Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا  آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن جاری، مزید 22 دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں کے خلاف سینیٹائزیشن آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق گزشتہ رات کیے گئے مؤثر اور مربوط تعاقبی آپریشنز کے دوران مزید 22 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا، جس کے بعد گزشتہ تین روز میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد 177 تک جا پہنچی ہے۔

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جن میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ آپریشنز کے دوران دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی گئی اور فرار کے تمام ممکنہ راستوں کو بند کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی فورسز کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئیں۔

    ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز، انٹیلی جنس ایجنسیز اور پولیس نے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے گرد گھیرا مزید تنگ کر دیا ہے۔ مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں، جبکہ مشتبہ افراد کی نگرانی اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک ہیں۔سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ان کے سہولت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں کی مزید ہلاکتوں اور نقصانات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جن کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک دشمن عناصر کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رکھیں گی۔ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، جبکہ شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ اداروں کو دیں۔

  • دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے،سہیل آفریدی

    دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے،سہیل آفریدی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقات سے متعلق کسی قسم کی بات نہیں ہوئی۔

    وزیراعظم سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے 2600 ارب روپے رکے ہوئے ہیں، وزیراعظم نے قبائلی اضلاع کے رکے ہوئے 26 ارب روپے جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے،ان کا کہنا تھا تیراہ، کرم اور باجوڑ کے جو لوگ قربانی دے رہے ہیں ان کے لیے 4 ارب روپےکی رقم کچھ بھی نہیں ہے، اگر آپ 4 ارب روپے کو ان علاقوں کے عوام کی قربانی سے جوڑیں گے تو پھر آپ عوام کی قربانیوں سے انحراف کریں گے،سہیل آفریدی کا کہنا تھا وزیراعظم سے ملاقات میں بانی پی ٹی آئی یا بہنوں سے ملاقات کے حوالے سے کسی قسم کی بات نہیں ہوئی، ملاقات میں کسی سیاسی معاملے پر بات نہیں ہوئی۔دہشتگردی کے واقعات سے متعلق سوال پر کہنا تھا دہشتگرد کا نہ کوئی صوبہ اور نہ ہی ملک ہوتا ہے، عید کے بعد وزیراعظم سے پھر ملاقات ہوگی اور دہشتگردی پر بات ہو گی، ہم پہلے سے کھل کر بات کررہے ہیں اور اپنا مؤقف دے رہے ہیں۔

  • وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم سے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات ختم ہو گئی۔

    وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی شہباز شریف سے ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی،ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات میں مشیر خزانہ کے پی کے مزمل اسلم بھی ملاقات میں شامل تھے جبکہ حکومت کی جانب سے وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثنااللہ بھی ملاقات میں موجود تھے،ذرائع پی ٹی آئی کا بتانا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے پی نے ملاقات میں وادی تیراہ، امن جرگہ اور انسداد دہشتگردی کے معاملات پر بات کی، اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے این ایف سی معاملات پر بھی وزیراعظم سے تبادلہ خیال کیا۔

    وفاقی و صوبائی حکومت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کیلئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی.وزیراعظم
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا وزیراعظم ہاؤس نے اعلامیہ جاری کر دیا ،جاری اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں وزیرِ اعظم نے خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے مابین تعاون کی ضرورت پر زور دیا.وزیرِ اعظم نے صوبے میں امن و امان کیلئے وفاقی و صوبائی حکومت کے تعاون کو ناگزیر قرار دیا. وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن وامان کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی کوششیں مزید بڑھانے کی ضرورت ہے.صوبائی حکومت انسداد دھشتگردی کیلئے صوبائی اداروں کو مضبوط کرے. وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی. خیبر پختونخوا میں امن و امان کے قیام اور عوامی فلاح کیلئے صوبائی حکومت کو اپنی آئینی ذمہ داری نبھانی چاہئیے. صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کیلئے خیبر پختونخوا کے عوام کیلئے اقدامات کئے جائیں.وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے عوام کی بہتری کیلئے ہمیشہ سے کوشاں ہے. خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے، صوبے کی عوام کی خوشحالی کیلئے وفاقی حکومت اپنے دائرہ اختیار کے مطابق بھرپور کاوشیں جاری رکھے گی. قومی ترقی اور عوامی خدمت کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی روابط اور مؤثر رابطہ کاری ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے وفاقی دائرہ کار کے مطابق تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وفاقی حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلنے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے۔ باہمی مشاورت اور اشتراکِ عمل کے ذریعے قومی یکجہتی، استحکام اور خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکتا ہے،

  • سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    سیاسی اتحاد باڑہ کا متاثرینِ تیراہ کے حق میں بڑا اعلان، امن تحریک شروع کرنے کا فیصلہ

    باڑہ / ضلع خیبر:سیاسی اتحاد باڑہ نے تیراہ میدان سے نقل مکانی کرنے والے تمام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ماضی کے آپریشنز، شیلنگ، ڈرون کارروائیوں اور بدامنی کے باعث بے گھر ہونے والے متاثرین کو فوری طور پر باعزت طریقے سے بحال کیا جائے۔

    سیاسی اتحاد باڑہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ متاثرینِ تیراہ گزشتہ کئی برسوں سے بے سرو سامانی، عدم تحفظ اور شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، حالانکہ انہوں نے ہر دور میں ریاست کے ساتھ تعاون، صبر اور قربانی کی مثالیں قائم کیں، مگر اس کے باوجود آج بھی انہیں بنیادی انسانی، آئینی اور قبائلی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
    اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ متاثرینِ تیراہ کا مسئلہ کسی ایک قبیلے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی اور قومی مسئلہ ہے، جس کے حل میں مزید تاخیر ناقابلِ قبول ہے۔

    خیبر قومی جرگہ میں باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، جنرل سیکرٹری عطاء اللہ، شیریں آفریدی،سابقہ ایم پی اے شفیق آفریدی، اے این پی عبدالرزاق،فاٹا لویہ جرگہ صدر ملک بسم اللہ، جماعت اسلامی کے شاہ فیصل،پی ٹی آئی عابد آفریدی،جماعت اسلامی خان ولی آفریدی،مسلم لیگ ن اصغر آفریدی،ملک محمد حسین سمیت کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی،سیاسی اتحاد باڑہ کے اہم مطالبات میں کہا گیا ہے کہ وادی تیراہ میں فوری طور پر مکمل امن بحال کیا جائے اور مستقبل میں پائیدار امن کی واضح ضمانت دی جائے۔تیراہ میں فائرنگ، شیلنگ، گھروں پر مارٹر گولے برسائے جانے اور ہیلی کاپٹر کارروائیوں کو فوری طور پر بند کیا جائے، کیونکہ ان اقدامات سے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیل رہا ہے۔متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی کو یقینی بنایا جائے اور ان سے کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کو تحریری و عملی طور پر نافذ کیا جائے۔متاثرین کی رجسٹریشن کے عمل میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری، انتظامی نااہلی اور کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔تیراہ کے بلند ایریاز میں گھروں کے درست پتے نہ رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا اسٹیٹس دے کر مکمل رجسٹریشن کی جائے اور امدادی پیکیجز میں شامل کیا جائے۔پولیٹیکل انتظامیہ یا نادرا کی من پسند اور خود ساختہ رجسٹریشن کو سیاسی اتحاد باڑہ کسی صورت قبول نہیں کرتا کیونکہ اس عمل سے حقیقی متاثرین محروم ہو رہے ہیں۔وادی تیراہ کے بعد اپر باڑہ اور بازو پین ایریا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا۔

    قیامِ امن کے لیے سیاسی اتحاد باڑہ نے آج سے باڑہ میں امن تحریک کے آغاز کا اعلان کیا ہے تاکہ عوام کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔باڑہ میں اغوا برائے تاوان، دھمکی آمیز کالز اور شہریوں میں خوف و ہراس کے خاتمے کے لیے حکومت اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔صوبائی اور وفاقی حکومتوں کی جانب سے متاثرینِ تیراہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ بیانات قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ دونوں حکومتیں مل بیٹھ کر مستقل حل نکالیں۔

    اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر سیاسی اتحاد باڑہ کے آئینی، قانونی اور اخلاقی مطالبات پر فوری اور عملی عمل درآمد نہ ہوا تو متاثرینِ تیراہ اور ضلع خیبر کے عوام کے ساتھ مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔سیاسی اتحاد باڑہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرینِ تیراہ کے ساتھ ہر فورم پر کھڑا رہے گا اور ان کے حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔اعلامیے کے آخر میں کہا گیا کہ مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں سیاسی اتحاد باڑہ مرکزی حکومت، وزیراعلیٰ ہاؤس اور دیگر متعلقہ اداروں کے سامنے متاثرین کی 13,744 گاڑیوں کے ہمراہ احتجاجی مارچ کرے گا۔

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد،شہداء کے لواحقین سے ملاقات،وزیراعلیٰ بلوچستان ہمراہ

    کوئٹہ ،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ آمد، امن و امان کی صورتحال پر اعلیٰ سطحی رابطے،وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی شہداء کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے پولیس لائن پہنچ گئے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے شہداء کے لواحقین سے ملاقات کی،شہداء کے لواحقین سے ملاقات کے موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی آبدیدہ ہو گئے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جائیں گی، ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کا جرات اور عزم کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا، ریاست ہمیشہ مظلوم کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور کھڑی رہے گی، شہداء رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اٹھیں گے، یہ عظیم قربانی ہے،ہمارے شہداء نے بہت بڑی قربانی دی، بلوچستان کے عوام ان کے خون کے مقروض ہیں، میرا شہداء کے لواحقین سے وعدہ ہے کہ خون کے ایک ایک قطرے کا حساب لیا جائے گا،شہداء کے ورثاء حوصلہ اور صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھیں،

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے عوام اور سیکیورٹی فورسز نہایت بہادر اور باہمت ہیں،ہمارے بہادر جوانوں نے دہشت گردوں کے خلاف بھرپور اور مؤثر کارروائی کی، شہداء کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں، پوری قوم ان کو سلام پیش کرتی ہے،

  • مرکزی مسلم لیگ کا دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سیکورٹی اداروں کو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کا دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے پر سیکورٹی اداروں کو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے بلوچستان میں فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے، دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لئے مرکزی مسلم لیگ سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے،

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ اللہ کے فضل سے سیکیورٹی فورسز کی بروقت، جرات مندانہ اور پیشہ ورانہ کارروائیوں نے ایک بڑے قومی سانحے کو ٹال دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔فتنۃ الہندوستان کے ذریعے بلوچستان میں بدامنی پھیلانے کی منظم کوششیں دراصل پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی پر حملہ ہیں، جنہیں قوم کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی،مرکزی مسلم لیگ بہادر سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز پاکستان میں دہشتگردوں اور انکے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق کاروائی کی جائے، دہشت گردی کے پس پردہ ہاتھوں کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا جائے اور بلوچستان کی ترقی، روزگار اور عوامی فلاح کے منصوبوں کو مزید تیز کیا جائے ۔

    خالد مسعود سندھو نے دہشتگردوں کیخلاف آپریشن کے دوران شہید سیکورٹی اہلکاروں کے لئے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے.

  • بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن،48 گھنٹوں میں 108 دہشتگرد ہلاک

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا فیصلہ کن آپریشن بی ایل اے کے 61 دہشتگرد ہلاک کردئے ۔ بی ایل اے کا ہیروف 2 مکمل طور پر فیل ہوگیا ۔ جب کہ 10 سیکیورٹی اہلکار شہید اور چند زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر گزشتہ 48 گھنٹوں میں مارے جانے والے عسکریت پسندوں کی تعداد 108 تک پہنچ گئی ہے۔

