Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان سے تاجکستان پردہشتگردوں کا حملہ،دو تاجک بارڈر گارڈ ہلاک

    افغانستان سے تاجکستان پردہشتگردوں کا حملہ،دو تاجک بارڈر گارڈ ہلاک

    تاجکستان اور افغانستان کی سرحد پر ایک بار پھر کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے جہاں افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں نے تاجکستان میں سرحد پار حملہ کر دیا۔ مسلح جھڑپ کے دوران تاجک بارڈر گارڈ کے دو اہلکار جاں بحق ہو گئے، جبکہ جوابی کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    تاجک حکام کے مطابق حملہ آور بھاری اسلحے سے لیس تھے اور انہوں نے سرحدی پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ جھڑپ کے بعد دہشت گردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں خودکار ہتھیار، دستی بم، گولہ بارود اور جدید نائٹ ویژن ڈیوائسز برآمد کی گئی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ حملہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا تھا،حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف تاجکستان کی خودمختاری پر حملہ ہے بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔ تاجکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان نے بین الاقوامی ذمہ داریوں اور تاجکستان کے ساتھ ریاستی سرحد پر سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

    تاجک حکام نے واضح کیا ہے کہ افغانستان کی جانب سے چند روز کے دوران یہ تیسرا سرحد پار حملہ ہے، جس سے صورتحال مزید تشویشناک ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد گروہ اور اسمگلرز سرحدی علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں،تاجکستان کی حکومت نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی علاقائی سالمیت، قومی سلامتی اور سرحدی تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔

  • پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں،فیلڈ مارشل عاصم منیر

    آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے راولپنڈی کے چرچ میں کرسمس کی تقریبات میں شرکت کی اور مسیحی برادری کو کرسمس کی مبارکباد دی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امن، ہم آہنگی اور خوشحالی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور قائداعظم کے وژن پر زور دیا جس میں مساوات، آزادی اور مذہبی رواداری کو اہمیت دی گئی تھی۔آئی ایس پی آر کے مطابق انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے نظریے کی بنیاد ہے اور پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ پاکستان کے نظریے کی بنیاد ہے،پاکستانی مسیحیوں کی قومی ترقی اور دفاع میں خدمات قابلِ فخر ہیں، بین المذاہب ہم آہنگی اور اتحاد پاکستان کی اصل طاقت ہے،پاک فوج تمام شہریوں کے وقار، سلامتی اور مساوی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے،

  • یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    یومِ قائد کی تقریب قائداعظم ریزیڈنسی زیارت میں شایانِ شان انداز میں منعقد

    بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یومِ قائد کے موقع پر زیارت میں واقع تاریخی قائداعظم ریزیڈنسی میں ایک پروقار اور شایانِ شان تقریب منعقد کی گئی۔

    تقریب میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، کمانڈر 12 کور لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم خان، آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل عاطف مجتبیٰ، اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، قبائلی عمائدین، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے آئے ہوئے معزز مہمانوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب کے دوران مقامی بچوں نے ملی نغمے اور تقاریر پیش کر کے بابائے قوم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا، جسے شرکاء نے بے حد سراہا۔

    اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بے مثال قومی خدمات، اصولی قیادت اور جدوجہدِ آزادی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ قائد کے افکار، ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل پیرا ہو کر ہی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ خیبرپختونخوا کے شہر کوہاٹ سے آئے ہوئے ایک شہری نے کہا “میں یومِ قائد کی اس تقریب میں شرکت کے لیے کوہاٹ سے آیا ہوں۔ بلوچستان کے عوام کی پاکستان سے محبت دیکھ کر دل خوش ہو گیا ہے۔آج ہم عظیم قائد بابائے قوم کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک آزاد اور عظیم اسلامی ریاست کا تحفہ دیا۔تقریب کا اختتام ملک کی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کے ساتھ ہوا۔

  • پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    پولیس وردی پہننے پر مقدمہ کی درخواست،صبا قمر کا ردعمل آ گیا

