Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت افغان گٹھ جوڑ  اور شدت پسند پالیسی عالمی امن کیلئے شدید خطرہ

    بھارت افغان گٹھ جوڑ اور شدت پسند پالیسی عالمی امن کیلئے شدید خطرہ

    بھارت کی زیر سرپرستی افغان سرزمین سے خطے کے دیگر ممالک میں دہشتگردی عالمی امن کیلئے خطرہ بن گئی

    گزشتہ دنوں عالمی سطح پر ہونے والے دہشتگردی کے ہولناک واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آیا ہے،پاکستان میں دہشتگردی ، امریکہ میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،پاکستان کی جانب سے افغانستان کا بطور دہشتگردوں کی آماجگاہ بننے کے حوالے سے متعدد بار عندیہ دیا گیا ہے،یورپی یونین، ڈنمارک اور دیگر ممالک بھی افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیموں کو خطے اور عالمی امن کیلئے خطرہ قرار دے چکے ہیں

    اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق؛افغان طالبان رجیم کا دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کیلئے شدید خطرہ ہے،ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پر دہشتگردوں کی موجودگی پر مہر ثبت کرچکی ہے مگر بھارت افغانستان کیساتھ روابط بڑھا رہا ہے،افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر 2025ء میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کئے،جب افغان وزیر خارجہ دورہ بھارت پر تھے تو عین اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی

    ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق;بھارت اور افغانستان اب ایک دوسرے کے ملک میں اپنی سفارت خانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے،افغانستان اور بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات نے جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،

    بھارت افغانستان کودہشتگردوں کی آماجگاہ بنا کر اسے اسٹرٹیجک کامیابی تصور کر رہا ہے ،بھارت کے افغانستان کے ساتھ مراسم خیرخواہی نہیں بلکہ پاکستان کیخلاف پراکسی کے طور پر استعمال کرنا ہے

  • عالمی سطح پر دہشتگردی،افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آ گیا

    عالمی سطح پر دہشتگردی،افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آ گیا

    گزشتہ دنوں عالمی سطح پر دہشتگردی کے واقعات میں افغانستان کا کردار کھل کر سامنے آگیا۔

    پاکستان میں دہشتگردی، امریکا میں فائرنگ اور تاجکستان میں چینی ملازمین پر ڈرون حملہ اسی کی کڑی ہے،یو این رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کا دہشتگرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنا خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہے،رپورٹ کے مطابق ساری دنیا افغانستان کی سرزمین پردہشتگردوں کی موجودگی پرمہر ثبت کرچکی ہے مگر بھارت افغانستان کے ساتھ روابط بڑھا رہا ہے،ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت، افغانستان ایک دوسرے کے ملک میں اپنے سفارتخانوں میں تجارتی نمائندے تعینات کریں گے،افغانستان اور بھارت کے بڑھتے تعلقات نے جنوبی ایشیاکی بدلتی سیاسی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کی بات کی جائے تو افغانستان کے وزیرخارجہ امیر خان متقی نے اکتوبر میں بھارت کا دورہ کیا اور متعدد معاہدے کیے۔جب افغان وزیرخارجہ دورہ بھارت پر تھےتو اسی وقت پاکستان پر افغانستان کی جانب ست بلااشتعال جارحیت بھی کی گئی۔

  • باکسنگ میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے،عامر خان

    باکسنگ میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے،عامر خان

    پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ باکسنگ میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے، ایک دن پاکستان کا بھی محمدعلی اور مائیک ٹائسن جیسا چیمپئن آئے گا۔

    جناح اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں ہونے والے انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ میں برطانوی باکسر جیمز میٹکالف نے ڈبلیو بی اے ایشیا گولڈ مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔جیمزمیٹکالف نے ڈومینیکن ریپبلک کے جولیو ڈی جیسس کو تیسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کیا۔ارجنٹائن کے باکسر البرٹو پلمیٹا نے ڈبلیو بی اے ایشیا ساؤتھ ویلٹر ویٹ کا ٹائٹل اپنے نام کیا، البرٹو پلمیٹا نے فلپائنی باکسر جوفر منٹانو کو چھٹے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کیا۔

    اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی نژاد سابق برطانوی باکسر عامر خان کا کہنا تھا لاہور آکر اچھا لگا، یہاں 15 ممالک کے باکسرز نے اس ایونٹ میں شرکت کی، یہاں کے فینز اور سیکیورٹی سب بہترین تھا۔عامر خان کا کہنا تھا اس چیمپئن شپ سے پاکستان میں کھیلوں کو فروغ ملےگا، میزبانی شاندار تھی، اس ایونٹ سے پاکستان کو ٹورزام میں مدد ملے گی۔سابق ورلڈ چیمپئن کا کہنا تھا پاکستان میں انتہائی ٹیلنٹڈ باکسرز ہیں، باکسنگ میں پاکستان کا مستقبل روشن ہے، ایک دن پاکستان کا بھی محمد علی اور مائیک ٹائسن جیسا چیمپئن آئےگا۔عامر خان کا کہنا تھا یہاں ہم نے جو مقابلے دیکھے وہ شاندار تھے، پاکستان آرمی کا بےحد شکر گزار ہوں کہ اتنا اچھا ایونٹ منعقد کیا، پاکستان آرمی نے تمام غیر ملکی باکسرز اور مہمانوں کو بہترین سکیورٹی فراہم کی۔

  • خیبر پختونخوا،بلوچستان، دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری

    خیبر پختونخوا،بلوچستان، دہشتگردوں کیخلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری

    ملک کے مختلف اضلاع، خصوصاً بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات رونما ہوئے کئی مقامات پر تحقیقات اور سرچ آپریشن جاری ہیں،

    جیوَنی میں ایک گاڑی کو نشانہ بنانے کے لیے دیسی ساختہ بم (IED) کا دھماکہ کیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے میں کسی قسم کا جانی یا مالی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے شواہد جمع کئے اور دھماکے کی نوعیت جاننے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے۔

    پسنی میں نامعلوم افراد نے رات گئے پاکستان کوسٹ گارڈ کے کیمپ پر دو انڈر بیریل گرینیڈ لانچر فائر کیے۔ ایک گرینیڈ کھلی جگہ میں پھٹا جبکہ دوسرا تلاش نہیں ہو سکا۔ خوش قسمتی سے کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔ سی ٹی ڈی ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔مستونگ کے میجر چوک کے قریب دو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں جس کے بعد مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز اور مشتبہ افراد میں فائرنگ ہوئی۔ تاہم تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے میں شواہد اکٹھے کر کے مزید تفتیش شروع کر دی ہے۔

    بولان وِن اسٹینڈ پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے دستی بم حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہوا۔ زخمی فرد کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ اس کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    ڈیرہ بگٹی کے علاقے کولی میں نامعلوم مسلح افراد نے پانچ افراد کو اغوا کر لیا۔ اغوا شدگان کی شناخت زafarullah، Dodu Khan، Thangi Khan، Bhutto Khan اور Jahan Ali Bugti کے ناموں سے ہوئی ہے۔ لیویز اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    کوئٹہ میں ولی جت ریلوے ٹریک کے قریب ایف سی چیک پوسٹ پر نامعلوم افراد نے دستی بموں سے حملہ کیا۔ حملہ آور فرار ہو گئے جبکہ کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    ڈیرہ بگٹی میں انٹرنیٹ خدمات اچانک معطل ہو گئیں۔ انتظامیہ کی جانب سے معطلی کی وجہ یا بحالی کے وقت سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ شہریوں کو رابطے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ضلع ٹانک میں ایک ہی دن میں دو سرکاری تعلیمی اداروں کو دھماکوں سے نشانہ بنایا گیا۔اکبری گاؤں کے گورنمنٹ ہائی اسکول کو رات گئے اڑا دیا گیا۔کاری عمر خان میں بچیوں کے پرائمری اسکول کو صبح سویرے دھماکے سے تباہ کیا گیا۔پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے دونوں مقامات سے شواہد اکٹھے کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور مقامی قبائلی لشکر نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف بڑے محاصرے کو مزید سخت کر دیا ہے۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق 3 دہشت گرد مارے گئے،2 گرفتار،10 کے قریب دہشت گرد محصور ہیں۔ذرائع کے مطابق دہشت گرد پچھلے حملے میں مارے گئے ساتھیوں کی لاشیں لینے آئے تھے، جنہیں حَتھی خیل لشکر نے روک کر فورسز کو اطلاع دی۔ سات دہشت گرد ایک مدرسے جبکہ تین ایک اسکول میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    احمدزئی پولیس اسٹیشن پر رات گئے چاروں طرف سے بھاری و ہلکے ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، تاہم پولیس نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ ناکام بنا دیا۔5 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوئے جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔مزید کمک کے پہنچنے پر دہشت گرد پسپا ہو گئے۔ حکام کے مطابق حملہ آوروں کو نقصان پہنچا ہے، تاہم اب تک تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

  • افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

    افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں،ترجمان پاک فوج

    ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ پر سیکیورٹی اداروں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔

    سینئر صحافیوں سے ملکی سلامتی کے امور پر تفصیلاً گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ 4 نومبر 2025 سے اب تک دہشت گردی کے خلاف 4 ہزار 910 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔ رواں سال خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 53 ہزار 309 انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیے گئے۔ ان آپریشنز کے دوران 206 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا،رواں سال مجموعی طور پر 1873 دہشت گرد جہنم واصل ہوئے، جن میں 136 افغانی بھی شامل ہیں۔ پاک افغان بارڈر انتہائی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل ہے، خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد 1229 کلومیٹر پر محیط ہے، جس میں 20 کراسنگ پوائنٹس ہیں، پاک افعان بارڈر پر پوسٹوں کا فاصلہ 20 سے 25 کلومیٹر تک بھی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ بارڈر فینس اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتی اگر وہ آبزرویشن اور فائر سے کور نہ ہو، اگر 2 سے 5 کلومیٹر کے بعد قلعہ بنائیں اور ڈرون سرویلنس کریں تو اس کے لیے کثیر وسائل درکار ہوں گے،ہ پنجاب اور سندھ کے برعکس خیبر پختونخوا میں بارڈر کے دونوں اطراف منقسم گاؤں ہیں، ایسی صورتِ حال میں آمد و رفت کو کنٹرول کرنا ایک چیلنج ہے، دنیا میں بارڈر مینجمنٹ ہمیشہ دونوں ممالک مل کر کرتے ہیں، اس کے برعکس افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے لیے افغان طالبان مکمل سہولت کاری کرتے ہیں، اگر افغان بارڈر سے متصل علاقے دیکھیں بمشکل مؤثر انتظامی ڈھانچہ گورننس کے مسائل میں اضافے کا باعث ہے، ان بارڈر ایریاز میں انتہائی مضبوط پولیٹیکل ٹیرر کرائم گٹھ جوڑ ہے، سہولت کاری فتنہ الخوارج کرتے ہیں، اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کی تشکیلیں یا اسمگلنگ، تجارت ہو تو اندرون ملک اس کو روکنا کس کی ذمے داری ہے، اگر لاکھوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں آپ کے صوبے میں گھوم رہی ہیں تو انہیں کس نے روکنا ہے؟ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اس پولیٹیکل ٹیرر کرائم نیکسز کا حصہ ہیں جو خودکش حملوں میں استعمال ہوتی ہیں، افغانستان کے ساتھ دوحہ معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان رجیم دہشت گردوں کی سہولت کاری بند کریں۔

  • والد کے قتل میں ملوث دو بیٹے گرفتار

    والد کے قتل میں ملوث دو بیٹے گرفتار

    خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں دو سگے بیٹوں نے گھریلو جھگڑے کی بنیاد پر اپنے ہی والد کو قتل کروانے کی سازش رچائی۔ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اجرتی قاتل سمیت چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جن میں مقتول کے دونوں بیٹے بھی شامل ہیں۔

    پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ بیٹوں کا اپنے والد کے ساتھ اکثر گھریلو مسائل پر جھگڑا رہتا تھا، جس کے باعث انہوں نے منصوبہ بندی کے تحت ایک اجرتی قاتل سے رابطہ کیا۔ ملزمان نے مالی لین دین کا وعدہ کرکے باقاعدہ طور پر قتل کرانے کا ٹھیکہ دیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے، اور اب تک حاصل ہونے والے شواہد کی روشنی میں مزید گرفتاریوں اور انکشافات کا امکان بھی موجود ہے۔
    مزید بتایا گیا ہے کہ قتل کی واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے بیانات میں واضح تضادات سامنے آئے، جس کے بعد ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔پولیس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ واقعہ گھریلو تنازعات کی شدت اور خاندانی رشتوں میں بگاڑ کی ایک افسوسناک مثال ہے۔

  • صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ

    صدر مملکت آصف زرداری نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں انہوں نے 27 ویں نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اس ورکشاپ میں پارلیمنٹیرینزسمیت سینئر سول وملٹری افسران نے بھی شرکت کی اور تعلیمی و سماجی شعبوں کے نمائندے بھی شریک تھے، صدر مملکت نے ورکشاپ مکمل کرنے پر شرکا کو مبارکباد دی اور قومی سلامتی سے متعلق آگاہی بڑھانے میں ان کی لگن کو سراہا، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ مکالمےکو فروغ دینےکے نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے اور اس سے پاکستان کو درپیش موجودہ سکیورٹی چیلنجز کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، نیشنل سکیورٹی ورکشاپ ملک کی اُن نمایاں پلیٹ فارمز میں سے ہے جو قومی سطح پر مکالمے کو فروغ دیتی ہیں اور یہ پلیٹ فارم ادارہ جاتی صلاحیت کوبڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، یہ قومی سلامتی کے لیے قومی حکمتِ عملی کومضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

    اس موقع پر صدر مملکت نے باخبر قیادت، قومی یکجہتی اور مربوط پالیسی سازی کی اہمیت پر زور دیا اور اختتامی تقریب میں فارغ التحصیل شرکا میں اسناد بھی پیش کیں۔

  • بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ ملک احمد خان

    بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ ملک احمد خان

    شہباز شریف کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے کیس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بطور گواہ بیان ریکارڈ کرا دیا۔

    سیشن جج لاہور یلماز غنی نے 10 ارب روپے کے ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے گواہ اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کیا تھا جس پر ملک احمد خان آج عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا بیان ریکارڈ کروایا،ملک محمداحمد خان نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان نے شہباز شریف پر رشوت لینے کے جھوٹے الزامات عائد کیے، اپریل 2017 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان نے سنگین الزامات لگائے جو مختلف ٹیلی ویژنز پر چلے،میری شہباز شریف کے ساتھ جماعتی وابستگی ہے، شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ اور وزیراعظم عوامی خدمت کی، میرے نزدیک عمران خان کے الزامات کے ذریعے شہباز شریف کے خلاف گمرہ کن پروپیگنڈا کیا گیا،اسلام میں بھی جھوٹ اور غیبت کی سخت ممانعت ہے، جھوٹ بول کر کسی کے خلاف قصہ بیان کرنا مذہبی اعتبار سے بھی درست نہیں، مدعی نے جو دعویٰ دائر کیا ہے وہ اس عدالت میں آنے کا حق رکھتا ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل احمد حسین چوٹیاں نے ملک احمد خان کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کیا جن پروگرامز کا ذکر آپ نے کیا یہ تمام پروگرام پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا یہ تمام قومی پروگرام قومی نشریاتی اداروں پر آتے ہیں، یہ درست ہے تمام پروگرامز پنجاب سے آن ائیر نہیں ہوئے تھے۔عمران خان کے وکیل نے استفسار کیا کیا آپ کو پتہ ہے کہ پانامہ کیس کیا تھا؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا پانامہ پیپرز کا کیس ان افراد کی فہرست کے بارے میں تھا جن کی بیرون ملک انویسٹمنٹ تھی،وکیل نے پوچھا کیا یہ درست ہے بانی پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پانامہ پیپرزکے بارے میں کوئی درخواست دائر کی تھی؟ جس پر ملک احمد خان نے کہا میرے علم میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے،وکیل بانی پی ٹی آئی نے استفسار کیا کیا آپ کو علم ہے عمران خان کی درخواست نواز شریف وغیرہ کے خلاف تھی؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا مجھے تفصیلی طور پر اس کے بارے میں علم نہیں ہے،عمران خان نے وکیل نے ملک احمد خان سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ نواز شریف کو پانامہ پیپرز میں سزا ہوگئی تھی؟ جس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا جی یہ بات درست ہے،وکیل نے پوچھا کیا یہ درست ہے کہ محض اس مقدمے کی وجہ سے مدعی نے جھوٹا دعویٰ دائر کیا؟ ملک احمد خان نے کہا یہ غلط ہے۔

