Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع ، بلوچستان کی ترقی کی نئی راہ

    بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں قدرتی وسائل کی فراوانی اور جغرافیائی اہمیت ایک روشن مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔ تاہم اس ترقی کی بنیاد مضبوط انفراسٹرکچر، بہتر سفری سہولیات اور محفوظ شاہراہوں سے ہی ممکن ہے۔ انہی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے این-25 مستونگ تا چمن شاہراہ کی تعمیر و توسیع کا عظیم منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی نگرانی میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان کے لیے معاشی سرگرمیوں کا نیا دروازہ ثابت ہو رہا ہے۔این-25 قومی شاہراہ بلوچستان کے دل میں موجود اہم شہروں مستونگ، کچلاک، کوئٹہ، قلعہ عبداللہ اور چمن کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ سڑک اہم تجارتی راستے کا حصہ بھی ہے، جس کی وجہ سے اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزانہ ہزاروں مسافر، ٹرک، بسیں اور تجارتی گاڑیاں اس شاہراہ پر سفر کرتی ہیں۔ تاہم ماضی میں اس سڑک کی خستہ حالی، تنگ گزرگاہیں اور خطرناک موڑ ٹریفک حادثات اور سفر میں دشواریوں کا سبب بنتے رہے۔ یہی وجوہات اس منصوبے کی فوری ضرورت کی بنیاد بنیں۔

    این-25 کی تعمیر و توسیع کا منصوبہ مجموعی طور پر 198 کلومیٹر طویل ہے جسے تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے،
    پہلا حصہ،مستونگ تا کچلاک 88 کلومیٹر،اس حصے میں پرانی روڈ کی مرمت، کشادگی اور حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔
    دوسرا حصہ کچلاک تا قلعہ عبداللہ 62 کلومیٹر،یہ حصہ نہ صرف ٹرانسپورٹ کے لحاظ سے اہم ہے بلکہ کوئٹہ شہر کی ٹریفک لوڈ کو بھی کم کرنے میں مددگار ہوگا۔
    تیسرا حصہ قلعہ عبداللہ تا چمن 48 کلومیٹریہ مرحلہ سب سے اہم اور چیلنجنگ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں خوجک ٹنل (2.5 کلومیٹر)،چمن باؤنڈز (2.5 کلومیٹر)جیسے اہم اسٹرکچرز شامل ہیں۔اسی تیسرے حصے پر پہلے مرحلے میں بین الاقوامی معیار کے مطابق تیزی سے کام جاری ہے۔ قلعہ عبداللہ تا چمن سیکشن نہ صرف سب سے زیادہ ٹریفک لوڈ برداشت کرتا ہے بلکہ ملکی و غیر ملکی تجارت کے لحاظ سے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سیکشن کی کشادگی اور بہتری سے پورے خطے میں سفری اور تجارتی سہولت میں انقلاب آ جائے گا۔

    خوجک ٹنل بلوچستان کا ایک تاریخی اور جغرافیائی اہمیت کا حامل حصہ ہے۔ اس 2.5 کلومیٹر طویل ٹنل پر جدید طرز پر بحالی اور توسیع کا کام فروری میں شروع کیا جا رہا ہے۔ نئی ڈیزائننگ، حفاظتی دیواریں، وینٹی لیشن سسٹم اور لائٹنگ سسٹم خوجک ٹنل کو عالمی معیار کے برابر لے آئیں گے۔ اس ٹنل کی بہتری سے سردیوں میں برفباری کے دوران ٹریفک جام اور حادثات میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔منصوبے کی تعمیر پاکستان کے معروف انجینئرنگ ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے سپرد کی گئی ہے۔ ایف ڈبلیو او مشکل ترین علاقوں میں اعلیٰ معیار کے انفراسٹرکچر بنانے کا وسیع تجربہ رکھتی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بھاری مشینری، محفوظ روڈ الائنمنٹ، ڈرینیج سسٹمز، فلائی اوورز اور حفاظتی دیواروں کی تنصیب جیسے چیلنجز ایف ڈبلیو او کی پیشہ ورانہ صلاحیت کا عملی ثبوت ہیں۔

