Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان کی سمت درست، فیصلے، اصلاحات اور ریاستی سنجیدگی،تحریر:جان محمد رمضان

    بلوچستان طویل عرصے سے جن مسائل، شکوک اور ابہامات کا شکار رہا ہے، ان میں سرفہرست مسنگ پرسنز، کمزور گورننس، قانون کی غیر مؤثر عملداری اور ادارہ جاتی خلا شامل رہے ہیں۔ ایسے میں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 22 واں اجلاس ریاستی سنجیدگی، سیاسی اعتماد اور انتظامی جرات کا واضح اظہار بن کر سامنے آیا ہے۔سب سے اہم اور غیر معمولی پیش رفت مسنگ پرسنز کے مسئلے پر مستقل اور قانونی فریم ورک کی منظوری ہے۔ یہ وہ معاملہ ہے جسے برسوں تک سیاسی نعرے، جذباتی تقریریں اور بیرونی پروپیگنڈا تقویت دیتا رہا۔ مگر اس اجلاس میں حکومت نے جذبات کے بجائے قانون، شفافیت اور انسانی حقوق کے امتزاج کے ساتھ ایک واضح راستہ اختیار کیا۔ بلوچستان پریوینشن ڈیٹینشن اینڈ ریڈیکلائزیشن رولز 2025 کے تحت مشتبہ افراد سے تفتیش مجاز پولیس افسر کی نگرانی میں ہوگی، اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور غیر قانونی حراست کے الزامات کا راستہ بند کیا جائے گا۔ یہ اقدام دراصل ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کی بحالی کی کوشش ہے۔

    اسی تناظر میں بلوچستان سینٹر آف ایکسیلینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریزم کی منظوری اس امر کی غماز ہے کہ حکومت دہشت گردی کو محض بندوق سے نہیں بلکہ فکر، تحقیق اور بحالی کے ذریعے بھی شکست دینا چاہتی ہے۔ یہ ایک جدید ریاستی سوچ ہے جو اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ انتہاپسندی صرف سیکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی اور فکری چیلنج بھی ہے۔کابینہ کی جانب سے وٹنیس پروٹیکشن ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان بالخصوص بلوچستان میں انصاف کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ گواہوں کا خوف رہا ہے۔ اگر مدعی اور گواہ محفوظ نہیں تو عدالتیں بھی بے بس ہو جاتی ہیں۔ اس قانون سازی سے دہشت گردی اور سنگین جرائم کے مقدمات میں انصاف کی امید کو تقویت ملے گی۔

    انتظامی سطح پر دیکھا جائے تو میرٹ اور ڈیجیٹلائزیشن پر کابینہ کا زور خوش آئند ہے۔ محکمہ خزانہ میں آن لائن ٹیسٹ کے ذریعے بھرتیوں پر اطمینان اور تمام محکموں میں مرحلہ وار ڈیجیٹل بھرتیوں کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اب سفارش کے نظام سے نکلنے کا عملی ارادہ رکھتی ہے، جو بلوچستان جیسے صوبے کے لیے ایک بڑی تبدیلی ہے۔انتظامی اصلاحات کے تحت پشین اور کوہ سلیمان کے نئے ڈویژن، زیارت کو لورالائی کے ساتھ منسلک کرنا اور بلدیاتی سطح پر نئی میونسپل کمیٹیوں کی منظوری عوامی سہولت اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی طرف قدم ہے۔ اسی طرح محکمہ مذہبی امور کا خاتمہ اور ملازمین کی ایڈجسٹمنٹ حکومتی ڈھانچے کو سادہ اور مؤثر بنانے کی سوچ کو ظاہر کرتا ہے۔

    تعلیم کے شعبے میں جعلی ڈگریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، کنٹریکٹ اساتذہ کی اسناد کی تصدیق اور جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر کی ہدایت اس پیغام کو واضح کرتی ہے کہ علم کے شعبے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ قومی نصاب کو 2026-27 سے صوبائی نصاب کا حصہ بنانا اور کوالٹی ٹیچرز کے لیے خصوصی پروگرام بھی دیرپا تعلیمی اصلاحات کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔چائلڈ لیبر کے خلاف 16 سال سے کم عمر بچوں سے جبری مشقت پر پابندی ایک ایسا فیصلہ ہے جو بلوچستان کو سماجی انصاف کی سمت میں لے جاتا ہے، جبکہ کوئٹہ میں فوڈ اسٹریٹ کے منصوبے جیسے اقدامات شہری زندگی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوشش ہیں۔

