Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کو جھوٹ پر مبنی قرار دیدیا۔

    عطاء تارڑ نے کہا کہ آنکھوں کے ماہرین نے اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا، ڈاکٹروں نے تجویز کیا کہ انہیں پمز لے جانا ضروری ہے، ڈاکٹرز کی سفارش پر ہفتہ کی رات بانی پی ٹی آئی کو پمز لے جایا گیا، جہاں مزید طبی معائنہ ہوا، ان کی رضا مندی کے بعد 20 منٹ کی طبی کارروائی ہوئی، جس کے بعد انہیں واپس اڈیالہ منتقل کردیا گیا۔

    ان کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی بالکل ٹھیک ہیں، سوشل میڈیا پر آنے والی باتیں جھوٹ پر مبنی ہیں، طبی معائنے کے دوران بھی وہ مکمل صحت مند تھے، تمام قیدیوں کو ڈاکٹرز تک رسائی دینا رولز کے مطابق ہے۔

  • بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن حادثہ، خاتون کی لاش مل گئی،بچی کی تلاش جاری

    لاہور کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعے سے متعلق نئی اور تشویشناک تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    خاتون کی لاش ملنے کے بعد ابتدائی طور پر واقعے کو ’فیک‘ قرار دینے، ریسکیو ذرائع اور انتظامیہ کے متضاد بیانات، اور پولیس کی بدلتی ہوئی تفتیش نے کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ماں اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج ہول میں گرنے کی اطلاع خاتون کے شوہر نے دی تھی۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئیں، تاہم تلاش مکمل ہونے سے قبل ہی موقع پر موجود انتظامیہ نے میڈیا کو رپورٹ جاری کرتے ہوئے واقعے کو جعلی (فیک) قرار دے دیا تھا۔ریسکیو ذرائع نے اس دعوے کی توثیق کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مذکورہ سیوریج ہول میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن ہی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس مقام کی نشاندہی کی گئی، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ کے علاقے میں واقع ہے، جہاں سیوریج کا ڈھانچہ ایسا نہیں کہ کوئی شخص اس میں بہہ سکے۔

    دوسری جانب لاہور انتظامیہ نے بھی سیوریج لائن کا معائنہ کرنے کے بعد یہی دعویٰ کیا کہ وہاں کسی قسم کا حادثہ پیش نہیں آیا۔ انتظامیہ کے مطابق جائے وقوع پر کوئی شواہد نہیں ملے جو ماں بیٹی کے سیوریج میں گرنے کی تصدیق کر سکیں۔

    تاہم معاملہ اس وقت نیا رخ اختیار کر گیا جب سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کی لاش تقریباً 3 کلو میٹر دور آؤٹ فال روڈ سے برآمد ہو گئی۔ خاتون کی لاش ملنے کے بعد انتظامیہ اور ریسکیو کے ابتدائی مؤقف پر سنگین سوالات اٹھنے لگے، جبکہ 9 ماہ کی بچی کی تلاش تاحال جاری ہے۔تحقیقات کے مطابق متاثرہ خاندان سیر و تفریح کے لیے لاہور آیا تھا۔ اہل خانہ نے پہلے مینارِ پاکستان کی سیر کی، اس کے بعد داتا دربار پہنچے۔ اسی دوران خاتون اپنی 9 ماہ کی بچی کے ہمراہ سیوریج لائن کی منڈیر پر بیٹھی، جہاں سے دونوں نیچے گر گئیں۔ واقعے کے وقت علاقے میں اندھیرا بھی تھا اور مبینہ طور پر انتظامیہ کی جانب سے وہاں کھدائی کی گئی تھی، جس کے باعث خطرہ مزید بڑھ گیا۔

    پولیس نے ابتدائی تفتیش میں شوہر اور بیوی کے درمیان تنازع اور دیگر سنگین الزامات کی رپورٹ جاری کی تھی۔ شبہے کی بنیاد پر خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی کو باضابطہ طور پر حراست میں نہیں لیا گیا۔ادھر لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے۔ اس بیان کے بعد شوہر سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا، مگر بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا، جس سے تفتیشی عمل کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

    واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایڈیشنل چیف سیکرٹری کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں مکمل تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔وزیراعلیٰ کی ہدایت پر غفلت اور کوتاہی کے الزامات کے تحت ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا گیا ہے، جبکہ پراجیکٹ ڈائریکٹر زاہد عباس اور ڈپٹی ڈائریکٹر شبیر احمد کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔

