Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار

    رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار

    امریکی اخبار واشنگٹن ٹائمز نے پاک امریکا تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2025 پاک امریکا تعلقات میں انقلابی تبدیلی کا سال رہا۔

    واشنگٹن ٹائمز نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ رواں سال واشنگٹن کا ’انڈیا فرسٹ‘ دور ختم اور پاکستان کو فوقیت حاصل رہی،امریکی اخبار کے مطابق امریکی پالیسی شفٹ کی بنیاد مئی کی پاک بھارت جنگ بنی،واشنگٹن ٹائمز کے آرٹیکل میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعلقات کا خصوصی تجزیہ بھی شامل کیا گیا ہے، واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان ناپسندیدہ ریاست سے شراکت دار ملک بن گیا۔ امریکہ کے لیے پاکستان کی اتنی تیز رفتار امیج بلڈنگ و رائے تبدیل ہونا نایاب و منفرد واقعہ ہے۔ ٹرمپ کی جنوبی ایشیا پالیسی میں پاکستان کو مرکزی ستون قرار دیا گیا ہے۔ابتدا میں بھارت کو کواڈ اور دیگر فورمز کے ذریعے بالادست بنانے کی سوچ تھی اور اسلام آباد کو سائیڈ لائن کرنے کی توقع کی جا رہی تھی۔تاہم بھارت کے سیاسی حالات، شخصی آزادیوں پر پابندیاں، غیر یکساں ملٹری پرفارمنس اور سفارتی سختی نے بھارت کو ریجنل اسٹیبلائزر کے طور پر مشکوک بنا دیا، پاک امریکا تعلقات میں پہلا پگھلاؤ خفیہ کاؤنٹر ٹیررازم ایکسچینجز سے آیا، جس سے واشنگٹن کو سبسٹینٹو تعاون کا واضح اشارہ ملا، مارچ میں ٹرمپ نے قومی خطاب میں پاکستان کی غیر متوقع تعریف کی، جس نے واشنگٹن میں پالیسی کا رخ بدل دیا، اسلام آباد نے موقع فوراً کیش کیا، ہر محدود تعاون غیر متوقع کریڈٹ میں بدلتا گیا، انگیجمنٹ بڑھتی چلی گئی اور تعلقات ٹرانزیکشنل سے اسٹریٹجک بنتے گئے،

    واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں فیصلہ کن موڑ مئی کی مختصر مگر شدید پاک بھارت جھڑپ بنی، پاکستان کی ملٹری کارکردگی نے ٹرمپ کو حیران کر دیا، پاکستانی ڈسپلن، اسٹریٹجک فوکس اور ایسِمٹرک کیپیبلٹی کو امریکی توقعات سے کہیں زیادہ قرار دیا گیا، اسی لمحے پاکستان کو دوبارہ سنجیدہ ریجنل ایکٹر کے طور پر دیکھا جانے لگا، مئی جنگ کے بعد ٹرمپ کے لیے اسٹریٹجک نقشہ ری ڈرا ہوا، پاکستان کو جنوبی ایشیا ویژن کو اینکر کرنے والا Emerging Asset قرار دیا گیا، پاکستان کی ملٹری ماڈرنائزیشن کو نئی عالمی اہمیت ملی، کمانڈ اسٹرکچر میں اوورہال ہوا اور چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ فعال بنایا گیا، اس عہدے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا نام نمایاں طور پر لیا گیا، ساتھ ہی آرمی چیف کے طور پر ان کے کردار کو بھی سراہا گیا،سیزفائر پر بھارت کا سرد ردعمل ٹرمپ کو ناگوار گزرا، جبکہ پاکستان نے ثالثی کو قدر اور شکرگزاری سے قبول کیا،