    اداکارہ صبا قمر زمان نے اپنے خلاف مقدمے کی درخواست کے بعد پہلی بار خاموشی توڑ دی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق صبا قمر کے خلاف لاہور کی سیشن کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اداکارہ نے بغیر اجازت پولیس کی وردی پہنی،یہ معاملہ اس وقت سوشل میڈیا پر زیرِ بحث آیا جب ایک زیر گردش ویڈیو میں صبا قمر کو ڈریسنگ روم میں ایس پی کی وردی پہنے دیکھا گیا، اس کے بعد اداکارہ نے میگزین کی ایک پوسٹ ری شیئر کی جس میں انہوں نے صبا قمر کا دفاع کیا،میگزین کے ایڈیٹر ان چیف نے نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ ڈیئر کیا آپ توقع کر رہے تھے کہ وہ پولیس افسر کا کردار دلہن کے لباس یا لان کے سوٹ کے ساتھ ادا کریں گی، کیونکہ کردار ہمیشہ رول کے مطابق لباس پہنتے ہیں، نہ کہ آپ کی بے وقوفانہ تخلیق کے مطابق۔

    اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے صبا قمر نے مزاحیہ انداز اپناتے ہوئے لکھا کہ اوہ خدایا! آج کل میں بہت زیادہ مشہور ہوگئی ہوں،جس کے ساتھ انہوں نے مسکراتے ہوئے ایموجیز بھی شامل کیے۔

    واضح رہے کہ یہ درخواست وکیل آفتاب باجوہ نے شہری وسیم زوار کی جانب سے دائر کی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فرد کو سرکاری اجازت کے بغیر پولیس کی وردی یا ایس پی کے عہدے کا بیج استعمال کرنے کی اجازت نہیں۔

  • قلات میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،8 دہشتگرد جہنم واصل

    قلات میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن،8 دہشتگرد جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع قلات میں خفیہ اطلاعات پر آپریشن کے دوران 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

    قلات میں سیکیورٹی فورسز نے 24 دسمبر کو خفیہ معلومات کی بنیاد پر کاروائی کی، کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانے پر مؤثر حملہ کیا اور شدید فائرنگ کے تبادلے میں آٹھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ اس دوران دہشت گردوں کے قبضے سے ہتھیار، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا، جبکہ یہ گروہ علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث تھا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت علاقے میں عسکریت پسندی کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی

    پاکستان دشمن عناصر کے لیے اب کوئی جگہ نہیں،ہماری بہادر سیکیورٹی فورسز امن و امان کے قیام کے لیے مسلسل قربانیاں دے رہی ہیں۔ پوری قوم اپنے محافظوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے تک ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے

  • 2025 میں پاکستان دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا،امریکی جریدہ

    2025 میں پاکستان دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنا،امریکی جریدہ

    امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بناعسکری پالیسی، علاقائی سیکیورٹی، دہشت گردی کے خلاف اقدامات اور اسٹریٹجک سفارتکاری میں پاکستان کی پیش رفت کو نمایاں قرار دیا گیا۔

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق 2025 میں پاکستان کئی برسوں بعد دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بن گیا۔سن 2025 پاکستان کے لیے اسٹریٹجک واپسی اور عسکری اعتماد کا سال ثابت ہوا،عسکری قیادت نے ریاستی سطح پر انتہا پسندی کے خلاف واضح اور مضبوط پیغام دیا،آرمی چیف کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ جہاد کے اعلان کا اختیار صرف ریاست کے پاس ہے،آرمی چیف کا پیغام انتہا پسندی کے خلاف اہم سنگِ میل ہے،سن 2025 میں پاکستان کی عسکری قیادت نے ریاستی مفادات کا بھرپور تحفظ کیا،عسکری قیادت کے واضح وژن نے ریاستی رٹ کو مضبوط کیا،ریاستی نظم و ضبط کے فروغ میں عسکری قیادت کا کردار نمایاں رہا،بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی فوجی جھڑپوں نے عالمی توجہ حاصل کی،بھارت کے خلاف پاکستانی افواج کی کارکردگی نے عسکری توازن واضح کر دیا،پاکستان کی فوجی کارکردگی نے داخلی چیلنجز کے باوجود پاکستان کی اسٹریٹجک ساکھ اور ڈیٹرینس کو تقویت اور طاقت بخشی۔پاکستان کی فوج نے محدود وسائل کے باوجود مؤثر ردِعمل دیا،بھارت کے خلاف کامیاب کارکردگی نے پاکستان کی عسکری قیادت کی پیشہ ورانہ صلاحیت دکھا دی،افوج پاکستان نے بھارت کی عسکری مہم جوئی کا مؤثر جواب دیا

