Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈیمین مارٹن کی حالت تشویشناک، کوما میں زیر علاج

    سابق آسٹریلوی کرکٹر ڈیمین مارٹن کی حالت تشویشناک، کوما میں زیر علاج

    سابق آسٹریلوی کرکٹر اور 2003 کے ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کے رکن ڈیمین مارٹن کو تشویشناک حالت کے باعث برسبین کے ایک اسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے، جہاں وہ اس وقت کوما کی حالت میں زیر علاج ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 54 سالہ ڈیمین مارٹن گردن توڑ بخار میں مبتلا ہیں، جس کے باعث ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ڈیمین مارٹن کرسمس ڈے کے موقع پر شدید بیمار ہونے کے بعد گر پڑے تھے، جس کے فوراً بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی ٹیم ان کی حالت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

    ڈیمین مارٹن کی اچانک اور سنگین بیماری کی خبر سامنے آنے کے بعد کرکٹ آسٹریلیا سمیت کرکٹ حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کرکٹ آسٹریلیا کے چیف ایگزیکٹو ٹوڈ گرین برگ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈیمین مارٹن کی بیماری کا سن کر بے حد افسوس ہوا ہے اور پوری کرکٹ کمیونٹی ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعاگو ہے۔

    سابق آسٹریلوی وکٹ کیپر بیٹر ایڈم گلکرسٹ نے بھی ڈیمین مارٹن کی صحت سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ برسبین کے اسپتال میں انہیں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ڈاکٹرز ان کے علاج کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ ڈیمین مارٹن آسٹریلیا کے کامیاب کرکٹرز میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں 67 ٹیسٹ، 208 ون ڈے انٹرنیشنل اور 4 ٹی ٹوئنٹی میچز میں آسٹریلیا کی نمائندگی کی۔ وہ اپنی شاندار بیٹنگ اور میدان میں ذمہ دارانہ کھیل کے باعث مداحوں میں خاص مقام رکھتے ہیں۔کرکٹ شائقین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر بھی ڈیمین مارٹن کے لیے نیک تمناؤں اور دعاؤں کا سلسلہ جاری ہے

  • بھارت  امریکا  تعلقات میں سرد مہری، بھارتی ارب پتیوں کے مفادات کو شدید دھچکا

    بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، بھارتی ارب پتیوں کے مفادات کو شدید دھچکا

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک تفصیلی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت اور امریکا کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی سرد مہری کا براہِ راست اور سب سے گہرا اثر بھارت کی ارب پتی کاروباری شخصیات پر پڑا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ہندوتوا پر مبنی داخلی پالیسیوں اور دوغلی خارجہ حکمتِ عملی کے باعث نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں بھارتی سرمایہ دار طبقہ امریکا میں اپنے مفادات کے تحفظ میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی ارب پتیوں نے امریکی پالیسی سازوں اور اداروں پر اثرانداز ہونے کے لیے لابنگ فرمز پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے، تاہم اس بھاری سرمایہ کاری کے باوجود وہ امریکا کے ساتھ مضبوط تجارتی اور اسٹریٹجک تعلقات قائم نہ کر سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال اس امر کی واضح مثال ہے کہ امریکا میں ذاتی روابط، سیاسی قربت یا مہنگی لابنگ بھی قانونی اور ادارہ جاتی ترجیحات پر اثرانداز نہیں ہو سکتیں۔

    اخبار نے خاص طور پر معروف بھارتی صنعتکار گوتم اڈانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف دائر مقدمات اس حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں کہ امریکی نظام میں قانون کی بالادستی کو ذاتی اثرورسوخ یا معاشی طاقت سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ رپورٹ کے مطابق اڈانی گروپ سے متعلق قانونی کارروائیاں بھارتی کارپوریٹ لابی کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ امریکا میں احتسابی عمل آزاد اور غیر جانبدار رہتا ہے۔

    فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت، بالخصوص “معرکۂ حق” میں شکست کے بعد، بھارت امریکا کا وہ قابلِ اعتماد اتحادی نہیں رہا جس پر حساس معاملات میں انحصار کیا جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کا اثر امریکا اور بھارت کے درمیان جاری ٹیرف تنازع پر بھی پڑا، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر رہا، جو دونوں ممالک کے تعلقات میں جمود کی واضح علامت ہے۔

