Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش

    کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں طالبہ کی مبینہ خودکشی کی کوشش

    لاہور میں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں طالبہ نے مبینہ خودکشی کی کوشش کی ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپتال ذرائع کے مطابق طالبہ نے مبینہ طور پر خواب آور گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔ طالبہ کو حالت غیر ہونے پر میو اسپتال لایا گیا، ڈاکٹروں نے طالبہ کی جان بچانے کے لیے وینٹی لیٹر پر رکھا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق طلبہ کا کمرہ ہاسٹل کے بیسمنٹ میں ہے۔ترجمان کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی کے مطابق طالبہ کی حالت خطرے سے باہر ہے، طالبہ کو فوری طبی امداد دی گئی، ڈاکٹروں کی ٹیم دیکھ رہی ہے،یونیورسٹی ترجمان کے مطابق طالبہ کو طبی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔

  • ترکیے نےٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شرکت کی دعوت قبول کرلی

    ترکیے نےٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ میں شرکت کی دعوت قبول کرلی

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ترکیے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے قائم کیے جانے والے عالمی امن کے فورم ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کرلی ہے۔ اس بورڈ میں ترکیے کی نمائندگی وزیر خارجہ ہاکان فیدان کریں گے، جو صدر رجب طیب اردوان کی جانب سے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی اور بتایا کہ وزیر خارجہ ہاکان فیدان ’بورڈ آف پیس‘ میں ترکیے کی اعلیٰ سطح پر نمائندگی کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن، سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے ترکیے کا کردار ہمیشہ تعمیری رہا ہے اور اس فورم میں شمولیت اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ ترک صدر رجب طیب اردوان کو بھی ’بورڈ آف پیس‘ کی رکنیت کی دعوت دی تھی۔ اس بورڈ کا مقصد عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ، بین الاقوامی تنازعات کے حل اور اہم جغرافیائی و سیاسی معاملات پر مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا بتایا جا رہا ہے۔

    صدر ٹرمپ کی زیر صدارت ’بورڈ آف پیس‘ کی باضابطہ تقریب جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں منعقد ہوگی، جو عالمی اقتصادی فورم (ورلڈ اکنامک فورم) کے سالانہ اجلاس کے موقع پر رکھی گئی ہے۔ اس تقریب میں دنیا بھر سے منتخب رہنما، سفارت کار اور پالیسی ساز شرکت کریں گے۔اس سے قبل یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ہاکان فیدان ایک علیحدہ ’غزہ ایگزیکٹو بورڈ‘ کے بھی رکن ہیں۔ اس بورڈ میں امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو، امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ یہ فورم غزہ کی صورتحال، انسانی امداد اور خطے میں امن کے امکانات پر غور کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

    ترک وزارت خارجہ کے مطابق ہاکان فیدان جمعرات کو ہونے والی دستخطی تقریب میں شرکت کریں گے اور ’بورڈ آف پیس‘ کے اجلاسوں میں ترکیے کے مؤقف، سفارتی ترجیحات اور علاقائی امن سے متعلق پالیسی کو مؤثر انداز میں پیش کریں گے۔

    خیال رہے کہ پاکستان، متحدہ عرب امارات، بحرین، آذربائیجان، اسرائیل، مراکش اور مصر بھی ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت قبول کرچکے ہیں، جب کہ مختلف خطوں سے مزید ممالک کی شرکت متوقع ہے۔امریکی صدر کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کے مطابق اب تک 20 سے 25 عالمی رہنما ’بورڈ آف پیس‘ میں شامل ہوچکے ہیں، جس سے اس فورم کی عالمی اہمیت اور اثرورسوخ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

  • ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کا سلسلہ جاری

    ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کا سلسلہ جاری

    ناکام خارجہ پالیسی کے باعث عالمی سطح پر بھارت کی ہزیمت کا سلسلہ جاری ہے

    انتہا پسندنظریات اور ناکام سفارت کاری کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر مسلسل ہزیمت کا سامنا ہے،پولینڈ کے نائب وزیراعظم نے دہشتگردی پر بھارت کاگمراہ کن بیانیہ یکسر مسترد کر دیا، پولینڈ کے نائب وزیراعظم سیکورسکی نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر منافقانہ بھارتی پالیسی اور جھوٹ بے نقاب کر دیا،بھارتی جریدے دی ہندو کے مطابق ؛ نئی دہلی میں ملاقات کے دوران بھارت اور پولینڈ کے درمیان سفارتی کشیدگی کھل کر سامنے آگئی،صحافیوں سے گفتگو میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم سیکورسکی نے کہاکہ؛ بھارت نے روس میں ہونے والی زاپاد 2025 فوجی مشقوں میں حصہ لیا، جنہیں ہم خطرناک سمجھتے ہیں،دہشتگردی کے معاملے میں ہم ایک ہی سوچ رکھتے ہیں، لیکن یقیناً بھارت کے حوالہ سے ہمارے تحفظات ہیں،

