Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چوک شاہراہ دستور پر حادثہ، دو خواتین کی موت

    چوک شاہراہ دستور پر حادثہ، دو خواتین کی موت

    اسلام آباد میں سیکریٹریٹ چوک شاہراہ دستور پر گاڑی نے اسکوٹی کو ٹکر مار دی جس میں 2 خواتین جاں بحق ہو گئی ہیں.

    پولیس ذرائع کے مطابق جاں بحق خواتین کی شناخت ثمرین اور تابندہ کے نام سے ہوئی، واقعے کا مقدمہ جاں بحق لڑکی ثمرین کے بھائی کی مدعیت میں تھانہ سیکریٹریٹ میں درج کر لیا گیا،پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے گاڑی کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے،ایف آئی آر کے متن کے مطابق میری بہن اپنی دوست کے ہمرا گھر واپس آرہی تھی، بہن کے نمبر سے کال آنے پر پتہ چلا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور اسپتال میں ہے،مقتولہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ اسپتال جاکر دیکھا تو میری بہن اور اس کی دوست جاں بحق ہو چکی تھی،پولیس ذرائع نے بتایا کہ گرفتار ڈرائیور کے والد کا تعلق عدلیہ سے ہے۔

  • پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری، بل کی منظوری سے قیدی 804 کو کچھ نہیں ہوگا ،وزیر قانون

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جاری، بل کی منظوری سے قیدی 804 کو کچھ نہیں ہوگا ،وزیر قانون

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا

    قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل زیر غور لانے کی تحریک ایوان میں پیش کی گئی جس پر اپوزیشن نے شدید مخالفت کی اور نو نو کے نعرے لگائے،بل زیر غور لانے کی تحریک منظور شق وار منظوری جاری ہے،وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ میں ہاتھ جوڑ کر اپوزیشن سے درخواست کرتا ہوں کہ اقلیتوں کے حقوق کے بل کی مخالفت نہ کریں ،اس بل کی منظوری سے قیدی 804 کو کچھ نہیں ہوگا ،ہم نے بیرسٹر گوہر کی تجاویز بھی شامل کرلی ہیں ،الحمدُللہ، نہ ہمارے والدین کی ایسی تربیت ہے اور نہ ہی ہمارے خون میں یہ بات ہے کہ ہم کوئی ایسا کام کریں جس سے فتنۂ قادیان کو ہوا ملے

    سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پورے پاکستان میں اپوزیشن کا گلا گھونٹا جا رہا ہے، سانس لینا بھی مشکل کیا جا رہا ہے، بنیادی حقوق پامال ہو رہے ہیں، عمران خان کی جماعت الیکشن جیتی لیکن فارم 47 آ گیا، ملاقات بھی مسئلہ بنا ہوا ہے۔

    پارلیمنٹ اجلاس کے دوران سینیٹر کامران مرتضیٰ اور سپیکر ایاز صادق کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،کامران مرتضیٰ کو الاٹ نشست پر ان کی اہلیہ عالیہ کامران براجمان ہو گئیں جس پر ایاز صادق نے کہا کہ آپ اپنی نشست پر جاکر فلور مانگیں، عالیہ کامران نے کہا کہ میں اپنی نشست نہیں دوں گی۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ میری نشست پر عالیہ کامران نے قبضہ کر رکھا ہے، سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ مولانا صاحب یہ دیکھیں عالیہ کامران ان کو نشست نہیں دے رہیں،کامران مرتضیٰ نے کہا کہ سر دیکھ لیں مشترکہ اجلاس میں میری حالت کا اندازہ لگالیں، سینیٹر کامران مرتضیٰ کے جواب پر ایوان میں قہقے گونج اٹھے.

    قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 پر بحث،سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ قانون سازی کے ذریعے کمیشن کو ازخود نوٹس کا اختیار دیا جا رہاہے، ایک طرف عدالتوں سے اختیار لیا جا رہا ہے، دوسری طرف اس کمیشن کو دیا جا رہاہے۔ جو لوگ خود کو غیر مسلم نہیں سمجھتے وہ اس قانون سازی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے، وفاقی حکومت نے سیکشن 35 نکالنے کی اپوزیشن کی ترمیم کی حمایت کر دی،وزیر قانون نے کہا کہ اس کمیشن کے پاس سزا جزا کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے،وفاقی حکومت نے کمیشن کو ازخود نوٹس اختیار دینے کی اپوزیشن کی تجویز بھی مان لی

