Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    تربت: سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی، کالعدم تنظیم کے دو دہشت گرد ہلاک

    بلوچستان کے ضلع تربت میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر بڑی کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی جسک کراس کے قریب کی گئی جہاں سکیورٹی فورسز نے مشکوک سرگرمیوں پر گاڑی کو روکنے کی کوشش کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مشتبہ گاڑی نے چیک پوسٹ سے بچنے کی کوشش کی، جس پر سکیورٹی اہلکاروں نے گاڑی کو روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں سکیورٹی فورسز نے مؤثر جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے ایک دہشت گرد کی شناخت سلیم کے نام سے ہوئی ہے، جو طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا اور مختلف تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا۔ دوسرے ہلاک دہشت گرد کی شناخت کا عمل جاری ہے، جس کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔

    کارروائی کے بعد دہشت گردوں کی گاڑی کی تلاشی لی گئی، جس سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر مشتبہ مواد برآمد ہوا۔ برآمد ہونے والے اسلحے کو قبضے میں لے کر مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ کسی ممکنہ سہولت کار یا مزید دہشت گرد عناصر کی موجودگی کو یقینی طور پر ختم کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز بلوچستان میں امن و امان کو خراب کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

  • بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا  ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کا ٹیکسٹائل ملز غیر معینہ مدت کیلیے بند کرنے کا اعلان

    ڈھاکا: بنگلہ دیش ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (بی ٹی ایم اے) نے حکومت کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر وزارتِ تجارت کی سفارشات پر عمل نہ کیا گیا تو ملک بھر کی تمام اسپننگ ملز یکم فروری 2026 سے غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دی جائیں گی۔

    یہ انتباہ جمعرات کو ڈھاکا کے علاقے کاروان بازار میں واقع بی ٹی ایم اے کے دفتر میں منعقدہ ایک ہنگامی پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا، جس کی صدارت بی ٹی ایم اے کے صدر شوکت عزیز رسل نے کی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر آئندہ سات دن کے اندر درآمدی دھاگے (یارن) پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس نہ لی گئی تو بنیادی ٹیکسٹائل شعبہ شدید بحران کا شکار ہو جائے گا اور ملز کی سرگرمیاں جاری رکھنا ناممکن ہو جائے گا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ملز کی بندش کے نتیجے میں اگر مزدوروں میں بے چینی یا احتجاج پیدا ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری حکومت پر عائد ہو گی۔بی ٹی ایم اے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ “اگر اس صورتحال کے باعث بینکاری اور مالیاتی نظام میں عدم استحکام پیدا ہوا تو اس کی بھی پوری ذمہ داری حکومت کو قبول کرنا ہو گی۔”

    ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ 30 دنوں کے دوران ملک کی بیشتر اسپننگ ملز صرف 50 فیصد پیداواری استعداد پر کام کر رہی ہیں، جس کے باعث ٹیکسٹائل صنعت کو 12 ہزار سے 15 ہزار کروڑ ٹکہ تک کا نقصان ہو چکا ہے۔بی ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ شدید مالی دباؤ کے باعث مل مالکان کے لیے بینک قرضوں اور دیگر مالی ذمہ داریوں کی ادائیگی ممکن نہیں رہی، جس سے پورے مالیاتی نظام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔شوکت عزیز رسل نے صورتحال کو ٹیکسٹائل صنعت کے لیے “ہنگامی حالت” قرار دیتے ہوئے کہا “ٹیکسٹائل شعبہ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 13 فیصد حصہ ڈالتا ہے، مگر عبوری حکومت ہمارے مسائل سننے کے لیے 13 منٹ بھی نہیں نکالتی۔”انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت مسئلہ حل کرنے کے بجائے ذمہ داری ایک وزارت سے دوسری وزارت کو منتقل کر رہی ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ اس معاملے پر بنگلہ دیش گارمنٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (بی جی ایم ای اے) سے بھی بات چیت کی گئی ہے، جس میں گارمنٹس سیکٹر نے اسپننگ انڈسٹری کے بحران کی سنگینی اور اس کے ملبوسات کی پوری ویلیو چین پر منفی اثرات کو تسلیم کیا ہے۔بی ٹی ایم اے کے مطابق بی جی ایم ای اے نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت کے تحت سستے درآمدی دھاگے پر انحصار ملکی اسپنرز کو کمزور کر رہا ہے، بیک ورڈ لنکیج انڈسٹری کو نقصان پہنچا رہا ہے اور طویل المدت بنیادوں پر خود گارمنٹ ایکسپورٹرز کے لیے سپلائی رسک بڑھا رہا ہے۔ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملکی اسپننگ ملز ملک کی 50 سے 70 فیصد یارن کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں، تاہم اگر یہ صلاحیت ختم ہوئی تو گارمنٹ صنعت کو درآمدات پر مزید انحصار، طویل ڈیلیوری ٹائم اور عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔بی ٹی ایم اے نے واضح کیا کہ اسپنرز اور گارمنٹ ایکسپورٹرز کے درمیان یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مربوط ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے نظام کے تحفظ کا اسٹریٹجک معاملہ ہے۔