    برطانوی اخبار کے مطابق صورتحال اس وقت بھارت کے لیے مزید تلخ ہوگئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں اپنی حکمتِ عملی کو تبدیل کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ قربت بڑھانے کے اشارے دیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط نے بھارت کے اس تاثر کو شدید نقصان پہنچایا ہے کہ وہ واشنگٹن کا قدرتی اور ناگزیر اتحادی ہے۔

    فنانشل ٹائمز کا کہنا ہے کہ ان تمام عوامل نے مل کر نہ صرف بھارت کی خارجہ پالیسی کو سوالیہ نشان بنا دیا ہے بلکہ بھارتی ارب پتی طبقے کی عالمی سطح پر اثراندازی کی صلاحیت کو بھی کمزور کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر بھارت اپنی داخلی پالیسیوں اور خارجہ حکمتِ عملی میں توازن پیدا نہ کر سکا تو مستقبل میں اسے امریکا سمیت مغربی دنیا میں مزید سفارتی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار

    پاکستان مخالف بیان دینے والا افغان شہری گرفتار

    پاکستان کے خلاف نفرت انگیز بیان دینے والے ایک افغان شہری کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق افغان شہری شاہ نواز کی پاکستان مخالف بیان پر مبنی ویڈیو گزشتہ روز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے حراست میں لے لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو داؤدزئی کے علاقے میں واقع مہاجر کیمپ خزانہ سے گرفتار کیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے دوران افغان شہری شاہ نواز نے پاکستان مخالف بیان دینے کا اعتراف کیا اور اپنے اقدام پر معافی بھی مانگی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کے بیان اور ویڈیو شواہد کی بنیاد پر اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد افغان شہری کو افغانستان ڈی پورٹ کر دیا جائے گا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران کسی بھی قسم کی نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا ریاست مخالف سرگرمیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

    واضح رہے کہ پاکستان نے یکم اپریل 2025 سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کے خلاف ملک گیر آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اب تک لاکھوں افغان باشندوں کو ان کے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملکی سلامتی، قانون کی عمل داری اور معاشرتی نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہے۔سیکیورٹی حکام کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مواد پھیلانے والوں کے خلاف کڑی نگرانی جاری ہے، اور مستقبل میں بھی ایسے واقعات پر فوری اور مؤثر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں‌جاری،افغان سرحد سے دراندازی ناکام،25 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں‌جاری،افغان سرحد سے دراندازی ناکام،25 ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    نصیرآباد کے علاقے میں باباکوٹ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع گوٹھ جویہ میں نامعلوم مسلح افراد نے چھاپہ مارا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مسلح حملہ آوروں نے اسلحے کے زور پر چھ افراد کو اغوا کر لیا، جن میں دو خواتین، دو بچے اور دو مرد شامل ہیں، اور انہیں نامعلوم مقام پر لے گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی اور مقامی آبادی میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی نصیرآباد نے متعلقہ پولیس ٹیموں کو اغوا شدگان کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے کوششیں تیز کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس ذرائع کے مطابق مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں اور اغوا کاروں کا سراغ لگانے اور مغویوں کی رہائی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔ خواتین اور بچوں کو اسلحے کے زور پر اغوا کرنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں، جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آواران کے علاقے مونچی میں آپریشن کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے قابلِ عمل انٹیلی جنس موصول ہونے پر کارروائی کی اور دہشت گردوں سے مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں تین مشتبہ افراد مارے گئے۔ تاحال سیکیورٹی اہلکاروں کے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ آپریشن کے بعد فورسز نے ملحقہ علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس سرگرمیاں تیز کر دیں تاکہ کسی بھی باقی ماندہ دہشت گرد کو ختم کیا جا سکے اور فرار کے ممکنہ راستے بند کیے جا سکیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ مزید تفصیلات آپریشن مکمل ہونے پر سامنے آئیں گی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں کی تحصیل ڈومیل کے علاقے پائندہ خیل میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شدت پسند کارروائی سے بچنے کے لیے مقامی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔ شہریوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی فورسز انتہائی احتیاط کے ساتھ پیش قدمی کر رہی ہیں تاکہ بے گناہ افراد کو نقصان نہ پہنچے۔ پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے جس سے شدت پسندوں کی نقل و حرکت محدود ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آپریشن مرحلہ وار انداز میں کیا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور شدت پسند خطرے کو مؤثر طور پر ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز بدستور علاقے میں مصروفِ عمل ہیں اور مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

