Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے،حافظ نعیم

    کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گے،حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ میئر کراچی نے سارے ادارے اپنے قبضے میں کر رکھے ہیں۔

    کراچی میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ بی آر ٹی کے نام پر شہریوں کی تذلیل کی جا رہی ہے۔ سندھ حکومت میں کرپشن بڑا کاروبار بن چکا ہے، ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے سب کو پتہ ہے، اس بی آر ٹی کے ڈیزائن میں بھی مسائل ہیں۔مطالبہ ہے بی آر ٹی پروجیکٹ ختم کیا جائے، یونیورسٹی روڈ کو بحال کیا جائے۔ فرضی ڈاکومنٹس پر گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی شہری کے گھر پر کوئی قبضہ کرے گا تو جماعت اسلامی مزاحمت کرے گی، کراچی کی زمینوں پر قبضہ کے خلاف جماعت اسلامی نے سیل بنا دیا، زمینوں پر قبضے کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، حکومت سسٹم چلانے والوں لگام دے۔ پاکستان میں ہر جگہ قبضہ ہوتا ہے، کسانوں، ہاریوں کی زمین پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔دریائے راوی کے کنارے جعلی سوسائٹیاں بنی ہوئی ہیں، جعلی سوسائٹیاں بنتی ہیں، دریاؤں کے راستوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے، زمین پر قبضے کے خلاف جدوجہد بدل دو نظام کا اہم حصہ ہو گا۔

    حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم نورا کشتی لڑتی ہے، عوام کو بے وقوف بناتی ہے۔ کے ڈی اے، ایل ڈی اے، ایم ڈی اے پر جب قبضہ ہو رہا تھا ایم کیو ایم ان کے ساتھ کھڑی تھی،قبضہ گیروں کے خلاف مزاحمت کی جائے گی، کوئی اس شہر کا پُرسان حال نہیں، حالات کی ذمے داری حکومت پر ہے، کراچی کے شہریوں کو لاوارث نہیں چھوڑیں گےچھوٹے کاشتکاروں کی زمین پر قبضہ کیا جاتا ہے، ہزار ارب روپے کراچی کو ملنے چاہیے تھا، مصطفیٰ کمال کے دور میں یہ شق ختم کی گئی، ایم کیو ایم اس وقت حکومت کا حصہ تھی۔

  • شیخوپورہ سی سی ڈی کی کاروائی،منشیات فروش ہلاک

    شیخوپورہ سی سی ڈی کی کاروائی،منشیات فروش ہلاک

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز اور آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کا ویژن منشیات سے پاک پنجاب شیخوپورہ میں جاری ہے

    ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ کی خصوصی ہدایت پر ضلع بھر میں منشیات فروشوں کیخلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا ہے،شیخوپورہ میں بہت بڑا منشیات فروش سی سی ڈی کے ساتھ مقابلے میں واصل جہنم ہو گیا۔ منشیات فروش ڈی ایس پیز محمد علی بٹ اور رئیس خان لودھی کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا۔شیخوپورہ کے نواحی علاقے میں پولیس ریڈ کرنے کی جرات نہیں کرتی تھی، لاہور کے دبنگ ڈی ایس پی محمد علی بٹ اور رئیس خان لودھی نے ریڈ کیا اور ٹنوں کے حساب سے منشیات پکڑ لی،

    پولیس حکام کے مطابق منشیات فروشوں کی اب خیر نہیں،کوئی منشیات فروش نہیں بچے گا،

  • جس جگہ بچہ گرا  وہاں کاٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے،مرتضیٰ وہاب

