Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس  کی سماعت

    الیکشن کمیشن میں سہیل آفریدی کے ضابطہ اخلاق خلاف ورزی کیس کی سماعت

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے خلاف ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کے کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے کی،

    جس میں سہیل آفریدی کے وکیل علی بخاری نے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعلیٰ کو جو نوٹس جاری ہوا وہ تحصیل حویلیاں، ضلع ایبٹ آباد کا تھا جو این اے 18 میں شامل نہیں، جبکہ الیکشن ہری پور میں تھا، وکیل کے مطابق ڈی ایم او کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ایبٹ آباد درج ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں ڈسٹرکٹ ہری پور لکھا گیا جو واضح تضاد ہے، چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ مقام حویلیاں تھا ہری پور نہیں، علی بخاری نے کہا کہ اگر غلطی سے غلط ضلع لکھا گیا ہے تو نوٹس واپس لیا جائے، نوٹس میں تحصیل حویلیاں درج ہے اور ایبٹ آباد ڈسٹرکٹ شامل نہیں، وزیر اعلیٰ کو ہری پور جانا منع تھا اور وہ وہاں نہیں گئے، اگر ہری پور سمجھ کر بلایا گیا ہے تو یہ غلط بنیاد پر بلایا گیا،

    وکیل نے مؤقف اپنایا کہ قانون کے مطابق بدمزگی یا نتائج میں مداخلت کرپٹ پریکٹس کے زمرے میں آتی ہے، نوٹس کے ساتھ منسلک کاپی میں واضح طور پر درج ہے کہ وزیر اعلیٰ نے کہا اگر نتائج میں تبدیلی یا بدمزگی کی گئی، علی بخاری نے کہا کہ ڈی ایم او مجھے بلا کر پچاس ہزار روپے جرمانہ کر سکتا تھا مگر جب کمیشن نے بلایا تو ڈی ایم او کے پاس معاملہ التوا ہو گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک ہی معاملے پر دو کیسز اور دو سزائیں نہیں دی جا سکتیں، مزید یہ کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن خود شکایت کنندہ ہیں اور کیس بھی الیکشن کمیشن ہی سن رہا ہے جو خود شکایت اور خود ہی انصاف کے مترادف ہے،

    چیف الیکشن کمشنر نے سوال اٹھایا کہ اگر خلاف ورزی ہوتی رہے اور چیف منسٹر دھمکی دیتا رہے تو کیا الیکشن کمیشن آنکھ بند کر کے بیٹھا رہے، جس پر علی بخاری نے جواب دیا کہ جب آپ خود شکایت کنندہ ہیں تو کیس خود کیسے سن رہے ہیں، وکیل نے مزید کہا کہ ڈی ایم او نے نوٹس دیا تھا تو پہلے وہ فیصلہ کرتا، بعد ازاں معاملہ اپیل میں الیکشن کمیشن آنا چاہیے تھا، ان کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس نااہلی کا اختیار نہیں اور سہیل آفریدی نہ ضلع، نہ حلقے، نہ پولنگ اسٹیشن میں گیا اور نہ ہی اس نے کوئی غیر آئینی الفاظ ادا کیے،

  • ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    معروف مسیحی رہنما ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل کی والدہ چل بسیں

    ان کی آخری رسومات منگل، 20 جنوری 2026 کو دوپہر 2:30 بجے سوئفٹ میموریل چرچ، منیر چوک، سول لائنز، گوجرانوالہ میں ادا کی جائیں گی، جہاں اہلِ خانہ، عزیز و اقارب، سماجی شخصیات کی بڑی تعداد شریک ہو گی،والدہ کی وفات پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نے ریورنڈ ڈاکٹر ماجد ایبل اور ان کے خاندان سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا، جبکہ سوگوار خاندان کے لیے صبر، حوصلے کی دعا کی گئی۔

  • پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام کا فیصلہ، ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 منظور

    پنجاب میں صفائی، ویسٹ مینجمنٹ اور حفظانِ صحت کے نظام کو مؤثر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی سربراہی میں ستھرا پنجاب اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

