Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت: شادی میں مٹن کی جگہ چکن پیش کرنے پر ہنگامہ، 12 افراد زخمی

    بھارت: شادی میں مٹن کی جگہ چکن پیش کرنے پر ہنگامہ، 12 افراد زخمی

    بھارت کی ریاست بہار میں ایک شادی کی تقریب اس وقت میدانِ جنگ کا منظر پیش کرنے لگی جب باراتیوں کو مٹن کے بجائے چکن پیش کیے جانے پر دونوں خاندانوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوگیا، جس کے نتیجے میں 12 افراد زخمی ہوگئے۔

    بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد عبداللہ عرف چاند کا نکاح جمعرات کی سہ پہر تقریباً 3 بجے پرامن ماحول میں انجام پایا۔ تاہم نکاح کے بعد جب باراتیوں کو کھانا پیش کیا گیا تو دولہا کی جانب سے بعض افراد نے اعتراض کیا کہ انہیں مٹن کھلانے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن دعوت میں چکن پیش کیا گیا۔رپورٹس کے مطابق کھانے کے معاملے پر پہلے دونوں فریقوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جو دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھا پائی اور پھر پُرتشدد تصادم میں تبدیل ہوگئی۔

    بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دلہن والوں کے بعض افراد نے باراتیوں پر لاٹھیوں، لاتوں اور مکوں سے حملہ کردیا، جس سے شادی کی تقریب میں شدید افراتفری پھیل گئی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں متعدد افراد کو ایک دوسرے پر لاٹھیاں برساتے جبکہ کچھ افراد کو تلواریں لہراتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے، جس سے تقریب میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس کے مطابق اطلاع ملنے پر اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچے اور صورتِ حال پر قابو پایا۔ جھگڑے میں زخمی ہونے والے 12 افراد کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کے تعین کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

  • زیادتی کا شکار لڑکاملزم کی عدم گرفتاری پردرخت پر چڑھ گیا

    زیادتی کا شکار لڑکاملزم کی عدم گرفتاری پردرخت پر چڑھ گیا

    مبینہ زیادتی کے متاثرہ لڑکے کا ملزم کی عدم گرفتاری پر انوکھا احتجاج، پریس کلب کے باہر درخت پر چڑھ گیا

    لاہور میں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والے 15 سالہ لڑکے نے ملزم کی عدم گرفتاری کے خلاف منفرد انداز میں احتجاج کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر درخت پر چڑھ کر انصاف کا مطالبہ کیا۔ واقعے کے باعث علاقے میں لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا جبکہ پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔

    پولیس کے مطابق لاہور کے علاقے ہڈیارہ سے تعلق رکھنے والا 15 سالہ نبیل اپنے ساتھ مبینہ زیادتی کے مقدمے میں ملزم طاہر کی عدم گرفتاری پر احتجاج کے لیے پریس کلب کے باہر درخت پر چڑھ گیا۔ متاثرہ لڑکے کے ہاتھ میں پیٹرول کی بوتل بھی موجود تھی اور اس نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر اسے انصاف نہ ملا تو وہ خودسوزی کر لے گا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اہلکار موقع پر پہنچے، جنہوں نے متاثرہ لڑکے سے مذاکرات کیے اور اسے بحفاظت درخت سے نیچے اتار کر پولیس وین میں بٹھا کر اپنے ساتھ لے گئے تاکہ مزید کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ لڑکے کے ساتھ مبینہ زیادتی کا مقدمہ 28 جون کو اس کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ ہڈیارہ میں درج کیا گیا تھا، تاہم ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے میں ملوث ملزم کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا

    پاکستان نے ایل این جی کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا

    پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کا ایک اور اسپاٹ کارگو خرید لیا ہے۔

    پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے مطابق 15 سے 16 جولائی کے دوران سپلائی ہونے والے ایل این جی کارگو کے لیے بین الاقوامی سطح پر تین بولیاں موصول ہوئیں۔پی ایل ایل کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ موصول ہونے والی بولیوں میں سب سے کم قیمت والی پیشکش کو کامیاب قرار دے کر منظور کر لیا گیا۔ ادارے کے مطابق سب سے کم بولی 18.23 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے حساب سے موصول ہوئی، جبکہ دیگر دو بولیاں بالترتیب 18.59 ڈالر اور 18.72 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تھیں۔حکام کے مطابق کم ترین بولی کی منظوری سے ایل این جی کی درآمد نسبتاً کم لاگت پر ممکن ہوگی، جس سے ملک میں گیس کی طلب پوری کرنے اور توانائی کی فراہمی کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

    توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان وقتاً فوقتاً اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدتا ہے تاکہ مقامی گیس کی قلت پر قابو پایا جا سکے اور بجلی گھروں سمیت صنعتی و گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ حالیہ خریداری بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دی جا رہی ہے۔

  • امریکی محکمہ خزانہ کی ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں

    امریکی محکمہ خزانہ کی ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں

    امریکا نے ایران پر اقتصادی دباؤ مزید بڑھاتے ہوئے ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ مذاکرات کے نئے دور سے متعلق متضاد اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ نے ایرانی مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بناتے ہوئے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایران کے مالیاتی نظام تک رسائی محدود کرنا اور ان نیٹ ورکس کے ذریعے ہونے والی مالی سرگرمیوں پر مزید قدغن لگانا بتایا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب ایک امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانے کے لیے پس پردہ کوششیں جاری ہیں۔تاہم ایران نے ان اطلاعات پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس نے امریکا سے مذاکرات کے نئے مرحلے کی کوئی درخواست نہیں کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران نے صرف ثالثی کرنے والے فریقوں کے دورۂ ایران کو قبول کیا ہے، جس کا یہ مطلب نہیں کہ براہ راست مذاکرات کی درخواست کی گئی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی پابندیوں کے تازہ فیصلے اور مذاکرات سے متعلق سامنے آنے والے متضاد بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں، تاہم سفارتی ذرائع کے ذریعے رابطے برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

  • 2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کر دیا

    2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کر دیا

    ڈی آئی خان میں لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کیلئے باپ کو کمرے میں قید کردیا ۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ ڈی آئی خان کے علاقے کوٹ جائی میں پیش آیا جہاں 2 لالچی بیٹوں نے جائیداد نام کرانے کے لیے باپ کو کمرےمیں رسیوں سے باندھ کر قید کردیا،پولیس نے بتایا کی بیٹی کی جانب سے پولیس کو اطلاع دی گئی جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بزرگ شہری کو بازیاب کرایا،پولیس کے مطابق شہری بیٹوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کو بھی زمین کا حصہ دینا چاہتا تھا تاہم دونوں بیٹوں کیخلاف مقدمہ درج کرکے تلاش شروع کردی ہے۔

  • بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم ،قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے،خالدنیک گجر

    بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم ،قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے،خالدنیک گجر

    مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل خالد نیک گجر نے کہا ہے کہ ایک طرف گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ عروج پر ہے تو وہیں نیپرا کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے، بجلی،پٹرول ،گیس سب کچھ مہنگا،حکمران اپنی عیاشیوں کے لئےغریب عوام کے منہ سے نوالہ بھی چھیننا چاہتے ہیں، مرکزی مسلم لیگ عوامی حقوق کے لئے انکے ساتھ کھڑی ہے

    خالد نیگ گجرکا کہنا تھا کہ نیپرا کی جانب سے بجلی 33.64 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کے فیصلہ عوام دشمن ہے، ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب، متوسط طبقے، مزدور، کسان اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، حکومت اور متعلقہ ادارے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ہر ماہ نئے اضافی بوجھ مسلط کر رہے ہیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں ،ایک طرف شدید ترین گرمی کے ایام میں بجلی ہی نہیں آتی ،بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ملک بھر میں ہو رہی ہے ،تو دوسری جانب بجلی مہنگی کرنے کا حکمرانی تحفہ عوام مسترد کرتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ نیپرا کے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیا جائے، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا سلسلہ بند کیا جائے،غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا بھی خاتمہ کیا جائے.

