Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خیبر پختونخوا ،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کا بھرپور ایکشن،متعدد ہلاک

    خیبر پختونخوا ،بلوچستان میں دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کا بھرپور ایکشن،متعدد ہلاک

    پاکستان نے افغان طالبان کی درخواست پر پاک،افغان سرحد پر فائرنگ روک دی ہے، اور دونوں فریقوں نے جھڑپیں عارضی طور پر بند کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    جمعہ کی رات چمن بارڈر پر بھاری فائرنگ کا تبادلہ رپورٹ ہوا، پاکستانی حکام کے مطابق افغان فورسز نے بدانی کے علاقے میں مارٹر گولے فائر کیے، جبکہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ پاکستان نے اسپین بولدک پر حملہ کیا۔ سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ افغان جارحیت کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔ غیر مصدقہ اطلاعات میں چمن–قندھار ہائی وے پر بھی جھڑپوں کا ذکر ہے۔ کوئٹہ کے ایک سینئر افسر کے مطابق فائرنگ رات تقریباً 10 بجے شروع ہوئی اور دیر رات تک جاری رہی۔ چمن ڈسٹرکٹ ہسپتال میں تین زخمی افراد لائے گئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے،

    گنداوہ علاقے میں کوٹری پولیس اسٹیشن اور گجان پولیس اسٹیشن پر ہونے والا دہشت گرد حملہ پولیس نے ناکام بنا دیا۔ پولیس کے مطابق مسلح دہشت گردوں نے دونوں تھانوں پر راکٹ لانچرز سے فائرنگ کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی، جس کے بعد حملہ آور فرار ہوگئے۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انٹیلیجنس بنیاد پر کی جانے والی کارروائیوں کے دوران 32 شدت پسندوں کو ہلاک اور 41 سہولت کاروں کو گرفتار کر لیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے جانے والوں میں کئی اہم ہائی ویلیو ٹارگٹس شامل ہیں، جن میں ایک سینئر آئی ای ڈی ماہر، اسلحہ و بارودی مواد کی سپلائی کے نیٹ ورک کا مرکزی کوآرڈینیٹر، بڑی دہشت گرد کارروائیوں کا ماسٹر مائنڈ، مختلف گروہوں کے لیے لاجسٹکس نیٹ ورک چلانے والے عناصر، شہریوں پر حملوں میں ملوث افراد، اور ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور بھتہ خوری میں ملوث مرکزی کارندے شامل ہیں۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں نے دہشت گرد تنظیموں کی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچایا اور متعدد منصوبہ بند حملے بھی ناکام بنائے، جس سے صوبے میں امن و استحکام کے اقدامات کو تقویت ملی ہے۔

    سوئی میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک قافلے پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق اور دو زخمی ہو گئے، پولیس کے مطابق۔ واقعہ دربار سید عنایت شاہ کے قریب پیش آیا، جہاں قبائلی سردار نور علی چکرانی کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ جاں بحق افراد کی شناخت شہزادہ اور اسانی خان کے نام سے ہوئی، جبکہ دو زخمیوں کو سوئی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق قبائلی سردار محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سے قبل سوئی میں ایک مقامی پروگرام کے دوران نور علی چکرانی اور ان کے 100 سے زائد ساتھیوں نے ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ملیر کے تاریخی بلوچ علاقے شرافی گوٹھ سے چھ افراد کو دہشت گردی اور دہشت گردوں کی معاونت کے شبہے میں گرفتار کیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں نے شاہ علی گوٹھ میں گھروں پر چھاپے مارے اور مشتبہ افراد کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ گرفتار افراد میں زبیر شفیع، نذیر حنیف، حذیفہ عرفان، منور عاطف، اسحاق اور احمد گل شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس سے قبل سی ٹی ڈی نے شرافی گوٹھ کے ایک ہوٹل پر بھی کارروائی کی، جہاں سے ایک اور نوجوان کو دہشت گرد نیٹ ورک سے تعلق کے شبہے میں پکڑا گیا۔ حکام کے مطابق یہ تمام کارروائیاں علاقے میں جاری انسداد دہشت گردی اقدامات کا حصہ ہیں۔