    چونکہ این-25 نہ صرف تعمیراتی لحاظ سے حساس منصوبہ ہے بلکہ اس پر روزانہ عوام اور تجارتی ٹریفک بھی چلتی ہے، اس لیے اس کی مجموعی سیکیورٹی پاک فوج اور ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے ذمہ ہے۔ یہ ادارے تعمیراتی عملے، مشینری اور مقامی آبادی کی مکمل حفاظت یقینی بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کی موجودگی سے علاقے میں اعتماد اور امن کا ماحول فروغ پا رہا ہے۔یہ منصوبہ بلوچستان اور پاکستان کی معاشی، سماجی اور تجارتی ترقی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

    چمن بارڈر پاکستان اور افغانستان کے درمیان سب سے بڑا زمینی تجارتی دروازہ ہے۔ بہتر شاہراہ سے تجارتی ٹرکوں کی آمدورفت تیز ہوگی، جس سے درآمدات و برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔کشادہ سڑکوں اور بہتر الائنمنٹ کی بدولت سفر کم وقت اور زیادہ آرام دہ ہو جائے گا۔ ٹوٹ پھوٹ، کھڈوں اور تنگ موڑوں سے نجات ملنے سے مسافروں کو بڑی سہولت میسر آئے گی۔منصوبے میں مقامی لیبر، مشین آپریٹرز، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، کھانے پینے کی سروسز اور دیگر شعبوں میں ہزاروں ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں۔ طویل المدتی طور پر بھی یہ شاہراہ تجارت میں اضافے کے ذریعے روزگار کے نئے دروازے کھولے گی۔سرد علاقوں خصوصاً خوجک ٹاپ پر برفباری کے دوران حادثات عام تھے۔ نئی سڑک، ٹنل کی بہتری، حفاظتی گارڈریل اور جدید سائن بورڈز کے بعد حادثات میں نمایاں کمی آئے گی۔سڑکوں کی بہتری ہمیشہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے۔ جب علاقے میں تجارت بڑھے گی، روزگار ملے گا تو امن و استحکام خود بخود مضبوط ہوں گے۔ این-25 اس سلسلے میں حقیقی معنوں میں خوشحالی کی شاہراہ ثابت ہو گی۔

    این-25 کی کامیاب تکمیل عوام کے تعاون، حکومتی ذمہ داری اور سیکیورٹی اداروں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ یہ منصوبہ بتا رہا ہے کہ جب ریاست اور عوام ایک سمت میں قدم بڑھائیں تو ترقی خود راستہ بنا لیتی ہے۔ بلوچستان کی عوام اس منصوبے کو امن، ترقی اور معاشی روشنائی کی علامت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔این-25 شاہراہ نہ صرف آج کے لیے اہم ہے بلکہ مستقبل قریب میں یہ سی پیک، وسطی ایشیائی ریاستوں، گوادر پورٹ اور افغانستان کے درمیان تجارت کا مرکزی راستہ بن جائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر روابط بڑھیں گے، خطے میں ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور بلوچستان کو وہ اہمیت ملے گی جس کا وہ برسوں سے مستحق ہے۔

  • برطانوی عدالت کا عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم

    برطانوی عدالت کا عادل راجہ کو بریگیڈیئر(ر)راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنے کا حکم

    یوٹیوبر عادل راجہ کے خلاف کیس کی لندن ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی

