Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کا ایلون مسک کے پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو جرمانہ

    یورپی یونین کے ٹیک ریگولیٹرز نے امریکی بزنس مین ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر 120 ملین یورو (140 ملین ڈالر) کا بھاری جرمانہ عائد کردیا۔

    یہ اقدام ڈیجیٹل سروسز ایکٹ (DSA) کے تحت پہلی بڑی کارروائی ہے، جس کے باعث ماہرین کے مطابق امریکہ کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے۔ یورپی حکام کے مطابق پلیٹ فارم X نے کئی اہم قواعد کی خلاف ورزی کی، جن میں بلیو چیک مارک کے ڈیزائن میں گمراہ کن طریقہ کار،اشتہارات کے ذخیرے میں شفافیت کی کمی،محققین کو عوامی ڈیٹا تک رسائی فراہم نہ کرناشامل ہیں،اسی دوران سوشل میڈیا حریف ٹک ٹاک جرمانے سے اس وقت بچ گیا جب اس نے مطلوبہ ترامیم پر رضامندی ظاہر کردی۔

    یورپی یونین طویل عرصے سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے مقابلے میں چھوٹے پلیٹ فارمز کے حقوق کے تحفظ اور صارفین کے لیے زیادہ انتخاب یقینی بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ تاہم امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ ان پابندیوں کو امریکی کمپنیوں کے خلاف جانبداری قرار دے کر تنقید کرتی رہی ہے۔یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کے قوانین کا تعلق کسی مخصوص قومیت سے نہیں بلکہ "ڈیجیٹل اور جمہوری معیارات” کے تحفظ سے ہے۔

    یورپی ٹیک چیف ہینا وِرکونین نے کہا کہ X پر جرمانہ خلاف ورزیوں کی نوعیت، شدت اور مدت کو مدنظر رکھ کر لگایا گیا ہے۔انہوں نے کہا“ہم یہاں سب سے بڑا جرمانہ لگانے نہیں آئے، ہمارا مقصد قوانین پر عمل کروانا ہے۔ اگر پلیٹ فارم قواعد کا احترام کرے تو جرمانہ نہیں ہوگا۔”ورکونین نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ دیگر کمپنیوں کے خلاف جاری تحقیقات پر فیصلے X کیس کی نسبت جلد سنائے جائیں گے۔

    یورپی فیصلے سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے X پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “افواہیں ہیں کہ EU کمیشن X پر سینکڑوں ملین ڈالر کا جرمانہ اس لیے عائد کرنے والا ہے کہ وہ سنسرشپ میں حصہ نہیں لیتا۔ یورپی یونین کو آزادیِ اظہار کا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ امریکی کمپنیوں پر فضول حملے کرنے چاہئیں۔”

    Meta اور TikTok پر اکتوبر میں DSA کی شفافیت کی شرائط کی خلاف ورزی کے چارجز لگائے گئے تھے۔چینی مارکیٹ پلیس Temu پر غیر قانونی مصنوعات کی فروخت روکنے میں ناکامی کا الزام ہے۔X کو 60 سے 90 ورکنگ دن دیے گئے ہیں کہ وہ DSA پر مکمل عملدرآمد کے لیے اقدامات پیش کرے۔TikTok نے اپنے اشتہاری نظام میں اصلاحات پر رضامندی ظاہر کرتے ہوئے ریگولیٹرز سے مطالبہ کیا کہ قانون تمام پلیٹ فارمز پر یکساں طور پر لاگو کیا جائے۔یورپی کمیشن کے مطابق X پر غیر قانونی مواد کے پھیلاؤ اور غلط معلومات کے خلاف اقدامات کی تحقیقات جاری ہیں۔TikTok کے ڈیزائن، الگورتھمز اور بچوں کے تحفظ سے متعلق الگ تحقیقات بھی چل رہی ہیں۔ کمپنی کی عالمی سالانہ آمدنی کے 6 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جس سے بڑی ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ قانون نہایت سخت اور بااثر سمجھا جارہا ہے۔

  • سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    سوئی،علیحدگی پسند رہنما نور علی چاکرانی نے ساتھیوں سمیت ہتھیار ڈال دیئے