    دی ڈپلومیٹ کے مطابق پاکستان کی فوجی کامیابیاں عالمی دفاعی ماہرین کی توجہ کا مرکز بنیں،سن 2025 میں پاکستان کی فوج عالمی عسکری مباحث میں دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کر گئی،سن 2025 میں پاکستان کی عسکری کارکردگی نے عالمی سطح پر اعتماد بحال کیا،عسکری قیادت کے مؤثر فیصلوں سے پاکستان کی اسٹریٹجک ساکھ بحال ہوئی،ہندوستان کے خلاف کامیابی کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی،پاک بھارت جنگ کے بعد ہندوستان کے واشنگٹن سے تعلقات پر دباؤ آیا۔مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے دفاعی معاہدے اسٹریٹجک پیش رفت قرار دی گئی،سعودی عرب کے ساتھ بڑا باہمی دفاعی معاہدہ طے پایاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون نے پاکستان کا علاقائی کردار مضبوط کیا،پاکستان کے دفاعی سازوسامان کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا،چین جنگ کے دوران استعمال ہونے والے دفاعی ہتھیاروں کی عملی کارکردگی پر بہت خوش ہوا۔سی پیک کے دوسرے مرحلے کے لیے سازگار عالمی ماحول بنا،غزہ سے متعلق عالمی کوششوں میں پاکستان کو اہم فریق قرار دیا گیا،افغانستان کے معاملے پر پاکستان نے واضح مؤقف اپنایا،ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی پالیسی میں فیصلہ کن سختی آئی،پاکستان نے افغانستان کے معاملے میں مدلل مؤقف اپنایا اور ٹی ٹی پی کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کیے،پاکستان کی بہترین حکمت عملی نے طالبان حکومت پر دباؤ بڑھایا،پاکستان نے قطر، ترکیے اور سعودی عرب کو ثالثی کردار میں شامل کر کے سرحد پار خطرات کو عالمی سطح پر مزید نمایاں کیا۔دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اندرونِ ملک نمایاں کامیابیاں ملیں،مُختلف ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف تعاون بڑھا۔معاشی مشکلات کے باوجود اصلاحاتی اقدامات پر پیش رفت ہوئی،انتہا پسندی کے خلاف موثر اقدامات ریاستی پالیسی کی نئی اور واضح علامت قرار دی گئی،پاکستان کو عالمی فضا سے فائدہ اٹھا کر اصلاحات کا نادر موقع ملا،معیشت میں مشکلات کے باوجود پی آئی اے کی نجکاری دو دہائیوں بعد بڑی پیش رفت اور ممکنہ ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • کسی کو مذہب کے نام پر من مانی نہیں کرنے دیں گے، وزیر اعظم

    کسی کو مذہب کے نام پر من مانی نہیں کرنے دیں گے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے زندگی کے ہر شعبے میں مسیحی برادری کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سب کا مشترکہ ہے، تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مذہبی آزادیاں حاصل ہیں، کسی کو مذہب کے نام پر من مانی نہیں کرنے دیں گے، زیادتی پر قانون حرکت میں آئے گا ۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں کرسمس کے موقع پر وزیر اعظم ہاؤس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر وفاقی وزراء ، ارکان اسمبلی، مسیحی برادری کی سرکردہ شخصیات اور سفارتی حکام بھی موجود تھے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے جنہوں نے انسانیت کو ظلم و جبر سے نجات دلائی، دست شفا بنے اور انسانیت سے محبت، امن اور احترام کا پیغام عام کیا۔ آج دنیا کو اس پیغام پر عمل کرنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان میں مسیحی برادری سمیت اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں، انکا قابل قدر تاریخی کردار طب، دفاع وطن ، عدلیہ، تعلیم ، صحت سمیت زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں نظر آتا ہے، مئی میں بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ولولہ انگیز قیادت میں پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے چھکے چھڑا دیئے ، پاک فضائیہ حرکت میں آئی اور دشمن کے سات طیارے گرائے تو سیسل چوہدری کی یاد تازہ ہوگئی ، وزیر اعظم نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنے خطبات میں اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں پر زور دیا، یہ ہمارے آئین کا حصہ ہے ، مسلم لیگ ن اور قائد مسلم لیگ ن میاں نواز شریف نے ہمیشہ اقلیتوں کو احترام اور عزت دی، رائیونڈ میں ان کیلئے تقریباًت منعقد کیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہارون ولیم نے دشمن سے لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تو انہوں نے فیلڈ مارشل کے ہمراہ ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کی مکمل آزادی حاصل ہے، کسی کو مذہب کے نام پر من مانی نہیں کرنے دیں گے اور کسی بھی شہری سے زیادتی پر قانون حرکت میں آئے گا ، یہ ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور یہاں سب شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر پر ہم سب نے شانہ بشانہ آگے بڑھنا ہے، وزیر اعظم نے مسیحی برادری کے سرکردہ رہنماؤں کے ہمراہ کرسمس کا کیک کاٹا اور مسیحی برادری کیلئے کرسمس پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

