Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی  7کروڑ روپے کی رقم  واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم واپسی درخواست پر نوٹس جاری

    لاہور ہائیکورٹ وزیر اعلی مریم نواز کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس میں 7کروڑ روپے بطور گارنٹی جمع کروانے کا معاملہ،مریم نواز کی 7کروڑ روپے کی رقم کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا،وکیل نیب نے عدالت میں کہا کہ نیب نے کیس ختم کر دیا ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے نیب وکیل سے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ ٹرائل کورٹ سے بھی کیس ختم ہو گیا ہے۔وکیل نیب نے جواب دیا کہ قانون کے تحت اسکی ضرورت نہیں ہے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ نیب نے کیس ختم کر دیا لیکن متعلقہ ٹرائل کورٹ نے بھی حتمی منظوری دینی ہے۔نیب چار فروری تک جواب جمع کرائے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں 3رکنی فل بینچ نے مریم نواز کی درخواست پر سماعت کی ،جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان فل بینچ میں شامل تھے

    لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مریم نواز نے مؤقف اپنایا کہ نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس بے بنیاد قرار دیکر خارج کردیا ہے۔چوہدری شوگر ملز کیس ختم ہوچکا ہے ،گارنٹی کے طور پر رکھوائے گئے 7کروڑ روپے واپس کیے جائیں

  • بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بی ایل اے کے دہشتگردوں کی جانب سے بلوچ خاتون کی عزت تار تار

    بلوچستان میں کالعدم تنظیم بی ایل اے کے دہشت گردوں نےایک بلوچ خاتون کواغوا کرنے، چار روز تک زیادتی کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں ویران علاقے میں چھوڑ دیا ہے

    ذرائع کے مطابق متاثرہ خاتون حنال بلوچ کو مبینہ طور پر بی ایل اے کے ایک کمانڈر دوگزین عرف سرابی اور اس کے ساتھیوں نے اغوا کیا۔ خاتون کو حراست کے دوران تشدد اور اجتماعی زیادتی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد اسے انتہائی کمزور حالت میں ایک ویرانے میں پھینک دیا گیا۔ مقامی افراد نے خاتون کو دیکھ کر فوری طور پر مدد فراہم کی اور قریبی طبی مرکز منتقل کیا۔

    متاثرہ خاتون نے بیان میں کہا ہے کہ اسے زبردستی اٹھایا گیا اور کئی دن تک غیر انسانی سلوک کا نشانہ بنایا گیا۔ خاتون نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ اسے انصاف مل سکے اور آئندہ کسی اور کے ساتھ ایسا ظلم نہ ہو۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں اور سماجی حلقوں نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کو مثال بناتے ہوئے سزا دی جانی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو مکمل تحفظ، قانونی معاونت اور طبی و نفسیاتی سہولیات فراہم کی جائیں۔

  • بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    بھاٹی گیٹ، ماں کے بعد کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد مل گئی

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک سانحے میں کمسن بچی کی لاش 17 گھنٹے بعد اسی مقام سے برآمد کر لی گئی جہاں اس سے قبل اس کی والدہ کی لاش ملی تھی۔ حکام کے مطابق بچی کی لاش جمعرات کے روز ریسکیو ٹیموں نے طویل سرچ آپریشن کے بعد نکالی،ریسکیو ذرائع کے مطابق لاہور کی آؤٹ فال روڈ سے 10ماہ کی ردا فاطمہ کی لاش مل گئی ہے۔ بچی کی لاش واسا کے ڈسپوزل اسٹیشن سے ملی، بچی کی لاش بھی وہیں سے ملی جہاں سے والدہ کی لاش ملی تھی۔

    لاہور میں بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے ملی تھی،متاثرہ فیملی شورکوٹ سے سیر کرنے لاہور آئی تھی، مینار پاکستان کے بعد داتا دربار پہنچی تھی اس دوران خاتون بچی سمیت سیوریج لائن کی منڈھیر پر بیٹھی جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں

    واقعے کی سنگینی کے پیش نظر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھکر کے دورے سے واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر ہی ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،ماں اور بچی کے واقعہ کے ریسکیو آپریشن میں موجود تمام اداروں کے حکام کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ،پولیس، ریسکیو ، واسا اور انتظامیہ واقعے سے متعلق غیر جانبدار فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ فوری پیش کریں گے ،وزیر اعلی ٰ پنجاب کی جانب سےفیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کی روشنی میں فوری اور سخت ترین کارروائیوں کا عندیہ ہے،آپریشن کی متضاد اور غیر مستند اطلاعات دینے والے افسران اور اداروں کیخلاف کارروائی کی جائےگی،گھر جانے کے بجائے وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت بھکر سے واپسی پر ایئرپورٹ پر ہی ہنگامی اجلاس ہوگا۔

  • گل پلازہ سانحہ،لاشوں کی شناخت،اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات

    گل پلازہ سانحہ،لاشوں کی شناخت،اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات

    کراچی گل پلازہ سانحے میں لاشوں کی شناخت میں پیشرفت نے اداروں کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے

    سندھ فارنزک ڈی این اے لیب نے پہلے 12 باقیات کے زرلٹ جاری کردیے،مجوعی طور پر شناخت ہونے والی میتوں کی تعداد 39 ہوگئی،لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے نہیں بلکہ پروف آف پریزنس سے کی گئی،12 مذید میتوں کو باقیات کی صورت میں ورثاء کے حوالے کیا جائے گا،ڈی این سے شناخت ختم ہونے کے بعد پروف آف پریزنس کا عمل شروع ہوگیا ہے،جس دکان یا مقام سے لاش ملی اس کی باقاعدہ انٹری کی گئی تھی،لاشوں کے مقام کا تعین موبائل فونز لوکیشن سے بھی کیا گیا ،مختلف شواہد کی بنا پر پتہ چلایا گیا کہ جہاں سے اعضاء اٹھارہے ہیں وہ کون تھا

    جاں بحق افراد میں عمر نبیل ولد شاہد علی، عائشہ ولد عمر نبیل اور علی بن عمر نبیل شامل ہیں،خضر علی ولد خالد علی ، حیدر علی ولد خالد علی عامر علی ولد نواز علی کی باقیات شامل ہیں، ابوبکر ولد اسماعیل اور یاسین ولد نازمین سرور کی بھی شناخت کی گئی،صداقت اللہ ولد سلامت اللہ اور یوسف خان ولد امیر محمد کی باقیات بھی شامل ہیں،نعمت اللہ ولد حاجی رئیس خان اور عبداللہ ولد حاجی رئیس خان کی باقیات بھی شناخت کر لی گئیں حکام کا کہنا ہے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ ڈی این سے بھی شناخت کی جاسکیں، آخری آپشن پروف آف پریزنس کا تھا جس کا اب استعمال کیا جارہا ہے

  • ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری پر مقدمہ،عدالت کا اظہار برہمی

    ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری پر مقدمہ،عدالت کا اظہار برہمی

    سندھ ہائیکورٹ ،ملزمان کی ملی بھگت سے متاثرہ شہری اور بیٹوں کے خلاف مقدمے کا اندراج ،عدالت نےنیو ٹاؤن تھانے کی پولیس پر اظہار برہمی کیا