    ڈیرہ بگٹی ۔ پاکستان ہاؤس سوئی میں بی آر اے(براہمداغ بگٹی) کے سب سے بڑے کمانڈر وڈیرہ نور علی چاکرانی نے اپنے 100 سے زائد فراریوں کے ہمراہ سرنڈر ہوکر ہتھیار ڈال دئیے

    سوئی میں ایک اہم اور تاریخی لمحہ اس وقت رقم ہوا جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی امن دوست اور دوراندیش قیادت کے زیرِ اثر وڈیرا نور علی چاکرانی اپنے 100 سے زائد ساتھیوں سمیت قومی دھارے میں شامل ہو گئے، ہتھیار رکھے اور پاکستان کا پرچم اٹھا کر اس کے ساتھ وفاداری نبھانے کا عہد کیا۔ اس شاندار اور پروقار تقریب کی صدارت وزیراعلیٰ کے بھائی میر آفتاب احمد بگٹی نے کی، جبکہ بگٹی قوم کے چیف صاحبان، معزز وڈیرگان، نوٹیبلز اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے اس دن کو واقعی ایک تاریخی موقع بنا دیا۔

    ٹاؤن چیئرمین سوئی عزت اللہ امان بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنے ان بھائیوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ تقریب اس بات کی واضح گواہی ہے کہ وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور ان کا خاندان ہمیشہ امن، استحکام اور بلوچستان کی اجتماعی ترقی کے علمبردار رہے ہیں۔

    آخر میں میر آفتاب احمد بگٹی نے پیغام دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اب بھی پہاڑوں میں بھٹکے ہوئے ہیں اور بیرونی عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہے ہیں، وہ واپس آ کر قومی دھارے میں شامل ہوں اور ڈیرہ بگٹی و بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور ایک پرامن مستقبل کی جدوجہد میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔

    یہ اقدام دہشتگرد تنظیم BRA کے ایک کلیدی کمانڈر سمیت دیگر افراد کی واپسی کی علامت ہے اور بلوچستان میں امن کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔وزیراعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی اور سیکیورٹی فورسز کی مسلسل کوششوں کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا، اور نوجوانوں، وڈیروں اور معززین کی شرکت نے اس دن کو واقعی تاریخی بنا دیا۔

  • خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی

    خیبر پختونخوا کابینہ نے 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی ہے، کابینہ نے 9 مئی واقعات کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی۔

    پشاور میں ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شاہ فیصل اتمان خیل نے نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ صوبائی کابینہ اجلاس میں 9 مئی کیسز کے خاتمے کی منظوری دے دی گئی ہے اور 51 مقدمات میں ریاست کابینہ کی منظوری کے بعد دستبردار ہوگی،ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق 9 مئی کے واقعات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے، کابینہ اجلاس میں شرکت کے لیے وزیر اعلیٰ نے انہیں خصوصی طور پر طلب کیا تھا۔

    سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل آفس نے 51 مقدمات واپس لینے کی سفارشات بھیج دیں، پی ٹی آئی اراکین اور کارکنان 9 اور 10 مئی کے مقدمات میں نام زد ہیں، مقدمات میں سزا کی صورت میں اراکین اسمبلی کو نااہلی کا خدشہ ہے۔

  • وفاق کےلیے ٹیکس جمع کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔بلاول

    وفاق کےلیے ٹیکس جمع کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔بلاول

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں کو مزید اختیارات دے،وفاق کی مشکلات سمجھتے، سندھ نے اِس سال ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا،ہمارے پنجاب کے ٹکٹ ہولڈر رابطہ کر کے کہتےہیں سندھ میں عوام کو دی جانے والی مفت سہولیات ہمارے علاقوں میں بھی دی جائیں۔

    چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں قومی ادارہ برائے امراض قلب میں جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ نئےاو پی ڈی بلاک کا افتتاح کردیا۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول کا کہنا تھا کہ ہم وفاق کی مشکلات دور کرنا چاہتے ہیں، وفاق صوبوں کو مزید ذمے داریاں دے، سندھ سیلز ٹیکس آن سروس جمع کرنے کے لئے تیار ہے، این آئی سی وی ڈی دنیا میں سب سے بڑا دل کے علاج کا نیٹ ورک بن چکا ہے، مالی وسائل صوبوں کو دینا غلطی نہیں تھی، اس کی مثال این آئی سی وی ڈی ہے،پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا، کراچی میں چندہ دینے والی کمیونٹی دنیا کی سب سے بڑی کمیونٹی ہے، 18ویں ترمیم کے بعد سندھ کو محکمہ صحت کی ذمے داری ملی تھی، ترمیم کے بعد ہم نے ثابت کردیا کہ ہم وفاقی حکومت سے بہتر یہ ادارہ چلا سکتے ہیں، ہم وفاق کےلیے ٹیکس کلیکشن کرکے ان کی مشکلات دور کرسکتے ہیں۔ کچھ حکومتی وزرا صوبوں سے وسائل لینا چاہتے ہیں ،ہم وفاق کی مشکلات بھی سمجھتے ہیں، سندھ حکومت سیلز ٹیکس کلیکشن کےلیے تیار ہے، اگر ہم کسی وجہ سے ایف بی آر کا ٹارگٹ پورا نہ کرسکے تو اپنے پیسوں سے رقم کاٹ کر وفاق کو دینے کو تیار ہوں گے، پچھلا وزیراعظم شہر شہر جا کر کہتا تھا وفاق دیوالیہ ہوچکا ہے،پیپلز پارٹی مفت اور معیاری علاج شہریوں کو فراہم کررہی ہے، سکھر، حیدرآباد میں بھی این آئی سی وی ڈی موجود ہے، مٹھی، سیہون اور شہید بے نظیرآباد میں بھی این آئی سی وی ڈی ہے،ورونا وبا کے دوران ثابت کیا کہ ہم عالمی وبا کا بھی مقابلہ کرسکتے ہیں، ہم نے ثابت کردیا کہ ہم وفاقی حکومت کے بغیر یہ ادارہ چلا سکتے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین  کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا ،غیر قانونی افغان مہاجرین کے کیمپ خالی نہ ہوئے

    خیبر پختونخوا (کے پی) میں غیر قانونی طور پر مقیم لاکھوں غیر دستاویزی افغان باشندوں کی موجودگی اب محض دہشت گردی ہی نہیں بلکہ سنگین معاشی و سماجی چیلنجز بھی پیدا کر رہی ہے۔

    غیر قانونی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد نے صوبے کے وسائل پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔ ان کی مسلسل موجودگی کے پی کے وسائل، سیکیورٹی نظام، معاشرتی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے انفراسٹرکچر کو براہِ راست متاثر کر رہی ہے۔بین الاقوامی جریدے یوریشیا ریویو کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 لاکھ غیر دستاویزی اور 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین رہائش، صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔ایس ڈی پی آئی کی تحقیق کے مطابق افغان مہاجرین کی آمد کے بعد کے پی کی 30 فیصد آبادی نے تعلیمی سہولیات تک رسائی میں کمی کی شکایت کی، جبکہ 58 فیصد نے صحت کی خدمات میں کمی کو نمایاں مسئلہ قرار دیا۔

    ساؤتھ ایشیا ٹائمز کے مطابق اضافی مہاجر بوجھ نے خیبر پختونخوا میں بے روزگاری بڑھا کر صوبائی معیشت کو دباؤ میں دے دیا ہے۔کے پی میں متعدد افغان تاجروں نے ٹیکس ادا کیے بغیر خطیر دولت جمع کی، جس سے پاکستان کو بھاری ریونیو نقصان ہوا۔مجموعی طور پر افغان مہاجرین کی آمد نے پاکستان کی قلیل مدتی اور طویل مدتی معاشی ترقی کو متاثر کیا۔صوبے میں معاشی سرگرمیوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔قدرتی وسائل کے حد سے زیادہ استعمال نے ماحولیات پر سنگین اثرات چھوڑے۔

    وفاقی حکومت نے اپنے مرحلہ وار منصوبے کے تیسرے مرحلے کے تحت ملک بھر میں 54 افغان مہاجر کیمپ ختم کر دیے ہیں۔ان میں سے 43 کیمپ خیبر پختونخوا، 10 بلوچستان اور ایک پنجاب میں واقع تھا۔تاہم، دیگر صوبوں کی نسبت کے پی کی صورتحال کہیں زیادہ تشویشناک ہے۔وفاقی حکومت کے غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے احکامات کے باوجود کے پی کی صوبائی حکومت اُن پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔کے پی میں ختم کیے گئے 43 افغان کیمپوں میں سے صرف دو کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا ہے۔نوشہرہ، پشاور، خیبر، کوہاٹ، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے کیمپ اب بھی بجلی، پانی، صحت اور دیگر سہولیات سے استفادہ کر رہے ہیں۔اس کے برعکس پنجاب نے میانوالی میں اپنا واحد افغان کیمپ مکمل طور پر خالی کرا لیا۔بلوچستان نے اپنے 10 میں سے تمام کیمپوں میں واضح پیش رفت دکھائی اور 88 ہزار سے زائد افغان مہاجرین کے حوالے سے مؤثر کارروائی کی۔

