کے بعد BAPCO Energies کی ریفائنری کے ایک یونٹ میں آگ لگ گئی تھی۔ فائر فائٹرز اور ہنگامی امدادی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ پر مکمل قابو پا لیا۔بیان کے مطابق،“آگ کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے، کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی جبکہ ریفائنری کی آپریشنل سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس واقعے سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔”

    ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی جانب سے جغرافیائی محلِ وقوع کی تصدیق کے بعد جاری کی گئی ایک ویڈیو میں مبینہ طور پر میزائل کے ریفائنری کے قریب گرنے کا لمحہ اور اس کے بعد بھڑکنے والی آگ دیکھی جا سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق خلیجی خطے میں تیل کی تنصیبات پر اس نوعیت کے حملے توانائی کی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔ تاہم بحرینی حکام کا کہنا ہے کہ ریفائنری کے بنیادی نظام محفوظ ہیں اور تیل کی پیداوار یا ترسیل متاثر نہیں ہوئی۔

  • خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں “شامل ہونا چاہیے”، جبکہ انہوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ جانشینی کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای کے بیٹے کو ایران کی قیادت کے لیے زیر غور لانا “وقت کا ضیاع” ہے اور وہ اس عہدے کے لیے موزوں نہیں۔ انہوں نے کہا “خامنہ ای کا بیٹا میرے لیے قابل قبول نہیں۔ ہم ایران میں ایسا رہنما چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔”ایران کے نئے سپریم لیڈر کی تقرری میں امریکہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس معاملے کا موازنہ وینزویلا کی سیاست سے کرتے ہوئے کہا کہ جیسے امریکہ نے Delcy Rodríguez کے اقتدار میں آنے کے معاملے میں کردار ادا کیا، ویسا ہی کردار ایران کے معاملے میں بھی ہونا چاہیے۔

    امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران میں ایسا رہنما منتخب کیا گیا جو سابق پالیسیوں کو جاری رکھے تو امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسی صورتحال “پانچ سال کے اندر ایک اور جنگ” کا باعث بن سکتی ہے۔

    یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وائٹ ہاؤس نے ایک روز قبل اشارہ دیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حکومت کی تبدیلی نہیں ہے۔ تاہم ٹرمپ کے تازہ ریمارکس سے خطے میں جاری کشیدگی اور ایران کی آئندہ قیادت کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔دوسری جانب ایران کی قیادت کی جانب سے ابھی تک نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ ایرانی سیاسی و مذہبی حلقوں میں مختلف نام زیر غور بتائے جا رہے ہیں۔

  • ایران میں کرد کون ہیں؟

    ایران میں کرد کون ہیں؟

    مشرقِ وسطیٰ میں کرد عوام ایک ایسی نسلی اقلیت ہیں جن کے پاس آج تک کوئی آزاد اور خودمختار ریاست موجود نہیں۔ دنیا بھر میں کردوں کی مجموعی آبادی کے بارے میں مختلف اندازے سامنے آتے ہیں جو تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ سے 4 کروڑ 50 لاکھ کے درمیان بتائے جاتے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد اس پہاڑی خطے میں آباد ہے جو ایران، عراق، ترکی، شام اور آرمینیا کے مختلف حصوں پر پھیلا ہوا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کردوں کی سب سے بڑی آبادی ترکی میں رہتی ہے، جہاں یہ ملک کی سب سے بڑی نسلی اقلیت سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم درست اعداد و شمار دستیاب نہیں کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی مردم شماری میں نسلی شناخت کو باقاعدہ طور پر درج نہیں کرتے۔پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ ہوا تو اتحادی طاقتوں نے موجودہ مشرقی ترکی کے علاقے میں ایک آزاد کرد ریاست بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔ تاہم نئی ترک حکومت نے اس منصوبے کو سختی سے مسترد کر دیا جس کے بعد یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اس کے بعد سے کرد عوام مختلف ممالک میں تقسیم ہو کر رہنے پر مجبور ہیں۔

