Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    دہشت گردی کے خلاف جنگ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی

    جیسے ہی سال 2025 اختتام کی جانب بڑھا، پاکستان کو دہشت گردی کی ایک نئی اور شدید لہر کا سامنا کرنا پڑا، جس میں عسکریت پسند گروہوں نے دوبارہ منظم ہو کر تازہ حملوں کی کوشش کی۔ تاہم، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی مضبوط اور پُرعزم قیادت میں، پاکستان کی بہادر سیکیورٹی فورسز نے اللہ کے فضل و کرم سے اس سال کو دہشت گردوں کے لیے ’’سالِ احتساب‘‘ میں تبدیل کر دیا۔

    چیف آف ڈیفنس فورسز،آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن عزمِ استحکام کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی جامع حکمتِ عملی جس میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ، فضائی کارروائیاں اور زمینی آپریشنز شامل ہیں،نے دہشت گرد نیٹ ورکس کی کمر توڑ دی اور بھارت کی پشت پناہی یافتہ گروہوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ان کامیابیوں سے نہ صرف پاکستان کی داخلی سلامتی مضبوط ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کا وقار بھی بڑھا۔

    ایک اہم سنگِ میل پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی غیر مستقل رکنیت کے لیے 2025-2026 کی مدت کے لیے انتخاب ہے، جو جون 2024 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے انتخابات میں 182 ووٹ حاصل کر کے ممکن ہوا۔ یہ سلامتی کونسل میں پاکستان کی آٹھویں مدت ہے، جو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں اور کاوشوں کا عالمی اعتراف ہے۔ یہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کے نمایاں کردار کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ جولائی 2025 میں پاکستان نے سلامتی کونسل کی ماہانہ صدارت سنبھالی، جس کے ذریعے فیلڈ مارشل منیر کی قیادت میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا موقع ملا۔ اس منصب نے پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف عالمی پالیسی سازی اور ابھرتے خطرات سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، جو ان کی حکمتِ عملی کی مؤثریت کا واضح ثبوت ہے۔

    دو دہائیوں سے زائد عرصے سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور ثابت قدم جنگ لڑ رہا ہے۔ بے پناہ چیلنجز کے باوجود، سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیاں اور فوج و عوام کے درمیان ناقابلِ شکست رشتہ دشمن کے عزائم کو ناکام بناتا رہا ہے۔سال 2025 میں دہشت گردی کے خلاف جنگ مزید شدت اختیار کر گئی، تاہم حملوں میں اضافے کے باوجود دہشت گردوں کو پہنچنے والا نقصان تین گنا بڑھ گیا، جو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور اعلیٰ عسکری حکمتِ عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2025 کے پہلے 11 ماہ کے دوران تقریباً 1,118 دہشت گرد واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے۔ ان میں سے 68 فیصد واقعات خیبر پختونخوا جبکہ 28 فیصد بلوچستان میں پیش آئے۔سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے، جن کے نتیجے میں 2024 کے مقابلے میں دہشت گردوں کی ہلاکتوں میں 122 فیصد اضافہ ہوا۔ مجموعی طور پر 2,115 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو 2015 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ شاندار کامیابی فیلڈ مارشل منیر کی عملی اور انٹیلی جنس برتری کو واضح کرتی ہے۔اس کے علاوہ 497 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 83 فیصد اضافہ ہے۔

    بدقسمتی سے، تقریباً 664 سیکیورٹی اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا جبکہ 1,025 زخمی ہوئے۔ شہری جانی نقصان میں 580 شہدا اور 982 زخمی شامل ہیں۔یہ قربانیاں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کی علامت ہیں۔ فورسز نے دہشت گردوں کے سیکڑوں ٹھکانے، اسلحہ کے ذخیرے اور بارودی مواد تباہ کیا۔خودکش حملوں میں 53 فیصد اضافہ (26 واقعات) دیکھا گیا، تاہم 80 فیصد سے زائد حملے ناکام بنا دیے گئے۔ بڑھتے ہوئے چیلنجز کے پیش نظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے آپریشن عزمِ استحکام (جون 2024 میں آغاز) کو ترجیح دی، جس میں عسکری کارروائیوں کے ساتھ سماجی و معاشی ترقی اور سرحدی سیکیورٹی کو بھی مربوط کیا گیا۔یہ جامع حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہوئی، جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم اور رسد کی لائنیں منقطع کی گئیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، لکی مروت اور کاچھی جیسے اضلاع میں ہدفی کارروائیاں کی گئیں۔ فروری 2025 تک 706 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے تھے۔ صرف بنوں میں 168 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے 170 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا، جو جدید جنگی مہارت پر فیلڈ مارشل منیر کی دسترس کو ظاہر کرتا ہے۔

