Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو پاک فوج کیخلاف باتیں کرنے پر شرم آنی چاہیے۔عطا تارڑ

    بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو پاک فوج کیخلاف باتیں کرنے پر شرم آنی چاہیے۔عطا تارڑ

    وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز کا خوف دشمن پر طاری ہے، بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو پاک فوج کے خلاف باتیں کرنے پر شرم آنی چاہیے۔

    لاہور کے حلقہ این اے 127 میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلقہ ابھی بھی پسماندہ علاقوں میں شمار ہوتا ہے مگر حکومت اس کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ہم الیکشن پر آنے والے نہیں ہم پہلے بھی آپ کے پاس آئے تھے اور آتے رہیں گے، ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری رہے گا۔علاقے کی گلیوں اور سڑکوں کے مسائل حل کرنے کے لیے اب تک 50 کروڑ روپے کے فنڈز فراہم کیے جا چکے ہیں۔سلم لیگ (ن) نے ہمیشہ ترقی و خوشحالی کا منشور اپنایا ہے اور ملک بھر میں ن لیگ کا نام واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ایک سیاسی جماعت گزشتہ ساڑھے بارہ سال سے خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے لیکن وہاں ترقیاتی صورتحال مایوس کن ہے،ہمارا دل پختون بھائیوں کے ساتھ دھڑکتا ہے، مگر اس صوبے کو کھنڈر بنا دیا گیا، کچھ نہیں بنایا جا سکا۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ حلقے کے ایم پی اے میاں عمران جاوید دن رات عوام کی خدمت کے لیے محنت کر رہے ہیں اور وہ بہترین کارکردگی دکھا رہے ہیں،حلقے میں مزید ترقیاتی منصوبے جاری رہیں گے اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے۔

  • سندھ کا مقابلہ پاکستان کے کسی اور صوبے سے نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ ہے، شرجیل میمن

    سندھ کا مقابلہ پاکستان کے کسی اور صوبے سے نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ ہے، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ بھر میں ترقیاتی کام کیے، دل کا علاج سب سے مہنگا ہے جو پورے سندھ میں مفت کیا جارہا ہے، این آئی سی وی ڈی کو جلد اپ گریڈ کیا جائے گا۔

    ٹنڈو الہیار میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں ٹنڈو الہیار سے حیدر آباد تک پیپلز بس سروس شروع کریں گے، اعلیٰ قیادت کا حکم ہے عوام کے مسائل ان کے در پر حل کریں، عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہےعوام سے کہا کہ پیپلز بس سروس کی اس طرح حفاظت کریں جیسے اپنی چیزوں کی حفاظت کرتے ہیں،ٹول ٹیکس کی شکایت پر جلد عوام کو ریلیف دیا جائے گا، حیدرآباد سے میرپورخاص تک تعمیر کی گئی شاہراہ مثالی ہے۔سندھ کا مقابلہ پاکستان کے کسی اور صوبے سے نہیں بلکہ دنیا کے ساتھ ہے، سندھ حکومت کسانوں پر 56 ارب روپے خرچ کررہی ہے، دنیا کا سب سے مہنگا علاج سندھ حکومت مفت کررہی ہے

    شہریوں نے آئی بی اے کی نوکریوں کے امتحانی مرکز کی تبدیلی، صاف پینے کے پانی، بجلی کی فراہمی، پولیس میں بھرتیوں، تعلیم، صحت، زرعی زمینوں کی رجسٹریشن اور ٹرانسپورٹ کے مسائل پیش کیے،سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے مسائل کے فوری حل کے لیے متعلقہ افسران کو ہدایات کی گئی.