    عدالت نے یوٹیوبر عادل راجہ کو ریٹائرڈ بریگیڈیئر راشد نصیر سے سرعام معافی مانگنے کا حکم دے دیا۔کیس کی سماعت جج رچرڈ اسپیئر مین کی جانب سے کی گئی۔ سماعت کے بعد عدالت نے حکم نامہ جاری کیا جس میں عادل راجہ کو اپنے توہین آمیز بیانات پر عوامی معافی مانگنے کا حکم دیا گیا، عدالت نے کہا کہ یہ معافی 28 دن تک عادل راجہ کے ٹوئٹر، فیس بک، یوٹیوب اکاؤنٹس اور اس کی ویب سائٹ کے پر نمایاں طور پر جاری رہے گی۔عادل راجہ کو 50,000 پاؤنڈ ہرجانہ اور 260,000 پاؤنڈ ابتدائی اخراجات (باقی رقم بعد میں طے کی جائے گی) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جو 22 دسمبر 2025 تک جمع کرانا ہوگا۔عادل راجہ کو دوبارہ کوئی توہین آمیز بیان دینے سے روکتے ہوئے اس کے خلاف پابندی کا حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔جج نے اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    عادل راجہ نے فیصلے کے خلاف اپیل کی درخواست بھی کی تھی جسے جج نے مسترد کردیا،بریگیڈیئر راشد نصیر نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے سے متعلق آرڈر جاری کرے،جج نے حکم دیا ہے کہ عادل راجہ کو 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور عدالتی اخراجات کی مد میں 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ ادا کرنے ہوں گے، اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں لگایا جائے گا اور وہ بھی عادل راجہ کو ادا کرنا ہوں گے، جج نے عادل راجہ کو آئندہ ہتک آمیز بیانات نہ دہرانے کا حکم امتناع بھی جاری کردیا

    عادل راجہ کے وکیل نے اب فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل میں جانے کا عندیہ دیا ہے، عادل راجہ نے بھی کہا ہے کہ اس فیصلے کے خلاف کورٹ آف اپیل جاؤں گا،خیال رہے کہ اکتوبر میں سنائے گئے فیصلے میں جج نے عادل راجہ کے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا تھا، آج عدالتی فیصلہ سننے کے لیے بریگیڈ (ر) راشد نصیر عدالت میں موجود تھے جبکہ عادل راجہ کے وکلا پیش ہوئے۔

  • پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کا انڈونیشین صدر کا استقبال

    پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں کا انڈونیشین صدر کا استقبال

    اسلام آباد: پاکستان کی فضاؤں میں آج ایک منفرد اور یادگار منظر دیکھنے میں آیا، جب پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں نے انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے سرکاری دورۂ پاکستان پر ان کے طیارے کو انتہائی پرتپاک، شاندار اور پروٹوکول سے بھرپور انداز میں خوش آمدید کہا۔

    پاک فضائیہ کے 6 جدید جے ایف-17 تھنڈر جنگی طیارے جیسے ہی انڈونیشیا کے صدر کے طیارے کے قریب پہنچے، انہوں نے خصوصی فارمیشن بنا کر معزز مہمان کو فضائی سلامی پیش کی۔یہ شاندار فلائی پاسٹ نہ صرف دفاعی مہارت کا مظہر تھا بلکہ دونوں ممالک کے گہرے تعلقات کا عملی اظہار بھی تھا۔ جنگی طیاروں نے انڈونیشی صدر کے طیارے کو حصار میں لے کر مخصوص پروٹوکول فارمیشن میں مختلف زاویوں سے سلامی دی، جو کسی بھی ملکی مہمان نوازی کا اعلیٰ ترین اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق صدر پرابوو سوبیانتو نے اس غیرمعمولی اور پرتپاک استقبال پر پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت، پاک فضائیہ اور عوام کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کا شاندار استقبال پاکستان اور انڈونیشیا کی قربت، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

    پاک فضائیہ کی جانب سے یہ شاندار خیرمقدمی فلائی پاسٹ دونوں ممالک کے دیرینہ سفارتی، عسکری اور عوامی روابط کی مضبوط بنیادوں کی عکاسی کرتا ہے۔دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی طرف سے یہ اعلیٰ پروٹوکول "جذبۂ خیر سگالی” اور باہمی احترام کی روایات کے عین مطابق ہے۔پاکستان کی فضائی سرحد میں داخل ہونے والے برادر ممالک کے سربراہان کو فضائی سلامی دینا ایک اعزاز بھی ہے اور روایت بھی۔انڈونیشیا جیسے قریبی دوست ملک کے صدر کو اس قدر شاندار انداز میں خوش آمدید کہنا دونوں ممالک کے درمیان پائیدار دوستی،اسٹریٹجک شراکت دار ی اور باہمی اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔انڈونیشیا کے صدر کا یہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے تعلقات کے نئے دور کا آغاز تصور کیا جا رہا ہے، جس میں دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی اور خطے میں امن کے لیے مزید تعاون کے امکانات بڑھیں گے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا تمام  تعلیمی اداروں کے باہر  کیمرے نصب کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب کا تمام تعلیمی اداروں کے باہر کیمرے نصب کرنے کا حکم