    اہم جھلکیاں

    قلات آپریشن (28 دسمبر 2025): بھارت کی پشت پناہی یافتہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، جس میں متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں وسیع پیمانے پر کارروائیاں، 1,500 سے زائد واقعات میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے گئے۔یرہ اسماعیل خان میں دسمبر کے آپریشنز میں 13 ٹی ٹی پی دہشت گرد ہلاک ہوئے

    30 دسمبر 2025، افغانستان سے دراندازی کی کوشش کرنے والے 45 خوارج کو ناکام بنا دیا گیا۔

    مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران، جو انسدادِ دہشت گردی کی وسیع کوششوں سے جڑی تھی، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے فیصلہ کن کامیابی حاصل کی، جس پر عالمی سطح پر اسٹریٹجک مہارت کو سراہا گیا۔اس کامیابی سے سلامتی کونسل کی رکنیت کے لیے پاکستان کے مؤقف کو مزید تقویت ملی۔

    2,115 ہلاک دہشت گردوں میں اکثریت ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سے تعلق رکھنے والوں کی تھی، جنہیں مالی وسائل، بھرتی اور لاجسٹکس کو ہدف بنا کر ختم کیا گیا، جو طویل المدتی کامیابی کی بنیاد ہے۔مجموعی طور پر، اگرچہ دہشت گرد سرگرمیوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہوا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے دشمن کو 134 فیصد زیادہ نقصان پہنچایا۔ ابھی بھی چیلنجز موجود ہیں، جن میں افغانستان سے سرحد پار دراندازی، ڈیجیٹل دہشت گردی اور معاشی دباؤ شامل ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر، امریکاپاکستان انسدادِ دہشت گردی مذاکرات کے دوران امریکا نے بی ایل اے، داعش خراسان اور ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا۔

    سعودی عرب نے فیلڈ مارشل منیر کو شاہ عبدالعزیز میڈل سے نوازا۔گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 نے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، جبکہ سلامتی کونسل کی رکنیت کو ان کا براہِ راست نتیجہ قرار دیا، جس سے عالمی امن میں پاکستان کے کردار کو مزید وسعت ملی۔آنے والے وقت میں ترجیحات میں غیر قانونی افغان باشندوں کی بے دخلی، سوشل میڈیا کی نگرانی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کا تسلسل شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی رہنمائی میں مضبوط سرحدی باڑ، ڈرون ٹیکنالوجی اور کمیونٹی پروگرامز دہشت گردی کے مکمل خاتمے کی راہ ہموار کریں گے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہو کر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔ حملوں میں اضافہ دشمن کی بوکھلاہٹ کا ثبوت ہے۔ اندرونی و بیرونی گھیراؤ کی تمام کوششوں کے باوجود، پاکستان کی دانا قیادت اور شہدا کی قربانیوں نے دشمن کے منصوبے چکناچور کر دیے ہیں۔ اللہ کے فضل سے دشمن ہمیشہ شکست خوردہ رہے گا۔
    پاکستان زندہ باد!

  • وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    وادیٔ تیراہ میں کلیئرنس آپریشن کی تیاریاں مکمل، 10 جنوری تک آبادی کے انخلا کی ہدایت

    خیبر پختونخواہ کے قبائلی ضلع خیبر کی حساس وادیٔ تیراہ میں ایک مرتبہ پھر کلیئرنس آپریشن کی بازگشت سنائی دینے لگی ہے، جہاں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے امن و امان کی بحالی کے لیے فیصلہ کن اقدامات کا اعلان کر دیا ہے۔ مجوزہ کلیئرنس آپریشن کا مقصد وادیٔ تیراہ کو دہشتگرد عناصر، منشیات فروشوں اور غیرقانونی طور پر مقیم افغان باشندوں سے مکمل طور پر پاک کرنا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی خدشات اور حالیہ حالات کے پیش نظر وادیٔ تیراہ میں امن و استحکام کی بحالی اب ناگزیر ہو چکی ہے، جس کے لیے مرحلہ وار اور جامع حکمت عملی کے تحت کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ آپریشن سے قبل علاقے کو مکمل طور پر آبادی سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔انتظامیہ کی جانب سے مقامی آبادی کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ 10 جنوری تک وادیٔ تیراہ کو مکمل طور پر خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے اور آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔

    متاثرہ افراد کے لیے حکومت نے مالی معاونت اور معاوضے کے جامع پیکج کا اعلان بھی کیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق نقل مکانی کرنے والی ہر فیملی کو 2 لاکھ 50 ہزار روپے کی فوری مالی امداد دی جائے گی، جبکہ گھروں کے نقصان کی صورت میں 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اپریل تک ہر متاثرہ خاندان کو ماہانہ 50 ہزار روپے وظیفہ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ بے گھر ہونے والے افراد کو معاشی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

    اس سلسلے میں وادیٔ تیراہ میں سیکیورٹی اداروں اور قبائلی مشران پر مشتمل 24 رکنی جرگے کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پا گیا ہے۔ جرگے نے کلیئرنس آپریشن اور 10 جنوری سے نقل مکانی کے فیصلے پر اتفاق کیا ہے۔ قبائلی مشران نے حکومت کے اقدامات کو علاقے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ریاست وادیٔ تیراہ میں دیرپا امن، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کلیئرنس آپریشن کے بعد علاقے میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات کی بحالی اور معمولاتِ زندگی کی بحالی پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی۔انتظامیہ اور سیکیورٹی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں، مقررہ تاریخ تک نقل مکانی یقینی بنائیں اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔

  • بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے ملاقات اور گفتگو میں کہا ہے کہ سول سوسائٹی کا پروپیگنڈے کے توڑ میں مثبت اور تعمیری کردار قابلِ تحسین ہے، ذاتی و محدود سیاسی ایجنڈوں کو مسترد کرنا ہوگا،وفاقی و صوبائی حکومتوں کے عوام دوست اقدامات بلوچستان کی ترقی کا باعث بن رہے ہیں، بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کو عوام کے فائدے کے لیے بروئے کار لایا جا رہا ہے، ذاتی اور سیاسی مفادات پر مبنی ایجنڈوں کو مسترد کرنا روشن مستقبل کیلئے ضروری ہے،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی عوام دوست پالیسیوں کو سراہتا ہوں،بلوچستان کی ترقی پاکستان کی خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے، بھارت کے حمایت یافتہ عناصر بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،سیکیورٹی فورسز دشمن عناصر کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں،پاکستان کی علاقائی سلامتی اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جی ایچ کیو میں 18ویں نیشنل ورکشاپ آن بلوچستان کے شرکاء سے تبادلۂ خیال کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے عوام کی قربانیوں، حب الوطنی اور صوبے کی پاکستان کی ترقی میں کلیدی حیثیت کو اجاگر کیا۔ وفاقی و صوبائی حکومتوں کی عوامی فلاح پر مبنی ترقیاتی کوششوں، سول سوسائٹی کے مثبت کردار اور پروپیگنڈے کے مؤثر تدارک کو سراہا۔ انہوں نے بھارتی سرپرستی میں تخریب کاری کو ناکام بنانے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کے لیے سخت اور فیصلہ کن ردعمل پر زور دیا۔

