امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ان ممالک کے نام ظاہر کریں گے جو امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک زیادہ تر اتحادی ممالک نے اس معاملے میں تعاون سے گریز کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چند ممالک ایسے ہیں جو آگے آئے ہیں اور ہم جلد ان کے ناموں کا اعلان کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ بہت سے ممالک اس اقدام میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پرجوش نظر نہیں آ رہے۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس اہم گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور توانائی بحران پیدا ہو گیا۔
ٹرمپ نے کہا کہ چین اور جاپان جیسے ممالک، جو اس راستے سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، انہیں امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ممالک اس گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت سے متعلق سوالات پر کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے نہیں دیں گے۔یاد رہے کہ بطور سینیٹر وینس اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کر چکے تھے اور اسے امریکہ کے لیے وسائل کا بڑا ضیاع قرار دیتے رہے تھے۔
صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اسرائیل ایسا کبھی نہیں کرے گا۔”ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے اہم جزیرے پر تیل کی تنصیبات کے علاوہ تقریباً تمام اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات سنبھالتا ہے۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں ان تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ جنگ کے آغاز میں برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی ساز و سامان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔اسی طرح انہوں نے فرانس کے صدر کے کردار کے بارے میں بھی محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ فرانس آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں کس حد تک شامل ہوگا۔
ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ شدید زخمی ہیں یا ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں، کیونکہ تقرری کے اعلان کے بعد سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک سابق امریکی صدر نے انہیں بتایا کہ انہیں اپنے دورِ اقتدار میں ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، تاہم ٹرمپ نے اس صدر کا نام ظاہر نہیں کیا۔