    ابتدائی حملہ کوئٹہ کی سریاب روڈ پر پولیس وین کو نشانہ بنانے سے شروع ہوا۔ چند ہی منٹ بعد نوشکی میں ایف سی ہیڈکوارٹر، دالبندین کے ایف سی کمپاؤنڈ، پسنی میں کوسٹ گارڈ چوکی اور گوادر کی لیبر کالونی سمیت بارہ مقامات پر فائر اور خودکش حملے کیے گئے۔ ہر مقام پر مؤثر جوابی فائر کے باعث دہشت گرد پسپا ہوئے اور کلیئرنس آپریشن بدستور جاری ہے۔سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ’’ہیروف 2‘‘ بی ایل اے کی ایک نئی اصطلاح تھی جس کے ذریعے وہ بیک وقت زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے، مگر منصوبہ پہلی ہی جھڑپ میں خاک میں مل گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں متعدد عسکریت پسند افغانستان میں قائم محفوظ ٹھکانوں سے براہِ راست ہدایات لے رہے تھے، جب کہ حملوں کی منصوبہ بندی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کا ہاتھ بھی تھا۔

    فائر فائٹ ختم ہوتے ہی صوبائی حکومت نے اسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر دی اور تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں خون کے مراکز ہائی الرٹ پر ہیں۔ مواصلاتی نگرانی سخت کی جا چکی ہے جبکہ حساس اضلاع میں جزوی موبائل سروس معطل ہے تاکہ دہشت گردوں کی باہمی رابطہ کاری روکی جا سکے۔ حکام نے یقین دلایا ہے کہ شہری علاقوں میں معمولاتِ زندگی بحال ہو چکے ہیں اور قومی شاہراہیں کھولی جا چکی ہیں۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق 108 عسکریت پسندوں کا نقصان بی ایل اے کے فیلڈ نیٹ ورک، اسلحہ رسد اور مقامی سطح پر بھرتی کے ڈھانچے کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ پچھلے سال کے دوران تنظیم کی سرگرمیوں میں افغان سرزمین اور غیر ملکی فنڈنگ کے تذکرے تواتر سے آ رہے ہیں، جنہیں پاکستان سختی سے اجاگر کرتا رہا ہے۔

  • سانحہ بھاٹی کیس،خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق،ابتدائی رپورٹ جاری

    سانحہ بھاٹی کیس،خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق،ابتدائی رپورٹ جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی میں مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر پولیس تشدد کی تصدیق ہو گئی۔

    انکوائری رپورٹ میں ایس پی سٹی اور ایس ایچ او بھاٹی کو تشدد کا ذمے دار قرار دے دیا گیا، دونوں کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایس پی اور ایس ایچ او خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ کو تھانہ بھاٹی لے گئے، پونے 5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا اور تشدد کرتے رہے، رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی جو وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو دیں گے۔

    دوسری جانب ضلع کچہری کی عدالت نے نامزد ملزمان کا 4 روزہ جسمانی ریمارنڈ منظور کر لیا،جاں بحق خاتون کے والد کی مدعیت میں درج مقدمے میں دفعہ 322 کے ساتھ 316 بھی لگا دی گئی،ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کا کہنا ہے کہ دفعہ 316 کے بعد ملزمان کا چالان پیش کرنے میں مدد ملے گی۔

  • بھارت کی کوشش ہوتی جھوٹ پر مبنی فلمیں بنا کر پاکستان کو بدنام کرے،شرجیل میمن

    بھارت کی کوشش ہوتی جھوٹ پر مبنی فلمیں بنا کر پاکستان کو بدنام کرے،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی کوشش ہوتی ہے کہ جھوٹ پر مبنی فلمیں بنا کر پاکستان کو بدنام کرے،

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان نے معرکہ حق میں بھارت کو عبرت ناک شکست دی، مگر شکست کے بعد بھارت جھوٹی فلمیں بنا کر اپنی عوام کو یہ غلط تاثر دینا چاہتا ہے کہ اس نے جنگ جیتی ہے، ہمارے ملک میں بہت ٹیلنٹ ہے، اسے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے، سندھ حکومت نوجوانوں کے بنائے گئے بہترین اسکرپٹ کو فنانس کرے گی، تاکہ ہمارے نوجوان مستقبل کے بہترین فلم ساز بنیں ،فلم اور ڈرامہ کے زریعے ہی اپنا پیغام مثبت انداز دنیا میں پہنچا سکتے ہیں ،ابھی بھی کم بجٹ میں لیاری کا مثبت چہرہ دکھانے کے لیے فلم بنائی ہے،فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو فروغ دیا جارھا ہے