Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پشاور میں گولیاں چل گئیں، معروف عالم دین کی موت

    پشاور میں گولیاں چل گئیں، معروف عالم دین کی موت

    پشاور: معروف عالم دین کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا

    مدرسہ جامعہ عصریہ سفید ڈھیری کے معلم اور اہلحدیث جماعت کے مولانا عزت اللہ ولد عزیز خان کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ یہ واقعہ بورڈ بازار میں پیش آیا جب وہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر واپس جا رہے تھے۔ حادثے کے وقت ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی موجود تھا جو فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گیا۔ زخمی کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر کے علاج معالجے کے لیے داخل کیا گیا،پولیس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات کر رہی ہیں اور مزید معلومات جاری کی جائیں گی۔مولانا عزت اللہ یتیم بچوں کی کفالت کے لیے جانے جاتے تھے۔

  • گاڑی کا بار بارچالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی،وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت فیصلہ

    گاڑی کا بار بارچالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی،وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت فیصلہ

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب میں کسی بھی گاڑی کا بار بارچالان ہوگا تو گاڑی نیلام ہوگی، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والی سرکاری گاڑیوں کو بھاری جرمانہ ہوگا، پنجاب میں ون وے کی خلاف ورزی ختم کرنے کیلئے 30 دن کی مہلت دیدی گئی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مناسب پارکنگ نہیں ہوگی تو میرج ہال بھی نہیں ہوگا، میرج ہال کو پارکنگ کا انتظام کرنا ہوگا۔وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب بھر میں بس کی چھت پر سواریاں ختم کرنے کیلئے کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا گیا، ٹریفک کی بہتری کیلئے لاہور کی 5 ماڈل سڑکوں پر چنگ چی رکشوں پر پابندی عائد کردی گئی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا کہ لاہور سمیت تمام شہروں میں ٹریفک کے معاملات کو بہترکرنا پڑے گا، بے ہنگم ٹریفک ریاستی رٹ کمزور ہونے کے مترادف ہے۔

  • اڈیالہ جیل کو عمران خان کے دفتر میں بدل دیا گیا، کون اُس کے لاڈ اُٹھا رہا،پرویز رشید

    اڈیالہ جیل کو عمران خان کے دفتر میں بدل دیا گیا، کون اُس کے لاڈ اُٹھا رہا،پرویز رشید

    مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ سزا یافتہ مجرم کو میرے ٹیکس کے پیسے سے آپ تمام سہولتیں دے رہے ہیں، اڈیالہ جیل کو عمران خان کے دفتر میں بدل دیا گیا، کون اُس کے لاڈ اُٹھا رہا ہے، دھرنوں سے اِنہیں بالکل ملاقات کی اجازت نہیں دینی چاہیے،

    پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز رشید نے کہاکہ طاقت کے ذریعے مطالبے قبول نہیں، قانون کا راستہ اپنائیں، سڑکوں پر لشکرکشی سے ملک انتشار کی طرف جائے گا، سڑکوں پرمقدمات لڑنے سے دہشتگردی کو فروغ ملتا ہے، ملاقاتیں صرف عدالتی حکم کے تحت ہی ہونی چاہئیں، اڈیالہ جیل کو پارٹی ہیڈکوارٹر بنانا غیرقانونی سمجھا گیا، دھرنوں اور شورشرابے سے عدلیہ کا راستہ بند نہیں کیا جاسکتا،سیاسی اختلافات کا حل پارلیمنٹ اور عدالتیں ہیں، طاقت نہیں، ملک کی سیاسی و اقتصادی سالمیت بچانے کے لیے قانون کی حکمرانی ضروری ہے، پوری قوم کوغیرقانونی دھرنوں اور لشکرکشی کےخلاف متحد ہونا ہوگا، دھرنوں سے اِنہیں بالکل ملاقات کی اجازت نہیں دینی چاہئے، ملنا ہے تو عدالت سے حکمنامہ لائیں،

  • بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر پی ٹی آئی کا سینیٹ میں احتجاج

    بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر پی ٹی آئی کا سینیٹ میں احتجاج

    سینیٹ میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں مزید ترمیم سے متعلق منی بل پیش کر دیا گیا اور اراکین نے تجاویز بھی طلب کر لی گئیں ۔بانی پی ٹی آئی کی صحت اور ملاقاتوں کے معاملے پر پی ٹی آئی نے آج بھی ایوان میں شدید احتجاج کیا ۔

    سینیٹ اجلاس کی صدارت چئیرمین یوسف رضا گیلانی نے کی ، وزیرپارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان کو بتایا کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق خبریں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ یہ جعلی اطلاعات بھارتی میڈیا کی جانب سے پھیلائی گئیں، جبکہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی صحت بالکل ٹھیک اور ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔پی ٹی آئی اراکین نے شدید نعرے بازی اور شور شرابا شروع کر دیا۔پی ٹی آئی کے اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے رہے او“ملاقات کرواؤ” کے نعرے لگاتے رہے۔ایوان کا ماحول مسلسل شور شرابے کے باعث منڈی مچھلی کا منظر پیش کرتا رہا

    اپوزیشن کی فلک ناز کی طرف سے کورم کی نشاندہی کی گئی جس پر سینیٹ اجلاس نصف گھنٹے کے لیے معطل کر دیا گیا۔وقفہ کے بعد وفاقی طارق فضل چوہدری نے انکم ٹیکس آرڈنینس میں مزید ترمیم کے مالی بل کی نقل ایوان میں پیش کی۔یہ منی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ۔بل پر ارکان تجاویز یکم دسمبر تک پیش کریں گے ۔ فنانس کمیٹی اپنی تجاویز دس دن کے اندر ایوان میں پیش کری گی۔یہ تجاویز قومی اسمبلی بھجوائی جائیں گی۔وزیراعظم کے مشیر محمد علی نے۔نجکاری کمیشن آرڈیننس میں مزید ترمیم کا بل پیش کیا جو متعلقہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔سینیٹ کا اجلاس پیر دوپہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

  • اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی ہائی الرٹ

    اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی ہائی الرٹ

    امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی، خصوصی سیکیورٹی پلان غیر معینہ مدت تک نافذ العمل رہے گا۔

    رپورٹ کے مطابق اڈیالہ جیل کے راستوں پر 5 ناکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگی، داہگل، جیل گیٹ ون، گیٹ 5، فیکٹری ناکہ، گورکھپور پر ناکے قائم ہوں گے اور نفری تعینات رہے گی۔رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکار 12 ،12 گھنٹے ڈیوٹی ادا کریں گے، 12 تھانوں کے ایس ایچ اوز، خواتین پولیس افسر اور اہلکار ناکوں پر تعینات ہوں گے، آر ایم پی، پنجاب کانسٹیبلری، تھانوں کے عملے سمیت 700 سے زائد اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔رپوڑٹ کے مطابق اہلکار ربڑ بلٹس، آنسو گیس، شیلڈ، اینٹی رائٹ سامان سے لیس ہوں گے، ٹریفک پولیس کے 10 افسر اور اہلکار بھی ناکوں پر تعینات ہوں گے، لفٹر اور قیدی وینز بھی موقع پر موجود رہیں گی، ڈیوٹی کی براہ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کریں گی۔

  • ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں کھلی کچہری ،قبائلی عمائدین کی شرکت

    ایف سی ہیڈکوارٹر کوہلو میں آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کی سربراہی میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا گیا، جس میں ڈپٹی کمشنر کوہلو، ضلعی انتظامیہ کے افسران اور کثیر تعداد میں قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری میں کوھلو کے علاقے میں عوام کو درپیش مسائل کے بروقت حل، امن و استحکام کے قیام، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی مرتب کرنے پر غور کیا گیا۔

    آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کا راستہ امن و اتحاد سے وابستہ ہے اور عوامی مسائل کا بروقت اور فوری حل ہماری اولین ترجیح ہے, بلوچستان کی عوام نے دہشت گردوں کے عزائم کو ناکام بنانا ہے، اور ہم سب نے مل کر وطن کو دشمن عناصر کے ناپاک عزائم اور سازشوں سے نجات دلانی ہے ۔ علاقے میں امن قائم رکھنے میں قبائلی عمائدین کا کردار نہایت اہم ہے۔

    اس موقع پر قبائلی عمائدن کا کہنا تھا کہ کھلی کچہری عوامی مسائل کے حل کا ایک اہم جزو ہے۔ ہم نے اپنے مسائل بیان کیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ حکومت بلوچستان ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے گی۔شرکاء نے اس عزم کا ا اعادہ کیا کہ بلوچستان کی خوشحالی اور امن کے لیے بلوچستان حکومت، سیکیورٹی فورسز ، ضلعی انتظامیہ اور قبائلی عمائدین کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔

  • آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ)   کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) کا کوہلو بازار کا اچانک دورہ

    آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے کوہلو بازار کا بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک دورہ کیا۔ ان کے اس دورے کا مقصد علاقے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینا، عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنا اور مقامی لوگوں سے براہِ راست رابطہ قائم کرنا تھا۔

    دورے کے دوران آئی جی ایف سی نے بازار میں موجود دکانداروں، مقامی شہریوں اور نوجوانوں سے غیر رسمی گفتگو کی۔ انہوں نے لوگوں سے علاقے میں امن و امان، کاروباری ماحول اور دیگر عوامی سہولیات کے متعلق دریافت کیا۔ شہریوں نے انہیں مختلف مسائل سے آگاہ کیا، جنہیں میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ نے توجہ سے سنا اور متعلقہ اداروں تک پہنچانے کی یقین دہانی کرائی۔عوام نے ایف سی بلوچستان اور پاک فوج کی جانب سے کوہلو سمیت پورے بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ ایف سی کی موجودگی سے علاقے میں نہ صرف امن بہتر ہوا ہے بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔

    مقامی لوگوں نے آئی جی ایف سی کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ یادگاری تصاویر بھی بنوائیں۔ بازار میں موجود ضعیف شہریوں اور نوجوانوں نے ان سے مصافحہ کیا اور اپنے محبت بھرے جذبات کا اظہار کیا۔میجر جنرل محمد عاطف مجتبیٰ کا یہ دورہ عوام کے ساتھ قریبی رابطے، زمینی حقائق سے آگاہی اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایف سی کے مضبوط عزم کی واضح مثال سمجھا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے امید ظاہر کی کہ اس طرح کے دورے عوام اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان فاصلے مزید کم کریں گے اور علاقے میں امن و ترقی کے سفر کو مزید تقویت بخشیں گے۔

  • عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ،ملک احمد خان

    عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ،ملک احمد خان

    اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ہے۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف سے بھی جیل قانون کے تحت ہی سلوک کیا گیا تھا اور عمران خان کے ساتھ بھی جیل قانون کے مطابق سلوک ہو رہا ہے، صاف ستھرا پنجاب اپنی نوعیت کا بڑا پروگرام ہے، ماربل فیکٹریوں میں کام کرنے والوں کی اموات زیادہ ہوتی تھیں، جب ماربل کو کاٹا جاتا تھا تو اُس کی دھول سے مہلک بیماری ہوتی تھیں، اس مسئلے کا حل بھی پنجاب اسمبلی میں نکالا گیا.اسمبلیز عوام کے نمائندے ہیں، ان کی بنیادی ذمہ داری مسائل حل کرنا ہے۔ اگر ممبرز صرف جھگڑے یا احتجاج کریں، گورننس اور اوور سائٹ چھوڑ دیں، تو یہ ناقابل قبول ہے۔ رائٹ ٹو ریپریزنٹیشن روکنا نہیں چاہیے، لیکن زیادتی کی صورت میں کارروائی ضروری ہے۔’ستھرا پنجاب‘‘ ایک بڑا اور منفرد پروگرام ہے جس میں پنجاب کی واضح ملکیت ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے کامیاب کرے۔ وزراء اس پر بات کریں گے، لیکن اسپیکر کے طور پر میں نے ہاؤس کے اندر اسپیشل سیشنز میں محسوس کیا کہ اس کے بنیادی تقاضے قانون اور نظم و نسق کے تحت حل کیے جانا ضروری ہیں۔نواز شریف کا بیان ’عمران خان کو لانے والے بھی ذمہ دار ہیں‘ کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ انہوں نے قطعی طور پر یہ نہیں کہا کہ کسی کو پکڑ کرٹانگ دو؟ میں نے ان کی پوری بات سنی ہے انہوں نے صرف یہ کہا یہ پاکستان کی ترقی کے سفر کو روک کر اس ملک کے ساتھ جرم کیا گیا،

  • سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے،عطا تارڑ

    سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لینی ہے۔

    عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اور وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے ایسا سیاسی طرزعمل اپنایا ہے جس سے صوبے کے عوام کو گورننس کی فراہمی پس پشت چلی گئی ہے، ان لوگوں کی ساری توجہ ایک غیر قانونی مطالبے پر مرکوز ہے کہ کرپشن کے کیس میں اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے بانی سے ہی سیاسی رہنمائی لی جائے، یہ جیل رولز کے خلاف ہے، صوبائی حکومت اپنی ترجیحات امن، ترقی اورعوامی ریلیف کے بجائے دن رات اسلام آباد میں اسی غیر قانونی بیانیے کے گرد گھمارہی ہے۔مبینہ طور پر تحریک انصاف کی ایک خاتون سیاستدان نے انتہائی منفی حکمت عملی کے تحت افغانستان سے چلنے والے پاکستان دشمن اکاؤنٹس اور بھارتی میڈیا پر خان صاحب سے متعلق ایک گھٹیا مہم چلوائی جس سے پوری دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشس کی گئی۔

  • وادیِ تیراہ  میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیاں،پشاور کیلیے خطرے کی گھنٹی

    وادیِ تیراہ میں خوارج کی بڑھتی دہشت گردانہ سرگرمیوں نے پشاور کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    فتنہ الخوارج نے ایک بار پھر وادی تیراہ کے نیٹ ورکس کے ذریعے پشاور پر دہشتگردانہ حملے شروع کر دیے، تیراہ اور پشاور کا درمیانی فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر اور سفر کا وقت صرف دو گھنٹے ہے، 24نومبر کوپشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹر پر حملے میں ملوث افغان خوارجیوں نے تیراہ کا راستہ ہی اپنایا، 25 نومبر کو حسن خیل، پشاور میں گیس پائپ لائن آئی ای ڈی سے تباہ کرنے والے خوارجی بھی وادی تیراہ سے آئے،ماضی میں خارجی حکیم اللہ محسود کا مرکز طویل عرصہ تک تیراہ میں قائم رہا، خارجی حکیم اللہ محسود پورے قبائلی علاقے ، پشاور اور ملک بھر میں تیراہ سے کارروائیاں کرتا رہا،حالیہ متعدد حملوں میں ملوث افغان شہریوں کے روابط بھی تیراہ میں قائم نیٹ ورکس سے منسلک پائے گئے، 2014 میں اے پی ایس حملے کی منصوبہ بندی بھی خوارج نے تیراہ میں واقع انہی خفیہ مراکزِ میں کی تھی، تیراہ میں ایک بار پھر دہشتگردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، ذرائع

    منشیات کے کاروبار سے جڑے اندرونی مفادات بھی اسی خطّے میں کھل کر سامنے آ رہے ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر پہلے بھی اپنی پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ منشیات کے کاروبار اور دہشتگردی میں گہرا تعلق ہے،تیراہ میں اس بڑھتے گٹھ جوڑ اور اس سے پیدا ہونے والی دہشتگردی کو اگر ختم نہ کیا گیا تو پشاور میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہو سکتاہے،صوبائی حکومت کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ورنہ پشاور سمیت پورے خیبر پختونخوا میں حملوں میں اضافے کا خدشہ ہے،