    ہنگو میں امن و امان پر غور کے لیے ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں سیکیورٹی فورسز اور ممتاز قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ جرگے کے دوران مقررین نے علاقے میں پائیدار امن کی بحالی اور قیام کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ شرکاء نے علاقائی امن کمیٹیاں قائم کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹا جا سکے، مقامی تنازعات حل ہوں اور کمیونٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ مضبوط ہو۔ سیکیورٹی حکام نے شدت پسندی کے خاتمے اور امن و امان برقرار رکھنے میں عوامی تعاون کے کردار کو اجاگر کیا، جبکہ قبائلی عمائدین نے امن اقدامات کی حمایت اور تشدد میں ملوث عناصر کی حوصلہ شکنی کے عزم کا اظہار کیا۔ جرگے کا اختتام سیکیورٹی فورسز اور مقامی آبادی کے درمیان تعاون بڑھانے کے اتفاقِ رائے پر ہوا۔

    منگل کے روز ٹانک ضلع کے گاؤں نصران میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے ایک کمانڈر سمیت دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا جبکہ دو دیگر کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق یہ جھڑپ مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف مشترکہ آپریشن کے دوران پیش آئی۔ مقابلے میں کاشف نامی کمانڈر اور ایک اور شدت پسند سہیل مارے گئے، جبکہ دو مشتبہ افراد زخمی ہو کر گرفتار ہوئے۔ ذرائع کے مطابق یہی گروہ ایک روز قبل پولیس کانسٹیبل سجاد کے قتل میں ملوث تھا۔ مقابلے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا تاکہ کسی باقی ماندہ شدت پسند کی موجودگی یقینی طور پر ختم کی جا سکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔

    سیکیورٹی فورسز نے کرم ضلع میں پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی اور بروقت اور مستعد کارروائی کے نتیجے میں 25 سے زائد شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق 40 سے 45 شدت پسندوں نے طورغر پوسٹ کے قریب افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ علاقے میں تعینات دستوں نے مشتبہ نقل و حرکت بروقت دیکھ لی اور فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں 25 سے زائد شدت پسند مارے گئے جبکہ 20 سے 25 دیگر زخمی ہوئے۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی لاشیں سیکیورٹی فورسز نے تحویل میں لے لیں جبکہ زخمی شدت پسند سرحد پار واپس فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ کسی بھی باقی ماندہ خطرے کا خاتمہ کیا جا سکے اور سرحدی علاقے کو مکمل طور پر محفوظ بنایا جا سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی بروقت کارروائی نے ایک بڑے سیکیورٹی خطرے کو ٹال دیا اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کو روک لیا۔ سیکیورٹی فورسز نے سرحد پر کڑی نگرانی اور مستقبل میں کسی بھی دراندازی کی کوشش کا بھرپور جواب دینے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

    لکی مروت کے علاقے شیر کالی کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے ایک گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک پولیس سب انسپکٹر کا بیٹا شہاب جاں بحق جبکہ اس کا بھائی رحمت اللہ شدید زخمی ہو گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہو گئے۔ شہاب موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ رحمت اللہ، جو سرائے نورنگ میں پٹواری تعینات ہے، شدید زخمی ہوا۔ دونوں کو مقامی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں رحمت اللہ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ پولیس نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور تفتیش شروع کر دی۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق پولیس اسٹیشن گومل کی حدود سے دہشت گردوں نے ایک پولیس اہلکار کو اغوا کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق فرنٹیئر ریزرو پولیس (FRP) کے حوالدار عبدالحلیم چھٹی پر گھر جا رہے تھے کہ شیخ سلطان گاؤں میں واقع مڈل اسکول کے قریب اغوا کر لیے گئے۔ حملہ آوروں نے انہیں روک کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغوی اہلکار کی محفوظ بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کر دی گئی ہیں اور اغوا کاروں کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور حوالدار عبدالحلیم کی جلد بازیابی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    تحصیل پہاڑپور کے تھانہ پہاڑپور کی حدود میں واقع خسر رینج کے علاقے کوٹلہ لودھیان میں قائم 14 سے 15 کرش پلانٹس کے مزدوروں اور مالکان کو کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مسلح افراد کی جانب سے بھتہ وصولی کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق پلانٹ مالکان کو ایک دھمکی آمیز خط موصول ہوا جس میں تین دن کے اندر ایک کروڑ روپے بطور نام نہاد “ٹیکس” ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں کرش پلانٹس کی مشینری اور تنصیبات کو آگ لگا دی جائے گی۔ دھمکیوں کے بعد مزدوروں اور مالکان میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ معاملہ مقامی پولیس کو رپورٹ کر دیا گیا ہے جس نے صورتحال کا جائزہ لینا اور خط کے ماخذ سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق علاقے کی سیکیورٹی کا ازسرِنو جائزہ لیا جا رہا ہے اور دھمکی کی تصدیق اور ذمہ داران کی نشاندہی کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ بھتہ خوری اور دھمکیوں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور جان و مال کے تحفظ کے لیے مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

    ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا،نیویارک ٹائمز کی رپورٹ

    نیو یارک ٹائمز کی آر ایس ایس کی صد سالہ تاریخ پر تنقیدی رپورٹ جاری کر دی گئی

    نیویارک ٹائمز نے تفصیلی تجزیہ میں کہا کہ ایک ہندو انتہا پسند گروپ کیسے ہندوستان کی سیاست پر قابض ہوا۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) ایک خفیہ، نیم عسکری، ہندہ انتہا پسند نظریاتی تنظیم ہے – آر ایس ایس تربیتی کیمپس 1925 سے ہی فوجی انداز میں مزہبی نفرت کو منظم کرتے رہے ہیں،آر ایس ایس کا مقصد بھارت کو ایک ہندو قوم پرست ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔آر ایس ایس کے انتہا پسند ہٹلر کی طرح نسل پرستانہ نظریے کے ہامی ہیں۔آر ایس ایس نے 1948 میں گاندھی کو “مسلمان نواز” کہہ کر قتل کیا گیا ،1975 کی ایمرجنسی کی مخالفت سے آر ایس ایس کو ماضی کے جرائم دھونے کا موقع ملا،1992 میں بابری مسجد کی شہادت سے آر ایس ایس اور بی جے پی نے مذہب کو ووٹ بینک میں بدلا، 2014 کے بعد سے آر ایس ایس بھارت کے سیکولر آئین کو ختم کر کے ہندو راشٹر قائم کر رہی ہے- بی جے پی محض سیاسی جماعت نہیں، آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے،آر ایس ایس کی حکمتِ عملی اب ریاستی طاقت میں بدل چکی،آر ایس ایس کی 100 سالہ حکمتِ عملی “ہندو بالادستی کا منصوبہ “ رہی ہے – مودی حکومت نے آر ایس ایس آیڈیالوجی کے تحت کشمیر کی حیثیت ختم کی، رام مندر تعمیر کیا اور اقلیتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا-

    نیویارک ٹائمزنے انکشاف کیا کہ بھارت میں اقلیتیں دوسرے درجے کے شہری بن چکی ہیں،گاندھی کے قاتل کی سوچ سے مودی تک- آر ایس ایس کا سیاسی سفر خون آلود رہا-بابری مسجد کی شہادت درحقیقت ہندوستان کے سیکولر آئین کی شکست تھی،کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، آر ایس ایس کے دیرینہ ایجنڈے کی تکمیل میں اہم قدم تھا ، آر ایس ایس مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو تاریخی دشمن قرار دیتی ہے،یہ تنظیم بی جے پی سمیت درجنوں ذیلی تنظیموں کے ذریعے ریاستی اداروں میں سرایت کر چکی ہے،آر ایس ایس تعلیم، میڈیا، عدلیہ اور سیکیورٹی اسٹرکچر پر اثر انداز ہو چکی ہے-مودی آر ایس ایس کا پیرو کا ر ہے اور اس کے انتہا پسند ایجنڈے پر کام کر رہا ہے