  • واضح ہوتا ہےبھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔پاکستان

    واضح ہوتا ہےبھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔پاکستان

    پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ امور کے اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

    ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں، پاکستان کے ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں، مئی 2025 میں پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، جسے کوئی بھی پروپیگنڈا جھٹلا نہیں سکتا،بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں اور قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک منظم اور مذموم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں بھارت کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے توجہ ہٹانا ہے،بھارت پاکستان میں اپنی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے بھی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے، ایسے اشتعال انگیز بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان کی مسلح افواج پر بے بنیاد تبصرے کے بجائے فاشسٹ اور انتہاپسندانہ ہندوتوا نظریے کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ہندوتوا نظریہ نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل، ماورائے عدالت کارروائیوں، عبادت گاہوں واور املاک کی مسماری کو جنم دیا، بھارت اور اس کی قیادت مذہب کے نام پر پروان چڑھنے والی دہشت سے یرغمال بن چکے ہیں، پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، پاکستان قومی مفادات اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے متحد، مضبوط اور پُرعزم ہے۔

  • گووا نائٹ کلب میں ہولناک آتشزدگی،4 غیر ملکی سیاحوں سمیت 25 افراد کی موت

    گووا نائٹ کلب میں ہولناک آتشزدگی،4 غیر ملکی سیاحوں سمیت 25 افراد کی موت

    بھارت میں گووا کے ساحلی علاقے آرپورا میں واقع معروف نائٹ کلب "برچ بائی رومیو لین” میں اتوار اور پیر کی درمیانی شب تقریباً 12 بجے خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں 25 افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں میں 4 غیر ملکی سیاح اور 14 اسٹاف ممبران بھی شامل ہیں۔ آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ متعدد افراد دم گھٹنے سے جان سے گئے۔

    ابتدائی تفتیش کے مطابق آگ ڈانس فلور سے لگی، جہاں ’’بولی وُڈ بینگر نائٹ‘‘ جاری تھی اور تقریباً 100 سے زائد سیاح موجود تھے۔ کچھ شرکا جان بچانے کے لیے نیچے کچن کی طرف بھاگے، تاہم دھواں بھرنے سے وہاں بھی راستے بند ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق کلب میں باہر نکلنے کے راستے نتہائی تنگ تھے،چھت اور سجاوٹ میں خشک کھجور کے پتے استعمال کیے گئے تھے، جنہوں نے آگ کو مزید بھڑکا دیا،ابتدائی شواہد سے حفاظتی قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے

    گووا کے وزیراعلیٰ پرمود ساونت نے صبح سویرے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور این ڈی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ نائٹ کلب کا جنرل مینیجر گرفتار کر لیا گیا ہے،مالک کے خلاف بھی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا ہے،سانحے کی مکمل تحقیقات کے لیے مجسٹریٹ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے

    وزیراعلیٰ نے تصدیق کی کہ متعدد افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوئے کیونکہ وہ بروقت باہر نہ نکل سکے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے واقعے کو ’’انتہائی افسوسناک‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ سے رابطہ کیا اور امداد کا اعلان کیا۔جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے 2 لاکھ روپے فی کس،زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے امداد کا اعلان کیا گیا ہے،وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی سانحے کو ’’بہت تکلیف دہ‘‘ قرار دیا اور متاثرین سے اظہار ہمدردی کیا۔گووا کے گورنر پی اشوک گجاپتی راجو نے گووا میڈیکل کالج میں زیر علاج 6 زخمیوں کی عیادت کی۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا “یہ بہت افسوسناک حادثہ ہے، زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ ہم دعاگو ہیں کہ تمام زخمی جلد صحت یاب ہوں۔”گورنر کے مطابق چیف سیکریٹری نے انہیں بتایا ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام ریگولیٹری محکموں کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

    صبح سے ہی درجنوں لواحقین مردہ خانے کے باہر موجود ہیں۔ کچھ افراد جھارکھنڈ اور آسام سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کے رشتہ دار ہیں، جن کے عزیز نائٹ کلب کے باورچی اور مددگار کے طور پر کام کر رہے تھے۔پولیس کے مطابق کچھ لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں،مکمل شناخت اور پوسٹ مارٹم میں ایک دن کا وقت لگے گا

    گووا چرچ نے 25 اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا “ہم خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سوگوار خاندانوں کو صبر اور زخمیوں کو جلد صحت یابی عطا کرے۔”

    حکام کے مطابق ’’برچ بائی رومیو لین‘‘ کے خلاف پہلے بھی اوور کپیسیٹی،ساؤنڈ قوانین کی خلاف ورزی،غیر منظور شدہ تعمیرات جیسے معاملات کی شکایات سامنے آ چکی تھیں۔ وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا ہے کہ اس واقعے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