  • ریاض میں بینک اسلامی کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سعودی سفیر احمد فاروق کی شرکت

    ریاض میں بینک اسلامی کے اسٹریٹجک ڈائیلاگ میں سعودی سفیر احمد فاروق کی شرکت

    بینک اسلامی کی جانب سے ریاض میں سعودی عرب کے دارالحکومت تعینات پاکستان کے سفیر، عزت مآب، جناب احمد فاروق کے اعزاز میں اعلیٰ سطح کے عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اس عشائیے میں سعودی عرب کی سول سوسائٹی اور ریاض میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے اہم افراد نے شرکت کی۔

    سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط شراکت داری پر گفتگو کرتے ہوئے سفیر احمد فاروق نے دونوں ممالک کے مابین گہرے اسٹریٹجک ہم آہنگی، دیرپا باہمی اعتماد اور مشترکہ اسلامی یکجہتی کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی برادری کی کاوشوں کو بھی سراہا جو عوامی سطح پر روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔تقریب میں موجود شرکاء نے سفیر احمد فاروق کی خدمات اور سفارت خانے کی مسلسل معاونت پر اُن کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ اُن کی قیادت نے دوطرفہ تعلقات پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔بینک اسلامی کے ڈپٹی چیف ایگزیکٹو آفیسر عمران ایچ شیخ نے شرکا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: ” سعودی عرب کا وژن 2030، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ان کے ولی عہد و وزیر اعظم، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی دوراندیش قیادت کا عکاس ہے، اور دیگر ممالک کے لیے ایک قابلِ تقلید معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا: "بینک اسلامی شریعت کے مطابق بینکاری کی عالمی ترقی کو آگے بڑھانے اور دنیا بھر کی کمیونٹیز کے لیے بامعنی قدر پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔”ڈائیلاگ کے اختتام پر شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے لیے مزید گہرے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

    بینک اسلامی نے سود سے پاک اسلامی فنانسنگ کے فروغ اور کمیونٹی کی سطح پر وسیع تر اقدامات کی حمایت کے اپنے عزم کا اعادہ کیا.

  • رضاکاروں نے  انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ،خالد مسعود سندھو

    رضاکاروں نے انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ،خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے عالمی رضاکاروں کے دن کے موقع پر ملک بھر میں خدمتِ خلق کے لیے سرگرم رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے رضاکاروں نے سیلاب سمیت مشکل کی ہر گھڑی میں انسانی ہمدردی کے جذبے کا شاندار مظاہرہ کیا ، یہ دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بے لوث خدمت اور چھوٹے چھوٹے اعمال بھی معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار بزرگوں، بیواؤں اور یتیموں کی مدد کے ساتھ ساتھ ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران فوری ریلیف فراہم کرنے میں سرگرم عمل ہیں،مرکزی مسلم لیگ کے رضاکار اعلیٰ معیار کی لگن اور بے لوث خدمت کی بہترین مثال ہیں۔ عالمی رضاکاروں کے دن کے موقع پر ہم رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جو مشکلات کے اندھیروں میں امید کی کرن بن کر معاشرے میں روشنی پھیلاتے ہیں۔ہم رضاکاروں کی قربانی، محنت اور انسانی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہیں، جو نہ صرف ملک بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے مشعل راہ ہے۔

  • ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ایک شخص سمجھتا ہے کہ وہ نہیں تو کچھ بھی نہیں، وہ نیشنل سیکیورٹی کیلئے تھریٹ بن چکا،ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورس کی تعیناتی پر سب کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کی بہت عرصے سے ضرورت تھی،چیف آف ڈیفنس کے ہیڈکوراٹر درجنوں ممالک میں موجود ہیں، یہ نیشنل سیکیورٹی کے لئے بڑا اہم دن ہے، پارلیمنٹ کی ہدایات پر اس کا آغاز ہوا ہے،پریس کانفرنس کا مقصد اندرونی طور پر نیشنل سیکورٹی تھریٹ ہے۔ایک شخص سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں ،کسی کواجازت نہیں دی جاسکتی کہ عوام اورافواج پاکستان کےدرمیان کوئی دارڑ پیدکریں ،سیاست ختم ، اس کا بیانیہ ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکا ،ہم کسی کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے ، ہمارے اندر ہر رنگ، نسل، مذہب، مسلک، سیاسی سوچ کے لوگ ہوتے ہیں مگر یونیفارم پہن کر وہ سب ایک طرف رکھ دیتے ہیں، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کسی کو اجازت نہیں دیں گے،

    اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اس وقت ایک سنگین اندرونی خطرے کا سامنا کر رہا ہے، جس کی جڑ ایک ایسے شخص کی خود ساختہ اور غیر حقیقی سوچ میں ہے جو شدید فرسٹریشن کے باعث خود کو ریاست سے بالاتر سمجھنے لگا ہے۔ایک شخص اپنی ذات کا قیدی، جو یہ سمجھتا ہے کہ میں نہیں تو کچھ نہیں۔ اب اس کی سیاست ختم ہوچکی اس کا بیانیہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ پاک فوج لسانیت یا کسی سوچ کی نمائندگی نہیں کرتی۔اپنی فوج پر حملہ کرنے والا کیاکسی اور فوج کے لیے جگہ بنانا چاہتا ہے،جو ایجنڈا بنایا جا رہا ہے یہ ایجنڈا دہلی کا ہی ہو سکتا ہے، یہ بیانیہ ان کی جماعت کا اکاونٹ چلاتا ہے پھر اس narcist کا اپنا اکاونٹ چلاتا ہے اس کے بعد اسے بھارتی میڈیا اٹھاتا ہے یہ سوشل میڈیا پر ایک مکمل کوآرڈینیشن سے چلتا ہے،اب مزید گنجائش نہیں قوم نے فیصلہ کرنا ہے

    وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ وہ کہتا ہے این ڈی یو جانے والے غدار ہیں، ارے تم ہو کون؟ تم خود کو سمجھتے کیا ہو؟؟ تم نے کہاں سے پڑھا؟ تمھاری فرسٹریشن کیا ہے؟ اس کی زہنی حالت 9 مئی کو دیکھی نہیں اپنی فوج پر حملہ کرایا،کون سا قانون اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایک مجرم کو جا کر ملیں اور وہ افواج پاکستان کے خلاف بیانیہ بنائے، بیرون ملک سے کئے جانے والے ایجنڈے کے پیچھے ذہنی مریض ماسٹر مائنڈ ہے،ہم اجازت نہیں دیں گے کہ آپ پاکستان کی عوام کو آرمڈ فوسز کیخلاف بھڑکائیں،عمران خان کی جمہوریت کی تعریف ہے کہ اگر میں حکومت میں ہوں توملک میں جمہوریت ہے اور نہیں توملک میں آمریت ہے،شیخ مجیب الرحمن جانا مانا غدار ہے وہ(عمران خان) اس کے افکار سے متاثر ہے، آپ کے پاس کے پی کی حکومت ہے اس کی گورنس پر بات کیوں نہیں کرتے سیاست پر بات کیوں نہیں کرتے ہر بات میں ہر چیز میں فوج کو شامل کرتے ہیں،

