Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی، فتنہ الخوار ج کا نشانہ مساجد اور معصوم عوام

    دو دہائیوں پر محیط دہشت گردی، فتنہ الخوار ج کا نشانہ مساجد اور معصوم عوام

    گزشتہ 2 دہائیوں میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے متعدد بار مساجد، امام بارگاہوں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا

    فتنہ الخوارج مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اپنے گمراہ کن عزائم حاصل کرنے کی مذموم کوشش کر رہے ہیں،فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے ہاتھوں خیبر پختونخوا کی مساجد سب سے زیادہ متاثر ہوئیں، ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں مساجد اور معصوم نمازی فتنہ الخوارج کی بربریت کا شکار ہوئے،فروری 2026 اسلام آباد مسجد میں خودکش حملہ کے نتیجے میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے ، 2023 میں دو مساجد پولیس لائنز پشاور اور ہنگو خیبر پختونخواہ میں دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ،مارچ 2022 میں پشاور، کوچہ رسالدار مسجد بم دھماکا میں متعدد بے گناہ افراد شہید ہوئے ،مارچ 2017 پاراچنار، کرم ایجنسی میں مسجد کے قریب کار بم دھماکا میں لاتعداد شہری شہید اور زخمی ہوئے ،ستمبر 2016، مہمند ایجنسی میں خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے ،جنوری 2015، شکارپور، سندھ مسجد میں دھماکہ سے متعدد نمازی شہید ہوئے ،فروری 2012 پاراچنار، کرم ایجنسی بازار کی مسجد کے قریب خودکش حملہ میں متعدد نمازی شہید ہوئے ، 2010 دَرہ آدم خیل، قومی مسجد اور کرم ایجنسی، سپین تال مسجد میں خود کش حملوں کے دوران متعدد نمازی شہید اور زخمی ہوئے،فروری 2010 کوہاٹ، خیبر پختونخوا میں مسجد پر خودکش حملہ کے دوران بے گناہ نمازی شہید ہوئے

    فتنہ الخوارج کی جانب سے مساجد میں رقص کرنے سمیت بے حرمتی کے کئی دلخراش واقعات بھی سامنے آ چکے ہیں،علماء اکرام کی رائے کے مطابق احادیث میں خوارج کی نشانیاں واضح بتائی گئی ہیں کہ یہ لوگ کم عقل ہو نگے ،خوراج کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے،مساجد اور عبادت گاہوں میں معصوم لوگوں کو نشانہ بنانے والا کبھی بھی دین اسلام کاداعی نہیں ہو سکتے،

    ماہرین کے مطابق اسلام امن کا درس دیتا اور تلقین کرتا ہے کہ ایک بے گناہ کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے،افغان طالبان رجیم کی جانب سے کبھی پاکستان میں مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات کی مذمت نہیں کی گئی ،

  • شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا عہد کیا جائے،محمد ناظم الدین

    شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا عہد کیا جائے،محمد ناظم الدین

    رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے اس برکت والے مہینہ میں قرآن مجید کے ساتھ مضبوط کرنے عبادات بجا لانے کے ساتھ ساتھ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا بھی عہد کیا جائے ۔ شہید مقدس کی حفاظت میں اہل ایمان کیلئے عظیم اجر وثواب کی بشارت ہے ، یہ دل میں تقوی کی علامت ہے ، نیکی اور ثواب میں اضافہ ہوتا ہے ، ا للہ کی خشنودی اور ملائکہ کی قربت حاصل ہوتی ہے ۔

