Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کا عراق میں کرد گروپوں پر حملہ

    ایران کی جانب سے عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں کرد گروہوں پر ڈرون حملے کیے گئے ہیں، جن کی ذمہ داری آئی آر جی سی نے قبول کرلی ہے۔

    ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ے مطابق آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود گروہوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان کارروائیوں کے دوران 30 ڈرونز فضا میں بھیجے گئے، جنہوں نے مبینہ طور پر ہدف بنائے گئے مقامات کو تباہ کر دیا۔آئی آر جی سی کے مطابق یہ کارروائی ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف کی گئی

    دوسری جانب کرد تنظیموں نے حملوں کی تصدیق تو کی ہے، مگر ایرانی دعوے میں بتائی گئی ڈرونز کی تعداد کو مسترد کر دیا ہے۔ ے ڈی پی آئی نے کہا ہے کہ ان کے ٹھکانوں پر صرف تین ڈرون حملے کیے گئے، جن کے نتیجے میں ایک شخص معمولی زخمی ہوا۔اسی طرح پی اے کے نے بھی تصدیق کی کہ ان کے ایک مرکز کو ایک ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

    عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں ایرانی مخالف کرد گروہ طویل عرصے سے سرگرم ہیں، اور ماضی میں بھی ایران ان پر سرحد پار حملوں کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ تازہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد اور اربیل کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  • ایران  کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران کا متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ

    ایران نے متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ فجیرہ پر حملہ کیا ہے۔
    یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا بحری ایندھن کا مرکز ہے جو بحری جہازوں کو ہرمز کے آبنائے کو بائی پاس کرنے کی اجازت دیتا ہے۔متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع اہم تجارتی مرکز فجیرہ بندرگاہ نے حملے کے بعد اپنی تمام سرگرمیاں فوری طور پر معطل کر دی ہیں۔یاد رہے کہ فجیرہ پورٹ کو اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے کہ یہ آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر، بحیرۂ عمان کے راستے، محدود پیمانے پر تیل کی فروخت اور ترسیل کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایران اب براہ راست دنیا کے اہم ترین توانائی کے راستوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

    مشرقِ وسطیٰ میں جاری امریکہ،اسرائیل اور ایران کشیدگی کے چوتھے روز خطے کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی ایک بڑی آئل ریفائنری اور قطر میں امریکی فوجی اڈے کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس کے بعد علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی ڈرونز نے Fujairah کے آئل زون کو نشانہ بنایا، جو مشرقِ وسطیٰ کا سب سے بڑا آئل ٹریڈنگ ہب تصور کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ڈرون کو فضا میں ہی ناکارہ بنا دیا گیا تاہم اس کے ملبے کے گرنے سے آگ بھڑک اٹھی۔اماراتی حکام کے مطابق آگ پر فوری طور پر قابو پا لیا گیا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تیل کی ترسیل اور ذخیرہ کرنے کے عمل کو معمول کے مطابق جاری رکھنے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ فجیرہ خطے میں ریفائنڈ آئل مصنوعات کے سب سے بڑے کمرشل ذخائر موجود ہیں، اس لیے اس حملے کو عالمی تیل منڈی کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔

    ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قطر میں واقع Al Udeid Air Base کو بھی نشانہ بنایا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ اس اڈے پر بھی حملے کیے۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے کی عمارت پر بھی دو ایرانی ڈرونز ٹکرانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سعودی حکام نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "بلا جواز اور بزدلانہ اقدام” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں نئی پوزیشنز سنبھالنے کے لیے زمینی پیش قدمی کی ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کے جنگجوؤں کے خاتمے کے لیے کی جا رہی ہے۔اس سے قبل اسرائیل نے تہران میں ایرانی صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

