Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کوہاٹ:نامعلوم شرپسند عناصر کا مسجد پر آئی ای ڈی حملہ

    کوہاٹ:نامعلوم شرپسند عناصر کا مسجد پر آئی ای ڈی حملہ

    کوہاٹ،تھانہ کینٹ کی حدود میں واقع نصرۃ خیل کے علاقے میں اہل حدیث جماعت کی نو تعمیر کردہ مرکزی مسجد کو رات گئے نامعلوم افراد نے دیسی ساختہ بم سے نشانہ بنایا۔

    حملہ آوروں نے مسجد کے متولی کی رہائش گاہ پر بھی مسلسل فائرنگ کی اور دستی بم سے حملہ کیا۔ حملے کے نتیجے میں مسجد کو جزوی نقصان پہنچا۔ کینٹ تھانہ کے ایس ایچ او خضر فرید نے خیبر کرانیکلز کو بتایا کہ واقعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ بم دھماکہ میں کون ملوث ہیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل پشاور میں‌نماز جمعہ کے بعد گھر جاتے ہوئے مولانا عزیز اللہ کو نامعلوم افراد نے شہید کر دیا، خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے،

  • پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ،شیری رحمان

    پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ،شیری رحمان

    پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر اور سینیٹر شیری رحمان نے پارٹی کے 58ویں یومِ تاسیس کے موقع پر پارٹی قیادت، کارکنان اور سپورٹرز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن بھٹوازم کے نظریے کی تجدید کا دن ہے اور یہی نظریہ پاکستان کی مضبوطی کا ضامن ہے۔

    شیری رحمان نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائدِ عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے جمہوری، خوشحال اور پرامن پاکستان کے قیام کیلئے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی ہمیشہ سے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور مساوات کی علمبردار رہی ہے،گزشتہ 58 برسوں میں پارٹی کے اقدامات نے پاکستان کو ایک نیا رخ اور مقام دیا۔ آئینِ پاکستان کی بحالی، نیوکلیئر پروگرام، زرعی اصلاحات، آزاد خارجہ پالیسی، میزائل ٹیکنالوجی، بنیادی حقوق، بی آئی ایس پی، اور سی پیک جیسے اقدامات پارٹی کی جدوجہد کے سنگِ میل ہیں۔

    شیری رحمان نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد قوم کو متحد رکھا اور قومی قیادت فراہم کی، جبکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے دور میں پرامن جدوجہد کرتے ہوئے صوبوں کو جوڑنے کا کردار ادا کیا۔
    ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدم تشدد کی سیاست کو فروغ دیا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں ملک کو بحرانوں سے نکالا ہے،بھارت کے ساتھ بیانیہ کی حالیہ جنگ میں بلاول بھٹو زرداری نے عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کیا۔ پارٹی ہر قسم کی شدت پسندی کی مزاحمت کرتی رہے گی، جبکہ امن، مساوات، عوام کی خوشحالی اور قومی مفادات کا تحفظ پیپلز پارٹی کا بنیادی مشن ہے، پیپلز پارٹی عوام، جمہوریت اور صوبوں کی مضبوطی کو اپنی مضبوطی سمجھتی ہے، جبکہ شہید بھٹو اور شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی پارٹی کے اصل وارث عوام ہیں۔

    شیری رحمان نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلز پارٹی اپنے نظریے پر ہمیشہ ثابت قدم رہی ہے اور استحصالی قوتوں کی شکست تک جدوجہد جاری رہے گی۔ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو کمزور کرنے والی سوچ کے خلاف پارٹی کی لڑائی جاری رہے گی اور شدت پسندی کی ہر شکل میں مزاحمت کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بھٹوازم کے نظریے کے تحت آئین کی بحالی، سیاسی اصلاحات، عسکریت پسندی کے خلاف جدوجہد اور غربت میں کمی جیسے بڑے فیصلے ممکن ہوئے۔غیر مسلم اور کمزور طبقات کو مذہب کے نام پر نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پارٹی قیادت، عہدیداران اور جیالے اپنے عظیم مقصد کے لیے مسلسل محنت کیلئے تیار ہیں، جبکہ کارکنوں کی قربانیوں سے جمہوریت آج بھی قائم و دائم ہے اور آگے بڑھ رہی ہے۔