  • بھارتی ہندو پنڈت یتی نرسمہا نند کا متنازع بیان، خودکش گروپ بنانے کی اپیل

    بھارتی ہندو پنڈت یتی نرسمہا نند کا متنازع بیان، خودکش گروپ بنانے کی اپیل

    بھارت میں نفرت انگیز بیانات کے حوالے سے متنازع شہرت رکھنے والے ہندو مذہبی رہنما یتی نرسمہا نند ایک بار پھر سخت تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک بیان میں یتی نرسمہا نند نے ہندو برادری سے انتہائی اشتعال انگیز اور خطرناک اپیل کرتے ہوئے کہا کہ “تلواریں تقسیم کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، ہندوؤں کو خودکش گروپس تیار کرنے چاہئیں۔”

    یہ بیان ہندی زبان میں دیا گیا، جس نے ملک بھر میں سیاسی، سماجی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ذرائع کے مطابق یتی نرسمہا نند کا یہ بیان نہ صرف فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے کھلی طور پر تشدد اور انتہا پسندی کو ہوا دینے کے مترادف بھی سمجھا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کسی مذہبی رہنما کی جانب سے “خودکش” جیسی اصطلاحات اور گروپس بنانے کی بات کرنا قانون، آئین اور انسانی اقدار کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    بیان سامنے آتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور اقلیتی تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ یتی نرسمہا نند کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے اور نفرت انگیز تقاریر کے قوانین کے تحت سخت کارروائی کی جائے۔انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ایسے بیانات معاشرے میں خوف، نفرت اور تشدد کو فروغ دیتے ہیں اور اس کے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

  • مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    مرکزی مسلم لیگ کا یوم تاسیس،لاہور،کراچی ،پشاور،کوئٹہ سمیت اضلاع کی سطح پر پروگرام

    مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے ملک بھر میں یوم تاسیس کے پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مرکزی مسلم لیگ کا ہر کارکن مسلح افواج کے ساتھ ہے مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کے سفر کو جاری رکھے گی، موروثی سیاست، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط کو مسترد کرتے ہیں، عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کی بجائے معیشت کو سود سے پاک کیا جائے، مرکزی مسلم لیگ نوجوانوں‌کو ہنر مند بنائے گی، آئی ٹی ،ای کامرس کورسز کروائے جائیں گے، سیاسی انتشار،افرا تفری کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی

    ان خیالات کا اظہار مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری،نائب صدر حافظ طلحہ سعید، حافظ عبدالرؤف،قاری یعقوب شیخ،حافظ خالد نیک،انجنیئر حارث ڈار،مرکزی ترجمان تابش قیوم،شفیق الرحمان وڑائچ،محمد سرور چوہدری،حمید الحسن، فیصل ندیم، یاور آفتاب،شیخ عارف اللہ،حمید الحسن، مزمل اقبال ہاشمی و دیگر نے لاہور،کراچی،پشاور،سمیت دیگر شہروں میں یوم تاسیس کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا،یوم تاسیس کی مرکزی تقریب ایوان اقبال لاہور میں ہوئی، تقریب میں مرکزی مسلم لیگ کے کارکنان کثیر تعداد میں شریک ہوئے، یوم تاسیس کی تقریب میں انٹراپارٹی انتخابات جیتنے والے امیدواروں سے حلف بھی لیا گیا، اس موقع پر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو کرپشن، اقربا پروری، دہشت گردی اور غربت جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جن کی بنیادی وجہ نظریاتی سیاست سے دوری ہے۔ ہمیں لسانی، علاقائی اور طبقاتی تقسیم سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا اور ملک کو ‘لا الہ الا اللہ’ کے اس نظام کی تجربہ گاہ بنانا ہوگا جس کا وعدہ قیامِ پاکستان کے وقت کیا گیا تھا،مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کا سفر جاری رکھے گی،سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کی سیاست صرف الیکشن تک محدود نہیں بلکہ خدمت خلق پر مبنی ہے،سیلاب ہو یا زلزلہ،مشکل کی ہر گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ، پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار مرکزی مسلم لیگ نے محض کاغذی کارروائی کے بجائے یونین کونسل کی سطح تک حقیقی انٹرا پارٹی انتخابات کروائے ہیں تاکہ نچلی سطح سے مخلص قیادت سامنے آسکے۔تابش قیوم،مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ ذاتی اور موروثی سیاست کو چھوڑ کر ملکی دفاع اور ترقی کے لیے متحد ہو جائیں،مرکزی مسلم لیگ ایک قوم بن کر ملک سے غربت اور افرا تفری کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔کراچی میں مرکزی مسلم لیگ سیکرٹریٹ میں یوم تاسیس کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ طلحہ سعیدودیگرکا کہنا تھا کہ پاکستان میں انتشار،خلفشار سیاسی رسہ کشی کا خاتمہ ہونا چاہئے،اس سے مسائل بڑھتے ہیں، سیاسی جماعتیں، حکومت، ریاست سب کو توازن کا راستہ اختیارکرنا چاہئے، تصادم، ٹکراؤ نہیں اپنانا چاہئے، مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں ایسا نظام ،کام کرنا چاہتی ہے جس میں قانون کی بالادستی ہو، معاشرے میں عدل و انصاف ہو،رواداری کی سیاست ہو، ایک ایسا نظام جس میں کمزور کا تحفظ ہو ،طاقتور قانون سے بالا نہ ہو،رعایت کسی کو نہیں ملنی چاہئے،اصول سب پر لاگو ہونا چاہئے،پشاور،کوئٹہ،راولپنڈی، بدین ،بہاولپور،فیصل آباد،ملتان،ایبٹ آباد،ضلع خیبر،سوات،مردان،صوابی،تیمر گرہ،بنوں،ڈی آئی خان،حافظ آباد،ڈیرہ غازی خان،سیالکوٹ،گوجرانوالہ،رحیم یار خان،وہاڑی،پاکپتن،ٹوبہ ٹیک سنگھ،حیدرآباد،جھنگ،منڈی بہاوالدین،سرگودھا ،ہری پور،بہاولپور،خانیوال،مظفر گڑھ،لودھراں،لیہ،راجن پور،کوٹ ادو،تونسہ،بورے والا،چوک سرور شہید،صادق آباد،چوک اعظم،ننکانہ صاحب ،اوکاڑہ،ساہیوال،سکھر،لاڑکانہ ،پاکپتن،عارفوالا،چکوال سمیت دیگر شہروں‌میں بھی یوم تاسیس کی تقریبات سے مرکزی مسلم لیگ کے قائدین نے خطاب کیا.

