Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    تحریک انصاف کی قومی سیاست کے بعد سوشل میڈیا کی شہرت کے بیانیہ کا بھی زوال

    ڈیجیٹل دور میں سوشل میڈیا رائے سازی کا ایک مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ اسی لیے کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانے والی گفتگو اور بیانیے کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے،پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران سوشل میڈیا سیاسی سرگرمیوں کا سب سے مؤثر میدان بن کر سامنے آیا، مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی اپنی حکمت عملی کے مطابق اس پلیٹ فارم کو استعمال کیا، اپنے کارکنوں کو منظم کیا، بیانیے تشکیل دیے اور مخالفین پر تنقید کی، اس ماحول میں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا سرگرمیوں کو خاصی توجہ حاصل رہی لیکن پھر وقت بدلا، حالات بدلے،عمران خان آئین و قانون کے مطابق تحریک عدم اعتماد کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے اور پھراسکے بعد پاکستان میں جو کردار تحریک انصاف نے نبھایاوہ کسی ملک دشمنی سے کم نہ تھا.

    نو مئی کا سانحہ وہ حقیقت ہے جس نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ قوم کو دکھایا،عسکری اداروں، شہداء کی یادگاروں پر حملے اور پھر مسلسل اداروں کے خلاف الزام تراشیاں‌،پروپیگنڈے،غرضیکہ پی ٹی آئی جس حد تک جا سکتی تھی گئی اور یہی وجہ بنی کہ آج سوشل میڈیا سے پی ٹی آئی کا وجود غائب ہو چکا ہے، بانی پی ٹی آئی کا نام لیوا سوشل میڈیا پر سوائے چند ضمیر فروشوں کے کوئی نہیں رہا،عمران اڈیالہ میں ،پی ٹی آئی رہنما ایوانوں میں،جب پی ٹی آئی رہنما ہی عمران خان سے منہ موڑ گئے تو عوام کب تلک ساتھ دے، انصاف کے نام پر تحریک انصاف نے جو ملک کے ساتھ کیا وہ ایک ایسی زندہ مثال ہے جو تاریخ میں لکھی جائے گی کہ نام نہادسیاسی جماعت گوگی و پنکی کے ہاتھوں یرغمال بنی اور نہ صرف ملک میں مالی کرپشن کی بلکہ اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیا اور ملکی استحکام،ملکی سلامتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے میں بھی پیچھے نہ رہی.

    ایسے میں عوام ایک طرف پی ٹی آئی سے لاتعلق ہو چکی تو وہیں گزشتہ برس کا معرکہ حق، ،افغان رجیم کی جانب سے پاکستان میں فتنۃ الخوارج کے ذریعے دہشتگردی، پاکستان کا افغان رجیم کے ٹکڑوں پر پلنے والے فتںہ الخوارج کیخلاف آپریشن،امریکہ ایران جنگ نے عوامی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی، ایسے حالات میں سوشل میڈیا پر افواج پاکستان کی قیادت کے حق میں اظہارِ یکجہتی کے مختلف رجحانات دیکھنے میں آئے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے معرکہ حق میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کیا، بھارت کا آپریشن سندور حقیقت میں بھارت کے لئے "آپریشن سندور” بن گیا،چند روز قبل بھارت نے اپنے معرکہ حق میں اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کا اعلان کیا،افغان رجیم کی سازشوں ،دہشتگردی کا جس بہادری کے ساتھ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جواب دیا وہ سب کے سامنے ہے، امریکا ایران جنگ ہوئی تو دنیا دیکھ رہی تھی کہ انجام کیا ہو گا لیکن انجام پاکستان بنا رہا تھا ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کوششوں و کاوشوں سے نہ صرف جنگ بندی ہوئی بلکہ معاہدہ بھی طے پا گیا،بھارت پاکستان پر دہشتگردی کے الزامات لگاتا رہا لیکن کوئی ثبوت پیش نہ کر سکا لیکن یہاں پاکستان دنیا کے سامنے امن کا علمبردار بن کر سامنے آیا اور امریکا ایران جنگ کا واحد ثالث بن کر خطے میں امن قائم کیا،