    چارسدہ کے دو صحافیوں نے بتایا ہے کہ انہیں فیس بک میسنجر پر ایک نامعلوم شخص کی جانب سے جان سے مارنے اور بم حملے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، جو خود کو ایک عسکریت پسند تنظیم کا رکن ظاہر کرتا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ دھمکیاں ان صحافیوں کے سوشل میڈیا ٹاک شو کی وجہ سے دی گئیں، جس میں پاک افغان تعلقات، دہشت گردی اور افغان مہاجرین کے مسائل پر گفتگو ہوتی ہے۔ چارسدہ پریس کلب نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور گواہی کے باوجود کیس کو ایف آئی آر میں تبدیل نہ کرنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے صحافیوں کو نقل و حرکت محدود کرنے اور سخت سکیورٹی اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ صحافیوں کا کہنا ہے کہ وہ خوفزدہ نہیں ہوں گے اور اپنا کام جاری رکھیں گے۔

    ٹانک میں داؤد بیتنی گروہ سے تعلق رکھنے والے ہلاک دہشت گردوں کی تعداد بڑھ کر سات ہو گئی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ یہ دہشت گرد ایک گھر میں روپوش تھے اور سکیورٹی فورسز پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ مصدقہ اطلاع پر سکیورٹی اہلکاروں نے کارروائی کی، جس کے دوران دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائی سے گروہ کی منصوبہ بندی اور کارروائی کی صلاحیت کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔

    بنوں پولیس نے ممند خیل اور ممش خیل کے رہائشیوں کے لیے اہم سکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے عوام سے مکمل تعاون کی اپیل کی ہے۔ پولیس نے کہا کہ کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی فوری اطلاع دی جائے۔ اگر کوئی نامعلوم فرد یا مشتبہ شخص کسی مقام پر کھڑا ہو یا چیک پوسٹ بنانے کی کوشش کرے تو شہری گاڑیاں وہاں نہ روکیں اور بچوں کو محفوظ فاصلے پر رکھیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ اگر کوئی مشکوک فرد مسجد میں داخل ہونا چاہے تو امام فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے۔

    پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سابق بلدیاتی نمائندے آصف اقبال خان لتھانی، جو تین روز قبل مسلح اغوا کی کوشش کے دوران شدید زخمی ہوئے تھے، اسلام آباد میں جان کی بازی ہار گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ڈرابن کلاں میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک نیب ملازم کو اس کے گھر سے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر حملہ آوروں نے فائرنگ کی، جس سے آصف اقبال خان لتھانی شدید زخمی ہو گئے جبکہ ڈرائیور موقع پر جاں بحق ہو گیا۔ نیب ملازم اغوا کی کوشش سے بچنے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس نے تصدیق کی کہ آصف اقبال تین دن علاج کے بعد دم توڑ گئے۔

    سی ٹی ڈی مردان ریجن اور نوشہرہ پولیس کے مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں کالعدم ٹی ٹی پی کے اہم شدت پسند، انتساب عالم گروپ سے تعلق رکھنے والے، ہماد ظہیر کو ہلاک کر دیا گیا۔ سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق ہلاک ملزم کی شناخت ہماد ظہیر ولد ظہیر بادشاہ کے طور پر ہوئی، جو متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا، جن میں کانسٹیبل مقصود کا ٹارگٹ کلنگ، قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق مصدقہ اطلاع پر سکیورٹی اہلکار اس کی گرفتاری کے لیے پہنچے، جہاں فائرنگ کے تبادلے میں وہ مارا گیا۔

    کالعدم کمانڈر حمید گروپ کے دہشت گردوں نے دیامر کے تھور گھار علاقے میں محکمہ جنگلات کی گاڑی کو آگ لگا دی، پولیس کے مطابق حملہ آور جاتے وقت ڈیوٹی پر موجود جنگل محافظ کا اسلحہ بھی ساتھ لے گئے۔ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ ذرائع نے تصدیق کی کہ کنزرویٹر آفتاب اور دیگر عملہ بعد میں محفوظ حالت میں سری تھور واپس پہنچ گئے۔ پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔

  • چمن بارڈر  ،افغان طا لبان کی  بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    چمن بارڈر ،افغان طا لبان کی بلا اشتعال فائرنگ، پاک فوج کی زبردست جوابی کارروائی

    افغان طالبان کی جانب سے چمن سیکٹر میں بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے، جو ایک لاپرواہ اقدام ہے اور سرحدی استحکام اور علاقائی امن کو نقصان پہنچاتا ہے۔