    امریکی اخبار کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر ٹرمپ کے اِنر سرکل کے اسٹار بن کر ابھرےٹرمپ عاصم تعلق کو ہاف جوکنگ "برومانس” کہا گیا،عاصم منیر کو Disciplined Dark Horse اور Deliberate Mystery جیسے القابات دیے گئے، وائٹ ہاؤس میں لنچ میٹنگ کو کسی پاکستانی ملٹری ہیڈ کے لیے پہلی مثال قرار دیا گیا، فیلڈ مارشل کا سینٹ کام ہیڈکوارٹرز میں ریڈ کارپٹ استقبال ہوا، امریکی عسکری قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک بات چیت کی گئی، 2026 کے آغاز پر پاکستان کو ٹرمپ کی گرینڈ اسٹریٹیجی کے مرکز کے قریب دیکھا جا رہا ہےایران تک ڈسکریٹ اور کریڈیبل چینل، غزہ کیلکولس میں ممکنہ کلیدی کردار و خطے میں پاکستان کو نمایاں دیکھا گیا ہے۔ واشنگٹن میں انڈیا فرسٹ کا دور ختم ہو چکا ہے، نئی امریکی پالیسی کی پائیداری دہلی اور اسلام آباد کے رویے سے مشروط رہے گی،2025 میں امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا کے توازن کو ری رائٹ کرنے میں پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ہی اصل کردار ادا کیا۔

  • ویپنگ سگریٹ کا محفوظ متبادل نہیں، ماہرین کا انتباہ

    ویپنگ سگریٹ کا محفوظ متبادل نہیں، ماہرین کا انتباہ

    عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ویپنگ، سگریٹ نوشی کے مقابلے میں نسبتاً محفوظ یا کم نقصان دہ متبادل ہے، تاہم یورپ اور امریکا کے ماہرینِ صحت نے اس خیال کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے نہایت خطرناک اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

    یورپین ہارٹ جرنل میں شائع ہونے والی ایک جامع اور طویل المدتی تحقیق میں نکوٹین کی زہریلی خصوصیات اور اس کے دل، شریانوں اور مجموعی قلبی نظام پر پڑنے والے منفی اثرات کی تفصیل سے نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق نکوٹین کا استعمال، چاہے کم مقدار میں کیا جائے یا زیادہ، ہر صورت دل کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ماہرین نے واضح کیا کہ نکوٹین کے تمام ذرائع، جن میں روایتی سگریٹ، ویپنگ ڈیوائسز، نکوٹین پاؤچز، ہیٹڈ ٹوبیکو مصنوعات اور شیشہ شامل ہیں، دل کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نکوٹین بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بنتی ہے، خون کی نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے خطرناک مسائل کے امکانات کو نمایاں طور پر بڑھا دیتی ہے۔

    کئی دہائیوں پر محیط سائنسی شواہد اور طبی مطالعات کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ نکوٹین کسی بھی شکل میں محفوظ نہیں۔ تحقیق کے مصنفین نے خاص طور پر نوجوانوں اور کم عمر افراد میں ویپنگ، ہیٹڈ ٹوبیکو اور نکوٹین پاؤچز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ماہرین کے مطابق نوجوان نسل میں نکوٹین کے استعمال میں اضافے کی بڑی وجوہات میں سوشل میڈیا پر جارحانہ اور دلکش مارکیٹنگ، مختلف ذائقوں (فلیورز) کی آسان دستیابی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے ذریعے تشہیر شامل ہیں۔ یہ تمام عوامل نوجوانوں کو نکوٹین کی طرف تیزی سے راغب کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مستقبل میں صحت کے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔

    تحقیق میں شامل ایک ماہر کا کہنا تھا کہ “دل کے لیے محفوظ نکوٹین نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔” ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نکوٹین کا کوئی بھی استعمال، چاہے وہ سگریٹ نوشی کی صورت میں ہو، ویپنگ ہو یا چبانے والی مصنوعات، صحت بالخصوص دل کے لیے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ماہرینِ صحت نے والدین، تعلیمی اداروں اور پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو نکوٹین کے خطرات سے آگاہ کریں اور اس کے استعمال کی حوصلہ شکنی کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ آنے والی نسل کو دل کے مہلک امراض سے محفوظ رکھا جا سکے۔

  • مدھیہ پردیش،24 دنوں سے حکام کو چکمہ دینے والی ببر شیرنی کو پکڑ لیا گیا

    مدھیہ پردیش،24 دنوں سے حکام کو چکمہ دینے والی ببر شیرنی کو پکڑ لیا گیا

    مدھیہ پردیش کے سیونی ضلع میں واقع پینچ ریزرو میں گزشتہ 24 دنوں سے حکام کو چکمہ دینے والی ایک ببر شیرنی کو بالآخرپکڑ لیا گیا اور اتوار کے روز اسے بھارتی فضائیہ کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے راجستھان منتقل کر دیا گیا،