  • انڈیگو ایئرلائنز کی کویت سے حیدرآباد آنے والی پرواز کو بم کی دھمکی

    انڈیگو ایئرلائنز کی کویت سے حیدرآباد آنے والی پرواز کو بم کی دھمکی

    کویت سے بھارتی حیدرآباد آ نے والی انڈیگو ایئر لائنز کی ایک پرواز کو منگل کے روز اُس وقت ہنگامی طور پر ممبئی کی طرف موڑ دیا گیا جب حیدرآباد ایئرپورٹ کو ایک مشتبہ ای میل موصول ہوئی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طیارے میں "انسانی بم” سوار ہے۔ دھمکی موصول ہوتے ہی ایوی ایشن سیکیورٹی اداروں میں کھلبلی مچ گئی اور فوری طور پر حفاظتی پروٹوکول کے تحت فلائٹ کو ڈائیورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق طیارہ ممبئی ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا گیا، جہاں لینڈنگ کے فوری بعد مسافروں کو منظم طریقے سے اتار کر سیکیورٹی کور میں منتقل کیا گیا۔طیارے کو ایئرپورٹ کے آئیسولیشن زون میں پارک کیا گیا، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور سی آئی ایس ایف کی خصوصی ٹیموں نے جہاز کی مکمل تلاشی لی،ابتدائی طور پر کوئی دھماکا خیز مواد یا مشکوک شے برآمد نہیں ہوئی، تاہم سیکیورٹی اداروں نے بتایا کہ تمام پروٹوکول مکمل ہونے تک طیارہ اور اس کا سامان دوبارہ چیکنگ کے عمل سے گزرے گا۔

    سیکیورٹی اہلکاروں کے مطابق دھمکی آمیز ای میل کا سراغ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ابتدائی شبہ ہے کہ یہ ای میل کسی نامعلوم آئی ڈی سے بھیجی گئی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سائبر سیل معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مکمل فورنزک تجزیہ کرے گا۔

    واضح رہے کہ حال ہی میں دہلی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد بھارتی سیکیورٹی ادارے پہلے ہی ہائی الرٹ پر تھے۔ اس کے باوجود گزشتہ دو ہفتوں کے دوران متعدد پروازوں، ایئرپورٹس اور ایوی ایشن تنصیبات کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔دو ہفتے قبل کینیڈا کے ٹورنٹو سے دہلی آنے والی پرواز میں مبینہ بم کی افواہ نے کھلبلی مچا دی تھی۔اسی طرح ممبئی سے وارانسی جانے والی ایک پرواز کو بھی جعلی دھمکی کے بعد روکنا پڑا۔ دہلی، گوا اور چنئی ایئرپورٹس کو بھی بم سے اڑانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ایئرپورٹ حکام کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر دھمکی، خواہ وہ جھوٹی ہی کیوں نہ ہو، انتہائی سنجیدگی سے لی جاتی ہے۔

    انڈیگو انتظامیہ کے مطابق تمام مسافر محفوظ ہیں اور انہیں متبادل فلائٹ یا مزید ہدایات کے لیے ایئرپورٹ لاؤنج میں منتقل کر دیا گیا ہے۔فلائٹ کی دوبارہ روانگی سیکیورٹی کلیئرنس کے بعد ہی ممکن ہوگی۔

  • اہلیہ شیوان زیلس بھارتی نژاد اور لے پالک ہیں، ایلون مسک

    اہلیہ شیوان زیلس بھارتی نژاد اور لے پالک ہیں، ایلون مسک

    ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے بتایا ہے کہ اِن کی شریکِ حیات شیوان زیلس بھارتی نژاد اور لے پالک ہیں۔

    نجی ٹی وی کے مطابق ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ایلون مسک نے انکشاف کیا کہ اِن کے ایک بیٹے کا مڈل نام ’شیکھر‘ ہے، بیٹے کا یہ نام بھارتی نژاد امریکی ماہرِ طبیعات اور نوبیل انعام یافتہ سبراہمین چندر شیکھر کے نام پر رکھا ہے،ایلون مسک کے مطابق اِن کی اہلیہ، شیوان زیلس کینیڈا میں پلی بڑھیں۔ شیوان کو بچپن میں ہی گود لے لیا گیا تھا جبکہ اِن کے والد کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ بھارت سے کینیڈا کی کسی یونیورسٹی میں بطور طالبِ علم آئے تھے،شیوان زیلس نے 2017ء میں مسک کی کمپنی نیورالنک میں شمولیت اختیار کی تھی جہاں وہ اس وقت ڈائریکٹر آف آپریشنز اور اسپیشل پروجیکٹس کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