    یہی وجہ ہے کہ آج سوشل میڈیا پر نگاہ دوڑائیں تو ہر طرف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے نام پیغامات ،تصاویریں ،عوامی جذبات دیکھنے کوملتے،35 پنکچرز کے بیانئے کی طرح عمران خان کے واحد مقبول شخصیت ہونے کا بھرم بھی ٹوٹ چکا ہے،عمران خان نام کی کوئی چیز سوشل میڈیا پر دیکھنے کو نہیں ملتی ،میرا اللہ جس کو چاہے عزت دے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نہ صرف سوشل میڈیا بلکہ دنیا بھر میں گونج رہا ہے،آج پاکستانی معاشرہ حقیقت کو دیکھ اور تسلیم کر رہا ہے، معرکہ حق کی فتح قوم کے سامنے ہے،قوم کبھی ریاست کو کمزور کرنے والوں کا ساتھ نہیں دیتی بلکہ ملک کا دفاع کرنے والوں کو سلیوٹ کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج پاکستانی قوم کی امیدوں کا محور و مرکز ہیں،ایکس،فیس بک، ٹک ٹاک غرضیکہ جس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جائیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا چمکتا دمکتا نام ہر طرف نظر آئے گا، سوشل میڈیا کی طاقت آج مسلح افواج کے لئے ہے اور پاکستانی عوام جہاں ملکی دفاع کے لئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے،سوشل میڈیا کے محاذ پر بھی پاکستانی قوم کا بچہ بچہ اسی جذبے کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے،پی ٹی آئی کی انتشاری سیاست انجام کو پہنچ چکی اور پاکستانی قوم ایک بار پھر کلمہ کے نام پرحاصل کئے گئے وطن عزیز پاکستان اور پاکستانیت کی طرف لوٹ چکی، نفرت اور تفریق کو ترک کر رہی ہے اور شہرت کا نام نہاد بیانیہ دفنانے میں مصروف ہے۔

  • درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔لاہور ہائیکورٹ

    درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔لاہور ہائیکورٹ

    لاہور ہائیکورٹ نے بیرون ملک سفر کیلئے مطلوبہ فارن کرنسی نہ ہونے پر شہری کو آف لوڈ کیے جانے کیخلاف درخواست نمٹاتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔

    چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ فاروق حیدر نے کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق بیرون ملک سفر کیلئے ایک ہزار ڈالر ہونے چاہئیں، جعلی دستاویزت پر سفر کرنیوالے ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے کہا کہ آف لوڈ کرتے وقت شہری کو تحریری وجوہات فراہم کی جاتی ہیں۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ بیرون ملک سفر کیلئے یومیہ 100 ڈالر کے حساب سے رقم ہونی چاہئے۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اگر 4 ماہ کا ویزہ ہے تو پھر اس کے پاس 12000 ڈالر ہونے چاہئیں، درست دستاویزات رکھنے والے شہریوں کو بلاجواز سفر سے نہ روکا جائے۔

  • لاہور،گولیاں چل گئیں،خاتون قتل، شوہر کی دوسری بیوی پر قتل کروانے کا الزام

    لاہور،گولیاں چل گئیں،خاتون قتل، شوہر کی دوسری بیوی پر قتل کروانے کا الزام

    لاہور کے علاقے مانگا منڈی میں کھوکھر چوک کے قریب نامعلوم ملزمان نے فائرنگ کر کے 30 سالہ خاتون کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق جاں بحق خاتون کی شناخت کرن بی بی کے نام سے ہوئی ہے۔ لاش کو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ مقتولہ کرن بی بی، شیر علی کی تیسری بیوی تھیں، جبکہ شیر علی نے مجموعی طور پر تین شادیاں کر رکھی تھیں۔دوسری جانب مقتولہ کے لواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ کرن بی بی کو ان کے شوہر کی دوسری بیوی نے قتل کروایا ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس الزام کی بھی تفتیش کی جا رہی ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

    ڈی ایس پی شاہزیب خان کے مطابق واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری ہیں اور تفتیش کے دوران مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لائے گی۔

  • کراچی میں راہگیر خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی میں راہگیر خاتون سے نازیبا حرکت کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی: کراچی پولیس نے راہگیر خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر غیراخلاقی اور نازیبا حرکت کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

    ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ملزم کو ایک خاتون راہگیر کے ساتھ نامناسب حرکات کرتے ہوئے دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کا آغاز کیا۔انہوں نے بتایا کہ ویڈیو کی مدد سے ملزم کی شناخت کی گئی اور کامیاب کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں پر مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے یا ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • پانی پر تعاون ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون

    پانی پر تعاون ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون

    روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بھارت کے پاکستان کو پانی سے محروم کرنے سے متعلق بیانات کو عالمی قانون اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

    اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں پانی کی منصفانہ تقسیم کی بنیاد ہے اور پاکستان کی 90 فیصد سے زائد زراعت دریاؤں کے پانی پر منحصر ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے 21 بڑے پن بجلی منصوبے بھی دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہیں۔ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے کہا کہ بھارت اگر دریاؤں کے بہاؤ میں رد و بدل کرتا ہے تو اس سے پاکستان کی زراعت اور معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان دریائے چناب میں غیر معمولی پانی کے بہاؤ پر بھارت کو متعدد احتجاجی خطوط بھی ارسال کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بالائی علاقوں میں بڑے ڈیموں کی تعمیر خطے میں عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو مشرقی جبکہ پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق حاصل ہے، اور مستقل انڈس کمیشن دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کا ایک مؤثر فورم ہے۔

