Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایبٹ آباد: ڈی ایچ کیو اسپتال سے مبینہ اغواء ہونے والی ڈاکٹر کی لاش برآمد

    ایبٹ آباد: ڈی ایچ کیو اسپتال سے مبینہ اغواء ہونے والی ڈاکٹر کی لاش برآمد

    ایبٹ آباد میں لاپتا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش لڑی بنوٹا کے علاقے سے برآمد ہوگئی، جس کے بعد شہر میں افسوس اور تشویش کی فضا قائم ہے۔

    پولیس کے مطابق متوفی ڈاکٹر چند روز قبل ڈی ایچ کیو اسپتال سے اپنی قریبی دوست کے ساتھ نکلی تھیں، جس کے بعد وہ پراسرار طور پر گمشدہ ہوگئی تھیں۔پولیس کے مطابق ڈاکٹر وردہ 4 دسمبر کو ڈی ایچ کیو اسپتال میں ڈیوٹی کے بعد اپنی دوست کے ساتھ گاڑی میں روانہ ہوئیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹر وردہ نے 67 تولہ سونا اپنی دوست کے پاس بطور امانت رکھوایا تھا، جو تفتیش میں ایک اہم پہلو کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ان کی گمشدگی کے بعد پولیس نے مختلف مقامات پر تلاش شروع کی اور آج لڑی بنوٹا کے علاقے سے ایک خاتون کی لاش ملنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ بعد ازاں تصدیق کی گئی کہ یہ لاش ڈاکٹر وردہ کی ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈاکٹر کے مبینہ اغواء کے الزام میں ان کی دوست اور اس کے ڈرائیور کو پہلے ہی حراست میں لے کر تفتیش کی جا رہی تھی۔ دونوں افراد سے طویل پوچھ گچھ کے بعد مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، تاکہ موت کی اصل وجہ اور وقت کا تعین کیا جا سکے۔ڈاکٹر وردہ کے والد کی مدعیت میں تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

  • ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا،طلال چوہدری

    ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا،طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تحریک انصاف کی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتےہوئے کہا پاک فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میلنگ ہے یہ لوگ پھر کسی کاندھے کے ذریعے اقتدار چاہتے ہیں۔

    طلال چوہدری کا کہنا تھا عوام نے پشاور میں پی ٹی آئی جلسے میں ان کا حال دیکھ لیا ہے، پشاور جلسے میں سوائے گالم گلوچ اور تنقید کے کچھ نہیں تھا، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کے بارے میں جو باتیں محاورتاً بولیں پشاور کے جلسے میں ثابت ہو گیا کہ یہ اصل میں وہی ہیں، کسی کے کندھے پر بیٹھ کر اقتدار تک پہنچنے والے آج اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہے ہیں، معرکہ حق میں دشمن کو شکست دینے والی پاک فوج کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا، پی ٹی آئی کے پشاور جلسے میں اداروں پر الزام تراشی کی گئی، ہر روز بانی پی ٹی آئی کے ایکس ہینڈل سے ملکی اداروں کیخلاف بے جا تنقید کی جاتی ہے، کب تک کوئی خاموشی اختیار کر سکتا ہے، فوج اور اس کے سربراہ پر تنقید بلیک میل کرنے کے لیے کی جارہی ہے، یہ دوبارہ کندھوں پر بیٹھ کر اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، خود کو سب سے ضروری اور ناگزیر سمجھنے والا ذہنی مریض ہی ہو سکتا ہے، اب بات چیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔

    طلال چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ یہ لوگ اڈیالہ جیل میں قید دوسرے قیدیوں کیلئے بھی خطرہ بن رہے ہیں، یہ اگر اب اڈیالہ کے باہر تماشہ کریں گے، جیل میں قید دوسرے قیدیوں کے لیے خطرہ بنیں گے تو قیدی کو وہاں رکھا جائے گا جہاں وہ محفوظ ہوں، شعبدہ بازوں کو بتایا جائے گا کہ قانون کی عملداری کیسے ہوتی ہے، اس جماعت کا وطیرہ ہے کہ پاکستان کے اداروں پر تنقید کی جائے، ذہنی مریض کبھی بھی ملک کے حق میں بات نہیں کرے گا، ذہنی مریض سے کسی کو بھی فیض حاصل نہیں ہوگا، کندھے نہ ہوتے تو آپ تو وزیراعظم بھی نہیں بن سکتے تھے، جو ہری پور کا الیکشن نہیں جیت سکتے وہ لاہور اور فیصل آباد میں کیا مقابلہ کریں گے۔