    جسٹس نثار احمد بھنبھرو نے کہا کہ واقعے میں جو زخمی افراد ہیں انکے خلاف ہی مقدمہ درج کردیا ؟ جسٹس سلیم جیسر
    نے کہا کہ دو گھنٹے کی مہلت دے رہے ہیں واقعے میں زخمی شہریوں کا مقدمہ درج کیا جائے ،جن لوگوں نے تشدد کیا ہے وہ زخمی بھی نہیں ہوئے انکی مدعیت میں کیسے مقدمہ درج ہوگیا حیران ہوں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ نسیم اختر ،معین اختر و دیگر کے خلاف اسٹیٹ ایجنٹ عرفان کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کرلی ہے ،جس کی مدعیت میں ایف آئی آر ہوئی ہے اس کوئی زخم نہیں نہیں آئے نا میڈیکل رپورٹ ہے ،عدالت نے کہا کہ متاثرہ شہری زخمی ہوئے انکی میڈیکل رپورٹ کے باوجود پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا گیا،تفتیشی افسر نے کہا کہ جس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اسکی ناک سے خون بہے رہا تھا ،عدالت نے متاثرہ شہری کی مدعیت میں مقدمہ کرکے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا،

  • عمران ،بشریٰ کے طبی معائنہ کے لئے عدالت میں درخواست دائر

    عمران ،بشریٰ کے طبی معائنہ کے لئے عدالت میں درخواست دائر

    بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے بانی اور بشریٰ بی بی کے طبی معائنے کی درخواست انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں دائر کر دی۔

    انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی نے پراسیکیوشن کو کل کے لیے نوٹسز جاری کر دیے،درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالجین کو جیل میں رسائی دی جائے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم یوسف، ڈاکٹر خرم مرزا اور ڈاکٹر سمینہ نیازی کو بانی کے طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔ متعلقہ ڈاکٹرز بانی کی میڈیکل ہسٹری سے آگاہ ہیں.بانی پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم نے درخواست میں کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے ان کی فیملی کو تشویش ہے۔

  • بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد پاکستان میں ہائی الرٹ نافذ

    بھارت میں نیپاہ وائرس کے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں ہنگامی حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    حکام کے مطابق ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں اور زمینی سرحدوں پر اسکریننگ کے عمل کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، جب کہ ہر آنے والے اور ٹرانزٹ مسافر کی 100 فیصد اسکریننگ کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق وزارت صحت کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تمام مسافروں کی گزشتہ 21 دن کی مکمل سفری ہسٹری کی تصدیق کی جا رہی ہے۔ نیپاہ وائرس سے متاثرہ یا ہائی رسک علاقوں سے آنے والے افراد پر خصوصی نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جب کہ تھرمل اسکریننگ اور طبی معائنہ ہر مسافر کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام کلیئرنس مکمل ہونے تک کسی بھی فرد کو پاکستان میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں نیپاہ وائرس کے کم از کم پانچ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جس کے بعد خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان میں احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنا دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔

    ادھر بھارت میں نیپاہ وائرس کے پھیلاؤ کے بعد محکمہ صحت سندھ نے بھی باقاعدہ ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ نیپاہ وائرس ایک خطرناک بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، تاہم اطمینان بخش بات یہ ہے کہ پاکستان میں تاحال نیپاہ وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

    ایڈوائزری کے مطابق نیپاہ وائرس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں، جب کہ اس کی ابتدائی علامات میں بخار، سر درد، کھانسی، جسم میں درد اور الٹی شامل ہیں۔ محکمہ صحت سندھ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی مشتبہ علامت کی صورت میں فوری طور پر قریبی طبی مرکز سے رجوع کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔محکمہ صحت سندھ کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے، صوبے بھر کے تمام سرکاری و نجی اسپتال الرٹ ہیں اور وفاقی وزارت صحت کی جاری کردہ گائیڈ لائنز پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر کان نہ دھریں اور مستند ذرائع سے حاصل کردہ معلومات پر ہی اعتماد کریں۔

  • افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت  ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل

    افغانستان میں میڈیا سپورٹ تنظیموں کے پرمٹ منسوخ، ایمنسٹی انٹرنیشنل کاسخت ردعمل سامنے آ گیا