  • آر ایس ایس کا ہندوتواایجنڈہ، انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری

    آر ایس ایس کا ہندوتواایجنڈہ، انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری

    آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری ہے

    غاصب مودی ظلم و استبداد جاری رکھ کر مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی شناخت مٹانے کے درپے ہے،بھارت میں مسلمان کیخلاف تعصب، نفرت اور انتہاپسندانہ کارروائیاں بے نقاب ہو گئی ہیں،”پریس ٹی وی” کے مطابق؛بھارت کے مسلمانوں میں امتیازی سلوک کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نئی تشویشناک لہر پیدا کردی ہے،بھارت میں مسلمانوں کو جان بوجھ کر اور منظم طور پر تعصب اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مہاراشٹرا میں3 مسلم طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے اور بیٹھک لگانے پر مجبور کیا گیا، تاج محل کے قریب 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو 2 نوجوانوں نے "جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا،بھارت میں دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں مگر حکام اور میڈیا خاموش رہتا ہے، ببریلی شہر میں ایک مسلمان کی دو منزلہ مارکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا، بھارت میں خطرناک روایت بن گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی جائیدادیں گرا دی جاتی ہیں،

    بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو بغیر قانونی عمل کے گرفتار کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں،حکومتی پالیسیوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور اسلاموفوبیا میں اضافہ کیا ہے، بھارت میں نفرت، انتہاپسندی، مذہبی تفریق اور اقلیت دشمنی سفاک مودی کی معتصبانہ سوچ کا عکاس ہے

  • پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج کے زیر اہتمام کوئٹہ میں خواتین کی سائیکل ریس کا انعقاد

    پاک فوج اور کوئٹہ ڈسٹرکٹ سائیکلنگ ایسوسی ایشن کے اشتراک سے شولا اسپورٹس کمپلیکس کوئٹہ میں سائیکل ریس کا انعقاد کیا گیا

    کوئٹہ میں 5.9 کلومیٹر کی سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،سائیکل ریس میں خواتین شرکاء نے پُرکشش اور چیلنجنگ راستے پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا،تقریب کے اختتام پر پوزیشن ہولڈرز کو نقد انعامات، تمغے اور سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے،سائیکل ریس میں سب سے کم عمر اور معمر شرکاء کو بھی حوصلہ افزائی کیلئے انعامات دیے گئے،شرکاء نے بلوچستان میں صحت مند اور تعمیری سرگرمیوں کے انعقاد پر پاک فوج کو خراج تحسین پیش کیا

    سائیکل ریس میں شرکاء کا کہنا تھا کہ سائیکل ریس میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ہے جو کہ خوش آئند ہے،اس طرح کے ایونٹس خواتین کیلئے بہت ضروری ہیں، بلوچستان میں مزید ایونٹس کرائے جائیں،بلوچستان میں خواتین کی صلاحیتوں کے اظہار کیلئے اس طرح کے مزید ایونٹس بہت ضروری ہیں،

    پاک فوج قومی ترقی میں بلوچ خواتین کی شمولیت اور ان کو بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے

  • 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،پاکستان

    پاکستان نے 27 ویں آئینی ترمیم سے متعلق اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے بیان کو مسترد کر دیا۔

    دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کی منظور کردہ 27 ویں آئینی ترمیم پر اقوام متحدہ کی بے جا تشویش ناقابل فہم ہے،آئینی ترامیم عوام کے منتخب نمائندوں کا مکمل اختیار ہے، جمہوری طریقہ کار کا احترام ہونا چاہیے، پاکستان انسانی حقوق، انسانی وقار، بنیادی آزادیوں، قانون کی حکمرانی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے،پاکستان کا مؤقف اور زمینی حقائق اقوام متحدہ کے بیان میں شامل نہیں کیے گئے، یو این ہائی کمشنر خودمختار فیصلوں کا احترام کریں اور سیاسی تعصب اور غلط معلومات پر مبنی تبصروں سےگریز کریں۔

    یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستان میں جلد بازی میں منظور کی گئی آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہے،ولکر ٹرک نے ایک بیان میں ملٹری احتساب سے متعلق بھی تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ گزشتہ سال 26 ویں آئینی ترمیم کی طرح یہ ترمیم بھی وکلا براداری اور سول سوسائٹی سے بڑے پیمانے پر مشاورت اور بحث کے بغیر کی گئی۔

  • ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،تین حملہ آور افغانی نکلے

    ایف سی ہیڈ کوارٹر حملہ،تین حملہ آور افغانی نکلے

    پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹر پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔

    تفتیشی حکام کے مطابق نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کردی ہے، تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات تاحال موصول نہیں ہوئیں،تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے متعلق اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے، حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے،حکام کا مزید کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی کھوج لگا رہی ہے، حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے جس میں 3 ایف سی اہلکار شہید جبکہ تینوں حملہ آور ہلاک ہوئے تھے۔

  • مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان میں ایف بی آر کا سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ

    مردان: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے غیر قانونی سگریٹ کی پیداوار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مردان میں واقع ایک سگریٹ فیکٹری پر چھاپہ مار کر 62 کارٹن بغیر ٹیکس ادا کیے گئے سگریٹس اپنے قبضے میں لے لیے۔ کارروائی کے بعد فیکٹری کو سیل کر دیا گیا جبکہ مالکان کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف بی آر کے محکمہ ان لینڈ ریونیو کے ذرائع کے مطابق ٹیم نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر فیکٹری پر چھاپہ مارا، جہاں بڑی تعداد میں ایسے سگریٹس تیار کیے جا رہے تھے جن پر حکومتی ٹیکسز اور لیویز ادا نہیں کی گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق ضبط شدہ سگریٹس کی مارکیٹ ویلیو بھی کروڑوں روپے میں بنتی ہے۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جس فیکٹری کو سیل کیا گیا ہے وہ مبینہ طور پر سینیٹر دلاور خان کی ملکیت ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی اثرورسوخ کے باوجود ایف بی آر کی ٹیم نے وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے کارروائی مکمل کی اور کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا۔

    ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے حکم کے مطابق ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف آپریشن جاری ہے، اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں جو قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا رہے ہیں۔حکام کے مطابق پاکستان کو ہر سال 250 سے 300 ارب روپے کا نقصان غیر قانونی سگریٹ کی تجارت کے باعث برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ غیر قانونی سگریٹ کی تیاری میں مسلسل اضافہ قومی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    دوسری جانب سینیٹر دلاور خان نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان دنوں گاؤں میں موجود نہیں ہیں اور انہیں اپنی فیکٹری پر چھاپے سے متعلق کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

  • انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    انسدادِ دہشت گردی مہم جاری، رواں برس 136 افغانوں سمیت1873 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے سال 2025 کی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی اور آپریشنز کے حوالے سے اہم ترین بریفنگ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دہشت گردی کی کمر توڑنے کے لیے ریکارڈ تعداد میں آپریشنز کیے ہیں۔ اس دوران ملک دشمن عناصر، خصوصاً افغانستان سے سرگرم نیٹ ورکس کی کارروائیوں کو مؤثر انداز میں ناکام بنایا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال اب تک 67,023 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے گئے،1,873 دہشت گرد ہلاک کیے گئے،جن میں 136 افغان شہری بھی شامل ہیں،4 نومبر کے بعد دہشت گردی کی لہر میں اضافہ دیکھتے ہوئے اداروں نے آپریشنز مزید تیز کر دیے،4,910 آپریشنز کئے گئے،206 دہشت گردوں کا خاتمہ کیا گیا، خیبر پختونخوا میں 12,857 آپریشنز،بلوچستان میں 53,309 آپریشنزکئے گئے،بلوچستان میں زیادہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا دباؤ اس خطے پر رہا، جہاں سرحد پار سے دراندازی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت کی سرزمین اب بھی القاعدہ، داعش خراسان (IS-KP) اور دیگر تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کا کردار ادا کر رہی ہے۔پاکستان پر حملہ کرنے والے کئی گروہ اسلحہ، فنڈنگ اور تربیت افغانستان سے لے رہے ہیں۔متعدد حملوں میں شامل دہشت گردوں نے اعتراف کیا کہ وہ افغانستان میں منظم ہو کر پاکستان پر حملے کرتے ہیں۔پاکستان نے ان الزامات کو عالمی فورمز پر بھی اٹھایا ہے اور افغانستان سے پرامن سرحدی نظم کے لیے تعاون کا مطالبہ کیا ہے۔

