Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر پنجاب حکومت کٹہرے میں،لیگل نوٹس جاری

    11 ارب کا لگژری طیارہ خرید کر پنجاب حکومت کٹہرے میں،لیگل نوٹس جاری

    لاہور: جوڈیشل ایکٹوازم پینل اور ہیومن رائٹس اینڈ پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن ایسوسی ایشن کے سرکردہ وکلاء نے سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ محمد اظہر صدیق کی قیادت میں 21 فروری 2026 کو ایک تفصیلی قانونی نوٹس جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے اقدام کو چیلنج کر دیا ہے۔

    قانونی نوٹس چیئرمین قومی احتساب بیورو (نیب)، وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکریٹری، فنانس سیکریٹری، چیئرمین پی پی آر اے اور اکاؤنٹنٹ جنرل پنجاب کو ارسال کیا گیا ہے۔نوٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک لگژری Gulfstream G500 طیارہ (رجسٹریشن نمبر N144SAP-PUN) جنوری 2026 میں مبینہ طور پر صوبائی بیڑے میں شامل کیا گیا، تاہم اس خریداری کا کوئی ریکارڈ پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے لازمی پورٹل یا کسی سرکاری دستاویز میں دستیاب نہیں۔ وکلاء نے اسے عوامی اعتماد کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر نیب ریفرنس دائر کرنے، معاہدہ منسوخ کرنے اور سات روز کے اندر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ خریداری پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کے قواعد 38، 39 اور 42 کی صریح خلاف ورزی ہے، جن کے تحت اوپن کمپٹیٹو بڈنگ، ٹینڈرنگ، پری کوالیفکیشن اور بڈ ایویلیوایشن لازمی ہے۔ وکلاء کے مطابق نہ تو کسی ٹینڈر کا اجرا ہوا، نہ بڈنگ کا کوئی عمل سامنے آیا اور نہ ہی براہِ راست معاہدے کی کوئی قانونی توجیہ پیش کی گئی۔نوٹس میں اس اقدام کو رول 50 کے تحت “مس پروکیورمنٹ” قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ لین دین آئینی طور پر بھی مشکوک ہے کیونکہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 9 (حقِ زندگی)، آرٹیکل 14 (وقار کا تحفظ)، آرٹیکل 19-اے (حقِ معلومات) اور آرٹیکل 118 (صوبائی فنڈ سے رقوم کے اجراء) کے تقاضوں کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وکلاء نے مؤقف اپنایا کہ عوامی خزانے سے شاہانہ اخراجات اس وقت ناقابل قبول ہیں جب صوبہ مالی بحران، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں کمی کا سامنا کر رہا ہے۔

    حکومتی ذرائع کی جانب سے طیارے کو “ایئر پنجاب” یا ایئر ایمبولینس سروس کے لیے قرار دینے کے مؤقف کو بھی قانونی نوٹس میں مسترد کر دیا گیا ہے۔ وکلاء کے مطابق “ایئر پنجاب” نامی کسی فعال ادارے کا وجود یا آپریشنل ڈھانچہ موجود نہیں، جبکہ جی 500 طیارہ وی آئی پی لگژری کنفیگریشن پر مشتمل ہے جسے طبی مقاصد کے لیے استعمال کرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔مزید کہا گیا ہے کہ جب پہلے سے ایک فعال سرکاری طیارہ دستیاب تھا تو نئی خریداری بلا جواز ہے۔ نوٹس میں الزام عائد کیا گیا کہ یہ اقدام کابینہ کی بحث، صوبائی اسمبلی کی منظوری اور کسی لاگت و افادیت تجزیے کے بغیر کیا گیا، جس سے قومی خزانے کو مبینہ نقصان پہنچا۔