    بانی پی ٹی آئی کے وکیل نے اسپیکر پنجاب اسمبلی کے بیان پر جرح مکمل کی جس کے بعد عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں کو آئندہ سماعت پر طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کر دی

    ہتک عزت کیس میں بطور گواہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا پارلیمنٹ میں ترامیم تو آج ہوئی ہیں، میں 15 برس سے کہہ رہا ہوں، میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ نے اپنی بات کی، یہ کیسے ممکن ہے کہ پارلیمنٹ اپنا حق چھوڑ دے، آج ایک ذہنی کوفت سے عدالت آیا، یہ کیس 7 سال سے چل رہا ہے، نظام کو ٹھیک کرنے کی بات ہو تو شور اٹھتا ہے، آئین لکھنے کا حق صرف پارلیمنٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، آئی ایم ایف کی رپورٹ کہتی ہے کہ پارلیمنٹ کو زیادہ موثر کریں،بانی پی ٹی آئی کوئی انوکھا لاڈلا ہے کیا؟ شہباز شریف کو اسی جیل مینوئل کے تحت جیل میں رکھا گیا تھا، شہباز شریف کو تو گھر کا کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا، جیل مینول میں کہاں لکھا ہے سی ایم کے پی سے ملاقات ہو گی، 9 مئی جیسا کام ٹی ایل پی کرے تو آپ ان پر پابندی عائد کر دیتے ہیں، یہاں تو پانامہ کیس اور وزیراعظم کو گھر بھجوانے کے فیصلے آتے رہے۔

  • 90 دن کی مدت پوری ہونے تک طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ

    90 دن کی مدت پوری ہونے تک طلاق مؤثر نہیں ہو سکتی،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت "تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

    چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے، عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا،بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین، آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

  • روسی صدر کا 4 دسمبر کو دورہ بھارت طے

    روسی صدر کا 4 دسمبر کو دورہ بھارت طے

    روس کے صدر ولادی میر پوٹن اگلے ماہ 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ کر یں گے۔

    صدر پیوٹن کے دورہ بھارت سے متعلق بھارتی سیکرٹری دفاع راجیش کمار نے کہا کہ پیوٹن کے اس دورے میں دفاعی معاملات پرکوئی بڑا اعلان متوقع نہیں مگر بھارتی حکومت روس کے ساتھ دفاعی تعاون کو آگے بڑھانے پر زور دے گی، بھارتی سیکرٹری دفاع نے کہا کہ دورے کےدوران ایس400 سسٹم پر بھی کوئی پیشرفت متوقع نہیں البتہ بھارتی حکومت روس سے ایس400 سسٹم کی ترسیل میں تاخیرپر وضاحت مانگے گی،راجیش کمار کا کہنا تھا کہ دورے کے دوران روسی صدر سے اضافی ایس 400 یونٹس کے آرڈر دینے پر بات ہوسکتی ہے کیونکہ ہماری توجہ ہتھیاروں کی فراہمی میں تاخیر کو حل کرنے پر ہے،بھارتی سیکرٹری دفاع نے مزید کہا کہ ہم زیرالتوا سپلائی کے لیے ٹائم لائنز حاصل کرنے پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