    پولینڈ کے نائب وزیراعظم کا بیان اس موقف کی تائید ہے کہ بھارت نیٹ ریجنل ڈی سٹیبلائزر ہے

  • افغان طالبان رجیم عوامی فلاح وبہبود سے لاتعلق، فقط دہشتگردی پر زور

    نااہل افغان طالبان رجیم نے افغانستان کو اقتصادی اور سماجی تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا

    افغان انٹرنیشنل میں شائع بجٹ کےاعدادوشمار پر مبنی رپورٹ نےافغان طالبان رجیم کے جھوٹ کا پول کھول دیا،افغان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم نے عوامی ترقیاتی منصوبوں کو مکمل نظر انداز کر دیا،رپورٹ کے مطابق معاشی بحران سے دوچار افغان طالبان رجیم نے بجٹ کا88فیصد غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کیا ، افغان طالبان رجیم کے کھوکھلے دعوؤں کے برعکس 60ارب افغانی مالیت کے منصوبے زیادہ تر علامتی بن کے رہ گئے، سنگین معاشی بحران کے باوجود افغان طالبان نے معاشی اور سماجی شعبوں کو ترجیحی فہرست سے خارج کردیا، افغان طالبان رجیم کے بعد افغانستان کا ترقیاتی بجٹ 131ارب افغانی سے کم ہو کر صرف24ارب افغانی رہ گیا ، افغان طالبان رجیم کے جنرل ڈائریکٹوریٹ نے بجٹ سے 4.1 ارب افغانی کی ہیر پھیر بھی کی ، افغان طالبان رجیم نے جنگجووں کیلئے بجٹ کا بڑا حصہ مختص کیا، ملا ہیبت اللہ کی سیکیورٹی پر اربوں افغانی مختص کر دیئے گئے ،آزاد میڈیا پر پابندیاں اور پروپیگنڈا کے نظام کو متحرک کرنے کے لیے ریڈیو اور ٹی وی کے بجٹ میں 14 گنا اضافہ کر دیا ، افغانستان کا بجٹ ترقیاتی اہداف کے بجائے طالبان رجیم کی طرف سے وسائل کی لوٹ مار کو ظاہر کرتا ہے

  • بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل

    بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل

    حکومتی کاوشوں سے بلوچستان میں محفوظ سفر کیلئے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکیورٹی انتظامات مکمل کر لئے گئے

    بلوچستان میں حکومتی کاوشوں سے ریلوے سفر کو بلوچ عوام کیلئے محفوظ اور پُر اعتماد بنا دیا گیا،وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا،وفاقی وزیر ریلوے نے جعفر ایکسپریس میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس بی کے سی بوگی کو مؤثر اقدام قرار دیا،حنیف عباسی نے فول پروف سیکیورٹی انتظامات پر پاک فوج اور ایف سی بلوچستان نارتھ کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہا،وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ؛ جعفر ایکسپریس کو بلوچستان کے مسافروں کیلئے محفوظ، پُر اعتماد اور تسلی بخش بنا دیا گیا ہے

    وفاقی وزیر ریلوے نے مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کو حکومت اور پاک فوج کی اولین ترجیح قرار دیا ،ریلوے ٹریکس کی 24 گھنٹے نگرانی، جدید کیمروں کی تنصیب اور ٹرین میں مناسب سیکیورٹی اسٹاف کی دستیابی بھی یقینی بنائی گئی ہے ،پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کی مؤثر سیکیورٹی کی بدولت بلوچستان کے عوام کا ریلوے کے سفر پر اعتماد بحال ہو رہا ہے،سیکیورٹی فورسز کے بلوچستان میں جدید سیکیورٹی اقدامات سے سفری سہولیات کو فروغ مل رہا ہے،حکومت اور سیکیورٹی ادارے بلوچستان میں پائیدار امن کیلئے مشترکہ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں

  • قومی اسمبلی میں گدھوں کے گوشت کی گونج،وفاقی وزیر کا واضح جواب دینے سے گریز

    قومی اسمبلی میں گدھوں کے گوشت کی گونج،وفاقی وزیر کا واضح جواب دینے سے گریز

    فاقی وزیر فوڈ سکیورٹی رانا تنویر نے اسلام آباد میں گدھوں کے گوشت سے متعلق واضح جواب دینے سے گریز کیا۔