  • 2025 کا فاتح پاکستان،2026 میں امت کا پشتی بن کے ابھرے گا ،خالد مسعود سندھو

    2025 کا فاتح پاکستان،2026 میں امت کا پشتی بن کے ابھرے گا ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ 2025 کا فاتح پاکستان ،2026 میں امت کا پشتی بن کے ابھرے گا ،مرکزی مسلم لیگ خدمت کی سیاست اور بقائے پاکستان کی تحریک جاری رکھے گی، عوام کو قیادت کا اختیار دے کر بلدیاتی نظام کے ذریعہ عوامی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ کے بعد پاکستان کو عالمی سطح پر غیر معمولی عزت اور وقار حاصل ہوا ہے اور آج دنیا کے بڑے مسائل پاکستان کے کردار اور سفارتی کوششوں کے ذریعے حل ہو رہے ہیں، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے کہا تھا کہ ایک دن پاکستان دنیا کا مرکز بنے گا،یہ وہی پاکستان ہے، آج دنیا پاکستان کے مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار کو تسلیم کر رہی ہے،مرکزی مسلم لیگ اسی پاکستان کو مزید مضبوط، باوقار اور مستحکم بنانے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی،مرکزی مسلم لیگ معاشرے کی اصلاح، سیاسی انتشار کے خاتمے اور ملکی سلامتی کے لیے عملی کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔2026 میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھیں‌ گے، کارکن تیاری رکھیں 2026 کے بلدیاتی انتخابات میں بھر پور طریقے سے حصہ لیں گے،انٹراپارٹی انتخابات کا تسلسل بھی جاری رہے گا،گلی محلے کی سطح پر ملک بھر میں خدمت کی سیاست نظر آئے گی، مرکزی مسلم لیگ پاکستان کو ترقی، استحکام اور عالمی قیادت کی راہ پر گامزن رکھنے کے لیے اپنا کردار پوری ذمہ داری کے ساتھ ادا کرتی رہے گی، پاکستان سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک کی معیشت مضبوط و مستحکم ہو گی،مرکزی مسلم لیگ نے یوم تاسیس کے پروگرام میں قرارداد بقائے پاکستان پیش کر دی،ہم قوم کو متحد،ملکی دفاع کے لئے تیارو بیدار کریں گے،اہل کشمیر و فلسطین کی آزادی کے لئے دعا گو ہیں،

  • شرجیل میمن نے کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا کیا افتتاح

    شرجیل میمن نے کراچی میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا کیا افتتاح

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے شہر میں ڈبل ڈیکر بس سروس کا افتتاح کیا۔

    افتتاحی تقریب کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ انہوں نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ دسمبر 2025 تک کراچی کی سڑکوں پر ڈبل ڈیکر بسیں چلیں گی اور آج 31 دسمبر کو یہ وعدہ پورا ہو گیا ہے۔ انہوں نے پوری قوم کو نئے سال کی پیشگی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نئے سال میں سندھ حکومت کی کوشش ہے کہ کراچی سے شروع ہونے والے سندھ کے عوام کو زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

    انہوں نے کہا کہ آج کراچی میں ڈبل ڈیکر بسوں کا تجرباتی آغاز ہو رہا ہے۔ کل سے لوگ ان پر سرکاری طور پر سفر کر سکیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر 2026 میں کراچی کی ہر بڑی سڑک پر ڈبل ڈیکر بسیں متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں، اگلے ہفتے سے کراچی سمیت سندھ بھر میں الیکٹرک وہیکل بسوں کے نئے روٹس بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے مطابق ٹرانسپورٹ عوام کی بنیادی ضرورت ہے کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کاروبار، روزگار اور تعلیم کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ٹرانسپورٹ کے منصوبے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ایئر کنڈیشنڈ بسیں، کم کرایہ والی بسیں، اور سبسڈی دینے کا مقصد پبلک ٹرانسپورٹ کو لوگوں کے لیے مزید قابل رسائی بنانا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کراچی میں روزانہ تقریباً 15 لاکھ افراد پیپلز بس سروس کے ذریعے سفر کرتے ہیں جبکہ 75 ہزار افراد اورنج لائن اور گرین لائن بی آر ٹی سروسز استعمال کرتے ہیں۔ ان راستوں کے انضمام سے ایک لاکھ اضافی افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر مختلف روٹس پر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو بڑھایا جا رہا ہے، سندھ کے ہر ضلع میں ہر سڑک پر بس سروس متعارف کرانے کی کوششیں جاری ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی شہر کے لیے بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ سندھ کابینہ نے کراچی کے صنعتی علاقوں میں سڑکوں کے لیے 9 ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کی ہے۔ کئی میگا پراجیکٹس مارچ 2026 تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس وقت شاہراہ بھٹو، لنک روڈ، ریڈ لائن بی آر ٹی، ییلو لائن بی آر ٹی، اور دیگر منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سڑکیں ایک چیلنج بنی ہوئی ہیں تاہم کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ذاتی نگرانی میں ان کی بہتری کے لیے مسلسل کام جاری ہے۔