  • شکست خوردہ بھارتی فوج کا ناقص جنگی معیار بے نقاب

    شکست خوردہ بھارتی فوج کا ناقص جنگی معیار بے نقاب

    پاکستان کو جنگ کی گیدڑ بھبکیاں دینے والی شکست خوردہ بھارتی فوج کا ناقص جنگی معیار بے نقاب ہو گیا

    معمول کی فوجی مشقوں میں بار بار حادثات نے بھارتی افواج کی دفاعی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ،بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی ناکامی کے بعد اب بھارتی فوجی ٹینک بھی ناکارہ نکلے،بھارتی ریاست راجستھان میں معمول کی فوجی مشق کے دوران فوجی ٹینک اندرا گاندھی نہر میں ڈوب گیا ،حادثہ بکتر بند ٹینک کے نہر پار کرنے کی مشق کے دوران پیش آیا، ایک فوجی اہلکار ہلاک دو شدید زخمی ہوئے، بھارت میں فوجی مشقوں کے دوران پیش آنے والا یہ پہلا حادثہ نہیں، جون 2024 میں لداخ کے علاقے میں بھی دریا عبور کرنے کے دوران فوجی ٹینک بہہ جانے سے 5 اہلکار ڈوب کر ہلاک ہوگئے تھے،اکتوبر 2022 میں بھی فائرنگ کی مشق کے دوران ٹینک کی بیرل پھٹنے سے دو اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہواتھا،بھارت میں فوجی مشقوں یا تربیت کے دوران حفاظتی اقدامات اور پیشہ ورانہ مہارت کا شدید فقدان رہا ہے،بھارتی فوج کی نام نہاد جنگی تربیت پر سوالات، معمولی نہر عبور نہ کر سکنے والا ٹینک کیا جنگی حالات میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے؟بھارتی فوجی اہلکاروں کی اموات سے متکبر مودی اور اس کی فوج کی تربیتی خامیوں کا پردہ چاک ہو چکا ہے

  • موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کے خلاف درخواست پر دو ہفتوں میں جواب طلب

    موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کے خلاف درخواست پر دو ہفتوں میں جواب طلب

    لاہور: موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کے خلاف دائر آئینی درخواست پر آج لاہور ہائی کورٹ میں اہم پیش رفت ہوئی، جسٹس فاروق حیدر نے معروف وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔

    سماعت کے دوران عدالت نے صوبہ پنجاب سمیت تمام فریقین کو دو ہفتوں میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم جاری کر دیا۔فوری عملدرآمد روکنے کی استدعا مستردکر دی گئی،درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا تھا کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 کے تحت ٹریفک جرمانوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو بھاری مالی بوجھ کا سامنا ہے اور معمولی خلاف ورزیوں پر بھی مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ آرڈیننس کو فی الفور معطل کیا جائے،اس پر عملدرآمد عارضی طور پر روکا جائے،اور بعد ازاں اسے غیر آئینی قرار دیا جائے۔تاہم عدالت نے فوری طور پر آرڈیننس کے نفاذ کو روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فریقین کا مؤقف سننے کے بعد ہی کوئی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔

    درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ موٹر وہیکل آرڈیننس 2025 شہریوں پر غیر ضروری بوجھ ہے۔بڑھائے گئے جرمانے عوامی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔حکومت نے آرڈیننس جاری کرتے وقت اسٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت نہیں کی۔درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ آرڈیننس آئین کے تقاضوں سے متصادم ہے، لہٰذا اسے کالعدم قرار دیا جائے۔

  • سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی،بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرنیوالے 12 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی بڑی کاروائی،بھارتی خفیہ ایجنسی کیلئے کام کرنیوالے 12 دہشتگرد گرفتار

    سی ٹی ڈی پنجاب نے لاہور، فیصل آباد اور بہاولپور سے بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’را‘ سے تعلق کے الزام میں 12 دہشتگردوں کو گرفتار کر لیا۔

    سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق گرفتار دہشتگردوں سے اسلحہ، بارودی مواد اور ڈیٹونیٹرز برآمد ہوئے، را کے دہشتگردوں سے حساس مقامات اور حساس اداروں کی تصاویر اور ویڈیو بھی برآمد ہوئی ہیں، دہشتگردوں سے ایک مدرسے اور ایک میلے کی تصویریں، ویڈیو اور لوکیشن بھی برآمد ہوئی،لاہور سے دہشتگرد سکھ دیپ سنگھ، عظمت، فیضان، نبیل، ابرار، عثمان اور سرفراز کو گرفتار کیا گیا جبکہ فیصل آباد سے دہشتگرد دانش اور بہاولپور سے گرفتار فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں میں رجب، ہاشم، ثاقب اور عارف شامل ہیں،عادل نام کی بھارت سے آپریٹ فیس بک آئی ڈی کی مدد سے دہشتگردوں کو گرفتار کیا گیا، دہشتگرد سکھ دیپ سنگھ پیدائشی کرسچن تھا جس نے کچھ عرصہ قبل اپنا مذہب تبدیل کیا تھا، دہشتگردوں کو بھارتی ایجنسی را سے بھاری فنڈنگ بھی کی جاتی تھی، دہشتگردوں کے خلاف مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

  • زندگیوں کی حفاظت پر کسی دباؤ بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،آئی جی پنجاب

    زندگیوں کی حفاظت پر کسی دباؤ بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ٹرانسپورٹرزکی ہڑتال کی کال پر رد عمل دیتے ہوئے بغیر لائسنس ڈرائیونگ موت اور حادثات کو دعوت دینے کے مترادف قرار دیدیا۔

    آئی جی پنجاب نے پیغام دیا کہ مہذب ممالک میں قانون پر عمل داری کی حمایت کی جاتی ہے ہڑتالیں نہیں۔ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ ‘لائسنس ٹو کل’ ہےجو دنیا میں کہیں نہیں ہوتا،مہلت دے رہے ہیں، گاڑی بند رکھیں گے تو ہم سڑک پر گاڑی بھی نہیں آنے دیں گے اور اسے ضبط کر لیں گے، ہڑتال کا مطلب ہےکہ اسکول کی ویگنیں الٹتی رہیں اور بچے مرتے رہیں، اسکول بچوں کی زندگیوں کی حفاظت پر کسی دباؤ بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔انہوں نے عوام کے جان ومال کے تحفظ کو اولین ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فرض دباؤ کے بغیر ادا کرتے رہیں گے، قانون پر عمل درآمد کے سوا کوئی چوائس نہیں۔آئی جی پنجاب نے واضح کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی جاری رہے گی۔

    یاد رہےکہ بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز نے آج پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان کر رکھا ہے۔پاکستان ٹرانسپورٹ متحدہ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے ٹریفک آرڈیننس 2025 فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ٹریفک آرڈیننس2025 منظور نہیں، آرڈیننس کے ذریعے بھاری جرمانے وصول کیے جارہے ہیں اور یہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ظلم ہے۔

  • طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4  افراد کیخلاف مقدمہ درج

    طالبہ سے زیادتی،پرنسپل سمیت4 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور کے نجی تعلیمی ادارے میں طالبہ سے زیادتی کا مقدمہ تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف درج کر لیا گیا۔

    پولیس کے مطابق متاثرہ طالبہ کا بتانا ہے کہ اسکول پرنسپل نے 3 ماہ قبل اسے زیادتی کا نشانہ بنایا،متاثرہ طالبہ کے دیے گئے بیان میں بتایا گیا ہے کہ مختلف اوقات میں اسکول مالک راشد زیادتی کا نشانہ بناتا رہا، مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی طالبہ 3 ماہ کی حاملہ ہے،طالبہ کے بیان کے بعد تعلیمی ادارے کے مالک اور پرنسپل سمیت 4 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے،پولیس کا کہنا ہے کہ مقدے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپےمارے جا رہے ہیں۔

  • بھارتی فلم ساز وکرم بھٹ اور اہلیہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار

    بھارتی فلم ساز وکرم بھٹ اور اہلیہ دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار

    بالی ووڈ کے معروف فلم ساز وکرم بھٹ کو ان کی اہلیہ شویتا مبری بھٹ سمیت بڑے مالیاتی فراڈ کے الزام میں پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔

    ان کی گرفتاری گزشتہ روز ممبئی میں عمل میں آئی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کرکے 9 دسمبر تک کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرلیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اُدے پور پولیس کی خصوصی ٹیم کئی ہفتوں سے اس مالیاتی فراڈ کیس کی تفتیش کر رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی کی گرفتاری ممبئی کے ایک مقام سے عمل میں آئی، جس کے فوراً بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔مقدمے کے مطابق وکرم بھٹ، ان کی اہلیہ اور 6 دیگر افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے ڈاکٹر انڈیرا گروپ آف کمپنیز کے بانی اجے مردیا کو تقریباً 30 کروڑ روپے کے مبینہ فراڈ کا نشانہ بنایا۔

    شکایت کنندہ اجے مردیا کا کہنا ہے کہ ان سے ان کی مرحومہ اہلیہ کی زندگی پر مبنی بائیوپک بنانے کے نام پر رقم لی گئی۔مزید دیگر فلموں کی تیاری کا لالچ بھی دیا گیا، جن پر بھاری منافع کے وعدے کیے گئے۔مگر نہ منصوبے مکمل کیے گئے، نہ رقم واپس کی گئی۔پولیس کے مطابق مئی 2024 میں مردیا اور بھٹ خاندان کے درمیان چار فلموں کی تیاری کا معاہدہ ہوا تھا، جس کی مجموعی مالیت 47 کروڑ روپے رکھی گئی تھی۔

    ابتدائی دو پروجیکٹس کے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا گیا،مگر باقی فلمیں کبھی تیار نہیں ہوئیں،تفتیشی حکام کے مطابق جعلی وینڈرز کے نام پر فرضی بلز تیار کیے گئے،اخراجات کو بڑھا چڑھا کر دکھانے کے لیے غیر حقیقی دستاویزات جمع کرائی گئیں،اس طریقۂ کار سے مردیا کو تقریباً 30 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا

    گرفتاری کے بعد عدالت میں پیشی کے دوران وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس نے بغیر مناسب قانونی طریقۂ کار کے گرفتاری کی،ملزمان پر دباؤ ڈال کر خالی تاریخ اور وقت کے بغیر ایک کاغذ پر دستخط کروائے گئے،راجستھان لے جا کر تشدد کی دھمکی بھی دی گئی،دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے وکرم بھٹ اور ان کی اہلیہ کا ٹرانزٹ ریمانڈ 9 دسمبر تک منظور کرلیا ہے، جس کے بعد انہیں راجستھان منتقل کیا جائے گا جہاں کیس کی مکمل تفتیش جاری ہے۔

  • پاک افغان سرحد ،دراندازی ناکام،خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیوں میں متعدد دہشتگردہلاک

    پاک افغان سرحد ،دراندازی ناکام،خیبر پختونخوا،بلوچستان میں کاروائیوں میں متعدد دہشتگردہلاک

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں،دوسری جانب پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے دراندازی کی کوشش ناکام دی گئی.

    بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد علاقے میں کئی گھنٹے تک جھڑپیں جاری رہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کا محاصرہ کیا اور سرچ آپریشن شروع کردیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق وقفے وقفے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ مزید نفری کو علاقے میں تعینات کردیا گیا ہے

    پاکستان۔افغانستان سرحد کے قریب چمن میں جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب بھاری سرحدی جھڑپ ہوئی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاکستان نے افغان طالبان کی تین چوکیاں تباہ کر دیں اور کم از کم 23 اہلکار مارے گئے، جسے حکام نے سیزفائر کی بڑی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستانی حکام نے بتایا کہ افغان طالبان اہلکاروں نے رات گئے بغیر اشتعال فائرنگ کی، جس پر پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا سلسلہ تقریباً 45 منٹ جاری رہا، جس کے بعد پاکستان نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا۔ ذرائع کے مطابق، درست نشانے پر کیے گئے حملوں میں تین پوسٹیں تباہ ہوئیں اور بھاری جانی نقصان ہوا۔حکام نے یہ بھی بتایا کہ بعد میں افغان جنگجو شہری آبادی کی طرف منتقل ہوئے اور مبینہ طور پر دوبارہ فائرنگ کی، جس پر پاکستان نے دوبارہ بھاری ہتھیاروں سے جواب دیا، جس میں مسلح ڈرون کے استعمال کی اطلاعات بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں افغان طالبان اہلکاروں نے سفید جھنڈے بلند کیے اور زیر نگرانی زخمیوں و لاشوں کو منتقل کیا۔