    افغان طالبان رجیم نے مذموم عزائم کے لئے اظہارِرائے کی آزادی پر نئی پابندیاں عائد کر دیں،افغان طالبان رجیم نےذرائع ابلاغ پر پابندیوں کے بعدمیڈیاسپورٹ تنظیموں کے پرمٹ بھی منسوخ کر دیے،ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ؛یہ اقدا م افغانستان میں آزادی اظہار رائے کو دبانے اور میڈیا پر کنٹرول قائم کرنے کی مذموم کوشش کا حصہ ہیں ، طالبان رجیم میں میڈیا سپورٹ تنظیمیں پہلے ہی دھمکیوں، پابندیوں اور مالی مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں ،افغان طالبان کے انتہا پسندانہ اقدامات میڈیا کو زیادہ موثر اور منظم بنانے کے دعوی ٰکے برخلاف ہیں ،

    ماہرین کے مطابق افغان طالبان رجیم کی آمرانہ سوچ اورغیر منصفانہ فیصلے سے آزاد میڈیا کو خطرہ اور صحافت مزید غیر محفوظ ہو گئی ہے،افغان طالبان جوابدہی ،شفافیت اورانسانی حقوق کی پامالیوں کو دبانے اوراپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے میڈیا پر شکنجے مزید مضبوط کررہےہیں ،افغانستان میں میڈیا پر پابندیاں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سچ،اختلاف رائے اور عوامی شعور کے خاتمے کی مذموم کوشش ہے

  • طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی

    طالبان کا نیا حکم، نورستان میں خواتین کی محنت پر پابندی، متبادل سہولتوں کے بغیر ایک اور قدغن

    افغانستان میں طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر صوبہ نورستان میں خواتین کی مشقت اور مزدوری پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مقامی اطلاعات کے مطابق نورستان میں خواتین برسوں سے پہاڑی علاقوں سے سر پر لکڑیاں لانے سمیت سخت جسمانی مشقت کے کام انجام دیتی رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ معاشی مجبوری، غربت اور حکومتی سہولیات کا فقدان ہے۔ طالبان حکومت نے خواتین کی تعلیم، روزگار اور نقل و حرکت پر پہلے ہی سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، اور اب محنت مزدوری پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔

    اس فیصلے کے ساتھ کوئی متبادل روزگار، مالی مدد یا سماجی سہولت فراہم نہیں کی گئی، جس سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ طالبان ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ نورستان کے بعد دیگر صوبوں میں بھی ایسے احکامات جاری کیے جا سکتے ہیں۔

  • سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں،عبدالعلیم خان

    این ایچ اے نے کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ عبدالعلیم خان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا اہم اقدام، کرتارپور اور ننکانہ صاحب کو موٹر ویز سے منسلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے ہدایت کی ہے کہ سیالکوٹ سے کرتار پور موٹروے کی تعمیر کیلئے کام شروع کریں، نئی موٹروے کو گرونانک ایکسپریس وے کے نام سے منسوب کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ کرتار پور ہائی وے کے گرد تھری، فور اور فائیو اسٹار ہوٹل بنائے جائیں گے، سکھ کمیونٹی کی سرمایہ کاری کیلئے لندن، کینیڈا اور امریکا میں اشتہارات دیں گے، سکھوں کے مقدس مقامات کیلئے این ایچ اے عالمی سطح پر مارکیٹنگ کرے گی۔عبدالعلیم خان نے کہا کہ این ایچ اے کے ننکانہ صاحب اور کرتارپور کے منصوبے گیم چینجر ثابت ہونگے، این ایچ اے ان منصوبوں کو عالمی روڈ شو میں شامل کرے، این ایچ اے بہترین ریسٹ ایریاز اور شاپنگ مال کی تعمیر یقینی بنائے گی۔

    وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ سے کرتارپور کی موٹروے دیگر منسلک شہروں کیلئے بھی فائدہ مند ہوگی، نارنگ منڈی اور بدو ملہی کے شہری بھی اس موٹروے سے مستفید ہو نگے۔