    ان خیالات کا اظہار خادم قرآن اور پنجاب قرآن بورڈ کے سابق ممبر محمد ناظم الدین نے کیا ۔ انھوں نے کہا کہ شہید مقدس اوراق خصوصاََ قرآن مجید کی آیات اور احادیث پر مشتمل صفحات کی حفاظت اور احترام ایمان کا حصہ اوراجر عظیم کا باعث ہے ۔ شعائر الہیٰ کی تعظیم قلبی تقویٰ کی علامت ہے ۔ شہید مقدس اوراق کو ادب سے اٹھانا ، انھیں محفوظ جگہ پر منتقل کرنا صرف مذہبی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ صدقہ جاریہ بھی ہے اور باعث خیر ، رحمت اور برکت بھی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بہت سے ناشران قرآن مجید کی طباعت اور اشاعت کیلئے غیر معیاری پیپر استعمال کرتے ہیں جس سے ہر ماہ بڑی تعداد میں قرآن مجید ، پارے اور قاعدے شہید ہوتے ہیں، جس سے ہر ماہ شہید مقدس اوراق کی ہزاروں ٹن بوریاں جمع ہوجاتی ہیں جنھیں محفوظ کرنا بذات خود ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے لہذا علما ء اساتذہ اور والدین سے گزارش ہے کہ وہ نئی نسل میں کلام الہیٰ اور شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا شعور پیدا کریں ۔ غیر معیاری اور ناقص پیپر پر طبع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدنے کی بجائے معیاری پیپر پر شائع شدہ قرآن مجید اور سیپارے خریدیں تاکہ ان کے شہید ہونے کا احتمال کم سے کم ہو ۔ اسلئے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ہم کتاب الہیٰ کی عزت اور حفاظت کریں گے تو اللہ ہمیں عزت دے گا ۔ حکومت سے گزارش ہے کہ شہید مقدس اوراق کی حفاظت کا مضمون تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نوجوان نسل کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوسکے ۔

  • اوکاڑہ،کمشنر ساہیوال کا نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ

    اوکاڑہ،کمشنر ساہیوال کا نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) کمشنر ساہیوال ڈاکٹر آصف طفیل نے نگہبان رمضان کارڈ سنٹر کا دورہ کر کے کارڈز کی ایکٹیویشن اور مستحق افراد کو بروقت سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کا جائزہ لیا۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید اور اسسٹنٹ کمشنر فیصل شہزاد چیمہ سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ کمشنر نے نگہبان رمضان دسترخوان اور رمضان بازار کے انتظامات، اشیائے خورونوش کے معیار اور قیمتوں کا معائنہ کیا جبکہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں افطار دسترخوان پر صفائی اور معیاری کھانوں کی فراہمی جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نگہبان رمضان کارڈ مستحق خاندانوں کی فلاح کے لیے اہم اقدام ہے اور کارڈز کی تقسیم جلد مکمل کی جائے جبکہ رمضان بازاروں میں سستی اور معیاری اشیاء کی فراہمی یقینی بنائی جائے.

  • سیالکوٹ،ڈپٹی کمشنر کی زیرقیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک

    سیالکوٹ،ڈپٹی کمشنر کی زیرقیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک

    سیالکوٹ بیورو چیف مدثر رتو سے
    ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی کی زیر قیادت انسدادِ کوڑا کرکٹ مہم کے سلسلے میں آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔ واک میں ضلعی انتظامیہ، صفائی عملے، متعلقہ محکموں کے افسران اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    اس موقع پر ڈپٹی کمشنر صبا اصغر علی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور ستھرا پنجاب مہم کے تحت گلیوں، محلوں، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ صفائی قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں ایک ہزار روپے سے لے کر سات لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صاف ستھرا ماحول صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے اور اپنے شہر و گاؤں کو صاف رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ ستھرا پنجاب کی ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے میں انتظامیہ کا ساتھ دیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ شہری صفائی ستھرائی سے متعلق اپنی شکایات ہیلپ لائن 1139 پر درج کروائیں، جن کا بروقت ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔
    آگاہی واک میں ایم ڈی سیالکوٹ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی سلمان احمد ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل رانا لطیف اور میڈیا مینیجر فہد جاوید کے علاوہ متعلقہ افسران اور ملازمین بھی موجود تھے۔ شرکاء نے صفائی، نظم و ضبط اور ذمہ دار شہری ہونے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • خدا بخش لغاری میں مسلح ڈکیتی، خاتون سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور موبائل فون لوٹ لیا گیا

    خدا بخش لغاری میں مسلح ڈکیتی، خاتون سے ڈیڑھ لاکھ روپے اور موبائل فون لوٹ لیا گیا

    میرپورماتھیلو باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری
    جروار کے قریب گاؤں خدا بخش لغاری میں مسلح افراد نے ڈکیتی کی سنگین واردات انجام دی۔ تفصیلات کے مطابق مائی سمینان اپنے شوہر سگھیا خان کی تنخواہ کی رقم ڈیڑھ لاکھ روپے لے کر شام کے وقت گھر پہنچی تو گھر کے سامنے گھات لگائے بیٹھے پانچ مسلح ملزمان نے اسے گھیر لیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق ملزمان نے اسلحے کے زور پر خاتون کو خوفزدہ کیا اور اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔ ڈکیتی کے بعد ملزمان شام تقریباً چھ بجے موقع سے بآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ملزمان میں سے دو کی شناخت محمد نواز لغاری اور اس کے بیٹے دل شیر لغاری کے طور پر ہوئی ہے، جبکہ تین ملزمان تاحال نامعلوم ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد مائی سمینان کی جانب سے جروار تھانے میں این سی رپورٹ درج کرا دی گئی ہے، تاہم پولیس کی جانب سے تاحال کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔

    واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاتون اور اس کے اہلِ خانہ نے گھوٹکی کے ایس ایس پی، میرپور ماتھیلو کے ڈی ایس پی اور جروار تھانے کے ایس ایچ او سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے نامزد اور نامعلوم تمام ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے، جبکہ لوٹی گئی رقم اور موبائل فون کی فوری برآمدگی کو یقینی بنایا جائے۔اہلِ علاقہ نے بھی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس گشت مؤثر بنانے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ٹک ٹاک دوستی، لالچ اور ہوسِ زر ، آٹھ بچوں کی ماں قتل

    ٹک ٹاک دوستی، لالچ اور ہوسِ زر ، آٹھ بچوں کی ماں قتل

    گوجرخان (قمرشہزاد) سوشل میڈیا کی چکاچوند کے پیچھے چھپا بھیانک چہرہ آخرکار بے نقاب ہو گیا۔ گزشتہ دنوں ہاوسنگ سکیم ٹو گوجرخان سے ملنے والی نعش آٹھ بچوں کی ماں، 43 سالہ نعمانہ افضل کے اندھے قتل کا معمہ حل ہوگیا اور پولیس تھانہ گوجرخان نے مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    یہ لرزہ خیز واردات ٹک ٹاک پر ہونے والی دوستی، جھوٹے وعدوں اور ہوسِ زر کا ہولناک انجام ثابت ہوئی۔ پولیس کے مطابق لکی مروت کی رہائشی مقتولہ کی دوستی ملائشیا میں مقیم گوجرخان کے 32 سالہ شادی شدہ شخص عدنان اختر سے سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی۔ مسلسل رابطوں نے دوستی کو محبت کا رنگ دیا، مگر اس کہانی کی بنیاد خلوص نہیں بلکہ مفاد، دھوکہ اور استحصال تھا۔ ملزم نہ صرف خاتون سے رقوم بٹورتا رہا بلکہ ملائشیا سے غیر قانونی سرگرمیوں پر ڈیپورٹ ہونے کے بعد بھی اسے مالی طور پر استعمال کرتا رہا۔ ذرائع کے مطابق عدنان مختلف اوقات میں لکی مروت جا کر مقتولہ سے ملاقاتیں کرتا رہا۔ جب قربتیں بڑھیں تو نعمانہ نے اس پر اپنی پہلی بیوی کو طلاق دے کر شادی کرنے کا دباؤ ڈالنا شروع کیا۔

    یہی مطالبہ اس کے لیے موت کا پروانہ بن گیا۔ قتل سے ایک روز قبل ملزم عدنان، نعمانہ کو لکی مروت سے گاڑی میں گوجرخان لے آیا اور مختلف مقامات پر گھماتا رہا۔ بعدازاں اس نے اپنے دوست کامران کے ساتھ مل کر سفاک منصوبہ بنایا اور گاڑی کے اندر ہی خاتون کو دم گھونٹ کر قتل کر دیا۔ ملزمان نے نعش کو ہاؤسنگ سکیم ٹو، اقراء کالج کے قریب سڑک کنارے پھینکا اور فرار ہوگئے۔ اندھے قتل کی اس واردات کا اے ایس پی سید دانیال حسن نے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے جدید ٹیکنالوجی اور ہیومن انٹیلی جنس کی مدد سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔ نادرا ریکارڈ سے شناخت کے بعد مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا تو انکشاف ہوا کہ وہ دو روز سے لاپتہ تھی۔ ایس ایچ او گوجرخان طیب ظہیر بیگ اور ایچ آئی یو ٹیم نے مقتولہ کے موبائل رابطوں کی چھان بین کی تو عدنان اختر تک رسائی ہوئی۔ شاملِ تفتیش کرنے پر ملزم کے بیانات نے پوری سازش کو بے نقاب کردیا۔ عدنان نے اپنے ساتھی کامران کے ساتھ مل کر قتل کا اعتراف کرلیا ہے، جبکہ شریک ملزم تاحال مفرور ہے اور اس کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی تباہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر اندھی محبت اور دھوکے کے بڑھتے رجحان پر بھی ایک خطرناک سوالیہ نشان ہے۔ آٹھ بچوں کی ماں کو جھوٹے وعدوں، مالی استحصال اور بے رحمانہ سازش کا نشانہ بنایا گیا اور آخرکار اس کی سانسیں بھی چھین لی گئیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا اور مفرور ملزم کو بھی جلد گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • سابق چیف جسٹس عمرعطابندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک،رقم مانگنے کا انکشاف