    روسی ماہر نے مزید کہا کہ بھارت کی یکطرفہ پالیسیاں بین الاقوامی اعتماد کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے لیے سندھ طاس معاہدے کا برقرار رہنا ناگزیر ہے۔ ان کے بقول سیاسی مقاصد کے لیے اس معاہدے کو کمزور کرنا ایک خطرناک اقدام ہو گا کیونکہ پاکستان کی تقریباً پوری آبادی کسی نہ کسی صورت دریائے سندھ کے نظام سے وابستہ ہے۔ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بھارتی وزیر کے اس بیان کو بھی غیر قانونی قرار دیا جس میں کہا گیا تھا کہ آئندہ برسوں میں پاکستان کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ملے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی پر تعاون ہی خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت ہے۔

  • سندھ ہائی کورٹ نے 18 نیب ریفرنس بحال کر دیئے

    سندھ ہائی کورٹ نے 18 نیب ریفرنس بحال کر دیئے

    سندھ ہائی کورٹ کا نیب ریفرنسز سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے

    سندھ ہائی کورٹ نے نیب قوانین میں ترامیم کے بعد احتساب عدالتوں کے دائرہ اختیار سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے واپس بھیجے گئے 18 نیب ریفرنس بحال کر دیے،عدالت نے قرار دیا کہ صرف ذاتی مالی فائدے کے شواہد نہ ہونے کی بنیاد پر احتساب عدالتوں کا دائرہ اختیار ختم نہیں ہوتا۔ وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال، سابق ڈی جی ایس بی سی اے افتخار قائم خانی، سابق چیئرمین کے پی ٹی احمد حیات اور دیگر کے خلاف ریفرنسز دوبارہ احتساب عدالت میں چلائے جائیں گے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اینٹی کرپشن یا دیگر عدالتوں کو منتقل کیے گئے متعلقہ ریفرنسز کا ریکارڈ واپس احتساب عدالت منتقل کیا جائے، جبکہ احتساب عدالت کسی بھی ریفرنس کو دوسرے فورم پر بھیجنے سے قبل نیب کی معاونت حاصل کرنے کی پابند ہوگی

  • بھارت نے پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔خرم دستگیر

    بھارت نے پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔خرم دستگیر

    رہنما مسلم لیگ ن خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ بھارت نے عالمی قانون کی توہین کی اور دریاؤں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، بھارت نے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، بھارتی دھمکیاں صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ بار بار دہرائی گئیں، اگر ہمیں جنگ کرنا پڑی تو کریں گے لیکن ہم امن چاہتے ہیں۔

    اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی سینیمار سے خطاب کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ میں یہاں زندہ دریاؤں کے حق میں آواز اٹھانے آیا ہوں، بھارت نے عالمی قانون کی توہین کی اور دریاؤں کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی، آج میرا مؤقف ہے بھارت نے پانی کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کیا، سندھ طاس معاہدے میں غیرمعمولی مضبوطی اور لچک موجود تھی، سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی، سندھ طاس معاہدے کی معطلی قانونی اعتبار سے بے معنی ہے، معاہدے میں ایسی کسی یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

    خرم دستگیر نے کہا کہ معاملہ معاہدے کی معطلی تک محدود نہیں رہا، کھلی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا، بھارتی وزیر نے کہا کہ یقینی بنائیں گے دریائے سندھ کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے، بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے کہا سندھ طاس معاہدہ کبھی بحال نہیں ہوگا، بھارتی وزراء کے بیانات اسی مؤقف کا تسلسل ہیں جسے مودی نے 2016ء میں پیش کیا اور پھر بارہا دہرایا۔ن لیگی رہنماء کا کہنا ہے کہ بھارتی دھمکیاں صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ باربار دہرائی گئیں، بھارتی بیانات اور مؤقف کا حقائق کی بنیاد پر جائزہ لینا ضروری ہے، اگر ہمیں جنگ کرنا پڑی تو کریں گے لیکن ہم امن چاہتے ہیں۔

  • آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا۔بلاول

    آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا۔بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پانی صرف جغرافیہ نہیں بلکہ خوراک، مستقبل اور زندگی کا سوال ہے