    قانونی نوٹس میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر مکمل پروکیورمنٹ فائل کی مصدقہ نقول فراہم کریں، جن میں خریداری کی درخواست، بڈنگ دستاویزات، کابینہ اجلاس کی کارروائی، مالی ادائیگیوں کی تفصیل (بجٹ ہیڈز، ایل سیز، اسٹیٹ بینک منظوری)، معاہدے، ویابیلیٹی اسٹڈی اور سول ایوی ایشن کلیئرنس شامل ہوں۔

    واضح کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں لاہور ہائی کورٹ سے آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ آف مینڈیمس اور کو وارنٹو کے لیے رجوع کیا جائے گا، معاہدے کو کالعدم قرار دینے، طیارہ گراؤنڈ کرنے، فرانزک آڈٹ کرانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

  • ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا

    ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا

    صدر ٹرمپ کے بیان نے بھارت امریکہ تجارتی معاہدے کا ’تاریخی دعویٰ‘ بے نقاب کر دیا، بھارت پر یکطرفہ معاشی دباؤ واضح ہے

    تاریخی قرار دیا گیا تجارتی معاہدہ صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد بھارتی ناکامی میں بدلتا دکھائی دے رہا ہے،صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا وہ (بھارت) ٹیرف دے رہے ہیں، ہم نہیں دے رہے یہ مکمل الٹ ہے ،صدر ٹرمپ نے واضح کردیا کہ تجارتی معاہدے میں فائدہ صرف امریکہ کو حاصل ہوگا اور بھارت ہی بھاری ٹیرف ادا کرے گا

    واضح رہے کہ 2 فروری 2026 کو صدر ٹرمپ نے مودی کے ساتھ تجارتی معاہدے کا اعلان کیا تھا ،صدر ٹرمپ کا حالیہ بیان ان حلقوں کے لیے کاری ضرب ہے جو اس معاہدے پر جشن منا رہے تھے،اس سے پہلے بھارت کے لئیے صدر ٹرمپ کی حکمت عملی میں سخت بیانات معاشی دباؤ مشروط رعایت کے دعوے شامل رہے،مئی 2025 میں صدر ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ آئی فونز امریکہ میں تیار ہوں گے ورنہ 25 فیصد ٹیرف بھارت پر لگے گا ،جولائی 2025 کو بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا اور بھارتی تجارتی رکاوٹیں دنیا میں سب سے بلند قرار پائیں، اگست 2025 کو روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا گیا اور بھارت کو dead economy قرار دیا گیا،ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے بیان نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کے بھارتی سفارتی بیانیے کو ہلا کر رکھ دیا ہے،اگر معاہدے کے بعد بھی بھارت ہی مالی قیمت ادا کر رہا ہے تو اسے کامیابی کہنا خود فریبی کے مترادف ہے، بھارت کا یہ تجارتی منصوبہ شراکت داری نہیں بلکہ معاشی دباؤ کی بھارتی سفارت کاری ہے،

  • طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان القاعدہ اوردیگر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز

    طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان القاعدہ اوردیگر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز

    طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان القاعدہ اوردیگر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا

    طالبان رجیم کی شدت پسندی،غیرقانونی سرگرمیوں اوردہشتگردوں کی سرپرستی نے خطے کےامن کو داو پرلگا دیا ،عالمی جریدہ نےافغان طالبان کی دہشتگرد تنظیموں کی سرپرستی اورافغان سرزمین سے پھیلتی ہوئی دہشتگردی کو بےنقاب کردیا،امریکی جریدہ، جَسٹ دی نیوز کےمطابق؛ طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی سے القاعدہ بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے،افغان طالبان نےالقاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی ہیں،افغانستان میں طالبان اورالقاعدہ ایک دوسرےکوسپورٹ کرتےہیں ،خطےکےدیگر ممالک بھی افغانستان میں دہشتگرد گروہوں کی موجودگی،سرحد پارحملوں اورشدت پسندی سےشدیدمتاثر ہیں ،افغان طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ افغانستان میں فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کو تربیت بھی فراہم کرتا ہے