    تقریب میں ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد اور سندھ حکومت کے ترجمان مصطفیٰ عبداللہ بلوچ نے بھی شرکت کی۔
    افتتاحی تقریب میں سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، کمشنر کراچی حسن نقوی، منیجنگ ڈائریکٹر ایس ایم ٹی اے کنول نظام بھٹو، سی ای او پیپلز بس سروس صہیب شفیق، آپریشنل منیجر پیپلز بس سروس عبدالشکور اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

  • ڈیرہ اسماعیل خان ، دہشتگردوں کے مبینہ سہولت کار گرفتار، اسلحہ اور بارود برآمد

    ڈیرہ اسماعیل خان ، دہشتگردوں کے مبینہ سہولت کار گرفتار، اسلحہ اور بارود برآمد

    ڈیرہ اسماعیل خان: کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے پہاڑپور کے مختلف پہاڑی علاقوں میں ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے 21 مبینہ سہولت کاروں کو گرفتار کرلیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر خطرناک مواد بھی برآمد ہوا ہے۔

    سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے سیدو والی، برز والی، علی ونڈا، چندہ، کالی ونڈا، گڑھ پیر امام شاہ، گلوٹی اور پانیالہ کے پہاڑی علاقوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن انجام دیا۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ترجمان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران علاقے کو گھیرے میں لے کر تفصیلی سرچ آپریشن کیا گیا، جس کے نتیجے میں 21 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں دہشت گردوں کے مبینہ سہولت کار بھی شامل ہیں۔ گرفتار افراد کے قبضے سے برآمد ہونے والا اسلحہ اور بارود مزید تحقیقات کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

    سی ٹی ڈی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوراً متعلقہ حکام کو دیں تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مزید نقصان پہنچایا جا سکے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ آپریشنز آئندہ بھی جاری رہیں گے اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی والدہ چل بسیں

    سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی والدہ چل بسیں

    سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی والدہ انتقال کر گئیں۔

    مرحومہ طویل عرصے سے بیمار تھیں اور انہیں علاج کے لیے سی ایم ایچ لاہور میں داخل کیا گیا تھا، جہاں وہ چل بسیں۔مرحومہ کی نماز جنازہ یکم جنوری 2026 کو ڈی ایچ اے فیز-8، لاہور میں ادا کی جائے گی۔ نماز جنازہ بعد نماز ظہر، تقریباً 1:30 بجے ہوگی۔ نماز جنازہ میں سیاسی، عسکری اور سماجی شخصیات کے شرکت کے امکانات ہیں، جبکہ اہل خانہ اور قریبی عزیز و اقارب بھی شرکت کریں گے۔

  • ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کا وزیراعظم کو خط

    ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کا وزیراعظم کو خط

    ایکسپورٹرز کی جانچ پڑتال کے معاملے پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم کو خط لکھ دیا۔ کاپی وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر اعلیٰ حکام کو ارسال کردی گئی۔

