Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طلبہ کو پکنک پر لے جانے والی بس حادثے کا شکار، 10 بچے زخمی

    طلبہ کو پکنک پر لے جانے والی بس حادثے کا شکار، 10 بچے زخمی

    کراچی کے مصروف علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر نجی اسکول کے طلبہ کو پکنک کے لیے لے جانے والی بس حادثے کا شکار ہو گئی۔

    پولیس کے مطابق بس کیفے بوگی کے قریب فٹ پاتھ سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں بس میں سوار کم از کم 10 طلبہ زخمی ہو گئے۔ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور زخمی بچوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ خوش قسمتی سے تمام زخمی طلبہ کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے اور زیادہ تر بچوں کو معمولی نوعیت کی چوٹیں آئی ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق بس میں سوار بچے ایک نجی اسکول کے طالب علم تھے اور پکنک کے لیے شہر سے باہر جا رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات میں بس ڈرائیور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ حادثہ بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا، جس کے باعث بس پر قابو نہ رکھا جا سکا اور وہ فٹ پاتھ سے جا ٹکرائی۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جبکہ بس کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بس کی فٹنس، بریک سسٹم اور دیگر تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا تاکہ حادثے کی اصل وجوہات معلوم کی جا سکیں۔

    واقعے کے بعد بچوں کے والدین بھی اسپتال پہنچ گئے، جہاں انہوں نے بچوں کی خیریت دریافت کی۔ والدین کی جانب سے اسکول انتظامیہ اور ٹرانسپورٹ انتظامات پر سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسکول بسوں کی فٹنس اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے.

  • قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتانے کو تیار ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے،جسٹس طارق جہانگیری

    قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتانے کو تیار ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے،جسٹس طارق جہانگیری

    جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف ڈگری کیس کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سماعت کی.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ سب لوگ تشریف رکھیں، جسٹس جہانگیری خود آئے ہوئے ہیں،مجھے صرف جہانگیری صاحب کو سننا ہے اور کوئی بات نہیں،جسٹس طارق محمود جہانگیری نے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر پر اعتراض اٹھا دیا، کہا کہ آپ بھی جج ہیں، میں بھی جج ہوں، میں نے آپ کیخلاف پٹیشن فائل کی ،یہ مفادات کا ٹکراؤ ہے، آپ اس کیس میں میرے خلاف نہیں بیٹھ سکتے، میرا یہ اعتراض ہے کہ آپ یہ کیس نا سنیں، جسٹس طارق جہانگیری نے کہا کہ جس طرح مجھے کام سے روکا گیا ایسے کسی پٹواری کو بھی نہیں روکا گیامیں قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتانے کو تیار ہوں کہ میری ڈگری اصلی ہے،34 سال پرانی ڈگری پر لکھ دیا جائے کہ جعلی ہے تو میں کہاں سے انصاف لینے جاؤں؟ایک جج بیٹھ کر دوسرے کے خلاف فیصلہ کرے تو عدالتی نظام جو پہلے ہی لڑکھڑا رہا ہے ختم ہو جائے گا، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عدالت سے وقت دینے کی استدعا کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کیس کا فیصلہ ہو چکا ہے، میں آپکو ویسا ہی فیصلہ دوں گا جیسا کوئی اور جج کرتا،

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے کراچی یونیورسٹی کے رجسٹرار کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا،جسٹس طارق جہانگیری کو پٹیشن اور تمام متعلقہ دستاویزات فراہم کرنے کی ہدایت کر دی گئی،جسٹس سرفراز ڈوگر نے جسٹس طارق جہانگیری کو تین دن کی مہلت دے دی، کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی.

  • جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان

    جرمنی کا افغان پناہ گزین پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان

    سکیورٹی خدشات اور طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں کے باعث جرمنی نے افغان پناہ گزین پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کردیا۔

    افغان طالبان کی شدت پسندانہ پالیسیوں اور دہشتگرد نیٹورکس کی سرپرستی کے باعث عالمی برادری نے افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنا شروع کر دیے ہیں، جس کے تحت جرمنی نے افغان مہاجرین کے خلاف سخت فیصلہ کرتے ہوئے افغان پناہ گزین پروگرام فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو نیوز کے مطابق جرمنی نے افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے کیے گئے تمام وعدے اور عہدنامے واپس لے لیے ہیں اور 640 افغان شہریوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

    جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے مطابق افغان مہاجرین کے جرائم میں ملوث ہونے اور سنگین سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر ہجرت کے پروگراموں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ وزارتِ داخلہ نے واضح کر دیا ہے کہ جرمنی آنے کے منتظر افغان مہاجرین کے داخلے کے امکانات ختم ہو چکے ہیں اور اس معاملے میں کوئی سیاسی دلچسپی باقی نہیں رہی۔ڈی ڈبلیو نیوز کے مطابق متاثرہ افغان پناہ گزینوں میں جرمن فوج اور وزارتوں کے سابق مقامی عملہ، صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن شامل ہیں، جنہیں ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا گیا ہے کہ ان کے جرمنی میں داخلے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔

  • یرون ملک سے ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں منگوانے کی اسکیم باضابطہ طور پر ختم

    یرون ملک سے ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں منگوانے کی اسکیم باضابطہ طور پر ختم

    حکومت نے بیرون ملک سے ذاتی استعمال کیلئے گاڑیاں منگوانے کی اسکیم باضابطہ طور پر ختم کردی۔ ساتھ ہی تحفے یا رہائش کی تبدیلی کی صورت میں گاڑیوں کی درآمد کی اسکیمز کے قواعد بھی مزید سخت کردیے۔

    سمندر پار پاکستانیوں کیلئے پرسنل بیگج اسکیم ختم کرنے کی منظوری اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دی۔ تاہم ٹرانسفر آف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیمز کے تحت گاڑیاں اب بھی منگوائی جا سکتی ہیں مگر سخت شرائط لاگو ہوں گی۔نئی پالیسی کے مطابق دونوں اسکیمز کے تحت درآمد شدہ گاڑیوں پر کمرشل امپورٹ کے سیفٹی اور ماحولیاتی معیار لاگو ہوں گے۔ یعنی گاڑی لانے والے کو ثابت کرنا ہوگا کہ بھجوائی گئی گاڑی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئی اور وہ ماحول دوست بھی ہے۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ جس کے نام پر گاڑی آئے گی وہ ایک سال تک ٹرانسفر نہیں کر سکے گا۔

    گاڑی بھجوانے والے شخص کی بیرون ملک قیام کی کم از کم مدت تین سال کر دی گئی جو پہلے دو سال تھی۔ اس کے ساتھ ہی ایک کے بعد دوسری گاڑی منگوانے کی سہولت دو سال سے بڑھا کر تین سال کر دی گئی۔ ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت گاڑی بھیجنے والے کیلئے لازم ہوگا کہ وہ خود بھی اسی ملک میں رہتا ہو، البتہ گفٹ اسکیم پر اس شرط کا اطلاق نہیں ہوگا۔وزارت خزانہ کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ملکی آٹوموٹیو امپورٹ پالیسی کو منظم اور شفاف بنانا ہے ۔ اس سے گاڑیوں کی درآمدی اسکیمز کے غلط استعمال کا سد باب بھی ہوگا۔ ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ یہ حکومتی اقدام بظاہر بلیک مارکیٹ کو کنٹرول کرنے کی مثبت کوشش ہے، کیونکہ ماضی میں ڈیلرز ان اسکیمز کو کمرشل مقاصد کیلئے استعمال کرتے تھے۔

  • بھارت کو جدید ٹیکنالوجی کے عالمی اتحاد ’پیکس سیلیکا‘ سے نکال دیا گیا

    بھارت کو جدید ٹیکنالوجی کے عالمی اتحاد ’پیکس سیلیکا‘ سے نکال دیا گیا

    بھارت کو جدید ٹیکنالوجی اور سلیکون سپلائی چین سے متعلق عالمی ڈیجیٹل اتحاد ’پیکس سیلیکا‘ سے نکالے جانے کے دعویٰ پر بھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے۔

    بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے اس مبینہ پیش رفت کو مودی حکومت کی خارجہ اور ٹیکنالوجی پالیسیوں کی سنگین ناکامی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر سوالات اٹھا دیے ہیں،بھارتی اپوزیشن رہنما اور کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے اس معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت کی پالیسیوں کے باعث بھارت کو ایک اہم اور اسٹریٹجک ٹیکنالوجی اتحاد سے باہر ہونا پڑا، جو ملک کے لیے باعثِ تشویش ہے،جے رام رمیش نے دعویٰ کیا کہ مئی میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی عبرتناک شکست کے بعد عالمی برادری میں بھارت کی پوزیشن کمزور ہوئی، جس کے اثرات اب سامنے آ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 مئی کے بعد امریکا کی جانب سے بھارت کو پیکس سیلیکا اتحاد سے نکالے جانے کا فیصلہ حیران کن نہیں، کیونکہ عالمی طاقتیں اب بھارت کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھ رہیں۔

    اپوزیشن رہنما کے مطابق یہ صورتحال مودی حکومت کی خارجہ پالیسی، دفاعی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی سفارت کاری پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت قوم کو اعتماد میں لے اور واضح کرے کہ بھارت کو اس مبینہ اتحاد سے کیوں نکالا گیا اور اس کے معاشی و تکنیکی اثرات کیا ہوں گے۔

    واضح رہے کہ پیکس سیلیکا اتحاد کا مقصد قابلِ اعتماد اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر محفوظ، مستحکم اور جدید سلیکون سپلائی چین قائم کرنا بتایا جاتا ہے، تاکہ سیمی کنڈکٹرز اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں اسٹریٹجک خودمختاری کو فروغ دیا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر کسی ملک کو ایسے اتحاد سے باہر کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات ٹیکنالوجی، معیشت اور قومی سلامتی تک پھیل سکتے ہیں۔

  • سڈنی حملہ،انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان کے ساتھ ریسٹورینٹ میں کیا بیتی

    سڈنی حملہ،انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان کے ساتھ ریسٹورینٹ میں کیا بیتی

    انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل پر فائرنگ کے وقت ایک ریسٹورنٹ میں بند ہوجانے کا انکشاف کیا ہے۔

    مائیکل وان فائرنگ کے وقت ساحل کے قریبی ریسٹورنٹ میں فیملی کے ساتھ موجود تھے۔اس حوالے سے مائیکل وان کا کہنا ہے کہ ریسٹورنٹ میں بند ہونا بہت خوفناک تھا، ہم محفوظ گھر پہنچے، ایمرجنسی فورسز اور دہشت گردوں کے ساتھ لڑنے والے کا شکریہ ادا کرتا ہوں،یسٹورنٹ کا باؤنسر ہاتھ میں گن پکڑے میرے پاس آیا اور مجھے اندر جانے کو کہا، ہم حملے سے چند سو قدموں کے فاصلے پر تھے، سائرنز کی اونچی آواز سنیں، سائرن کی آواز اکثر شارک کے حملے یا 2 نوجوانوں کی لڑائی کی وجہ سے سننے میں آتی ہے، ہمیں جلد پتہ چل گیا کہ یہ فائرنگ کا واقعہ ہے، بہت خوفناک منظر تھا، ہم 6 لوگ تھے، میں میری اہلیہ، اس کی بہن، میری دو بیٹیاں اور ان کی سہیلی تھی، میں خود کو جتنا پُرسکون رکھ سکتا تھا اتنی میں نے کوشش کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز سڈنی میں بونڈی بیچ پر یہودیوں کی ایک تقریب میں فائرنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی ہے جبکہ 2 پولیس اہلکاروں اور حملہ آور سمیت 40 زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

  • خیبرپختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف  کاروائیاں جاری،وادی تیراہ میں آپریشن

    خیبرپختونخوا،بلوچستان،سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری،وادی تیراہ میں آپریشن

    خیبرپختونخوا، بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی دہشتگردوں کیخلاف کاروائیاں جاری ہیں.