    سندھ طاس معاہدہ،بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ دنیا کو احساس ہو چکا کہ پانی کے وسائل عالمی سیاست اور سلامتی کا مرکزی مسئلہ بن چکے ہیں۔ جس طرح آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت کو متاثر کرتی ہے، اسی طرح دریائے سندھ کا پانی پاکستان کی زندگی کی ضمانت ہے۔ سمندری گزرگاہوں یا آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنا عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔سندھ طاس معاہدہ کی بحالی کے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن ممکن نہیں۔ پاکستان نے جنگ بندی کی شرائط پر عمل کیا جبکہ بھارت نے اپنے وعدوں کی مکمل پاسداری نہیں کی۔سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے حصے کے پانی کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔ سندھ محض ایک دریا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی زندگی، زراعت اور معیشت کا ذریعہ ہے۔ سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کا حق بین الاقوامی معاہدے کے تحت تسلیم شدہ ہے۔ پانی کے معاملے کو محض تکنیکی تنازع نہیں بلکہ قومی سلامتی کے مسئلے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔پاکستان کے آبی حقوق کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا قومی سطح پر جواب دیا جائے گا۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے لیکن اپنے عوام کے بنیادی حقوق اور آبی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ کروڑوں عوام کے حقِ آب کے تحفظ پر پوری پاکستانی قوم متحد ہے۔پانی کا سیاسی دباؤ یا بطور ہتھیار استعمال بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے منافی ہے۔

  • سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ، سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں،سید مہر علی شاہ

    سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ، سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں،سید مہر علی شاہ

    سید مہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت سے کہا وہ دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو روکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

    پاکستان کمشنر برائے سندھ طاس معاہدہ سید مہر علی شاہ کا اسلام آباد میں سیمینار سے خطاب میں کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ معاہدہ ہے، معاہدے پر کسی بھی طرح سیاسی گفتگو کی گنجائش نہیں، سندھ طاس معاہدے سے ہماری زراعت، خوراک، معیشت جڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان امن کیلئے ہے، معاہدے میں مسائل کے حل کا جامع طریقہ کار موجود ہے، معاہدے سے متعلق تمام اصولوں پر عملدرآمد ضروری ہے، سندھ طاس معاہدہ 24 کروڑ پاکستانیوں کی زندگی کا معاملہ ہے۔سید مہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں مجموعی طور پر 12 شقیں ہیں، شق 9 کے تحت معاملہ عالمی عدالت میں لے جایا جاسکتا ہے، عالمی ثالثی عدالت دو بار سندھ طاس معاہدے کی وضاحت کرچکی، عدالت نے واضح کیا بھارت معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں کرسکتا، عالمی عدالت نے بھارت سے کہا وہ دریاؤں کے بہاؤ میں کوئی خلل نہ ڈالے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت دریائے چناب کے 1.9 ملین پانی کا بہاؤ متاثر کرنے جارہا ہے، پاکستان اپنے حصے کے پانی کو روکنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

  • پاکستان  واضح کر چکا  اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔مصدق ملک

    پاکستان واضح کر چکا اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔مصدق ملک

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے حصے کے پانی پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، جبکہ بھارت پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جس کے سنگین انسانی اور معاشی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

    سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان تباہ کن سیلابوں اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا کر چکا ہے، تاہم یہ صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ انصاف کا معاملہ بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑی آبادی کا ذریعہ معاش زراعت ہے اور پانی کی قلت کے باعث کسان کھیتی باڑی چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اپنے حصے کے پانی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دنیا کے مضبوط ترین بین الاقوامی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور کسی بھی ملک کو علاقائی یا عالمی امن کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پانی کی عدم دستیابی کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ بنگلادیش سمیت دیگر خطے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں، چاہے دریائے نیل ہو یا فرات، پانی کے تنازعات ایک جیسے مسائل کو جنم دے رہے ہیں۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے بلکہ دنیا میں آلودگی پھیلانے والے بڑے ممالک میں بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "بھارت کی وجہ سے ہمارے 6 ہزار لوگ جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، اتنے لوگ تو جنگوں میں بھی نہیں مرتے۔”وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگوں کے باوجود برقرار رہا، جو اس کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق اگر اس معاہدے کو نقصان پہنچا تو دنیا میں کسی بھی بین الاقوامی معاہدے کی حیثیت محفوظ نہیں رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح طور پر قرار دے چکی ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا اور نہ ہی پاکستان کے حصے کے دریاؤں پر ایسے ذخائر تعمیر کر سکتا ہے جو معاہدے کی خلاف ورزی ہوں۔ مصدق ملک نے الزام لگایا کہ بھارت عالمی ثالثی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے بھی انکاری ہے، جو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک چیلنج ہے۔