    اس سلسلے میں پنجاب اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے لوکل گورنمنٹ نے ستھرا پنجاب اتھارٹی بل 2025 کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد صوبے بھر میں صفائی کے نظام میں بڑی انتظامی اور قانونی تبدیلی متوقع ہے۔منظور شدہ بل کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی ایک بااختیار کارپوریٹ ادارہ ہوگی جو پورے صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ سے متعلق پالیسی سازی، قانون سازی، معیار کے تعین اور نگرانی کے فرائض انجام دے گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب اس اتھارٹی کی چیئرمین ہوں گی جبکہ وزیر بلدیات وائس چیئرمین کے طور پر ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اس کے علاوہ مختلف صوبائی محکموں کے سیکرٹریز اور تمام ڈویژنل کمشنرز اتھارٹی کے ممبران ہوں گے، جس سے فیصلہ سازی میں انتظامی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

    بل میں مزید کہا گیا ہے کہ ستھرا پنجاب اتھارٹی صوبے میں ویسٹ مینجمنٹ کے لیے پالیسی، قوانین اور معیار مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ لینڈفل سائٹس کی تعمیر اور ان کے انتظام کی بھی مجاز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد کچرے کے سائنسی اور ماحول دوست انتظام کو فروغ دینا ہے تاکہ شہری اور دیہی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جا سکے۔ضلع کی سطح پر ستھرا پنجاب ڈسٹرکٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی جس کے چیئرمین ڈپٹی کمشنر ہوں گے۔ ڈسٹرکٹ اتھارٹی کو لائسنسنگ، رجسٹریشن اور فیس وصولی کے اختیارات حاصل ہوں گے، جبکہ ویسٹ مینجمنٹ انسپکٹرز کی تقرری بھی ڈسٹرکٹ اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔ دیہی علاقوں میں صفائی اور حفظانِ صحت کی بہتری کی ذمہ داری بھی اسی اتھارٹی پر عائد کی گئی ہے۔

    بل کے تحت ستھرا پنجاب اتھارٹی کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی فراہم کردہ خدمات کے عوض فیس مقرر کر سکے گی۔ تاہم ایک اہم شق کے مطابق اتھارٹی کے فیصلوں کو براہِ راست عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، جسے حکومت انتظامی امور میں تیزی اور رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق ستھرا پنجاب اتھارٹی کے قیام سے نہ صرف صوبے میں صفائی کے نظام کو مرکزی اور مربوط انداز میں چلایا جا سکے گا بلکہ شہریوں کو صاف اور صحت مند ماحول فراہم کرنے کی راہ بھی ہموار ہوگی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام پنجاب کو جدید اور ماحولیاتی طور پر محفوظ صوبہ بنانے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔

  • ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی: اکشے کمار کی سیکیورٹی گاڑی حادثے کا شکار

    ممبئی میں بالی ووڈ اداکار اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل ایک گاڑی پیر کی شام سڑک حادثے کا شکار ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اکشے کمار اپنی اہلیہ ٹوئنکل کھنہ کے ہمراہ ایئرپورٹ سے اپنے جوہو کے رہائشی مکان واپس جا رہے تھے۔

    ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک کار نے پیچھے سے ایک آٹو رکشہ کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں رکشہ الٹ گیا اور اکشے کمار کی سیکیورٹی میں شامل اسکارٹ گاڑی سے جا ٹکرایا۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ سیکیورٹی گاڑی سڑک پر دائیں جانب الٹ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام موقع پر پہنچ گئے اور صورتحال کو قابو میں لے لیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اکشے کمار کی اسکارٹ گاڑی سڑک پر ایک طرف الٹی ہوئی ہے، جبکہ آٹو رکشہ بری طرح تباہ نظر آتا ہے اور اوپر سے دب چکا ہے۔ خوش قسمتی سے حادثے میں کسی کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

    واضح رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ حال ہی میں بیرونِ ملک سفر سے واپس آئے تھے، جہاں وہ اپنی ذاتی زندگی کے ایک خاص موقع کی مناسبت سے گئے تھے۔ دونوں نے حال ہی میں اپنی شادی کی 25ویں سالگرہ منائی ہے۔اس موقع پر ٹوئنکل کھنہ نے ہفتے کے روز انسٹاگرام پر ایک ویڈیو بھی شیئر کی تھی جس میں وہ اور اکشے کمار پیراگلائیڈنگ کرتے نظر آئے۔ ویڈیو کے ساتھ ٹوئنکل نے لکھا کہ ان کی شادی کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو آگے بڑھنے اور “اڑان بھرنے” کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اکشے کمار اور ٹوئنکل کھنہ کی شادی 17 جنوری 2001 کو ممبئی میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، جن میں 23 سالہ بیٹا آراو اور 13 سالہ بیٹی نتارا شامل ہیں۔

