Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • برطانیہ نے یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    برطانیہ نے یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا

    برطانیہ نے پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کو ملک بدر کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق رجب بٹ کو برطانوی حکام نے ویزا منسوخ ہونے کے بعد ملک چھوڑنے کا حکم دیا، جس کے بعد وہ آج صبح کی پرواز کے ذریعے پاکستان روانہ ہو گئے۔نجی ٹی وی کے مطابق برطانوی امیگریشن حکام کے مطابق رجب بٹ کا ویزہ اس وقت منسوخ کیا گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے اپنی ویزہ اپلیکیشن میں جاری قانونی مقدمات کا ذکر نہیں کیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی یا کیس کو چھپانا ویزا قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے، جس کے باعث ان کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی گئی،رپورٹس کے مطابق رجب بٹ کو ملک بدری سے قبل امیگریشن آفس میں باضابطہ انٹرویو کے لیے بھی بلایا گیا، جہاں انہیں فیصلے سے آگاہ کیا گیا۔ ویزا منسوخ ہونے کے بعد انہیں مخصوص مدت کے اندر برطانیہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی، جس پر عمل کرتے ہوئے وہ وطن واپس لوٹ آئے۔

  • پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان  دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے جمہوریہ انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کی ملاقات ہوئی ہے

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے انڈونیشیا کے صدر پرابووو سوبیانتو کا وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں استقبال کیا۔ صدر پرابووو سوبیانتو کو وزیراعظم ہاؤس آمد پر گارڈ آف آنر دیا گیا۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان دو طرفہ ملاقات ہوئی جس کے بعد اعلیٰ سطحی وفود کی سطح پر اجلاس منعقد ہوا۔ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، کابینہ کے وزراء اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔دونوں رہنماؤں نے انڈونیشیا اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں بشمول سیاسی و سفارتی مصروفیات، اقتصادی اور تجارتی تعلقات، دفاع اور سلامتی، صحت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی، زراعت اور ماحولیاتی تعاون کے شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا ۔ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

    دو طرفہ تجارت کے حوالے سے پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں فریقین نے دو طرفہ تجارت کے حجم کو مزید بڑھانے کے لیے انڈونیشیا-پاکستان ترجیحی تجارتی معاہدے (IP-PTA) پر نظرثانی کرنے پر اتفاق کیا، جس کی مالیت تقریباً 4 بلین امریکی ڈالر ہے۔ مزید برآں تجارتی عدم توازن کو دور کرنے کی کوششیں شروع کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں فریقین نے خاص طور پر حلال صنعت، زرعی اجناس کی تجارت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم اور دیگر شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔دونوں رہنماؤں نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) اور انڈونیشیا کے خودمختار دولت فنڈ (Danantara) کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔وزیر اعظم نے صدر پرابوو کے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی اقدامات بشمول "مفت غذائیت سے بھرپور کھانے کا پروگرام” کی تعریف کی۔

    صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے میں انڈونیشیا کی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے، وزیراعظم نے طبی ماہرین کے تبادلے، طبی قابلیت کی باہمی شناخت اور خصوصی تربیت کی پیشکش کے ذریعے تعاون کو بڑھانے کے طریقے تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال سمیت علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی تبادلہء خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور انسانی حقوق کے تحفظ کے مطابق تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے غزہ میں صدر پرابوو کی فعال سفارتی اور انسانی کوششوں کو سراہا اور جنگ بندی کے انتظامات کو آگے بڑھانے اور انسانی امداد کی فراہمی میں ان کے کردار کو سراہا۔

    دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ، OIC اور D-8 سمیت کثیرالجہتی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور فعال تعاون پر گفتگو کی۔ وزیراعظم نے انڈونیشیا کو D-8 کی قیادت سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انڈونیشیا کے صدر کو اس فورم پر پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ بات چیت کے بعد دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور دونوں فریقوں کے درمیان معاہدوں کے تبادلے کا مشاہدہ کیا۔وزیراعظم نے انڈونیشیا کے صدر اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کے اعزاز میں ظہرانے کا بھی اہتمام کیا۔یہ دورہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل ہے