    نجی ٹی وی کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں گدھوں کے گوشت کے معاملے پر شازیہ صوبیہ سومرو نے کہا کہ اسلام آباد میں گدھےکا گوشت کھلایا جاتا ہے اس کو کون دیکھتا ہے؟ اس پر رانا تنویر نے واضح جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملات صوبائی حکومت دیکھتی ہے اور پنجاب حکومت اس پرلیڈ لیتی ہے، سب سے پہلے فوڈ اتھارٹی پنجاب حکومت نے بنائی، گدھوں کی کھالوں اور گوشت کے زیادہ تر معاملات صوبوں سے متعلق ہیں، یہ سب سبجیکٹس 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہوگئے ہیں، اس معاملے کو نیشنل فوڈ سکیورٹی نہیں ڈسٹرکٹ فورڈ اتھارٹیز دیکھتی ہیں، بعض ریسٹورینٹ والے منافع خوری کے لیے مردہ مرغیوں کا گوشت استعمال کرتے ہیں

  • کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    کراچی،مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والا ملزم گرفتار، لوٹا ہوا سامان برآمد

    پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے مندر سے مورتیاں، چاندی اور نقدی چرانے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق جدید تفتیشی ذرائع اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کو صدر کے علاقے سے حراست میں لیا گیا، جب کہ اس کے قبضے سے واردات میں لوٹا گیا سامان بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

    پولیس حکام کے مطابق ڈولی کھاتہ پیر ٹول مندر میں 14 جنوری کو چوری کی واردات پیش آئی تھی، جس میں دو ملزمان مندر میں داخل ہوئے اور وہاں سے 5 قیمتی مورتیاں، پیتل اور تانبے کے برتن، زیورات کے ڈبے چرا کر فرار ہوگئے تھے۔ اس کے علاوہ مندر میں موجود چندہ بکس سے تقریباً 75 ہزار روپے نقدی بھی غائب پائی گئی تھی، جس پر مندر انتظامیہ نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

    واقعے کے بعد پولیس نے مندر اور اطراف کے علاقوں میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا تفصیلی جائزہ لیا، جس کی بنیاد پر ایک ملزم کی شناخت ممکن ہوئی۔ پولیس نے کامیاب چھاپہ مار کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو صدر کے علاقے سے گرفتار کیا اور اس کے قبضے سے چوری شدہ مورتیاں، چاندی، برتن اور نقدی برآمد کرلی۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران اہم انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کے مطابق واردات میں ملوث ملزم کا ایک ساتھی تاحال فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

  • حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    حکومت کا پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا اعلان

    وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر نے پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت قومی صنعتی اداروں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اور عملی اقدامات کر رہی ہے، تاکہ ملکی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

    اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ہارون اختر نے بتایا کہ پاکستان اسٹیل ملز کی بحالی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف آپشنز پر کام جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز میں سرمایہ کاری کے لیے صرف روس ہی نہیں بلکہ چار مختلف بین الاقوامی پارٹیز نے دلچسپی ظاہر کی ہے، جن کے ساتھ مشاورت اور ابتدائی بات چیت کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت شفافیت اور قومی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ہارون اختر نے کہا کہ اسٹیل ملز کی بحالی سے نہ صرف صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق بند پڑے صنعتی یونٹس کو دوبارہ چلانا حکومت کی صنعتی پالیسی کا اہم حصہ ہے۔

    میڈیا بریفنگ کے دوران معاونِ خصوصی نے اعلان کیا کہ حکومت جلد نیو انرجی وہیکل (NEV) پالیسی متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کا مقصد ماحول دوست گاڑیوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ مقامی آٹو انڈسٹری کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کے تحت الیکٹرک اور ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری اور استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔ہارون اختر نے مزید بتایا کہ حکومت ویکسین پالیسی اور سولر پالیسی بھی لا رہی ہے، تاکہ صحت اور توانائی کے شعبوں میں خود کفالت حاصل کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولر انرجی کے فروغ سے نہ صرف بجلی کے بحران پر قابو پانے میں مدد ملے گی بلکہ صنعتی لاگت میں بھی کمی آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت پیداواری شعبے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اسی سلسلے میں یہ بھی غور کیا جا رہا ہے کہ ہوم اپلائنسز کی تیاری پاکستان میں ہی کی جائے، تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور مقامی صنعت کو فروغ ملے۔

  • پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے خواجہ آصف کے 18 ویں‌آئینی ترمیم بارے بیان پر وضاحت مانگ لی