    افغان جانب سے خفیہ سرنگ کھود کر بارودی مواد نصب کیا گیا تھا۔پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ٹنل کا سراغ لگا کر اسے قبضے میں لے لیا، سیکیورٹی فورسز کا علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن کیا گیا، پاکستانی فوج نے افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کا ذمہ داری کے ساتھ جواب دیا، اس بات کو تقویت دیتے ہوئے کہ ہماری علاقائی سالمیت کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔ چمن سیکٹر میں ہونے والا یہ تبادلہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ کابل غیر نظم و ضبط کے شکار سرحدی عناصر کو قابو میں رکھے، جن کے اقدامات خود افغانستان کی بین الاقوامی ساکھ کو متاثر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا ردِعمل متناسب، سوچا سمجھا اور امن کی بحالی کے لیے تھا جو جارحیت کے باوجود پیشہ ورانہ طرزِعمل کا مظاہرہ ہے۔ سرحدی انتظام کے طریقہ کار موجود ہیں؛ افغان طالبان فورسز کی یکطرفہ خلاف ورزیاں اعتماد کو مجروح کرتی ہیں اور سرحد کے دونوں جانب بسنے والی عام کمیونٹی کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

    پاکستان پُرامن بقائے باہمی کے لیے پُرعزم ہے، لیکن امن یکطرفہ نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے طاقت کے استعمال کی کوششیں بارہا ناکام ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ناکام ہوں گی، چمن میں دیا گیا جواب اس پیغام کی واضح توثیق کرتا ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز مکمل طور پر چوکس ہیں۔ کسی بھی مزید جارحیت کا اس سے بھی زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔ اشتعال انگیزی کی ذمہ داری صرف اُن پر عائد ہوتی ہے جو بلا اشتعال فائرنگ کا آغاز کرتے ہیں۔

  • 8 مسلم ممالک کا مشترکہ بیان، رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی اعلان پر گہری تشویش

    8 مسلم ممالک کا مشترکہ بیان، رفح کراسنگ یکطرفہ کھولنے کے اسرائیلی اعلان پر گہری تشویش

    پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے رفح کراسنگ کو یکطرفہ طور پر کھولنے کے اسرائیلی بیانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے غزہ کے باسیوں کو جبر کے ذریعے جمہوریہ مصر منتقل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیہ میں اس اقدام کو ناقابلِ قبول اور خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

    مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ کی مشاورت کے بعد جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا کہ فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی ہر کوشش کی سخت ترین مخالفت کی جائے گی، اور کسی بھی صورت انہیں اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ رفح کراسنگ کو دونوں اطراف سے کھلا رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ غزہ کے شہریوں کی آزادانہ آمد و رفت اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ممکن بن سکے۔ وزرائے خارجہ نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے شہریوں کی نقل و حرکت کو انسانی بنیادوں پر ہرگز محدود نہ کیا جائے۔بیان میں خطے میں امن کے قیام کے لیے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُن کے مجوزہ امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ کسی بھی نئے انسانی بحران سے بچنے کے لیے غزہ میں مستقل جنگ بندی ناگزیر ہے۔

    اعلامیے میں جنگ سے متاثرہ خطے میں بلا تعطل انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ غزہ میں غذائی قلت، ادویات کی کمی اور تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی فوری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔مشترکہ بیان کے مطابق رکن ممالک نے غزہ کی فوری تعمیرِ نو اور جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے عمل کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے غزہ میں مؤثر طور پر ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔وزرائے خارجہ نے امریکا سمیت تمام علاقائی و عالمی شراکت داروں کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم بھی ظاہر کیا، تاکہ مسئلہ فلسطین کے پائیدار اور منصفانہ حل تک پہنچا جاسکے۔اعلامیے میں ایک بار پھر دو ریاستی حل کی بھرپور توثیق کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر زور دیا گیا۔وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، خطے میں پائیدار امن، اور جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے فوری اور عملی اقدامات کرے۔

  • خیبرپختونخوا، سی ٹی ڈی کی کاروائی،کالعدم تنظیم کا دہشتگردہلاک

    خیبرپختونخوا، سی ٹی ڈی کی کاروائی،کالعدم تنظیم کا دہشتگردہلاک

    خیبر پختونخوا میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی کارروائی کے دوران کالعدم ٹی ٹی پی کا دہشت گرد حماد ظاہر ہلاک ہوگیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی مردان ریجن اور نوشہرہ پولیس نے مشترکہ کارروائی کی، علاقہ غائبانہ بابا میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا، کارروائی میں کالعدم ٹی ٹی پی انتخاب عالم گروپ کادہشت گرد حماد ظاہر ہلاک ہوگیا، مارا گیا دہشت گرد کانسٹیبل مقصود کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھا، دہشت گرد قتل، اقدام قتل اور بھتا خوری سمیت متعدد سنگین جرائم میں مطلوب تھا۔