    ایک عہدیدار کے مطابق، صبح سے دوپہر تک کئی بار ہاتھیوں کے ذریعے شیرنی کو گھیرے میں لیا گیا، جس کے بعد اسے بے ہوش کیا گیا اور ایک ریسکیو گاڑی میں سوکترا ایئر اسٹرپ تک لایا گیا۔شام تقریباً 6 بجے بھارتی فضائیہ کے ایم آئی-17 ہیلی کاپٹر کے ذریعے شیرنی کو پنجرے سمیت راجستھان کے وشدھاری ٹائیگر ریزرو منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق، پینچ ٹائیگر ریزرو کے وائلڈ لائف ویٹرنری ڈاکٹر اکھلیش مشرا، اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرلین کور، وائلڈ لائف کنزرویشن ٹرسٹ کے ویٹرنری ڈاکٹر پرشانت دیش مکھ، راجستھان کے جنگلاتی محکمے کے افسران اور ماہرین کی ایک ٹیم تین سالہ شیرنی کے محفوظ سفر کو یقینی بنانے کے لیے ہیلی کاپٹر میں موجود تھی۔

    پینچ کی شیرنی PN-224 کو جنگل سے پکڑ کر سوکترا ایئر اسٹرپ سے راجستھان منتقل کیا گیا۔ اس منتقلی سے نہ صرف رام گڑھ وشدھاری ٹائیگر ریزرو میں شیروں کی آبادی بڑھے گی بلکہ مختلف ٹائیگر علاقوں کے درمیان جینیاتی تنوع کو بھی مضبوطی ملے گی۔ حکام کے مطابق، پینچ ٹائیگر ریزرو کی انتظامیہ نے جدید اے آئی پر مبنی کیمرا ٹریپس اور موشن سینسر کیمروں کا استعمال کیا تاکہ شیرنی کی نقل و حرکت کی شناخت اور نگرانی کی جا سکے۔ علاقے میں تقریباً 50 کیمرے نصب کیے گئے تھے تاکہ اس کی صحت اور رویے پر درست نظر رکھی جا سکے۔

    یہ کامیاب آپریشن مدھیہ پردیش اور راجستھان کے جنگلاتی محکموں کے درمیان غیر معمولی تعاون کا نتیجہ تھا۔ راجستھان کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ، سوگنارام جات، اور ویٹرنری ڈاکٹر تجندر گزشتہ آٹھ دنوں سے پینچ میں کیمپ کیے ہوئے تھے۔حکام نے بتایا کہ یہ پورا عمل پینچ ٹائیگر ریزرو کے فیلڈ ڈائریکٹر دیوپرساد جے اور ڈپٹی ڈائریکٹر راجنییش کمار سنگھ کی رہنمائی میں مکمل کیا گیا۔شیرنی کو بے ہوش کرنے کا پیچیدہ عمل ڈاکٹر اکھلیش مشرا اور ڈاکٹر پرشانت دیش مکھ (وائلڈ لائف کنزرویشن ٹرسٹ) کی قیادت میں انجام دیا گیا، جس میں جبل پور ویٹرنری کالج کے ماہرین اور فیلڈ بایولوجسٹس نے معاونت کی۔ منتقلی کے دوران اسسٹنٹ ڈائریکٹر گرلین کور نے مشن کی قیادت کی۔

  • ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،بلاول

    ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے، پاکستان اپنی خود مختاری کی حفاظت کرنا جانتا ہے۔

    کیڈٹ کالج پٹارو میں یوم والدین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیڈٹ کالج پٹارو ایک بہترین ادارہ ہے، نوجوانوں کی کردار سازی میں کیڈٹ کالج پٹارو کا اہم کردار ہے، کیڈٹ کالج کا ڈسپلین سزا نہیں بلکہ آزادی ہے،تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا ہماری ترجیح ہے، نوجوان ہمارا مستقبل ہیں،پاکستان کی خدمت کرنا ہم سب کی اولین ترجیح ہے، ٹیلنٹ کے بہترین استعمال سے ہی ترقی ممکن ہے،