    پیپلز پارٹی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے 18ویں آئینی ترمیم سے متعلق بیان پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے حکومت سے باضابطہ وضاحت طلب کر لی ہے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بھی گرما گرم بحث دیکھنے میں آئی، جہاں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے حکومتی مؤقف کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے سانحہ گل پلازہ پر گفتگو کرتے ہوئے اچانک 18ویں ترمیم کا حوالہ دیا، جو ایک نہایت حساس اور آئینی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ خواجہ آصف مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی لیڈر بھی ہیں، اس لیے ان کے بیان کو محض ذاتی رائے نہیں بلکہ حکومت کی پالیسی کے طور پر دیکھا جائے گا۔نوید قمر نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ ماضی میں کئی تجربات کیے گئے اور ہر تجربے کے نتیجے میں ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض تجربات نے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، لہٰذا وفاقی حکومت سے پُرزور مطالبہ ہے کہ اب مزید کسی قسم کے تجربات سے باز رہا جائے اور آئین کے تحت طے شدہ نظام کو کمزور نہ کیا جائے۔انہوں نے زور دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم پارلیمنٹ کا متفقہ فیصلہ ہے، جس کے ذریعے صوبوں کو ان کے آئینی حقوق دیے گئے۔ اس ترمیم پر سوال اٹھانا دراصل وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، جس کی پیپلز پارٹی کسی صورت اجازت نہیں دے سکتی۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے خواجہ آصف کے بیان سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے اسے ان کی ذاتی رائے قرار دے دیا۔ قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہر فرد کو اپنی ذاتی رائے رکھنے کا حق حاصل ہے، تاہم ایسی آرا کو حکومت کی پالیسی نہ سمجھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے تمام اہم فیصلے پارلیمنٹ کی مشاورت اور رضامندی سے کیے جاتے ہیں۔وفاقی وزیر قانون نے واضح کیا کہ آئینی ترامیم یا اختیارات کی تقسیم جیسے معاملات انفرادی بیانات سے نہیں بلکہ پارلیمانی عمل کے ذریعے طے پاتے ہیں، اور حکومت آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی فیصلے کرے گی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ 18ویں آئینی ترمیم ایک “ڈھکوسلا” ثابت ہوئی ہے، کیونکہ اس کے نتیجے میں تمام اختیارات صوبائی حکومتوں کو منتقل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کراچی میں پیش آنے والے مختلف واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ اختیارات کو مزید نچلی سطح، یعنی بلدیاتی اداروں تک منتقل کیا جائے۔

  • خواجہ آصف کو سیالکوٹیوں نے "ماموں” بنا دیا،نقلی پیزا ہٹ برانچ کا افتتاح کروا دیا

    خواجہ آصف کو سیالکوٹیوں نے "ماموں” بنا دیا،نقلی پیزا ہٹ برانچ کا افتتاح کروا دیا

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے اپنے آبائی شہر سیالکوٹ کے کنٹونمنٹ علاقے میں ایک پیزا ہٹ آؤٹ لیٹ کے افتتاح کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ متنازع بن گیا۔پیزا ہٹ کا افتتاح ہوا، وزیر دفاع پہنچے،پھولوں کے ساتھ استقبال،کھانے چلے ،معاملہ اس وقت دلچسپ ہوا جب پیزا ہٹ کی جانب سے کہا گیا ہماری تو سیالکوٹ میں کوئی برانچ ہی نہیں،یہ غیر قانونی ہے

    ویڈیو منظرِ عام پر آتے ہی عالمی فوڈ چین پیزا ہٹ کی مقامی انتظامیہ نے اس برانچ سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے اور اسے غیر قانونی قرار دیا ہے۔پیزا ہٹ پاکستان کی جانب سے انسٹاگرام پر جاری ایک باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ سیالکوٹ کینٹ میں کھولا گیا آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کے نام اور برانڈ کا غیر مجاز اور غلط استعمال کر رہا ہے۔ بیان میں واضح کیا گیا کہ اس آؤٹ لیٹ کا پیزا ہٹ پاکستان یا اس کی عالمی پیرنٹ کمپنی Yum! Brands سے کوئی تعلق نہیں۔کمپنی کے مطابق یہ نام نہاد آؤٹ لیٹ نہ تو پیزا ہٹ انٹرنیشنل کی مستند ترکیبوں (ریسیپیز) پر عمل کرتا ہے اور نہ ہی وہاں معیار، کوالٹی کنٹرول، کھانے کے تحفظ (فوڈ سیفٹی) اور آپریشنل معیارات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ پیزا ہٹ پاکستان نے صارفین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اس غیر قانونی آؤٹ لیٹ کو اصل پیزا ہٹ نہ سمجھیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کمپنی نے اپنے ٹریڈ مارک کے غلط استعمال کو روکنے اور فوری قانونی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ حکام کے پاس باقاعدہ شکایت درج کرا دی ہے، تاکہ صارفین کے اعتماد اور برانڈ کی ساکھ کو نقصان سے بچایا جا سکے۔پیزا ہٹ پاکستان نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں اس کے کل 16 مستند اور قانونی اسٹورز کام کر رہے ہیں، جن میں سے 14 لاہور جبکہ 2 اسلام آباد میں واقع ہیں۔ سیالکوٹ یا کسی دوسرے شہر میں اس کے علاوہ کوئی بھی آؤٹ لیٹ پیزا ہٹ کا مجاز نمائندہ نہیں۔

    واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ جعلی برانڈنگ کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ عوام کو دھوکے سے بچایا جا سکے۔