    مرکزی مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر متفقہ قرارداد منظور

    مرکزی مسلم لیگ کے یوم تاسیس کے موقع پر ایوان اقبال لاہور میں منعقدہ پروگرام میں قرارداد پیش کی جاتی ہے،

    یہ اجتماع اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کی ایک شعوری، نظریاتی اور قربانیوں سے سجی جدوجہد کا ثمر ہے، جس کی حفاظت ہماری اولین ذمہ داری ہے،

    مرکزی مسلم لیگ خود کو آل انڈیا مسلم لیگ کی فکری، سیاسی اور اخلاقی وارث قرار دیتی ہے اور شخصیات کے بجائے اصولوں کی سیاست کو اپنا نصب العین مانتی ہے۔

    تقسیمِ ہند کو ایک نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے، خطے میں مسلمانوں کے تشخص، سلامتی اور حقِ خودارادیت کے مکمل تحفظ کا عزم کرتے ہیں

    کشمیریوں اور فلسطینیوں کی آزادی کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان امن کا خواہاں ہے، مگرکسی بھی دشمن کی سازش پر قوم کا ہر فرد مسلح افواج کے ساتھ کھڑا ہے

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مرکزی مسلم لیگ کا ہر کارکن مسلح افواج کے ساتھ ہے،سیکورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا چاہتے ہیں

    مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست کے سفر کو جاری رکھے گی، خاندانی اجارہ داری اور اشرافی تسلط کو مسترد کرتے ہیں،

    عالمی مالیاتی اداروں سے قرض لینے کی بجائے معیشت کو سود سے پاک کیا جائے،اشرافیہ اپنے خرچے کم کرے اور عوام کو ریلیف دیا جائے

    مرکزی مسلم لیگ نوجوانوں‌کو ہنر مند بنائے گی، آئی ٹی ،ای کامرس کورسز کروائے جائیں گے، بے روزگاری کے خاتمے کے لئے عملی کام کریں گے،

    سیاسی انتشار،افرا تفری کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ اپنا کردار ادا کرتی رہے گی،قوم کو نظریہ پاکستان پر متحد کریں گے.

    آج کے یوم تاسیس کے پروگرام میں پاکستان کو ایک باوقار، مضبوط اور مدینہ کی ریاست بنانے کا عہد کرتے ہیں.