    پاک افغان سرحد کی کل لمبائی 1,229 کلومیٹرہے اورصرف 20 قانونی سرحدی راستے ہیں،محض فینسنگ کافی نہیں ،سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے، ڈرون نگرانی،ماڈرن واچ ٹاورزضروری قرار دیے گئے۔مزید یہ کہ کئی خودکش حملوں اور بارڈر کراسنگ میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے استعمال کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو ایک سنگین سلامتی خطرہ تصور ہوتی ہیں۔بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت کے پاس 7.2 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی اسلحہ موجود ہےجس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔یہ جدید اسلحہ دہشت گرد گروہوں تک پہنچنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا۔

    پاکستان نے غیر قانونی افغان باشندوں کی مرحلہ وار وطن واپسی کا عمل تیز کر دیا ہے،سال 2024: 366,704 افغان شہری واپس گئے،سال 2025: 971,604 (تاحال)واپس گئے،صرف نومبر 2025 میں 239,574 افغان شہریوں کی واپسی ہوئی ہے،حکومتِ پاکستان کے مطابق اس اقدام کا مقصد داخلی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے، جبکہ واپسی کے تمام مراحل انسانی بنیادوں پر انجام دیے جا رہے ہیں۔

    2025 پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن سال ثابت ہو رہا ہے۔ ریاستی اداروں کی بھرپور کارروائیوں نے دہشت گرد نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم سرحد پار خطرات بدستور موجود ہیں۔ پاکستان نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔

  • شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    شمالی وزیرستان میں 4 ،قلات میں چھ دہشتگرد جہنم واصل،پاک افغان سرحد پر دراندازی کی کوشش ناکام

    سیکورٹی فورسز کی خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    پشاور کے علاقے بورڈ تاج آباد میں جمعے کے روز فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعے میں نامور مذہبی عالم اور جامعہ اسریہ کے مہتمم شیخ عزت اللہ اپنے بیٹے سمیت جاں بحق ہوگئے، جبکہ دوسرا بیٹا شدید زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق موٹر سائیکل سوار نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں شیخ عزت اللہ اور ایک بیٹا موقع پر دم توڑ گئے۔اس واقعے کی ذمہ داری داعش خراسان (ISIS-K) نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں قبول کرلی۔ ایف آئی آر کے مطابق شیخ عزت اللہ کو گزشتہ کئی ماہ سے داعش کی جانب سے دھمکیاں مل رہی تھیں۔ واقعے کا مقدمہ سی ٹی ڈی تھانے میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج کرلیا گیا ہے۔

    ضلع مہمند میں سکیورٹی ذرائع نے ایک سنگین انکشاف کیا ہے کہ دہشتگردوں نے ایک مسجد کو اسلحے، بارودی مواد اور کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لیے بطور ٹھکانہ استعمال کیا۔ حکام کے مطابق مسجد کے اندر سے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ برآمد ہوا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شدت پسند مذہبی مقامات کو منصوبہ بندی، سازش اور عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علاقہ سکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا ہے اور تحقیقات جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    بنوں کے علاقہ جانی خیل سے تعلق رکھنے والے مبینہ ٹی ٹی پی کمانڈر خالد کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے جس میں اسے ڈرون چلانے کی تربیت حاصل کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق شدت پسند تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً ڈرونز، کو حملوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی دہشتگرد ڈرونز کے ذریعے آئی ای ڈیز گرانے کی کوشش کر چکے ہیں، جس سے سکیورٹی فورسز اور شہری دونوں متاثر ہوئے۔ ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی باقی ہے۔