  • ملک کی معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چل سکتی، بلاول

    ملک کی معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چل سکتی، بلاول

    چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ تاجر برداری کا معیشت کی بہتری میں بہت اہم کردار ہے۔ تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے کردار ادا کرتے رہیں گے۔

    لاہور میں صنعت کاروں اور تاجروں سے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کے لیے بہت فخر کی بات ہے کہ چین جیسے ممالک ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں،ہمیں سوچنا ہے کہ چین کے ساتھ ہم کیسے اپنے نمبر کو اوپر لے کر جاسکتے ہیں،ریونیو اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرنے کی کوشش جاری ہے،سابق حکومتی اقدامات میں ملکی معیشت کو ڈنڈے کے زور پر چلانے کی کوشش کی گئی، معیشت بہتر بنانے کے لیے ٹیکس دہندگان کو سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے،18 ویں ترمیم سے پہلے سروسز کا سیلز ٹیکس فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے پاس جمع ہوتا تھا،18 ویں ترمیم کے بعد سروسز پر سیلز ٹیکس کے محصولات میں بہتری آئی،تمام صوبوں نے ٹیکس کلیکشن میں وفاق کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں،ملک کی معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں چل سکتی،

  • پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

    پاک بحریہ کی جانب سے 9 دسمبر کو یادگار دن "ہنگور ڈے” کے طور پر منایا جا رہا ہے، ہنگور ڈے”آبدوز ہنگور”کی بہادری اور پاکستان کے ناقابلِ تسخیر دفاع کی روشن علامت ہے،اس موقع پر اپنے بیان میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا تھا پاکستان خود مختاری اور دفاعِ وطن کے لیے عزم محکم رکھتا ہے، 9 دسمبر71کو آبدوز ہنگورکے عملے نے جانبازی کی درخشندہ تاریخ رقم کی جو آج تک دشمن کے ذہن پر نقش ہے، یہ دن باور کرواتا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے، 1971 میں پاک بحریہ دشمن کیلیے سمندر میں سیسہ پلائی دیوار تھی اور آج بھی پاک بحریہ ملکی بحری سرحدوں پر آہنی فصیل ہے۔

  • اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبّی معائنہ

    اڈیالہ جیل میں عمران خان کا طبّی معائنہ

    اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کے ڈاکٹرز پر مشتمل خصوصی میڈیکل ٹیم بدھ کے روز اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں انہوں نے عمران خان کی صحت سے متعلق مختلف ٹیسٹ اور معائنہ کیا۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم نے دل کی دھڑکن، بلڈ پریشر، شوگر لیول، سانس کی کارکردگی، جوڑوں اور اعصاب کے مسائل سمیت مجموعی صحت کا تفصیلی جائزہ لیا۔ معائنے کے دوران جیل میڈیکل اسٹاف بھی موجود رہا جبکہ تمام مراحل جیل سیکیورٹی کی نگرانی میں مکمل کیے گئے۔

    میڈیکل ٹیم معائنہ مکمل کرنے کے بعد جیل سے واپس روانہ ہوگئی ہے۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹرز کی جانب سے عمران خان کی تفصیلی میڈیکل رپورٹ مرتب کی جارہی ہے، جو مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ کے حوالے کی جائے گی۔ رپورٹ کی بنیاد پر آئندہ کے طبی فیصلے کیے جائیں گے۔

  • افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن کو موقع دے رہے ہیں،دانیال چوہدری

    افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن کو موقع دے رہے ہیں،دانیال چوہدری

    ن لیگ کے رہنما دانیال چوہدری کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں کو عوام نے مسترد کردیا، پی ٹی آئی جلسے میں نفرت اور تقسیم کی بات کی گئی۔

