Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایف بی آر کی کاروائی،صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی  گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ

    ایف بی آر کی کاروائی،صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ

    ایف بی آر ریجنل ٹیکس آفس پشاور نے کارروائی کر کے صوابی میں تمباکو کے غیرقانونی گرین لیف تھریشنگ یونٹ کا سراغ لگا لیا۔

    ذرائع کے مطابق غیرظاہر شدہ جی ایل ٹی یونٹ اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث پایا گیا، علاقہ یار حسین امان آباد میں گرین لیف تھریشنگ یونٹ بغیر اجازت کے فعال تھا،ذرائع ایف بی آر کے مطابق یونٹ سے90970 کلو لیمینا، 20 ہزار کلو اسٹیم اور 149990 کلو رین لیف تمباکو برآمد ہوا، کمپنی کے پاس پاکستان ٹوبیکو بورڈ کا صرف 100 ہزار کلو کوٹہ موجود ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ غیرقانونی گودام سیل کر کے مشینری اور اسٹاک قبضے میں لے لیا گیا ہے، غیرقانونی تمباکو کے ذخیرہ اور پیداوار پر مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

  • اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف کریک ڈاؤن،خاتون سمیت 3 گرفتار

    اے این ایف کا تعلیمی اداروں کے اطراف کریک ڈاؤن،خاتون سمیت 3 گرفتار

    انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) نے تعلیمی اداروں کے اطراف اور ملک کے مختلف شہروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے خاتون سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ ترجمان اے این ایف کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران 22 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 21.6 کلوگرام منشیات برآمد کی گئی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ جامشورو میں ایک یونیورسٹی کے قریب کارروائی کے دوران ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا، جس کے قبضے سے 6 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ دورانِ تفتیش گرفتار ملزمہ نے اعتراف کیا کہ وہ تعلیمی اداروں کے طلباء کو منشیات فروخت کرتی تھی، جس پر مزید قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    ایک اور کارروائی خیبر پختونخوا میں باچا خان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں قطر جانے والے ایک مسافر کے سامان سے 600 گرام ہیروئن برآمد ہوئی۔ اے این ایف حکام نے ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر کے منشیات ضبط کر لی۔اسی طرح بلوچستان میں کوئٹہ کے علاقے بالیلی چیک پوسٹ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار ملزم کو روکا گیا، جس کی تلاشی کے دوران 15 کلوگرام چرس برآمد ہوئی۔ ملزم کو گرفتار کر کے منشیات تحویل میں لے لی گئی۔ترجمان اے این ایف کے مطابق گرفتار تمام ملزمان کے خلاف انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اے این ایف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے بچانے اور تعلیمی اداروں کو منشیات سے پاک رکھنے کے لیے کریک ڈاؤن مزید تیز کیا جائے گا۔

  • حماس غیرمسلح نہ ہوئی تو بھاری قیمت چکانا پڑے گی،ٹرمپ

    حماس غیرمسلح نہ ہوئی تو بھاری قیمت چکانا پڑے گی،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیرمسلح نہ ہوئی تو بھاری قیمت چکانا پڑے گی لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے، غزہ کی تعمیر نو کا کام جلد شروع ہوگا۔

    اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ابراہم معاہدے میں توسیع ممکن ہے، سعودی عرب کسی مرحلے پر اس معاہدے میں شامل ہوجائے گا۔صدر ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا اگر ایٹمی پروگرام دوبارہ شروع کیا تو فوری کارروائی ہوگی، ساتھ ہی تہران کے ساتھ معاہدے کی خواہش کا اظہار بھی کردیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایران اپنا بیلسٹک میزائل پروگرام جاری رکھتا ہے تو وہ اسرائیل کی طرف سے حملے کی مکمل حمایت کریں گے۔

    امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سیکیورٹی معاہدہ ممکن ہے، مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں سے 100 فیصد متفق نہیں۔اس موقع پر نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کی مسلسل حمایت کی تعریف کرتے ہوئے اسرائیل کا اعلیٰ ترین ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔

  • ٹرمپ کا پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے پر ردعمل، پاکستان کی مذمت

    ٹرمپ کا پیوٹن کی رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے پر ردعمل، پاکستان کی مذمت

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر مبینہ یوکرینی حملے کی اطلاعات پر گہرے دکھ اور شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

    امریکی صدر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بارے میں سن کر انہیں بہت برا لگا، جبکہ ان کے مطابق روسی صدر پیوٹن سے حالیہ بات چیت خوشگوار رہی ہے، تاہم یوکرین میں امن کے قیام کے لیے اب بھی کئی پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا کو اس وقت تحمل، سفارت کاری اور امن کی ضرورت ہے، ایسے حملے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور عملی کوششیں ناگزیر ہیں۔

    کریملن کے مطابق یوکرینی حملے سے متعلق امریکی صدر کو آگاہ کیے جانے پر ڈونلڈ ٹرمپ حیران رہ گئے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق روس نے الزام عائد کیا ہے کہ یوکرین نے نووگورود ریجن میں واقع صدر ولادیمیر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ حملے کے وقت صدر پیوٹن وہاں موجود تھے یا نہیں۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ یوکرین نے صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر حملے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب یوکرین کی جانب سے مجموعی طور پر 91 لانگ رینج ڈرونز فائر کیے گئے، جن کا ہدف پیوٹن کی رہائش گاہ تھی۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے صورتحال پر قابو پا لیا۔

    ادھر پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نے ایک بیان میں کہا کہ اس طرح کے گھناؤنے حملے امن اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سطح پر امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان روس کے صدر، حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سلامتی اور امن کو خطرے میں ڈالنے والے تشدد کے تمام طریقوں کو مسترد کرتا ہے اور اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو واحد راستہ سمجھتا ہے۔

    دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روسی الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ زیلنسکی کا کہنا ہے کہ روس امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایسے الزامات لگا رہا ہے۔ ان کے مطابق روس یوکرین کی سرکاری عمارتوں پر حملوں کا جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔یوکرینی صدر نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ روس کی دھمکیوں اور بیانات پر واضح ردعمل دے اور یوکرین کے مؤقف کو عالمی سطح پر سنا جائے۔

  • خالدہ ضیا کی وفات،بنگلادیش پریمیئر لیگ کے میچز ملتوی

    خالدہ ضیا کی وفات،بنگلادیش پریمیئر لیگ کے میچز ملتوی

    بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیا کے انتقال پر ملک بھر میں گہرے رنج و غم کی فضا قائم ہے۔ اس افسوسناک واقعے کے باعث بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کے تمام میچز عارضی طور پر ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم کے انتقال پر احتراماً بی پی ایل کے میچز ملتوی کیے گئے ہیں، جبکہ میچز کے نئے شیڈول کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ بی سی بی کے مطابق یہ فیصلہ قومی سطح پر سوگ اور عوامی جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ خالدہ ضیا 80 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ وہ جگر کے عارضے سمیت متعدد بیماریوں میں مبتلا تھیں اور طویل عرصے سے اسپتال میں زیر علاج تھیں۔

  • بلوچستان،خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،متعدد جہنم واصل

    بلوچستان،خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،متعدد جہنم واصل

    بلوچستان و خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کی دہشت گردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع کوہلو، بلوچستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائی کے دوران پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ آپریشن علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاعات پر کیا گیا۔ ہلاک افراد مبینہ طور پر دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث تھے، تاہم ان کی شناخت اور تنظیمی وابستگی سے متعلق مزید تفصیلات تاحال جاری نہیں کی گئیں۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے اور خطرات کے خاتمے کے لیے یہ کارروائی کی۔ تحقیقات جاری ہیں اور علاقے کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    پشین ضلع میں سکیورٹی فورسز نے ایک ممکنہ ہلاکت خیز تخریبی کارروائی ناکام بنا دی، جب موٹر سائیکل میں نصب دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کو کامیابی سے ناکارہ بنا دیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ سرخواب چوک پر پیش آیا جہاں نامعلوم افراد نے ایک موٹر سائیکل عوامی مقام پر کھڑی کی تھی۔ مقامی افراد نے مشتبہ موٹر سائیکل کی اطلاع دی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور عوامی آمد و رفت محدود کر دی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر بم کو بحفاظت ناکارہ بنا دیا۔

    کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے چار کمانڈروں نے حکام کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور تنظیم کی سرگرمیوں اور مبینہ غیر ملکی سرپرستی سے متعلق اہم انکشافات کیے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ افراد گزشتہ دو برس سے بی ایل اے سے وابستہ تھے اور کمانڈ سطح پر کام کر رہے تھے۔ ایک ریکارڈ شدہ بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں بلوچ حقوق کے نام پر گمراہ کیا گیا، تاہم بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ تنظیم بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ تنظیم بینک ڈکیتیوں اور دیگر جرائم میں ملوث تھی۔

    اسلام آباد پولیس نے بڑے سکیورٹی آپریشن کے دوران 41 افراد کو حراست میں لیا، جن میں چار افغان شہری بھی شامل ہیں۔ کارروائی کے دوران اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات برآمد کی گئیں۔ پولیس نے 177 افراد، 66 گھروں، 35 موٹر سائیکلوں اور 15 گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ناقص دستاویزات پر 12 موٹر سائیکلیں اور 4 گاڑیاں ضبط کر لی گئیں۔ چار افغان شہریوں کو تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا۔

    پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر مرسی ہسپتال کے قریب فائرنگ کے واقعے میں تین افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت صہیب خان، نعیم گل اور امجد کے نام سے ہوئی۔ زخمی شخص فراز کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    جنوبی وزیرستان کے علاقے اگزی کس میں انٹیلی جنس معلومات پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی، جہاں دہشت گرد ایک مسجد کو پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔ مسجد کے تقدس کو مدنظر رکھتے ہوئے فورسز نے محتاط کارروائی کی اور دہشت گردوں کو مسجد سے باہر نشانہ بنایا۔ کارروائی میں تمام دہشت گرد مارے گئے جبکہ مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت کے علاقے تخت خیل میں سکیورٹی آپریشن کے دوران مارا جانے والا دہشت گرد افغان شہری نکلا۔ ذرائع کے مطابق ہلاک شخص کی شناخت ولی عثمان کے نام سے ہوئی جو افغانستان کے صوبہ لوگر کا رہائشی تھا۔ کارروائی میں کمانڈر مولوی نصراللہ وزیر عرف مولوی نصرت بھی مارا گیا۔ دونوں سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں ملوث تھے۔

    بنوں کے تھانہ ہوید کی حدود میں پولیس اور مقامی امن کمیٹی کے ارکان نے مشترکہ گشت تیز کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق اس اقدام کا مقصد مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور علاقے میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی فوری اطلاع دیں۔

    سوات کے علاقے سنگوٹہ میں ایک پولیس کانسٹیبل کو اس کے گھر کے قریب فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق کانسٹیبل حماد علی، جو تیمرگرہ میں تعینات تھا، چھٹی پر گھر آیا ہوا تھا۔ نامعلوم افراد نے اسے نشانہ بنایا۔ پولیس نے لاش کو اسپتال منتقل کر کے تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔

  • 2025 میں پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں اضافہ

    2025 میں پاکستان میں دہشتگردانہ کاروائیوں میں اضافہ

    اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں دہشت گردی، عسکریت پسند حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق یہ سال گزشتہ دس برسوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان والا سال ثابت ہوا،

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران مجموعی طور پر 3,387 افراد ہلاک ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 73 فیصد اضافہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں 2,115 عسکریت پسند شامل ہیں، جن کی تعداد میں 122 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ 664 سیکیورٹی اہلکار اور 580 عام شہری بھی جان کی بازی ہار گئے۔ اس کے علاوہ امن کمیٹیوں کے 28 ارکان بھی تشدد کا نشانہ بنے۔زخمیوں کے اعداد و شمار بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سال 2025 میں 2,263 افراد زخمی ہوئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 53 فیصد زیادہ ہیں۔ زخمیوں میں 1,025 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار، 982 شہری اور 228 عسکریت پسند شامل ہیں۔