  • پنجاب حکومت کا جلسے کی اجازت دینےسے انکارکوجوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،جے یو آئی

    پنجاب حکومت کا جلسے کی اجازت دینےسے انکارکوجوتے کی نوک پر رکھتے ہیں،جے یو آئی

    پنجاب حکومت نے جمعیت علماء اسلام کو پھولنگر قصور میں جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، حکومت کی طرف سے کانفرنس کی اجازت دینے سے انکار پر جے یو آئی پنجاب کا ردعمل سامنے آیا ہے

    جے یو آئی رہنما سیکرٹری جنرل جے یو آئی پنجاب حافظ نصیر احمد احرار کا کہنا تھا کہ جے یو آئی ہر صورت کانفرنس کرے گی حکومت کے انکار کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ صوبائی حکومت، مقامی سیاستدان اور انتظامیہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن لاہور کے لئے روانہ ہوچکے ہیں۔انتظامیہ اور پولیس کا رویہ بدتمیزی پر مبنی ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔انتظامیہ کے رویے سے جے یو آئی کارکنان میں اضطراب و اشتعال بڑھ رہا ہے۔انتظامیہ کے رویے سے کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوا تو ذمہ داری انتظامیہ پر ہوگی۔ ہم ہر صورت جلسہ کریں گے کوئی مائی کا لال ہمیں عوام سے دور نہیں کرسکتا۔

  • شہری کی غیر قانونی حراست، عدالت کا سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمےکا حکم

    شہری کی غیر قانونی حراست، عدالت کا سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمےکا حکم

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے شہری گلفام علی کو اوکاڑہ جیل سے رہائی کے بعد مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر دوبارہ حراست میں لینے کے معاملے میں سی سی ڈی (کاؤنٹر کرائم ڈیپارٹمنٹ) کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔

    جسٹس محمد امجد رفیق نے مقصوداں بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے اس واقعے سے متعلق پیش کیے گئے ویڈیو شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا، جن میں گلفام علی کو اوکاڑہ جیل سے رہائی کے فوراً بعد جیل کے باہر سے تحویل میں لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ویڈیو شواہد سی سی ڈی کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ سے مطابقت نہیں رکھتے، جس کے باعث رپورٹ کو تسلی بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دستیاب شواہد اور رپورٹ میں واضح تضاد موجود ہے، جس کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔لاہور ہائیکورٹ نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ کو ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ عدالت نے مزید حکم دیا کہ اس عدالتی حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے 15 روز کے اندر تفصیلی رپورٹ لاہور ہائیکورٹ میں جمع کرائی جائے۔

  • بلوچستان میں  "آپریشن شبعان” جاری مزید 13 دہشت گرد ہلاک مجموعی تعداد 75 ہوگئی

    بلوچستان میں "آپریشن شبعان” جاری مزید 13 دہشت گرد ہلاک مجموعی تعداد 75 ہوگئی

    منگی ڈیم پولیس سٹیشن پر دہشتگرد انہ واقعہ کے تسلسل میں پاک فوج ، ایف سی اور بلوچستان پولیس کا "آپریشن شبعان” جاری مزید 13 دہشت گرد ہلاک مجموعی تعداد 75 ہوگئی ۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج کے 26 خوارج کو 6 اور 7 جولائی کو پہلے ہی جہنم واصل کیا جا چکا ہے، آپریشن شبعان کے دوران دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا مزید تنگ ، زمینی اور اور ہوائی ایکشنز کے ذریعے فتنہ الخوارج کے خلاف متعدد کاروائیاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 خارجی دہشتگرد جہنم واصل کئے جا چکے ہیں، آپریشن شبعان میں جہنم واصل ہونے والوں کی تعداد مجموعی طور پر 39 ہو گئی ہے، آپریشن شبعان کے علاوہ آج صبح خضدار زیدی کے علاقے میں دہشتگردوں کا پولیس سٹیشن پر حملہ بھی پسپا کر دیا گیا،فوج اور ایف سی کے دستوں کی برق رفتار کارروائی کے ذریعے 8 دہشتگردوں کے جہنم واصل ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں،5 سے 6 مزید دہشتگردوں کے ہیلی کاپٹر آپریشنز میں مارے جانے کی بھی اطلاعات ہیں.5 جولائی سے آپریشن شبعان اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 75 دہشتگرد جہنم واصل ہو چکے ہیں،

  • اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں جنگلاتی آگ، 11 افراد ہلاک، 19 لاپتا،

    اسپین کے جنوبی علاقے اندلس میں جنگلاتی آگ، 11 افراد ہلاک، 19 لاپتا،

    : اسپین کے جنوبی خودمختار علاقے اندلس کے صوبے المیریا میں بھڑکنے والی خوفناک جنگلاتی آگ نے تباہی مچا دی ہے، جہاں اب تک کم از کم 11 افراد ہلاک جبکہ 19 افراد لاپتا ہیں۔