  • رواں برس 1100 کے قریب شہریوں کا پولیس مقابلوں میں مارے جانے کا انکشاف

    رواں برس 1100 کے قریب شہریوں کا پولیس مقابلوں میں مارے جانے کا انکشاف

    پنجاب میں جاری جعلی پولیس مقابلوں کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا

    میاں دائود ایڈووکیٹ سمیت متعدد وکلاء نے جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف آئینی درخواست دائر کر دی، درخواست میں پنجاب حکومت ،پنجاب پولیس ،سی سی ڈی، ایف آئی اے، وفاقی حکومت کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ جنوری 2025 سے پنجاب میں جعلی پولیس مقابلوں میں شہریوں کو قتل کیا جا رہا ہے،شہریوں کو جعلی اور نامعلوم مقدمات میں نامزد کرکے ریکارڈ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تک 1100 کے قریب شہریوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا جا چکا ہے،اعلی عدلیہ متعدد فیصلوں میں جعلی پولیس مقابلے آئین و قانون کیخلاف قرار دے چکی ہے،جعلی پولیس مقابلوں کو کریمنل جسٹس سسٹم کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ،وہاڑی میں ذیشان ڈھڈی ایڈووکیٹ کا قتل جعلی پولیس مقابلے کی شرمناک مثال ہے،جعلی پولیس مقابلوں کیخلاف انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 کا قانون نافذ کیا گیا،قانون کے تحت ایف آئی اے زیر حراست ہر ہلاکت کی 30 دن میں انکوائری کرنے کی پابند ہے،لاہور ہائیکورٹ نے وزیر اعلی پنجاب، وفاقی حکومت کو 2022 کے قانون پر عملدرآمد کا حکم دیا،لاہور ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود پنجاب میں شہریوں کو ملزم قرار دے کر قتل کیا جا رہا ہے،قانون کے نفاذ اور عدالتی فیصلوں کے باوجود ایف آئی اے نے آج تک کسی ہلاکت کی انکوائری نہیں کی،لاہور ہائیکورٹ پنجاب میں فوری طور پر پولیس مقابلے روکنے کا حکم جاری کرے،عدالت ایف آئی اے کو جنوری 2025 سے لیکر آج تک تمام پولیس مقابلوں کی انکوائری کا حکم دے ،لاہور ہائیکورٹ انسداد حراست ہلاکت ایکٹ 2022 پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دے.

  • بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری  تنزلی کا شکار ، مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا

    بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری تنزلی کا شکار ، مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا

    بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری مسلسل تنزلی کا شکار ، نا اہل مودی کو دنیا بھر میں رسوائی اور سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے

    مختلف محاذوں پر منہ کی کھانی کے بعد بھارت میں ایوی ایشن انڈسٹری بھی شدید بحران کا شکارہے،بھارتی ایئرلائن کی تاریخ کا سب سے بڑا آپریشنل بریک ڈاؤن، نام نہاد شائننگ انڈیا کا پردہ چاک ہو گیا،پاکستان کی جانب سے عائد کی گئیں فضائی حدود کی پابندیوں کے بعد بھارتی ائیر لائن کو شدید خسارے کا سامنا ہے،بھارتی ایوی ایشن میں نئے پائلٹ قوانین اور ناقص منصوبہ بندی بھی نا اہل مودی کے گلے پڑ گئے

    عالمی نشریاتی ادارہ ٹی آر ٹی کے مطابق؛ بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن انڈیگو نے ملک بھر میں 500 پروازیں منسوخ کر دیں،پائلٹ ڈیوٹی قوانین کے حوالہ سے بدانتظامی اور ناقص منصوبہ بندی نے ایئرلائن کو شدید بحران میں دھکیل دیا،چار روز سے جاری شدید بحران نے بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن کے پورے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا، ایئرپورٹ حکام کے مطابق، ممبئی میں 104، بنگلورو میں 102 اور حیدرآباد میں 92 پروازیں منسوخ کی گئیں، حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایئرلائن کی وقت پر پرواز کی شرح صرف 8.5 فیصد رہ گئی،