    PICSS کے مطابق ملک بھر میں عسکریت پسند حملوں کی تعداد 1,063 رہی، جو 2014 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ ان حملوں میں خودکش حملوں کی تعداد 26 ریکارڈ کی گئی، جن میں 53 فیصد اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈرون اور کوآڈ کاپٹر کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوا، اور سال کے دوران ایسے 33 واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں نگرانی اور حملوں دونوں مقاصد شامل تھے۔انسدادِ دہشت گردی اقدامات کے حوالے سے رپورٹ بتاتی ہے کہ 2025 میں 497 مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا گیا، جو 2017 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی عسکریت پسندوں کی جانب سے اغوا کے واقعات 215 تک پہنچ گئے، جو 2012 کے بعد سب سے بلند سطح ہے، اور اس میں 162 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔علاقائی سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو سب سے زیادہ تشدد خیبر پختونخوا (بالخصوص سابقہ فاٹا کے علاقے) اور بلوچستان میں رپورٹ ہوا۔ ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں، ٹارگٹ حملے اور دیگر پرتشدد واقعات مسلسل سامنے آتے رہے۔

    رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ عسکریت پسندوں اور سیکیورٹی اداروں دونوں کی جانب سے ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جوابی کارروائیوں میں بھی تیزی آئی، جس کے نتیجے میں تشدد کے مجموعی واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔PICSS کے مطابق 2025 کے اعداد و شمار اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کو ایک بار پھر سنگین سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی، شہریوں کے مؤثر تحفظ، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید مضبوط بنانے کی فوری ضرورت ہے، تاکہ مستقبل میں جانی نقصان کو کم کیا جا سکے اور ملک میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

  • بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا چل بسیں

    بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا چل بسیں

    بنگلادیش کی سابق وزیراعظم خالدہ ضیاء وفات پا گئیں،خالدہ ضیاء بنگلادیش کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں۔

    خالدہ ضیاء کی عمر 80 برس تھی، وہ کئی امراض میں مبتلا تھیں۔ بنگلادیش نیشنل پارٹی کے مطابق انتقال دارالحکومت ڈھاکا کے اسپتال میں مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے ہوا،خالدہ ضیاء بنگلادیش کے سابق صدر ضیاء الرحمان کی اہلیہ تھیں۔ وہ طویل عرصے سے کئی بیماریوں کا شکار تھیں،پیر کی شب ان کی طبیعت انتہائی نازک ہوگئی تھی اور ڈاکٹروں کے مطابق انہیں لائف سپورٹ دی جارہی تھی مگر عمر اور خراب صحت کے سبب کئی بیماریوں کا ایک ساتھ علاج ممکن نہ تھا۔

    بنگلادیش نیشنل پارٹی کی لیڈر خالدہ ضیاء نے انیس سو اکانوے میں وزارت عظمیٰ سنبھالی تھی۔،وہ سن دو ہزار ایک میں ایک بار پھر وزیراعظم منتخب ہوئیں تاہم اکتوبر سن دو ہزار چھ میں عام انتخابات کے لیے اقتدار سے الگ ہوگئی تھیں۔ سیاسی کیریئر کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات لگے،انہیں سن دوہزار اٹھارہ میں پانچ برس کیلیے جیل بھی کاٹنا پڑی تھی،عوامی لیگ کی لیڈر شیخ حسینہ واجد سے ان کی طویل سیاسی رقابت بھی رہی۔ بالآخر شیخ حسینہ واجد کو پچھلے سال حکومت چھوڑنا پڑگئی تھی،