    بلاول زرداری کا مزید کہنا تھا کہ سندھ ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ دل کی طرح رہا ہے، جب قوم آواز دے تو آپ کو ہمت کے ساتھ جواب دینا ہے، ہماری مسلح افواج ملک کی حفاظت کے لیے دن رات کوشاں ہیں، ہماری آرمڈ فورسز نے دوبارہ ثابت کیا کہ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں،پاکستان عالمی سطح پر اپنا منفرد مقام بنا چکا ہے، پاکستان کی خدمت کرنا ہم سب کی اولین ترجیح ہے،پاکستان اپنی خود مختاری کی حفاظت جانتا ہے،

  • سپریم کورٹ، اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک )کتاب کی تقسیم کرنےوالے کی ضمانت

    سپریم کورٹ، اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک )کتاب کی تقسیم کرنےوالے کی ضمانت

    سپریم کورٹ نے نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت منظور کرلی۔

    نفرت انگیز مواد پھیلانے کے ملزم سید محمد کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی،جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ملزم سے صرف کتاب کی ریکوری ہی ہے، کیا کتاب کی تقسیم کا کوئی ثبوت ہے،دوران سماعت سرکاری وکیل نے بنچ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ہائیکورٹ میں دو رکنی بنچ کے فیصلے کو عدالت سن نہیں سکتی، اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ نئے رولز کے مطابق اب ہم سن سکتے ہیں،پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم اسامہ بن لادن (صحرا سے سمندر تک )کتاب کی تقسیم میں ملوث ہے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شواہد ہیں تو ٹرائل میں سزا دلوائیں،

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے موبائل میں بھی نفرت انگیز مواد موجود تھا، ملزم کا تعلق وزیرستان سے ہے،ملزم کے وکیل سید اقبال گیلانی نے بتایا کہ عدالت کے نوٹس میں کچھ آف دی ریکارڈ حقائق لانا چاہتا ہوں، ملزم ساہیوال میں محنت مزدوری کرتا ہے، ملزم تین ماہ بعد اپنے ساتھیوں کی مزدوری اکٹھی کر کے گھر جا رہا تھا، ملزم کو فروری 2025 کو سی ٹی ڈی لاہور نے گرفتار کیا، ستائیس دنوں بعد پانچ لاکھ میں سے صرف ایک لاکھ نو ہزار کی ریکوری ڈالی گئی، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہاکہ جو باتیں فائل میں نہیں ان پر کوئی رائے نہیں دیں گے، ایسے کہانی نہیں سن سکتے جو آف دی ریکارڈ ہو، پراسیکیوٹر نے آگاہ کیا کہ کیس میں صرف چار گواہان ہیں، ملزم پر چارج بھی فریم ہوچکا ہے، ملزم کے وکیل نے بتایا کہ کیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ سال سزا ہے،جسٹس نعیم اختر افغان نے ہدایت کی کہ ٹرائل میں شواہد دیں ہم ضمانت دے رہے ہیں۔

    پلوشہ خان کی جرات قابل تحسین ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں،سحرکامران

    سپریم کورٹ،قتل کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

  • پلوشہ خان کی جرات قابل تحسین ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں،سحرکامران

    پلوشہ خان کی جرات قابل تحسین ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں،سحرکامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما،رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے کہا ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کے اجلاس میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے سوال کا جواب دینے کے بجائے سینیٹر پلوشہ خان کو اونچی آواز، دھمکیوں اور نازیبا الفاظ سے دباؤ میں لانے کی کوشش کی جو ناقابل برداشت اور انتہائی افسوسناک ہے۔