    دفاعی ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کےزیرتسلط افغانستان اس وقت دہشتگرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو خطےکےامن کے لیے خطرہ ہے ،پاکستان افغانستان میں دہشتگردتنظیموں کی موجودگی کے حوالے سے عالمی برادری کوبارہا آگاہ کرچکا،وقت آگیاہےکہ دنیا ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے،

  • اے آئی سمٹ سبکی میں تبدیل،  شائننگ انڈیا کا بیانیہ احتجاج کی نذر

    اے آئی سمٹ سبکی میں تبدیل، شائننگ انڈیا کا بیانیہ احتجاج کی نذر

    مصنوعی ذہانت (اے آئی) سمٹ کا انعقاد بھارت کے لیے ہزیمت کا باعث بن گیا

    اے آئی سمٹ کی بدانتظامی اور تنازعات نے بھارت کی ترقی اور عالمی ٹیکنالوجی کے نام نہاد بیانیے کا پول کھول دیا،بل گیٹس کےخطاب کی منسوخی،چینی روبوٹ کو مقامی ایجاد قرار دینے کا جھوٹا دعویٰ، اور یوتھ کانگرس کے احتجاج نے سمٹ کو مزید متنازعہ بنا دیا ،بھارتی میڈیا کے مطابق؛ انڈین یوتھ کانگرس کے کارکنان نے سمٹ کے دوران اپنی قمیضیں اتار کر حکومت مخالف نعرے بازی کی، مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مبینہ تجارتی معاہدے میں قومی مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے، انڈین یوتھ کانگریس کے صدر ادے بھانو نے کہا کہ؛ “وزیراعظم مودی کمپرومائزڈ ہیں” اور نوجوانوں کا غصہ محض سیاسی نہیں بلکہ بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی صورتحال کا نتیجہ ہے، امریکا کے ساتھ ہونے والی بھارتی ڈیل کا فائدہ صرف امریکا کو ہوگا جبکہ بھارتی کسانوں اور عام شہریوں کو نقصان اٹھانا پڑے گا، مودی ممکنہ طور پر ایپسٹین فائل میں نام آنے یا اڈانی کو بچانے کے لیے فیصلے کر رہا ہے، جس کی قیمت ملک کے نوجوان ادا کر رہے ہیں، ملک کی عزت احتجاج سے نہیں بلکہ مودی کے عالمی مجرم کے مشورے سے اسرائیل میں ناچنے سے خراب ہوئی ،

    ماہرین کے مطابق عالمی ٹیکنالوجی سمٹ کے دوران حکومتی پالیسیوں کے خلاف اس شدت کا احتجاج سیاست نہیں بلکہ مودی کی پالیسی پر سنگین سوالیہ نشان ہے،بھارت ایک طرف شائننگ انڈیا کا بیانیہ پیش کر رہا ہے تو دوسری طرف نوجوان بے روزگاری، کسان معاشی دباؤ اور معاہدوں کی خفیہ نوعیت پر سراپا احتجاج ہیں، بھارت کا داخلی مفادات کو کمزور کرتے ہوئے طاقتور ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنا سفارتی کامیابی نہیں بلکہ اسٹریٹجک کمزوری ہے،

  • بقایاجات کی عدم ادائیگی پربھارتی ایئر لائن  کیلئے بنگلہ دیشی فضائی حدود بند

    بقایاجات کی عدم ادائیگی پربھارتی ایئر لائن کیلئے بنگلہ دیشی فضائی حدود بند

    بقایاجات کی عدم ادائیگی پربھارتی ایئر لائن کیلئے بنگلہ دیشی فضائی حدود بندکر دی گئی

    بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری مسلسل تنزلی کا شکار ، نا اہل مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامناکرنا پڑ رہا ہے،مختلف محاذوں پر ناکامیوں کے بعد بھارت کی ایوی ایشن انڈسٹری بھی شدید بحران کی لپیٹ میں آگئی،بنگلہ دیشی جریدے "ڈیلی سن ” اوربھارتی جریدے "دی اکنامک ٹائمز” کے مطابق ؛بقایا جات کی عدم ادائیگی پر بنگلہ دیش نے بھارتی نجی ایئر لائن اسپائس جیٹ کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا، کولکتہ سے شمال مشرقی بھارتی شہروں جیسے گوہاٹی اور ایمفال کیلئےچلنے والی پروازیں طویل اور متبادل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں،متبادل راستوں کی وجہ سے پرواز کا دورانیہ اور ایندھن کا استعمال بڑھ گیا، جس سے ایئرلائن کے آپریشنل اخراجات میں اضافہ ہو سکتا ہے، اسپائس جیٹ گزشتہ چند مہینوں سے مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہے، کمپنی کے شیئرز میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے سہ ماہی مالیاتی رپورٹ میں ایئرلائن نے 269.27 کروڑ روپے کا نقصان ظاہر کیا،

    ماہرین کے مطابق بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات سفارتی اختلافات سے بڑھ کر تنازعات کی شکل اختیار کر گئے ہیں،بنگلہ دیش اپنی خودمختار ڈپلومیسی کے ذریعے اب بھارت کو چیلنج کر رہا ہے، فضائی حدود پر پابندی بھارت کے خلاف بنگلہ دیش کے خودمختار موقف کو ظاہر کرتی ہے،

  • عمرے پر جانے کی اجازت دی جائے، شیخ رشید کی درخواست دائر

    عمرے پر جانے کی اجازت دی جائے، شیخ رشید کی درخواست دائر

    راولپنڈی،عوامی مسلم لیگ کے سربراہ، سابق وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے عمرہ ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی اجازت حاصل کرنے کی غرض سے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق عوامی مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی جانب سے یہ درخواست ان کے وکیل سردار شہباز ایڈووکیٹ نے انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں جمع کرائی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ شیخ رشید احمد مختلف مقدمات میں باقاعدگی سے عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اپنی ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا۔درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ شیخ رشید احمد عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ وہ مقررہ مدت کے اندر وطن واپسی کو یقینی بنائیں گے اور عدالت کی جانب سے عائد کی جانے والی ہر شرط کی مکمل پابندی کریں گے۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ انسانی اور مذہبی بنیادوں پر عمرہ ادائیگی کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنی مذہبی ذمہ داری ادا کر سکیں۔

    ذرائع کے مطابق عدالت آئندہ سماعت پر درخواست پر فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سنائے گی۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت ملزم کی حاضری کے ریکارڈ، ضمانت کی شرائط اور مقدمات کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی کہ بیرونِ ملک سفر کی اجازت دی جائے یا نہیں۔

  • آڈیو لیک کیس،سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور پر فردجرم عائد

    آڈیو لیک کیس،سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور پر فردجرم عائد

    سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور اور شریک ملزم اسد فاروق پر آڈیو لیک کیس میں فرد جرم عائد کردی گئی، گنڈاپور کے عدالت میں پیش ہونے پر وارنٹ گرفتاری معطل اور اشتہاری کی کارروائی ختم کردی گئی۔

    اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کیخلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ہوئی، علی امین گنڈاپور اور شریک ملزم اسد فاروق پر فرد جرم عائد کردی گئی۔علی امین گنڈاپور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں پیش ہوئے، جس پر ان کے وارنٹ گرفتاری معطل اور اشتہاری کی کارروائی ختم کردی گئی۔علی امین گنڈاپور نے مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی صورتحال کے باعث عدالت میں پیش نہیں ہوسکا۔

  • نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون کے ساتھ زیادتی،گردہ بھی نکال لیا

    نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون کے ساتھ زیادتی،گردہ بھی نکال لیا

    لاہور کے علاقے چوہنگ میں نوکری کا جھانسہ دے کر خاتون سے اجتماعی زیادتی اور گردہ نکالنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔

    چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ نے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور سے رپورٹ طلب کر کے واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا ہے،حنا پرویز بٹ کا کہنا ہے کہ خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر اغواء کر کے پنڈی منتقل کر دیا گیا،انہوں نے بتایا کہ خاتون کو گھر میں قید رکھ کر مبینہ طور پر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا گیا،حنا پرویز بٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ میڈیکل چیک اپ میں خاتون کے بائیں جانب کا گردہ نہ ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔

  • لٹن روڈ میں ڈکیتی کی خوفناک واردات، مسلح ملزمان نجی ریسٹورنٹ لوٹ کر فرار

    لٹن روڈ میں ڈکیتی کی خوفناک واردات، مسلح ملزمان نجی ریسٹورنٹ لوٹ کر فرار

    لاہور: صوبائی دارالحکومت کے مصروف علاقے لٹن روڈ میں ڈکیتی کی ایک خوفناک واردات پیش آئی جہاں تین مسلح ڈاکوؤں نے اسلحہ کے زور پر ایک نجی ریسٹورنٹ کو لوٹ لیا۔

    واردات کے وقت ریسٹورنٹ میں فیملیز اور بچے بھی موجود تھے، جس کے باعث موقع پر شدید خوف و ہراس پھیل گیا،عینی شاہدین کے مطابق تینوں ملزمان موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے اور آتے ہی عملے اور گاہکوں کو یرغمال بنا لیا۔ ملزمان نے اسلحہ لہرا کر سب کو خاموش رہنے کی دھمکیاں دیں اور کیش کاؤنٹر سے نقدی نکال لی۔ اس دوران انہوں نے متعدد شہریوں سے موبائل فون بھی چھین لیے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح ڈاکوؤں کو اچانک سامنے دیکھ کر ریسٹورنٹ کے عملے میں شامل ایک خاتون ورکر کی حالت غیر ہو گئی جسے فوری طور پر ساتھی ملازمین نے سنبھالا۔ واقعے کے باعث بچوں اور خواتین میں شدید خوف پایا گیا ،واردات کے بعد ملزمان با آسانی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کر کے قریبی علاقوں کی ناکہ بندی کر دی گئی۔ پولیس حکام کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے اور ملزمان کی شناخت کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    علاقہ مکینوں اور تاجر برادری نے شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ شہری خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ہی ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا۔

  • شناختی کارڈ کوئی عیاشی نہیں، بنیادی ضرورت ہے،سپریم کورٹ

    شناختی کارڈ کوئی عیاشی نہیں، بنیادی ضرورت ہے،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے کیلئے کسی بھی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار دے دیا۔

    جسٹس منیب اختر کے فیصلے میں قرار دیا گیا کہ شناختی کارڈ کوئی عیاشی نہیں، بنیادی ضرورت ہے، شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی کا بنیادی حق چھیننے کے مترادف ہے۔سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے عدالتی فیصلے پر عمل کرانے کیلئے شناختی کارڈ بلاک کرنا غیرقانونی قرار دیدیا۔جسٹس منیب اختر نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ شناختی کارڈ کوئی لگژری نہیں، بنیادی ضرورت ہے، شناختی کارڈ سے محروم کرنا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالتیں رقم واپسی کیلئے بجلی پانی کے کنکشن کاٹنے کا حکم بھی دیں گی؟، واضح قانونی حکم کے بغیر شناختی کارڈ بلاک نہیں کیا جاسکتا۔

    فیصلے کے مطابق ضابطہ دیوانی کے سیکشن 51 کے تحت شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، قانون میں واضح حکم کے بغیر کوئی عدالت کسی کا شناختی کارڈ بلاک نہیں کرسکتی۔رقم کی عدم ادائیگی پر 2016ء میں ٹرائل کورٹ نے درخواست گزار کے خلاف ڈگری جاری کی، اور درخواست گزار کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا، اپیل کرنے پر سندھ ہائیکورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