    بی ٹی ایم اے رہنماؤں نے بتایا کہ وزارتِ تجارت نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد 10، 20 اور 30 کاؤنٹ یارن کی درآمد پر دی گئی بانڈڈ ویئر ہاؤس سہولت واپس لینے کی سفارش کی تھی، جو HS کوڈز 52.05، 52.06 اور 52.07 کے تحت آتی ہے، اور اس پر عملدرآمد کے لیے 30 ورکنگ ڈیز کی مدت تجویز کی گئی تھی۔ایسوسی ایشن نے خبردار کیا کہ پالیسی میں مزید تاخیر کے نتیجے میں ملز کی بندش، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، قرضوں کی عدم ادائیگی اور مالی دباؤ میں تیزی آئے گی۔بی ٹی ایم اے نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وزارتِ تجارت کی سفارشات پر فوری طور پر عملدرآمد کیا جائے تاکہ ملکی ویلیو ایڈیشن، صنعتی استحکام، روزگار کے تحفظ اور معیشت کو بڑے نقصان سے بچایا جا سکے۔

  • لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ،میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کیخلاف درخواست مسترد

    لاہور ہائیکورٹ کا گلوکار علی ظفر کے میشا شفیع کے خلاف ہتک عزت کیس میں اہم فیصلہ سامنے آگیا، لاہور ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کو گلوکار علی ظفر کے ہتک عزت کے دعوی کا 30 دن میں فیصلہ کرنے کا حکم دیدیا۔

    عدالت نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوی پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا،میشا شفیع نے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان نہ دینے کے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا،جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہاکہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں،میشا شفیع کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ ہتک عزت کے معاملے پر حکم امتناعی نہیں دیا جاسکتا، عدالت کے پاس اختیار ہے وہ حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روک سکتی ہے۔

    ٹرائل کورٹ نے میشا شفیع کو 24 جنوری 2019 کو ہتک عزت کے کیس پر بیان دینے سے روکا تھا ا،داکارہ میشا شفیع نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا ،عدالت نے اداکارہ و گلوکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت دعویٰ پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی ہے۔

    عدالتی فیصلے کے بعد علی ظفر کے وکیل کا کہنا تھا کہ لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر کی گئی وہ رِٹ پٹیشن خارج کر دی ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکمِ امتناع کو چیلنج کیا تھا۔ معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو برقرار رکھا ہے اور واضح طور پر اس مؤقف کو مسترد کر دیا ہے کہ میشا شفیع کو آزادیٔ اظہارِ رائے کے نام پر آپ کے خلاف عوامی بیانات جاری رکھنے کی اجازت دی جائے۔عدالت عالیہ نے دوٹوک الفاظ میں قرار دیا ہے کہ آزادیٔ اظہار ایک مطلق حق نہیں ہے اور اس کا دائرہ اختیار اس حد تک نہیں بڑھایا جا سکتا کہ اس کے تحت لاپرواہ، بار بار دہرائے جانے والے یا غیر ثابت شدہ الزامات لگائے جائیں جو کسی دوسرے شخص کی عزت، وقار اور ساکھ کو نقصان پہنچائیں، بالخصوص اس صورت میں جب معاملہ عدالت میں زیرِ سماعت ہو۔

    فیصلے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 14 پر خصوصی زور دیا گیا ہے، جس کے مطابق انسانی وقار ناقابلِ تنسیخ ہے۔ فیصلے میں یہ بھی درج ہے کہ ایسے الزامات کی مسلسل تشہیر ایک متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہوگی، جو کہ ناقابلِ قبول ہے، اور یہ کہ ساکھ کا تحفظ ایک بنیادی آئینی قدر ہے۔مزید برآں، عدالت نے اس امر کی بھی توثیق کی ہے کہ ہتکِ عزت کے معاملات میں عبوری پابندی غیر معمولی حالات میں جائز ہے، جیسا کہ موجودہ معاملہ، جہاں ساکھ کو پہنچنے والا ناقابلِ تلافی نقصان محض مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے معزز ٹرائل کورٹ کو یہ بھی ہدایت جاری کی ہے کہ میشا شفیع کے خلاف آپ کی جانب سے دائر کردہ ہتکِ عزت کے اصل مقدمے کو تیزی سے نمٹایا جائے اور ترجیحاً تیس (30) دن کے اندر فیصلہ سنایا جائے، کیونکہ معاملہ اس وقت حتمی دلائل کے مرحلے میں ہے۔