    کردوں کی اکثریت سنی مسلمان ہے، تاہم کرد معاشرہ مذہبی اور ثقافتی طور پر انتہائی متنوع ہے۔ ان میں مختلف مذہبی روایات، سماجی ڈھانچے اور سیاسی نظریات پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح کرد زبان بھی کئی مختلف بولیوں پر مشتمل ہے جو مختلف علاقوں میں بولی جاتی ہیں۔برطانوی حکومتی اندازوں کے مطابق ایران میں کرد آبادی مجموعی آبادی کا تقریباً 8 فیصد سے 17 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ ایران کے مغربی علاقوں میں آباد کرد برادری طویل عرصے سے زیادہ خودمختاری، سیاسی حقوق اور ثقافتی آزادیوں کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انسانی حقوق کی تنظیموں، خصوصاًایمنسٹی انٹرنیشنل، نے ایران میں کردوں کے خلاف متعدد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق کرد زبان کی تعلیم پر کئی جگہ پابندیاں عائد ہیں،بعض کرد نام سرکاری طور پر رجسٹر نہیں کیے جا سکتے،کرد کارکنوں کو اکثر من مانی گرفتاریوں اور حراست کا سامنا کرنا پڑتا ہے

    ایران کے کرد علاقوں میں کئی مسلح گروہ دہائیوں سے حکومت کے خلاف سرگرم ہیں۔ یہ گروہ زیادہ تر ایران۔عراق سرحد کے قریب اپنے ٹھکانے رکھتے ہیں جہاں سے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق ان گروہوں کے پاس ہزاروں مسلح افراد موجود ہیں۔حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایران کے کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران کے اندر عوامی بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔اس منصوبے سے واقف متعدد افراد نے بتایا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد کئی ایرانی کرد تنظیموں نے بھی بیانات جاری کیے ہیں جن میں ممکنہ کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے ایرانی فوجی اہلکاروں سے حکومت کے خلاف بغاوت کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ صورتحال مزید آگے بڑھتی ہے تو ایران کے مغربی علاقوں میں ایک نیا محاذ کھلنے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

  • ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    ایران کے حملوں کا خدشہ، متحدہ عرب امارات میں فضائی دفاعی نظام متحرک

    متحدہ عرب امارات میں ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے خطرے کے بعد فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا ہے۔

    اماراتی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔اماراتی وزارتِ دفاع کے مطابق “فضاؤں میں سنائی دینے والی دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کی کارروائی کا نتیجہ ہیں۔” وزارت نے یہ بیان سوشل میڈیا پر جاری کرتے ہوئے عوام کو صورتِ حال سے آگاہ کیا۔

    دارالحکومت ابوظہبی میں موجود غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں نے بھی متعدد زور دار دھماکوں کی آوازیں سننے کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد شہر میں سیکیورٹی الرٹ مزید بڑھا دیا گیا۔اطلاعات کے مطابق یہ خطرہ ایران کی جانب سے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث پیدا ہوا ہے۔ اگرچہ حکام نے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی، تاہم فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔

  • ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    ایران کا توانائی تنصیبات پر حملوں کا دائرہ وسیع ،اہم تیل پائپ لائن نشانہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی تیز کر دی ہے، جس کے تحت قفقاز کے علاقے میں واقع اہم تیل پائپ لائن Baku‑Tbilisi‑Ceyhan pipeline کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    یہ پائپ لائن آذربائیجان کے خام تیل کو Georgia کے راستے ترکی کی بحیرۂ روم کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے جانے والا تیل اسرائیل کی تیل کی ضروریات کا تقریباً 30 فیصد پورا کرتا ہے، جس کے باعث اس حملے کو خطے میں جاری جنگی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم اسٹریٹجک اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے صرف آبنائے ہرمز تک محدود رہنے کے بجائے توانائی کی سپلائی لائنز کو مرحلہ وار نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت خلیج فارس سے لے کر قفقاز اور پھر بحیرۂ روم تک ان راستوں کو متاثر کیا جا رہا ہے جن کے ذریعے ایران کے مخالف اتحاد کو توانائی فراہم ہوتی ہے۔ماہرین کے مطابق یہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم معاشی دباؤ کی حکمت عملی ہے، جس کا مقصد ان ممالک کے لیے جنگ جاری رکھنے کی قیمت بڑھانا ہے جو ایران پر حملوں میں شامل رہے ہیں۔

    توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کار اور کمپنی FGE کے مشرقِ وسطیٰ کے منیجنگ ڈائریکٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کے پیداواری میدانوں اور پائپ لائنوں پر حملے جاری رہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ان کے مطابق ابھی تک صورتحال اپنی انتہا تک نہیں پہنچی اور آئندہ دنوں میں مزید سنگین پیش رفت کا امکان موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق ایران مستقبل میں خطے کی دیگر اہم توانائی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے،

  • کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    کمشنر لاہور ڈویژن کی پرائس کنٹرول کی فیلڈ کارکردگی،قیصر شریف نے بھانڈا پھوڑ دیا

    صدر پبلک ایڈ کمیٹی جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف نے لاہور ڈویژن کی انتظامی کارکردگی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ تقریباً 3 کروڑ آبادی پر مشتمل 4 اضلاع میں پرائس کنٹرول کی صورتحال تشویشناک حد تک غیر تسلی بخش ہے۔

    قصیر شریف کا کہنا تھا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران کمشنر لاہور ڈویژن کی جانب سے صرف 3 فیلڈ وزٹس کیے گئے، جو کہ مہنگائی کے موجودہ طوفان کے مقابلے میں نہایت ناکافی ہیں۔سوشل میڈیا پر وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے قیصر شریف نے اعداد و شمار جاری کیے، جن کے مطابق تقریباً 3 کروڑ کی آبادی اور 4 اضلاع پر مشتمل لاہور ڈویژن میں گزشتہ 15 دنوں کے دوران پرائس کنٹرول کے حوالے سے کمشنر کی جانب سے صرف 3 دورے کیے گئے ہیں۔ ضلع لاہور میں صرف دو اور ننکانہ میں ایک دورہ کیا جبکہ قصور اور شیخوپورہ کے اضلاع میں کوئی دورہ نہیں کیا گیا۔

    https://x.com/Qaisarsharif555/status/2029277798829842731

    قیصر شریف نے کہا کہ رمضان المبارک میں بھی آٹا، چینی، سبزیاں، پھل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث عوام شدید ذہنی دباؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، مگر انتظامیہ کی فیلڈ میں موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے اجلاس اور بیانات اپنی جگہ، مگر عملی اقدامات اور اچانک چھاپوں کی کمی نے ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر لاہور ڈویژن سمیت پورے صوبے میں پرائس کنٹرول نظام کی ازسرنو نگرانی کریں اور فیلڈ افسران کی کارکردگی کا سختی سے جائزہ لیں۔قیصر شریف نے مزید کہا کہ اگر حکومتی مشینری عوام کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے تو محض کاغذی کارروائی کے بجائے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

  • ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، اگر ہم ایران پرحملہ نہ کرتے تو ایران ہم پرحملہ کردیتا۔

    صدر ٹرمپ نے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ایرانی کے حملے سے پہلے ہم نے ایران پر حملہ کردیا، ایران پر حملہ نہ کرتے تو جلد ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا،ایران کے میزائلوں اور لانچروں کا صفایا کیا جا رہا ہے، ہم نے 47 سال سے جاری قتل عام کو روکا ہے، ایران اپنے پڑوسیوں اور اتحادیوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے، ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جارہا ہے، ایران میں جو لیڈر بننا چاہتا ہے مارا جاتا ہے، سابق امریکی صدر اوباما کی ایران سے جوہری ڈیل بہت بری تھی، وینزویلا سے تیل کی آمد شروع ہو گئی ہے، جب پاگل لوگوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوتے ہیں تو بری چیز ہوتی ہے، ہم ایران کے معاملے میں بہت مضبوط پوزیشن میں ہیں، کسی نے مجھ سے پوچھا کہ 10 میں سے کتنے نمبر دیں گے؟تو میں نے کہا 15 نمبر دوں گا، ہم جنگی محاذ پر بہت اچھا کر رہے ہیں صورتحال دھوکہ سے بھی بہتر ہے