Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث

    افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث

    افغان سرزمین سے پنپتی دہشتگردی عالمی سطح پر تشویش کا باعث بن گئی

    افغانستان دہشتگرد گروہوں اور پراکسیز کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہورہا ہے،افغان طالبان کی زیر سرپرستی افغانستان سے سرحد پار دہشتگردوں کے حملے اور دراندازی معمول بن گئی ہے ،ساوتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل اور افغان جریدہ افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق یورپی یونین نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو دہشتگردوں کے محفوظ ٹھکانے بننے سے روکیں،افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کیخلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے، یورپی یونین نے طالبان سے افغانستان میں سرگرم تمام دہشتگرد گروہوں کیخلاف موثر کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے،امریکا اور چین نے پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششوں پر مکمل حمایت اور اعتماد کااظہار کیا ،

    ماہرین کے مطابق؛افغان طالبان رجیم نےاپنے ناجائز تسلط کو سہارا دینے کے لئے دنیا بھر کے دہشتگرد گروپوں کو سرپرستی فراہم کررکھی ہے، افغان سرزمین مضبوط اور مؤثر حکومت کے قائم نہ ہونے تک دہشتگرد تنظیموں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنی رہے گی،

  • پی آئی اے نے اپنا خلیجی ممالک کا فضائی آپریشن معطل کردیا

    پی آئی اے نے اپنا خلیجی ممالک کا فضائی آپریشن معطل کردیا

    مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال ، پی آئی اے نے اپنا خلیجی ممالک کا فضائی آپریشن معطل کردیا

    پی ائی اے کی متحدہ عرب امارات، بحرین، دوحہ اور کویت کی پروازیں معطل کی گئی ہیں ،پروازیں ابتدائی طور پر کل شام یا فضائی حدود کی بحالی تک اپریٹ نہیں کی جائیں گی ،پی ائی اے کی سعودی عرب کی پروازیں جاری رہیں گی مگر ان کا روٹ تبدیل کردیا گیا ہے ،پروازین بوئنگ 777 طیاروں پر منتقل کردی گئیں ہیں اور طویل راستے سے منزل مقصود پر پہنچیں گی .مسافروں سے درخواست ہے کہ اپنی پروازوں سے متعلق بروقت معلومات یا بکنگ کی تبدیلی کیلئے پی ائی اے کال سینٹر 111 786 786 سے رابطہ کریں

  • خطے کی بدلتی صورتحال،بھارت،اسرائیل،افغان طالبا ن کی نئی صف بندی

    خطے کی بدلتی صورتحال،بھارت،اسرائیل،افغان طالبا ن کی نئی صف بندی

    خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی سفارتی اور سیکیورٹی صورتحال کے درمیان ایک بار پھر یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پس پردہ ایک بڑا اسٹریٹیجک کھیل جاری ہے، جس کی بساط بھارت، اسرائیل اور افغان طالبان نے مل کر بچھائی ہے۔

    ایک جانب افغان طالبان کے نمائندوں کی بھارتی یاترا کے دوران بھارتی حکام سے ملاقاتیں ہو رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے حالیہ دورے اور فلسطینیوں کے قتل عام اور جنگی جرائم میں ملوث نیتن یاہو سے ملاقات نے اس منصوبے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ذرائع کے مطابق ایسے وقت میں جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کی خبریں زیر گردش ہیں، بھارت کی سفارتی سرگرمیوں کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔افغان طالبان اور بھارت کے درمیان حالیہ رابطوں اور افغان طالبان رہنماؤں کی بھارت یاترا اور پھر نریندر مودی کا دورہ اسرائیل اور پھر ایران پر حملے نے سفارتی سطح پر کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔

    عالمی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں الجھائے رکھنا کسی بڑے علاقائی منصوبے کا حصہ ہو سکتا ہے، تاکہ وہ ایران کے معاملے میں فعال کردار ادا نہ کر سکے۔پاکستانی سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک اپنی سرحدوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی بیرونی یا پراکسی دباؤ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سرحدی علاقوں میں حالیہ کشیدگی کے بعد نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان کی اولین ترجیح داخلی استحکام اور خطے میں امن ہے۔ دوسری طرف بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی اور ٹیکنالوجی تعاون پہلے ہی عالمی سطح پر زیر بحث رہا ہے، جبکہ ایران کے ساتھ بھارت کے توانائی اور تجارتی مفادات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارت، اسرائیل اور افغان طالبان کے اس گٹھ جوڑ سے ایک بات واضح کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ اسرائیل عالمی سازشوں میں افغان طالبان اور بھارت کو ملا کر خطے کو کشت و خون میں نہلانے کے لیے شطرنج کی نئی چالیں چلنے نکلا ہے۔