    قبل ازیں وزیر مملکت برائے بین المذاہب ہم آہنگی کھیئل داس کوہستانی نے کہا کہ پاکستان میں ہندو، مسیحی، سکھ سمیت تمام اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے اور وہ برابر کے شہری ہیں ، اقلیتیں حکومت کے شانہ بشانہ ہیں جبکہ بھارت میں مودی مذہب کے نام پر نفرت پھیلا رہا ہے ، وہاں اقلیتوں کو آزادی اور تحفظ حاصل نہیں ۔ رکن قومی اسمبلی نیلسن عظیم نے کہا کہ مسیحی برادری کیلئے وزیراعظم ہاؤس میں تقریب خوش آئند ہے ، وزیر اعظم کا شکریہ جنہوں نے اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کیا، کرسمس امن محبت اور درگزر کا پیغام دیتا ہے ، تقریب سے مسیحی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا اور وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا

  • شہزاد اکبر کا معاملہ، بھارت،پی ٹی آئی گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

    شہزاد اکبر کا معاملہ، بھارت،پی ٹی آئی گٹھ جوڑ پر سنگین سوالات

    بھارتی ٹی وی چینلز پر اچانک بریکنگ نیوز کے طور پر سابق حکومتی عہدیدار شہزاد اکبر کے حوالے سے نشر ہونے والی خبروں نے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ مبصرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاملے نے ایک بار پھر بھارت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مبینہ گٹھ جوڑ کو نمایاں کر دیا ہے، جس کا مقصد پاکستان میں افراتفری پھیلانا اور ریاستی اداروں کو متنازع بنانا بتایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق لندن میں شہزاد اکبر پر مبینہ حملے کے الزام کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نیٹ ورکس نے فوری طور پر عسکری قیادت سے جوڑنے کی کوشش کی، جسے ناقدین نے کھلی ملک دشمنی اور قومی سلامتی کے خلاف پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے ریاستی اداروں پر الزام تراشی نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ اس سے دشمن قوتوں کو پاکستان کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنے کا موقع ملتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق لندن میں شہزاد اکبر پر مبینہ حملہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک منظم سیاسی ڈرامہ معلوم ہوتا ہے، جس کا مقصد اسائلم کیس کو مضبوط بنانا اور ممکنہ حوالگی کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس پوری کہانی کو جس انداز میں بھارتی میڈیا نے بڑھا چڑھا کر پیش کیا، اور جس تیزی سے پی ٹی آئی کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے اسے آگے بڑھایا، وہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

    مزید برآں، برطانیہ میں پیش آنے والے اس مبینہ واقعے کی تفصیلات بھی شکوک و شبہات سے خالی نہیں۔ اطلاعات کے مطابق کرسمس کی چھٹیوں کے دوران، بغیر کسی طے شدہ ملاقات اور مبینہ خطرے کی پیشگی اطلاع کے باوجود ویو گلاس دروازہ کھولنے کا دعویٰ ناقابلِ فہم قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے نزدیک یہ کوئی سادہ غفلت نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسکرپٹ کا حصہ محسوس ہوتا ہے، جس کا مقصد برطانوی حکام کے سامنے خود کو غیر محفوظ ظاہر کرنا ہے تاکہ پاکستان واپسی کو روکا جا سکے۔

    سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر حملہ آور اتنا باخبر تھا تو وہ گھر میں نصب سیکیورٹی کیمروں سے کیسے بچ نکلا؟ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پہلو اس کہانی کو مزید مشکوک بنا دیتا ہے اور یوں یہ واقعہ حملے سے زیادہ ایک سیاسی ڈرامہ دکھائی دیتا ہے۔مبصرین کے مطابق افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی ایک بار پھر بھارتی میڈیا کے بیانیے کو تقویت دیتی دکھائی دے رہی ہے۔ ان کے بقول قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال کر دشمن کے ایجنڈے پر بولنا محض سیاسی اختلاف نہیں بلکہ کھلی بے وفائی کے مترادف ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانیے نہ صرف پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ اندرونی انتشار کو بھی ہوا دیتے ہیں، جس کا فائدہ براہِ راست ملک دشمن عناصر کو پہنچتا ہے۔

  • محکمہ تعلیم سندھ کا آکسفورڈ یونیورسٹی کیلئے اسکالرشپ کا اعلان

    محکمہ تعلیم سندھ کا آکسفورڈ یونیورسٹی کیلئے اسکالرشپ کا اعلان

    محکمہ تعلیم سندھ نے صوبے کے طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولتے ہوئے دنیا کی معروف درسگاہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے لیے اسکالرشپ پروگرام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

    اس اقدام کو سندھ حکومت کی جانب سے بین الاقوامی معیار کی تعلیم کے فروغ اور باصلاحیت نوجوانوں کو عالمی تعلیمی اداروں تک رسائی دینے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔محکمہ تعلیم سندھ کے ترجمان کے مطابق یہ اسکالرشپ پروگرام گریجویٹ، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے خواہشمند امیدواروں کے لیے دستیاب ہوگا۔ اسکالرشپ کے تحت منتخب طلبہ کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جو نہ صرف انفرادی سطح پر بلکہ صوبے اور ملک کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ اسکالرشپ کے لیے درخواست دینے والے امیدوار کا سندھ کا ڈومیسائل ہونا لازمی ہے، جب کہ قومی شناختی کارڈ کی موجودگی بھی بنیادی شرط قرار دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ امیدوار کو آکسفورڈ یونیورسٹی کے طے شدہ میرٹ اور داخلہ معیار پر پورا اترنا ہوگا، جس میں تعلیمی قابلیت، تحقیقی صلاحیت اور دیگر اہلیتیں شامل ہیں۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد اہل امیدواروں کو شارٹ لسٹ کیا جائے گا، جب کہ حتمی انتخاب انٹرویو کے مرحلے کے بعد کیا جائے گا تاکہ صرف بہترین اور اہل امیدواروں کو منتخب کیا جا سکے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ یہ اسکالرشپ پروگرام چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے دورے کے تناظر میں دیا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران اعلیٰ تعلیمی تعاون، طلبہ کے لیے مواقع اور عالمی جامعات سے روابط کے فروغ پر خصوصی گفتگو کی گئی تھی، جس کے عملی نتائج اب اسکالرشپ کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

  • لکی مروت،بنوں، ٹانک میں دہشتگردوں کے حملے بنائے گئے ناکام

    لکی مروت،بنوں، ٹانک میں دہشتگردوں کے حملے بنائے گئے ناکام

    خیبر پختونخوا،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    لکی مروت کے علاقہ وانڈا رحمان کے قریب تھانہ صدر کی حدود میں مسلح دہشت گردوں نے ایک بار پھر معصوم شہریوں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے نوجوانوں کے ایک گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک نوجوان شہید ہو گیا جبکہ دو دیگر زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کے بعد مقامی افراد اور امن کمیٹی کے ارکان دہشت گردوں کے خلاف نکل آئے اور ان کا سامنا کیا جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کسی تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    بنوں، باسی خیل تھانے کی حدود میں تلگی للوزئی کے علاقے میں امن کمیٹی اور پولیس پر ہونے والا دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا گیا اور حملہ آور فرار ہو گئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے امن کمیٹی کے ارکان اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی جس پر فوری طور پر مشترکہ جوابی کارروائی کی گئی۔ پولیس اور امن کمیٹی کے ارکان نے مؤثر جواب دے کر دہشت گردوں کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے دوران ڈرون کا بھی استعمال کیا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ فرار ہوتے ہوئے دہشت گرد تین موٹر سائیکلیں چھوڑ گئے جنہیں پولیس نے تحویل میں لے لیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے جبکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ڈرون کی نوعیت جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    ٹانک،پیر سبیر شاہ بابا کے مزار کے قریب واقع لقمان پولیس چیک پوسٹ پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پیر کے روز ناکام بنا دیا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر حملہ کیا جس پر وہاں تعینات پولیس اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کی۔ مؤثر فائرنگ کے باعث حملہ آور فرار ہو گئے۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں جبکہ حساس مقامات کی سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