    سابق چیف جسٹس عمرعطابندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک،رقم مانگنے کا انکشاف

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سائبر سیکیورٹی کا ایک اہم واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق ہیکرز نے نہ صرف ان کا ذاتی واٹس ایپ اکاؤنٹ غیر قانونی طور پر اپنے قبضے میں لیا بلکہ ان کے موبائل فون میں موجود رابطہ نمبرز کو استعمال کرتے ہوئے مختلف افراد سے رقم طلب کرنا بھی شروع کر دی۔اطلاعات کے مطابق ہیکر کی جانب سے سابق چیف جسٹس کے جاننے والوں اور قریبی حلقوں کو واٹس ایپ پیغامات بھیجے گئے جن میں فوری مالی مدد کی درخواست کی گئی۔ بعض افراد کو مشکوک بینک اکاؤنٹس یا ڈیجیٹل والٹس میں رقم منتقل کرنے کا کہا گیا۔ خوش قسمتی سے بیشتر افراد نے مشکوک پیغامات کی تصدیق کیے بغیر رقم منتقل نہیں کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد سابق چیف جسٹس نے قومی سائبر کرائم ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) سے رابطہ کیا اور باقاعدہ شکایت درج کروا دی ہے۔ ادارے نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کی بحالی اور ہیکرز کی شناخت کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔

  • باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ،فائرنگ سے 4 پولیس اہلکار شہید،بنوں،مسجدمیں گھس کر دہشتگردوں نے 3 بھائیوں کو کیا اغوا

    باجوڑ کی تحصیل خار میں نامعلوم افراد فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہل کار شہید ہوگئے۔

    ایس ایچ او گل زادہ کے مطابق پولیس اہلکار رمضان المبارک کے دوران معمول کے گشت پر تھے کہ نامعلوم افراد نے فائرنگ کی،فائرنگ کے نتیجے میں 4 پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی ہوگئے۔ ریسکیو کے مطابق زخمی پولیس اہلکاروں کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال خار منتقل کردیا گیا۔

    دوسری جانب شہدا کی نماز جنازہ پولیس لائنز باجوڑ میں ادا کردی گئی جس میں اعلیٰ پولیس اور سول حکام نے شرکت کی،فتنۂ الخوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے جنازے پر رقت آمیز مناظردیکھنے میں آئے،مقامی افراد نے فتنۂ الخوارج کو بددعائیں دی اور نعرہ بازی کی،شہریوں کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ ایسا ہی ہے کہرام افغانستان میں انکے ٹھکانوں میں برپا کرینگے،بیشک اسکے لئے کابل کی سرکاری عمارتوں کو ہی کیوں نا ہو زمین بوس کرنا پڑے،کب تک خوارج ان پختونوں کی شرافت سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے؟

    علاوہ ازیں بنوں کے علاقے سوکڑی حسن خیل میں تراویح کے دوران 10 سے 15 دہشت گردوں نے مسجد میں گھس کر 3 بھائیوں کو اغوا کر لیا۔مغویوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک کمشنر آفس کا کمپیوٹر آپریٹر شامل ہے

  • اسلام آباد سے کراچی جانیوالی گرین لائن  پٹڑی سے اتر گئی

    اسلام آباد سے کراچی جانیوالی گرین لائن پٹڑی سے اتر گئی

    راولپنڈی مارگلہ اسلام آباد سے کراچی جانیوالی گرین لائن ایکسپریس کے خالی ریک کو حادثہ پیش آیا ہے

