Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور، تنخواہ نہ ملنے پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کا احتجاج،ٹریفک جام

    لاہور، تنخواہ نہ ملنے پر ستھرا پنجاب کے ورکرز کا احتجاج،ٹریفک جام

    لاہور: ستھرا پنجاب ورکرز کی جانب سے شہر کے مختلف مقامات پر جاری احتجاج کے باعث متعدد اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہو گئی، جبکہ بعض مقامات پر ٹریفک کو عارضی طور پر بند بھی کرنا پڑا۔

    ستھرا پنجاب ورکرز نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر فیروز پور روڈ پر احتجاج کیا،دو ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے پر ستھرا پنجاب ملازمین سڑکوں پر، ورکرز نے بقایا تنخواہیں فوری ادا کرنے کا مطالبہ کیا، احتجاج کی وجہ سے ٹریفک جام ہو گئی،ستھرا پنجاب کے ورکرز کا کہنا ہے کہ عید کے دنوں میں 24 ،24 گھنٹے کام کرنے کے باوجود وزیر اعلی پنجاب کی جانب سے وعدہ کیا گیا بونس ستھرا پنجاب کے ورکرز کو نہ مل سکا سونے پہ سہاگہ تنخواہوں میں بھی کٹ لگا کر غریبوں کا چولہا بجھانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے

    سٹی ٹریفک پولیس کے مطابق فیروزپور روڈ پر ارفع کریم ٹاور کے سامنے کلمہ چوک کی جانب احتجاج کے باعث ٹریفک عارضی طور پر معطل ہے۔ اس سے قبل جی ٹی روڈ پر قائداعظم انٹرچینج اور شوق چوک کے قریب بھی مظاہروں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر رہی۔سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شرازی کی ہدایت پر ڈی ایس پیز اور ٹریفک افسران مختلف مقامات پر موجود ہیں، جہاں مظاہرین سے مذاکرات جاری ہیں۔ ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ شاہراہوں کو جلد از جلد کھلوانے اور ٹریفک کی معمول کی روانی بحال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔لاہور ٹریفک پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر ضروری طور پر متاثرہ شاہراہوں کا رخ کرنے سے گریز کریں، سفر سے قبل ٹریفک کی تازہ صورتحال سے آگاہی حاصل کریں اور ممکنہ طور پر متبادل راستے اختیار کریں۔

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق شہر بھر میں ٹریفک کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور جیسے ہی احتجاج ختم ہوگا، متاثرہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی فوری طور پر بحال کر دی جائے گی۔

  • ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش ، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش ، گاڑی دریائے کنہار میں بہہ گئی

    ناران: مانسہرہ کے سیاحتی علاقے ناران میں ویڈیو بنانے کی کوشش، چار دوستوں کی گاڑی دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی۔

    پولیس کے مطابق چار نوجوان اپنی گاڑی کو دریائے کنہار سے گزار کر ویڈیو بنا رہے تھے کہ اچانک پانی کے شدید بہاؤ کے باعث گاڑی بے قابو ہو کر دریا میں بہہ گئی۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے چاروں نوجوانوں کو بحفاظت دریا سے نکال لیا۔ڈی ایس پی صداقت خان کے مطابق خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دریا میں بہہ جانے والی گاڑی کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ دریاؤں، ندی نالوں اور دیگر خطرناک مقامات پر ویڈیوز یا تصاویر بنانے کی غرض سے اپنی جان کو خطرے میں نہ ڈالیں اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔

  • پنجاب ،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا عمل جاری، 35 ہزار 719 افراد ڈی پورٹ

    پنجاب ،غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی کا عمل جاری، 35 ہزار 719 افراد ڈی پورٹ

