Baaghi TV

گوجرخان،لاکھوں کی آبادی کی واحد علاج گاہ ریڈیالوجسٹ سے محروم

سرجن موجود الٹراساؤنڈ بند، زچہ بچہ و ایمرجنسی کے مریض نجی ہسپتالوں کے رحم و کرم پر ہیلتھ حکام کی ہٹ دھرمی پر کئی سوالات کھڑے ہو گے
کروڑوں کی مشینیں دھول چاٹنے لگیں سی ایم کے ہیلتھ ویژن کو مقامی نمائندوں کا تمانچہ لاکھوں کی تحصیل کا بڑا ہسپتال ایکسرے ٹیکنیشن کو ترس گیا
گوجرخان (قمرشہزاد) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال گوجرخان حکام بالا کی عدم توجہی، چشم پوشی اور مقامی منتخب نمائندوں کی مبینہ ہٹ دھرمی کے باعث سفید ہاتھی بن گیا۔ لاکھوں کی آبادی کے حامل اس علاقے کی سب سے بڑی سرکاری علاج گاہ میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی آسامیاں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہیں، جس کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کا الٹراساؤنڈ ڈیپارٹمنٹ اور جدید مشینری بند پڑی دھول چاٹ رہی ہے۔ شعبہ صحت کے اعلیٰ حکام، وزیر صحت اور سیکریٹری ہیلتھ اینڈ پاپولیشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب کو بارہا اس دیرینہ مسئلے کی طرف متوجہ کیا گیا، مگر افسوس کہ اربابِ اختیار کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ مقامی شہریوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس صورتحال کو حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں سرجن ڈاکٹرز تو موجود ہیں، لیکن الٹراساؤنڈ کی سہولت نہ ہونے کے باعث معدے، گردے، پتے کی پتھری اور ہرنیا کے مریض رُل گئے ہیں۔ سب سے زیادہ ابتر صورتحال گائنی زچہ و بچہ کے شعبے کی ہے، جہاں غریب حاملہ خواتین کو بڑے الٹرساونڈ کے لیے نجی ہسپتالوں اور نجی تشخیصی مراکز کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ نجی ہسپتالوں کی چاندی ہو چکی ہے اور وہ غریب مریضوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ شہریوں نے مقامی اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان نمائندوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ ایک طرف وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز صوبے میں ہیلتھ ریفارمز کے دعوے کر رہی ہیں، تو دوسری طرف گوجرخان کے منتخب نمائندے اس اہم ترین مسئلے پر اسمبلی فلور پر آواز اٹھانے سے بھی قاصر ہیں۔ کیا یہ عوامی نمائندے وزیر اعلیٰ کے ویژن کو سبوتاژ کر رہے ہیں یا پھر غریب عوام کو ذلیل و خوار ہوتا دیکھنا ان کا مشغلہ بن چکا ہے؟ طبی سہولیات کے اس فقدان نے لڑائی جھگڑوں کے کیسز میں میڈیکو لیگل سرٹیفکیٹ (MLC) کی رپورٹ حاصل کرنے والے سائلین کو بھی در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا ہے۔ مہنگائی کے اس پپسے ہوئے دور میں نجی ہسپتالوں کے بھاری اخراجات اٹھانا غریب عوام کے بس سے باہر ہو چکا ہے۔ گوجرخان کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، صوبائی وزیر صحت اور سیکریٹری صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کا فوری نوٹس لیا جائے، ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ اور ایکسرے ٹیکنیشن کی فوری تعیناتی کر کے الٹراساؤنڈ شعبے کو ہنگامی بنیادوں پر فعال کیا جائے تاکہ عوام کو نجی مافیا کے چنگل سے نجات مل سکے۔

More posts