Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک

    بلوچ ماں کے آنسوؤں سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کا پردہ چاک ہو گیا

    بلوچستان میں فتنہ الہندوستان بھارتی پشت پناہی سے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے،کالعدم فتنہ الہندوستان سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں نے بےشمار نوجوانوں کو دہشت گردی کی طرف دھکیل کر انکا مستقبل تاریک کردیا، سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دُکھیاری ماں کے سوالات نے فتنہ الہندوستان کی سفاکیت کا پردہ چاک کر دیا ہے

    آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی دکھی ماں نے بتایا کہ دہشت گرد سخی بخش کا والد شوگر اور بلڈ پریشر کا مریض ہے، دہشت گرد سخی بخش کو غربت میں پڑھایا لکھایا تاکہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کا سہارا بنے، دہشت گرد سخی بخش نے ہمیں اپنے گمراہ کن کاموں سے درد اور تکلیف میں مبتلا کیا

    ماہرین کے مطابق،آواران میں ہلاک دہشت گرد سخی بخش کی والدہ کا بیان بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کے طریقۂ کار کو بے نقاب کرتا ہے، کالعدم “فتنہ الہندوستان” اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں محرومی کا بیانیہ بنا کر نوجوانوں کو گمراہ کرتے اور بندوق اٹھانے پر مجبور کرتے ہیں،فتنہ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کا مقصد بلوچ ماؤں کی گودیں اجاڑنا اور نوجوانوں کا مستقبل تباہ و برباد کرنا ہے، سیکیورٹی اداروں کے آپریشن کے نتیجے میں بلوچستان میں دہشت گردی میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے،

  • افغان تاجک سرحدی کشیدگی ،کابل دھماکہ کے بعد چینی شہریوں کیلئے ایڈوائزری  جاری

    افغان تاجک سرحدی کشیدگی ،کابل دھماکہ کے بعد چینی شہریوں کیلئے ایڈوائزری جاری

    افغان تاجک سرحدی کشیدگی اور کابل دھماکہ کے بعد چینی شہریوں کیلئے ایڈوائزری جاری کر دی گئی

    افغان تاجک سرحدی کشیدگی کے بعد چین نے اپنے شہریوں کو سرحدی علاقہ چھوڑنے کی ہدایت کر دی،تاجک بارڈر فورسز نے اتوار کو4افغان دہشت گردوں کو دراندازی کی کوشش کے دوران مارڈالا تھا،تاجکستان میں قائم چینی سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو علاقے کاغیرضروری سفرنہ کرنے کی ہدایت کی،چینی سفارتخانے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ چینی شہری خطے کی صورتحال پرنظررکھتے ہوئے احتیاطی تدابیر یقینی بنائیں،چینی باشندے بروقت اور مناسب انداز میں افغانستان تاجکستان بارڈرایریا سے نکل جائیں،

    گذشتہ روز کابل دھماکہ کے نتیجے میں چینی شہری سمیت 7افراد ہلاک اور 13زخمی ہوگئے تھے،افغانستان سے دہشت گردوں کی دراندازی پاکستان سمیت خطے کے دیگرممالک کیلئے درد سر بن چکی ہے،افغان شرپسندطالبان اپنے غیر قانونی اقتدار کو قائم رکھنے کیلئے دہشت گردوں کی پشت پناہی کررہا ہے

  • کوئٹہ،لیاقت بازار میں بروقت ریسکیو آپریشن، آگ پر مکمل قابو

    کوئٹہ،لیاقت بازار میں بروقت ریسکیو آپریشن، آگ پر مکمل قابو

    لیاقت بازار میں بروقت ریسکیو آپریشن: آگ پر مکمل قابو، کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں

    لیاقت بازار، کوئٹہ میں واقع موبائل پلازہ میں اچانک آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا،بروقت کارروائی، مؤثر حکمتِ عملی اور پیشہ ورانہ مہارت کے نتیجے میں آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا،واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایف سی بلوچستان (نارتھ)، ریسکیو 1122 اور سول انتظامیہ نے فوری طور پر مشترکہ اور مربوط ریسکیو آپریشن کا آغاز کیا،ریسکیو ٹیموں نے عمارت کو محفوظ بناتے ہوئے قیمتی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا، جس کے باعث کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی، آگ پرقابو پانے کیلئے فائر بریگیڈاورریسکیو ٹیمیں بھی موقع پرپہنچ گئیں،مشترکہ کوششوں کے ذریعے آگ کو مزید پھیلنے سے روکا گیا اور صورتحال کو قلیل وقت میں معمول پر لے آیا گیا، مقامی شہریوں اور دکان داروں نےایف سی بلوچستان نارتھ، ریسکیو 1122 اور سول انتظامیہ کی بروقت اور مؤثر کاروائی کو سراہا اور انکی خدمات کو قابلِ تحسین قرار دیا

  • کراچی: نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، متعدد دکانیں متاثر