    جو فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی اپنی ذات اور اپنی نرگسی سوچ کے لیے فوج اور فوج کے سربراہان پر حملہ کرتا ہے تو پھر ہم برداشت نہیں کریں گے، سوشل میڈیا پر ترتیب اور تواتر کے ساتھ مسلح افواج کی ہر ز ہ سرائی کی جاتی ہے، بھارت اور افغانستان میں موجود ٹرولنگ کاؤ نٹ منٹوں ، گھنٹوں میں بیانیے کو وائرل کرتے ہیں.بھارتی مخصوص ٹولے کا سب سے بڑا سہولت کار ہے،بھارتی میڈیا پر نورین نیازی ملک و قوم کیخلاف انٹرویوو دیتی ہیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی پریس کانفرنس بھی بھارتی میڈیا پر دکھائی جاتی ہے،بھارتی میڈیا پاکستان مسلح افواج کیخلاف پی ٹی آئی کی زبان بنا ہوا ہے، یہ افواج پاکستان کیخلاف بیانیے پر بہت زیادہ پیسے خرچ کر ر ہے ہیں،خوارجین کے سہولتکار افغان میڈیا بھی ان کے بیانیے پر ٹرولنگ کررہا ہے،ایک ذہنی مریض افواج پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کر رہا ہے، ذہنی مریض نے دو دن پہلے ٹویٹ کیا،ذہنی مریض کے ٹویٹ کو بھارتی اور افغان ٹرولرز نے منٹوں میں وائرل کیا، تم کون ہو جو غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹ رہے ہو؟9مئی کو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، شہدا کی یادگاروں کی بے حرمتی کرنے والے بھی یہی لوگ تھے، پاک فضائیہ کے جنگ میں جیتے اثاثوں کو آگ بھی انہی شرپسندوں نے لگائی، یہ غداز شیخ مجیب الرحمان سے بھی متاثر ہے.جو اپنی فوج پر حملہ کروا سکتا ہے، شہیدوں کی یادگاروں کو آگ لگوا سکتا ہے، پاکستان کے فخر چاغی کی نشانی کو آگ لگوا سکتا ہے اُسے غدار کہنے میں کیا مسئلہ ہے؟آئین پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی اجازت ہے لیکن دفاع پاکستان کے خلاف اس کی اجازت نہیں،کتنی خوشی سے انڈین میڈیا آپ کے آرمی چیف کے خلاف بیانیہ چلا رہا ہے۔ میڈیا کا ایک ایک منٹ قیمتی ہوتا ہے اور وہ اس لیے یہ چلا رہے ہیں کیونکہ یہ شخص پاکستان کے آرمی چیف کے خلاف بولتا ہے اور عوام اور فوج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی بات کرتا ہے،انہوں نے تو کہا تھا کہ ملک ڈیفالٹ کرجائے گا تو کیا ملک ڈیفالٹ کرگیا؟ انہوں نے تو کہا تھا کہ یہ فوج لڑ نہیں سکتی،پھر آپ نے دیکھا کہ لڑی،اسی لیے جب کتا بھونکتا ہے تو توجہ نہیں دینی چاہیئے.

    یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ جو دشمن بچوں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنائے، اُس سے مذاکرات نہیں بلکہ ریاستی رِٹ کے مطابق نمٹا جاتا ہے۔وانا کیڈٹ کالج پر حملہ صرف دہشتگردی نہیں، قوم کے مستقبل پر وار تھا۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ امن کمزوری سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے۔فوج ریاست نہیں، ریاست حکومت اور اس کے ادارے ہوتے ہیں،فوج ریاست کا ایک حصہ ہے،کوئی سمجھتا ہے کہ اس کی ذات اور سیاست اس ملک کی عوام سے بڑی ہے تو غلط سمجھتا ہے،وہ کہتا ہے کہ وہ فوجی قیادت جس نے بنیان المرصوص میں پاکستان کو فتح دلائی اسکے خلاف بات کریں یہ بیانیہ صرف دہلی سے ہی آسکتا ہے،پہلے بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ ترسیلات زر کو بند کیا جائے، سول نافرمانی کی کال اور آئی ایم ایف کو خط لکھا جاتا ہے، بنیان مرصوص میں دشمن کو شکست دینے والی فوجی قیادت کو نشانہ بنانے کا کہا جاتا ہے، دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے جھوٹ پھیلایا جاتا ہے، ان دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو پھر بھارتی چینلز اٹھاتے ہیں،تمام بے نامی اکاؤنٹس ملک سے باہر بیٹھے ہوئے ہیں جو بیانیہ پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض سب سے پہلے اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے بیانیہ بناتا ہے، پھر بے نامی اکاؤنٹس اس بیانیے کو آگے پھیلاتے ہیں، ذہنی مریض نے 2 روز پہلے اپنے اکاؤنٹ سے جھوٹ کو پھیلایا، ان کا بیانیہ بھارتی میڈیا اٹھارہا ہے، "را” کے اکاؤنٹس اسی ٹویٹ اور بیانیے کو چلارہے ہیں،خارجیوں کا سہولت کار افغانی میڈیا بھی اس بیانیے کو پھیلاتے ہیں، اس کے بعد انٹرنیشنل میڈیا بھی اس بیانیے کو اٹھالیتا ہے، اس شخص کے اندر کیا فرسٹریشن ہے؟، تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو، اس شخص نے جی ایچ کیو پر حملہ کروایا تھا، فوجی افسران کی تصویر کو لے کر وی لاگ بنائے جارہے ہیں، یہ کیسی آزادی اظہار رائے ہے، یہ اقتدار میں ہو تو ملک میں جمہوریت ورنہ آمریت، دہشت گرد بچوں کو شہید کررہے ہیں یہ کہتا ہے ان سے بات کرو، یہ تو کہتا تھا کہ دہشت گردوں کا پشاور میں دفتر کھولا جائے، فوج کی ایک ایک خبر کو ڈسکس کیا جارہا ہے، فوج کے ساتھ ورکشاپ میں بیٹھنے والے کو غدار کہا گیا۔

