Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    شاہینوں کا افغانستان کی فضاؤں پر راج،قندھار میں 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر تباہ

    "آپریشن غضب للحق” کے تحت پاک فضائیہ کے شاہینوں نے افغانستان کی فضاؤں میں کارروائیاں کرتے ہوئے قندھار میں اہم عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران افغانستان کے 205 البدر اسپیشل فورسز ہیڈکوارٹر اور پولیس ہیڈکوارٹر تباہ کیے گئے، جبکہ متعدد کالعدم تنظیموں کے شدت پسند ہلاک ہوئے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شاہینوں نے قندھار میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی سے منسلک عناصر کو نشانہ بنایا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ طالبان نے اپنی بعض تنصیبات میں شدت پسندوں کو پناہ دے رکھی تھی تاکہ انہیں فضائی حملوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    دوسری جانب پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طورخم بارڈر کے مقام پر پاک فوج کے ٹینکوں کی نقل و حرکت دیکھی گئی، جبکہ سیکیورٹی فورسز اور افغان طالبان کے درمیان وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مقامی ذرائع کے مطابق لنڈی کوتل کے آبادی والے علاقوں کی سمت مارٹر گولے بھی داغے گئے، قلعہ سیف اللہ سیکٹر میں پاک سیکیورٹی فورسز نے ہیوی گنز کے ذریعے کسٹمز ہاؤس اور مبینہ طور پر افغان طالبان کی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق شدید گولہ باری کے بعد مخالف فورسز نے پوزیشنیں خالی کر دیں۔ تھانہ آدم خان اور ایک نیا قائم کیا گیا تھانہ بھی تباہ کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف "فیصلہ کن کارروائی” جاری رہے گی اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

  • پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ پاکستان پر اسرائیل کی ممکنہ جارحیت ایک خواب ثابت ہوگی اور پاکستانی قوم و افواج دشمن کے قدم ڈگمگا دیں گی،موجودہ حالات میں امت کے اتحاد کی اشد ضرورت ہے، صیہونی قوتوں کا مقابلہ باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے،

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کی جانب سے صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا،اس موقع پرترجمان مرکزی مسلم لیگ تابش قیوم ،مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری ،عبد الواحدسمیت دیگر قیادت نے شرکت کی ،خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے،ایٹمی پاکستان کی جانب کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا،9 مئی کو پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کو وہ سبق سکھایا جس کی گونج آج بھی عالمی دنیا میں موجود ہے ،امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے قابل مذمت ہیں،ایران کو جوابی کاروائی میں اپنے دشمن پرفوکس کرنا چاہیے، ہر وہ ریاست جہاں ظلم، جبر یا قبضہ ہو، وہ اس کی مذمت کرتے رہیں گے،ہم ہر ظالم کے خلاف اور ہر مظلوم کے ساتھ ہیں گے۔مرکزی ترجمان تابش قیوم کاکہنا تھا کہ ملک کی سیاسی جماعتیں اپنے منشور پر قائم نہیں رہتیں، جس کی وجہ سے وہ ڈیلیور نہیں کر پائیں۔ ، دشمن جانتا ہے کہ اگر پاکستان پرامن اور مستحکم ہو تو وہ مسلم ممالک کی مدد کر سکتا ہے، اسی لیے پاکستان پر نظریں رکھی جا رہی ہیں، پاکستان میں امن، ترقی اور خوشحالی مرکزی مسلم لیگ کا مشن ہے اور اسی مقصد کے لیے میدانِ سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد کے صدر عقیل لغاری،ترجمان مرکزی مسلم لیگ حیدرآباد عبدالواحد کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کا منشور معاشرے کی تشکیل اور تربیت ہے تاکہ شہری ایک قوم بن سکیں، مرکزی مسلم لیگ واحد سیاسی جماعت ہے جس نے یونین کونسل سطح پر انٹرا پارٹی الیکشن کروائے ہیں، اور جب اقتدار گراس روٹ لیول سے آئے گا تو سیاسی حالات بہتر ہوں گے.

  • سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    سحرکامران ،پلوشہ خان ودیگر پیپلز پارٹی رہنماؤں کا ایرانی سفارتخانے کا دورہ

    پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماؤں نے اسلام آباد میں ایرانی سفارتخانے کا دورہ کیا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا۔

    وفد میں پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما سحر کامران کے ساتھ سینیٹر پلوشہ خان بھی شریک تھیں۔ رہنماؤں نے سفارتخانے میں تعزیتی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے اور ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔اپنے پیغام میں انہوں نے آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی مثالی جرات، بصیرت، اسلامی اصولوں سے غیر متزلزل وابستگی اور قیامِ امن کے لیے ان کی زندگی بھر کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی بابرکت زندگی امتِ مسلمہ کے لیے رہتی دنیا تک روشنی، حوصلے اور رہنمائی کا سرچشمہ بنی رہے گی۔

    رہنماؤں نے اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی گئی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے سفارتی عمل کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جوہری معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا تھا، جس کے نتیجے میں سپریم لیڈر، ان کے اہلِ خانہ اور متعدد بے گناہ شہری شہید ہوئے۔ مزید برآں، مناب میں ایک گرلز اسکول کو نشانہ بنانے کے واقعے کی بھی سخت مذمت کی گئی جس میں معصوم بچیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔

    بیان میں اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم دنیا کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی شہداء کے اہلِ خانہ، ایرانی عوام اور دنیا بھر میں سپریم لیڈر کے چاہنے والوں کے ساتھ کھڑی ہے۔وفد نے مسلم امہ کے اتحاد، امن کے قیام اور انصاف و خودمختاری کے دفاع کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ خطے میں امن و استحکام قائم فرمائے۔

  • اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    اسپین نے امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی،وائیٹ ہاؤس،اسپین کی تردید

    وائیٹ ہاؤس نے بدھ کے روز دعویٰ کیا ہے کہ اسپین نے ایران کے خلاف امریکی فوجی مشن میں تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، تاہم اسپین کی حکومت نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت پیغام کے بعد اسپین نے “امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔” ان سے سوال کیا گیا تھا کہ اگر امریکا اسپین پر تجارتی پابندی عائد کرتا ہے تو یہ یورپی یونین کی رکنیت کے تناظر میں کیسے ممکن ہوگا۔لیوٹ کا کہنا تھا کہ امریکی فوج اس وقت اسپین میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطے میں ہے اور صدر ٹرمپ توقع رکھتے ہیں کہ “تمام یورپ اور ہمارے یورپی اتحادی اس مشن میں تعاون کریں گے۔” انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایرانی حکومت یورپی ممالک کے لیے بھی خطرہ ہے۔

    تاہم اسپین کے وزیر خارجہ نے ایک مقامی ریڈیو انٹرویو میں وائٹ ہاؤس کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ “ہماری پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔”اسی طرح اسپین کے وزیر اعظم ، جو یورپ میں ٹرمپ پالیسیوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں، نے ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ اسپین کسی ایسی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا جو “دنیا کے لیے نقصان دہ ہو یا ہمارے اقدار اور مفادات کے خلاف ہو، صرف اس لیے کہ کسی کے انتقامی اقدامات سے بچا جا سکے۔”

    ادھر امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ نے جنوبی ایران کے شہر مناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر مبینہ حملے کی تحقیقات کی تصدیق کی۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، تاہم وائٹ ہاؤس نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔کارولین لیوٹ نے اس حوالے سے کہا، “جہاں تک ہمیں علم ہے، امریکا شہریوں کو نشانہ نہیں بناتا۔” ان کا کہنا تھا کہ امریکا صرف “باغی ایرانی حکومت” کو نشانہ بنا رہا ہے اور ایران پروپیگنڈا مہم کے ذریعے حقائق کو مسخ کر رہا ہے۔

    پریس بریفنگ کے دوران لیوٹ نے یہ بھی کہا کہ امریکا کے پاس ایران کے خلاف طویل جنگ جاری رکھنے کے لیے “ضرورت سے زیادہ صلاحیت اور اسلحہ موجود ہے۔” ان کے مطابق امریکا نہ صرف موجودہ فوجی آپریشن کو کامیابی سے جاری رکھ سکتا ہے بلکہ “اس سے کہیں آگے جانے کی بھی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔”یہ بیان صدر ٹرمپ کے اُس سوشل میڈیا پیغام کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ امریکا کے پاس اسلحہ کا اچھا ذخیرہ موجود ہے لیکن “ہم وہاں نہیں ہیں جہاں ہم ہونا چاہتے ہیں۔”لیوٹ نے وضاحت کی کہ صدر کا اشارہ سابق انتظامیہ کی جانب سے یوکرین کو فراہم کیے گئے اسلحہ کی طرف تھا، نہ کہ موجودہ فوجی تیاریوں میں کسی کمی کی طرف۔

  • قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    قبرص میں برطانوی اڈے پر حملہ کرنے والا ڈرون ایران سے نہیں لانچ کیا گیا،برطانیہ

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران بحیرۂ روم کے جزیرے سائپرس میں واقع برطانوی فوجی اڈے پر ہونے والے حالیہ ڈرون حملے کے بعد نئی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    برطانیہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اڈے کو نشانہ بنانے والا یک طرفہ (ون وے) حملہ آور ڈرون ایران سے لانچ نہیں کیا گیا تھا۔برطانوی وزارتِ دفاع نے بدھ کے روز جاری بیان میں ڈرون کی اصل جائے پرواز کی وضاحت نہیں کی، تاہم اسے "شاہد طرز” (Shahed-like) قرار دیا۔ واضح رہے کہ "شاہد” سیریز کے ڈرون ایران میں ڈیزائن اور تیار کیے جاتے ہیں اور حالیہ برسوں میں مختلف علاقائی تنازعات میں ان کا استعمال رپورٹ ہو چکا ہے۔

    قبرصی حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا ہے کہ ڈرون کا رخ لبنان کی جانب سے تھا۔ قبرص کے نائب حکومتی ترجمان نے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا کہ قومی گارڈ اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ ڈرون لبنان سے داغا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا ڈرون "ون وے اٹیک ڈرون” تھا، یعنی اسے ہدف سے ٹکرانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا اور واپسی کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا۔ اس قسم کے ڈرون عموماً بارودی مواد سے لیس ہوتے ہیں اور کم لاگت کے باوجود مؤثر ہتھیار سمجھے جاتے ہیں۔

    برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ خطے میں پہلے ہی ایران، اسرائیل اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اگر ڈرون حملے کا براہِ راست تعلق ایران سے جوڑا جاتا تو اس کے سفارتی اور عسکری اثرات مزید سنگین ہو سکتے تھے۔دفاعی ماہرین کے مطابق "شاہد طرز” کی اصطلاح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یا تو ڈرون ایرانی ڈیزائن سے متاثر تھا یا اسی طرز کی ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، تاہم اس کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اسے ایران ہی سے لانچ کیا گیا ہو۔ علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران سے براہِ راست تعلق کی تردید کر دی گئی ہے، لیکن لبنان سے مبینہ لانچنگ بھی خطے میں جاری پراکسی کشمکش کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔

  • امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    امریکہ و اسرائیل کا ایران پر حملہ،ایران کے جوابی حملے،مختلف ممالک میں ہلاکتوں کے اعدادوشمار

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شدید کشیدگی نے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مختلف ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،

    امریکہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی کے مطابق ہفتے کے روز سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی جوابی کارروائیوں میں بھی متعدد ممالک متاثر ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران میں کم از کم 1,097 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں 168 بچے اور 14 اساتذہ بھی شامل ہیں، جو ہفتے کے روز ایک امریکی،اسرائیلی حملے میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر بمباری کے دوران جان سے گئے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں کو نشانہ بنانے سے ہلاکتوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں بتائی جا رہی ہے۔

    لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 74 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ تک یہ تعداد سامنے آئی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے مقامی نمائندے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں تین پیرا میڈکس بھی شامل ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    کویت میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ان میں چھ امریکی فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ کویتی فوج نے دو مقامی سروس ممبران کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

    اسرائیل میں ہفتے سے جاری حملوں کے دوران کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی ہنگامی سروس ے مطابق مختلف شہروں میں میزائل حملوں کے نتیجے میں شہری املاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

    عراق کے صوبہ دیالی میں امریکی اسرائیلی فضائی حملے میں کم از کم چار پاپولر موبلائزیشن فورس کے اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ ملیشیا کے میڈیا ڈائریکٹوریٹ کے مطابق یہ حملہ اتوار کو کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات میں ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش سے تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کو روکنے کی کوشش کی گئی تاہم کچھ ڈرون اپنے ہدف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔

    بحرین کے سلمان انڈسٹریل سٹی میں ایک میزائل کو فضا میں تباہ کرنے کے بعد اس کا ملبہ ایک غیر ملکی بحری جہاز پر گرا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی اور ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ بحرینی سرکاری میڈیا کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    ماہرین کے مطابق حالیہ تنازع مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن اب تک کسی فوری جنگ بندی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں شہری آبادی کو نشانہ بنانے پر شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاک افغان سرحد ،پاکستان کی بڑی کارروائی، 55 سے زائد ٹھکانے نشانہ