    جس جگہ بچہ گرا وہاں کاٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے،مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ گزشتہ شب نیپا کے قریب مین ہول میں جو بچہ گرا وہ سیوریج نالہ نہیں بلکہ برساتی نالہ تھا، اس غم میں بچے کے اہلخانہ کے ساتھ برابر کا شریک ہوں لیکن معاملے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا جس جگہ بچہ گرا وہاں مین ہول کا کور موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے بچہ بدقسمتی سے اس میں گر کر حادثے کا شکار ہوگیا۔ میں اس واقعے پر غمگین ہوں،اس ماں اور والد کی تڑپ کا احساس ہے اور اہلخانہ سے افسوس کا اظہار بھی کرتا ہوں، اہلخانہ کی ہر ممکن مدد کریں گے، کل رات کو اس ایشو پر سیاست کرنے کی کوشش کی گئی جو بڑی بدقسمت چیز ہے، 500 میٹر کے حصے کو کھود چکے ہیں، بچے کی تلاش کا کام جاری ہے، سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نکلوا رہا ہوں کہ معاملہ کیا ہوا ہے، ایم ڈی واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے کہ کس نے مشینری منع کی، اگر ایسا ہے تو قانونی کارروائی کریں گے، اگر عملے کی کوتاہی ثابت ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی،پچھلے ایک سال میں 88 ہزار مین ہول کور لگائے ہیں، واٹر کارپوریشن نے 55 فیصد یوسی چیئرمینز کو ڈھکن دیے ہیں، انکوائری کراؤں گا کہ شہرکے بیچ ڈپارٹمنٹل اسٹور اور اسپتال کے قریب مین ہول کیسے کھلا تھا، مین ہول کتنے دن سے کھلا تھا، یا کھولا گیا تھا، اس کو چیک کیا جائے گا۔

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کو سیاسی بنانے کی کوشش کی گئی، تنقید کرنے والے لوگ اس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے، واٹر کارپوریشن کو کوئی شکایات نہیں ملی تھی،میں متاثرہ خاندان اور والدین کے ساتھ کھڑا ہوں، میں حکومت کا حصہ ہوں، اس طرح کی اشتعال انگیز گفتگو کی وجہ سے معاملات حل نہیں ہو پاتے، برساتی نالے پر ٹاؤن اور کے ایم سی دونوں کام کرتے ہیں، معاملے کی ہر پہلو سے مکمل تحقیقات کریں گے، اس علاقے کا ٹاؤن چیئرمین جماعت اسلامی کا ہے، اگر میں کہوں کہ ذمہ داری جماعت اسلامی کی ہے تو لوگ ناراض ہوں گے۔

  • برطانوی لیبر ایم پی ٹیولِپ صدیق کو بدعنوانی کیس میں بنگلہ دیشی عدالت نے سنائی سزا

    برطانوی لیبر ایم پی ٹیولِپ صدیق کو بدعنوانی کیس میں بنگلہ دیشی عدالت نے سنائی سزا

    برطانیہ کی لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ اور سابق سٹی منسٹر ٹیولِپ صدیق کو بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت نے انہیں عدم موجودگی میں سزا سناتے ہوئے 1 لاکھ بنگلادیشی ٹکا جرمانہ بھی عائد کیا ہے، جو تقریباً 620 پاؤنڈ کے برابر ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ان کی سزا میں مزید چھ ماہ کا اضافہ ہو جائے گا۔

    43 سالہ ٹیولِپ صدیق پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی خالہ، ملک کی برطرف شدہ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ پر اثرانداز ہو کر ڈھاکہ کے مضافات میں اپنے خاندان کے لیے زمین کا پلاٹ حاصل کرنے کی کوشش کی۔ صدیق نے ان الزامات کی ہمیشہ سختی سے تردید کی ہے۔یہ مقدمہ اسی کیس سے جڑا ہے جس میں گزشتہ ہفتے شیخ حسینہ کو 23 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ شیخ حسینہ، ان کی بہن شیخ ریحانہ اور دیگر ملزمان بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ عدالت نے مجموعی طور پر 17 افراد کو قصوروار قرار دیا، جن میں ٹیولِپ صدیق، شیخ حسینہ اور شیخ ریحانہ شامل ہیں۔ فیصلے کے وقت بیشتر ملزمان بیرونِ ملک یا روپوش تھے۔