    گرین لائن مارگلہ اسلام آباد سے پیسنجرلیکر واپس راولپنڈی اور پھر کراچی جاتی ہے ،ریلوے حکام کے مطابق حادثہ بیکری چوک کے قریب اسوقت پیش آیا جب یہ خالی ریک مارگلہ اسٹیشن جا رہا تھا, ٹریک کی خستہ حالی اور تیز رفتاری کے باعث انجن اورتین بوگیاں ٹریک سے زمین میں دھنس گئیں ،​گرین لائن حادثے کے بعد اپ لائن پر ٹریفک عارضی طور پر بند ہے،اپ ٹریک پر آنے والی ٹرینوں کو ڈاؤں لائن سے گذارا جائے گا،حادثے کی اطلاع پرڈی ایس ریلوے نور الدین داوڑ موقع پر پہنچ گئے،ریلوے امدادی کرین اور ہنگامی اسٹاف موقع پر پہنچ گیا امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں،راولپنڈی سے گرین لائن روانگی میں گاڑی روانگی میں تاخیر کا امکان ہے،راولپنڈی سے کراچی کے لیئے گرین لائن 3 بجکر 40 منٹ پر روانہ ہوتی ہے

    6 ڈاون گرین لائن ایکسپریس راولپنڈی میں پٹری سے اتر گئی
    ریلوے انتظامیہ کی نااہلی: دعوے آسمان پر، حقیقت زمین پر!
    ایک طرف وفاقی وزیرِ ریلوے روزانہ میڈیا پر آ کر ترقی، جدیدیت اور "سب ٹھیک ہے” کی لمبی چوڑی ڈینگیں مارتے تھکتے نہیں، اور دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ مسافروں کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔
    بھی کچھ دیر پہلے ہی گرین لائن ایکسپریس جیسی وی آئی پی ٹرین کے پٹری سے اترنے کی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ جس ٹرین کو محکمہ ریلوے کا فخر سمجھا جاتا ہے، اگر اس کا یہ حال ہے تو باقی ٹرینوں اور عام مسافر کا اللہ ہی حافظ ہے!
    • کھوکھلے دعوے: میڈیا ٹاک میں ریلوے کو منافع بخش اور محفوظ بتایا جاتا ہے، مگر عملی طور پر ٹریکس کی حالت زار انتہائی مخدوش ہے۔
    • انتظامی نااہلی: آئے روز کے حادثات ثابت کر رہے ہیں کہ محکمے کی ترجیحات عوامی تحفظ نہیں بلکہ صرف فوٹو سیشنز ہیں۔
    • سفر یا موت کا کھیل؟ غریب اور متوسط طبقہ جو سستی سواری کی امید میں ریلوے کا رخ کرتا ہے، اب اسٹیشن جاتے ہوئے بھی ڈرتا ہے۔
    وزیرِ موصوف سے سوال: کیا صرف ٹی وی پر بیٹھ کر لمبی چوڑی باتیں کرنے سے ریلوے چلے گی؟ گرین لائن جیسے حادثات پر آپ کی "کارکردگی” کہاں چھپی ہوئی ہے؟
    اب وقت آ گیا ہے کہ لفاظی کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں، ورنہ یہ ڈینگیں کسی بڑے سانحے کا پیش خیمہ ثابت ہوں گی۔

  • بلیدہ میناز میں گھر پر مارٹر گولے فائر، بلوچ خواتین اور بچے شہید

    بلیدہ میناز میں گھر پر مارٹر گولے فائر، بلوچ خواتین اور بچے شہید

    چوری، ڈکیتی اور بھتہ خوری کے مذموم عزائم کے ساتھ آنے والے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے کا تقدس پامال کرتے ہوئے بلیدہ میناز میں عبدالحمید نامی شخص کے گھر پر حملہ کیا۔

    جہاں حملہ آوروں نے اندھادھند فائرنگ کے ساتھ مارٹر گولے بھی فائر کیے۔اس سفاکانہ حملے کے نتیجے میں 6 معصوم بلوچ جن میں مسلم ولد چار شمبے، مولانا یوسف ولد محمد شریف، گل نازبنت عبدالغفار، ایک سالہ۔چنگیز ولد عبدالغفار، چار سالہ فضیلہ زوجہ عبدالغفار،اور چھ سالہ زہرہ بنت عبدالغفار شامل تھے شہید ہو گئے،جبکہ تین بچے زخمی ہوئے۔حملے کے باعث گھر کا سامان جل کر خاکستر ہو گیا اور گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

    یہ المناک سانحہ دہشت گردوں کی بزدلی، سفاکیت اور ان کے مذموم مقاصد کی واضح عکاسی کرتا ہے اور بلوچ نسل کشی کی بدترین مثال ہے۔ نام نہاد آزادی کی جنگ کے دعوے سے شروع ہونے والا یہ فتنہ اب کھلے عام چوری، ڈکیتی اور بھتہ خوری جیسے جرائم تک پہنچ چکا ہے۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے، جو آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گا۔