    خاتون کی لاش ملنے سے قبل ریسکیو ذرائع مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے کہ جس سیوریج ہول میں گرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہاں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں۔ تاہم لاش کی برآمدگی کے بعد اب تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور واقعے کے ہر پہلو کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔حکام کے مطابق بچی کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    خاتون اور 9 ماہ کی بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا،3 افراد گرفتار

    لاہور میں بھاٹی دروازے کے قریب خاتون اور 9 ماہ بچی کے سیوریج لائن میں گرنے کا معاملہ معمہ بن گیا، دونوں کے گرنے کا دعویٰ خاتون کے شوہر نے کیا،عظمی بخاری کے مطابق داتا دربار کے قریب ماں اور بیٹی کے مبینہ ڈوبنے کا واقعہ، ریسکیو آپریشن کے دوران فیک نکلا

    ماں اور بیٹی کے ڈوبنے کی اطلاع "فیک” نکلی،ریسکیو ٹیمیز فوری متحرک، انتظامیہ آن سپاٹ موجود ہے،ابتدائی تفتیش میں شوہر کا بیوی کے ساتھ شدید تنازعات اور سنگین الزامات سامنے آئے، خاتون کے والد نا پولیس سے رابطہ کیا اور کہا کہ”بیٹی کو قتل کیا گیا، سسرالیوں کو گرفتار کیا جائے”، لاہور پولیس نے شک کی بنیاد پر شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا

    جان بچانے کے مقدس جذبے کے تحت ریسکیو کی سپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گے ،ریسکیو 1122 کی ٹیمیں نالے کے 4 مختلف پوائنٹس پر تلاشی میں مصروف، اب تک کوئی سراغ نہ مل سکا، ریسکیو 1122 پنجاب کا لاہور داتا دربار کے قریب بڑا سرچ آپریشن جاری ہے،ریسکیو ذرائع کے مطابق جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی اس میں کسی انسان کا ڈوبنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے،لاہور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، لیکن کافی تگ و دو کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،پولیس اور انتظامیہ سیف سٹی کی فوٹیجز کی مدد سے واقعے کی کڑیاں ملانے میں مصروف ہے

    ذرائع کے مطابق جس مقام کی نشان دہی کی گئی ہے، وہ داتا دربار کے قریب پرندہ مارکیٹ میں ہے، انتظامیہ نے اس جگہ کھدائی کر رکھی تھی، واقعے کے وقت اس علاقے میں اندھیرا تھا، ریسکیو 1122 کی اسپیشلائزڈ ٹیمیں اور غوطہ خور صرف چند منٹوں میں جائے وقوع پر پہنچ گئے۔

    لاہور انتظامیہ کا بھی کہنا ہے کہ سیوریج لائن کا معائنہ کیا، معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں آیا،ماں بیٹی اگر سیوریج لائن میں نہیں گرے تو آخر کہاں گئے؟ اس حوالے سے پولیس کی تفتیش جاری ہے۔ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ خاتون کے شوہر سے تحقیقات جاری ہیں، مگر تسلی بخش جواب نہیں مل رہا، تازہ ترین اطلاعات کے مطابق لاپتہ خاتون کے والد نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ اس کی بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، اس بیان کے بعد خاتون کے شوہر سمیت 3 افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

    شورکوٹ کی رہائشی فیملی کا دعوی ہے کہ ان کی بہو سعدیہ اوراس کی نو ماہ کی بیٹی ردا سیوریج لائن میں اندھیرے کے باعث گریں،ترجمان پنجاب حکومت کے مطابق اطلاع ملنے پر ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا تاحال اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا اور جائے حادثہ ایسی جگہ نہیں جہاں کوئی ڈوب یا بہہ جائے،پولیس نے سیوریج لائن کے چار مختلف مقامات پر سرچ کا دائرہ وسیع کر دیا ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھاٹی گیٹ کے اطراف میں جاری ترقیاتی کام کے دوران مناسب حفاظتی انتظامات نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈائریکٹر ٹیپا شبیر حسین کو معطل کر دیا.

  • عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    عورتوں کا اغوا،تشدد ، گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی

    بدھ کے روز بلوچستان میں بی ایل اے کے مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر ایک خاتون کو اغوا کر لیا۔ متاثرہ خاتون کی بازیابی کے لیے سکیورٹی اداروں کو متحرک کر دیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق تقریباً شام 04:30 سے 04:45 کے درمیان بلوچستان کے علاقے بلچہ میں ایک کرولا گاڑی ایک خاتون نرگس کے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ خاتون خود گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی، جس کے بعد گاڑی وہاں سے روانہ ہو گئی۔بعد ازاں خاتون کے شوہر اور بھتیجے نے گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد شہر کے قریب اسے روکنے میں کامیاب ہو گئے، ذرائع نے بتایا۔

    اس موقع پر ذرائع کے مطابق گاڑی سے ایک مسلح شخص کلاشنکوف اٹھائے باہر نکلا۔جب شوہر نے مزاحمت کی اور بتایا کہ خاتون اس کی بیوی ہے اور اسے زبردستی لے جایا جا رہا ہے، تو پیچھے سے دو موٹر سائیکلیں آ گئیں اور انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔ملزمان نے شوہر اور اس کے بھتیجے کے موبائل فون بھی چھین لیے اور بعد ازاں خاتون کو اپنے ساتھ ناصرآباد کے جنگلاتی علاقے کی طرف لے گئے۔ذرائع کے مطابق ضلعی پولیس واقعے پر سرگرم عمل ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس واقعے کی فوری طور پر تمام انٹیلی جنس ایجنسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق واقعے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ مزید پیش رفت اور تفصیلات مناسب وقت پر فراہم کی جائیں گی۔

    یہ واقعہ کسی عام اغوا یا ذاتی دشمنی کا معاملہ نہیں۔ دن کی روشنی میں اسلحے کے زور پر عورت کا اغوا، مدد کے لیے مسلح ساتھیوں کا پہنچنا، اور پھر جنگل کی طرف لے جانا ایک منظم دہشت گرد کارروائی کی واضح علامت ہے۔ یہ وہی طریقۂ کار ہے جو بی ایل اے دہشت گرد برسوں سے خوف پھیلانے کے لیے استعمال کرتے آئے ہیں۔بلوچستان میں بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے عورتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوششیں سامنے آتی رہی ہیں۔ پہلے نفسیاتی، سماجی اور جذباتی استحصال، پھر جسمانی تشدّد اور جنسی زیادتی، اور اس کے بعد بلیک میلنگ کے ذریعے خودکش حملوں پر مجبور کرنا اس حکمتِ عملی کا حصہ رہا ہے۔

    تشویش ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض معاملات میں اغوا شدہ عورتوں کو جنسی غلامی کے لیے رکھا جاتا ہے۔ انہیں خوف، بدنامی اور جان کے خطرے کے ذریعے قابو میں رکھا جاتا ہے تاکہ وہ مزاحمت نہ کر سکیں اور تنظیم کے مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہیں۔کیچ کا یہ واقعہ اسی خطرناک پیٹرن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خدشہ ہے کہ خاتون کو پہلے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا، پھر بلیک میل کر کے اسے خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ یہ صرف ایک عورت یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے لیے کھلا خطرہ ہے۔عورتوں کا اغوا، ان پر تشدد اور انہیں اپنے گھناؤنے عزائم کے لیے استعمال کرنا بدترین دہشت گردی ہے۔ اگر ایسے جرائم کو بے نقاب نہ کیا گیا تو یہ سلسلہ پھیلتا جائے گا۔ آج سچ کہنا اور آواز اٹھانا ہی کل کے بڑے سانحے کو روک سکتا ہے۔

  • مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں  گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    مریم نواز کا چوہدری شوگر ملز کیس میں گارنٹی کی رقم واپسی کیلیےعدالت سے رجوع

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے چوہدری شوگر ملز کیس میں بطور گارنٹی جمع کروائے گئے 7 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اس کیس کو بے بنیاد قرار دے کر پہلے ہی خارج کر چکا ہے، اس لیے کیس کے خاتمے کے بعد بطور گارنٹی جمع کرائی گئی رقم واپس کی جائے۔درخواست کی سماعت کے لیے لاہور ہائیکورٹ میں چیف جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں تین رکنی فل بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے، جو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔ بینچ میں جسٹس جواد ظفر اور جسٹس عبہر گل خان بھی شامل ہیں۔