    کرم ضلع میں پاک افغان سرحد کے قریب مشکوک افراد کی نقل و حرکت دیکھ کر سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی۔ اطلاعات کے مطابق مسلح افراد پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی کے بعد درانداز افغانستان کی جانب فرار ہوگئے۔ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا تھا کہ افغان فورسز کبھی کبھار دہشتگردوں اور اسمگلرز کو کور فراہم کرتی ہیں۔علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور ہر قسم کی سرحدی صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    شمالی وزیرستان کے نکہوری ہل اور سنی شوران کے درمیان سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات پر مبنی ایک اہم کارروائی کی جس میں چار دہشتگرد مارے گئے۔ کارروائی کے دوران راکٹ لانچر، تھرمل امیجنگ ڈیوائسز، اسلحہ اور دہشتگردوں کی استعمال شدہ موٹر سائیکلز برآمد ہوئیں۔فورسز نے علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کرنے کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

    واشک کے علاقے مشکِل بازار میں نامعلوم افراد نے ایک گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کرکے دو افراد کو قتل کردیا۔ حملہ آور موقع سے فرار ہوگئے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ لاشوں کو ایم آر ہیڈکوارٹر منتقل کیا گیا ہے۔

    کوئٹہ کے علاقے محلہ بالا روڈ پر کرائم سین یونٹ (CSU) کی گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ پہلے دھماکے کی جگہ جا رہی تھی۔ ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہونے والے دھماکے میں گاڑی کو جزوی نقصان پہنچا لیکن کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    کمبرانی روڈ پر سکیورٹی فورسز کی معمول کی گشت کے دوران ایک دھماکہ ہوا جس سے گاڑی جزوی طور پر متاثر ہوئی، تاہم تمام اہلکار محفوظ رہے۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے کو سیل کرکے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    قلات کے مضافات میں ایک خفیہ اطلاع پر سکیورٹی فورسز نے کارروائی کی جس کے دوران دہشتگردوں کے ساتھ شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس جھڑپ میں چھ دہشتگرد مارے گئے۔ دہشتگردوں کے ٹھکانے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔حکام کے مطابق ہلاک دہشتگرد متعدد سنگین وارداتوں میں مطلوب تھے۔ علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    کوئٹہ کے سریاب علاقے میں دہشتگردوں نے ریلوے ٹریک کو دھماکے سے اڑادیا، جس کے باعث ٹرینوں کی آمدورفت روکنا پڑی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے، جبکہ پولیس نے علاقے میں وسیع سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔

  • فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    فیکٹ چیک،سوشل میڈیا پر پنجگور حملہ کی خبر بے بنیاد قرار

    بلوچستان میں مبینہ عسکری حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوے کو سرکاری اور معتبر ذرائع نے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس(سابقہ ٹوئٹر) پر بعض بھارتی حمایت یافتہ اکاؤنٹس نے یہ دعویٰ کیا کہ پنجگور کے علاقے گرمکان میں ایک حملے کے دوران بلوچ لبریشن آرمی نے مبینہ طور پر پاک فوج کے چار اہلکاروں کو شہید کر دیا۔دعوے کے وائرل ہونے کے باوجود کسی سرکاری محکمے، فوجی ترجمان یا آزاد و قابلِ اعتماد ذرائع نے اس نوعیت کے کسی واقعے کی تصدیق نہیں کی۔ متعلقہ اداروں کے مطابق گرمکان یا آس پاس کے علاقوں میں کسی عسکری حملے کی کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔فوجی جانی نقصان سے متعلق پھیلائی جانے والی خبر حقائق کے منافی ہے۔جھوٹی معلومات پھیلانا عوام میں بے چینی اور غلط فہمی پیدا کرنے کی سازش ہو سکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلانے کی کوششیں وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی پوسٹس کا مقصد ریاستی اداروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنا،عوامی اعتماد کو متزلزل کرنا،ملک میں انتشار پھیلاناہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹ کو فیکٹ چیک کے بعد مکمل طور پر جھوٹا اور من گھڑت قرار دیا گیا ہے۔

    یہ اسی نوعیت کی ایک اور کوشش ہے جس میں بیرونی حمایت یافتہ عناصر غلط معلومات کے ذریعے منفی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ماہرین اور حکام کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایسی غیر مصدقہ معلومات کو آگے بڑھانے سے پہلے ہمیشہ سرکاری ذرائع سے تصدیق کریں۔غلط خبریں پھیلانے سے نہ صرف معاشرتی بے چینی بڑھتی ہے بلکہ قومی سلامتی کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