Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اسلام آباد پہنچ گئے

    متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النیہان ایک اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے،

    یو اے ای کے صدر کی پاکستان آمد پر ان کا شاندار تاریخی استقبال کیا گیا، پاکستانی حدود میں داخل ہوتے ہی پاک فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے یو اے ای کے صدر کے طیارے کو حصار میں لیا اور فضائی سلامی دی،بعد ازاں نور خان ائیر بیس پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وفاقی وزرا نے معزز مہمان کا پرتپاک استقبال کیا، متحدہ عرب امارات کے صدر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی اور گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

    دورے کے دوران شیخ محمد بن زید النیہان صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور دیگر اہم حکومتی و ریاستی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، توانائی، تجارت، دفاع، اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال متوقع ہے۔

    حکام کے مطابق اس دورے کو پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف باہمی تعاون کو مزید تقویت ملے گی بلکہ مختلف شعبوں میں مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور عوامی سطح پر تعلقات پہلے ہی مضبوط ہیں، اور یہ دورہ ان رشتوں کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔

  • پنجاب، مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والوں کے خلاف کاروائی کا فیصلہ

    لاہور: پنجاب کے سیکریٹری ہاؤسنگ نور الامین مینگل نے مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سنگین مسئلے میں ملوث افراد کے خلاف قید اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔

    سیکریٹری ہاؤسنگ نے اس حوالے سے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے والے عناصر کی نشاندہی کے لیے اسپیشل برانچ کی ٹیموں کی مکمل معاونت حاصل کی جائے۔ نور الامین مینگل نے مزید ہدایت کی کہ تمام منیجنگ ڈائریکٹرز واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسیاں) اپنے اپنے اضلاع میں سرگرم مافیا کا سراغ لگانے اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ واسا حکام فیلڈ میں نگرانی بڑھائیں، حساس مقامات کی نشاندہی کریں اور پولیس و دیگر اداروں کے ساتھ قریبی رابطہ رکھیں۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مین ہول کے ڈھکن چوری کرنے میں نشے کے عادی افراد کی تعداد نسبتاً کم جبکہ منظم اور پیشہ ور مافیا زیادہ ملوث ہے، جو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ ڈھکن چوری کر کے انہیں فروخت کرتے ہیں۔

    انہوں نے اعلان کیا کہ مین ہول مافیا کو قابو میں لانے کے لیے سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے، جن کے تحت نہ صرف چوری میں ملوث افراد بلکہ خرید و فروخت میں شامل تمام عناصر کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ نور الامین مینگل کا کہنا تھا کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت یا نرمی برداشت نہیں کی جائے گی۔سیکریٹری ہاؤسنگ نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں کھلے یا غائب مین ہول ڈھکنوں کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ بروقت اقدامات کیے جا سکیں اور کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔

  • پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی،سماعت ملتوی

    پشاور ہائیکورٹ، پی ٹی آئی رہنماؤں کے 22 مقدمات کی تفصیلات طلبی کیسز پر لارجر بینچ کی سماعت ملتوی کر دی گئی

    پشاور ہائیکورٹ، سماعت چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ، جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے کی،ایڈوکیٹ جنرل، ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور درخواست گزاران کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد نے درخواستوں پر سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ نے وقت پر کیوں سماعت ملتوی کرنے کی درخواست جمع نہیں کرائی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ان کے بیٹے کی شادی ہے اس لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی ہے،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وکیل درخواست گزاران کیا چاہتے ہیں،وکیل اسد قیصر نے کہا کہ اگر پراسیکیوٹر جنرل ملتوی کرنا چاہتے ہیں، کوئی اعتراض نہیں،بس ہماری حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جائے،ہمیں نہیں معلوم کہ لارجر بینچ کو کس پر گائیڈ کرنا ہے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ آپ کی جو درخواستیں ہیں، اس پر ہی لارجر بینچ کو اسسٹ کیا جائے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ ہمیں ضمانت درخواست کی وجوہات اور ٹیریٹوریل جریسڈکشن پر اسسٹ کیا جائے، جسٹس ارشد علی نے کہا کہ اس سے قبل بھی پنڈی سے لوگ آئے اور مقدمات کی تفصیلات ہم سے مانگ رہے تھے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ درخواست گزاران کو جب ریلیف دیا جاتا ہے وہ کیا متعلقہ اداروں کے آگے پیش ہوتے ہیں،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہاں سے ریلیف لے کر سب پیش نہیں ہوتے، کچھ درخواست گزاران ہی ہوئے تھے، چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے کہا کہ اگر کوئی یہاں سے ضمانت لیتا ہے اور اس کو صحیح استعمال نہیں کرتا، وہ سزا کا مرتکب ہوگا، عدالت نے کہا کہ پراسیکیوٹر جنرل اسلام آباد کی غیر موجودگی کی وجہ سے سماعت ملتوی کی جاتی ہے، وکیل درخواست گزاران اگلی سماعت پر اپنی مکمل رپورٹس جمع کروائیں،جو درخواست گزاران نے متعلقہ عدالت سے رجوع کر چکے ہیں، ان کی حفاظتی ضمانت میں توسیع کی جاتی ہے،جن درخواست گزاران نے متعلقہ عدالتوں سے رجوع نہیں کیا وہ تین دن میں وہاں پیش ہو جائیں،

  • بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں انسدادِ پولیو مہم، 3 ہزار والدین کے انکار کا انکشاف

    بلوچستان میں بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے بچانے کے لیے جاری انسدادِ پولیو مہم کے دوران قطرے پلانے سے انکار کرنے والے والدین کی تعداد سامنے آ گئی ہے۔

    ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) حکام کے مطابق صوبے بھر میں 15 سے 21 دسمبر تک جاری رہنے والی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کامیابی کے ساتھ مکمل کی گئی۔ای او سی حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کے دوران صوبے میں مقررہ ہدف کا 99 فیصد حاصل کر لیا گیا، جو مجموعی طور پر ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق پولیو ٹیموں نے دور دراز، حساس اور دشوار گزار علاقوں میں بھی گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے۔تاہم اس کامیابی کے باوجود ایک تشویشناک پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ای او سی حکام کے مطابق بلوچستان میں مجموعی طور پر 3 ہزار والدین ایسے رپورٹ ہوئے جنہوں نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ انکاری والدین کی بڑی تعداد مختلف وجوہات کی بنا پر ویکسینیشن سے گریز کرتی ہے، جن میں غلط فہمیاں، افواہیں اور آگاہی کی کمی شامل ہیں۔

    صوبائی حکام کے مطابق انکاری کیسز پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور متعلقہ علاقوں میں علماء، مقامی عمائدین اور صحت کے ماہرین کے ذریعے آگاہی مہم تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ والدین کو پولیو ویکسین کی افادیت اور بچوں کی صحت پر اس کے مثبت اثرات سے آگاہ کیا جا سکے۔ پولیو کے مکمل خاتمے تک انسدادِ پولیو مہمات جاری رکھی جائیں گی اور انکاری والدین کو قائل کرنے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اپنائی جائے گی۔ حکام کے مطابق پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جس سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ بروقت ویکسینیشن ہے، اس لیے والدین کا تعاون نہایت ضروری ہے۔

  • اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ میں پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کی گئی کارروائیوں کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے ڈی آر سی کمیٹی کے ذریعے حاصل کیا گیا قبضہ فوری طور پر واپس کرنے کا حکم دے دیا۔

    لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے محمد علی کی درخواست پر سماعت کی جس دوران پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت قبضہ حاصل کرنے والا شہری بھی عدالت میں پیش ہوا، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے قبضہ حاصل کرنے والے شہری کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ غلط فیصلے کا دفاع کیسے کر سکتے ہیں ،وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سیز کے ماتحت قائم کمیٹیوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلے قبضہ واپس کریں، پھر مزید بات ہوگی، کیوں نہ کمیٹی ممبران کے خلاف کارروائی شروع کی جائے، وکیل خود تسلیم کر رہا ہے کہ ڈی سیز نے اختیارات سے تجاوز کیا، اگر پٹواری وقت پر کام کرتا تو یہ معاملہ پیدا ہی نہ ہوتا،سسٹم کو بائی پاس کیا جائے گا تو ایسے مسائل جنم لیں گے۔