    ٹیولِپ صدیق، جو برطانوی حکومت میں انسدادِ بدعنوانی وزیر بھی رہ چکی ہیں، رواں سال دسمبر میں الزامات سامنے آنے کے بعد وزارتِ خزانہ کے عہدے سے مستعفی ہوگئی تھیں۔ اب انہیں برطانوی پارلیمنٹ میں اپنے منصب سے ہٹنے کے مطالبات کا سامنا ہے۔برطانیہ کی نمایاں شخصیات، جن میں شیری بلیئر ، سابق وزرا اور متعدد برطانوی وکلاء شامل ہیں، نے گزشتہ ہفتے ایک مشترکہ خط میں اس مقدمے کو "گھڑا ہوا اور غیر منصفانہ” قرار دیا۔ خط میں کہا گیا کہ صدیق کو بلاجواز عدم موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا اور ان کے وکیل کو بنگلادیشی حکام نے نظر بند کر دیا تھا، جبکہ ان کی بیٹی کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔

    ٹیولِپ صدیق پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ مل کر روس کے تعاون سے بننے والے ایک نیوکلیئر پاور پراجیکٹ سے 4 ارب پاؤنڈ کی رقم بیرونِ ملک منتقل کی۔ تاہم صدیق نے اس الزام کو بھی "بے بنیاد” قرار دیا ہے۔

    گزشتہ ماہ بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کو قتل، تشدد، انسانیت کے خلاف اقدامات اور شہریوں پر طاقت کے غلط استعمال کے الزامات میں سزائے موت سنائی۔ فیصلہ ان کی غیرموجودگی میں سنایا گیا کیونکہ وہ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی اور اگست 2024 کے احتجاجی مظاہروں میں 1,400 سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ استغاثہ کے مطابق شیخ حسینہ نے احتجاج کو دبانے کے لیے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور بھاری اسلحہ استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ عدالت نے ان حملوں کو "شہری آبادی کے خلاف منظم اور وسیع کارروائیاں” قرار دیا۔

  • خاتون خود کش حملہ آور  کا ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر حملہ،تین دہشتگرد ہلاک

    خاتون خود کش حملہ آور کا ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر حملہ،تین دہشتگرد ہلاک

    کالعدم تنظیم بی ایل ایف خواتین کو بلیک میل کر کے خود کش حملوں پر مجبور کرتی ہے.

    فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں، خصوصاً بی ایل اے اور بی ایل ایف، خواتین کی نازیبا ویڈیوز بنا کر انہیں خود کش حملوں کے لیے مجبور کرتی ہیں۔ گرفتار ہونےوالی خود کش بمبار عدیلہ بلوچ نے بتایا تھا کہ کس طرح نازیبا ویڈیو بناکر اسے بلیک میل کیا گیا۔ نوکنڈی میں خود کش حملہ کرنے والی زرینہ رفیق کو بھی بی ایل ایف کے کمانڈر نے جنسی درندگی کا نشانہ بنایا، اس کی ویڈیو بنائی اور خود کش حملہ کرنے پر دھمکایا کہ اگر انکار کیا تو ویڈیو نیٹ پر جاری کر دی جائے گی،یہ درندے خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں.

    اسلامی اور بلوچی روایات کی دھجیاں اڑانے والوں نے ایک بار پھر بلوچستان نوکنڈی حملے میں عورت کا استعمال کیا،یہ بلوچ عزت کی کھلی پامالی ہے۔بی وائی سی اور نام نہاد ہیومن رائٹس بلوچستان کے وہی لوگ آکر اب یہ منظر بھی دیکھ لیں،چند ہفتے قبل حب میں نسرینہ بلوچ کی گمشدگی پر روایات یاد دلانے والوں کی آج زبانیں بند ہیں، اور ان کا دوہرا معیار بے نقاب ہو چکا ہے۔

    قبل ازیں نوکنڈی پر ناکام حملے کے بعد، دہشتگردوں کے ایک اور گروپ نے پنجگور میں حملہ کیا،جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو پسپا کردیا۔ دریں اثنا فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر نوکنڈی پر بزدلانہ حملے کی ناکام کوشش کی، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور موثر کارروائی نے دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے۔ ایک خودکش حملہ آور نے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے فوراً بعد کوئیک رسپانس فورس نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے باقی تین دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا۔سیکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن جاری ہے،جلد باقی ماندہ دہشت گرد کو انجام تک پہنچایا جائے گا۔