    بھارتی ائیر لائن انڈیگو اندرونِ ملک فضائی آپریشن میں 60 فیصد سے زائد حصص کی حامل ایئرلائن تھی،موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئےبھارت کی دیگرنجی ائیر لائنز مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لُوٹنے میں مصروف ہیں،مودی کی ناقص پالیسیوں کی دائمی خامیوں نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بڑا دھچکا پہنچایا ہے،پاکستان کی جانب سے فضائی حدود کی پابندیاں اوربھارتی خودساختہ پائلٹ قوانین بھارتی ائیر لائن کو شدید بحران میں دھکیل رہے ہیں

  • پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کی خوبصورت ساحلی پٹی مکران، سیاحوں کا توجہ کا مرکز بن گئی

    مکران ایک محفوظ، پُرامن اور پُرسکون سیاحتی مرکز کے طور پر غیر ملکی سیاحوں کی توجہ سمیٹنے لگا،پاکستان کے جنوبی ساحل مکران نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ،گزشتہ مہینوں میں خصوصاً یورپ سے آنے والے سیاحوں کی بڑھتی تعداد بلوچستان کی پر امن شناخت مضبوط کرنے لگی ،لسبیلہ سے گوادر تک نیلی پٹی کنڈ ملیر، پسنی، ارماڑہ اور ہنگول کی طلسماتی قدرتی کشش مہمانوں کو متاثر کر رہی ہے،سیاحوں نے بلوچستان کی مہمان نوازی، ثقافتی روایات اور مقامی لوگوں کی سادگی کو بے مثال قرار دیا

    مقامی پولیس کے مطابق؛رواں سال 400 سے زائد غیر ملکی سیاحوں نے مکران کا رخ کیا ،مقامی حکام کے مطابق پاکستان میں سیکیورٹی پر غیر ملکی سیاحوں نے تسلی کا اظہار کیا ہے، پولیس کی شاندار سیکیورٹی فراہم کرنے کے باعث غیر ملکی سیاح یہاں پر بلا خوف و خطر سفر کرتے ہیں، مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تاریخی مندر ہے جس کو غیر ملکی سیاح دیکھنے آتے ہیں اور پولیس ان کو بہترین سیکیورٹی فراہم کرتی ہے،

    مکران میں ہر گزرتا دن اعتماد امن و ترقی کے نئے امکانات کو دنیا کے سامنے زیادہ نمایاں کر رہا ہے،عالمی برادری بھی بلوچستان کو امن پسند مستحکم اور ترقی کی راہ پر گامزن خطہ کے طور پر تسلیم کرچکی ہے،مکران اب صرف خوبصورت ساحل نہیں بلکہ بلوچستان کے روشن مستقبل اور اُبھرتی ہوئی عالمی شناخت بن رہا ہے

  • پاکستان  کاروباری شخصیات کیلیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے،رضوان سعیدشیخ

    پاکستان کاروباری شخصیات کیلیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے،رضوان سعیدشیخ

    امریکہ میں پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکی کاروباری شخصیات کے لیے نہایت منافع بخش مواقع پیش کرتا ہے، خصوصاً تیزی سے ترقی کرنے والے اور پرکشش آئی ٹی، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں ، دونوں ممالک کی قیادت اقتصادی تعاون کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے، اسی لیے ہم امریکی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کے لیے ایک سازگار اور سرمایہ دوست ماحول فراہم کرنے کے مکمل طور پر پابند ہیں، جو 25 کروڑ سے زائد صارفین کی متحرک مارکیٹ سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت کے باعث جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک اہم تجارتی راہداری کی حیثیت رکھتا ہے، جو امریکی کاروباری اداروں کو توانائی سے مالا مال وسطی ایشیائی منڈیوں اور سرمایہ سے بھرپور خلیجی ریاستوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔

    سفیر رضوان سعید شیخ نے یہ باتیں واشنگٹن ڈی سی میں پاکستانی سفارتخانے میں ییل اسکول آف مینجمنٹ کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہیں۔ملاقات میں بتایا گیا کہ یونائیٹڈ اسٹیٹس پاکستان بزنس الائنس ییل اسکول آف مینجمنٹ کے 35 رکنی وفد کے پاکستان کے دورے کو سہولت فراہم کر رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان میں کاروباری مواقع کا جائزہ لینا، پالیسی سازوں سے ملاقاتیں کرنا اور سرمایہ کاری کی صلاحیت کا براہِ راست مشاہدہ کرنا ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے کاروباری ماحول میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور طویل مدتی معاشی شراکت داری کے نئے راستے تلاش کرنے کی کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔

    وفد سے خطاب میں سفیر شیخ نے پاکستان امریکہ تعلقات میں مثبت پیش رفت اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری کوششوں پر روشنی ڈالی۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سیاحت، زراعت، توانائی، مینوفیکچرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں اہم مواقع پیش کرتا ہے، جہاں پاکستان لاگت اور معیار دونوں حوالوں سے نمایاں برتری رکھتا ہے۔پاکستان کے ٹیکنالوجی سے آشنا نوجوانوں کو جو آبادی کا سب سے بڑا اور مسلسل بڑھتا ہوا طبقہ ہے قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ یہ ہنرمند افرادی قوت امریکی مارکیٹ خصوصاً کاروبار اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کیے گئے مختلف پالیسی اقدامات کا بھی ذکر کیا، جن میں ایس آئی ایف سی کا مرکزی کردار بھی شامل ہے، جو کاروبار میں آسانی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے حصول میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔سفیر نے کہا کہ امریکہ کی 80 سے زائد کمپنیاں جو پہلے ہی پاکستان میں منافع بخش طور پر کام کر رہی ہیں، ملک کی وسیع اقتصادی صلاحیت کا واضح ثبوت ہیں۔

    انہوں نے ییل کے وفد کے دورے کے انتظامات پر یونائیٹڈ اسٹیٹس پاکستان بزنس الائنس کے اقدام کو سراہا اور ان کے سفر کے دوران مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد نے بریفنگ پر سفیر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کے دورے کے دوران سفارتخانے کے تعاون کی امید ظاہر کی۔

  • الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار

    الیکشن کمیشن نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پاکستان تحریک انصاف تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔

    ای سی پی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے،بیرسٹر گوہر نے آزاد سینیٹرز کی پی ٹی آئی میں شمولیت کیلئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو خط لکھا تھا جس پر ای سی پی نے جوابی خط لکھ دیا۔الیکشن کمیشن نے جوابی خط میں بیرسٹر گوہر پر قانونی پوزیشن واضح کردی، کہا کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشنز کیس زیر التواء ہے، پی ٹی آئی نے خود ہی لاہور ہائیکورٹ سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے، آپ کو اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔الیکشن کمیشن نے خط میں مزید کہا کہ آپ کو آزاد سینیٹرز کو پارٹی میں شامل کرانے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔

  • خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرار بگٹی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں ناراض افراد نے ہتھیار ڈالنا شروع کردیئے، ریاست کی طاقت اور مضبوطی ہر چیز سے زیادہ اہم ہے، رواں سال پیراملٹری فورسز کے 205 اہلکار شہید ہوئے، رواں سال سویلین شہداء کی تعداد 280 ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ دہشت گرد قوم پر اپنا نظام مسلط نہیں کرسکتے، ہم نے 7 گنا بڑے دشمن کو بدترین شکست دی، 100 سے زائد دہشتگردوں نے ریاست کے سامنے سرینڈر کیا، بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیلا گیا، ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کہتا ہوں سرینڈر کردیں، ریاست نے معافی کا دروازہ کھلا چھوڑا ہوا ہے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ پاکستان کی ریاست اور فیلڈ مارشل کیخلاف بیانیہ بنایا گیا، ہم اپنی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے، ہمیں ریاست کو کمزور کرنے والا بیانیہ ترک کرنا پڑے گا، خود کو مقبول لیڈر کہنے والے کے اپنے بیٹے لندن میں ہیں۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ جنگ سیکیورٹی فورسز کی نہیں، ریاست کی ہے، ریاست ہوگی تو سیاست بھی ہوگی اور صحافت بھی، کیا ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی کی ضرورت نہیں،