    تربت، ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے ابسر میں ریسرچ فارم کے قریب نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔ جاں بحق ہونے والے کی شناخت رحمدل ولد فضل کے نام سے ہوئی جو دکی بازار، ابسر کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت وہ اپنے دوستوں کے ساتھ پکنک کے لیے وہاں موجود تھا۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے بعد ملزمان موٹر سائیکل پر فرار ہو گئے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

    اغوا کیے گئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے اہلکار کی لاش ضلع پنجگور کے علاقے چاکول سے برآمد ہوئی، جس کے بعد مقتول کے لواحقین نے ڈی پی او آفس کے سامنے مرکزی سڑک پر لاش رکھ کر احتجاج کیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکار خلیل احمد ولد احمد کو ایک روز قبل تاسپ کے علاقے سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا۔ ان کی لاش چاکول کے علاقے سے ملی۔ احتجاج کے دوران لواحقین نے لاش کے ہمراہ دھرنا دیا۔ پولیس افسران اور ضلعی انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں ٹارگٹ کلنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق خیرآباد کے علاقے میں نامعلوم مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر کے محمد نعیم ولد محمد یعقوب، ساکن خیرآباد کو قتل کر دیا۔ ملزمان فائرنگ کے فوراً بعد فرار ہو گئے۔ تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔ اتوار کے روز تربت میں فائرنگ سے ہلاکت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل رحمدل نامی شخص کو ابسر ریسرچ فارم کے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دونوں واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ حالات کا تعین اور ملوث افراد کی شناخت کی جا سکے۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) بلوچستان نے خاران کے تھانہ انچارج (ایس ایچ او) کے قتل میں ملوث تین دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق ملزمان کو خاران کے علاقے میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کی گئی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار افراد خاران کے ایس ایچ او کی ٹارگٹ کلنگ میں براہِ راست ملوث تھے اور دیگر دہشت گرد سرگرمیوں سے بھی وابستہ تھے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق بلوچستان بھر میں انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری ہیں اور رواں سال اب تک مختلف آپریشنز اور مقابلوں میں مجموعی طور پر 707 دہشت گرد ہلاک یا گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور دیگر قابلِ اعتراض مواد بھی برآمد ہوا ہے۔ سیکیورٹی فورسز خطے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے کوششیں تیز کر رہی ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    جنوبی وزیرستان (لوئر)،پولیس کے مطابق سلمان خیل قبیلے کے قبائلی عمائدین میں شامل ملک تورابی کو اعظم ورسک سے زرمیلَن اپنے گھر جاتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ حالات کا تعین اور ذمہ داران کی شناخت کی جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔

    سیکیورٹی حکام کے مطابق تیراہ وادی میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن کے آغاز کے قریب پہنچ چکے ہیں، جس کی تیاریوں میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اور زیادہ تر رضاکارانہ انخلا پر توجہ دی جا رہی ہے۔ بار بار کی ہدایات اور یقین دہانیوں کے بعد بیشتر مکین علاقہ خالی کر چکے ہیں، تاہم کچھ خاندان مالی مشکلات، انتظامی مسائل یا آپریشن کے بعد کے انتظامات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث اب بھی موجود ہیں۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آپریشن شروع ہونے کے بعد علاقے میں رہنے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، اور واضح کیا کہ انخلا کا مقصد جبر نہیں بلکہ شہریوں کو نقصان سے بچانا ہے۔ حکام کے مطابق ٹرانسپورٹ سہولیات کا انتظام کیا جا رہا ہے، شہری ہلاکتوں سے بچنے کی کوششیں جاری ہیں اور آپریشن جلد مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ قبائلی عمائدین اور کمیونٹی نمائندوں سے مشاورت جاری ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوا۔ مذاکرات کے دوران مکینوں نے مالی امداد، اندرونِ ملک بے گھر افراد (آئی ڈی پیز) کے طور پر باضابطہ شناخت اور مستقبل میں جبری انخلا نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کیا، جبکہ بعض مقامی سیاسی شخصیات نے آپریشن کی مخالفت کی اور مذاکرات میں شریک نہیں ہوئیں۔ مجوزہ آپریشن طویل عرصے سے جاری سیکیورٹی خدشات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، کیونکہ تیراہ وادی کو ضلع خیبر میں افغانستان کی سرحد کے ساتھ عسکریت پسندی، اسمگلنگ اور منشیات و دہشت گردی کے نیٹ ورکس کے لیے ایک اسٹریٹجک راہداری قرار دیا جاتا رہا ہے۔ انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور لشکرِ اسلام کے دھڑوں سمیت مختلف گروہ اس علاقے سے منسلک رہے ہیں۔ حکام کے مطابق حالیہ تحقیقات نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ تیراہ میں موجود نیٹ ورکس خیبر پختونخوا، بالخصوص پشاور کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