    اسلام آباد میں پارلیمانی سیکریٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری اور بیرسٹر عقیل نے پریس کانفرنس کی۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، ملک کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے، حکومتی اداروں پر عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 9 مئی والوں کو عوام نے مسترد کیا، 9 مئی والے نفرت کی سیاست کرتے ہیں، پی ٹی آئی نے جلسے میں نفرت اور تقسیم کی بات کی، عوام نے گالی گلوچ کی سیاست کے ساتھ کھڑنے ہونے سے انکار کردیا۔افواج پاکستان کو نشانہ بنانے والے درحقیقت دشمن فوج کو موقع دے رہے ہیں،جب حکومت میں آئے تو لوگ کہتےتھےپاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے،وہاں سےنکل کرہم بہترمعیشت اوربہتر گورننس کی طرف آئے، اسلئے آئی ایم کی رپورٹ میں کہاگیا کہ اگرحکومت اسی طرح کام کرتی رہےتو ہماری گروتھ5 سے 6 فیصد تک جا سکتی ہے جو دنیا کی تیز ترین گروتھ ہے،بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے زہر آلود مواد پھیلایا جارہا ہے، پی ٹی آئی بطور اپوزیشن اپنا کردار ادا کرے، سوشل میڈیا اکاؤنٹس کہاں سے آپریٹ ہورہے ہیں پی ٹی آئی کو بھی نہیں پتہ۔

  • ٹرمپ کا بھارت پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

    ٹرمپ کا بھارت پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا عندیہ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت کے ساتھ جاری تجارتی تناؤ کو ہوا دیتے ہوئے واشنگٹن میں نئے ٹیرف عائد کرنے کا واضح عندیہ دے دیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں اہم معاشی اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے بھارت کی جانب سے کم قیمت پر چاول امریکی مارکیٹ میں بھیجے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا،ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ نے وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے سوال کیا کہ “بھارت کو امریکا میں چاول ڈمپ کرنے کی اجازت کیوں ہے؟”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر بھارت امریکی منڈی سے فائدہ اٹھا رہا ہے تو اسے مناسب محصولات ادا کرنا ہوں گے۔ ٹرمپ نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا بھارت کو چاول پر کسی قسم کی ٹیکس چھوٹ حاصل ہے؟وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکا تاحال بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر کام کر رہا ہے، اور کئی معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔

    خیال رہے کہ گزشتہ چند ماہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں واضح سرد مہری پائی جاتی ہے۔ بھارت کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ تجارتی ڈیل کو حتمی شکل نہ دینے پر واشنگٹن نے ناراضی کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد صدر ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک ٹیرف عائد کر دیا تھا۔امریکی صدر کے تازہ بیان کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کا براہِ راست اثر جنوبی ایشیا میں معاشی توازن اور عالمی منڈیوں پر پڑ سکتا ہے۔

  • جسٹس طارق جہانگیری جعلی ڈگری کیس،تین روز میں جواب طلب

    جسٹس طارق جہانگیری جعلی ڈگری کیس،تین روز میں جواب طلب

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری کے خلاف مبینہ جعلی ڈگری کیس کی سماعت ہوئی.

    جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری کیس کی درخواست منظور،عدالت نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو نوٹس جاری کردیے،عدالت نے تین دن میں جواب طلب کر لیا،چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان نے آرڈر جاری کیا

    درخواست گزار میاں داؤد عدالت میں پیش ہوئے،وکلاء کی کثیر تعداد روسٹر پر آگئی،ایچ ای سی نے اپنا اور کراچی یونیورسٹی کا جواب جمع کروا رکھا ہے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ باقی لوگ بیٹھ جائیں ،پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل سنیں گے ، درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ عدالت میں پیش، ایچ ای سی اور کراچی یونیورسٹی کے تحریری جواب داخل کر دیے،عدالت نے وکلاء کو بیٹھنے کی ہدایت کر دی

    درخواست گزار میاں داؤد ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے،اسلام آباد بار کے صدر نعیم گجر بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،ممبر اسلام آباد بار کونسل راجہ علیم عباسی بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے،چیف جسٹس نے کہا کہ کیس قابل سماعت ہونے پر پہلے درخواست گزار پھر بار اس کے بعد عدالتی معاون کو سنوں گا ،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 193 کے تحت ہائیکورٹ جج کے لیے وکیل ہونا لازم ہے ، ڈان اخبار میں اس حوالےسے خبر شائع ہوئی ،کراچی یونیورسٹی کے کنٹرول امتحانات نے تصدیق کی کہ لیٹر درست ہے ، کراچی یونیورسٹی کے لیٹر میں کہا گیا گیا جج کی ڈگری فیک ہے ، 1998 سے طے ہے ملک اسد علی کیس ہے ، اس کیس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کیا کسی ہائیکورٹ کے جج کے خلاف اسی ہائیکورٹ میں پٹیشن قابل سماعت ہے یا نہیں ،

    چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے درخواست گزار میاں داؤد ایڈوکیٹ سے استفسار کیا کہ کیا یہ کو وارنٹو پٹیشن ہے؟ وکیل میاں داؤد نے کہا کہ ہائیکورٹ کا جج بننے کیلئے وکیل ہونا لازمی ہے، ہم نے ایک اخبار کی خبر کی بنیاد پر کووارنٹو کی درخواست دائر کی،رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی کراچی یونیورسٹی کو ایک ای میل کی،رجسٹرار کی ای میل کے جواب میں تمام باتوں کی تصدیق کی گئی،کراچی یونیورسٹی کے کنٹرولر امتحانات نے تصدیق کی کہ لیٹر درست ہے،کراچی یونیورسٹی کے لیٹر میں کہا گیا گیا جج کی ڈگری فیک ہے، ہائیکورٹ کے جج کے خلاف اسی ہائیکورٹ میں کو وارنٹو پٹیشن قابلِ سماعت ہے، ہم کووارنٹو کی رٹ میں پوچھ رہے ہیں کہ آپ وکیل یا جج بننے کے اہل نہیں تھے، اس بات کو طول دینے کے بجائے وہ آ کر بتا دیں کہ ان کی ڈگری اصل ہے یا جعلی ہے، آرٹیکل 209 جج کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد لگے الزام سے متعلق ہے، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل نے فیصلہ دیا، جسٹس جہانگیری جج بلکہ وکیل بننے کیلئے بھی کوالیفائی نہیں کرتے تھے،جج پر الزام سچا لگا یا جھوٹا اب بارِ ثبوت اُن پر ہے کہ وہ ثابت کریں کہ ڈگری اصل ہے،

    درخواست گزار وکیل کے دلائل مکمل ، عدالت نے عدالتی معاون کو طلب کر لیا ،بیرسٹر ظفر اللہ روسٹرم پر آ گئے ،وکیل اسلام آباد بار نے کہا کہ پہلے بار کو اس کیس میں سنا جائے اس کے بعد عدالتی معاون کو سنا جائے ،میں آٹھ ہزار وکلا کا نمائندہ ہوں مجھے پہلے سنا جائے ، یہ درخواست اسلام ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے درخواست دائر کی ہے ، درخواست گزار وکیل نے اسلام آباد بار کے فریق بننے پر اعتراض عائد کر دیا ،اسلام آباد بار کے وکیل احمد حسن نے دلائل کا آغاز کر دیا،بیرسٹر ظفر اللہ دوبارہ بیٹھ گئے ، اسلام آباد بار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزرا اس کیس میں متاثرہ فریق نہیں ہے ،اگر یہ سمجھتے ہیں کوئی ایشو ہے تو ان کو بار کونسل جانا چاہیے ،ہائیکورٹ کا جج بننے کیلئے دس سال وکالت کا تجربہ رکھنا ضروری ہے،وکالت کا لائسنس دینا بار کونسل کا کام ہے یہ معاملہ انہوں نے دیکھنا ہوتا ہے، جسٹس طارق جہانگیری کی وکیل بننے کی کوالیفیکیشن میں کوئی سقم ہے تو متبادل فورم موجود ہے، جسٹس طارق جہانگیری کو جج بنانے کیلئے جوڈیشل کمیشن کا نوٹیفکیشن موجود ہے،وکیل کی ڈگری کا معاملہ ڈسٹرکٹ بار اور بار کونسل ہی دیکھتی ہیں، اگر درخواست گزار وکیل صاحب کو مسئلہ ہے تو بار کونسل سے رجوع کریں، جس جج کے خلاف کیس ہے وہ پہلے وکیل رہے، بعد میں جج بنے، وکالت کے بعد جسٹس جہانگیری کو جوڈیشل کمیشن نے جج تعینات کیا، ڈگری اور دیگر معاملات کا فیصلہ بار کونسل نے کرنا ہے،ڈگری غلط ہو تو معاملہ عدالت نہیں، بار کونسل لے کر جانا ہوتا ہے، اگر کسی کو ان کی دس سالہ وکالت پر اعتراض ہے تو بار کونسل میں جائے، ڈسٹرکٹ بار کے وکیل احمد حسن نے کیس زیر سماعت ہونے کی مخالفت کردی،اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار نے جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف کیس قابلِ سماعت قرار دینے کی مخالفت کر دی ،کہا کہ یہ کیس اِس ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار کا نہیں، سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار ہے،عدالت بار کونسل کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے،جسٹس جہانگیری کے خلاف کوئی درخواست بار کو نہیں دی گئی، بار کونسلز آزاد اور خود مختار ہیں، درخواست گزار پہلے بار کونسل جائے، وہاں درخواست جمع کرائے،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں عدالت اس کیس میں restrain کرے؟ وکیل ڈسٹرکٹ بار نے کہا کہ عدالت فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ یا فیصلہ نہیں دے سکتی، اگر ایک جج دوسرے جج کو "person in the jurisdiction” سمجھے تو نظام بگڑ جائے گا،عدالت سے استدعا ہے کہ اپنے ہی ساتھی جج کو ماتحت نہ سمجھا جائے،اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل احمد حسن کے دلائل مکمل ہو گئے