    محمد مالک نے ڈی جی آئی ایس پی آر سے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف ہے تو کیا آپ حکومت سے پی ٹی آئی پر پابندی لگانے کا بھی کہیں گے؟ جس کے جواب میں ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ ریاست کا کام ہے اور وہ بہت ذہین ہیں، ہم اپنا موقف دیتے ہیں، آپ اُن سے پوچھیں یہ فیصلہ اُنہوں نے کرنا ہے

    یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ تم فوج میں دراڑ ڈالنا چاہتے ہو، تمہارا باپ بھی یہ دراڑ نہیں ڈال سکتا۔خیبرپختونخواہ میں گورنر راج لگانے کا فیصلہ حکومت کا ہے، ہمارا نہیں،ہمارے چیف آف آرمی اسٹاف کے حکم پر سپاہی اپنی جان دیتا ہے، جب بھارت نے حملہ کیا اور یہ ذہنی مریض ہوتا تو کشکول لے کر بات چیت کرنے چل پڑتا.ہم کہیں نہیں جارہے،فوج ہمیشہ یہاں رہے گی، 6اور 7مئی کوبھارت نے ہماری مساجد،بچوں کو شہید کیا،
    یہ ذہنی مریض ہوتا تو یہ کشکول لیکر بات چیت کیلئے چلتا،یہ کہتا ہے کہ بات چیت کریں، آپریشن نہ کریں،بات چیت کا بخار ان کو بہت پہلے سے تھا،کون کہتا تھا کہ ٹی ٹی پی کا پشاور میں دفتر کھولنا ہے؟یہ تو خوارج کا پشاور میں دفتر کھولنا چاہتے تھے،یہ آج بھی لوگوں کو آپریشن کیخلاف ہونے کیلئے کہتے ہیں،بھیک سے سیکیورٹی نہیں ملتی،اگر ملتی تو غزہ اور لیبیا کا یہ حال نہ ہوتا،کسی کی سیاست اور ذات کسی صورت ریاست سے بڑھ کر نہیں ہوسکتی، اسمگلنگ کے ذریعے دہشتگرد اور دھماکا خیز مواد آتے ہیں، خارجی سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائی کرتے ہیں،یہ بیانیہ بنانے کے ماہر ہیں،ہم تو روز روشن کی طرح عیاں ہیں کہ کیا ہور ہا ، کیوں ہورہا اور کیوں کروایا جارہا ؟ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ بیانیے کو چلایا جائے اور سہولتکاری کی جائے،اگر کوئی سمجھتا ہے اس کی ذات اور سیاست ریاست سے بڑی ہے تو غلط سمجھتے ہیں،پاکستان کی فوج کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی،ہم نے اس ریاست کےتحفظ کی قسم کھائی ہے، ہم کہیں نہیں جارہے کیوں کہ ہم حق پر ہیں اور حق پر ہی رہیں گے،اندر بیٹھا ہوا ذہنی مریض اور باقی جتنے ہیں وہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں،وہ اصل مسائل پر بات نہیں کرتے،ان کواس چیز میں کوئی پریشانی نہیں کہ سچ بول رہے ہیں یا جھوٹ،ان کے کاغذوں میں وائس چیف آف آرمی اسٹاف لگ چکا تھا ،ابھی ان سے پوچھیں نا کہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کیوں نہیں لگا،ان کے خیال میں توسی ڈی ایف کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی نہیں ہونا تھا،ان کی پوری سیاست فوج کے ارد گر گھومتی ہے،یہ فوج کے بارے میں بات کرتے ہیں ،الزامات لگاتے ہیں،یہ فوج کے اوپر ہر چیز ڈالتے ہیں تاکہ اپنی گورننس کی طرف کوئی بات نہ کریں،پاکستان کے عوام بہت باشعور ہیں ،