  • پاکستانی لڑاکا طیارہ کے حوالے سے بھارتی  اور افغان میڈیا کے  گمراہ کن پروپیگنڈا کا پردہ چاک

    پاکستانی لڑاکا طیارہ کے حوالے سے بھارتی اور افغان میڈیا کے گمراہ کن پروپیگنڈا کا پردہ چاک

    افغان طالبان رجیم کیخلاف پاک افواج کی فیصلہ کن کارروائی کے بعد بھارت اور افغانستان کی پروپیگنڈا مشینز متحرک ہو گئیں

    افغان طالبان رجیم کے آفیشل اکاؤنٹس سے پروپیگنڈا اور جھوٹے دعوے نشر کیے جانا ایک شرمناک عمل ہے، افغان وزارتِ دفاع نے من گھڑت دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے ننگرہار میں پاکستانی لڑاکا طیارہ مار گرایا اور پائلٹ کو زندہ گرفتار کر لیا،وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان نے پاکستانی پائلٹ کی گرفتاری کا افغان اور بھارتی میڈیا کا جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب کر دیا،پاکستانی حکام، عالمی میڈیا اور دفاعی ادارے نے کسی طیارے کے نقصان کی تصدیق نہیں کی ، افغان حکام کا بے بنیاد دعویٰ بھارتی میڈیا اور افغان پروپیگنڈا ذرائع نے بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا ، افغانستان کی جانب سے جاری کردہ تصویر 2021 میں ترکی میں روسی جہاز کے حادثے کی ہے، زمینی حقائق نہ ہونے کے باعث بھارت اور افغان مضحکہ خیز دعوؤں کو محض فریب اور ہزیمت قرار دیا جارہا ہے

    عالمی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم پاکستان مخالف جھوٹی خبریں پھیلا کر اپنی عبرتناک شکست پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ،افغان طالبان رجیم کے سرکاری ترجمان اور آفیشل اکاؤنٹس سے پاکستان مخالف پروپیگنڈا کر کے ڈلیٹ کرنا شرمناک عمل ہے، پاکستان مخالف منظم منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی پہچان بن چکی ہے.

  • مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا

    مودی، ہیبت اللہ اور نیتن یاہو کا گٹھ جوڑ، تل ابیب میں خفیہ بیٹھک کا بھانڈا پھوٹ گیا

    مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر خطے میں خفیہ سفارتی صف بندیوں سے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے سے متعلق سنگین اور خطرناک دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

    ذرائع کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت، اسرائیل اور افغان عبوری قیادت کے درمیان ایک ایسی غیر اعلانیہ منصوبہ بندی ہوئی ہے جس کا مقصد خطے کو افراتفری اور کشیدگی کی جانب دھکیلنا اورمسلم ممالک کو آپس میں لڑانا تھا ۔

    واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی، افغانستان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مبینہ طور پر تل ابیب میں ایک خفیہ مشاورت ہوئی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مشاورت میں پاکستان کو افغانستان اور بھارت کے ذریعے مصروف رکھنے اور اسی دوران ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائی کے امکانات پر گفتگو کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ جارحانہ عزائم رکھنے والے ان 3 ممالک کی حکمت عملی کھل سامنے آ چکی ہے جس کے اثرات نہایت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک اہم ملک ہے جو ایران اور افغانستان دونوں کے ساتھ سرحد رکھتا ہے، ایسے میں کسی بھی کشیدگی کا براہ راست اثر پورے خطے سے زیادہ پاکستان پر پڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ ماضی میں بھی بھارت اور اسرائیل کے دفاعی تعاون پر بحث ہوتی رہی ہے، جبکہ بھارت اور ایران کے درمیان توانائی، بندرگاہی اور تجارتی منصوبے بھی عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً 26 اور 27 فروری کو پاکستانی سرحدی علاقوں میں ہونے والے حملوں کے بعد صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق ان جھڑپوں میں بڑی تعداد میں شدت پسند مارے گئے، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشن مستحکم رکھی۔ بعض حلقے ان واقعات کو ایک وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

    افغان طالبان کی حالیہ سرگرمیوں کو بھی بعض مبصرین عالمی طاقتوں کے مفادات سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سرحدی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے سفارتی اور دفاعی دونوں سطحوں پر اقدامات جاری رہیں گے۔ ایران کے ساتھ تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ پاکستان خطے میں توازن اور امن کا خواہاں ہے۔عالمی سطح پر اب یہ سوال ضرور زیر بحث ہے کہ جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کس سمت جا رہی ہے، اور کیا واقعی کوئی نئی صف بندی تشکیل پا رہی ہےم آیا بھارت اسرائیل اور افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف کوئی کھیل تو نہیں کھیل رہا ہے، ان سوالات کا جواب آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔پی ٹی اے

    سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔پی ٹی اے

    پبلک ایڈوائزری: موجودہ حساس قومی صورتحال کے پیش نظر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) تمام شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔

    تمام شہریوں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن معلومات/مواد کو شیئر، پھیلانے، فارورڈ کرنے یا اپ لوڈ کرنے سے گریز کریں، جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر قومی مفاد، عوامی نظم و نسق یا ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔تمام شہریوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ صرف مستند اور سرکاری ذرائع پر مبنی معلومات/مواد ہی شیئر، پھیلائیں یا اپ لوڈ کریں اور افواہوں اور جعلی خبروں کے فروغ سے مکمل اجتناب کریں۔جعلی خبروں ، افواہوں یا غلط معلومات کے پھیلانے ، شئیر یا اپ لوڈ کرنے پر متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔پی ٹی اے کی عوام الناس سے گزارش ہے کہ وہ احتیاط، سنجیدگی اور قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے میں مدد مل سکے۔

  • ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک

    ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک

    متحدہ عرب امارات کے شہروں ابوظہبی اور دبئی میں بھی دھماکے سنے گئے۔ یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ متعدد ایرانی میزائل مار گرائے گئے، میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

    متحدہ عرب امارات نے متعدد ایرانی میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، ابوظبی اور دبئی کے علاقے مارینا میں بھی دھماکے سنے گئے۔امارتی حکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائل مار گرائے، یہ حملہ ہماری خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے، یو اے ای اس جارحیت کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق ابوظبی میں میزائل کا ملبہ گرنے سے ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

  • اسرائیل کا اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا اعلیٰ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    ہفتہ کی صبح اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں میں ایرانی قیادت کی اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے سی این این کو اسرائیلی آپریشن سے باخبر دو ذرائع نے بتایا کہ حملوں کا ہدف ایران کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت تھی۔اسرائیلی ذرائع کے مطابق ممکنہ اہداف میں ایران کے سپریم لیڈر ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف ، اور صدر مسعود شامل تھے۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حملوں کی فہرست میں ایران کی نو قائم شدہ ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری Ali Shamkhani اور قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری Ali Larijani بھی شامل تھے۔

    تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ان حملوں میں ایرانی قیادت کی کسی اہم شخصیت کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ ایران کی جانب سے بھی فوری طور پر کسی جانی نقصان یا اعلیٰ حکام کے متاثر ہونے کی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اگر اسرائیلی دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ کارروائی خطے میں جاری کشیدگی کو نئی سطح پر لے جا سکتی ہے، کیونکہ اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کی کوشش کو غیر معمولی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔مزید تفصیلات اور ایرانی ردعمل کا انتظار ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

  • اسرائیلی حملوں کے بعد تہران سے 3  افغان باشندے گرفتار

    اسرائیلی حملوں کے بعد تہران سے 3 افغان باشندے گرفتار

    تہران میں حساس کارروائی: مشتبہ افراد گرفتار، اہم آلات برآمد کر لئے گئے

    تہران میں اسرائیلی حملوں کے بعد، ایرانی سکیورٹی فورسز نے تین افغان باشندوں کو شہر کے ان علاقوں سے گرفتار کر لیا جہاں اسرائیلی حملے کیے گئے۔ یہ کارروائیاں خاص طور پر مرکزی تہران، صدراتی دفتر کے قریب اور شمالی و مشرقی علاقوں میں کی گئیں، جہاں گزشتہ رات دھماکوں اور حملے کیے گئے۔ ایرانی حکام کے مطابق، گرفتار شدگان کے قبضے سے مواصلاتی آلات اور دیگر حساس ڈیجیٹل ڈیوائسز برآمد ہوئے، جو مبینہ طور پر حملوں سے متعلق رابطوں میں استعمال ہو رہے تھے۔

  • اسرائیل نے عراق پر بھی حملہ کردیا

    اسرائیل نے عراق پر بھی حملہ کردیا

    اسرائیل نے عراق پر بھی حملہ کردیا، عراقی پیرا ملٹری فورس حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور تین زخمی ہوگئے۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ایران کے ساتھ ساتھ عراق پر بھی حملہ کردیا، عراقی پیرا ملٹری فورس حشد الشعبی کے ہیڈکوارٹر پر حملے میں ایک شخص جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔رپورٹ کے مطابق عراق کی فضاؤں میں لڑاکا طیارے اور میزائل دیکھے گئے، میزائل اور طیارے اسرائیلی سمت سے عراق میں داخل ہورہے ہیں۔