    اسلام آباد بار کونسل کے ممبر راجہ علیم عباسی عدالت کے سامنے پیش ہو گئے،کہا کہ 209 کی موجودگی میں یہ ٹرینڈ عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچائے گا ،جسٹس جہانگیری کے پاس تین لائسنسز ہیں لوئر کورٹ ، ہائیکورٹ ، سپریم کورٹ ، آپ کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل زیر التوا ہے ، بہتر ہے یہ کسی اور بنچ کو بھیج دیں ، احمد احسن شاہ نے کہا کہ ایک جج سے بڑھ کر عدالت کا اپنا وقار اہم ہے، اسلام آباد بار کونسل کے رہنما علیم عباسی نے دلائل دینے کی کوشش کی،چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اس کیس میں فریق ہیں؟ راجہ علیم نے کہا کہ میں بار کونسل کا نمائندہ اور ریگولیٹر ہوں،چیف جسٹس نے کہا کہ ریگولیٹر ہونا الگ بات ہے، کیس میں فریق بننا الگ چیز، راجہ علیم عباسی نے کہا کہ جسٹس طارق محمود جہانگیری تین بارز کے لائسنس رکھتے ہیں،ان کے پاس پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار اور آئی ایچ سی بار کے لائسنس موجود ہیں ،ڈگری کا معاملہ ہو تو فیصلہ بار کونسل نے کرنا ہے،آج اگر یہ نظیر قائم ہوگئی تو کل کسی کو نہیں روک سکیں گے،یونیورسٹی کچھ بھی کہے، عدالت فیصلہ نہیں دے سکتی،جج کا معاملہ جوڈیشل کونسل، وکالت کا معاملہ بار کونسل دیکھے گی،یہ ہماری ہائی کورٹ ہے، اس کا تحفظ ضروری ہے،

    ڈسٹرکٹ بار کے وکیل احمد احسن شاہ پھر روسٹرم پر آگئے،چیف جسٹس نے کہا کہ یہ طریقہ نہیں، آپ کو وقت دیا جا چکا ہے، احمد حسن شاہ نے کہا کہ یونیورسٹی سے ریکارڈ طلب کرلیا تھا بار کونسلز سے بھی ریکارڈ طلب کرلیا جائے،

  • اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    اسلام آباد میں 15 فروری کو بلدیاتی انتخابات کا اعلان

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کردیا

    الیکشن کمیشن کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 15 فروری کو ہونگے،الیکشن کمیشن نے بلدیاتی قانون 2015 کے مطابق انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ہے،نوٹیفکیشن کے مطابق الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140(A) اور 219(d)، الیکشن ایکٹ 2017 کی شق 219، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2015 اور متعلقہ رولز کے تحت اختیارات استعمال کرتے ہوئے شیڈول جاری کیا ہے۔