    جنوبی وزیرستان کے لوئر وانا بازار میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہو گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پولیس اہلکار اسلام الدین کو نشانہ بنایا جو موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ شہید اہلکار کی میت قانونی کارروائی کے لیے وانا ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی۔ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ تاحال کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    باجوڑ کے گاؤں خار منڈالا کے رہائشیوں نے دہشت گردوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اتحاد و جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں علاقے سے نکال باہر کیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق جب دہشت گردوں نے علاقے میں موجودگی قائم کرنے کی کوشش کی تو گاؤں کے لوگوں نے متحد ہو کر مزاحمت کی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مقامی افراد دہشت گردوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس پیش رفت کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے علاقے میں گشت بڑھا دیا تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔ حکام نے عوام کے اس جرات مندانہ اقدام کو سراہا اور کہا کہ تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز نے تھانہ کلاچی کی حدود میں جہان خانی گاؤں کے علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی جہاں ٹی ٹی پی گنڈاپور گروہ سے تعلق رکھنے والے نامعلوم دہشت گردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ معتبر ذرائع کے مطابق مقابلہ صبح تقریباً 8:20 بجے ہوا۔ کارروائی کے دوران دو دہشت گرد مارے گئے جن کی شناخت بعد ازاں خیام اور دلاور کے نام سے ہوئی، دونوں کا تعلق کلاچی سے تھا۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا۔ مقابلے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تاکہ کسی اور دہشت گرد کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکنے کے لیے سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

    بنوں کے علاقے ممش خیل میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق قریبی مساجد کے ذریعے اعلانات کیے گئے ہیں کہ شہری گھروں کے اندر رہیں کیونکہ سرچ آپریشن جاری ہے۔ پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری علاقے میں تعینات کر دی گئی ہے اور غیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے لیے علاقہ سیل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد علاقے میں چھپے دہشت گردوں کو تلاش کر کے گرفتار کرنا ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ تعاون کریں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں۔

    ضلع کرم کے علاقے گوندل آباد میں عسکریت پسندوں کے حملے میں چار معصوم بچے زخمی ہو گئے جہاں حملہ آوروں نے کوآڈ کاپٹر کے ذریعے دھماکہ خیز مواد گرایا۔ مقامی ذرائع کے مطابق زخمی ہونے والوں میں تین لڑکے اور ایک لڑکی شامل ہیں۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق چاروں بچے خطرے سے باہر ہیں۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں تاکہ ڈرون کے ماخذ اور ملوث عناصر کا تعین کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

    نوکنڈی میں ایف سی کیمپ پر حالیہ حملے میں مارے گئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ایک دہشت گرد کے اہل خانہ نے اس کے اقدامات سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کی کھل کر مذمت کی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد کے بھائی اور دیگر اہل خانہ نے کالعدم تنظیموں سے مکمل لاتعلقی اختیار کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ دہشت گردی نے بلوچستان اور اس کے عوام کو تباہی اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اہل خانہ نے بلوچ نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ شدت پسند تنظیموں کا حصہ نہ بنیں بلکہ تعلیم اور جائز راستوں کو اپنائیں۔ سیکیورٹی حکام نے اس مؤقف کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات انتہاپسندی کے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ ایف سی کیمپ پر حملے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی بدستور سخت ہے۔

    ضلع خضدار کی تحصیل نال کے علاقے کلیری سے اغوا کیے گئے 19 تعمیراتی مزدور تین ماہ بعد بحفاظت بازیاب کر لیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تمام مزدوروں کا تعلق سندھ سے ہے اور اغوا کے دوران انہیں کسی قسم کا جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔ رہائی کے بعد مزدوروں کو ابتدائی طبی معائنہ اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اغوا کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کو گرفتار کیا جا سکے۔ حکام نے خطے میں مزدوروں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی معلومات کی صورت میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں۔