    سماعت کے دوران وکیل نے کہا کہ اگر سسٹم سے انصاف نہیں ملے گا تو لوگ کہاں جائیں؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اخباری خبروں کے لیے عدالت میں ڈائیلاگ نہ ماریں، وہ جانتی ہیں کہ عدالتوں میں کتنے پرانے کیسز زیر التوا ہیں،وکیل نے بتایا کہ دیپالپور میں 40 ایکڑ پراپرٹی پر مخالفین قابض ہیں جبکہ مخالف فریق کے وکیل نے کہا کہ ڈی آر سی کمیٹیز نے 27 دن میں قبضہ دلایا، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قبضے کا آرڈر پاس کس نے کیا؟ کمیٹی کا قبضے کا آرڈر مس کنڈکٹ کے زمرے میں آتا ہے، وکیل نے تسلیم کیا کہ ڈی سیز نے غلط فیصلہ دیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ خود مان رہے ہیں کہ ان کے پاس قانون کے تحت فیصلے کا اختیار ہی نہیں تھا،عدالت نے واضح کیا کہ ڈی سی اس معاملے میں فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں اور اصل سوال یہ نہیں کہ درخواست گزار پراپرٹی کا مالک ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ڈی سیز کو ایسے فیصلوں کا اختیار حاصل ہے یا نہیں۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا،بلوچستان،دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،کوہلو میں‌7 ہلاک

    خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حالیہ تخریب کاری کا تعلق بلوچ لبریشن آرمی کے سابق رہنما اسلم بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی برسی سے ہو سکتا ہے، جو کل منائی جا رہی ہے۔ حکام نے اعلان کیا ہے کہ احتیاطی تدبیر کے طور پر آج بلوچستان میں ٹرین سروس معطل رہے گی، جبکہ سیکیورٹی فورسز متاثرہ ریلوے ٹریک پر تحقیقات اور مرمتی کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حکام نے تصدیق کی کہ متعلقہ اداروں کے اہلکاروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور مسافروں کی حفاظت اور جلد از جلد ٹرین آپریشن کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو برقرار رکھنا ان کی اولین ترجیح ہے۔

    کالعدم بلوچ ریپبلکن گارڈز (بی آر جی) کے ترجمان، جس نے اپنا نام دوستین بلوچ بتایا، نے ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں ریلوے ٹریک پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ بیان کے مطابق گروہ کے مسلح افراد نے ریلوے لائن پر بارودی مواد نصب کر کے دھماکہ کیا جس سے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی فورسز اور متعلقہ اداروں کا عملہ موقع پر پہنچ گیا ہے، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور دھماکے کی نوعیت اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے کہا کہ اہم تنصیبات کے تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہلو میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران سات دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر آپریشن شروع کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سات دہشت گرد مارے گئے جبکہ متعدد شدید زخمی ہوئے جو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ آپریشن کے دوران دہشت گردوں سے اسلحہ اور بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ دہشت گردوں کی شناخت اور وابستگی جانچنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    ذرائع کے مطابق رات کے وقت ضلع ٹانک کے علاقے شادی خیل کے قریب گاؤں مغزی/رغزی میں ایک دینی مدرسے کو نامعلوم ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مدرسے کے نو طالب علم زخمی ہو گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ زخمیوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کر کے قریبی اسپتالوں منتقل کیا۔ مقامی حکام نے حملے کی مذمت کی اور مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے بچوں اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ حملے کا مقصد اور ذمہ داران کی شناخت تاحال زیرِ تفتیش ہے۔