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے تمام سکولوں اور تعلیمی اداروں کے باہر ڈیجیٹل نگرانی کے لئے کیمرے نصب کرنے کا حکم دیا ہے۔

    پنجاب پولیس کو سکول ایجوکیشن کے ساتھ ملکر تعلیمی اداروں میں فرضی مشقیں کرانے کی ہدایت کی ہے۔تعلیمی اداروں کے لئے سیکورٹی گارڈ، انٹری چیکنگ اور سی سی ٹی وی لازمی قرار دیا ہے۔پنجاب میں دوسروں صوبوں سے آنے اور جانے والی بسوں کے ڈرائیور اور عملے کی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا ہے۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو موٹروے پولیس سے سیکورٹی کے لئے اشتراک کار کی ہدایت کی ہے۔پنجاب بھر کے پارکس میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور سکیورٹی بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔سیف سٹی اتھارٹی کو صوبہ بھر میں کیمروں کا فنکشنل ری ویو کرنے کی ہدایت کی ہے۔لاہور، راولپنڈی سمیت ہر شہر میں سی سی ٹی وی کیمروں کی کوریج یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔گھروں اور مارکیٹوں میں لگے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کوسیف سٹی سے منسلک کرنے اورسماج دشمن عناصر کی بروقت نشاندہی کیلئے کومبنگ آپریشن مسلسل جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔غیر قانونی طور افغانوں کے خلاف کارروائی موثر بنانے کیلئے پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں سے رابطوں کا فیصلہ کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ڈی سی او ر ڈی پی او کو متعلقہ علاقوں میں عمائدین سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔پنجاب میں مقیم دوسرے صوبوں کے شہریوں کی سہولت اورآسانی کیلئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مرتب کیاجائے گا۔دوسرے صوبوں کے شہریوں کا کمپیوٹرائزڈریکارڈ مرتب کرنے کا مقصدغیرقانونی افغانوں کے درمیان فرق واضح کرنا ہے۔پنجاب وزیراعلیٰ مریم نوا زشریف نے حکم دیا کہ کوئی نمایاں عوامی مقام ڈیجیٹل مانیٹرنگ کی نگرانی کے بغیر نہ ہو۔ پنجاب کو محفوظ ترین صوبہ بنانے تک چین سے نہیں بیٹھوں گی۔پنجاب کو محفوظ ترین بنانے کیلئے شہریوں کی بھی بھرپور معاونت کی ضرورت ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے عوام سے اپیل کی کہ شہری اپنے ارد گرد مشکوک افراد اور مشتبہ سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور 15 پر فوری اطلاع دیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے امن وامان کی صورتحال پر اظہار اطمینان کیا اور پولیس و قانون نافذ کرنے والوں اداروں کو مشنری جذبے سے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

  • بینن میں بغاوت کی کوشش ناکام، نائجیرین فضائیہ کی کارروائیوں کی تصدیق

    بینن میں بغاوت کی کوشش ناکام، نائجیرین فضائیہ کی کارروائیوں کی تصدیق

    افریقی ملک بینن میں فوجی بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی گئی، اور 14 باغیوں کو گرفتار کر لیا گیا

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مغربی افریقا کے ملک بینن میں بغاوت کی ایک کوشش اُس وقت ناکام ہو گئی جب مسلح افواج باغیوں کے راستے میں رکاوٹ بن گئے، حکومتی ترجمان کے مطابق بغاوت کے الزام میں چودہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے،بینن کے وزیرِ داخلہ الاسانے سیدوز نے ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ ملک، مسلح افواج اور اس کی قیادت اپنے حلف پر ڈٹے رہے اور وہ جمہوریہ سے اپنے عہد پر قائم رہے،گزشتہ روز فوجیوں کے ایک گروپ نے ایک براڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ انھوں نے صدر پیٹرس تالون کو برطرف کر دیا ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو چشم دید گواہوں نے بتایا تھا کہ صدارتی رہائش گاہ کے قریب فائرنگ کی آواز سنی گئی اور ریاستی براڈ کاسٹ ادارے کے لیے کام کرنے والے چند صحافیوں کو چند گھنٹوں کے لیے یرغمال بنایا گیا تھا، فوجیوں کا ایک گروپ اتوار کی صبح بینن کے قومی ٹی وی پر نمودار ہوا، اور اقتدار پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اپنے آپ کو ملٹری کمیٹی فار ریفاؤنڈیشن کہلانے والے اس گروپ نے صدر پیٹریس تالون اور تمام ریاستی اداروں کو ہٹانے کا اعلان کیا۔ تاہم فوجیوں کے اعلان کے کچھ دیر بعد تالون کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ صدر محفوظ ہیں اور باقاعدہ فوج دوبارہ کنٹرول حاصل کر رہی ہے۔