    ضلع کرم میں سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکاروں کو جانی نقصان پہنچا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان جانب سے ہونے والی فائرنگ میں تھل اسکاؤٹس کے تین اہلکار شہید اور تین زخمی ہو گئے، جب فائرنگ نے شبک (انزار) بارڈر پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق اچانک سرحد پار سے فائرنگ شروع ہوئی جس سے انزار بارڈر پوسٹ پر تعینات اہلکار متاثر ہوئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا۔ تاہم حکومتی سطح پر تاحال اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ صورتحال کا جائزہ لینے اور اطلاعات کی تصدیق کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔

    حکام کے مطابق نامعلوم سمت سے دہشت گردوں کی جانب سے داغا گیا مارٹر شیل بنوں کے علاقے بکاخیل میں ایک گھر پر آ گرا، جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق جبکہ دوسرا زخمی ہو گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق دھماکے سے گھر کو شدید نقصان پہنچا، ایک بچہ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوا۔ متاثرین کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے زخمی بچے کی حالت نازک بتائی۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں پہنچ کر ذمہ داران کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔ حکام نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مارٹر فائر کے ماخذ اور ملوث افراد کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے بنوں کے علاقے مامندخیل میں کی گئی انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائی کے نتیجے میں کالعدم حافظ گل بہادر گروپ کے ایک سینئر کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسند کی شناخت مولوی انصاف اللہ کے نام سے ہوئی، جن کا اصل نام اکرام اللہ تھا۔ انہیں زرگل عرف انکل گروپ کا سینئر کمانڈر بتایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق مولوی انصاف اللہ شمالی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر پر حملے کی کوشش میں ملوث تھا اور دیگر کئی دہشت گرد سرگرمیوں میں مطلوب تھا۔ کارروائی کے دوران اس کے دو ساتھی، عطاالرحمٰن اور ابو صالح، فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہو گئے۔ ایک اور شدت پسند، شناختی…

    گزشتہ تین روز کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مہمند، باجوڑ، کرم اور ٹانک کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 29 شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں شدت پسندوں کی موجودگی اور نقل و حرکت سے متعلق انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیوں کے دوران کئی ٹھکانے نشانہ بنائے گئے، جس کے نتیجے میں مسلح جھڑپیں ہوئیں اور شدت پسند مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد افغان شہری بھی شامل ہیں، تاہم ان کی شناخت کی مزید تصدیق جاری ہے۔ ان کارروائیوں میں زمینی فورسز نے انٹیلی جنس اداروں کی معاونت سے حصہ لیا،

  • پی آئی اے  کریو کے بیرونِ ملک لاپتہ ہونے کی خبر جعلی قرار

    پی آئی اے کریو کے بیرونِ ملک لاپتہ ہونے کی خبر جعلی قرار

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس خبر کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پی آئی اے کی ایک پرواز کا پورا فلائٹ کریو بیرونِ ملک لاپتہ ہو گیا ہے۔ قومی ایئرلائن نے اس دعوے کو “فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ من گھڑت خبر پی آئی اے اور پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے پھیلائی گئی۔

    پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قیام کے دوران ایک پرواز کا مکمل کریو غائب ہو گیا۔ تاہم ایئرلائن نے واضح کیا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔پی آئی اے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں کہا “ایک ٹوئٹ، جو بعض پاکستان مخالف حلقوں کی جانب سے پھیلائی گئی ہے، اس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ پی آئی اے کی ایک مخصوص پرواز کا پورا کریو لاپتہ ہو گیا ہے۔ یہ دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے اور اس کا مقصد پی آئی اے اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔”ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا اور یہ خبر مکمل طور پر جعلی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گمراہ کن معلومات ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے پھیلائی گئیں جسے “افغان اور پاکستان مخالف” قرار دیا جا رہا ہے۔ انگریزی روزنامہ ڈان نے پی آئی اے کے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ یہ ٹوئٹ ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان اور قومی ایئرلائن کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

    یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں جن میں بعض انفرادی کریو ممبران نے بیرونِ ملک قیام کے دوران وطن واپس نہ آنے کا فیصلہ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انفرادی سطح پر ایسے فیصلوں کی وجوہات میں ملکی معاشی حالات اور کینیڈا کی امیگریشن پالیسیوں کے تحت پناہ کے مواقع شامل رہے ہیں۔تاہم پی آئی اے نے اس رجحان کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں بیرونِ ملک اسٹیشن مینیجرز کے پاس کریو کے پاسپورٹس رکھوانا اور کینیڈا روٹس پر نسبتاً سینئر اور عمر رسیدہ کریو کی تعیناتی شامل ہے۔

  • سڈنی کے  قبرستان میں مسلم قبروں پر سور کے سرپھینک دیئے گئے

    سڈنی کے قبرستان میں مسلم قبروں پر سور کے سرپھینک دیئے گئے

    سڈنی: بونڈی بیچ میں ہونے والے ہولناک دہشت گرد حملے کے بعد مغربی سڈنی کے ایک قبرستان میں نفرت انگیز اور اشتعال دلانے والا واقعہ پیش آیا ہے، جہاں نامعلوم افراد نے مسلم قبروں پر سور کے سر پھینک دیے۔

    یہ واقعہ کیمڈن کے علاقے ناریلن قبرستان میں پیش آیا، جسے مقامی مسلم رہنماؤں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔معروف مسلم انڈرٹیکر احمد ہریچی نے اس واقعے کو “بے مقصد، نفرت سے بھرپور اور انسانیت سوز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسائل کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا جس نے بھی یہ حرکت کی ہے، اس نے نفرت کے سوا کچھ ثابت نہیں کیا۔ یہ محض حماقت ہے۔ اس سے غصہ، درد اور تقسیم ہی بڑھے گی۔ ہمیں بزدلانہ حرکتوں سے مزید اشتعال نہیں چاہیے۔ جن لوگوں کی قبریں ہیں، وہ حالیہ واقعات سے بہت پہلے وفات پا چکے تھے اور ان کا موجودہ حالات سے کوئی تعلق نہیں۔قبریں سکون، وقار اور احترام کی جگہ ہوتی ہیں تمام مذاہب اور پوری انسانیت کے لیے۔ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو یہ طریقہ نہیں، اگر انصاف چاہتے ہیں تو بھی یہ راستہ نہیں۔ یہ عمل محض انسانیت کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب سڈنی کے مسلم رہنماؤں نے واضح اعلان کیا ہے کہ وہ بونڈی بیچ حملے میں ملوث مبینہ ملزمان، نوید اکرم (24) اور ان کے والد ساجد اکرم (50)، کی میتیں وصول کرنے یا ان کی آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کریں گے۔پولیس کے مطابق دونوں افراد نے ایک پیدل پل پر کھڑے ہو کر فوجی نوعیت کے ہتھیاروں سے مقامی افراد، سیاحوں اور خاندانوں پر فائرنگ کی۔ اس حملے میں اب تک 16 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں حملہ آور ساجد اکرم بھی شامل ہیں، جبکہ چار بچوں سمیت 42 افراد زخمی ہو کر اسپتال منتقل کیے گئے۔پولیس نے تصدیق کی ہے کہ 14 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوئے، جبکہ دو افراد رات گئے اسپتال میں دم توڑ گئے۔ جاں بحق افراد کی عمریں 10 سے 87 سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ نوید اکرم پولیس کی گولی لگنے کے بعد اسپتال میں زیر علاج ہیں اور پولیس کی سخت نگرانی میں ہیں۔

    سڈنی کے ممتاز اسلامی رہنما ڈاکٹر جمال ریفی نے کہا کہ مسلم برادری ان حملہ آوروں کو اسلام کے دائرے میں شامل نہیں سمجھتی۔ان کا کہنا تھا،انہوں نے جو کیا، اس کی کوئی بھی حمایت نہیں کرتا۔ بے گناہ شہریوں کا قتل ہماری تعلیمات کے خلاف ہے۔ ہماری کتاب میں واضح ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے مترادف ہے،ڈاکٹر ریفی نے 2014 کے لنڈٹ کیفے محاصرے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی مسلم برادری نے یہی مؤقف اختیار کیا تھا۔جب حملہ آور کی موت ہوئی تو ہم سے اس کی میت وصول کرنے کے بارے میں پوچھا گیا۔ ہم نے انکار کیا، آخری رسومات ادا نہیں کیں اور اسے روک وُڈ قبرستان کے کسی مسلم حصے میں دفنانے سے بھی انکار کیا۔ انہی اصولوں پر ہم اس معاملے میں بھی عمل کریں گے۔