    اتوار کی شب ساڑھے آٹھ بجے کے قریب چار حملہ آوروں نے کیمپ پر حملہ کیا، جن میں سے ایک خاتون خودکش بمبار زرینہ فاروق عرف ترانگ ماہو نے کیمپ کے مرکزی گیٹ پر ناکام خودکش دھماکہ کیا۔ باقی حملہ آور سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی میں ہلاک ہو گئے۔ ایس ایس پی چاغی محمد شریف کے مطابق جوابی کارروائی کے بعد کلیئرنس آپریشن جاری ہے اور علاقے میں صورتحال مکمل طور پر کنٹرول میں ہے اور معمول زندگی رواں دواں ہے۔

  • طالبان کی جابرانہ پابندیاں، افغانستان تعلیمی وفکری دباؤکی شدیدزد میں

    طالبان کی جابرانہ پابندیاں، افغانستان تعلیمی وفکری دباؤکی شدیدزد میں

    دہشتگردی کے فروغ کیلئے افغان طالبان کی جابرانہ پابندیاں، افغانستان تعلیمی وفکری دباؤکی شدیدزد میں ہے

    ظالم طالبان رجیم افغانستان میں خاموش ، محروم اور تعصب زدہ معاشرہ قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے،افغانستان میں باالخصوص خواتین کی تعلیم پر قدغن کا مقصد دہشتگردانہ سوچ اور نسل کو پروان چڑھانا ہے ،انسانی حقوق کے کارکنان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا افغانستان میں”فکری سوچ کے خاتمہ” کے عمل میں اہل اساتذہ کو نظر انداز، یونیورسٹیاں بند اور اہم علمی شعبہ جات ختم کیے جا رہے ہیں

    انسانی حقوق کے کارکنان کے مطابق سماجی علوم، قانون، اور میڈیا اسٹڈیز پر پابندی افغان طالبان کے وسیع تر پروگرام کا حصہ ہے،یونیسکو اور یونیسیف کی رپورٹس کے مطابق؛خواتین اساتذہ کی کمی اور تعلیمی وسائل کی قلت کی وجہ سے افغانستان میں تعلیمی معیار میں شدید کمی واقع ہوئی ہے

    جابر افغان طالبان کی بے جاپابندیوں کے باعث خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد بے روزگار ہو چکی ہے ،یونیورسٹیوں اور علمی شعبوں کی تباہی نے افغانستان کے مستقبل کو تاریکی میں دھکیل دیا ہے ،افغانستان میں فکری سوچ پر پابندیوں نے پورے ملک کو جبرو استبدار، خوف اور خاموشی کی زنجیروں میں جکڑ دیا ہے ،طالبان رجیم آزادی اظہار اور تخلیقی سوچ کا خاتمہ کر کے خاموش اور دانشوروں سے عاری معاشرہ قائم کر رہی ہے،قابض افغان طالبان کے دور اقتدار میں داخلی اور خارجی دہشتگردانہ پالیسیاں عالمی سطح پر شرم اور تنقید کا سبب بن چکی ہیں

  • بھارتی وزیر دفاع کے سندھ مخالف بیان پر حیدرآباد میں ہندوبرادری کا احتجاج

    بھارتی وزیر دفاع کے سندھ مخالف بیان پر حیدرآباد میں ہندوبرادری کا احتجاج

    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے سندھ مخالف بیان پر مرکزی مسلم لیگ اقلیتی ونگ کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب کے باہر احتجاج کیا گیا،احتجاج میں ہندو برادری کے مرد و خواتین، بچوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی

    راجناتھ سنگھ کے خلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہندوستان مردہ باد، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے،مظاہرین نے ہندوستان کا پرچم بھی نذر آتش کیا،مرکزی مسلم لیگ اقلیتی ونگ کے رہنما نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کی سلامتی پر وار کیا ہے، سندھ پاکستان کا حصہ ہے اور رہے گا، ھندوستان بھی پاکستان کا حصہ بن کر رہے گاہندوستان پاکستان مخالف جارحیت ختم کرے،

  • فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصر ی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصر ی وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کی ملاقات

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مصر کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے ملاقات کی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور مصر کے برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا، ملاقات میں دفاع اور سیکیورٹی تعاون، عسکری روابط، ٹریننگ کے اشتراک اور علاقائی امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے دفاع اور وسیع تر اسٹریٹجک شعبوں میں ہم آہنگی کو مزید مضبوط اور دیرینہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا،مصر کے وزیرِ خارجہ نے مصری قیادت کی جانب سے نیک خواہشات بھی پہنچائیں، مصر نے پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق فریقین نے بدلتی علاقائی سیکیورٹی صورتِ حال کے تناظر میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ سطحی روابط کے تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا ضلع کوہلو میں ای کامرس کلاس اور گرلز ڈگری کالج کا دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا ضلع کوہلو میں ای کامرس کلاس اور گرلز ڈگری کالج کا دورہ

    ایف سی بلوچستان (نارتھ) کی جانب سے ایف سی پبلک اسکول کوہلو اور بارکھان میں ای کامرس تربیتی کلاسز 4 نومبر 2025سے جاری ہیں، جس میں 100 سے زائد طلباء و طالبات شرکت کر رہے ہیں،

    طلباء و طالبات کو ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈیزائننگ اور بزنس مینجمنٹ کی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ خواتین کی خود انحصاری پر خصوصی توجہ دی گئی تاکہ وہ گھروں میں رہ کر باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبٰی نے طلباء و طالبات سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا،”طلباء و طالبات کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہیں اور قیمتی سرمایہ ہیں ، نوجوان طلباء و طالبات کو تعلیم کے ساتھ ساتھ بہترین روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ،ایف سی بلوچستان (نارتھ) جدید تعلیم و مہارتوں کے ذریعے ایک پرامن اور خوشحال بلوچستان کی بنیاد رکھ رہی ہے۔”

    ای کامرس کلاسز کے بعد آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ نے گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کوہلو کا بھی دورہ کیا، جہاں پر کالج فیکلٹی اور طالبات کے ساتھ بھی معیاری تعلیم کے حصول کے بارے میں بات چیت کی۔آخر میں والدین،اساتذہ اور طلباء و طالبات نے ایف سی بلوچستان (نارتھ) کے اس اقدام کو نوجوانوں کی ترقی اور خودکفالت کی جانب مثبت قدم قرار دیا۔

  • کراچی، بچہ گٹر میں گر گیا،شہری مشتعل،احتجاج ،گاڑیوں پر پتھراؤ،میئر کراچی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    کراچی، بچہ گٹر میں گر گیا،شہری مشتعل،احتجاج ،گاڑیوں پر پتھراؤ،میئر کراچی کے استعفیٰ کا مطالبہ

    نیپا چورنگی پر 3 سالہ بچے کے گٹر میں گرنے کے کئی گھنٹوں بعد بھی بچہ کا تاحال کچھ پتا نہ چل سکا۔

    کراچی ایک بار پھر انتظامی غفلت اور بنیادی شہری سہولتوں کی کمی کے باعث ایک معصوم جان نگل گیا۔ اتوار کی شام گلشنِ اقبال نیپا چورنگی کے قریب ایک دردناک حادثہ اُس وقت پیش آیا جب ایک ماں اپنے چار سالہ بچے کے ساتھ شاپنگ کے لیے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور آئی۔ خریداری کے بعد جیسے ہی وہ اسٹور سے باہر نکلی، چند ہی لمحوں میں اس کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ اس کے سامنے تھا۔اس معصوم بچّے نے معمول کے مطابق قدم بڑھایا مگر سڑک کنارے موجود اُس گٹر کا ڈھکن غائب تھا۔ اندھیرا ہونے کے باعث بچہ گہرائی کا اندازہ نہ لگا سکا اور سیدھا کھلے گٹر میں جا گرا۔