    فرانس نے متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود میں جنگی طیارے تعینات کر دیے ہیں جبکہ قبرص کے دفاع کے لیے بحری جہاز بھی روانہ کیے گئے ہیں، جہاں ایک برطانوی فضائی اڈے کو حملے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ایرانی جنرل نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو تہران آبنائے ہرمز میں "ہر جہاز کو جلا دے گا”۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی تیل ترسیل کا اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل گزرتا ہے۔ کسی بھی قسم کی بندش عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

  • افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    افغانستان سے پاکستان دہشتگردی کیلئے آنے والا”خودکش”بمبار گرفتار،اعتراف جرم

    دہشتگرد وسیم عرف بلال، جو 2008 میں ننگرہار میں پیدا ہوا، نے 2023 میں قرآن حفظ کیا۔ یہ ایک عظیم کامیابی تھی جو اسے امن اور انسانیت کی خدمت کی طرف لے جا سکتی تھی، مگر اسے جلال آباد کے ایک مدرسے میں تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے گروہ جماعت الاحرار سے وابستہ دہشتگردوں نے اپنے جال میں پھنسا لیا۔

    اسے 9 مئی 2024 کو اپنے مشن سے پہلے گرفتار کر لیا گیا۔دہشتگرد وسیم نے شونکرے، کنڑ میں دہشتگرد کمانڈروں احمد اور مفتی صدیق کے زیر نگرانی تربیت حاصل کی، جہاں 20 سے 25 بھرتی افراد اور تقریباً 100 خودکش بمبار موجود تھے۔ یہ پاکستان میں دہشتگردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کا واضح ثبوت ہے، جس کی نشاندہی پاکستان عالمی سطح پر بارہا کرتا رہا ہے اور جس کی تصدیق حالیہ 37ویں اقوام متحدہ مانیٹرنگ رپورٹ سمیت دیگر رپورٹس میں بھی ہوئی۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشتگرد وسیم کو پشاور کے حاجی کیمپ بس اسٹینڈ پر گرفتار کیا، جو دہشتگردی کی روک تھام میں پاکستان کی چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیت کا ثبوت ہے۔

    دہشتگرد گروہ جیسے فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار مذہب کا غلط استعمال کرتے ہیں جبکہ وہ مسلمانوں سمیت معصوم شہریوں، خواتین، بچوں، بزرگوں اور زخمیوں کو قتل کرتے اور ان کے روزگار تباہ کرتے ہیں۔ ان کا نظریہ پاکستانی قوم اور تمام مکاتب فکر کے 1,800 علماء کے متفقہ فیصلے کے مطابق مسترد ہے، جنہوں نے خوارج کے جہادی نظریے کو حرام قرار دیا۔ خوارج انسانیت اور اسلام دونوں کے دشمن ہیں۔ پاکستان کے ادارے ریاست اور حقیقی اسلام کے تحفظ کے لیے متحد ہیں۔دہشتگرد وسیم کابل سے اسمگلروں اور ہینڈلرز جیسے کمانڈر سربکف کے ساتھ پاکستان آیا۔ اس کی تعیناتی کے صرف پانچ دن کے اندر گرفتاری پاکستان کی اعلیٰ سطح کی چوکسی کو ظاہر کرتی ہے اور واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان میں تشدد کے ارادے سے داخل ہونے والا ہر شخص گرفتار اور سزا کا مستحق ہوگا۔

  • اسرائیل کا  تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیل کا تہران میں صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے جب آئی ڈی ایف نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے دارالحکومت تہران میں قائم صدارتی آفس اور اہم سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فضائی کارروائی کے دوران ایران کے صدارتی کمپاؤنڈ پر متعدد بم گرائے گئے۔ بیان کے مطابق یہ کارروائی ایرانی قیادت کے حساس مراکز کو ہدف بنانے کے لیے کی گئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کا مقصد ایران کی اعلیٰ سطحی فیصلہ سازی اور عسکری رابطہ نظام کو متاثر کرنا تھا۔اسرائیلی فوج نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے دفتر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا۔ یہ ادارہ قومی سلامتی اور دفاعی پالیسی سازی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق ان حملوں میں مخصوص اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاکہ "تزویراتی صلاحیت” کو کمزور کیا جا سکے۔