    افغان مہاجرین کی بلوچستان سے واپسی کا سلسلہ جاری ہے، اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم ستمبر 2025 سے اب تک 2,61,725 افراد افغانستان واپس جا چکے ہیں۔کوئٹہ نے سب سے زیادہ واپسی کی رپورٹس دی ہیں، جہاں 99,958 افراد واپس گئے، اس کے بعد چاغی سے 42,577، پشین سے 33,225 اور چمن سے 19,712 افراد نے واپسی کی۔دیگر اضلاع میں بھی نمایاں تعداد رپورٹ ہوئی، جیسے قلعہ سیف اللہ سے 26,528، لورالائی سے 15,714، قلعہ عبداللہ سے 22,955 اور مستونگ سے 1,026 افراد۔حکام کے مطابق، واپس جانے والوں میں سے 199,053 افراد غیر قانونی طور پر مقیم تھے جبکہ 60,094 ایسے افراد تھے جن کے پاس پی او آر کارڈ تھے مگر انہیں منظم واپسی کے عمل میں شامل کیا گیا۔حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں پہلے تقریباً 9 لاکھ افغان شہری مقیم تھے، جن میں 3.13 لاکھ رجسٹرڈ اور 5 لاکھ سے زائد غیر رجسٹرڈ تھے۔ واپسی کا عمل حکومتی پالیسی کے مطابق منظم، مانیٹرڈ اور بارڈر کنٹرول کے لیے اہم قرار دیا گیا۔

    6 دسمبر 2025 کو قلات میں ایک انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی گئی، جس کا ہدف دہشتگرد تھے، شدید فائرنگ کے تبادلے کے دوران 12 دہشتگرد مارے گئے۔ موقع سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے، اور حکام کے مطابق یہ کارروائی انسداد دہشتگردی مہم “عزمِ استحکام” کا حصہ ہے۔ فوج نے کہا کہ عوام کے تحفظ اور بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے آپریشنز جاری رہیں گے۔

    خاران کے علاقے دشت میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے تعلق رکھنے والے پانچ دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔حکام کے مطابق، کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی تھی جس میں کنو ویلی اور عمر دھور کے درمیان دہشتگردوں کی نقل و حرکت کی نشاندہی کی گئی تھی۔فورسز نے مربوط کمین گاہ قائم کی اور فائرنگ کے تبادلے میں تمام پانچ دہشتگرد مارے گئے۔ ان کی شناخت کی تصدیق جاری ہے اور ابتدائی اطلاعات کے مطابق وہ متعدد پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔موقع سے حاصل ہونے والی انٹیلی جنس کی بنیاد پر مزید آپریشنز بھی شروع کر دیے گئے ہیں۔

    خیبر میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب گھسنے کی کوشش کرنے والے دو دہشتگردوں کو سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کردیا۔حکام کے مطابق، دہشتگرد باڑ کاٹ کر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ روکنے پر انہوں نے اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس پر مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو مار دیا گیا۔علاقہ کلیئر کر کے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

    خیبر پختونخوا کی صورتحال،اس سال کے دوران پولیس پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق 2025 میں 510 حملے رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 327 تھی۔تاہم انسداد دہشتگردی کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا، 2,703 کے مقابلے میں 2,791 آپریشنز کیے گئے، جن میں 1,244 گرفتاریاں ہوئیں، جن میں 25 ہائی ویلیو ٹارگٹ شامل ہیں۔گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی انسدادِ دہشتگردی سرگرمیوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔
    دہشتگردی کے مجموعی حملے 147 سے کم ہو کر 137 رہے، بم دھماکے 277 سے کم ہو کر 108 ہوئے، جبکہ بارودی سرنگوں کی برآمدگی 420 سے کم ہو کر 43 رہی۔اس سال دہشتگردی کے مقدمات میں بھی 50 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تعداد 1,588 تک پہنچ گئی۔پولیس نے قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر 158 حملوں کے جواب میں 320 ردعمل آپریشن کیے۔حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں اور عوامی تعاون امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