    خطے کے حالات خاص طور پر بنگلہ دیش کی صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا نظریہ آج بھی زندہ ہے، ہندو سامراج کے خلاف پوری دنیا میں آواز اٹھنے لگ گئی ہے، جس بنیاد پر پاکستان بنا تھا مرکزی مسلم لیگ اسی بنیاد پر قوم کو اکٹھا کرنے کے لیےجدوجہد مزید تیز کرنے جا رہی ہے

    مرکزی مسلم لیگ تحریک بقائے پاکستان کی عملی جدوجہد شروع کر رہی ہے،اس تحریک کا مقصد قوم کو منظم ، متحد اور دوبارہ سے نظریہ پاکستان اور تحریک پاکستان سے روشناس کرتے ہوئے جدید چیلنجز کا حل تلاش کرنا ہوگا

  • پارلیمنٹ ہاؤس کیفے ٹیریا، سینیٹر کی پلیٹ سے کاکروچ نکل آیا

    پارلیمنٹ ہاؤس کیفے ٹیریا، سینیٹر کی پلیٹ سے کاکروچ نکل آیا

    اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں صفائی اور خوراک کے ناقص انتظامات ایک بار پھر سوالیہ نشان بن گئے، جب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید وقار مہدی کی پلیٹ سے کاکروچ نکل آیا۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جاری تھا اور اراکین کو کھانا فراہم کیا گیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق جیسے ہی سینیٹر وقار مہدی نے اپنی پلیٹ میں کاکروچ دیکھا، انہوں نے فوری طور پر اس پر شدید احتجاج کیا، دیگر سینیٹرز نے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ جیسے حساس اور اہم ادارے میں اس نوعیت کی غفلت کو ناقابلِ قبول قرار دیا۔سینیٹر وقار مہدی کی شکایت پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کیفے ٹیریا انتظامیہ سے وضاحت طلب کرلی۔ چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں اراکینِ پارلیمنٹ کو فراہم کی جانے والی خوراک کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق سینیٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں صفائی کے نظام کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، فوڈ سیفٹی معیار کو یقینی بنایا جائے اور ناقص کارکردگی دکھانے والی انتظامیہ کے خلاف سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے کیفے ٹیریا میں ناقص کھانے اور غیر معیاری صفائی کی شکایات سامنے آئی ہوں۔ اس سے قبل بھی اراکینِ پارلیمنٹ کی جانب سے بدبودار کھانے، غیر صحت بخش اشیاء اور ناقص صفائی پر متعدد بار احتجاج کیا جا چکا ہے، تاہم مستقل بنیادوں پر مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نظر نہیں آئے۔

    اراکینِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ عوامی نمائندوں کے لیے فراہم کی جانے والی سہولیات کا معیار بہتر بنانا نہایت ضروری ہے، کیونکہ ایسے واقعات نہ صرف ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ صحت کے سنگین مسائل کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ واقعے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس انتظامیہ پر دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ فوری اصلاحی اقدامات کرے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنائے۔

  • پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی آمد پر ہنگامہ آرائی، رپورٹ منظرِ عام پر

    پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی آمد پر ہنگامہ آرائی، رپورٹ منظرِ عام پر

    لاہور: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی آمد کے موقع پر پیش آنے والی ہنگامہ آرائی سے متعلق اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کی قائم کردہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس میں واقعے کی تفصیلات، ذمہ داران کی نشاندہی اور آئندہ کے لیے اہم سفارشات پیش کی گئی ہیں۔

    تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق اسمبلی کے تقدس اور سکیورٹی نظام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ معاملے کی مزید تفتیش کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد حاصل کی جائے تاکہ حقائق کی مکمل جانچ ممکن بنائی جا سکے۔
    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ہمراہ آنے والے افراد کے صرف ناموں کی ایک فہرست فراہم کی گئی، جو انتہائی ناکافی تھی۔ اس فہرست میں نہ تو شناختی کارڈ نمبرز شامل تھے، نہ تصاویر اور نہ ہی گاڑیوں کے رجسٹریشن نمبرز فراہم کیے گئے، جس کے باعث اسمبلی میں داخل ہونے والے افراد کی درست شناخت میں شدید مشکلات پیش آئیں۔تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک شخص مطیع اللّٰہ برقی نے جھوٹ بول کر اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ بعد ازاں صوبائی وزیر خیبر پختونخوا مینا خان نے تصدیق کی کہ مطیع اللّٰہ برقی، رکن اسمبلی اشفاق نہیں ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جب مطیع اللّٰہ برقی کو اسمبلی سے باہر جانے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی کی، گالم گلوچ کی اور صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ شناخت کے عمل میں مدد کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے دو ارکان اسمبلی مین گیٹ پر موجود ہوں گے، تاہم یہ انتظام عملی طور پر پورا نہ ہو سکا، جس سے سکیورٹی اہلکاروں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق اسمبلی سکیورٹی نے تحمل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف شناخت مکمل کرنے کی درخواست کی، مگر اس کے جواب میں گالم گلوچ، دھکم پیل اور بدنظمی کی گئی۔ رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ اپوزیشن کی فراہم کردہ فہرست میں سزا یافتہ شخص حیدر مجید کا نام بھی شامل تھا، جو سکیورٹی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