    لاہور: پنجاب بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کا عمل بدستور جاری ہے۔ ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اب تک 35 ہزار 719 افغانیوں سمیت مختلف غیر قانونی غیر ملکی باشندوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے، جبکہ 72 غیر قانونی مقیم افراد اس وقت ہولڈنگ پوائنٹس پر موجود ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ڈی پورٹ کیے جانے والوں میں 14 ہزار سے زائد مرد، 7 ہزار 138 خواتین اور 14 ہزار 529 بچے شامل ہیں۔ بے دخل کیے گئے افراد میں رہائشی ثبوت رکھنے والے 11 ہزار 47 غیر ملکی، افغان سٹیزن کارڈ رکھنے والے 11 ہزار 135 افراد اور 13 ہزار 537 غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی بھی شامل ہیں۔انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم نے صوبے بھر میں سکیورٹی ہائی الرٹ رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے انخلاء کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس عالمی قوانین اور حکومتی پالیسی کے مطابق غیر قانونی مقیم غیر ملکی باشندوں کے انخلاء کے عمل پر عملدرآمد کر رہی ہے۔

  • نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی نیوز چینلز   ہیک ، بھارت کو واضح پیغام

    نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی نیوز چینلز ہیک ، بھارت کو واضح پیغام

    نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی نیوز چینلز ہیک ، بھارت کو واضح پیغام دے دیا گیا

    ہیکرز نے بھارتی نیوزچینلز ٹی وی 9 تیلگو اور فریڈم ٹی وی کنڑ کوہیک کر لیا،بھارتی صدر کی تقریر کے دوران ہیکرز کی طرف سے ٹی وی 9 تیلگو چینل پر پاکستان کا قومی ترانہ چلادیا گیا،ہیکرز نے بھارتی صدرکے خطاب کےدوران ٹی وی 9 تیلگو چینل اور فریڈم ٹی وی کنڑ کےنشریاتی سسٹم تک رسائی حاصل کی،کارروائی کے دوران ہیکرز کی جانب سے تنبیہ کی گئی کہ پاکستان سے چھیڑچھاڑ نہ کی جائے ،

    چینلزکی نشریات کے متاثر ہونے پر مختلف دعوے اور قیاس آرائیاں سامنے آنے لگیں،ٹی وی 9 تیلگو کے سوشل میڈیا پر14 ملین اور فریڈم ٹی وی کنڑ کے1ملین سے زیادہ فالورز موجود ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار اور گودی میڈیا پاکستان مخالف پراپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے مگر ہیکرز نے اس نظام کی قلعی کھول دی، چوٹی کے بھارتی نیوزچینل کو ہیک کرکے پاکستانی ترانہ چلائے جانے سے بھارت کی ناقص سائبر سیکیورٹی بے نقاب ہوگئی ہے، وشوا گرواور شائننگ انڈیا کے دعوے کرنے والا بھارت کا انفارمیشن ٹیکنالوجی نظام مکمل طور پر غیر محفوظ ہے

  • آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ

    آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ

    آپریشن سندور پر مودی حکومت کی غلط بیانی بے نقاب، اپوزیشن اور سابق فوجی قیادت کا شدید غصہ سامنے آیا ہے

    بھارتی جریدہ دی ہندو کے مطابق؛بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے سچ کو 13 مہینے تک چھپا کر فوجی جوانوں کی قربانی کا مذاق اڑا دیا،کانگریس رہنما سپریا شرینیت کا کہنا ہے کہ؛راجناتھ سنگھ جوانوں کی ہلاکت پر جھوٹ بول کر ان کی قربانیوں کا سرعام مذاق اڑانے والا بزدل نکلا،ریٹائرڈ ونگ کمانڈر انوما آچاریہ نے مودی حکومت کو سیاسی مفاد کیلئے اپنے فوجیوں کو دھوکہ دینے والی بدترین حکومت قرار دیا، سابق بھارتی فوجی افسر کرنل روہت چوہدری کے مطابق؛مودی کی ہندوتوا پارٹی صرف الیکشن جیتنے کے لیے فوج کے نام پر سیاست چمکانے کا دھندا کرتی ہے،بھارتی اپوزیشن نے جھوٹ پر قائم مودی حکومت سے فوری اقتدار چھوڑتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا، معروف صحافی سوجیت نائر نے انکشاف کیا؛مودی حکومت کے لیے فوجی جوانوں کی جانیں صرف اقتدار کی کرسی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے.

  • ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد معاملے پر وزیراعظم نے ایک اور کمیٹی بنا دی

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد معاملے پر وزیراعظم نے ایک اور کمیٹی بنا دی

    ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اسلام آباد معاملے پر وزیر اعظم کا بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    وزیراعظم نے نیب کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم شکیل دے دی،وزیراعظم آفس نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ جے آئی ٹی میں گریڈ 21 یا اس سے اوپر کے اعلیٰ افسران شامل ہوں گے۔ نیب کے گریڈ 21 کے افسر جے آئی ٹی کے کمیٹی سربراہ مقرر کئے گئےہیں، جے آئی ٹی میں ایف آئی اے اور ایس ای سی پی کے نمائندے بھی شامل ہیں،ایف بی آر،ائی ایس آئی اور آئی بی کے افسران بھی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔ جے آئی ٹی ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے قانونی اور انتظامی امور کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔ وزیر اعظم نے جے آئی ٹی کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے 60 دن کی مہلت دے دی۔ نیب کو جے آئی ٹی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے اور سیکرٹریل سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،وفاق کے تمام ڈویژنز اور محکمے جے آئی ٹی کو مکمل معاونت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔وزیر اعظم آفس نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

    واضح رہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے ون-کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے پر ایک بار قبل بھی اعلی سطح کمیٹی تشکیل دی تھی،وزیرِ قانون و وانصاف اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکریٹری کابینہ اور کامرس سیکریٹری اس کمیٹی کے ارکان تھے اور کمیٹی نے ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کرنی تھی.

  • نئے مالی سال 2026,27 کا آغاز،بجٹ میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد شروع

    نئے مالی سال 2026,27 کا آغاز،بجٹ میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد شروع

    نئے مالی سال 2026,27 کا آغاز،بجٹ میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد شروع ہو گیا

    درآمدی اشیا پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں نمایاں کمی، ایف بی آر کا نیا ایس آر او جاری کر دیا گیا،ایف بی آر نے ریگولیٹری ڈیوٹی کی زیادہ سے زیادہ شرح 50 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد مقرر کر دی،20 فیصد یا اس سے کم آر ڈی والی بیشتر درآمدی اشیا پر عمومی طور پر 20 فیصد کمی کر دی گئی،5، 2 اور 1 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی والی مخصوص ٹیرف لائنز کو کمی سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا،برآمدات اور مقامی صنعت کے تحفظ سے متعلق اشیا پر موجودہ کم شرح ریگولیٹری ڈیوٹی برقرار رہے گی،قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت ریگولیٹری ڈیوٹی مرحلہ وار ختم کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے،حکومت 2030 تک ریگولیٹری ڈیوٹی مکمل ختم کرے گی، ٹیرف نظام کو سادہ بنایا جائے گا ،ٹیرف ریشنلائزیشن پلان کے دوسرے سال میں 1، 2 اور 2.5 فیصد آر ڈی شرحوں میں بھی رد و بدل شامل ہوگا،فیصلے سے درآمدی رکاوٹیں کم، کاروباری مسابقت اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا

  • گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم

    گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم

    سرجن موجود الٹراساؤنڈ بند، زچہ بچہ و ایمرجنسی کے مریض نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر ہیلتھ حکام کی ہٹ دھرمی پر کئی سوالات کھڑے ہو گے
    کروڑوں کی مشینیں دھول چاٹنے لگیں سی ایم کے ہیلتھ ویژن کو مقامی نمائندوں کا تمانچہ لاکھوں کی تحصیل کا بڑا ہسپتال ایکسرے ٹیکنیشن کو ترس گیا
    گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان حکام بالا کی عدم توجہی، چشم پوشی اور مقامی منتخب نمائندوں کی مبینہ ہٹ دھرمی کے باعث سفید ہاتھی بن گیا۔ لاکھوں کی آبادی کے حامل اس علاقے کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ اور جدید مشینری بند پڑی دھول چاٹ رہی ہے۔ شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام، وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بارہا اس دیرینہ مسئلے کی طرف متوجہ کیا گیا، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سرجن ڈاکٹرز تو موجود ہیں، لیکن الٹراساؤنڈ کی سہولت نہ ہونے کے باعث معدے، گردے، پتے کی پتھری اور ہرنیا کے مریض رُل گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ابتر صورتحال گائنی زچہ و بچہ کے شعبے کی ہے، جہاں غریب حاملہ خواتین کو بڑے الٹرساونڈ کے لیے نجی ہسپتالوں اور نجی تشخیصی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ غریب مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ شہریوں نے مقامی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان نمائندوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے میں ہیلتھ ریفارمز کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کے منتخب نمائندے اس اہم ترین مسئلے پر اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ کیا یہ عوامی نمائندے وزیر اعلیٰ کے ویژن کو سبوتاژ کر رہے ہیں یا پھر غریب عوام کو ذلیل و خوار ہوتا دیکھنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے؟ طبی سہولیات کے اس فقدان نے لڑائی جھگڑوں کے کیسز میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کی رپورٹ حاصل کرنے والے سائلین کو بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہنگائی کے اس پپسے ہوئے دور میں نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات اٹھانا غریب عوام کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ گوجرخان کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی فوری تعیناتی کر کے الٹراساؤنڈ شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ عوام کو نجی مافیا کے چنگل سے نجات مل سکے۔