    مختصراً، یہ کابینہ اجلاس بیانات سے زیادہ فیصلوں کا اجلاس تھا۔ اصل امتحان اب ان فیصلوں کے مؤثر اور غیر جانبدارانہ نفاذ میں ہے۔ اگر یہ قوانین اور اصلاحات زمینی سطح پر اسی روح کے ساتھ نافذ ہو گئیں جس کا اعلان کیا گیا ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان واقعی عارضی نعروں سے نکل کر مستقل حل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

  • شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    شفیع جان کیا آپ کے خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں،رپورٹر کا سوال

    پی ٹی آئی رہنما شفیع جان سے صحافی نے سوال کیا کہ ن لیگی ایم پی اے نے یہ کہا ہے کہ شفیع جان آپ کے مبینہ طور پر کسی خواجہ سرا گل چاہت سے تعلقات ہیں، اس پر کیا کہیں گے، اس پر کسی شخص نے آواز دی کہ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہئے، تاہم شفیع جان نے سوال سنا اوربنا جواب دیئے چل دیئے

    رپورٹر کے سوال کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وائرل ہو رہی ہے، ایک صارف نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایک واٹس ایپ گروپ میں اس ویڈیو کو لے کے شفیع جان اور گُل چاہت کے مذاق چل رہے ہیں۔مُحبت تو کسی سے بھی ہوسکتی ہے تو اگر شفیع جان کو بھی کسی خواجہ سرا سے ہے تو اس میں کیا گُناہ ہے؟ ایسا قانون پاس کروائیں کہ دونوں کی شادی ہوجائے

    صحافی رضوان احمد ایکس پر کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں چرس لانے کے سوال کے بعد اڈیالہ کے باہر شفیع جان سے خواجہ سرا گل چاہت کے بارے میں سوال۔ کیا یہ صحافت ہے؟

  • کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    کرم، دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام،دوہلاک

    لوئر کرم میں سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشتگردوں کی افغانستان فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دی۔

    سکیورٹی ذرائع کے مطابق تیراہ میں جاری آپریشن کے دباؤ کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر نے کرم کے راستے سرحد پار فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی نے ان کے عزائم خاک میں ملا دیے،ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر میلا پوسٹ کے قریب دہشتگردوں کی ایک بڑی تشکیل کی مشکوک نقل و حرکت کی اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔ اس کارروائی کے دوران 30 سے زائد دہشتگردوں پر مشتمل گروہ کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ افغانستان میں موجود اپنی پناہ گاہوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کی نقل و حرکت کو مؤثر فائرنگ کے ذریعے روکا، جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو شدید جانی نقصان اٹھانا پڑا۔ فائرنگ کے بعد علاقے میں سرچ آپریشن شروع کیا گیا، جس دوران ہلاک دہشتگردوں میں سے دو لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے ایک لاش مکمل طور پر جھلس چکی تھی۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق باقی دہشتگرد اندھیرے اور دشوار گزار راستوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم ان کی تلاش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ دہشتگردوں کی یہ تشکیل طویل عرصے سے سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھی اور ان کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی پہلے سے کی جا رہی تھی۔ تیراہ آپریشن کے باعث دہشتگرد نیٹ ورک بری طرح دباؤ کا شکار ہے اور مختلف علاقوں میں فرار کے راستے تلاش کر رہا ہے، تاہم فورسز نے سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں کلیئرنس اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکے۔ حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں منطقی انجام تک پہنچائی جائیں گی اور ملک دشمن عناصر کو کسی صورت محفوظ پناہ گاہیں بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

  • راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کیس سے کیا تعلق؟اپوزیشن لیڈرکی انتشار پھیلانے والوں کی حمایت

    سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف ہونے کے ناطے راجہ ناصر عباس کا ایمان مزاری کے کیس سے نہ کوئی آئینی تعلق ہے اور نہ ہی قانونی اختیار، پھر یہ مداخلت کیوں؟ کیا وہ ایک ایسے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں جس پر انتشار، ادارہ مخالف بیانیے اور افراتفری کو ہوا دینے کے الزامات بارہا لگ چکے ہیں؟ یا یہ حمایت صرف اس لیے ہے کہ وہ ایک پی ٹی آئی سیاستدان کی بیٹی ہیں، جہاں قانون اور میرٹ ثانوی ہو گئے؟ اور اگر نہ قانون بنیاد ہے نہ میرٹ، تو پھر سوال یہی اٹھتا ہے کہ کہیں اس معاملے کو فرقہ وارانہ ہمدردی میں تو نہیں بدلا جا رہا؟