  • پاکستان بھی ہمارا ،فوج بھی ہماری،ایک دوسرے کو تسلیم کریں،بیرسٹر گوہر

    پاکستان بھی ہمارا ،فوج بھی ہماری،ایک دوسرے کو تسلیم کریں،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ میں ہمیشہ سےامیدکرتاآیاہوں کہ تناؤکم اور تعلقات میں بہتری آئے، آج آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس سے مایوسی ہوئی ہے، ملک کا دفاع اہم ہے،پی ٹی آئی کا بیانیہ کبھی ملک دشمن نہ ہے ،نہ ہوگا،

    بیرسٹر گوہر نے ایکس پر کہا کہ ریاستی ادارےاورسیاسی لوگ ایک دوسرےکوذہنی مریض کہے یاخطرہ سمجھیں تو یہ افسوسناک ہے، پاکستان بھی ہمارا اور فوج بھی ہماری ہے،ہم نے اس کا عملی مظاہرہ کیا اور کریں گے،یہ وقت ہے کہ سب ایک دوسرے کو تسلیم کریں،جگہ دیں اور اعتماد کے فقدان کو ختم کریں، مین تمام جمہوریت پسندقوتوں سے اپیل کرتا ہوں کہ تناؤ کو کم کرنے میں کردار ادا کریں، میں اپیل کر تا ہوں کہ کچھ نان اسٹیک ہولڈرز کا طرز عمل پی ٹی آئی اور اداروں کے درمیان تناؤ کا سبب نہیں بنناچاہیے، بانی پی ٹی آئی اوربشریٰ بی بی جیل میں ہے،ان سے ملاقاتوں کی اجازت ہو تو ہم بہتری کی طرف چلے جائیں گے- ملک تناؤ اور انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

  • بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ ،ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ ،ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ترجمان دفترخارجہ

    ترجمان دفترخارجہ نے بابری مسجد کی شہادت سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد ہماری اجتماعی یادداشت کا حصہ ہے۔

    ترجمان دفتر خار جہ کا کہنا تھا کہ 6 دسمبر 1992 کا واقعہ آج بھی دکھ اور تشویش کا باعث ہے، بابری مسجد کی شہادت عدم برداشت اور مذہبی تعصب کی علامت ہے، مذہبی ورثے کا تحفظ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مسلمانوں کے مذہبی مقامات کو نقصان پہنچانے کے واقعات پراحتساب ضروری ہے، بابری مسجد کے بعد بھارتی مسلمان عدم تحفظ اور ذہنی تکلیف کا شکار ہیں، ہندو انتہا پسند تنظیمیں ریاستی سرپرستی سے اقلیتوں کو مزید محدود کرناچاہتی ہیں، پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، عالمی برادری مسلمانوں کے مذہبی ورثے کے تحفظ کے لیےکردارادا کرے، بھارت تمام شہریوں کے لیے مساوی حقوق اور مذہبی رواداری کو یقینی بنائے۔

  • فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    فیصلہ ہو گیا،پاگل کو نشان عبرت بنا دیا جائے گا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی دھواں دھار پریس کانفرنس

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج بڑی دھواں دھار پریس کانفرنس کی ہے،لگتا ہے بڑے غصے میں کی ہے، انکے جذبات امڈ کر آ رہے تھے ،ہونا بھی ایسا ہی چاہئے،کافی لوگ اس پر سوال کر رہے تھے، فوج کا کام امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے اس پریس کانفرنس کو اسی تناظر میں لیا جائے

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام رولز،ریگولیشن کو امپلیمنٹ کرنا ہوتا ہے، فوج سیاسی جملے نہیں بول سکتی انکو دوٹوک بات کرنی ہوتی ہے جو بھی انکا مؤقف ہوتا ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو تین باتیں بڑی واضح بتا دیں، لاقانونیت بالکل نہیں چلے گی، جس نے اس ملک کو مذاق سمجھا ہوا جمہوریت یا صحافت کے نام پر،اسکی وہ کاروائی نہیں چلے گی، تیسرا دہشتگردوں کے لئے کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں، دہشتگردی صرف بندوق اٹھانا نہیں بلکہ زبان ،قلم،مائیک سے بھی پاکستان، ریاست کو کمزور کرنا یہ بھی دہشتگردی ہے،