    حکام کے مطابق متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں چار کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لیے سینکڑوں فائر فائٹرز، فوجی اہلکار اور فضائی امدادی ٹیمیں مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔اندلس کے صدر خوانما مورینو نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہوتے ہوئے کہا کہ آگ کے نتائج "انتہائی تباہ کن” ہیں۔ ان کے مطابق تمام سرکاری ادارے متاثرین کی مدد اور آگ پر جلد از جلد قابو پانے کے لیے دن رات کام کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس المناک واقعے میں اب تک 11 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 19 افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ مزید برآں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں چار کی حالت انتہائی نازک ہے۔

    صدر خوانما مورینو نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بتایا کہ ان کی اسپین کے بادشاہ فیلپ ششم سے بات ہوئی، جنہوں نے متاثرین کے لیے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کیا۔مورینو نے کہا کہ بادشاہ نے اندلس کے عوام کے لیے محبت، یکجہتی اور تعزیت کا پیغام دیا، جس پر انہوں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح متاثرہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور امدادی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

    مقامی میڈیا کے مطابق المیریا کی یہ آگ اسپین کی تاریخ کی تیسری سب سے ہلاکت خیز جنگلاتی آگ قرار دی جا رہی ہے۔سن 1979 میں شمال مشرقی ساحلی علاقے لوریٹ ڈی مار میں لگنے والی جنگلاتی آگ میں 21 افراد ہلاک ہوئے تھے، جو ملک کی تاریخ کی بدترین آتش زدگی سمجھی جاتی ہے۔اس کے بعد 1984 میں کینری جزائر کے لا گومیرا میں لگنے والی آگ میں 20 افراد جان سے گئے، جبکہ 2005 میں ریبا دے سائیلیسز کے علاقے میں آگ لگنے سے 11 فائر فائٹرز ہلاک ہوئے تھے۔ موجودہ حادثہ بھی اسی تعداد کے باعث تاریخ کی تیسری بدترین آتش زدگی میں شمار کیا جا رہا ہے۔

    اندلس کے ایمرجنسی سروسز کے سربراہ انتونیو سانز کابیلّو نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اکثریت غیر ملکی شہری ہو سکتی ہے۔ان کے مطابق حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی تھی، تاہم بعض افراد نے اپنی گاڑیوں میں فرار ہونے کی کوشش کی، جس کے باعث وہ آگ کی لپیٹ میں آ گئے۔انہوں نے بتایا کہ ایک گاڑی سے چار افراد کی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں اور گاڑی کا اسٹیئرنگ دائیں جانب ہونے کی وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ افراد برطانوی شہری تھے۔

    آگ کا آغاز لاس گیارڈوس نامی قصبے کے قریب ہوا، جہاں تقریباً 3 ہزار افراد رہائش پذیر ہیں۔ یہ علاقہ برطانوی تارکین وطن اور سیاحوں میں خاصا مقبول سمجھا جاتا ہے۔ریٹائرڈ برطانوی شہریوں سمیت متعدد غیر ملکی خاندان اس علاقے میں مستقل سکونت رکھتے ہیں، جس کے باعث حکام کو خدشہ ہے کہ متاثرین میں غیر ملکیوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔

    آگ پر قابو پانے کے لیے 150 سے زائد فائر فائٹرز، 220 ہسپانوی فوجی اہلکار، ہیلی کاپٹرز اور آگ بجھانے والے خصوصی طیارے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ہنگامی اداروں کے مطابق اب تک کم از کم ایک ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے جبکہ متعدد جلی ہوئی گاڑیوں سے لاشیں ملنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپین گزشتہ چند برسوں سے شدید گرمی کی لہروں، کم بارش اور تیز ہواؤں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث جنگلاتی آگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔رواں موسمِ گرما میں اسپین کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر چکا ہے، جبکہ حالیہ گرمی کی شدت کے باعث گزشتہ ماہ ایک ہزار سے زائد اضافی اموات بھی ریکارڈ کی گئی تھیں۔یورپی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتا ہوا عالمی درجہ حرارت اور خشک موسم جنگلاتی آگ کی شدت اور پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

    اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واقعے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ المیریا میں پیش آنے والی تباہی نے پورے ملک کو افسردہ کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایمرجنسی سروسز، سیکیورٹی فورسز اور فوج کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے تاکہ آگ پر جلد قابو پایا جا سکے، جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکام کی ہدایات پر مکمل عمل کریں اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں۔