    سحر کامران کا کہنا تھا کہ تمام وزراء پارلیمنٹ اور عوام کے سامنے جواب دہ ہیں۔ طیش اور بدتمیزی کے ذریعے حقائق نہیں چھپائے جا سکتے۔ سینیٹر پلوشہ خان کی جرات قابل تحسین ہے کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں۔
    وزیراعظم سے مطالبہ ہے کہ وفاقی وزیر کے توہین آمیز رویے اور دھمکیوں کا نوٹس لے کر فوری کارروائی کریں۔
    خواتین کی عزت و احترام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ ایک شخص کی ذات پر سیاست نہیں ہوتی، عوام کی فلاح اور قومی مفادات کو اولین ترجیح دے کر ہی پذیرائی ملتی ہے۔ تحریک انصاف تو مسلسل انتشاری کیفیت میں ہے،ایک فرد وزیراعظم نہ رہے تو قومی اسمبلی سے استعفے دے دیتے ہیں، چلتی ہوئیں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر دیتے ہیں، اور عوام کو شدت پسندی اور تخریب کاری کی ترغیب دیتے ہیں۔ ریاست اور قومی اثاثوں پر حملہ، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی،یہ کسی بھی محبِ وطن پاکستانی کے لیے قابل قبول نہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی مضبوط وفاق اور قومی سالمیت پر یقین رکھتی ہے، ہماری قیادت نے قربانیاں دیں اور ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ بلند کیا۔ کسی بھی صوبے کے شہری علاقے کو الگ کر کے لسانی بنیاد پر نیا صوبہ بنانے کی تجویز قابل عمل نہیں۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی خودمختاری ہی مضبوط وفاق کی بنیاد ہے۔

    اختیارات سرنڈر کرنے والے صدر آصف زرداری محسن جمہوریت ہیں،سحر کامران

    پاکستانی قوم ہمیشہ ذوالفقار بھٹو کے ایٹمی پاکستان کے احسان کو یاد رکھے گی،سحر کامران

    سحر کامران، پاکستان کی ممتاز خاتون سیاستدان

    سحر کامران کا پی آئی اے کی نجکاری میں ناقص مارکیٹنگ پر تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ قوم کو ”صاف چلی شفاف چلی“ کا بیانیہ بنا کر گمراہ کیا گیا، بدنیتی اور جعلسازی ثابت ہو تو سزا تو بنتی ہے۔ جس انصاف کے معیار کا پرچار کر رہے تھے، اسی کے عین مطابق سزا ہوئی ہے، قیمتی تحائف توشہ خانہ میں جمع کرائے بغیر، غلط تخمینہ لگا کر بیچ دینا اور پھر فیصلے پر تنقید خود اپنے بیانیہ کی نفی ہے۔
    قومی کانفرنس قومی مفادات کے تحفظ اور قومی ایشوز پر ہو تو سر آنکھوں پر، اگر نفرت انگیز بیانیہ بنا کر، اپنے ذاتی مفاد کی خاطر عوام کو انتشار اور شدت پسندی پر اکسانا ہے تو اس کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔

    وفاقی وزیر علیم خان سے شدید تلخ کلامی،وجہ کیا بنی،پلوشہ کی زبانی

    دھمکی نہیں چلے گی،جواب دینا کابینہ اراکین کی ذمہ داری،وزیراعظم نوٹس لیں،پلوشہ خان

    قائمہ کمیٹی اجلاس،سینیٹر پلوشہ خان اور وفاقی وزیر علیم خان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ

  • پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر

    ملکی معیشت میں ایک اور سنگ میل،پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مارچ 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    تاریخی بلندی پر موجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پائیدار ترقی اور ملکی قیادت پر سرمایہ کاروں کے بھر پور اعتماد کا مظہر ہیں، تازہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2022کے بعد پاکستان کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 21.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیے گئے ہیں، ملک کی درآمدی صلاحیت 2.6 ماہ سے تجاوز کر گئی ہے جو فروری 2023 میں صرف 2 ہفتوں سے بھی کم رہ گئی تھی

    معاشی ماہرین کے مطابق؛ ذخائر میں اضافہ قرضوں کی بجائے مقامی ترقی و اعتماد کی وجہ سے ہے، اعداد و شمار کے مطابق بیرونی قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی تناسب 31 فیصد سے کم ہو کر 26 فیصد تک آ گیا ہے،بیرونی قرضوں کے حصول میں بتدریج کمی مالی نظم و ضبط اور اصلاحاتی اقدامات کی عکاسی کرتا ہے،ملکی زرمبادلہ کے ذخائر محض وقتی انتظامات کے تحت نہیں بڑھے بلکہ یہ ایک واضح بحالی کا نتیجہ ہیں،مرکزی بینک کے 2023 میں جہاں ذخائر صرف 2.9 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے، وہیں اب یہ بڑھ کر تقریباً 15.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں،2023 کے مقابلے میں ملکی زخائر میں تقریباً ساڑھے 5 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، فارورڈ فارن ایکسچینج واجبات میں بھی تقریباً 65 فیصد کمی کی گئی ہے، جس سے مستقبل کے دباؤ میں نمایاں کمی آئی ہے، 2015 سے 2022 کے دوران پاکستان میں قرضوں میں مسلسل اضافہ جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی دیکھنے میں آئی، تاہم 2022 کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی ہے، قرضہ بمقابلہ جی ڈی پی کے تناسب میں کمی اور ذخائر میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے

    ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت کئی اہم اشارے دیتی ہے، ان اشاریوں میں بیرونی معاشی کمزوری میں کمی، مضبوط ذخائر، کاروباری طبقے کے اعتماد میں اضافہ اور معاشی استحکام شامل ہیں،معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں حالیہ اضافہ محض عددی بہتری نہیں بلکہ ایک معیاری تبدیلی کی علامت ہے، پاکستان ملکی استحکام سے قرضوں پر مبنی وقتی بقا کی پالیسی سے نکل کر پائیدار بیرونی معاشی استحکام کی جانب بڑھ رہا ہے،

  • سپریم کورٹ،قتل کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    سپریم کورٹ،قتل کے ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

    سپریم کورٹ نے قتل کے ملزم اورنگزیب کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر مسترد کردی

    ملزم پر ایک قتل اور ایک شخص کو زخمی کرنے کا الزام تھا ،وکیل ملزم نے کہا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور حقائق میں فرق ہے ، سائٹ پلان اور چالان میں مماثلت نہیں ہے ،جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ملزم تو ایک عرصہ تک مفرور بھی رہا ہے ؟ ،سرکاری وکیل زاہد یوسف قریشی نے کہاکہ ملزم 5 سال 2 ماہ اور 12 دن تک مفرور رہا ،جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ ملزم کی گرفتاری کب کی گئی ؟ وکیل ملزم نے کہا کہ ملزم 11 نومبر 2025 کو گرفتار ہوا، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ابھی تو گرفتار ہوا جلدی کیا ہے ؟ کیا کوئی خاص شخص ہے جو دو ماہ بھی جیل نہیں رہ سکتا ،وکیل ملزم نے استدعا کی کہ عدالت ٹرائل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات دے، جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ ملزم جلدی گرفتار دیتا تو اب تک ٹرائل مکمل ہو جاتا، ملزم پر اپنے ساتھیوں کے ہمراہ 2020 میں مانسہرہ میں قتل اور زخمی کرنے کا الزام تھا ،کیس کی سماعت جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی،

  • سڈنی حملہ،ملزمان نے دیہی علاقہ میں اسلحہ چلانے کی تربیت لی،انکشاف

    سڈنی حملہ،ملزمان نے دیہی علاقہ میں اسلحہ چلانے کی تربیت لی،انکشاف

    سڈنی کے مشہور ساحل بانڈی بیچ پر گزشتہ ہفتے ہونے والے مہلک حملے سے متعلق عدالتی دستاویزات میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے فائرنگ سے قبل ہجوم پر چار دیسی ساختہ دھماکہ خیز آلات پھینکے، جن میں ایک ’’ٹینس بال بم‘‘ بھی شامل تھا، تاہم خوش قسمتی سے کوئی بم پھٹ نہ سکا۔پولیس دستاویزات کے مطابق 24 سالہ نوید اکرم اور اس کے والد 50 سالہ ساجد اکرم نے حملے سے پہلے نیو ساؤتھ ویلز کے ایک دیہی علاقے میں اسلحہ چلانے کی تربیت حاصل کی۔ دونوں نے مبینہ طور پر ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں انہوں نے حملے کے لیے اپنے نظریاتی اور مذہبی جواز بیان کیے۔نوید اکرم پر 59 الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں 15 قتل، 40 افراد کو قتل کی نیت سے زخمی کرنے اور دہشت گردی کا ایک الزام شامل ہے۔ حملے کے دوران پولیس کی گولی لگنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں سے پیر کو صحت یابی کے بعد جیل بھیج دیا گیا۔ اس کے والد ساجد اکرم پولیس فائرنگ میں ہلاک ہو گئے۔پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے واردات سے چند دن پہلے رات کے وقت بانڈی بیچ کی نگرانی بھی کی تھی۔ واقعے کے بعد پورے آسٹریلیا میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، جبکہ حکومت نے اسلحہ قوانین کو مزید سخت بنانے کا اعلان کیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، دونوں نے اکتوبر میں ایک ویڈیو بھی ریکارڈ کی جس میں وہ داعش کے پرچم کے سامنے بیٹھ کر "صہیونیوں” کے خلاف بیانات دیتے ہیں اور حملے کے محرکات کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔اے بی سی کی رپورٹ کے مطابق، ویڈیو میں باپ بیٹا "سیاسی اور مذہبی خیالات” کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں اور "بانڈی دہشت گرد حملے کے جواز” کا خلاصہ پیش کرتے ہیں۔دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قتل سے چند دن قبل دونوں نے رات کے وقت بانڈی بیچ کی "نگرانی جاسوسی” کی تھی۔