    حکام کے مطابق میران علی کے علاقے فقیران چوک کے قریب سیکیورٹی فورسز کی گشت پر آئی ای ڈی دھماکہ کیا گیا۔ دھماکے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ دھماکے کے نتیجے میں چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے جنہیں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا اور سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور پولیس نے ضلع لکی مروت میں مشترکہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد کمانڈر کو ہلاک کر دیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت برکت عرف برکتی اور ابوذر کے نام سے ہوئی، جو متعدد جعلی شناختوں کے تحت منظم دہشت گرد نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ وہ دہشت گردی، سیکیورٹی فورسز پر حملوں، قتل، اقدامِ قتل اور بھتہ خوری سمیت دس سے زائد مقدمات میں مطلوب تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ سابق لیویز اہلکار ہدایت اللہ، کانسٹیبل حافظ زینت اللہ اور دیگر افراد کے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا۔ آپریشن وانڈہ امیر خان کے نواحی علاقے میں کیا گیا۔ امن کمیٹی کے مقامی رضاکاروں نے بھی امن و امان برقرار رکھنے میں مدد کی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کلاچی میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس میں دو دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن میں ان کا سرغنہ دلاور بھی شامل تھا۔ دلاور متعدد دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے باعث قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھا اور اس کی گرفتاری پر حکومت نے 40 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کے دوران کالعدم گل بہادر گروپ سے وابستہ ایک خودکش بمبار ہلاک ہو گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کی شناخت مہدی کے نام سے ہوئی، جو گزشتہ دو سال سے خودکش حملوں کی تربیت اور منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ وہ تنظیم جیشِ فرسانِ محمد اور اس کی خودکش ونگ خالد بن ولید یونٹ کا رکن تھا۔ ذرائع کے مطابق وہ دیگر ساتھیوں کے ساتھ گھات لگا کر حملے کی تیاری کر رہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اسے ہلاک کر دیا، جبکہ دیگر دہشت گرد فرار ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع خیبر کے علاقے بارہ میں انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کیا جس کے دوران کالعدم تنظیم کے مقامی کمانڈر خمیم کے گھر سمیت متعدد دہشت گرد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر کارروائی کی گئی۔ آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا خاتمہ اور ان کی سرگرمیوں کو ناکام بنانا تھا۔ سیکیورٹی فورسز کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق بنوں کے علاقے بسی خیل تھانے کی حدود میں پولیس نے دہشت گرد حملے کو ناکام بنا دیا۔ حکام کے مطابق نامعلوم دہشت گردوں نے حملے کی کوشش کی، تاہم بروقت کارروائی پر وہ پسپا ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری جدید اسلحے اور بکتر بند گاڑیوں کے ساتھ موقع پر پہنچی، جس پر حملہ آور موٹر سائیکلیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے موٹر سائیکلیں تحویل میں لے کر ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بعد ازاں مقامی افراد اور پولیس اہلکاروں نے سیکیورٹی فورسز سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی اور دہشت گردی کی مذمت کی۔ حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • امریکا کا نائجیریا میں داعش کے خلاف فضائی حملہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے شمال مغربی نائجیریا میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف ایک طاقتور اور مہلک فضائی حملہ کیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے جمعرات کی شب اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ یہ کارروائی ان کی ہدایت پر بطور کمانڈر اِن چیف انجام دی گئی۔صدر ٹرمپ کے مطابق داعش کے جنگجو شمال مغربی نائجیریا میں “بے گناہ شہریوں، خصوصاً مسیحی برادری” کو نشانہ بنا رہے تھے اور ان حملوں کی شدت ایسی تھی جو کئی برسوں بلکہ صدیوں میں نہیں دیکھی گئی۔ انہوں نے کہا، “میں نے پہلے ہی ان دہشت گردوں کو خبردار کیا تھا کہ اگر انہوں نے مسیحیوں کے قتلِ عام کو نہ روکا تو اس کی سخت قیمت چکانا پڑے گی، اور آج رات وہ وقت آ گیا ہے۔”

    امریکی فوج کے افریقہ میں آپریشنز کی ذمہ دار کمان افریقہ کمانڈ (AFRICOM) نے بھی اس فضائی حملے کی تصدیق کی ہے۔ افریکوم کے مطابق یہ کارروائی نائجیریا کی حکومت کی درخواست پر کی گئی، جس میں داعش کے متعدد دہشت گرد مارے گئے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر نائجیریا کی حکومت کے تعاون اور اشتراکِ عمل پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور “مزید اقدامات” بھی متوقع ہیں، تاہم انہوں نے اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

    یہ امریکی عسکری کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ نائجیریا میں مسیحیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اسی بنیاد پر انہوں نے پینٹاگون کو ممکنہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی ہدایت دی تھی۔ تاہم نائجیریا کی حکومت نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں سرگرم مسلح گروہ مسلم اور مسیحی دونوں برادریوں کو نشانہ بناتے ہیں اور یہ صورتحال محض مذہبی بنیادوں تک محدود نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سکیورٹی مسئلہ ہے۔