    درخواست گزار مریم نواز کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ چوہدری شوگر ملز کیس میں نیب نے مکمل تحقیقات کے بعد کسی بھی قسم کے الزامات ثابت نہ ہونے پر کیس کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے باوجود دورانِ سماعت بطور گارنٹی جمع کرائی گئی خطیر رقم تاحال واپس نہیں کی گئی، جو آئینی اور قانونی تقاضوں کے منافی ہے۔
    درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ جب کسی مقدمے کو متعلقہ ادارہ خود ہی بے بنیاد قرار دے کر ختم کر دے تو ایسی صورت میں ضمانت کے طور پر جمع کرائی گئی رقم کو روکے رکھنا ناانصافی کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت عالیہ اس رقم کی فوری واپسی کا حکم صادر کرے۔

  • پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو افسران کی ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی

    پاک بحریہ کے دو کموڈورز کو ریئر ایڈمرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔

    ریئر ایڈمرل جاوید ضیاء نے 1994 میں پاکستان نیوی کی ویپن انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (NUST) سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹر آف سائنس کے اہل ہیں۔ اپنے شاندار نیول کیریئر کے دوران افسر نے مختلف اہم تقرریوں پر خدمات انجام دیں۔ اس وقت ایڈمرل نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں ڈپٹی چیف آف نیول اسٹاف (مٹیریل) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ریئر ایڈمرل ارمغان احمد نے 1994 میں پاکستان نیوی کی میرین انجینئرنگ برانچ میں کمیشن حاصل کیا تھا۔ فلیگ آفیسر پاکستان نیوی وار کالج لاہور اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویٹ ہیں۔ انہوں نے NUST سے مینوفیکچرنگ سسٹم انجینئرنگ اینڈ مینجمنٹ میں ماسٹر آف سائنس کیا۔ ان کے پاس ایک شاندار سروس کیریئر ہے جس میں اہم تقرریوں پر خدمات انجام دینے کا وسیع تجربہ ہے۔ اس وقت وہ مینیجنگ ڈائریکٹر ڈاکیارڈ (کراچی) کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔فلیگ آفیسرز کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا ہے۔

  • سابق بیورو کریٹ محمد سعید  مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی لاہور میں تقریب رونمائی

    لاہور کے مقامی ہوٹل میں سابق بیورو کریٹ محمد سعید مہدی کی کتاب ” دی آئی وٹنس ” کی تقریبِ رونمائی ہوئی، تقریب سے محمد سعید مہدی،ولید اقبال،پیپلز پارٹی کے رہنما ،سینئر سیاستدان،ممتاز وکیل اعتزاز احسن،سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی،سینئر صحافی سہیل وڑائچ ،اخوت کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب و دیگر نے خطاب کیا،

    محمد سعید مہدی کی کتاب دی آئی وٹنس کی تقریبِ رونمائی میں سیاست دانوں، بیورو کریٹس ، صحافیوں ، صحافتی تنظیموں کے نمائندوں اور ادبی شخصیات نے شرکت کی ،تقریب کے دوران لائٹ اسٹون پبلشرز کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے افتتاحی کلمات میں شرکاء کو خوش آمدید کہا، محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس کتاب میں میں نے اپنے الفاظ میں زندہ تاریخ ریکارڈ کی ہے، جو حکومت کی اعلیٰ ترین سطحوں پر کئی دہائیوں کی خدمات سے تشکیل پائی ہے۔ میری کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ بات جو ہر کوئی کہنے سے ڈرتا ہے آپ اسے لکھیں۔بحیثیت سول سرونٹ میں نے اکثر عظیم اور یہاں تک کہ خوفناک واقعات کا بھی مشاہدہ کیا ،میں نے اپنی بساط کے مطابق حقائق کو ویسے ہی بیان کرنے کی اپنی پوری کوشش کی ہے جیسا میں نے دیکھا ،یہ یادداشت تحقیقاتی کے بجائے بیانیہ ہے، جو ذاتی تجربات، کامیابیوں اور ناکامیوں کی عکاسی کرتی ہے، جبکہ تشریح تاریخ دانوں پر چھوڑتی ہے۔ ان کے کیریئر نے انہیں پاکستان کی تاریخ کے کئی اہم لمحات میں جگہ دی۔ راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر کے طور پرانہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کے آخری مرحلے کا مشاہدہ کیا اور پھانسی سے قبل ان سے ملنے والے آخری اہلکار تھے۔ لاہور کے کمشنر کے طور پرانہوں نے 1986 میں جلاوطنی سے واپسی پر بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا، بعد میں وزیر اعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پرانہوں نے 1999 کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا مشاہدہ کیا اور اس کے بعد دو سال قید میں گزارے۔