    راجہ ناصر عباس کا منصب انہیں پارلیمانی سیاست تک محدود کرتا ہے، کسی فرد کے زیرِ سماعت عدالتی کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ جب معاملہ ایک ایسی شخصیت سے جڑا ہو جس کا نام بارہا انتشار، تصادم اور ریاستی اداروں کے خلاف زبان کے ساتھ لیا گیا ہو، تو یہ سوال فطری ہے کہ دفاع کس چیز کا ہو رہا ہے؟ اگر یہ موقف صرف اس لیے اپنایا گیا ہے کہ ملزمہ کا تعلق پی ٹی آئی کے ایک سیاسی گھرانے سے ہے، تو پھر میرٹ کہاں کھڑا ہے؟ اور جب قانونی اصول غائب ہوں تو خدشہ یہی ہوتا ہے کہ کہیں معاملہ سیاست کے ساتھ ساتھ فرقہ وارانہ رنگ بھی نہ اختیار کر رہا ہو۔

    سینیٹ کی اپوزیشن لیڈر شپ کا استعمال ایک ایسے کیس میں کرنا جس سے کوئی آئینی تعلق نہیں، خود کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔کیا یہ اقدام ایک ایسے فرد کے لیے ہے جس کا طرزِ عمل مسلسل انتشار اور محاذ آرائی سے جڑا رہا ہے؟ یا یہ حمایت محض اس بنیاد پر ہے کہ وہ پی ٹی آئی سیاستدان کی صاحبزادی ہیں، جہاں قانون سب کے لیے برابر نہیں رہا؟ اگر معاملہ قانون یا اصول کا نہیں تو پھر عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا اس کے پیچھے فرقہ وارانہ سیاست کارفرما ہے یا نہیں۔

  • وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح،  ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    وکلا کی تبدیلی، شور شرابہ،عدالتی چیلنجز اور خود جرح، ٹرائل کو طول دینے کی حکمتِ عملی

    ایمان مزاری کو جہاں ایک طرف انہیں عبوری ریلیف ملا ہے، وہیں عدالت نے واضح کیا ہے کہ قانونی عمل سے فرار ممکن نہیں ۔ عدالت کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود اسلام آباد ہائیکورٹ اور پھر ٹرائل کورٹ میں پیش ہو کر مقدمے کا سامنا کریں، نہ کہ عدالتوں سے مسلسل بہانے تلاش ہوتے رہیں۔

    ایک اہم نکتہ یہ رہا ہے کہ اس عمل میں سستی یا عدالتی احکامات کی عدم تعمیل نے مقدمے کو پیچیدہ بنایا ہے، اور اسی لیے عدالت شاید سختی سے یہ پیغام دیتی ہے کہ آئندہ حاضری یقینی بنائی جائے ورنہ حفاظتی ضمانتیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔مختصر یہ کہ اب مزاری کے لیے بہترین حکمت عملی یہ ہے کہ وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر قانونی عمل کو آگے بڑھائیں، کیونکہ عدلیہ ہر صورت قانون کی بالا دستی چاہتی ہے، نہ کہ عدالتی عمل میں بے ترتیبی یا تاخیر۔

    22 اگست سے اب تک اس مقدمے میں جو رعایت، صبر اور التوا ملزمان کو دیا گیا، وہ کسی عام شہری کو پاکستان کی کسی عدالت میں میسر نہیں ہوتا۔PECA کی سنگین دفعات کے باوجود گرفتاری کے بجائے صرف “شاملِ تفتیش” کرنا بذاتِ خود عدالتی نرمی کی مثال ہے، نہ کہ انتقام۔

    بار بار غیر حاضری، وارنٹس کے باوجود فوری منسوخی، اور مچلکوں کی بحالی ظاہر کرتی ہے کہ عدالت نے قانون نہیں بلکہ تحمل کو ترجیح دی۔وکیل کی عدم دستیابی، وکیل کی تبدیلی، عدالت کو چیلنج کرنے کے بہانے’ یہ سب قانونی حق نہیں بلکہ ٹرائل کو سبوتاژ کرنے کی حکمتِ عملی نظر آتی ہے۔