    پاکستانی مسلح افواج نے 4 اور 5 مارچ 2026 کی درمیانی شب پاک افغان سرحد کے ساتھ صوبہ بلوچستان میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اسے “ڈیبیلی ٹیٹنگ پنشمنٹ” کا نام دیا ہے۔

    اس کارروائی کا مقصد کالعدم تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں اور سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سہولت کاری کو نشانہ بنانا ہے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے تحت 55 سے زائد ایسے مقامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو مبینہ طور پر ٹی ٹی اے کی پوسٹوں اور بلوچ لبریشن آرمی ے لیے پناہ گاہوں یا لانچنگ پیڈز کے طور پر استعمال ہو رہے تھے۔ “فتنہ الہندوستان” کےعناصر سرحدی علاقوں میں عدم استحکام پیدا کرنے میں ملوث ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں مختلف نوعیت کے ہتھیار استعمال کیے جا رہے ہیں، جن میں براہ راست اور بالواسطہ فائرنگ کے ہتھیار،اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل ،راکٹ لانچرز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے مارٹر،ہلکی اور بھاری توپ خانے کی گولہ باری،مین بیٹل ٹینکس ،مربوط حملوں کے لیے سوارم ڈرونزشامل ہیں،مزید بتایا گیا ہے کہ بعض منتخب مقامات پر زمینی دستے بھی پیش قدمی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ ٹھکانوں کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق مختلف سرحدی سیکٹرز میں مرحلہ وار کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں وارسالہ سب سیکٹر،ٹی ٹی اے کی پوسٹس 5 تا 9 کو نشانہ بناہا گیا،ژوب، سمبازہ اور گھدوانہ سیکٹرز بشمول بلال پوسٹ نشانہ بنایا گیا،قلعہ سیف اللہ اور پشین سیکٹر (کلیگئی، بیانزئی اور رحیم تھانے)،لوئے بند سیکٹر (کوچی، رحیم، علا جرگہ، تور کچھ اور تروکئی تھانے)،بادینی سیکٹر (تھند، جمعہ خان اور زنجیر تھانے)،او جی جی سیکٹر (خار، سپنگئی، سرزنگل اور یونس تھانے)،چلتن رینجز، ششکہ اور خارا سیکٹر (تھانہ 1، 2 اور 3)،ریاض سیکٹر (پاستا اور سرتاشان تھانہ)،نوشکی اور گردونواح میں حمید قلعہ، ثناء اللہ آغا، شینہ خیل، انی، جانی، ترکاشی، ظلمی، سوالی، غزالی قلعہ اور اوطاق سیکٹرزکو نشانہ بنایا گیا،

    حکام کے مطابق کارروائی کا دائرہ کار وسیع ہے اور مختلف مقامات پر بیک وقت حملے کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ نیٹ ورک کو منتشر کیا جا سکے۔ اس آپریشن کا مقصد دہشت گردی کے مبینہ منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور معاونین کو فیصلہ کن نقصان پہنچانا ہے۔ حکام کے مطابق آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرات کو غیر مؤثر بنا کر سرحدی علاقوں میں ڈیٹرنس (بازدار قوت) بحال نہیں کر دی جاتی۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام جاری رکھے گا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں سرحدی علاقوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافے کے بعد یہ کارروائی ناگزیر ہو گئی تھی۔

  • ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ،  اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایرانی سائبر حملوں کا خطرہ، اسرائیلی وزراء کو موبائل لوکیشن سروسز بند کرنے کی ہدایت

    ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسرائیلی حکام نے وزراء اور ان کے قریبی ساتھیوں کو موبائل فون کی لوکیشن سروسز فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

    ایک اسرائیلی عہدیدار اور معاملے سے واقف ذرائع کے مطابق ایرانی سائبر خطرات میں نمایاں اضافے کے بعد یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔بدھ کے روز بھیجے گئے خصوصی پیغام میں وزراء کو ہدایت دی گئی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی ایپلی کیشن یا سروس جی پی ایس کے ذریعے ان کی موجودہ لوکیشن تک رسائی حاصل نہ کر سکے۔ ہدایت نامے میں خاص طور پر تصاویر، Facebook اور Google Maps سمیت دیگر ایپس کا ذکر کیا گیا۔ پیغام میں خبردار کیا گیا کہ ایرانی انٹیلی جنس ادارے سینئر اسرائیلی قیادت کا سراغ لگانے کے لیے باہمی تعاون کر رہے ہیں۔

    گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل نے کئی شہریوں کو ایران کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کر کے فردِ جرم عائد کی ہے۔ گزشتہ ماہ ایک اسرائیلی شہری کو سابق وزیرِ دفاع Yoav Gallant کے بارے میں حساس معلومات جمع کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ کارروائی اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی Shin Bet نے کی تھی۔فروری میں Shin Bet اور قومی سائبر ڈائریکٹوریٹ نے مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے اسرائیلی حکام کے موبائل فون ہیک کرنے کی "سینکڑوں” کوششوں کو ناکام بنایا۔ بیان کے مطابق خاص طور پر جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد ایرانی سائبر سرگرمیوں میں "نمایاں اضافہ” دیکھا گیا، جس میں نجی گوگل اکاؤنٹس، کمیونیکیشن ایپلی کیشنز اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نشانہ بنایا گیا۔

    دوسری جانب اسرائیلی وزارتِ صحت نے بھی ایک بیان میں تمام طبی اداروں کو سائبر حملوں کے خطرے کے پیش نظر اپنی تیاریوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ صحت کے ادارے سائبر سیکیورٹی کے دوسرے بلند ترین درجے پر منتقل ہو جائیں تاکہ ممکنہ حملوں کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔

  • امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجودتہران میں غم کا ماحول ٹوٹ چکا ،سی این این

    ایران کے دارالحکومت تہران میں امریکی و اسرائیلی حملوں کے باوجود شہری پرسکون، پرامید ہیں،بیشتر کاروباری مراکز بند تا ہم دکانیں کھلی ہیں، عوام میں کوئی خوف نہیں،سی این این نے ایرانی شہریوں سے بات کی ہے

    امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔

    تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”

  • ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    ایران پر حملوں کے چار مقاصد ہیں،زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں،وائیٹ ہاؤس

    وائیٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری نے ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے چار بنیادی مقاصد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپریشن کا دائرہ کار واضح ہے اور انتظامیہ اپنے مؤقف پر قائم ہے، چاہے اتحادی ممالک کی جانب سے حالیہ حملوں کے حوالے سے ابہام کیوں نہ پایا جاتا ہو۔

    بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران لیویٹ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کے اہداف ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنا،خطے میں ایران کی بحری موجودگی کو “نیست و نابود” کرنا،ایران سے منسلک مسلح گروہوں اور مبینہ پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کرنا، جنہیں واشنگٹن کے مطابق امریکی اتحادی افواج پر حملوں اور خطے میں عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے،ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول کی مزید کوششوں سے روکنا ہے،
    پریس سیکرٹری نے دعویٰ کیا کہ ہفتے کی علی الصبح شروع ہونے والا آپریشن، جسے “Operation Epic Fury” کا نام دیا گیا ہے، اب تک “غیر معمولی حد تک کامیاب” رہا ہے۔لیویٹ نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر ایران میں امریکی زمینی افواج بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر امریکا بطور کمانڈر اِن چیف مستقبل کے ممکنہ فوجی آپشنز کو مکمل طور پر رد نہیں کرتے۔

    ان کے بیان سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل Dan Caine نے کہا تھا کہ امریکی افواج ایرانی سرزمین کے اندر “بتدریج مزید گہرائی تک” حملے شروع کریں گی۔ دوسری جانب امریکی وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور حالات تیزی سے بدل سکتے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران سے موصول اطلاعات کے مطابق شہر میں بظاہر سکون ہے، اگرچہ مشرق وسطیٰ بھر میں حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔80 لاکھ سے زائد آبادی والے تہران میں بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق صرف کریانہ اور خوراک کی دکانیں کھلی ہیں جبکہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے بیکریاں معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ایک مقامی رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود عوام میں مایوسی یا خوف کا نمایاں تاثر دکھائی نہیں دے رہا۔“لوگوں کے چہروں پر اداسی یا گھبراہٹ نہیں ہے۔ غم کا ماحول ٹوٹ چکا ہے اور لوگ پُرامید نظر آتے ہیں،” شہری نے کہا۔تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو عوامی ردعمل تبدیل ہو سکتا ہے۔ “اگر یہ صورتحال لمبی چلی تو لوگوں میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے، مگر فی الحال ایسی کوئی کیفیت نظر نہیں آ رہی۔”