    نوید اکرم کے سابق اسلامی استاد، شیخ آدم اسماعیل جو المرد انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ہیں نے بھی حملے کی شدید مذمت کی۔انہوں نے بتایا میرا ان سے آخری رابطہ 2022 کے اوائل میں ہوا تھا۔ ہمارے ادارے میں صرف قرآن پڑھایا جاتا ہے، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ بانڈی میں متاثرین کی تصاویر دیکھ کر میں شدید غمزدہ ہوں۔ انہیں اور ان کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، جس کے باعث انہیں گھر خالی کرنا پڑا اور پولیس کی مدد لینا پڑی، جس پر انہوں نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔

  • سڈنی، یہودی برادری پر حملوں اور انڈرورلڈ سرگرمیوں پر سنگین سوالات

    سڈنی، یہودی برادری پر حملوں اور انڈرورلڈ سرگرمیوں پر سنگین سوالات

    سڈنی: آسٹریلیا کی ریاست نیو ساؤتھ ویلز میں امن و امان کی صورتحال ایک بار پھر شدید بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں سڈنی، خصوصاً بانڈی کے علاقے میں ہونے والے پرتشدد واقعات اور نفرت انگیز حملوں کے بعد پولیس کی کارکردگی اور حکومتی اقدامات پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

    سڈنی کی انڈرورلڈ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جبکہ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ اسلحے کی غیر قانونی ترسیل اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس میں مخصوص گینگز سرگرم ہیں۔ گزشتہ ہفتے نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے “افغانی کریو” کے نام سے جانے جانے والے ایک گروہ کو توڑنے کا اعلان کیا تھا، جسے پولیس جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث قرار دے رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سڈنی کے بانڈی علاقے میں یہودی برادری کو نشانہ بناتے ہوئے کم از کم 8 مختلف حملے کیے گئے۔ ان واقعات میں نفرت انگیز کارروائیاں اور آتش زنی شامل ہیں، جنہوں نے اقلیتی برادری میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے۔

    بانڈی میں واقع ایک کوشر ریسٹورنٹ کو آگ لگا دی گئی،یہودیوں کی ملکیت ایک چائلڈ کیئر سینٹر کو نذرِ آتش کیا گیا،دو یہودی عبادت گاہوں (سیناگاگز) پر آتش زنی کی گئی،ایک یہودی اجتماع کے دوران متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی،بعض رپورٹس میں ان واقعات کو سڈنی کی انڈرورلڈ سے جڑی شخصیات سے منسوب کیا جا رہا ہے، تاہم پولیس کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔

    مزید برآں، بانڈی بیچ پر منعقد ہونے والے ایک بڑے یہودی تہوار کے موقع پر پولیس کی نمایاں موجودگی نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے حساس مواقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات نہ ہونا سنگین غفلت کے مترادف ہے۔ان واقعات پر بین الاقوامی سطح پر بھی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آسٹریلوی وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ آسٹریلیا میں بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم اور اقلیتی برادریوں کے خلاف تشدد کو روکنے کے لیے حکومت کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

    تازہ ترین واقعہ کیمبل پریڈ، بونڈی بیچ پر پیش آیا، جو سڈنی کا ایک انتہائی مہنگا اور حساس علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہ علاقہ ارب پتی افراد اور مشہور شخصیات کی رہائش گاہ کے طور پر جانا جاتا ہے، جہاں معروف بزنس ٹائیکون کیری پیکر اور ان کے بیٹے جیمز پیکر سمیت کئی بااثر شخصیات کی جائیدادیں موجود ہیں۔ ایسے علاقے میں پرتشدد واقعے نے سیکیورٹی انتظامات پر مزید سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