    کیس کا بار بار کال ہونا غیر معمولی نہیں، بلکہ اس لیے لازم تھا کیونکہ ملزمان مکمل طور پر عدالت میں پیش ہی نہیں ہوتے تھے۔آٹھ وکالت ناموں کے باوجود ملزم کا خود کراس ایگزیمینیشن کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقصد دفاع نہیں، کارروائی کو طول دینا تھا۔

    شور شرابہ، بدتمیزی، عدالت سے فرار، حتیٰ کہ اپنے وکیلوں سے بدسلوکی’ یہ رویہ کسی “سیاسی اختلاف” نہیں بلکہ عدالتی عمل کی صریح تضحیک ہے۔طبیعت کی خرابی کے نام پر بار بار استثنا، بغیر کسی میڈیکل سرٹیفیکیٹ کے، ٹرائل میں دانستہ رکاوٹ ‘ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ دہشتگرد تنظیموں اور کالعدم عناصر کے بیانیے کو amplify کرنا، ریاستی اداروں کے خلاف جھوٹا مواد پھیلانا’ یہ رائے نہیں، PECA کے تحت جرم ہے۔

  • راولپنڈی،ملزم 3 سال کی بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار

    راولپنڈی،ملزم 3 سال کی بچی کے کانوں سے بالیاں نوچ کر فرار

    راولپنڈی کے علاقے دھمیال میں ڈکیتی کی ایک نہایت دل دہلا دینے والی واردات پیش آئی ہے، جہاں ایک بے رحم ملزم نے تین سالہ معصوم بچی کو نشانہ بنایا اور اس کے کانوں سے بالیاں نوچ کر موقع سے فرار ہوگیا۔

    واقعہ دھمیال کے ایک رہائشی علاقے میں پیش آیا، جہاں ملزم نے موقع پاکر معصوم بچی کے قریب آکر اچانک اس کے کانوں سے بالیاں نوچ لیں۔ بچی کے چیخنے چلانے پر ملزم گھبراہٹ کے عالم میں تیزی سے فرار ہوگیا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آگئی ہے، جس میں ملزم کو واردات کے بعد گلی سے بھاگتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ شہریوں نے معصوم بچوں کے ساتھ ہونے والی اس طرح کی وارداتوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملزم کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

    واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے سی پی او راولپنڈی نے پولیس حکام کو ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ پولیس کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ملزم کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مختلف ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

  • ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    ویزہ فراڈ،امریکی سفارتخانےکی رپورٹ پر مقدمہ درج،کوٹمومن کے پیرکا بڑا دھوکہ

    امریکی سفارتخانے کی رپورٹ پر ایف آئی اے نے ویزا فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شروع کر دی

    اسلام آباد میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی،ایف آئی اے نے امریکی سفارتخانے کی اطلاع پر ویزا فراڈ کے سلسلے میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔ یہ مقدمہ اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا اور ایف آئی آر نمبر AHTC-ICT-28/26 دیا گیا ہے۔مقدمے کے مطابق، امریکی سفارتخانے نے اطلاع دی کہ چند پاکستانی شہریوں نے غیر قانونی ویزا حاصل کرنے کے لیے جعلی دستاویزات فراہم کیں۔ ان افراد نے امریکی ویزا اپائنٹمنٹ کے لیے درخواست دی، لیکن ان کے فراہم کردہ دستاویزات اور کانفرنس کی معلومات جعلی ثابت ہوئیں۔ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، بلال حسن،رمشہ زبیر،محمد اسد اقبال،علی رضا،اویس قمر رانجھا،معظم علی،ارشمان احمد،وقاص اسلم،احسن رضا،محمد ریحان،مدثر نذیر گوندل،محمد حسنین نے جعلی ویزا دستاویزات پیش کیں،تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ افراد جعلی دستاویزات فراہم کرنے والے ایجنٹس الشیخ السید سیف الدین ولد حافظ محمد اسلم المعروف عثمان گیلانی، پیر صاحب کے ذریعے دھوکہ کھا گئے اور لاکھوں روپے ادائیگی کی گئی۔ اس فراڈ میں دیگر ملوث افراد میں رب نواز، محمد طاہر شبیر اور انعام الحق شامل ہیں۔

    مقدمے کے مطابق، ایجنٹس نے ویزا حاصل کرنے کے بہانے متاثرین سے 20 لاکھ سے 45 لاکھ روپے تک وصول کیے، جبکہ بعض معاملات میں مکمل رقم بھی ادا کی گئی۔ متاثرین نے ایف آئی اے کے سامنے انکشاف کیا کہ یہ ایجنٹس جعلی MFA پاکستان ریفرل لیٹر سمیت دیگر جعلی دستاویزات فراہم کرتے تھے۔