    بنوں میں احمدزئی پولیس اسٹیشن کے ایڈیشنل ایس ایچ او کو اسنائپر حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس کے مطابق، دہشتگردوں نے اسنائپر رائفل سے فائرنگ کی جس سے ایڈیشنل ایس ایچ او حسن‌الماّب شدید زخمی ہوگئے۔ انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ چند روز قبل اسی پولیس اسٹیشن پر دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، جس میں دو دہشتگرد مارے گئے اور چار پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔علاقے میں سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔

    شیخ بابا کے علاقے سوران ڈھیرہ میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، چھ دہشتگرد ہلاک ہوگئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔اس دوران پاک فوج کا ایک جوان شہید اور تین زخمی ہوئے۔فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے سرچ آپریشن تیز کردیا ہے۔ مزید معلومات صورتحال واضح ہونے پر جاری کی جائیں گی۔

    لکی مروت کے گاؤں علاؤل خیل، شاہباز خیل میں دو معصوم بچے اس وقت زخمی ہوگئے جب دہشتگردوں کی جانب سے نصب کیا گیا پرانا دھماکہ خیز مواد پھٹ گیا۔دھماکہ پہاڑی علاقے میں اس وقت ہوا جب بچے کھیل رہے تھے۔ زخمی بچوں کو فوری طور پر سٹی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں ایمرجنسی طبی امداد فراہم کی گئی۔پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا دورہ کر کے شواہد جمع کیے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام نے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علاقے میں نگرانی مزید سخت کردی ہے۔

  • محکمہ تعلیم کی عدم توجہی گرلز ہائی سکول گلیانہ بنیادی سہولیات سے محروم

    محکمہ تعلیم کی عدم توجہی گرلز ہائی سکول گلیانہ بنیادی سہولیات سے محروم

    ٹوٹی دیواریں بچیوں کے لیے فرنیچر نہیں سیکریٹری سکولز ایجوکیشن ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی کی کارکردگی سوالیہ نشان
    اہلیان گلیانہ نے سی ایم پنجاب سے سختی سے نوٹس لینے ترجیح بنیادوں پر باونڈری دیواروں کی تعمیر اور فرنیچر فراہمی کا مطالبہ کیا ہے

    گوجرخان (قمرشہزاد) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول گلیانہ گوجرخان کی طالبات ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی کی عدم توجہی، مبینہ نااہلی اور غفلت کے باعث ترقی کے اس دور میں کلاس روم میں فرنیچر نہ ہونے کی وجہ سے ہر طرح کی موسمی سختیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے نیچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کی بےحسی کی انتہا کہ دور جدید میں سکول ہذا کی ٹوٹی باونڈری دیواریں بچیوں کی فول پروف سکیورٹی اور بےپردگی کا موجب بن کر محکمہ تعلیم کا منہ چڑاتے ہوئے کئی سوالات کو جنم دی رہی ہیں۔ موسم سرما میں ان ابتر حالات میں جہاں طالبات شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں، وہیں فرنیچر جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان اور ٹوٹی دیواریں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی اور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کی کارکردگی کو چار چاند لگا رہی ہیں۔

    دوسری جانب اگر دیکھا جائے تو چیف منسٹر پنجاب مریم نواز شعبہ تعلیم میں اصلاحات لانے اور طلبہ طالبات کو تمام بنیادی سہولیات باہم پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں وہیں ڈسٹرکٹ راولپنڈی ایجوکیشن حکام سی ایم پنجاب کے ویژن کو سبوتاز کرنے کے درپے ہیں۔ اس تمام تر صورتحال کا مقامی باسیوں نے وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف سے سختی سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹری سکولز ایجوکیشن، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی راولپنڈی، ضلعی انتظامیہ سے باز پرس کی جائے اور ترجیح بنیادوں پر دیواروں کی تعمیر اور بچیوں کے بیٹھنے کے لیے فرنیچر کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