    مبشر لقمان کا مزیدکہنا تھا کہ بہت سارے ادارے حکومت کے ماتحت ہیں ان میں سے فوج ایک ہے، فوج سب سے اہم ادارہ ہے اور بھی ادارے ہیں،ایف آئی اے، آئی بی بھی اسٹیبلشمنٹ ہے،کچھ چیزیں جو نظر آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کی قلابازیاں چلیں گی،انڈیا کو انٹرویو دینے والے یہ کون لوگ ہیں،ڈکلیئرڈ دشمنوں کا جب بیانیہ مضبوط کرتے ہیں تو آپ ریاست پاکستان کے خلاف جرم کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں،اس پر کوئی معافی نہیں ہوتی، بلکہ معافی کو ریاست کی کمزوری سمجھوں گا، ایسے لوگ جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں اور پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں انکا بھی سد باب ہونا چاہئے،ہو سکتا ہے کسی نے فارن پاسپورٹ لیا ہو لیکن کافیوں کے پاس نہیں انکا صرف شناختی کارڈ منسوخ کرنا ہے،پھر جو دوسرے ہیں انکے ریڈ وارنٹ نکال سکتے ہیں، جو جرائم کرتے ہیں لوگ انکے لئے وہاں بھی جگہ تنگ ہونا شروع ہوجاتی ہے،سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایک پاگل شخص جس کو پہلے نیم پاگل کہتے تھے آج ڈی جی آئی ایس پی آر نے اسے پاگل کہہ دیا میں اتفاق کرتا ہوں،پاگل تو ہے وہ، پاگل اسلئے نہیں کہ ذہنی توازن اسکا خراب ہے،پاگل اسلئے کہ وہ پاکستانی ہوتے ہوئے پاکستان کے خلاف ایجنڈا چلا رہا ہے، میں آج اپنی ٹیم کو بتا رہا تھا سیاسی جماعت بناتے ہں اور اسرائیل و انڈیا سے فنڈز آنا شروع ہو جائیں تو اس کا کیا مطلب ہے، فنڈ ملے گا تو کچھ واپسی بھی ہو گی، انڈیا و اسرائیل فنڈ دیں گے تو توڑ پھوڑ، ملک کی جڑیں کمزور کرنا ہی انکا ہدف ہونا ہے کیونکہ وہ ڈکلیئرڈ دشمن ہے، اسکو یہ احساس نہیں کہ یہ دشمن ہے،اور یہ خود آج میر جعفر،میر صادق بنا ہوا ہے.اسکی کرپشن کی داستانیں بھی سب کو پتہ ہیں.

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اب سوال یہ ہے آج اگر فرض کریں اس آدمی کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ میں نے سمت کو درست کرنا ہے، اپنے سپورٹر،فالورز کے لیے کچھ اچھا کرنا ہے تو اسکے لئے کیا آپشن ہیں، آج بھی اسکے پاس راستے ہیں، وہ تمام جدوجہد کو ملی ٹینسی سے نکال کر سیاسی جدوجہد میں لائے، قومی اسمبلی میں اکثریت تھی، حکومت اڑا دی، اسی طرح پنجاب اور خیبر پختونخوا پھر کشمیر میں، آپ پھر حکومت میں آتے آئے کیوں ہیں، الیکشن کیوں لڑتے ہیں، اسکا مطلب ہے کہ آپ ملک میں جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں،آپکا مقصد کچھ اور ہے وہی ڈونر اور فنڈنگ دینے والے جو ..وہی کریں گے،پی ٹی آئی کے پاس دو تین راستے ہیں مولانا فضل الرحمان سے ہاتھ ملا لیں یا بلاول سے ،اچکزئی وغیرہ پی ٹی آئی کو کچھ نہیں دے سکتے،انکی کوئی ویلیو نہیں،لیکن جے یو آئی، پیپلز پارٹی یہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال سکتے ہیں.