    دفعات UIS 3, 4, 7 PSMA 2018 اور 420، 468 PPC کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔مقدمے میں فوری کارروائی کے لیے تمام متاثرہ افراد اور دستاویزات ایف آئی اے کے حوالے کر دی گئی ہیں۔مقدمے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔

    امریکی سفارت خانے سے سنیئر سول جج کو حراست میں لینے کا معاملہ
    کوٹ مومن کے مشہور پیر الشیخ آلا سید سیف الدین المعروف عثمانی گیلانی نے امریکی ویزہ کیلئے 12لوگوں کو جعلی دستاویزت تیار کیے جس کیلئے 30 ہزار ڈالر لئے گئے۔ جعلی دستاویزت میں وزرات خارجہ کا بھی لیٹر شامل کیا گیا تھا۔ دوسرا ملزم رب نواز بھی کوٹ مومن کے پیر کے ساتھ ویزہ کاروبار کررہا تھا۔ ملزمان نے سنئیر سول جج کا بھی ویزہ لگوانے کے لئے جعلی دستاویزت فراہم کئے۔ امریکہ میں صوفی ازم کے نام پر ایک کانفرنس کا بھی جعلی لیٹر تیار کرایا گیا.

  • آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،ٌخالد مسعود سندھو

    آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،ٌخالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ بھارتی عدالت کی جانب سے دخترانِ ملت کی سربراہ سیدہ آسیہ اندرابی کو مجرم قرار دینا بھارتی ریاستی جبر، مسلم دشمنی اور انصاف کے قتلِ عام کی بدترین مثال ہے،سیدہ آسیہ اندرابی کا واحد جرم تحریکِ تکمیلِ پاکستان اور حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کرنا ہے، کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دبانے کے لیے ایسے اوچھے ہتھکنڈے اختیار کیے جا رہے ہیں، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم و جبر کے ذریعے آزادی کی تحریکوں کو کبھی ختم نہیں کیا جا سکا۔

    خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ آسیہ اندرابی،فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو مجرم قرار دینے سے تحریکِ آزادیٔ کشمیر دبنے کے بجائے مزیدابھرے گی،سیدہ آسیہ اندرابی پر سازش اور دہشت گردی جیسے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات عائد کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ بھارت میں کشمیر کے معاملے پر عدلیہ بھی مودی سرکار کے سامنے بے بس ہو چکی ہے، کشمیری عوام پاکستان کو اپنا وکیل اور ترجمان سمجھتے ہیں، اور سیدہ آسیہ اندرابی مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی وکیل کے طور پرتوانا آواز تھیں۔ تحریکِ آزادیٔ کشمیر کی قیادت کرنے کے جرم میں پہلے انہیں گرفتار کیا گیا اور اب جھوٹے الزامات کے تحت مجرم قرار دے دیا گیا،سیدہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین فکتو کو بھی طویل عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑ رہی ہیں، ،مودی سرکار کی یہ بھول ہے کہ گرفتاریوں، سزاؤں اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے وہ کشمیری عوام کے جذبہ آزادی کو ختم کر سکے گی،مرکزی مسلم لیگ سیدہ آسیہ اندرابی سمیت تمام کشمیری اسیران کے ساتھ کھڑی ہے.

  • حفیظ سینٹر لاہور ایک سال میں تین بار آگ لگی،سیاست نہیں کی گئی۔شہلا رضا

    حفیظ سینٹر لاہور ایک سال میں تین بار آگ لگی،سیاست نہیں کی گئی۔شہلا رضا

    پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی شہلا رضا نے کہا ہے کہ کسی بھی حادثے کے وقت یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وزیراعلیٰ یا وزراء خود موقع پر پہنچیں، بلکہ سب سے اہم بات یہ ہوتی ہے کہ ریسکیو ادارے بروقت وہاں پہنچیں، متاثرین کی مدد کریں اور راستے کلیئر کیے جائیں تاکہ امدادی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ ہو۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں گل پلازا آتشزدگی کے واقعے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شہلا رضا نے کہا کہ یہ واقعہ ایک بڑا سانحہ بن گیا، تاہم وہ اس پر پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سنجیدگی سے اسباب اور نظامی خامیوں کا جائزہ لینا چاہیے،انہوں نے ایوان کو بتایا کہ گل پلازا کے اطراف ٹریفک کی صورتحال انتہائی خراب تھی، جس کے باعث ریسکیو کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔ شہلا رضا کے مطابق گل پلازا کے 26 میں سے 24 راستے بند تھے، جس کی وجہ سے فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی اداروں کو موقع پر پہنچنے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔

    شہلا رضا نے گل پلازا کی تعمیر اور بعد ازاں ہونے والی توسیع پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ پلازا 1980 میں تعمیر کیا گیا تھا، جس کی بنیاد میں 180 دکانیں تھیں۔ بعد ازاں گراؤنڈ فلور پر 405 دکانیں اور پہلے فلور پر 175 دکانیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1998 میں مزید دکانیں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد پلازے میں پارکنگ ایریاز اور کوریڈورز میں بھی دکانیں بنا دی گئیں، جس سے عمارت کے ڈیزائن اور حفاظتی تقاضوں پر منفی اثر پڑا۔

    پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی نے کہا کہ گل پلازا جیسے سانحات کا مقابلہ صرف کریمنل ایکٹ کے تحت نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر جب ایسے واقعات میں دو سے ڈھائی سو قیمتی جانیں ضائع ہو جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے حادثات کے لیے جامع پالیسی، سخت بلڈنگ قوانین اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔شہلا رضا نے عالمی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ میں آگ لگنے کے ایک واقعے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ امریکہ میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ اکثر رہائشی علاقوں تک پھیل جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آگ ایک ایسی آفت ہے جو کسی بھی وقت اور کہیں بھی لگ سکتی ہے، تاہم اصل مسئلہ تیاری اور حفاظتی انتظامات کا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لاہور کے حفیظ سینٹر میں ایک سال کے دوران تین مرتبہ آگ لگ چکی ہے، لیکن اس پر کبھی سیاست نہیں کی گئی۔ شہلا رضا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عجیب رویہ ہے کہ ایک واقعے کو بنیاد بنا کر بات صوبوں، اٹھارویں ترمیم اور حتیٰ کہ بنیادی تعلیم تک لے جائی جا رہی ہے، جبکہ اصل توجہ انسانی جانوں کے تحفظ اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام پر ہونی چاہیے،ملک بھر میں کمرشل عمارتوں کے لیے فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے، تجاوزات کا خاتمہ کیا جائے اور ریسکیو اداروں کو جدید سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔

  • فاروق ستار کاسانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ

    فاروق ستار کاسانحہ گل پلازہ کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ

    سانحہ گل پلازہ پر ایم کیو ایم پاکستان نے قومی اسمبلی میں احتجاج کیا۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے واقعے کو قومی سانحہ قرار دینے کا مطالبہ کردیا۔

    ڈاکٹر فاروق ستار نے قومی اسمبلی میں اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ماضی کی غلطیوں کا ذکر کرکے ذمہ داری سے راہ فرار اختیار نہیں کی جاسکتی۔ان کا کہنا تھا کہ بے شمار جانوں اور اربوں روپے کا نقصان ہوا، کسی نہ کسی کو ذمہ داری لینی پڑے گی۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماء امین الحق کا کہنا ہے کہ کراچی کے گل پلازہ میں جو کچھ ہوا اس کا جواب کون دیگا؟، رات 10 بجے آگ لگتی ہے لیکن فائر ٹینڈر 40 منٹ بعد پہنچے، کیا گل پلازہ گلی میں تھا جو تاخیر ہوئی؟۔انہوں نے کہا کہ رات گزر گئی، لوگ جلتے رہے، کوئی نہیں آیا، ذمہ داری کے ایم سی اور صوبائی حکومت کی بنتی تھی، سانحہ گل پلازہ پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔امین الحق کا کہنا ہے کہ کراچی سندھ کو 98 فیصد کما کر دیتا ہے، پہلے دن سے کہہ رہے ہیں، ترمیم کرکے میئر کو بااختیار بنائیں، بلدیاتی نظام میں ترامیم پر اب کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔

    دوسری جانب کراچی گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملبے سے ایک اور لاش نکال لی گئی، اموات کی تعداد 27 ہوگئی۔رپورٹ کے مطابق ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹا کر اندر داخلے کیلئے راستہ بنانے میں مصروف ہیں، چھت سے متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں محفوظ طریقے سے نکال لی گئیں۔ترجمان بلدیہ عظمیٰ کراچی کا کہنا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر ریسکیو عملہ پچھلی جانب سے عمارت کے اندر داخل ہونے کی پوزیشن میں ہوگا۔