    اسپیکر پنجاب اسمبلی کی تحقیقاتی کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اسمبلی جیسے حساس اور آئینی ادارے میں داخلے کے لیے مکمل اور تصدیق شدہ ڈیٹا فراہم کرنا ناگزیر ہے، اور مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی روک تھام کے لیے سکیورٹی پروٹوکول پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔

  • نام نہاد سیکولر  بھارت میں ریاستی پالیسی کے تحت اقلیتوں کیساتھ منظم ظلم وستم جاری

    نام نہاد سیکولر بھارت میں ریاستی پالیسی کے تحت اقلیتوں کیساتھ منظم ظلم وستم جاری

    ہندوتوا نظریہ کے زیرتسلط بھارت میں اقلیتوں پر تشدد اورناروا سلوک روزانہ کا معمول بن گیا

    ہندوتوا نظریہ کا پرچار کرنے والےمودی نے بھارت میں مسلمانوں کیلئے زمین تنگ کردی،بھارت میں اقلیتوں کیلئے مذہبی رسومات ادا کرنا تو دور ،معاشی سرگرمیاں کرنا بھی دشوار ہوگیا،ہندوستان ٹائمزنے بھارت میں جاری مظالم کا اعتراف کرتے ہوئے واضح کیا کہ؛ اتر پردیش کے شہر بریلی میں ایک کیفے میں منعقدہ تقریب پرہندوانتہا پسند تنظیم بجرنگ دَل کےشرپسندوں نے حملہ کیا،ہندوستان ٹائمز کے مطابق ہندو انتہاپسندوں نےکیفے میں گھس کر ہنگامہ آرائی کرکےمسلم نوجوان پربدترین تشدد کیا،بھارتی پولیس نے تحفظ فراہم کرنے کے برعکس 2 مسلم نوجوانوں پر ہی مقدمہ درج کرکے جرمانہ عائد کر دیا ،

    مظلوم مسلمانوں پر ہی مقدمہ درج کرنا ظاہر کرتا ہے کہ کیسے ریاستی سرپرستی میں بھارت میں اقلیتوں کا منظم استحصال کیاجارہا ہے،دوسری جانب ہماچل پریش میں مسلمان کشمیریوں پر حملوں میں بدترین حد تک اضافہ ہو چکا ہے ،مودی کے ہندوتوا نظریہ کے تحت کشمیری مسلمانوں کے لیے نہ صرف مقبوضہ جموں و کشمیر بلکہ ہندوستان کی زمین بھی تنگ کر دی گئی، فری پریس کشمیر کے مطابق کشمیریوں کوہماچل پردیش میں کاروبار چھوڑنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، فری پریس کشمیر نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والا جہانگیر احمدانتہاپسند ہندوں کے حملہ میں شدید زخمی ہوا

    ہماچل پردیش میں کشمیری مسلمانوں پر ظلم و تشدد کا یہ2025 میں ہونے والا 16واں واقعہ ہے، ،جہانگیر احمد یہاں نیا نہیں بلکہ پچھلے 15سال سے علاقے میں شالیں بیچ رہا ہے، محبوبہ مفتی نے بھی شال بیچنے والے مظلوم کشمیری نوجوان تاجر پر ہونے والے تشدد پر مذمت کی،ہندوتوا راشٹرا کے مذموم ایجنڈے پر کاربند مودی کے مسلمانوں پر منظم استحصال کی بدترین داستانیں دنیا میں بے نقاب ہو چکی ہیں