    تہران میں لیڈرشپ کمپلیکس پر 100 طیاروں سے حملہ کیا گیا،اسرائیلی فوج کے مطابق حملے میں صدارتی بیورو کو بھی نشانہ بنایا گیا،اسرائیلی فوج پچھلے 30 گھنٹے کے دوران ایران پر 2000 بم گرائے ہیں، ایران کے صدارتی دفتر اور سلامتی کونسل کی عمارت پر حملہ کیا ہے۔

    علاوہ ازیں ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور قطرمیں امریکی اڈے پر حملے کیے ہیں،دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ایران میں جانی نقصان میں اضافہ ہوگیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں میں جنگ کے آغاز سے اب تک جاں بحق افراد کی تعداد 787 تک پہنچ گئی۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیلی حملوں میں سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای سمیت متعدد اہم عسکری و سیاسی شخصیات شہید ہوگئیں، اسکول کی درجنوں بچیوں سمیت سیکڑوں شہری بھی حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

  • ابھی واضح نہیں قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی،شرجیل میمن

    ابھی واضح نہیں قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی،شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے جے آئی ٹی بنائی، کمیٹی 15 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ابھی واضح نہیں امریکی قونصل خانے پر احتجاج کے دوران کس نے فائرنگ کی تھی، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کرائم سین کو مانیٹرنگ کیا جائے گا، جے آئی ٹی کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔

    واضح رہے کہ کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر فائرنگ سے 10 مظاہرین جاں بحق ہوئے تھے۔کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کے معاملے پر پولیس نے سرکار کی مدعیت میں 3 مقدمات درج کرلئے، مقدمات میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

    ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کراچی میں امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج اور ہنگامہ آرائی کی گئی تھی۔کراچی پولیس نے سرکار کی مدعیت میں مقدمات درج کرلیے، جن میں قتل، اقدام قتل، دہشتگردی اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ ڈاکس تھانے میں پولیس انسپکٹر نند لال کی مدعیت میں درج کیا گیا،مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ امریکی قونصل خانے کے باہر احتجاج کیا گیا، کچھ افراد قونصل خانے میں گھس گئے، مظاہرین نے توڑ پھوڑ کی اور آگ لگانے کی کوشش کی،متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہجوم میں شامل چند عناصر نے فائرنگ کی، شرپسند افراد نے ٹریفک پولیس چوکی کو آگ لگائی۔

  • کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    کراچی پولیس کا ٹرمپ،نیتن یاہو،مودی پر مقدمے سے انکار،شہری عدالت پہنچ گیا

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج غربی ،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ،اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ،نریندر مودی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے پراسکیوشن ،ایس ایس پی کمپلین سیل کیماڑی اور ایس ایچ او ڈاکس کو نوٹس جاری کردئیے ،عدالت نےفریقین سے پانچ مارچ تک جواب طلب کرلیا ،درخواست گزار نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کئی برسوں سے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ اور لاکھوں ایرانی شہریوں کو دھمکیاں دے رہے تھے ، اسرائیل نے انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان میں افراتفری پیدا کی ہے ، سولہ فروری اور 25 فروری نریندری مودی نے افغان طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوند زادہ کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملہ کیا ہے ، امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر 300 سے زائد حملے کرکے ایران کے سپریم لیڈر کو شہید کیا ہے ،ایران پر حملے سے درخواست گزار اور لاکھوں مسلمان کو ذہنی ،جسمانی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے ،پولیس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ، اسرائیلی صدر نیتن یاہو ،نریندری مودی و دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا ہے،عدالت نے استدعا ہے کہ ایس ایچ او ڈاکس کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کا حکم دیا جائے ،

  • عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی درخواست پر نوٹس جاری

    عمران خان کی جیل سے اسپتال منتقلی درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر عائد اعتراضات دور کرتے ہوئے رجسٹرار آفس کو نمبر لگا کر دس مارچ کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کی ہدائت کر دی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزا کے خلاف اپیل میں متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کے ساتھ سماعت کی اور دوران سماعت اعتراضات دور کر دیے۔ عدالت نے کہا مرکزی اپیل کیوں نہ سنی جائے؟ سردار لطیف کھوسہ نے کہا بانی پی ٹی آئی کی صحت کا بھی معاملہ ہے۔ جسٹس ارباب محمد طاہر نے کہا ہم اپیل اور آپ کی درخواست دونوں سُن لیتے ہیں، ہم آپ کی اپیل پر فیصلہ کریں گے۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے کہا 2023 کی اپیلیں ہیں لیکن پیپر بک تیار نہیں۔ سردار لطیف کھوسہ نے استدعا کی کہ بانی پی ٹی آئی کی جیل سے اسپتال منتقلی کی درخواست پر تاخیر مت ہونے دیں وہ کل ہی لگا لیں اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا آرڈر بھی جاری کیا جائے۔

    جسٹس ارباب طاہر نے کہا آپ نے یہ استدعا اپنی متفرق درخواست میں کی ہے، ہم نے آپکی متفرق درخواست پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ پیپر بک تیار ہونے میں دو تین دن لگ جائیں گے، مرکزی اپیل آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر رہے ہیں، آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ آئیں

  • ایف سی بلوچستان نارتھ  نے دشمن کی  ابو طاہر  پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا

    ایف سی بلوچستان نارتھ نے دشمن کی ابو طاہر پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا

    ایف سی بلوچستان نارتھ کی بلوچستان کے گڈوانہ سیکٹر، ژوب میں افغان طالبان کے خلاف مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائیاں کامیابی سے جاری ہیں۔

    ایف سی بلوچستان نارتھ نے دشمن کی ایک اہم ابو طاہر پوسٹ پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے،کارروائی کے دوران دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ دشمن کی پوسٹ پر قبضے سے سیکیورٹی فورسز کی پوزیشن ایریا میں مزید مستحکم ہوئی ہے۔ پاک فوج نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید ٹیکنالوجی اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا،سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی دراندازی اور جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح مستعد ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختاری، سرحدوں کے تحفظ اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

  • ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ،امریکی فوجیوں کی ہلاکت،ٹرمپ کا جوابی کاروائی کا اعلان

    ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملہ،امریکی فوجیوں کی ہلاکت،ٹرمپ کا جوابی کاروائی کا اعلان

    ایرانی پاسداران انقلاب کا دعویٰ ہے کہ دبئی میں امریکی فوجیوں کے اجتماع پر حملہ کرکے 40 امریکی فوجیوں کو ہلاک اور 70 کو زخمی کردیا۔

    ایران کی جانب سے خلیجی علاقوں پر حملے تیز کردیئے گئے ہیں، قطر، یو اے ای، کویت، اردن پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے گئے۔دوحہ میں 5 دھماکے ہوئے، جس سے خوف و ہراس پھیل ہوگیا، یو اے ای پر بھی ایران کی جانب سے حملہ کیا گیا۔ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں امریکی فوجی اجتماع پر حملہ ہوا، حملہ اس وقت کیا جب 160 فوجی موجود تھے، جس میں 40 ہلاک اور 70 زخمی ہوئے۔

    دبئی کے قریب واقع المِنہاد میں آسٹریلوی فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے،غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آسٹریلیا کے وزیرِ دفاع رچرڈ مارلس نے تصدیق کی ہے کہ متحدہ عرب امارات میں قائم المِنہاد ایئر بیس کو ایران نے ڈرون حملے کا نشانہ بنایا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں تمام آسٹریلوی فوجی اہلکار محفوظ ہیں،رچرڈ مارلس کے مطابق اس حملے میں کسی آسٹریلوی اہلکار کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

