Baaghi TV

گوجرخان،اندھیر نگری ،مارکیٹ کمیٹی آڑھتیوں کی بی ٹیم بن گئی

گوجرخان (قمرشہزاد) گوجرخان انتظامیہ لاپرواہی اور غفلت کے سبب مارکیٹ کمیٹی کی مبینہ ملی بھگت نے غریب پھل فروشوں اور ریڑھی بانوں کا جینا محال کر دیا۔ چھوٹے دکاندار پھٹ پڑے، انتظامیہ کے دوغلے معیار اور آڑھتیوں کی پشت پناہی کے خلاف احتجاجی محاذ کھول دیا۔

مظاہرین کا الزام ہے کہ مارکیٹ کمیٹی کے افسران دفاتر میں بیٹھ کر خواب گاہوں میں نرخ نامے تیار کرتے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔منڈی میں بولی کا عمل محض ایک ڈرامہ بن چکا ہے جہاں نہ انتظامیہ اور نہ ہی کوئی سرکاری نمائندہ موجود ہوتا ہے، اور آڑھتی اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے چھوٹے دکانداروں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے منڈی میں نہیں آنا ہوتا تو یہ لاکھوں روپے کس چیز تنخواہیں لیتے ہیں، عوامی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ آخر وہ کون سی ان دیکھی قوت ہے جو مارکیٹ کمیٹی کے کرپٹ اہلکاروں کو تحفظ فراہم کر رہی ہے؟ منڈی میں بولی کے وقت افسران کی پراسرار گمشدگی ثابت کرتی ہے کہ دال میں کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ غریب مزدور کو قربانی کا بکرا بنا کر بڑے مگرمچھوں کو کس کی ایما پر کھلا چھوڑا گیا ہے؟ کیا انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو اس کھلی لوٹ مار کا علم نہیں، یا پھر خاموشی کی قیمت وصول کی جا رہی ہے؟ انتظامیہ کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ 20 روپے والا سرکاری نرخ نامہ سرعام 30 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں نے پوچھا ہے کہ روزانہ شہر کے سینکڑوں دکانداروں سمیت تحصیل بھر کے دکانداروں سے وصول کی جانے والی یہ زائد رقم کس افسر کی تجوری میں جا رہی ہے؟ کیا یہ اوپر کی کمائی نچلے عملے تک محدود ہے یا اس کا حصہ اوپر بیٹھے صاحبانِ اقتدار تک بھی پہنچتا ہے؟ ریٹ لسٹ کے نام پر یہ اضافی وصولی کسی بھتے سے کم نہیں۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں منڈی سے چیزیں مہنگی ملتی ہے لیکن لسٹ میں ریٹ کم لکھ کر ہمیں عوام سے لڑوایا جاتا ہے۔ دکانیں سیل کرنا اور جرمانے کرنا صرف چھوٹے طبقے کے لیے رہ گیا ہے، جبکہ منڈی کے ڈون افسران کی ناک کے نیچے قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کے اس مافیا راج کا نوٹس لیں اور ان افسران کا محاسبہ کریں جو غریب کا خون نچوڑ کر اپنی جیبیں بھر رہے ہیں۔

More posts