    وزیر اعظم انتھونی البانیزی نے کہا ہے کہ نفرت انگیز تقاریر اور دہشت گردی کے خلاف سخت قوانین متعارف کرائے جائیں گے اور یہودی برادری سمیت تمام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔ نیو ساؤتھ ویلز حکومت نے اسلحہ رکھنے کے قوانین میں ترمیم کا مسودہ بھی پیش کر دیا ہے، جس کے تحت اسلحہ لائسنس کے لیے آسٹریلوی شہریت لازمی قرار دی جائے گی۔

  • پنجاب ، جنگلات، ماحولیات کانظام   کرپشن فری ،وزیراعلی مریم نواز کا بڑا قدم

    پنجاب ، جنگلات، ماحولیات کانظام کرپشن فری ،وزیراعلی مریم نواز کا بڑا قدم

    پنجاب میں، جنگلات اور ماحولیات کے تمام نظام کو کرپشن فری بنانے کے لیے وزیراعلی مریم نواز شریف کا بڑا قدم سامنے آ گیا

    10 سال بعد انگریز دور کے بنائے فارسٹ ایکٹ میں تبدیلی کر دی گئی ،ماحول کے تحفظ کا ادارہ(ای پی اے) سے ‘کاغذی کارروائی’ کا سو فیصد خاتمہ ہوگیا، جدید ٹیکنالوجی سے لیس جدید نظام کے ذریعے تمام نظام چلانے والا ‘ای پی اے’ پہلا سرکاری محکمہ بن گیا ،ہر دستاویز پر مخصوص حوالہ نمبر اور ‘کیو آر کوڈ’ ہوگا، سیکنڈز میں تصدیق کرنا ممکن ہوگا، ہر فیصلے کی پڑتال ہو سکے گی، فیصلوں کی وجوہات، سفارشات، منظوری سمیت ہر چیز کا ڈیجیٹل ریکارڈ کمی وقت دستیاب ہوگا ،ماحولیات سے متعلق تمام محکمے جدید ڈیجیٹل نظام کے بغیر حکم جاری کریں گے نہ کوئی منظوری دیں گے ،ڈیجیٹل نظام "ای فوس” (e-FOAS)کے سوا حکم جاری کرنے، منظوری دینے یا کوئی انتظامی فیصلہ جاری کرنے والے محکمے کے افسر اور عملے کے خلاف سخت تادیبی کاروائی ہوگی، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عمران حامد شیخ نے باضابطہ حکم نامہ جاری کر دیا ،امپورٹ لائسنس کا اجرا بھی مکمل طور پر e-FOAS ڈیجیٹل نظام سے ہی ہوگا، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا،لیبارٹری سرٹیفکیشن، پروٹیکشن آرڈرز اور سرکاری سفارشات کا اجرا صرف (e-FOAS) کے ذریعے ہوگا،ڈیجیٹل نظام سے ہٹ کر جاری ہونے والا کوئی حکم، تصدیق یا منظوری قانونی اور درست نہیں ہوگی، وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ انسانی مداخلت کا خاتمہ جعلسازی اور غیرقانونی اجازت ناموں کا خاتمہ ہے، ماحول کے تحفظ کے ساتھ کرپشن کے خاتمے کو بھی یقینی بنا رہے ہیں، الحمدللہ،