  • پشین، سی ٹی ڈی کاروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    پشین، سی ٹی ڈی کاروائی میں 6 دہشتگرد ہلاک

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے کہا ہے کہ پشین میں کل سی ٹی ڈی نے کارروائی کی جس میں 6 دہشتگرد مارے گئے اور سی ٹی ڈی کے 10 لوگ معمولی زخمی ہوئے۔

    کوئٹہ میں وزیراعلیٰ کے سیاسی اور میڈیا امور کے معاون شاہد رند اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے پریس کانفرنس کی،ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ پشین میں کارروائی کے دوران راکٹ لانچرز، کلاشنکوف، ہینڈ گرینیڈ اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا۔ مجموعی طور پر آپریشن بہت اچھا رہا، مزید ملوث افراد کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، ہم نے پہلے کہا تھا کہ چیزیں بہت بہتر ہوتی نظر آئیں گی تو ایسا ہو رہا ہے، پشین میں جہاں کارروائی کی گئی وہاں فتنہ الخوارج کے لوگوں کا آنا جانا تھا، ہم نے کارروائی سے پہلے وہاں سرنڈر کرنے کا پیغام پہنچایا اور سرنڈر نہ کرنے پر مقابلہ ہوا، انہوں نے سرنڈر نہیں کیا تو کارروائی کی گئی، ہم نے ثالثین بھی بھیجے، ہمیں لوگوں کو مارنے کا کوئی شوق نہیں ہے،کارروائی کے بعد پشین کی عوام نکلی اور انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سی ٹی ڈی کا شکریہ ادا کیا،پشین میں جو کارروائی ہوئی اس میں ثناﷲ اور اس کے ساتھے انجام کو پہنچے، جو شدت پسندی، قتل، ڈکیتی اور دیگر جرائم میں مطلوب تھے،

    اس موقع پر شاہد رند نے کہا کہ وزیراعلیٰ کی دہشتگردوں اور سہولت کاروں کے لیے تنبیہ ہے ان کے خلاف کارروائی ہوگی، سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہیں لایا جائے گا۔

  • ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی،شرجیل میمن

    ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی،شرجیل میمن

    شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کیلئے امداد کی منظوری دے دی، انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں، دکانداروں کو متبادل جگہ دینے کی منظوری بھی دے دی گئی۔ان کا کہنا ہے کہ تمام عمارتوں میں فائر سیفٹی پر عملدرآمد کرائیں گے، حکومت سختی نہیں بلکہ عوام کا تحفظ کررہی ہے، سندھ حکومت تاجر برادری کو اکیلا نہیں چھوڑے گی، حکومت گل پلازہ کے متاثرین کے نقصان کا ازالہ کرے گی، وزیراعلیٰ سندھ کی قائم کردہ کمیٹی انکوائری کررہی ہے، سانحہ گل پلازہ سے اب تک وزیراعلیٰ ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھے۔

    شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر کچھ جماعتیں منفی سیاست کررہی ہیں، کبھی کہا گیا کراچی کو وفاق کے حوالے کردو، کبھی کہا گیا 18ویں ترمیم کو ختم کرو۔سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم سے کوئی سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، خالد مقبول صدیقی کو 10 سپاہی دیئے ہوئے ہیں، مصطفیٰ کمال کے پاس زیادہ سیکیورٹی موجود ہے، ایم کیو ایم کی سیاست مردہ اور دفن ہوچکی ہے، ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کی، ایم کیو ایم کو عوام مسترد کرچکے ہیں۔

  • توہین عدالت درخواست،سہیل آفریدی کو ریلیف مل گیا

    توہین عدالت درخواست،سہیل آفریدی کو ریلیف مل گیا

    پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔

    چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ایس ایم عتیق شاہ نے سہیل آفریدی کے خلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی عدالت سے ضمانت لیتے ہیں اور پھر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں،وکیل درخواست گزار نے کہا کہ وزیراعلیٰ اسلام آباد، لاہور اور کراچی جاتے ہیں اور وہاں پر تقاریر کرتے ہیں، وزیراعلیٰ عدالتی آرڈر کا غلط استعمال کرکے توہین عدالت کر رہے ہیں۔

    ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ ہیں، درخواست گزاروں نے توہین عدالت درخواست دائر کی لیکن اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، یہ درخواست قابل سماعت نہیں ہے۔

  • یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے آواز بلند کریں،مشعال ملک

    یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے آواز بلند کریں،مشعال ملک

    حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ کل یاسین ملک کے ایک انتہائی خطرناک پھانسی کے کیس کی سماعت ہونے جا رہی ہے، جس میں سزا کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔

    مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سماعت کے نتائج یاسین ملک کی زندگی کے لیے سنگین ثابت ہو سکتے ہیں،مشعال ملک کا کہنا تھا کہ یاسین ملک ایک مجاہد اور غازی ہیں، جنہوں نے مسلح جدوجہد ترک کر کے امن کا راستہ اختیار کیا، اس کے باوجود انہیں سخت حالات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تہاڑ جیل میں یاسین ملک پر تشدد کیا جا رہا ہے اور انہیں قانونی دفاع کا بنیادی حق بھی نہیں دیا جا رہا، نہ ہی انہیں اپنی مرضی کے وکیل کی خدمات حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یاسین ملک کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا جا رہا اور ان کے خلاف یکطرفہ فیصلے کیے جا رہے ہیں، جو انصاف کے عالمی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ مشعال ملک نے کہا کہ اگر یاسین ملک کی جان کو کوئی نقصان پہنچا تو یہ صرف ایک فرد کی موت نہیں ہوگی بلکہ اس کے سنگین سیاسی اور اخلاقی نتائج ہوں گے۔

    مشعال ملک نے عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بالخصوص دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں سے اپیل کی کہ وہ یاسین ملک کی جان بچانے کے لیے آواز بلند کریں اور ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ ظلم کے خلاف متحد ہوں۔ انہوں نے کہا کہ خاموشی اس ناانصافی کو مزید تقویت دے گی، اس لیے اب عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    بنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نےکہا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئےبنگلہ دیش کے ساتھ آئی سی سی کا دوہرا معیار قابل مذمت ہے،پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنا چاہئے

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کا پاکستان اور بنگلہ دیش کے ساتھ دوہرا رویہ کھل کر سامنے آیا ہے،ایشیا کپ میں بھارت نے جب پاکستان میں سیکورٹی بہانہ بنا کر پاکستان نہ آنے کا کہا تو آئی سی سی نے میچز دبئی منتقل کر دیئے اور اب ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لئے بنگلہ دیش نے بھارت میں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے کھیلنے سے انکار کیا تو آئی سی سی نےمیچز کسی اور ملک منتقل کرنے کی بجائے بنگلہ دیش کو ورلڈ کپ سے ہی نکال دیا، آئی سی سی کے دوہرے معیار پر پاکستان نے کھل کر آواز اٹھائی تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر پاکستان کو عوامی امنگوں کے عین مطابق آئی سی سی کے دوہرے رویئے کی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کا اعلان کرنا چاہئے.جب تک آئی سی سی بھارتی زبان بولنا بندنہ کرے پاکستان کو قومی مفاد اور بنگلہ دیش کے ساتھ یکجہتی کے طور پر مضبوط اور سخت فیصلے کرنے چاہئے،بنگلہ دیش ٹیم کے ساتھ ناانصافی پاکستان کو برداشت نہیں کرنی چاہئے.

  • ترجمان سندھ حکومت کی ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید

    ترجمان سندھ حکومت کی ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید

    ترجمان سندھ حکومت نے ایم کیو ایم وزراء کی سیکیورٹی واپس لینے کے دعوے کی تردید کردی۔

    سعدیہ جاوید کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پھر جھوٹے بیانیے اور منفی پروپیگنڈے پر اتر آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے کسی وزیر یا رہنماء سے سیکیورٹی واپس نہیں لی گئی، جو افراد سیکیورٹی کے مجاز ہیں، ان کے پاس مکمل سیکیورٹی موجود ہے۔سعدیہ جاوید کا مزید کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیکیورٹی کے حوالے سے بے بنیاد الزامات محض سیاسی پروپیگنڈا ہیں۔

    دوسری جانب آئی جی سندھ جاوید عالم نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا،پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا۔ دونوں وزراء کو کوتھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے، لوگوں سے درخواست ہے کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، لوگوں کو کچے اور کشمیر سے مرد حضرات لڑکیوں کی آواز میں کال کر کے پھنساتے ہیں،مرد ڈاکوؤں کی جانب سے سستے داموں گاڑیاں اور ٹریکٹر خرید کر دینے کا جھانسا دیا جاتا ہے، جب سے عہدہ سنبھالا تب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