    نائیجیریا کی فضائیہ نے آفیشل طور پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو تصدیق کی ہے کہ بینن میں حکومت کے خلاف ہونے والی مبینہ بغاوت کی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے فضائی آپریشن جاری ہے۔ نائجیرین حکام کے مطابق جے ایف–17 تھنڈر لڑاکا طیاروں کو ہنگامی طور پر تعینات کرکے بغاوت میں شریک اہلکاروں کے خلاف ٹھوس اور درست نشانہ بندی پر مبنی کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق بغاوت کی اس کوشش میں ایسے فوجی افسران اور دستے شامل تھے جنہیں بھارت کی معاونت حاصل ہونے کی اطلاعات ہیں۔ بغاوت کرنے والے عناصر نے بینن میں اہم تنصیبات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی جس کے بعد نائجیرین حکام نے صورتحال کو بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری ردِعمل دیا۔

    نائیجیریا کے صدر بولا احمد تینوبو نے مغربی افریقی ملک بنین کی درخواست پر بغاوت کی کوشش کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی میں مدد فراہم کرنے کے لئے فوج تعینات کر دی ، شنہوا کے مطابق نائیجیرین صدر کے دفتر نے گزشتہ روز جاری بیان میں بتایا ہے کہ صدر نے بنین کی درخواست پر نائیجیرین مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ وہ بینن کو بغاوت کی کوشش کرنے والے عناصر کو ختم کرنے میں مدد فراہم کریں،بینن نے نائیجیریا سے فوری فضائی مدد، بینن کی فضائی حدود میں نائیجیرین ایئر فورس کے جہازوں کی تعیناتی اور زمینی افواج بھیجنے کی درخواست کی تھی تاکہ بینن کے آئینی نظم و نسق اور اداروں کا تحفظ کیا جا سکے اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ نائیجیریا کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اولوفیمی الوییدی نے کہا کہ درخواستوں پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے

  • جنوبی وزیرستان کے سرکاری اسپتال میں سہولیات کی کمی؛ 7 سالہ بچی دم توڑ گئی

    جنوبی وزیرستان کے سرکاری اسپتال میں سہولیات کی کمی؛ 7 سالہ بچی دم توڑ گئی

    جنوبی وزیرستان میں صحت کی ناکافی سہولیات ایک بار پھر افسوسناک المیے کی وجہ بن گئیں، جہاں سرکاری اسپتال میں طبی سہولتیں نہ ہونے کے باعث 7 سالہ معصوم بچی انتقال کر گئی۔

    اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس نے عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے۔وائرل ہونے والی ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ بچی کا غمزدہ والد اپنی بیٹی کی لاش اسپتال کے باہر گود میں اٹھائے انصاف کی فریاد کر رہا ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ اسپتال میں بنیادی طبی سہولتیں تک موجود نہیں،علاقے کے عوامی نمائندے عوام کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیتے،کئی بار شکایات کے باوجود اسپتال میں کوئی بہتری نہیں آئی.