  • بھارت کا کروڑ پتی بھکاری،بھیک مانگ کر تاجروں کو سود پر قرض دینے لگا

    بھارت کا کروڑ پتی بھکاری،بھیک مانگ کر تاجروں کو سود پر قرض دینے لگا

    اندور کے مصروف اور تاریخی بازار سرافہ میں روزانہ ایک ایسا منظر دکھائی دیتا تھا جو لوگوں کے دلوں میں ہمدردی جگا دیتا تھا۔ لوہے کی بنی ایک چھوٹی سی گاڑی، جس میں بال بیئرنگ کے پہیے لگے تھے، اس پر ایک جسمانی معذور شخص بیٹھا ہوتا، کندھوں پر بیگ، ہاتھ جوتوں کے اندر ڈالے ہوئے، اور خاموشی سے لوگوں کے درمیان موجود، وہ کسی سے بھیک نہیں مانگتا تھا، بس بیٹھا رہتا تھا۔ لوگ خود ہی اس کی جھولی میں سکے یا نوٹ ڈال دیتے تھے۔یہ شخص منگی لال تھا ، جو اب سامنے آنے والی تحقیقات کے مطابق ایک غریب نہیں بلکہ کروڑ پتی نکلا۔

    یہ حیران کن انکشاف خواتین و اطفال ترقیاتی محکمہ کی جانب سے اندور کو بھکاریوں سے پاک کرنے کی مہم کے دوران سامنے آیا۔ ہفتہ کی رات تقریباً 10 بجے ریسکیو ٹیم نے اطلاع ملنے پر سرافہ بازار میں کارروائی کی کہ ایک شخص جو مبینہ طور پر کوڑھ کا مریض ہے، باقاعدگی سے وہاں بھیک مانگتا ہے۔ ٹیم نے اسے ایک عام کیس سمجھا، مگر جب منگی لال سے تفتیش شروع ہوئی تو معاملہ یکسر مختلف نکلا۔تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ منگی لال گزشتہ چند برسوں سے سرافہ بازار میں خاموش بھیک کے فن میں مہارت حاصل کر چکا تھا۔ وہ کسی سے سوال نہیں کرتا تھا، اس کی خاموشی اور معذوری ہی اس کا ذریعہ آمدن تھی۔ حکام کے مطابق وہ صرف بھیک سے روزانہ 400 سے 500 روپے کما لیتا تھا، مگر اصل کمائی رات کے اندھیرے میں شروع ہوتی تھی۔خواتین و اطفال ترقیاتی افسر اور ریسکیو آپریشن کے نَوڈل افسر دنیش مشرا کے مطابق منگی لال نے اعتراف کیا کہ وہ بھیک سے جمع ہونے والی رقم کو اپنی بقا پر خرچ نہیں کرتا تھا بلکہ اسی رقم کو سرافہ بازار کے تاجروں کو سود پر قرض دیتا تھا۔ وہ ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے رقم دیتا اور روزانہ خود جا کر سود وصول کرتا تھا۔ اندازوں کے مطابق اس نے 4 سے 5 لاکھ روپے مارکیٹ میں لگائے ہوئے تھے، جس سے اسے روزانہ 1,000 سے 2,000 روپے تک کی آمدن ہو رہی تھی۔

    تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ منگی لال تین گھروں کا مالک ہے، جن میں ایک تین منزلہ عمارت جبکہ دو سنگل اسٹوری مکانات شامل ہیں، جو شہر کے اچھے علاقوں میں واقع ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے پاس تین آٹو رکشے ہیں جو روزانہ کرائے پر چلتے ہیں، اور ایک ماروتی سوزوکی ڈزائر کار بھی ہے، جسے وہ خود چلانے کے بجائے کرائے پر دیتا ہے۔ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ منگی لال نے اپنی معذوری کی بنیاد پر پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت ایک کمرہ، ہال اور کچن پر مشتمل سرکاری مکان بھی حاصل کر رکھا تھا، حالانکہ وہ پہلے ہی متعدد جائیدادوں کا مالک تھا۔