  • قانون ہر حال میں نافذ ،مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ دوستانہ اور باعزت ہو،وزیراعلیٰ پنجاب

    قانون ہر حال میں نافذ ،مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ دوستانہ اور باعزت ہو،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹر اتھارتی سے متعلق خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں پیرا فورس کی کارکردگی، نگرانی اور اصلاحات پر مکمل بریفنگ لی گئی اور نئے فیصلے بھی کیے گئے۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ پیرا فورس میں رشوت، بدسلوکی اور الزام کی کوئی گنجائش نہیں جس کیلئے ہر کارروائی اب کیمرے میں ریکارڈ کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے پیرا فورس کی کارکردگی اور شفافیت بڑھانے کیلئے جلد از جلد باڈی کیم لگانے کا حکم دے دیا۔ پیرا فورس کی کارکردگی مزید بہتر بنانے کیلئے خصوصی ٹریننگ سیشنز بھی شروع ہونگے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے خصوصی طورپر پیرا فورس کے اہلکاروں کو اپنے پیغام میں کہا کہ قانون ہر حال میں نافذ ہو مگر عوام کیساتھ رویہ ہمیشہ درست اور دوستانہ اور باعزت ہو۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے ہر شہری کے لیے تیز، محفوظ اور ماحول دوست خدمت کیلئے پیرا فورس کیلئے الیکٹرک وہیکلز کا حکم بھی دیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سٹیٹ دی آرٹ پیرا ٹریننگ سنٹر قائم کرنے کی اصولی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پیرا اچھا کام کررہی ہے، عوام میں نیک نامی کمانے کیلئے نتائج پر توجہ دی جائے۔ قانون ضرور نافذ کیا جائے مگر عوام کیساتھ رویہ درست ہونا چاہیے۔ عوام کیلئے سہولت اور خدمت کرنیوالوں کو تاریخ یاد کرتی ہے۔

  • ایئر انڈیا کو بھولا ہوا طیارہ  مہنگا پڑ گیا ، 10 ملین روپے کا پارکنگ بل

    ایئر انڈیا کو بھولا ہوا طیارہ مہنگا پڑ گیا ، 10 ملین روپے کا پارکنگ بل

    ایک طویل عرصے سے کھوئے ہوئے بوئنگ 737-200 کو دوبارہ دریافت کرنے کے بعد ایئر انڈیا کو تقریباً 10 ملین روپے (تقریباً $120,000) کا حیرت انگیز پارکنگ بل موصول ہوا جو ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے بھارت کے کولکتہ ہوائی اڈے کے ایک دور دراز کونے میں کھڑا تھا

    رپورٹس کے مطابق رجسٹریشن نمبر VT-EHH والا یہ 43 سالہ طیارہ 2012 میں سروس سے نکال کر کولکتا ایئرپورٹ کے ایک ریموٹ ایریا میں پارک کیا گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ عملے کی تبدیلی، ریکارڈ کی کمزور دیکھ بھال اور انتظامی غلطیوں کے باعث یہ طیارہ آہستہ آہستہ ایئر انڈیا کی دستاویزات سے ہی غائب ہوگیا۔یہاں تک کہ جب ایئرپورٹ حکام نے ایئر انڈیا سے رابطہ کرکے طیارہ ہٹانے کا مطالبہ کیا تو ایئرلائن نے پہلے پہل یہ کہہ کر انکار کردیا کہ یہ جہاز ان کا ہے ہی نہیں۔بھارت کے اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، ایئر انڈیا کے اندرونی آڈٹ سے بالآخر تصدیق ہوئی کہ VT-EHH واقعی ایئر انڈیا کی ملکیت تھا، حالانکہ یہ نہ تو فکسڈ ایسٹ رجسٹر میں تھا اور نہ ہی کسی جدید ریکارڈ میں۔یہ گڑبڑ دراصل ان انتظامی خامیوں کا نتیجہ بتائی جا رہی ہے جو برسوں پہلے انڈین ایئرلائنز اور ایئر انڈیا کے انضمام کے دوران پیدا ہوئیں، ساتھ ہی اس طیارے کے مختلف ادوار میں انڈیا پوسٹ کے کارگو طیارے کے طور پر استعمال ہونے سے بھی معاملہ پیچیدہ ہوا۔

    کولکتا ایئرپورٹ نے ان 13 برسوں کے دوران حسبِ ضابطہ پارکنگ فیس وصول کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ملکیت کی تصدیق کے بعد ایئر انڈیا نے یہ رقم ادا کی اور طیارے کو ہٹانے کا انتظام کیا۔طیارے کو بڑے ٹرانسپورٹ وہیکل پر لاد کر بینگلورو کے کیمپے گوڈا انٹرنیشنل ایئرپورٹ منتقل کیا گیا جہاں اسے اب اڑنے کے بجائے ایوی ایشن مینٹیننس ٹیکنیشنز کی تربیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