    کراچی: نیو سبزی منڈی میں آگ لگ گئی، متعدد دکانیں متاثر

    کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب واقع نیو سبزی منڈی میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس کے نتیجے میں منڈی کے اندر قائم متعدد دکانیں آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ آگ لگنے کے واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ دھوئیں کے بادل دور دور تک نظر آئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور آگ بجھانے کی کارروائی شروع کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ نے تیزی سے پھیل کر کئی دکانوں کو متاثر کیا، جس کے باعث تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، تاہم خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔فائر بریگیڈ حکام کے مطابق بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ علاقے میں کولنگ کا عمل جاری ہے تاکہ دوبارہ آگ بھڑکنے کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، تاہم ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا کسی آتش گیر مواد کے باعث آگ لگنے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • سینیٹر راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    سینیٹر راجا ناصر عباس سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر

    سینیٹر راجا ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے باضابطہ طور پر سینیٹر راجا ناصر عباس کو اپوزیشن لیڈر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔چیئرمین سینیٹ کے اعلان کے مطابق یہ تقرری اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت اور پارلیمانی قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں لائی گئی۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سینیٹر راجا ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا، جسے منظور کر لیا گیا۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کو مقرر کیا جا چکا ہے۔ یوں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن قیادت کی تقرری مکمل ہو گئی ہے،

  • پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

    چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا،

    اس موقع پروفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مملکت داخلہ بھی دورے کے موقع پر موجود تھے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو نیشنل پولیس اکیڈمی پہنچنے پر گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،انہوں نے پولیس سروس آف پاکستان کے افسران سے ملاقات اور گفتگو کی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورے کے دوران اسلام آباد میں نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، شہداء کی یاد گار پر پھول چڑھائے،

    اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہناتھا کہ پولیس عوام کے تحفظ میں پہلی دفاعی لائن ہے، امن و امان کا قیام پولیس کی ایک مقدس ذمہ داری ہے، مسلح افواج ہمیشہ پاکستان کی بہادر اور باوقار پولیس کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں گی،پولیس شہداء کی قربانیاں ملکی امن، قانون کی بالادستی اور عوامی تحفظ کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔دہشت گردی اور داخلی سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف پولیس کا کردار لائق تحسین ہے۔پاکستان پولیس فورس زندہ باد، مسلح افواج پائندہ باد، پاکستان ہمیشہ زندہ باد،

  • عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    عمران ،بشریٰ کے مقدمات،بیرسٹر گوہر کی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہ ہو سکی

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے مختلف مقدمات کی سماعت مقرر کروانے کے لیے بیرسٹر گوہر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیمبر پہنچے، تاہم چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہ ہو سکی۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے بتایا کہ وہ عدالتی معاملات کے حل اور کیسز کی بروقت سماعت کے لیے چیف جسٹس کے چیمبر گئے تھے، مگر ملاقات ممکن نہیں ہو سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈویژن بینچ میں پیشی کے بعد ایک مرتبہ پھر چیف جسٹس کے چیمبر جانے کا ارادہ ہے اور کوشش کی جائے گی کہ کیسز کی سماعت کے لیے تاریخ حاصل کی جا سکے۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم چیف جسٹس پاکستان سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ایسا رویہ اختیار نہ کیا جائے، کیونکہ ہم بارہا عدالت سے رجوع کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اب تک تقریباً 15 مرتبہ اسلام آباد ہائیکورٹ آ چکی ہے، مگر اس کے باوجود کیسز کی سماعت مقرر نہیں ہو پا رہی۔

    انہوں نے خاص طور پر بشریٰ بی بی کے کیس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون کی اپیل قانون کے مطابق جلد سنی جانی چاہیے، مگر بدقسمتی سے اس معاملے میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ انصاف کی فراہمی میں تاخیر نہ صرف متاثرہ فریق کے لیے مشکلات کا باعث بنتی ہے بلکہ عدالتی نظام پر سوالات بھی اٹھاتی ہے۔بیرسٹر گوہر نے امید ظاہر کی کہ عدالت عظمیٰ اور اسلام آباد ہائیکورٹ اس معاملے کا نوٹس لیں گی اور عمران خان و بشریٰ بی بی کے کیسز کی جلد سماعت یقینی بنائی جائے گی تاکہ قانونی تقاضے پورے ہو سکیں اور انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔

  • قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے،غریب کیا کرے،شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر داخلہ اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ملک میں “تاریخ پہ تاریخ” پڑ رہی ہے اور آج ایک بار پھر تاریخ ڈال دی گئی ہے، جبکہ پاکستان کو جرمانستان میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شیخ رشید احمد نے ملک کی بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ پاکستان میں مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹا اور چینی کی قیمتیں 150 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہیں، جبکہ مرنا بھی مہنگا ہو چکا ہے اور قبر و کفن کی قیمت 70 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے، جو غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔

    انہوں نے حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں پر عائد کیے گئے جرمانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بائیکیہ چلانے والے پر 2 ہزار روپے، ریڑھی بان پر 5 ہزار روپے جبکہ دکاندار پر 20 ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔ شیخ رشید کے مطابق یہ فیصلے عام آدمی پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہیں، جو پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہا ہے۔سابق وزیر داخلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حالات کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب طبقہ بھی عزت اور آسانی کے ساتھ اپنی زندگی گزار سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو عوام کے لیے جینا مزید مشکل ہو جائے گا۔

    دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی میں 9 مئی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں شیخ رشید احمد اپنے وکلاء کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالتی عملے کی جانب سے ان کی حاضری کا عمل مکمل کیا گیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔

  • سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے تولیدی صحت کو نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا

    سینیٹ نے ملک میں تعلیمی نصاب کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم قانون سازی کرتے ہوئے تولیدی صحت کو نصابِ تعلیم کا حصہ بنانے کا بل کثرتِ رائے سے منظور کر لیا ہے

    اس بل کے تحت 14 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو مرحلہ وار اور عمر کے مطابق تولیدی صحت سے متعلق تعلیم فراہم کی جائے گی۔بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم کا مقصد صرف حیاتیاتی معلومات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس میں جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق جامع آگاہی شامل کی جائے گی۔ اس نصاب کے ذریعے طلبہ کو صحت مند طرزِ زندگی، ذاتی صفائی، ذہنی توازن، سماجی ذمہ داریوں اور باہمی احترام جیسے اہم موضوعات سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ وہ عملی زندگی میں بہتر فیصلے کر سکیں۔

    قانون سازی میں والدین کے کردار کو بھی مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم یا رہنمائی دینے سے قبل والدین یا سرپرست کی تحریری رضا مندی لازمی ہوگی۔ اس شق کا مقصد والدین کے تحفظات کو دور کرنا اور تعلیمی عمل میں ان کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔بل کے متن کے مطابق نصابی کتب کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹیز اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ مواد طلبہ کی عمر، ذہنی سطح اور سماجی اقدار کے مطابق ہو۔ نصاب کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے گا کہ حساس موضوعات کو محتاط، سادہ اور تعلیمی اصولوں کے تحت پیش کیا جائے، تاکہ طلبہ پر کسی قسم کا منفی اثر نہ پڑے۔

    ایوان میں بل پر بحث کے دوران حامی ارکان کا کہنا تھا کہ تولیدی صحت سے متعلق درست اور بروقت آگاہی نوجوانوں کو صحت کے مسائل، ذہنی دباؤ اور سماجی غلط فہمیوں سے بچانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کے ذریعے شعور اجاگر کرنا معاشرے کی مجموعی صحت اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔دوسری جانب بعض ارکان نے اس بات پر زور دیا کہ نصاب کی تیاری اور نفاذ کے دوران معاشرتی اقدار، ثقافتی حساسیت اور مذہبی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ کسی طبقے کے تحفظات جنم نہ لیں۔

  • گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    گل پلازہ آتشزدگی ،مفتی تقی عثمانی کا سخت ردعمل، فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    کراچی: ممتاز عالمِ دین مفتی محمد تقی عثمانی نے کراچی کے علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے المناک آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے پوری قوم کے لیے نہایت شرمناک اور سوالیہ نشان قرار دیا، کہا کہ کراچی جیسے بڑے اور اہم شہر میں آگ پر بروقت قابو نہ پایا جانا ایک سنگین انتظامی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

    ایک بیان میں مفتی تقی عثمانی نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ کے واقعے میں بروقت امدادی کارروائیاں کیوں نہ ہو سکیں اور متاثرین تک فوری مدد کیوں نہیں پہنچ پائی۔ انہوں نے زور دیا کہ اس سانحے کی غیر جانبدار، بے لاگ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ اصل حقائق قوم کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ چند ہی گھنٹوں کے دوران قیمتی انسانی جانیں بے بسی اور بے چارگی کی حالت میں ضائع ہو گئیں، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مفتی تقی عثمانی کے مطابق اس حادثے میں نہ صرف درجنوں خاندان اجڑ گئے بلکہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بے شمار تاجروں کو اربوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا، جس نے انہیں معاشی طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا۔مفتی تقی عثمانی نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ شہری مراکز، خاص طور پر تجارتی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات کو فوری طور پر مؤثر، مضبوط اور جدید تقاضوں کے مطابق بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے کسی قسم کی غفلت ناقابلِ معافی ہے۔تاہم انہوں نے ان افراد اور اداروں کو خراجِ تحسین بھی پیش کیا جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر آخرکار متاثرہ افراد کی جانیں بچانے کی کوشش کی اور امدادی خدمات انجام دیں۔ مفتی تقی عثمانی نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ اس سانحے میں جاں بحق ہونے والوں کو اعلیٰ درجات عطا فرمائے اور متاثرہ خاندانوں اور تاجروں کو اس عظیم نقصان کا بہتر نعم البدل عطا کرے۔