Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    افغان طالبان امن کیلئے سنگین خطرہ ، اقوام متحدہ کی کڑی پابندیاں برقرار

    دہشت گرد گروہ افغان طالبان عالمی امن اور انسانی حقوق کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں

    افغان طالبان رجیم افغانستان میں خواتین اور اقلیتوں کو سماجی اور اقتصادی طور پر مکمل مفلوج کرنے میں مصروف ہیں،افغان جریدے ہشت صبح کے مطابق؛انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نےطالبان پر اقوام متحدہ کی کڑی پابندیوں کا خیرمقدم کیا ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22اعلیٰ طالبان ارکان پر پابندیاں لگائیں جو کہ انتہائی اہم اقدام ہے ،انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس الائنس نے کہا کہ؛ یہ پابندیاں ثبوت ہے کہ افغان طالبان ایک دہشت گرد گروہ کے طور پر اب بھی شدید خطرہ ہیں، پابندیوں میں افغان عبوری وزیراعظم محمد حسن اخوند،وزیر داخلہ سراج الدین حقانی سمیت کئی سینئر عہدیدار شامل ہیں، برطانیہ نے بھی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے مطابق اپنی طالبان پر پابندیوں کی فہرست کی توثیق کی ہے، برطانیہ نے سلامتی کونسل کے فیصلے کے مطابق طالبان پر عائد پابندیوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کر دیا ،برطانوی بیان کے مطابق طالبان اب بھی امن کیلئے خطرہ ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں،

    دفاعی ماہرین کے مطابق طالبان کی موجودہ پالیسیوں نے افغانستان کو ایک بار پھر شدت پسند گروہوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا دیا ہے،اقوام متحدہ کی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ عالمی برادری طالبان کو ایک ریاست کے بجائے عسکری گروہ کے طور پر دیکھ رہی ہے، طالبان کی سرپرستی میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس جنوبی و وسطی ایشیا میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھا رہے ہیں،

  • فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    فیکٹ چیک، افغان طالبان کے ترجمان کا دعویٰ گمراہ کن قرار

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے ایک ترجمان کے حالیہ بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق کی غلط ترجمانی اور عوامی رائے کو گمراہ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    وزارت کے مطابق مذکورہ دعویٰ زمینی حقائق کے برعکس ہے اور اس کا مقصد سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے اصل صورتحال کو چھپانا ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کردہ فیکٹ چیک میں کہا گیا ہے کہ 16 مارچ کی شب پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں مخصوص عسکری تنصیبات اور دہشت گردوں کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔ ان اہداف میں تکنیکی آلات کے گودام اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، جنہیں افغان طالبان اور فتنہ الخوارج پاکستان کے معصوم شہریوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہے تھے۔بیان کے مطابق کارروائی کے بعد گولہ بارود کے ذخائر میں ہونے والے دھماکے اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ ان مقامات پر عسکری سامان موجود تھا، جو اس دعوے کی تردید کرتا ہے کہ یہ مراکز کسی اور مقصد کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔

    وزارت نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے تمام حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے جاتے ہیں اور اس بات کا خاص خیال رکھا جاتا ہے کہ کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان عام شہریوں کو نہ پہنچے۔فیکٹ چیک میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ان تنصیبات کو منشیات بحالی مراکز قرار دینے کی کوشش دراصل عوامی جذبات کو بھڑکانے اور سرحد پار دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی کو چھپانے کی ایک حکمت عملی ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات نے واضح کیا کہ طالبان ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہے اور اسے مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔

  • افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    افغانستان میں ڈرون اسمبلی ورکشاپس پر حملے، ننگرہار اور کابل میں چھ مراکز تباہ

    کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے ننگرہار اور دارالحکومت کابل میں ڈرون اسمبلی سے متعلق متعدد ورکشاپس کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے نتیجے میں ڈرون بنانے کے ایک اہم نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

    ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران صوبہ ننگرہار میں چار جبکہ کابل میں دو ڈرون ورکشاپس کو تباہ کر دیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان ورکشاپس میں مختلف جدید پرزوں کی مدد سے ڈرون تیار کیے جا رہے تھے۔اطلاعات کے مطابق ان مراکز میں استعمال ہونے والے کئی پرزے بھارتی اور اسرائیلی ساختہ تھے، جنہیں استعمال کر کے ڈرون تیار کیے جاتے تھے۔ ان مراکز میں بننے والے ڈرون مختلف سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا۔

    سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں ڈرون اسمبل کرنے کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ ان کارروائیوں سے اس نیٹ ورک کے آپریشنز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈرون تیاری کی سرگرمیاں عارضی طور پر متاثر ہونے کا امکان ہے۔

  • ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    ایران جنگ،سات ممالک میں تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی

    امریکی فوج کے مطابق ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے دوران مختلف ممالک میں تعینات امریکی فوجیوں کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان ٹموتھی ہاکنز کے مطابق اب تک تقریباً 200 امریکی فوجی زخمی یا متاثر ہوئے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق یہ زخمی فوجی سات مختلف ممالک میں ہونے والی فوجی کارروائیوں کے دوران متاثر ہوئے۔ تاہم زیادہ تر زخمیوں کی حالت زیادہ تشویشناک نہیں تھی اور 180 سے زائد فوجی علاج کے بعد دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آ چکے ہیں۔یہ تازہ اعداد و شمار پہلے جاری ہونے والی رپورٹ سے زیادہ ہیں۔ 10 مارچ تک امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے بتایا تھا کہ 140 امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے آٹھ کی حالت تشویشناک تھی۔ایک امریکی عہدیدار نے پہلے بتایا تھا کہ جن فوجیوں کو شدید زخمی قرار دیا گیا ہے ان میں ایسے کیسز بھی شامل ہیں جن میں جان کو سنگین خطرہ لاحق تھا یا موت کا خدشہ موجود تھا۔

    ادھر امریکی حکام کے مطابق اب تک جاری لڑائی میں 13 امریکی فوجی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔فوجی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھ یا تبدیل ہو سکتی ہے کیونکہ بعض اوقات فوجی کسی واقعے کے فوراً بعد طبی امداد حاصل نہیں کرتے، خاص طور پر جب چوٹ معمولی نوعیت کی ہو۔ماہرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی اور ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں کے باعث امریکی افواج کو مختلف محاذوں پر خطرات کا سامنا ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ رہے ہیں۔

  • ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    ٹرمپ کا چین دورہ مؤخر ہونے کا امکان، ایران جنگ جلد ختم ہونے کا دعویٰ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اس ماہ متوقع ان کا دورۂ چین ایک ماہ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے کیونکہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ جاری جنگی صورتحال سے نمٹ رہا ہے۔

    وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات کے خواہشمند ہیں، تاہم موجودہ حالات کے باعث اس دورے کو کچھ عرصہ کے لیے ملتوی کیا جا سکتا ہے۔“ہم چین سے بات کر رہے ہیں۔ میں ملاقات کرنا چاہتا ہوں، لیکن جنگ کی وجہ سے میں یہیں رہنا چاہتا ہوں۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ اس دورے کو تقریباً ایک ماہ کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔”امریکی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ چین کو آبنائے ہرمز کی بحالی میں کردار ادا کرنا چاہیے۔ ٹرمپ کے مطابق چین اپنی 90 فیصد تیل کی درآمدات اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کو اس معاملے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ چین کے مؤقف کو جاننا چاہتے ہیں اور ممکنہ طور پر یہی معاملہ دونوں رہنماؤں کے درمیان مجوزہ سربراہی ملاقات میں زیر بحث آئے گا۔

    ایک اور سوال کے جواب میں ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دورانیے کے بارے میں مبہم انداز میں کہا کہ یہ جنگ “جلد ختم ہو جائے گی۔”انہوں نے کہا “مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس ہفتے ختم ہو جائے گی، لیکن زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ جب یہ ختم ہو گی تو دنیا زیادہ محفوظ ہو گی۔”امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ ایران خلیجی خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ان کے مطابق “بڑے سے بڑے ماہرین کو بھی یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایران پڑوسی ممالک پر حملے کرے گا۔”

  • آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کا جلد اعلان کریں گے: ٹرمپ

    آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کا جلد اعلان کریں گے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ان ممالک کے نام ظاہر کریں گے جو امریکہ کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے میں مدد دینے پر آمادہ ہو گئے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک زیادہ تر اتحادی ممالک نے اس معاملے میں تعاون سے گریز کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ “چند ممالک ایسے ہیں جو آگے آئے ہیں اور ہم جلد ان کے ناموں کا اعلان کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حیرت ہے کہ بہت سے ممالک اس اقدام میں حصہ لینے کے لیے زیادہ پرجوش نظر نہیں آ رہے۔

    آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ ایران اور عمان کے درمیان واقع ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایران نے اس اہم گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا اور توانائی بحران پیدا ہو گیا۔

    ٹرمپ نے کہا کہ چین اور جاپان جیسے ممالک، جو اس راستے سے آنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں، انہیں امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ممالک اس گزرگاہ کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اس موقع پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی شمولیت سے متعلق سوالات پر کہا کہ انہیں صدر ٹرمپ کی قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس صورتحال کو مؤثر انداز میں سنبھال سکتے ہیں اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانے نہیں دیں گے۔یاد رہے کہ بطور سینیٹر وینس اس سے قبل ایران کے ساتھ جنگ کی مخالفت کر چکے تھے اور اسے امریکہ کے لیے وسائل کا بڑا ضیاع قرار دیتے رہے تھے۔

    صدر ٹرمپ نے اس امکان کو مسترد کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “اسرائیل ایسا کبھی نہیں کرے گا۔”ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکی کارروائیوں میں ایران کے اہم جزیرے پر تیل کی تنصیبات کے علاوہ تقریباً تمام اہداف تباہ کر دیے گئے ہیں۔ یہ جزیرہ ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات سنبھالتا ہے۔ تاہم انہوں نے عندیہ دیا کہ مستقبل میں ان تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

    ٹرمپ نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر پر بھی ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ جنگ کے آغاز میں برطانیہ نے مشرق وسطیٰ میں فوجی ساز و سامان بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔اسی طرح انہوں نے فرانس کے صدر کے کردار کے بارے میں بھی محتاط ردعمل دیا اور کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ فرانس آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی کوششوں میں کس حد تک شامل ہوگا۔

    ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای کے بارے میں بھی حیران کن بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ وہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ وہ شدید زخمی ہیں یا ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں، کیونکہ تقرری کے اعلان کے بعد سے وہ عوام کے سامنے نہیں آئے۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایک سابق امریکی صدر نے انہیں بتایا کہ انہیں اپنے دورِ اقتدار میں ایران کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے تھی، تاہم ٹرمپ نے اس صدر کا نام ظاہر نہیں کیا۔

  • آپریشن  غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق ،کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کامیابی سے نشانہ

    آپریشن غضب للحق میں پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے جاری ہیں۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاک افواج نے 16 مارچ کی شب کابل اور ننگر ہار میں افغان طالبان کی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق ان حملوں میں پاک افواج نے کابل میں دو مقامات پر ٹیکنیکل سپورٹ انفرااسٹرکچر اور ایمونیشن اسٹوریج کو مؤثر انداز میں تباہ کیا،سکیورٹی ذرائع کے مطابق فضائی حملےکے بعد سیکنڈری ڈیٹونیشن کی وجہ سے بلند ہوتے شعلے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ بارود کا بہت بڑا ذخیرہ تھا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا ڈرگ اسپتال کو نشانہ بنانےکا بیان مضحکہ خیز ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ننگر ہار میں بھی کارروائی کرتے ہوئے پاک افواج نے 4 مقامات پر افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ ننگر ہار میں ملڑی تنصیبات سے ملحقہ لاجسٹک انفرااسٹرکچر کو تباہ کیا گیا، فضائی کارروائیوں میں ایمونیشن، ٹیکنیکل انفرااسٹرکچر کو بھی تباہ کیا گیا۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہےکہ آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیاں اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔

    وفاقی وزارت اطلاعات نے کہا ہے کہ پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا لہٰذا افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق طالبان رجیم کے نام نہاد ترجمان کا دعویٰ حقائق کے برعکس ہے اور طالبان رجیم کے دعوے کا مقصد عوامی رائے کو گمراہ کرنا ہے۔

    وزارت اطلاعات نے بتایاکہ 16 مارچ کی رات پاکستان نے کابل، ننگرہار میں دہشتگردی کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بنایا، انفرااسٹرکچر میں تکنیکی آلات کے ذخیرے اور اسلحہ و گولہ بارود کے ذخائر شامل تھے، یہ اسلحہ بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہا تھا۔

    وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکے دہشت گرد پراکسی کے زیرِ استعمال اسلحے کی موجودگی ظاہر کرتے ہیں، پاکستان کی کارروائیاں نہایت درست اور محتاط ہوتی ہیں تاکہ کولیٹرل نقصان نہ ہو، ان اہداف کو منشیات بحالی مرکز قرار دینا جذبات کو بھڑکانے کی کوشش ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دعویٰ سرحد پار دہشت گردی کی معاونت کو چھپانے کا حربہ ہے، افغان طالبان رجیم کے ترجمان کا بیان جھوٹا اور گمراہ کن ہونے کی بنا پر مسترد کرتے ہیں، پاکستان نے نہایت درستگی کے ساتھ کابل اور ننگرہار میں افغان طالبان کی عسکری تنصیبات کونشانہ بنایا۔

  • موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    موٹر وے پولیس کی جانب سے اینکرکے ساتھ مبینہ نرمی کی تحقیقات کا آغاز

    اسلام آباد: نیشنل ہائی وے اینڈ موٹر وے پولیس نے معروف ٹی وی اینکر منصور علی خان کو اوور اسپیڈنگ پر روکنے کے معاملے میں مبینہ نرمی برتنے کے الزامات پر اپنے اہلکاروں کے خلاف فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے۔

    سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ 28 فروری کو پیش آیا، جب موٹر وے پولیس کی ایک پیٹرولنگ ٹیم شام تقریباً 5 بج کر 30 منٹ پر چکری انٹرچینج کے قریب رفتار چیک کرنے کی کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران اہلکاروں نے BQB-79 نمبر کی گاڑی کو 166 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتے ہوئے پایا، جو مقررہ حد سے کہیں زیادہ تھی.پیٹرولنگ ٹیم میں شامل انسپکٹر وسیم مرتضیٰ اور سب انسپکٹر سعادت حسن نے گاڑی کو رکنے کا اشارہ دیا، تاہم ڈرائیور نے مبینہ طور پر چیک پوسٹ پر گاڑی نہیں روکی اور سفر جاری رکھا۔بعد ازاں گاڑی کو اسلام آباد کے قریب انسپکٹر فراز مہدی نے روک لیا، جنہوں نے ڈرائیور کی شناخت منصور علی خان کے طور پر کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ افسر ٹریفک خلاف ورزی پر چالان کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، تاہم بعد میں اس معاملے میں مبینہ نرمی کے الزامات سامنے آنے پر موٹر وے پولیس نے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ترجمان نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے مطابق انکوائری کا مقصد واقعے کی مکمل حقیقت معلوم کرنا اور یہ جانچنا ہے کہ آیا اہلکاروں نے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق کارروائی کی یا نہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نتائج کی روشنی میں مناسب کارروائی کی جائے گی۔

  • خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے عوام کا فتںۃ الخوارج اور حامیوں کا صفایا کرنے کا مطالبہ

    باجوڑ میں افغان فورسز کی جانب سے پاکستان میں شہری آبادی پر مارٹر گولے کے حملے کے بعد خیبر پختونخوا کے عوام نے پاک فوج سے فتنہ الخوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کرنے کی گزارش کردی۔

    خیبر پختونخوا کے عوام کی جانب سے افغان فورسز کے حملے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ صوبے کے شہریوں نے کہا ہے کہ افغان فورسز نے معصوم لوگوں کو شہید کیا۔ جنگ میں آبادی کو نشانہ بنانا غیر انسانی عمل ہے،ایک شہری نے کہا کہ عام لوگوں پر بمباری کرنا اور ایک ہی گھر سے 4 جنازے اٹھانا ظلم اور بربریت ہے۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ عام آبادی کو ہدف نہ بنائے،شہری کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی چاہیے کہ سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو،باجوڑ کے عوام پاک فوج سے گزارش کرتے ہیں فتنہ خوارج اور ان کے حامیوں کا صفایا کریں، عجیب بات ہے ہم نے اپنی صوبائی حکومت کی طرف سے اس بربریت کی کوئی مذمت نہیں دیکھی، کسی صوبائی وزیر نے نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف کوئی آواز اُٹھائی۔ پی ٹی آئی کی حکومت صوبے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