    نائجیریا کی وزارتِ خارجہ نے صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد جاری بیان میں تصدیق کی کہ نائجیریا دہشت گردی اور پرتشدد انتہاپسندی کے مستقل خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکا سمیت بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ منظم سکیورٹی تعاون میں مصروف ہے۔ وزارت کے مطابق مذہبی آزادی کے تحفظ اور شہریوں کے جان و مال کے دفاع کے لیے نائجیریا کی حکومت بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔

    ماہرین کے مطابق شمالی اور شمال مغربی نائجیریا میں داعش سے منسلک گروہوں اور دیگر شدت پسند تنظیموں کی سرگرمیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہیں، جس کے باعث بین الاقوامی تعاون میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

  • لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    لائیو پروگرام کے دوران مداخلت،احسن اقبال کی وضاحت آ گئی

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے نجی ٹی وی پر لائیو پروگرام کے دوران ہونے والی مداخلت پر وضاحت پیش کردی۔

    گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نجی ٹی وی کے ایک پروگرام میں شریک تھے اور گفتگو کر رہے تھے کہ اسی دوران کسی کی مداخلت کی وجہ سے ان کا موبائل بند ہوگیا،یہ ویڈیو جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ آخر کار وفاقی وزیر کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا۔،اس پر صحافی اجمل جامی کے ٹوئٹ کا جواب دیتے ہوئے احسن اقبال نے لکھا کہ ایک شخص کی بحث کے باعث اس وقت ایک مختصر سی رکاوٹ آگئی تھی جب میں لائیو شو میں گفتگو کر رہا تھا اور وہ شخص اس سے لاعلم تھا، احسن اقبال نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد میں نے شو کو دوبارہ جوائن کر لیا تھا، مجھے امید ہے کہ اس معاملے پر غیرضروری سیاست نہیں کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا میری بھی بات ہوئی ہے احسن اقبال سے تو انہوں نے کہا کہ کوئی بچہ غیر متوقع طور پر کمرے میں داخل ہوگیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے اور انہوں نے دوبارہ شو بھی جوائن کیا۔

    واضح رہے کہ نجی ٹی وی شو پر وفاقی وزیر احسن اقبال کی ویڈیو کال بند کروا دی گئی تھی، واقعہ اے آر وائی نیوز پر اینکر وسیم بادامی کے شو کی براہ راست نشریات کے دوران پیش آیا،احسن اقبال پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے۔ وہ بذریعہ ویڈیو کال پروگرام میں شریک تھے۔ 11:16 بجے اچانک کوئی نامعلوم شخص آیا۔ احسن اقبال نے گفتگو کرتے ہوئے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔ اگلے ہی لمحے اس شخص کی آواز آئی بند کرو، بند کرو اسے،” اسی کے ساتھ اس نے موبائل پر جھپٹنے کی کوشش کی لیکن احسن اقبال نے اچانک ہڑبڑاہٹ میں موبائل فون اٹھایا اور کال منقطع ہوگئی،اس اچانک واقعے سے وسیم بادامی بھی پریشان ہوگئے اور انہوں نے سوال کیا کہ کیا احسن اقبال اپنے گھر سے پروگرام میں شریک تھے۔ انہوں نے اپنی ٹیم سے کہا کہ معاملے کا پتا کروائیں۔ اس کے بعد وہ وقفے پر چلے گئے۔ تقریباً سات منٹ کے وقفے کے بعد وسیم بادامی دوبارہ لائیو ہوئے لیکن انہوں نے احسن اقبال کے معاملے پر کوئی بات نہیں کی،

  • بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    بنگلہ دیشی سابق وزیراعظم کے صاحبزاد ے17 سال بعد بنگلہ دیش پہنچ گئے

    سابق بنگلادیشی وزیرِاعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے، بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے قائم مقام چیئرمین اور ملک کی اپوزیشن سیاست کے اہم ترین رہنما طارق رحمان 17 سالہ طویل جلاوطنی کے بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ ان کی واپسی کو بنگلادیش کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت اور اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔

    طارق رحمان کی ڈھاکا آمد پر پارٹی کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ شہر کے مختلف علاقوں میں بی این پی کے جھنڈے، بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے، جبکہ کارکنوں نے نعرے بازی کرتے ہوئے طارق رحمان کا والہانہ استقبال کیا۔ ڈھاکا کی کئی مرکزی شاہراہیں عوامی اجتماع کی وجہ سے بھر گئیں اور فضا سیاسی جوش و خروش سے گونجتی رہی۔سیاسی مبصرین کے مطابق طارق رحمان کی وطن واپسی کو فروری 2026 میں متوقع عام انتخابات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کی موجودگی بی این پی کو ایک بار پھر منظم اور متحرک کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے، جبکہ حکمران جماعت کے لیے بھی یہ ایک بڑا سیاسی چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ طارق رحمان کو پارٹی کی انتخابی حکمتِ عملی کا معمار سمجھا جاتا ہے اور ان کی قیادت میں بی این پی آئندہ انتخابات میں بھرپور کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گی۔

    طارق رحمان کی سیاسی زندگی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی ہے۔ وہ 2008 میں مختلف مقدمات کے تناظر میں 18 ماہ قید کاٹنے کے بعد علاج اور دیگر وجوہات کی بنا پر برطانیہ منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ طویل عرصے تک مقیم رہے۔ اس دوران انہوں نے جلاوطنی میں رہتے ہوئے بھی پارٹی امور اور سیاسی بیانات کے ذریعے بنگلادیشی سیاست میں اپنی موجودگی برقرار رکھی۔بی این پی رہنماؤں نے طارق رحمان کی واپسی کو “جمہوری جدوجہد کی نئی شروعات” قرار دیا ہے، جبکہ عوامی حلقوں میں بھی اس پیش رفت پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں طارق رحمان کا سیاسی کردار، بی این پی کی حکمتِ عملی اور حکومت کے ردعمل سے بنگلادیش کی سیاست میں ایک نئی سمت متعین ہو سکتی ہے۔

  • ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ، وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے کیونکہ آپ کی حفاظت اور آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے۔

    مریم نواز نے لاہور میں کرسمس کی تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے مسیحی رہنماؤں کے ہمراہ کرسمس کیک کاٹا اور کرسمس گرانٹ کے چیک تقسیم کیے،اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ جو کسی کا حق مارے گا اس کو معاف نہیں کیاجائے گا، جو کسی کے ساتھ زیادتی کرے گا اس کا مقابلہ ریاست سےہے، ریاست کے ساتھ کوئی نہیں لڑ سکتا ہے، پنجاب میں کسی کو اجازت نہیں دوں گی کہ اقلیتوں سے ٹکر لے، آپ کی حفاظت، آپ کا تحفظ میری ذمہ داری ہے،کسان کارڈ، ہونہار اسکالر شپ دیتے ہوئے کبھی کسی سے مذہب کا نہیں پوچھا، ہاؤسنگ اسکیم میں سوا لاکھ گھر دیے جن میں بڑی تعداد اقلیتوں کی ہے اقلیتوں کا بجٹ 600 فیصد بڑھایا ہے، اقلیت دوست پنجاب خواب ہے، سکھ اپنی پگڑی نہیں اتارتے، انہیں ہیلمٹ پہننے سے استثنیٰ دیا، ہم نے اقلیتوں کو سر کا تاج بنایا ہے، بھارتی وزیراعلیٰ نے مسلم خاتون کا نقاب اتار کر مسلمانوں کی تذلیل کی ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح وہ عظیم رہنما ہیں جنہوں نے منتشر قوم کو یکجا کر کے انکی تقدیر بدل دی،ہم ہندو، عیسائی یا سکھ نہیں ہم پاکستانی ہیں، میرے سامنے کیس آتا ہے تو میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ تعلق کس مذہب سے ہے، میں انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہوں،پنجاب اب اقلیتوں کے لیے محفوظ جگہ ہے۔ میں یقین دلاتی ہوں کہ جب تک میں وزیر اعلیٰ ہوں کسی اقلیتی شہری کے ساتھ زیادتی پر میں مضبوط دیوار بن کر کھڑی ہوں گی قبرستان سمیت ہر ضرورت پر فوری اقدام ہوگا آپ کے پاس مکمل اختیار ہے