    برآمدکنندگان کی جانچ پڑتال پر پاکستان ریٹیل بزنس کونسل نے شدید تحفظات کا اظہار کردیا۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کی نئی ہدایات سے برآمدی شعبے میں بے چینی بڑھ رہی ہے، ٹیکس نظام میں تبدیلی کے بعد ایکسپورٹرز کی اضافی اسکروٹنی کاروباری اعتماد کیلئے خطرہ ہے۔ریٹیل بزنس کونسل نے مزید کہا کہ مہنگی بجلی، بلند شرح سود کے بعد سخت نگرانی برآمدات کیلئے نقصاندہ ہے، موجودہ اقدامات سے برآمدی سرگرمیاں تجارتی طور پر ناقابل عمل ہو رہی ہیں، برآمد کنندگان کو ہراساں کرنے کے بجائے سہولت فراہم کی جائے۔خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پالیسیوں کے باعث برآمد کنندگان کاروبار بند کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ریٹیل بزنس کونسل نے وزیراعظم سے فوری مداخلت اور واضح پالیسی گائیڈ لائنز کا مطالبہ کردیا۔

  • خوشی کا جشن ذمہ داری کے ساتھ منائیں،آصفہ بھٹو کا سال نو پر پیغام

    خوشی کا جشن ذمہ داری کے ساتھ منائیں،آصفہ بھٹو کا سال نو پر پیغام

    اسلام آباد: خاتون اول اور رکن قومی اسمبلی بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئے سال کی خوشیوں کو ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ منائیں۔

    بی بی آصفہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘ پر جاری کیے گئے پیغام میں کہا "جیسا کہ ہم اس سال کو الوداع کہہ رہے ہیں اور 2026 کو خوش آمدید کہتے ہیں، آئیے ذمہ داری سے جشن منانا یاد رکھیں۔”انہوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ ہوائی فائرنگ ہر سال معصوم جانوں کے ضیاع کا سبب بنتی ہے اور خوشی کے لمحات کو المیے میں بدل سکتی ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ بے حس شوٹنگ سے نہ صرف قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں بلکہ خاندان اور معاشرے پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    بی بی آصفہ نے شہریوں پر زور دیا کہ نئے سال کی خوشی محفوظ طریقے سے منائی جائے اور جشن کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دے تاکہ خوشیوں کا جشن کسی سانحے میں تبدیل نہ ہو۔

  • زبان کو لگام دیں، بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں ورنہ.عطا تارڑکا شفیع اللہ جان کو پیغام

    زبان کو لگام دیں، بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں ورنہ.عطا تارڑکا شفیع اللہ جان کو پیغام

    معاون خصوصی خیبرپختونخوا شفیع اللہ جان کے بیان پر سیاسی ماحول ایک بار پھر گرم، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے عظمیٰ بخاری سے متعلق بیان کو غیر شائستہ اور قابل مذمت قرار دے دیا۔

    عطاء اللہ تارڑ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شفیع اللہ جان کی ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی گھٹیا گفتگو پہلے بھی کی گئی اور اب بھی کی جارہی ہے، جو کسی صورت قابل قبول نہیں، اہم عہدے پر بیٹھے شخص کو اس طرح کی زبان زیب نہیں دیتی۔ ان لوگوں سے کہوں گا کہ اپنی زبان کو لگام دیں، بہن بیٹیوں کی عزت کرنا سیکھیں، ورنہ ہمیں عزت کرانا بھی آتی ہے۔

    قبل ازیں مریم اورنگزیب نے ترجمان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے خواتین سے متعلق بیان کی مذمت کردی۔ کہا کہ پی ٹی آئی کی سوچ زہریلی ہے۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا ایسا مائنڈ سیٹ جو بانی پی ٹی آئی نے تشکیل دیا اور معمول بنایا،یہ سب اتفاق نہیں، یہ سکھایا گیا اور دانستہ طور پر فروغ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ افسوسناک اور دل دہلا دینے والا ہے کہ یہ سب خیبرپختونخوا میں ہورہا ہے، خیبرپختونخوا وہ خطہ ہے جو خواتین کے احترام کیلئے جانا جاتا ہے، یہ رویہ خواتین پر تشدد کو جواز دیتا اور بدتمیزی کو سیاسی طرز عمل بناتا ہے۔