    1982 میں تیار ہونے والا یہ بوئنگ 737-200 مختلف ادوار سے گزرتا ہوا انڈین ایئرلائنز کے بیڑے میں شامل ہوا،1998 میں لیز پر الائنس ایئر کو دیا گیا،2007 میں کارگو سروس میں واپس آیا،آخری بار انڈیا پوسٹ کے لیے کارگو طیارہ بنا،اور 2012 میں ہمیشہ کے لیے گراؤنڈ کردیا گیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں ریٹائر ہونے والے ایئر انڈیا کے 10 طیاروں میں سے یہی واحد جہاز تھا جس پر Pratt & Whitney JT8D انجن ہٹائے بغیر موجود تھے۔

    ایئرپورٹ حکام کے مطابق VT-EHH کی روانگی کے ساتھ گزشتہ پانچ سال میں کولکتا ایئرپورٹ سے ہٹایا جانے والا یہ 14واں “چھوڑا گیا” طیارہ ہے۔

  • یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کے ٹیک ریگولیٹرز نے امریکی بزنس مین ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو (140 ملین ڈالر) کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

    یہ اقدام ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت پہلی بڑی کارروائی ہے، جس کے باعث ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ یورپی حکام کے مطابق پلیٹ فارم X نے کئی اہم قواعد کی خلاف ورزی کی، جن میں بلیو چیک مارک کے ڈیزائن میں گمراہ کن طریقہ کار،اشتہارات کے ذخیرے میں شفافیت کی کمی،محققین کو عوامی ڈیٹا تک رسائی فراہم نہ کرناشامل ہیں،اسی دوران سوشل میڈیا حریف ٹک ٹاک جرمانے سے اس وقت بچ گیا جب اس نے مطلوبہ ترامیم پر رضامندی ظاہر کردی۔

    یورپی یونین طویل عرصے سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹے پلیٹ فارمز کے حقوق کے تحفظ اور صارفین کے لیے زیادہ انتخاب یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو امریکی کمپنیوں کے خلاف جانبداری قرار دے کر تنقید کرتی رہی ہے۔یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے قوانین کا تعلق کسی مخصوص قومیت سے نہیں بلکہ "ڈیجیٹل اور جمہوری معیارات” کے تحفظ سے ہے۔

    یورپی ٹیک چیف ہینا وِرکونین نے کہا کہ X پر جرمانہ خلاف ورزیوں کی نوعیت، شدت اور مدت کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا“ہم یہاں سب سے بڑا جرمانہ لگانے نہیں آئے، ہمارا مقصد قوانین پر عمل کروانا ہے۔ اگر پلیٹ فارم قواعد کا احترام کرے تو جرمانہ نہیں ہوگا۔”ورکونین نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ دیگر کمپنیوں کے خلاف جاری تحقیقات پر فیصلے X کیس کی نسبت جلد سنائے جائیں گے۔

    یورپی فیصلے سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے X پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “افواہیں ہیں کہ EU کمیشن X پر سینکڑوں ملین ڈالر کا جرمانہ اس لیے عائد کرنے والا ہے کہ وہ سنسرشپ میں حصہ نہیں لیتا۔ یورپی یونین کو آزادیِ اظہار کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ امریکی کمپنیوں پر فضول حملے کرنے چاہئیں۔”

    Meta اور TikTok پر اکتوبر میں DSA کی شفافیت کی شرائط کی خلاف ورزی کے چارجز لگائے گئے تھے۔چینی مارکیٹ پلیس Temu پر غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنے میں ناکامی کا الزام ہے۔X کو 60 سے 90 ورکنگ دن دیے گئے ہیں کہ وہ DSA پر مکمل عملدرآمد کے لیے اقدامات پیش کرے۔TikTok نے اپنے اشتہاری نظام میں اصلاحات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ریگولیٹرز سے مطالبہ کیا کہ قانون تمام پلیٹ فارمز پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔یورپی کمیشن کے مطابق X پر غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ اور غلط معلومات کے خلاف اقدامات کی تحقیقات جاری ہیں۔TikTok کے ڈیزائن، الگورتھمز اور بچوں کے تحفظ سے متعلق الگ تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔ کمپنی کی عالمی سالانہ آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جس سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ قانون نہایت سخت اور بااثر سمجھا جارہا ہے۔