    محمد سعید مہدی نے تقریب سے خطاب میں اپنی زندگی کے واقعات سنائے اور کہا کہ ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں اڈیالہ جیل کی تعمیر عمل میں آئی۔ اس وقت کمشنر راولپنڈی تھا ایک روز جنرل ضیاء الحق نے مجھے طلب کیا اور ان سے دریافت کیا کہ اس جیل میں کون کون سی کلاسز تعمیر کی گئی ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ بی اور سی کلاس کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔ اس پر جنرل ضیاء الحق نے مزاق میں کہا کہ اس میں اے کلاس بھی بنا دی جائے، کیونکہ ممکن ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی کبھی اس جیل میں جانا پڑ جائے۔ اڈیالہ جیل میں پندرہ کمروں پر مشتمل اے کلاس بھی تعمیر کر دی گئی۔ قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ کئی برس بعد، جنرل پرویز مشرف کے دور میں مجھے گرفتار کیا گیا اور اسی اڈیالہ جیل میں رکھا گیا۔ اس موقع پر وہاں ان کے نام کی وہ تختی موجود تھی جو سنگِ بنیاد کے حوالے سے نصب کی گئی تھی۔ میں نے جیلر سے کہا کہ کم از کم اس تختی کی کچھ لاج رکھ لی جائے۔ دو دن بعد جب عدالت پیش کرنے کے لئے جیل سے باہر لایا گیا تو تختی سے میرا نام غائب تھا،

    اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے سعید مہدی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے دور میں لکھنا مشکل ہو چکا ہے، سعید مہدی کی کتاب ایک تاریخ ہے، اگر ہم کچھ لکھیں تو کئی بار سوچنا پڑتا ہے کبھی توہین عدالت، کبھی توہین مذہب کے الزام، کچھ بھی ہو سکتا ہے،اب تو عمران خان کا نام نہیں لکھا جاتا بلکہ بانی پی ٹی آئی کہا اور لکھا جاتا ہے،یہ کیا ہے، میں تو عمران خان ہی کہتا ہوں کیونکہ وہ میرا دوست ہے،

    ولید اقبال نے بھی مصنف محمد سعید مہدی کو خراج تحسین پیش کیا اور کتاب میں بعض غلطیوں کی بھی نشاندہی کی،جن کو انتظامیہ کی جانب سے اگلے ایڈیشن میں درست کرنے کی نشاندہی کی گئی.

    سینئر صحافی و تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ سعید مہدی سلطانی گواہ نہیں بنے عوامی گواہ بنے اور سرخرو ہوئے ۔ اہل صحافت کو بھی انکی کتاب پڑھنی چاہئے لکھنے والے نے کہیں بھی جھوٹ نہیں بولا ۔ انکے جذبات احساسات ہیں۔ بھٹو کی محبت انکے دل میں ہے ۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہے جو انکی زبانی ہم تک پہنچا۔ دائرے کا سفر پاکستان میں کب تک جاری رہے گا اس کا جواب سب کو تلاش کرنا ہے ماضی کو دوہرانے کا وقت نہیں۔ کاش نئے سرے سے آغاز سفر اور ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں تا کہ پاکستان آگے بڑھے

    سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ بھٹو کی پھانسی کو ہوتے دیکھا لیکن کچھ بدلتے بھی نہیں دیکھا، وہی کھیل تماشا اب بھی جاری ہے ۔ اب تو شاید سعید مہدی جیسا گواہ بھی نہ یو۔ ایک دھاندلی ہوئی تو اگلی نہ ہو ۔ کبھی کسی نے سبق نہیں سیکھا۔ پاکستان کے آئین پر تو ساری قوم متفق ہو اور جو اس سے پھرے تو اسکو سمجھایا جائے خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔ سعید مہدی کی گواہی معتبر ہے ، ہم واقعات سنتے تھے آج وہی کتاب میں تاریخ کا حصہ بن گئے ۔سعید مہدی خوش قسمت ہیں انکو تھانیداری چھوڑے 20 برس ہو گئے لیکن آج لوگ ان کے لیے گواہ بن کر آئے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا تھا کہ عینی گواہ بننے کے لیے آنکھ کافی نہیں۔ ضمیر بھی درکار ہوتا ہے۔

  • لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور ، ماں اور بیٹی مین ہول میں گر گئیں، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ کے قریب داتا دربار کے مین گیٹ کے سامنے ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون اپنی کمسن بیٹی کے ہمراہ کھلے مین ہول (گٹر) میں گر گئیں۔