  • شدید گرمی حبس میں واپڈا کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ گوجرخان جہنم زار بن گیا

    شدید گرمی حبس میں واپڈا کی ظالمانہ لوڈشیڈنگ گوجرخان جہنم زار بن گیا

    کمر توڑ بلز اور رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، بجلی غائب شہریوں کا حکومت سے مستعفی ہونے اور واپڈا کو چائنہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ
    عوام کا خون پسینے کا پیسہ اور حکمرانوں کی عیاشیاں راتوں کا سکون غارت ہونے پر عوامی صبر کا پیمانہ لبریز، شہریوں میں شدید غم و غصہ
    گوجرخان (قمرشہزاد) جھلساتی ہوئی شدید گرمی، سوا نیزے پر چمکتا ہوا سورج اور دم گھٹتا ہوا حبس ان انتہائی کٹھن حالات میں بھی محکمہ واپڈا نے عوام پر رحم کھانے کے بجائے فورسڈ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ دراز کر کے شہریوں کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے۔ گوجرخان اور اس کے گردونواح میں دن اور رات کے چوبیس گھنٹوں میں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اب ایک معمول بن چکی ہے، جس نے معصوم بچوں، بیمار بوڑھوں اور خواتین کو جیتے جی مصلوب کر دیا ہے۔ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی نے غریب کا جینا دوبھر کر رکھا ہے، تو دوسری طرف محکمہ واپڈا نے بجلی کے بلوں میں رنگ برنگے ٹیکسز کی بھرمار، ظالمانہ سلیب سسٹم کے نفاذ اور دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے یونٹس فروخت کرنے کے باوجود صارفین کو بلاتعطل بجلی فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ اس ابتر صورتحال پر گوجرخان کے شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپڈا نے ہمارا جینا محال کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ دن کو سکون ہے اور نہ رات کو چین۔ قدرت نے رات آرام کے لیے بنائی تھی، مگر واپڈا کی سفاکانہ لوڈشیڈنگ نے راتوں کا سکون بھی غارت کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے بھاری بھرکم بلز اور ٹیکسز باقاعدگی سے وصول کرنے کے باوجود بجلی فراہم نہ کرنا اور ہر بار شارٹ فال کا راگ الاپنا سمجھ سے بالاتر اور سراسر دھوکہ دہی ہے۔ شہریوں نے واپڈا کی نااہلی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ سفید ہاتھی عوام کو بجلی فراہم نہیں کر سکتا تو اس محکمے کو فوری طور پر چائنہ کے سپرد، آؤٹ سورس کر دیا جائے تاکہ عوام کو اس ذہنی اور جسمانی عذاب سے نجات مل سکے۔حکمران طبقے کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے گوجرخان کے غیور شہریوں نے کہا کہ اگر آپ لوگ عوام کو بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کر سکتے، تو آپ کو عوام پر حکمرانی کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں پر پلنے والے اور شاہانہ مراعات حاصل کرنے والے طبقے کو تڑپتی ہوئی عوام، بلکتے ہوئے معصوم بچوں اور بسترِ مرگ پر پڑے مریضوں کی تکلیف کا ذرا برابر بھی احساس نہیں ہے۔ شہریوں نے مقتدر حلقوں کو وارننگ دی ہے کہ اگر فورسڈ لوڈشیڈنگ کا یہ ظالمانہ سلسلہ فوری بند نہ کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکام بالا پر ہو گی۔