    ایلون مسک کی اہلیہ شیوان نے ییل یونیورسٹی سے اکنامکس اور فلاسفی میں ڈگری حاصل کر رکھی ہے،مسک اور زیلس کے چار بچے ہیں جن میں جڑواں بیٹے اسٹرائیڈر اور ازورے، بیٹی آرکاڈیا اور بیٹا سیلڈن لائکورگس شامل ہیں،ایلون مسک کا کہنا ہے کہ سخت امریکی ویزا پالیسیوں اور غیر یقینی حالات کے باعث بڑی تعداد میں امیگریشن کے خواہشمند افراد کے لیے امریکی ویزا حاصل کرنے کا خواب مشکل بنتا جا رہا ہے

  • صدر مملکت کی متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر مبارکباد،پیغام جاری

    صدر مملکت کی متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر مبارکباد،پیغام جاری

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے متحدہ عرب امارات کے قومی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان اور عوامِ پاکستان کی جانب سے، میں متحدہ عرب امارات کی قیادت اور برادر عوام کو ان کے قومی دن پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ پاکستان متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان کو اس بات پر فخر ہے کہ اس نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کو سب سے پہلے تسلیم کیا۔ ہمارے تعلقات مشترکہ ایمان، باہمی اعتماد، نسل در نسل قائم باہمی رشتوں اور امن و خوشحالی کی مشترکہ امنگوں پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مضبوط تر اور گہرے ہوتے چلے گئے ہیں۔ہمارے دونوں ممالک کے تعلقات میری فیملی کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہمارے خاندان کی چار نسلوں کا متحدہ عرب امارات کے ساتھ خصوصی تعلق رہا ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اس کے بانی قائدین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کیے۔ بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری ایام متحدہ عرب امارات میں گزارے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے مشکل برسوں میں متحدہ عرب امارات میں جلاوطنی کے دن گزارے۔ آج میری بیٹی متحدہ عرب امارات کو اپنا گھر بنا چکی ہے، اور مجھے طویل عرصے سے اماراتی شاہی قیادت کے ساتھ گرم جوش اور مضبوط تعلقات کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ تمام رشتے ہمارے عوام کے درمیان محبت اور اعتماد کی جھلک ہیں۔

    صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ مجھے پورا یقین ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور دفاع کے شعبوں میں بڑھتا ہوا تعاون ہمارے مشترکہ مقاصد کو مزید آگے بڑھائے گا۔ امارات میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی ہمارے دونوں ممالک کے درمیان اہم رابطے کا ذریعہ ہے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرتی ہے۔پاکستان اس شاندار شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے اور متحدہ عرب امارات کیلئے امن، ترقی اور خوشحالی کے لئےمسلسل دعاگو ہے۔

  • افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ

    افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں،تربیتی مراکز دنیا بھر کے امن کیلئے سنگین خطرہ ہیں

    دنیا بھر میں دہشتگردی میں افغان سرزمین کے استعمال کے پاکستانی مؤقف کی جیت ہو گئی ہے، عالمی جریدے "یوریشیا ریویو” کے مطابق افغانستان بطور ایک عالمی دہشت گرد پناہ گاہ بن چکا ہے جس کے شواہد بھاری اور ناقابل تردید ہیں، یوریشیا ریویو کے مطابق طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان پھر وہی روپ دھار رہا ہے جیسا دنیا نے دوبارہ نہ ہونے دینے کا عہد کیا تھا،طالبان کے اقتدار کے بعد افغانستان تیزی سے بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بنتا جا رہا ہے، تاجکستان میں چینی انجینئرز پرافغانستان سے منسلک ڈرون حملہ، دہشت گردی کے سرحد پار پھیلنے کا ثبوت ہے،واشنگٹن ڈی سی میں 2نیشنل گارڈز کا قاتل افغان شہری تھا،جس کے افغانستان سےسرگرم دہشتگرد نیٹ ورکس سے روابط تھے،دہشتگردی جو کبھی صرف پاکستان کو نشانہ بناتی تھی اب ہر سمت پھیل رہی ہے، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایجنسیاں مسلسل خبردار کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں دوبارہ مضبوط ہو رہی ہیں،رپورٹ واضح کرتی ہیں کہ افغانستان غیر ملکی و مقامی دہشت گرد تنظیموں کا مرکز ہے، ڈنمارک کی نمائندہ کے مطابق 6000 ٹی ٹی پی دہشت گرد افغانستان میں سرگرم ہیں، جن کو طالبان حکومت مددکر رہی ہے،