  • برطانیہ،غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ،غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

    برطانیہ نے امیگریشن کریک ڈاؤن کے دوران غیر قانونی طور پر کام کرنے والے 60 ڈلیوری رائیڈرز کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    ہوم آفس کے مطابق گزشتہ ماہ ملک بھر میں گیگ اکانومی کہلانے والے غیر مستقل روزگار کے شعبے میں کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشنز میں مجموعی طور پر 171 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سولیہل کے ایک ریستوران میں کام کرنے والے چینی شہری، مشرقی لندن میں بنگلہ دیشی اور بھارتی رائیڈرز، اور نوریچ میں بھارتی ڈلیوری رائیڈرز شامل تھے۔

    یہ آپریشن حکومت کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد برطانیہ میں غیر قانونی ملازمتوں کے خلاف کارروائی تیز کرنا اور ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

    ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر تک ایک سال میں 8,232 غیر قانونی کارکن گرفتار کیے گئے، جو گزشتہ 12 مہینوں کے مقابلے میں 63 فیصد زیادہ ہیں۔ گزشتہ ماہ وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے پناہ گزینوں کے نظام میں اصلاحات کا اعلان کیا تھا، جن کا مقصد برطانیہ کو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے کم پرکشش بنانا اور ملک بدری کے عمل کو مزید مؤثر کرنا ہے۔

    بارڈر سیکیورٹی کے وزیر ایلیکس نوریس نے کہا کہ حکومت ڈلیوری سیکٹر میں غیر قانونی کام کے ذریعے ہونے والی مجرمانہ سرگرمیوں کا خاتمہ کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ نتائج واضح پیغام ہیں کہ اگر آپ اس ملک میں غیر قانونی طور پر کام کر رہے ہیں تو آپ کو گرفتار کرکے ملک بدر کر دیا جائے گا،ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام جدید دور میں غیر قانونی ہجرت کے خلاف سب سے بڑی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی داخلے کی ترغیب کو کم کرنا اور ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

    ہوم آفس نے جولائی میں ان کمپنیوں کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا تھا کہ انہیں پناہ گزینوں کے ہوٹلوں کے مقامات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ غیر قانونی کام کے مشتبہ مراکز کی نشاندہی کی جاسکے۔

  • سندھ اسمبلی،کرکٹر معین کی وفات کی جعلی خبریں، مغفرت کی دعا کی درخواست آ گئی

    سندھ اسمبلی،کرکٹر معین کی وفات کی جعلی خبریں، مغفرت کی دعا کی درخواست آ گئی

    سوشل میڈیا پر سابق کرکٹر معین خان کے انتقال کی جعلی خبروں پر ایم کیو ایم رکن اسمبلی نے مغفرت کی دعا کی درخواست کرڈالی۔

    سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما صابر قائمخانی نے معین خان کے انتقال کی جعلی خبر پر مغفرت کی دعا کی د رخواست کی,ایوان میں موجود ارکان نے فوری طور پر انہیں روکتے ہوئے بتایا کہ کرکٹر معین خان کے انتقال کی خبر غلط ہے,اسپیکر نے بھی صابر قائم خانی کو غلط خبر کے بارے میں آگاہ کیا جس پر رکن اسمبلی نے اٹھ کر معذرت کی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں 54 سالہ سابق کپتان معین خان کے انتقال کی جھوٹی خبر سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی جس پر معین خان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ بالکل خیریت سے ہیں,درحقیقت حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے 65 سال کے سینئر کرکٹر معین خان راجپوت کا انتقال ہوا تھا لیکن سوشل میڈیا پر معین راجپوت کے بجائے ٹیسٹ کرکٹر معین خان کی تصویر شیئر کئی گئی۔