    ریاض میں امریکی سفارت خانے نے حملے کی تصدیق کر دی،غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سفارت خانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارتخانے کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ سعودی دارالحکومت ریاض میں ڈپلومیٹک کوارٹر میں 2 نئے دھماکے سنے گئے تھے۔سعودی وزارت دفاع کے مطابق واقعے میں عمارت کو جزوی نقصان پہنچا تھا، عمارت خالی ہونے کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کویتی وزارت دفاع کا کہنا ہے ایرانی جارحیت کے آغاز سے لے کر اب تک ہم نے 178 بیلسٹک میزائل اور 384 ڈرونز کو روکا، قطر نے بھی 2 حملوں کو ناکام بنایا ہے۔اردن میں بھی امریکی اڈوں پر ڈرونز داغے گئے، قطری وزارت دفاع کے مطابق اب تک 101 بلیسٹک، 3 کروز میزائل اور 39 ڈرونز داغے گئے، سیکیورٹی فوسز نے 3 کروز، 98 بلیسٹک میزائل اور 24 ڈرونز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد جَلد جوابی کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکن ہے اس کے لیے ’زمینی فوج‘ بھیجنے کی ضرورت نہ پڑے،’نیوزنیشن‘ کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اب تک جاری جھڑپوں میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، حملے اور امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کا جواب جَلد دیا جائے گا

    ٹرمپ کا یہ بیان اِن کے پہلے مؤقف سے مختلف ہے کیونکہ اس سے قبل وہ کہہ چکے ہیں کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران میں زمینی فوج تعینات کرنے سے گریز نہیں کیا جائے گا تاہم اب اُنہوں نے اشارہ دیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں شاید اس کی ضرورت نہ پڑے۔

    علاوہ ازیں امریکا اور اسرائیل کی ایران میں خوفناک بمباری کا نشانہ بننے والے اسکول میں بچیوں سمیت جاں بحق 150 افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی،ایران کے شہر میناب میں جاں بحق ہونیوالی بچیوں کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی،امریکا اور اسرائیل کی اسکول پر بمباری سے بچیوں سمیت 150 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔

    دوسری جانب امریکی کمپنی ایمازون نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز پر حملے کی تصدیق کردی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ہمارے ڈیٹا سینٹرز کو نشانہ بنایا گیا،ایمازون نے بتایا کہ یو اے ای میں ہمارے 2 ڈیٹا سینٹرز کو براہ راست نشانہ بنایا گیا، حملے کے باعث ڈیٹا سینٹر کو بجلی کی سپلائی منقطع ہوگئی، ڈیٹا سینٹر میں آگ لگ گئی، بجھانے کیلئے پانی پھینکا تو مزید نقصان پہنچا،ایمازون کا کہنا ہے کہ ڈیٹا سینٹر پر حملے کے باعث ایمازون کلاؤڈ سروسز متاثر ہوئیں۔ گزشتہ روز مشرق وسطیٰ میں ایمازون کی سروسز متاثر ہوئی تھیں۔

  • آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے کا انکشاف

    آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے کا انکشاف

    آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کیلئے ٹریفک کیمروں کو ہیک کرنے کا انکشاف ہوا ہے،

    اسرائیلی انٹیلی جنس نے برسوں تک تہران میں ٹریفک کیمرے ہیک کیے رکھے، اسرائیل نے آیت اللہ خامنہ ای کی اجلاس میں شرکت کی نشاندہی ہونے پر انہیں نشانہ بنایا۔ برطانوی اخبار نے اسرائیل کی خفیہ کارروائی کا پردہ چاک کردیا۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای، ان کے محافظوں کی نقل حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی، کیمروں کی ویڈیوز خفیہ طور پر تل ابیب منتقل ہوتی رہیں، کمپاؤنڈ کے اندر اور پارکنگ پوائنٹس کی مسلسل نگرانی کی جاتی رہی، موبائل ٹاور جزوی غیرفعال ہونے سے حفاظتی عملہ لاعلم رہا۔