    دنیش مشرا کے مطابق منگی لال کو فی الحال اجّین کے سیوادھام آشرم منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس کے بینک اکاؤنٹس اور جائیدادوں کی مکمل جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ ان تاجروں سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی جنہوں نے اس سے سود پر رقم لی۔ ایک تفصیلی رپورٹ تیار کر کے ضلع کلکٹر کو پیش کر دی گئی ہے، اور آئندہ کارروائی اعلیٰ حکام کی ہدایات کے مطابق کی جائے گی۔حکام کے مطابق منگی لال 2021-22 سے بھیک مانگ رہا تھا اور اب شیلٹر ہاؤس میں رکھا گیا ہے۔ اس کیس نے اندور کی انسدادِ گداگری مہم میں ایک نیا اور چونکا دینے والا پہلو شامل کر دیا ہے۔ یہ مہم فروری 2024 میں شروع کی گئی تھی، جس کے تحت کیے گئے سروے میں شہر میں تقریباً 6,500 بھکاریوں کی نشاندہی ہوئی۔ اب تک 4,500 افراد کونسلنگ کے بعد بھیک چھوڑ چکے ہیں، 1,600 کو ریسکیو کر کے بحالی مراکز بھیجا گیا ہے جبکہ 172 بچوں کو اسکولوں میں داخل کروایا جا چکا ہے۔

  • عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    عہدوں کے خواہاں نہیں،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے میدان میں آئے،عبدالمجید ساجد

    لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات کی سرگرمیاں باقاعدہ طور پر شروع ہو چکی ہیں، جس کے ساتھ ہی صحافتی حلقوں میں جوش و خروش دیکھنے میں آ رہا ہے،سالانہ انتخابات کے لئے ووٹنگ 25 جنوری اتوار کو ہو گی

    لاہور پریس کلب انتخابات کے سلسلے میں دو بڑے پینل سامنے آ گئے ہیں، صدر کے عہدے کے لیے ارشد انصاری اور اعظم چوہدری آمنے سامنے ہیں، جبکہ سیکرٹری جنرل کے اہم عہدے پر ایک بار پھر عبدالمجید ساجد نے میدان میں اترنے کا اعلان کر دیا ہے، جن کا مقابلہ افضال طالب سے ہو گا۔اسی طرح دیگر عہدوں پر بھی امیدواروں کے نام سامنے آ چکے ہیں،

    لاہورپریس کلب انتخابات کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار برائے سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد کا کہنا تھا کہ ان کا سیاست یا عہدوں سے ذاتی طور پر کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ صرف صحافتی کمیونٹی کی بہتری اور حقوق کے تحفظ کے لیے میدان میں اترے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف الیکشن لڑنا مقصد نہیں، ہم عہدوں کے خواہش مند نہیں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نئے لوگ آگے آئیں، لیکن اگر ہم الیکشن لڑ رہے ہیں تو صرف اور صرف صحافی برادری کے لیے لڑ رہے ہیں،عبدالمجید ساجد نے اتحاد کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شامل تمام افراد کریڈٹ کے مستحق ہیں جنہوں نے اختلافات بھلا کر قربانیاں دیں۔ انہوں نے پُراعتماد انداز میں کہا کہ اب ہم میدان میں آ چکے ہیں، ہم جیت کر آئیں گے، پورا پینل کامیاب ہو گا، ان شاء اللہ۔ گرینڈ الائنس کلین سویپ کرے گا۔

    صحافی برادری کا کہنا ہے کہ لاہور پریس کلب کی تاریخ گواہ ہے کہ عبدالمجید ساجد ہمیشہ صحافتی کمیونٹی کے لیے تنِ تنہا بھی میدانِ عمل میں ڈٹے رہے ہیں۔ ایک پڑھے لکھے، باوقار اور باکردار لیڈر کے طور پر وہ ایک بار پھر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ماضی میں وہ چار مرتبہ ممبران کے ووٹ اور اعتماد سے کامیاب ہو چکے ہیں اور ایک بار پھر وہ اسی اعتماد کی تجدید کے لیے میدان میں اترے ہیں،کامیاب ہوں گے ان شاء اللہ

  • لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی  تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق کے شعبے میں پہلی وومن یونیورسٹی بن گئی

    لاہور کالج فار وومن یونیورسٹی تحقیق و تالیف کے شعبے میں پہلی خواتین یونیورسٹی بن گئی۔ یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں 475 تحقیقاتی مضامین، 75 ریسرچ پروپوزلز اور 40ملین کی ریسرچ گرانٹ حاصل کیں،گذشتہ برس 200 اساتذہ کی تربیت، 5 پیٹنٹ درخواستیں، 30نمائشیں اور 31 مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کئے گئے

    تفصیلات کے مطابق لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی (ایل سی ڈبلیو یو) کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORIC) نے سال 2025 کے لیے اپنی ابتدائی سالانہ تحقیقی، جدتی اور کمرشلائزیشن رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں تحقیق، جدت اور ادارہ جاتی اشتراک کے شعبوں میں یونیورسٹی کی نمایاں پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یہ رپورٹ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کی قیادت اور ادارہ جاتی سرپرستی میں تیار کی گئی، جس میں 2025 کے دوران ایل سی ڈبلیو یو کی تحقیقی سرگرمیوں اور جدتی اقدامات کا جامع مگر مختصر جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

    رپورٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق، لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی نے تحقیق، مسابقتی فنڈنگ کے حصول، جدت اور قومی و بین الاقوامی سطح پر ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں قابلِ ذکر کارکردگی دکھائی ہے، جو مختلف نمایاں کارکردگی اشاریوں میں واضح طور پر سامنے آتی ہے۔سالانہ رپورٹ میں توانائی اور موسمیاتی تبدیلی، سائنس و ٹیکنالوجی، اسٹیم اور خلائی علوم، سماجی علوم اور فنون جیسے اہم تحقیقی شعبوں میں یونیورسٹی کی شراکت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تحقیقی سرگرمیاں اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) بالخصوص ہدف 3، 4، 5، 7، 9، 13 اور 17 سے ہم آہنگ ہیں۔

    انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ORIC کی یہ رپورٹ نہ صرف یونیورسٹی کی تحقیقی سمت کا تعین کرتی ہے بلکہ خواتین کی اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور سماجی ترقی میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کے کردار کو بھی اجاگر کرتی ہے۔

  • سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    سوشل میڈیا پر بھارتی اور افغان میڈیا کا پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈہ بے نقاب

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھارتی اور افغان میڈیا کے پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیا ہے۔

    سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستانی فوج بلوچستان میں کسانوں کے ذریعہ معاش تباہ کر رہی ہے اور ایک ویڈیو کے ذریعے دکھایا گیا کہ اہلکار سولر پینلز تباہ کر رہے ہیں،وزارتِ اطلاعات و نشریات کے مطابق یہ دعویٰ بے بنیاد ہے اور ویڈیو اصل میں بلوچستان میں ایف سی اور اینٹی نارکورٹکس فورس کے آپریشن کی فوٹیج ہے۔ ان آپریشنز کا مقصد غیر قانونی منشیات کی کاشت اور دہشت گردوں کو فنڈنگ پہنچنے سے روکنا ہے،وزارت نے واضح کیا کہ نہ تو کسی پاکستانی اور نہ ہی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے اس جھوٹے دعوے کی تصدیق کی ہے۔

    وزارت نے کہا کہ پاکستان مخالف منظم منفی پروپیگنڈا مہم بھارتی اور افغانی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی پہچان بن چکی ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ گل پلازہ،جس کی غلطی ہوئی،سزائیں ہوں گی،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ غلطیوں کو درست کرنے کے لیے انکوائری کریں گے، سانحہ گل پلازا میں جس کی غلطی ہوئی، انہیں سزائیں ہوں گی۔