    داعش خراسان، القاعدہ، مشرقی ترکستان کے عسکریت پسنداور وسطی ایشیائی گروہ افغانستان سے فعال ہیں، افغانستان میں دہشتگرد تنظیمیں بھرتی، پروپیگنڈا اور کرپٹو فنڈنگ چلا رہی ہیں،روس نے بھی افغان سرزمین پر موجود شدت پسند نیٹ ورکس کو سنگین علاقائی خطرہ قرار دیا،افغانستان میں موجود دہشت گردوں کی تعداد 13,000 سے زائد ہو چکی ہے، طالبان حکومت دہشت گرد گروہوں کو روکنے کی نہ صلاحیت رکھتی ہے اور نہ نیت،عالمی دہشت گرد تنظیموں کیلئے افغانستان پناہ گاہ، بھرتی مرکز اور لانچ پیڈ بن چکا ہے، تاجکستان میں حملہ ’’ایک واقعہ‘‘ نہیں بلکہ آنے والے شدید خطرات کی علامت ہے،پاکستان برسوں سے افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کا سب سے بڑا نشانہ رہا ہے،پاکستان، وسطی ایشیا اور خطے کے ممالک اس خطرے کا وزن اکیلے نہیں اٹھا سکتے، عالمی اور علاقائی ممالک نے ملکر حکمتِ عملی نہ بنائی تو افغانستان دہشت گردوں کیلئے ایک ملکی سطح کا محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا،اگر واضح حکمت عملی نہ اپنائی گئی تو دہشت گردی سےنہ امریکا محفوظ رہے گا نہ یورپ اور نہ خلیجی ممالک،

    افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے

  • نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کورس کے شرکاء کا میران شاہ کا دورہ

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں کورس کے شرکاء کا میران شاہ کا دورہ

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں جاری کورس کے 35 رکنی سول افسران کے وفد نے میران شاہ کا دورہ کیا

    جنرل آفیسر کمانڈنگ میران شاہ نے وفد کی آمد پر ان کا استقبال کیا ،وفد نے یاد گارِ شہدا پر پھول چڑھائے اور شہدا کے بلند درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی ،وفد کو علاقائی سیکیورٹی صورتحال، انسداد دہشتگردی چیلنجز اور قیامِ امن میں سیکورٹی فورسز کے کردار پر بریفننگ دی گئی ،وفد کے شرکاء کو معاشی خوشحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا،وفد کو ٹوچی میوزیم اور تکنیکی ہال کا دورہ بھی کرایا گیا، میوزیم میں وفد نے تاریخی اور عسکری اہمیت کی حامل اشیاء کا مشاہدہ کیا ،وفد نے پاک فوج کی شمالی وزیرستان کی ترقی اور امن کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بے حد سراہا

  • بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، عطا تارڑ

    بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ”پاکستان پاپولیشن سمٹ“ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر سال ہماری آبادی میں نیوزی لینڈ کی آبادی کے برابر اضافہ ہو رہا ہے،

    وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ زندگی کا بنیادی حق آبادی کے مسئلے سے منسلک ہے، آبادی میں تیزی سے اضافہ تشویشناک ہے،آگاہی کے فقدان سے آبادی کا چیلنج مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے، بڑھتی ہوئی آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے آگاہی پھیلانا ضروری ہے،بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں چیلنجز سامنے آ رہے ہیں،بڑھتی آبادی سے وسائل پر دباؤ پڑ رہا ہے، آبادی کے چیلنج سے نمٹنے کے لئے معاشرے کے ہر طبقے کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، صحت کے پہلوئوں اور زندگی کے حق کے حوالے سے بحیثیت قانون ساز ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، بڑھتی آبادی ترقی کی رفتار سست کر سکتی ہے، بڑھتی آبادی معیشت اور بنیادی سہولیات پر بوجھ ڈال رہی ہے، ہمارے ریجن میں ورکنگ وومن کی شرح دیگر خطوں کے مقابلے میں کم ہے.یہ معاشرتی مسئلہ ہے اسے آگاہی کے ذریعے حل کرنا ہوگا، آبادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے ورکنگ گروپ تشکیل دینا ضروری ہے،

  • بنوں،گاڑی پر فائرنگ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید

    بنوں،گاڑی پر فائرنگ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید

    بنوں، عسکریت پسندوں کی اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر شاہ ولی، دو پولیس اہلکاروں اور راہ گیر سمیت 4 افراد شہید ہوگئے.