  • پاکستان میں  سیاسی افرا تفری اور تقسیم کی فضا کے خاتمے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    پاکستان میں سیاسی افرا تفری اور تقسیم کی فضا کے خاتمے کی ضرورت ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں سیاسی افرا تفری اور تقسیم کی فضا کے خاتمے کی ضرورت ہے،لسانی، فرقہ وارانہ اور صوبائی تقسیم کےجھگڑے ختم کر کے اتحاد ویکجہتی سے مسائل کا حل ممکن ہے،الزام تراشی کی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے،بلوچستان ،خیبر پختونخوا ،کراچی میں دہشتگردی کے واقعات قابل مذمت لیکن دہشت گردی اور بدامنی کی بنیادی وجوہات تلاش کرکے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،مرکزی مسلم لیگ ملک بھر میں صحافیوں کو اے آئی سمیت دیگر آئی ٹی کے کورسز کروا کر رہی ہے،خدمت کی سیاست ہمارا منشور اور اسی پر ہم سیاست کر رہے ہیں

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بہاولپور اور ملتان میں صحافیوں، سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے الگ الگ پروگراموں سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات طہٰ منیب،ترجمان مرکزی مسلم لیگ پنجاب محمد اجمل،عبدالمقسط و دیگر بھی موجود تھے، ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا کہنا تھا کہ افراتفری کے ماحول میں‌مرکزی مسلم لیگ اتحاد ویکجہتی کا پیغام لے کر آئی ہے،ہم چاہتے ہیں پاکستان امن کا گہوارہ بنے،آپسی جھگڑے ختم ہوں اور ملک معاشی طور پر ترقی کرے لیکن ہمارے حکمرانوں کی نااہلیوں کا خمیازہ پاکستانی قوم بھگت رہی ہے،صحت ،تعلیم اور دیگر سرکاری اداروں کی آؤٹ سورسنگ، پاکستان اسٹیل ملز کی بندش، پی آئی اے کی نجکاری اور صنعتوں کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے،ضرورت اس امر کی ہے کہ بند صنعتوں کو بحال کیا جائے اور چھوٹے شہروں میں ٹیکس فری انڈسٹریل زونز قائم کیے جائیں،آج کسان بھی حکمران گردی کا شکار ہے، جب فصل آتی ہے تب اس کا ریٹ گر جاتا ہے، جب فصل چلی جاتی ہے ریٹ آسمانوں کو پہنچ جاتا ہے۔ 3500 روپے من میں کسان سے کہا گیا آپ سے گندم خریدیں گے، 3000، 3200، 3300، 3400 میں گندم خریدی گئی، آج وہ گندم 4000 روپے من میں مل رہی ہے،ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے اندر احتجاج چل رہا ہے، بلوچستان میں ،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے واقعات آئے روز ہوتے ہیں، اسی ہفتے کراچی میں بھی دہشتگردی کا واقعہ ہوا، ہم اسکی مذمت کرتے ہیں،لیکن صرف مذمت سے کام نہیں چلے گا، دہشت گردی، لاقانونیت یا پھر یہ جو علاقوں میں مسائل کھڑے ہو رہے ہیں، ان مسائل کی جو روٹ کاز ہے اس کو تلاش کیا جائے اور پھر ان مسائل کے حل کے لیے حکومت عملی اقدامات کرے ،اس ضمن میں سب سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جائے، کشمیر کے مسائل کو حل کرنا، بلوچستان کے مسئلہ پرغور کرنا، اور خاص طور پر یہ جو دہشت گردی ہے اس دہشت گردی کے حوالے سے ایک جامع حکمت عملی تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ صحافی عوام کی آواز ہیں،مرکزی مسلم لیگ صحافیوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دے رہی ہے، صحافیوں کے بچوں کے لیے بھی خصوصی کورسز شروع کیے جائیں گے ،مرکزی مسلم لیگ نے ملک بھر میں انٹرا پارٹی انتخابات کروائے،مرکزی مسلم لیگ اس ملک کے لیے سیاست کرنا چاہتی ہے، ہم تقسیموں سے نکل کر سیاست کرنا چاہتے ہیں،پاکستان میں اتحاد ویکجہتی کا ماحول ہو گا تو ملک آگے بڑھے گا.