    گل پلازا میں لگنے والی آگ پر خصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں اس واقعے کی انکوائری کروائیں گے، یہ انکوائری کسی کے پیچھے پڑنے والی نہیں ہو گی، اگر انکوائری میں تخریب کاری کے شواہد ملے تو اس پر ایکشن ہوگا، انکوائری میں اصل توجہ اپنی غلطیوں کو ٹھیک کرنے پر ہو گی، اگر ضرورت پڑی تو انکوائری کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی بنائیں گے، گل پلازا میں آگ بہت بڑا واقعہ ہے، گل پلازا میں آگ مکمل طور پر نہیں بجھ سکی ہے، فائر فائٹر اور ریسکیو کا عملہ تین جگہوں سے اندر جانے کی کوشش کر رہے ہیں، شاید گل پلازا کی پوری عمارت کو گرانا پڑے، جاں بحق افراد کی تعداد 15 ہوگئی ہے، سانحہ گل پلازا میں 65 افراد لاپتہ ہیں، کوشش ہے لاپتہ افراد کا پتہ چل جائے۔ گل پلازا میں دکانداروں کے نقصانات پورے کرنے کے لیے اقدامات کریں گے، غلطیاں ہیں، بالکل ہیں، انکوائری میں سامنے آئے گا، ایسے واقعات کی صورت میں امدادی کام کے لیے رسائی آسان بنانی چاہیے، جب ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ہر کوئی اپنی ماہرانہ رائے دینا شروع کر دیتا ہے، ایسے واقعات کی صورت میں جس کا جو کام ہے اسے کرنے دیں، اس کے لیے رسائی مشکل نہ بنائیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ سانحے کی جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جاتا ہے تاکہ کام کیا جا سکے، دکانداروں کی بھی ذمے داری ہوتی ہے، لیکن اس وقت یہ باتیں ٹھیک نہیں۔ ہم سب کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے، میں لوگوں کے سامنے جوابدہ ہوں، 2024 میں 145 عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا تھا۔ فائر سیفٹی آڈٹ 2024 میں کیا تھا اس پر فوراً کام کریں،

    مراد علی شاہ نے سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے دینے کا اعلان کر دیا، کہا کہ سانحہ گل پلازا میں جاں بحق افراد کے ورثاء میں امدادی رقم کی فراہمی کل سے شروع ہو جائے گی۔

    اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے تاجر رہنما جاوید بلوانی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ کی تمام باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، انسانی جانیں بچانے کے لیے سب سے ضروری فائر الارم ہے،کراچی چیمبر تمام مارکیٹوں میں فائر ڈرل کرائے گا، ہم وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھے ہیں اور ضروری فیصلے کیے بغیر نہیں جائیں گے، اب مستقبل میں سانحات سے بچنے کی کوشش کریں گے،کوئی مصیبت میں ہو اور اس سے تفتیش شروع کردی جائے تو الجھن ہوتی ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    سانحہ گل پلازہ،50 سے زائد اموات کا خدشہ،وزیراعلیٰ کا پلازہ کی تعمیر نوکا اعلان

    وزیراعلیٰ سندھ نے سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی کا فارنزک کرانے کا اعلان کردیا۔ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیر نو بھی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ میں آتشزدگی سے 50 سے زائد اموات کا خدشہ ہے۔ مراد علی شاہ نے آتشزدگی کا فارنزک کرانے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کی تعمیر نو بھی کی جائے گی۔

    سانحہ گل پلازہ پر وزیراعلیٰ سندھ نے آتشزدگی کی فارنزک کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر نو بھی کی جائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بنانے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے کہا کہ متاثرین کو دکانیں دینے کا طریقہ کمیٹی بنائے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کو اجلاس میں بریفنگ میں بتایا گیا کہ سانحہ گل پلازہ میں 50 سے زائد اموات کا خدشہ ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہداء کے خاندانوں کی مالی مدد کی جائے گی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ گل پلازہ متاثرین کیلئے کمیٹی قائم کی گئی ہے، کمیٹی معاوضہ اور متاثرین کی بحالی کیلئے سفارشات دے گی، کمیٹی میں صوبائی وزراء ناصرحسین شاہ، سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور کمشنر کراچی شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری مسلسل رابطے میں ہیں، پیپلزپارٹی قیادت متاثرہ تاجروں کی فوری بحالی چاہتی ہے، انہوں نے ہدایت کی کہ وزراء شہداء کے گھروں میں جاکر تعزیت کریں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ فائر فائٹنگ، حفاظتی نظام کا طویل المدتی پلان بنایا جائے گا، عمارتوں میں ایمرجنسی راستوں اور فائر الارمز کو یقینی بنایا جائے۔