    میرانشاہ روڈ پر اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان کی گاڑی پر عسکریت پسندوں نے فائرنگ کر دی۔ ذرائع کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں اسسٹنٹ کمشنر سمیت چار افراد شہید ہو گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند زخمی اہلکاروں سے بندوقیں بھی چھین کر فرار ہوگئے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا۔

  • ون وے کرنے والا "خود کش ” قرار،ہیلمٹ بھی پہنیں،احتیاط کریں ورنہ ہو گا مقدمہ

    ون وے کرنے والا "خود کش ” قرار،ہیلمٹ بھی پہنیں،احتیاط کریں ورنہ ہو گا مقدمہ

    پنجاب بھر میں‌ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں‌پر ٹریفک پولیس کی سختیاں بڑھ گئیں، قانون پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا، ون وے کرنے والا خود کش بمبار قرار دے دیا گیا،کوئی معافی نہیں، سیدھا پرچہ ہو گا

    لاہور سمیت پنجاب بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر پولیس متحرک ہو چکی ہے، ون وے کی خلاف ورزی اور ہیلمٹ نہ ہونے پر چالان کے ساتھ مقدمہ کا بھی اندراج ہو گا، ون وے کی خلاف ورزی کو پولیس اہلکاروں کی جانب سے "خود کش” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ون وے کی خلاف ورزی کرنے والا نہ صرف خود مرتا ہے بلکہ دوسرے کو بھی مارتا ہے، دوفٹ بھی ون وے کسی صورت نہ جائیں بلکہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں، اسی طرح ہیلمٹ نہ پہننے پر بھی کسی قسم کی معافی نہیں، چالان کے ساتھ مقدمہ درج ہو گا،اس ضمن میں مختلف پولیس اہلکاروں کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس میں وہ شہریوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں،پولیس کو ٹریفک قوانین کی پاسداری کے لئے پنجاب میں سختی سے ہدایات دی گئی ہیں ،خصوصی ٹیمیں‌تشکیل دی گئی ہیں

    دوسری جانب پنجاب بھر میں ٹریفک نظام کی اصلاحات کے نام پر ٹریفک پولیس نے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 7 کروڑ 12 لاکھ روپے سے زائد کے چالان جاری کیے۔ مختلف خلاف ورزیوں پر 76 ہزار سے زائد شہریوں کو چالان کیا گیا جبکہ سنگین خلاف ورزیوں پر 1402 ایف آئی آرز بھی درج کی گئیں،ترجمان کے مطابق کارروائیوں کے دوران بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر 11 ہزار 700 افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے بھاری جرمانے عائد کیے گئے، جبکہ ون وے کی خلاف ورزی پر 4 ہزار سے زائد شہریوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی،اسی طرح بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانے والے 12 ہزار سے زائد موٹر سائیکل سواروں کو چالان ٹکٹ جاری کیے گئے،پبلک ٹرانسپورٹ میں اوور لوڈنگ کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا، جس کے تحت 1397 گاڑیوں کو جرمانے کیے گئے اور متعدد کو بند کر دیا گیا،کم عمر ڈرائیونگ کے معاملے پر پولیس نے 3 ہزار سے زائد کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کارروائیاں کیں، غیر نمونہ نمبر پلیٹس استعمال کرنے پر 3875 شہریوں کے خلاف، جبکہ غلط پارکنگ پر 1262 ڈرائیورز کے خلاف کارروائی کی گئی، دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی بڑا آپریشن کیا گیا، جس میں 7200 سے زائد گاڑیوں کے چالان کیے گئے اور کئی گاڑیاں موقع پر ہی بند کر دی گئیں،ترجمان نے مزید بتایا کہ ٹریفک میں رکاوٹ بننے والے نشئی افراد اور بھکاریوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی، جس دوران 36 مقدمات درج کیے گئے۔