    غم سے نڈھال والد نے رکن صوبائی اسمبلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے جذباتی انداز میں کہا اڈیالہ کو چھوڑو، وزیرستان کے چھوٹے بچوں کا پوچھیں،اگر اسپتال کو فوری طور پر فعال نہ کیا گیا تو وہ اپنے قبیلے کے ہمراہ ڈی ایچ او آفس کے سامنے بھرپور احتجاج کریں گے۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کیٹیگری ڈی اسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی،جدید مشینری کا فقدان،ادویات کی عدم فراہمی،ایمرجنسی سہولیات کا شدید بحرانہے،جس کے باعث آئے روز مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

  • بھارت کے خطرناک جوہری عزائم بے نقاب ہوگئے

    بھارت کے خطرناک جوہری عزائم بے نقاب ہوگئے

    بھارت کے خطرناک جوہری عزائم بے نقاب ہوگئے، عالمی جریدے بلوم برگ کے مطابق مودی سرکار کا ایٹمی پروگرام پر 214 ارب ڈالر خرچ کرنے کا پلان ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پرائیویٹ سیکٹر کو شامل کرنے کیلئے قانون سازی کی جارہی ہے، بھارت کا 2047ء تک 100 گیگاواٹ کے جوہری پلانٹ نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔بلومبرگ کے مطابق بھارت کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داری لینے کیلئے تیار نہیں، عالمی قوانین کے تحت حادثے کا ذمہ دار پلانٹ چلانے والا ملک ہوتا ہے، بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث غیرملکی کمپنیاں ہچکچاتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیاں مودی سرکار کو ایٹمی پلانٹ کے پرزے دینے میں دلچسپی ظاہر نہیں کرتیں، بھارت میں ایٹمی مواد کی چوری کے واقعات عام ہیں، جس پر عالمی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے۔

  • سیاسی جماعت خواہ کوئی بھی ہو اسے ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہئے،تابش قیوم

    سیاسی جماعت خواہ کوئی بھی ہو اسے ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہئے،تابش قیوم

    مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم نے کہا ہے کہ ذاتی مفادات کے لئے ملکی سلامتی کو داؤ پر لگانے والی سیاسی جماعتیں اپنے رویئے درست کریں، پاکستان کو شاندار فتح دلانے والی عسکری قیادت کے خلاف بیانات دینے والے دشمن کے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کر رہے ہیں، تحریک انصاف فیصلہ کرے کہ چیئرمین کا مفاہمتی بیانیہ اپنانا ہے یا بیرون ملک سے چلنے والے ایکس اکاؤنٹ سے پروپیگنڈہ جاری رکھنا ہے

    تابش قیوم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کے بعد دنیا میں اہم مقام ملا،پاکستان کا دفاع مستحکم اور اب معاشی استحکام کی جانب سفر جاری ہے تاہم تحریک انصاف کی جانب سے پاکستان میں وہ بیانیہ بنایا جا رہا ہے جو ملک دشمنوں کا بیانیہ ہے،پاکستان کی سیکورٹی فورسز دہشتگردی کے خلاف جنگ میں نبردآزما ہیں، خیبر پختونخوا جہاں تیسری بار پی ٹی آئی کی حکومت ہے غیر محفوظ‌ترین صوبہ بن چکا ہے، سیکورٹی اداروں کے جوان،عوام پاکستان قربانیاں دے رہے ہیں،پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنا معمولی کام نہیں، ان حالات میں قوم کو متحد اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے تا ہم پی ٹی آئی کی قیادت کے جانب سے عسکری قیادت کے خلاف بار بار اشتعال انگیز بیانات صورتحال کو تشویشناک بنا رہے ہیں،

    تابش قیوم کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈہ اور ملک دشمن چینلز پر انٹرویو میں عسکری قیادت کے خلاف بیانات سے دشمن قوتوں کو فائدہ مل رہا ہے، سیاسی جماعت خواہ کوئی بھی ہو اسے ریڈ لائن کراس نہیں کرنی چاہئے، پاکستان ہے تو سیاست بھی ہو گی،سیاستدانوں کو چاہئے کہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں قربانیاں دینے والی سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور پاکستان کو دو لخت کرنے والوں کو ہیرواور حقیقی ہیروز کو اقوام متحدہ کی قرارداد کا حوالہ دے کر دہشت گرد کہنا بند کریں،مرکزی مسلم لیگ تمام مسائل کا واحد حل نیشنل ڈائیلاگ سمجھتی ہے تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت ملک دشمن ایجنڈے کو فروغ نہ دے.