    ریسکیو ذرائع کے مطابق انہیں واقعے کی اطلاع موصول ہوئی کہ بھاٹی گیٹ کے قریب ایک خاتون اور اس کی بیٹی گٹر میں گر گئی ہیں۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ گٹر گہرا ہونے کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ماں اور بیٹی کی تلاش کے لیے خصوصی آلات استعمال کیے جا رہے ہیں،عینی شاہدین کے مطابق مین ہول کا ڈھکن موجود نہیں تھا اور اندھیرے یا رش کے باعث خاتون اور بچی کو گٹر کا اندازہ نہ ہو سکا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔ شہریوں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے انتظامیہ کی غفلت کو ذمہ دار قرار دیا۔

  • برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کی پرواز کا پہیہ ٹیک آف کے دوران گر گیا

    برٹش ایئرویز کے ایک مسافر بردار طیارے کو پیر کے روز اس وقت ایک غیر معمولی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا جب ٹیک آف کے دوران اس کا ایک پہیہ نیچے جا گرا۔ واقعے کے باوجود طیارے نے پرواز جاری رکھی اور بحرِ اوقیانوس عبور کرنے کے بعد بحفاظت لندن پہنچ گیا۔

    تفصیلات کے مطابق برٹش ایئرویز کی پرواز، جو جدید ایئر بس A350-1000 طیارے کے ذریعے آپریٹ کی جا رہی تھی، پیر کی شب امریکی ریاست نیوایڈا کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لندن کے لیے روانہ ہوئی۔ طیارے نے رات 9 بجکر 10 منٹ پر اڑان بھری، تاہم ٹیک آف کے فوری بعد طیارے کا پچھلا پہیہ نیچے جا گرا۔ذرائع کے مطابق پہیہ گرنے کے واقعے کے باوجود طیارے کے عملے نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا اور تمام حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کرتے ہوئے پرواز کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ طیارہ بحرِ اوقیانوس کے اوپر سے پرواز کرتا ہوا مقررہ وقت سے 27 منٹ قبل لندن کے ایئرپورٹ پر بحفاظت لینڈ کر گیا، جہاں ایوی ایشن حکام اور انجینئرنگ ٹیمیں پہلے سے موجود تھیں۔

    ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ طیارے میں سوار تمام مسافر اور عملے کے ارکان محفوظ رہے اور کسی قسم کے جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ لینڈنگ کے بعد طیارے کا تکنیکی معائنہ کیا گیا جبکہ ایئرپورٹ پر سیکیورٹی اور ایمرجنسی سروسز بھی الرٹ رہیں۔برٹش ایئرویز کے ترجمان نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور سلامتی ایئرلائن کی اولین ترجیح ہے۔ ان کے مطابق طیارے کا پہیہ گرنے کی وجہ فی الحال معلوم نہیں ہو سکی، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں تاکہ اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔

  • فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    فتنہ الہندستان عورتوں کے شکاری،ضلع کیچ سے مقامی خاتون کو اغوا کر لیا

    ضلع کیچ کے علاقے بلاچا کے پاس کرولا گاڑی میں سوار چند لوگ آئے اور ایک مقامی عورت نرگس کو زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر بھاگے۔

    عورت کے شوہر نے جب دیکھا تو اپنے بھتیجے کے ساتھ گاڑی کا پیچھا کیا اور ناصرآباد سٹی میں گاڑی روکنے پر کامیاب ہوا۔گاڑی سے ایک شخص کلاشنکوف سے مسلح نیچے اترا اور پیچھے سے دو موٹر سائیکل سوار فتنہ الہندستان کا پرچم اوڑے بھی نمودار ہوئے۔ انہوں نے عورت کے شوہر اور بھتیجے کو خوب مارا اور عورت کو لے کر جنگل کی طرف بھاگ گئے۔ماہرین کے مطابق فتنہ الہندستان کے یہ درندے اسی طرح معصوم خواتین کو اغوا کر کے ان کے ساتھ بدفعلی کرتے ہیں اور وڈیو بنا کر ان کو شاری بلوچ کی طرح بناتے ہیں۔فتنہ الہندستان معاشرے کا وہ ناسور بن چکے ہیں جن سے عام عوام کی زندگی اور عزت دونوں خطرے میں ہے

    واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اغوا کاروں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کی جائے۔ مقامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات علاقے میں خواتین کے تحفظ پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں اور عوام میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔پولیس حکام کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کی تفتیش کی جا رہی ہے اور ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