    خالدہ ضیاء کی وفات پر پر وزیر اعظم شہباز شریف کا اظہارِ تعزیت
    بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ خالدہ ضیاء کے انتقال پر وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں کہا گیا ہے کہ بیگم خالدہ ضیاء کا انتقال نہ صرف بنگلادیش بلکہ پورے خطے کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ خالدہ ضیاء پاکستان کی ایک پُرعزم، مخلص اور دیرینہ دوست تھیں، جنہوں نے پاک بنگلادیش تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس غم کی گھڑی میں بنگلادیشی حکومت، عوام اور مرحومہ کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ خالدہ ضیاء کی سیاسی خدمات اور بنگلادیش کی جمہوری جدوجہد میں ان کا کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ہماری دعائیں خالدہ ضیاء کی فیملی اور بنگلادیشی عوام کے ساتھ ہیں، اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔تعزیتی بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ بیگم خالدہ ضیاء کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور ان کے لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ وزیر اعظم نے بنگلادیش کے عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بنگلادیش کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتا رہے گا۔

  • بنگلہ دیش میں کشمیر کی حمایت میں نعرے، آزادیٔ کشمیر کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش میں کشمیر کی حمایت میں نعرے، آزادیٔ کشمیر کے حق میں مظاہرہ

    بنگلہ دیش میں کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے شہریوں نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر احتجاج کیا۔ مظاہرین نے آزادیٔ کشمیر کے حق میں نعرے لگائے اور کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق مظاہرہ ایک عوامی مقام پر منعقد ہوا جہاں شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف پیغامات درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور وہاں کے عوام کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔مظاہرے کے دوران فضا “کشمیر ی چاہتے آزادی” اور “کشمیریوں سے یکجہتی” جیسے نعروں سے گونجتی رہی۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بنگلہ دیش کے عوام مظلوم قوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کی تاریخ رکھتے ہیں اور کشمیر کا مسئلہ بھی ایک انسانی اور اخلاقی مسئلہ ہے۔مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیر میں جاری صورتحال کا نوٹس لے اور کشمیری عوام کو انصاف فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر ممکن نہیں۔

    سیاسی و سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں اس نوعیت کے مظاہرے خطے میں بڑھتی ہوئی عوامی بیداری کی علامت ہیں، جہاں مختلف ممالک کے شہری عالمی انسانی حقوق کے مسائل پر اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔

  • اراکین قومی اسمبلی سے سفری واؤچرز کی تفصیلات طلب

    اراکین قومی اسمبلی سے سفری واؤچرز کی تفصیلات طلب

    قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تمام ارکان قومی اسمبلی سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران استعمال کیے گئے سفری واؤچرز کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں، جس پر ارکان قومی اسمبلی نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام پہلی مرتبہ کیا گیا ہے، جس کے باعث پارلیمانی حلقوں میں سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے ارکان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فضائی اور زمینی سفر کے لیے استعمال کیے گئے تمام واؤچرز کا ریکارڈ فراہم کریں۔ اس غیر معمولی اقدام پر متعدد ارکان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں کبھی بھی اس نوعیت کی تفصیلات طلب نہیں کی گئیں،ارکان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ انہیں سالانہ بنیادوں پر سفری سہولت کے طور پر 12 سے 15 لاکھ روپے کے واؤچرز فراہم کیے جاتے ہیں، جو عام طور پر دو اقساط میں جاری کیے جاتے ہیں۔ یہ واؤچرز ارکان کے پارلیمانی اور حلقہ جاتی امور کی انجام دہی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ارکان کا مؤقف ہے کہ سفری واؤچرز کے استعمال سے متعلق اچانک تفصیلات مانگنا شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے اور اس اقدام کے پس منظر کو واضح کیا جانا چاہیے۔ بعض ارکان نے اسے پارلیمانی روایات کے منافی قرار دیا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ارکان قومی اسمبلی نے اس معاملے کو اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ اجلاس میں اس پر باقاعدہ بات چیت کی جائے گی۔ ارکان اسپیکر سے وضاحت اور رہنمائی کے خواہاں ہیں تاکہ اس اقدام کی نوعیت اور مقصد کو سمجھا جا سکے۔