  • نیویارک میں بھی کرکٹ روڈ شو منعقد کیا جائے گا۔محسن نقوی

    نیویارک میں بھی کرکٹ روڈ شو منعقد کیا جائے گا۔محسن نقوی

    لندن کے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں پہلی بار ایچ بی ایل پی ایس ایل کا شاندار روڈ شو منعقد ہوا، جس نے پاکستان سپر لیگ کو عالمی سطح پر نئی شناخت دینے کی بنیاد رکھ دی۔ تقریب میں پی سی بی اور پی ایس ایل سے وابستہ اعلیٰ شخصیات، سابق کرکٹرز اور کرکٹ فینز نے بھرپور شرکت کی۔

    چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور پی ایس ایل کی انتظامیہ مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے کہا "ہمارا ہدف پی ایس ایل کو دنیا کی نمبر ون لیگ بنانا ہے۔””پاکستانی کرکٹرز بے پناہ ٹیلنٹ رکھتے ہیں اور ہم انہیں عالمی معیار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔””میرے لیے پاکستان سب سے پہلے ہے۔”پی ایس ایل سرمایہ کاروں کے لیے منافع بخش برانڈ ہے،نئی فرنچائزز کے لیے بڈنگ شفاف اور اوپن ہوگی۔اسلام آباد میں نیا کرکٹ اسٹیڈیم تعمیر کیا جا رہا ہے۔تمام اسٹیڈیمز میں شائقین کے لیے میوزیکل کانسرٹس کا اہتمام ہوگا۔امریکا کے شہر نیویارک میں بھی کرکٹ روڈ شو منعقد کیا جائے گا۔پی سی بی بہت جلد اپنا او ٹی ٹی پلیٹ فارم لانچ کرے گا۔

    پی ایس ایل کے سی ای او سلمان نصیر نے کہا کہ لارڈز میں پی ایس ایل روڈ شو کا انعقاد پاکستان کرکٹ کی اہم سفارتی کامیابی ہے۔دو فرنچائز ٹیموں کے لیے بڈز اوپن ہیں اور عالمی سرمایہ کار دلچسپی لے رہے ہیں۔پاکستان کرکٹ دنیا بھر میں مثبت انداز میں اجاگر ہو رہی ہے۔ملکی اسٹیڈیمز میں آنے والے شائقین کرکٹ بہترین ماحول اور اعلیٰ میچز سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

  • پیپلز پارٹی نے کبھی اپنے ملک کے خلاف سازش نہیں کی،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی نے کبھی اپنے ملک کے خلاف سازش نہیں کی،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری نے پی ٹی آئی کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پاکستان میں سیاست کے بجائے ریاست پر حملہ اور غیرملکی میڈیا کا انتخاب کرتی ہے، مودی کے زیر انتظام بھارتی چینلز پر پاکستان پر حملہ کرنا شرمناک ہے۔ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو غیرملکی میڈیا پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے بھیجا گیا، یہ طرز عمل حل کی بجائے افراتفری پیدا کرنے کا نمونہ ہے، پی ٹی آئی پاکستان کے خلاف بدنامی کی بجائے سیاست پر توجہ دے۔ سب جانتے ہیں پی ٹی آئی مشکوک اکاؤنٹس سے غیر ملکی فنڈنگ ​​پر زندہ ہے، پی پی پی کو پاکستان کی تاریخ میں بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا، شہید بھٹو کا عدالتی قتل اور شہید محترمہ کا قتل پیپلز پارٹی کے عزم کو توڑ نہیں سکا، صدر زرداری نے 12 سال جیل میں گزارے لیکن پھر بھی ’پاکستان کھپے‘ کا نعرا لگایا۔ ظلم کے باوجود پی پی نے کبھی اداروں کو نشانہ نہیں بنایا اور نہ ہی کبھی ذاتیات کی سیاست کی۔

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کبھی اپنے ملک کے خلاف سازش نہیں کی، ہم جمہوریت پسند ہیں اور پُرامن اختلاف رائے کو اہمیت دیتے ہیں امید کرتے ہیں پی ٹی آئی اور دیگر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے تاکہ پاکستان آگے بڑھ سکے