    کراچی شہرِ کراچی میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں کہ کھلے مین ہولز نے قیمتی جانیں نگل لی ہوں۔ شہرِ قائد، جو ملک کا معاشی حب اور سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا شہر ہے، عرصے سے بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ سڑکوں پر ابلتے گٹر، ٹوٹی سڑکیں، غائب ڈھکن، اور ناقص شہری انتظامیہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد بار حکامِ بالا کو ان مسائل کی نشاندہی کی مگر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہوسکی۔ شہریوں کا سوال ہے کہ آخر یہ کیسی گورننس ہے جس میں ایک ماں کی آہ تو شاید آسمان تک پہنچ جائے مگر متعلقہ اداروں کے بند کمروں تک نہیں پہنچتی؟اس المناک واقعے نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ شہری مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ دار اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، کھلے مین ہولز کا فوری خاتمہ کیا جائے، اور مستقبل میں ایسے حادثات روکنے کے لیے واضح حکمتِ عملی اپنائی جائے۔شہری سوشل میڈیا پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے استعفیٰ کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں.

    گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کیا اور سڑکوں پر ٹائر جلا کر ٹریفک معطل کردی ،علاقہ مکینوں کے احتجاج کے باعث اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے جب کہ یونیورسٹی روڈ نیپا سے حسن اسکوائر آنے اور جانے والا ٹریک ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔ دوسر ی جانب مشتعل افراد نے میڈیا پر بھی حملہ کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے جب کہ دفاتر جانے والے شہریوں کو زبردستی روکنے کی کوششیں کی، مشتعل ہجوم کے احتجاج کے باعث ریسکیو ٹیموں نے امدادی کام روک دیا ہے،ریسکیو حکام کے مطابق مین ہول میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کے باعث بچے کی تلاش کے کام میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    بچے کے دادا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ میرا بیٹا اور بہو رات ساڑھے 10 بجے کے قریب شاپنگ کیلئے آئے تھے، بیٹا پارکنگ ایریا میں بائیک کھڑی کرنے گیا تھا، بچہ والدہ کے ساتھ تھا والد کے پیچھے بھاگا، اسی دوران گٹر کا ڈھکن کھلاتھا بچہ اس گٹر میں گرگیا،ہ بچہ میرے بیٹے کی اکلوتی اولاد ہے، بیٹا پرائیوٹ ملازم ہے، اتنی تکلیف میں ہوں کہ منہ سے الفاظ ادا نہیں ہورہے، متعلقہ اداروں کی جانب سے 3 ساڑھے 3 گھنٹے گزرجانے کے باوجود کسی کو مدد کیلئے نہیں بھیجا گیا لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت مدد کی، ریسکیو کے کاموں سے مطمئن نہیں ہے،، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ اور میئر کراچی سے درخواست ہے، اپنا بچہ سمجھتے ہوئے ہمارے بچے کی برآمدگی میں ہماری مدد کریں۔

    ڈپٹی میئر کراچی کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ چکی تھیں،لوگوں نے غلط بیانی کی ہے، مشینری اور انتظامیہ موجود تھی، کچھ شرپسند عناصر نےسیاسی مقاصد کیلئے احتجاج کیا اور گاڑیوں کے شیشے توڑ ڈالے۔

    افسوسناک واقعے پر واٹر کارپوریشن نے اپنے مؤقف میں کہا کہ انسانی جان سے متعلق ہر ناخوشگوار واقعہ افسوس ناک ہوتا ہے لیکن افسوسناک واقعہ جس مقام پر پیش آیا وہاں واٹر کارپوریشن کا کوئی سسٹم موجود نہیں۔ واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر نہ سیوریج کی لائن موجود ہے اور نہ ہی واٹرکارپوریشن کا کوئی مین ہول، برساتی نالوں کی دیکھ بھال،مرمت اور صفائی کے امور واٹر کارپوریشن کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