    نوٹیفکیشن میں امیدواروں کی نامزدگی، چھان بین، فہرستوں کی اشاعت اور پولنگ تک کا مکمل انتخابی ٹائم لائن جاری کیا گیا ہے۔نامزدگی فارم جاری کرنے کی تاریخ 19 دسمبر 2025تک ہے،امیدواروں کے نامزدگی فارم جمع کرانے کا مرحلہ
    22 دسمبر 2025 سے 27 دسمبر 2025 تک ہے، کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 30 دسمبر 2025 سے 3 جنوری 2026 تک کی جائے گی،ریٹرننگ افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں دائر کرنے کی مدت 5 جنوری 2026 سے 8 جنوری 2026 تک ہو گی،اپیلیٹ اتھارٹی کی جانب سے اپیلیں نمٹانے کی تاریخیں 9 جنوری 2026 سے 13 جنوری 2026 تک ہوں گی،نظرِ ثانی شدہ امیدواروں کی فہرست کی اشاعت 14 جنوری 2026 کو کی جائے گی،امیدواروں کی حتمی فہرست کی اشاعت 15 جنوری 2026 کو ہو گی،الیکشن نشان الاٹ کرنے اور امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 16 جنوری 2026ہے،

    نوٹیفکیشن کے دوسرے حصے میں الیکشن کمیشن نے شفافیت یقینی بنانے کے لیے اہم ہدایات بھی جاری کی ہیں جس کے مطابق تمام وفاقی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ کوئی ترقیاتی منصوبہ یا سرکاری وسائل استعمال کرکے انتخابی عمل پر اثرانداز نہ ہوں۔سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی اہلکار اپنے عہدے کے اختیار کا غلط استعمال کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔الیکشن پروگرام کے اجراء کے بعد حکومتی اشتہارات، ترقیاتی اعلانات اور غیر ضروری سرکاری سرگرمیوں پر پابندی عائد ہوگی۔

  • ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، دوست اوراسکا شوہر گرفتار

    ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں سنسنی خیز انکشافات، دوست اوراسکا شوہر گرفتار

    ایبٹ آباد میں ڈی ایچ کیو اسپتال سے اغوا کے بعد قتل کی جانے والی ڈاکٹر وردہ کیس میں اہم اور ہنگامہ خیز پیش رفت سامنے آگئی ہے۔

    پولیس کی جاری تفتیش کے مطابق، ڈاکٹر وردہ کو 4 دسمبر کو اسپتال کے باہر سے اغوا کیا گیا تھا، جبکہ اغوا کے صرف ایک گھنٹے بعد ہی انہیں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ہارون رشید کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کو اغوا کرنے کے بعد جناح آباد کے ایک زیر تعمیر مکان میں منتقل کیا، جہاں خاتون کو گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ بعدازاں ملزمان نے ان کی لاش کو ٹھنڈیانی کے قریب لڑی بنوٹا کے علاقے میں دفنا دیا، جہاں چار دن بعد لاش برآمد ہوئی۔ ڈی پی او کے مطابق، واردات میں استعمال ہونے والی دونوں گاڑیاں پولیس نے قبضے میں لے لی ہیں، جبکہ ڈاکٹر وردہ کی دوست، اس کا شوہر اور ایک سہولت کار سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔پولیس مرکزی ملزم شمریز کی تلاش کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ڈاکٹر وردہ بیرون ملک جانے کی تیاری کر رہی تھیں اور اسی سلسلے میں ان کے پاس موجود 67 تولہ سونا ان کے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ ڈاکٹر وردہ نے اعتماد میں آکر یہ سونا اپنی قریبی دوست کے پاس امانتاً رکھوا دیا تھا۔انکشاف ہوا ہے کہ ملزمہ نے ڈاکٹر وردہ کا سونا گروی رکھ کر 50 لاکھ روپے بھی حاصل کر رکھے تھے۔ جب ڈاکٹر وردہ نے سونا واپس مانگا تو ملزمہ اور اس کے ساتھیوں نے انہیں راستے سے ہٹانے کا منصوبہ بنایا۔

    گرفتار ملزمان میں ڈاکٹر وردہ کی دوست (مرکزی کردار)،اس کا شوہر،ایک ملازم شامل ہے،جبکہ مرکزی ملزم شمریز تاحال فرار ہے اور پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