Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    فیکٹ چیک،تاجکستان ڈرون حملہ،سوشل میڈیا پر افغان،بھارتی اکاؤنٹس کے پروپیگنڈے کی حقیقت

    سوشل میڈیا پر افغانستان اور بھارت سے منسلک بعض اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی نے چترال کے علاقے سے افغانستان کے اندر ڈرون حملہ کرتے ہوئے تاجکستان کے صوبہ خطلون میں کام کرنے والی ایک چینی کمپنی کے ملازمین کو نشانہ بنایا۔ تاہم یہ دعویٰ سرکاری ریکارڈ اور تاجک حکام کے بیانات سے مطابقت نہیں رکھتا۔

    تاجکستان کی حکومت کے مطابق یہ ڈرون حملہ افغانستان کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں خطلون خطے میں قائم ایل ایل سی "شوہن ایس ایم” کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے بتایا کہ ڈرون میں گرینیڈ اور ہلکے ہتھیار نصب تھے اور حملہ “استقلول” بارڈر گارڈ پوسٹ کے زیرِ کنٹرول علاقے پر کیا گیا۔ واقعے میں چینی کمپنی کے تین ملازمین جاں بحق ہوئے۔

    تاجک وزارتِ خارجہ نے حملے کے بعد افغان طالبان انتظامیہ سے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے، جس میں سرحد پار سے ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    دوسری جانب تاجک، روسی، چینی یا دیگر آزاد ذرائع میں سے کسی نے بھی اس حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا تذکرہ نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق پاکستان سے متعلق یہ دعویٰ زیادہ تر ان آن لائن نیٹ ورکس سے پھیل رہا ہے جو اس سے قبل بھی پاکستان مخالف بیانیے کی تشہیر میں سرگرم رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ غیر مصدقہ معلومات پر مبنی ایسی افواہیں خطے میں غلط فہمیاں اور سفارتی تناؤ بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں، اس لیے سرکاری ذرائع اور مستند رپورٹس پر انحصار ضروری ہے۔پاکستان کی آئی ایس آئی پر چینی کارکنوں پر تاجکستان میں ڈرون حملہ کرنے کا الزام جھوٹا، غیر مصدقہ اور سرکاری تاجک بیانات کے خلاف ہے۔یہ بیانیہ افغان اور بھارتی پراپیگنڈا اکاؤنٹس کی ایک مربوط ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے سیکیورٹی اداروں کو بدنام کرنا اور پاک چین تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔یہ بیانیہ صرف را سے منسلک اور افغان ڈس انفارمیشن نیٹ ورکس سے ہی سامنے آیا ہے، جو پہلے بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈا پھیلانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔

  • نور مقدم کیس،سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس کی مذمت

    نور مقدم کیس،سینیٹ قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس کی مذمت

    وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے نور مقدم قتل کیس میں مجرم ظاہر جعفر کی سزائے موت کیخلاف اپیل پر 7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کر دیا۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے نوٹ میں کہا کہ وہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں لیکن کچھ اضافی وجوہات بھی تحریر کی ہیں اور ظاہر جعفر کے خلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ’لیو ان ریلیشن‘ کا تصور معاشرے کے لیے خطرناک ہے اور ایسے تعلقات نہ صرف اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں بلکہ سماجی بگاڑ کا سبب بھی بنتے ہیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اس واقعہ سے سبق سیکھنے کی تلقین کی۔

    جسٹس علی باقر نجفی نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ اس کیس کا تعلق معاشرے میں پھیلنے والی برائی سے ہے جو ’لیونگ ریلیشن شپ‘ کے نام سے جانی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات نہ صرف ملکی قوانین بلکہ شریعت کے بھی خلاف ہیں اور اسے خدا کے خلاف براہِ راست بغاوت قرار دیا۔

    نور مقدم 27 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں ظاہر جعفر کے گھر سے مردہ حالت میں ملی تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ نے 2022 میں ظاہر جعفر کو قتل کی سزا سنائی تھی جسے سپریم کورٹ نے برقرار رکھا،سپریم کورٹ میں دائر نظرثانی درخواست کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ کوئی بھی معمولی فرق یا شواہد میں چھوٹ اس سزا کے اثر کو نہیں کم کرتا کیونکہ جرم کے تمام شواہد واضح اور ریکارڈ شدہ ہیں۔

    سپریم کورٹ نے ظاہر جعفر کیخلاف قتل کی دفعات میں سزائے موت برقرار رکھی تھی جبکہ ریپ کے الزام میں عمر قید میں تبدیلی اور اغوا کے مقدمے میں سزا کم کر کے ایک سال کی گئی تھی۔ عدالت نے نور مقدم کے اہل خانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم بھی برقرار رکھا.

    دوسری جانبسینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے جسٹس علی باقر نجفی ک ریمارکس کی شدید مذمت کی اور اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے جسٹس علی باقر نجفی جو اب وفاقی آئینی عدالت کا حصہ ہیں، نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ نور مقدم کیس معاشرے میں پھیلنے والی ایک ’برائی‘ کا نتیجہ ہے، جسے ’لونگ ریلیشن شپ‘ (یعنی 2غیر شادی شدہ افراد کا ایک ساتھ رہنا)کہا جاتا ہے۔ کمیٹی نے اجلاس میں سوال اٹھایا کہ جب خواتین کے خلاف مقدمات میں سزا کی شرح پہلے ہی شرمناک حد تک کم ہے، تو اگر ایک جج خود اس طرح کی بات کرے تو سزا کی شرح کا کیا بنے گا؟،کم سزا کی شرح کے باعث کمیٹی نے ایڈووکیٹ جنرلز، پراسیکیوٹر جنرلز، پولیس حکام اور متعلقہ تمام اداروں کو طلب کر لیا۔

    جسٹس علی باقر نجفی کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر بھی ردعمل دیکھنے میں آیا ہے،ایکس پر ایک پوسٹ میں افتخار نامی صارف کہتے ہیں کہ نور مقدم کیس:نور مقدم اور ان کی فیملی کے ساتھ جتنی ھمدردی کی جائے وہ شاید کم پڑے اسی طرح قاتل کی جتنی مذمت کی جائے وہ بھی یقیناً کم ھی پڑے گی البتہ جسٹس باقر نجفی کے اضافی نوٹ پہ منفی تبصرہ کرنے سے پہلے یا تو متعلقہ پیراگراف (10) پڑھ لیں یا پھر خود کو اس معاملے کو خود سوچیں.

    محمد حنیف گل کہتے ہیں کہ نور مقدم قتل کیس میں ملزم کو درست سزا سنائی گئی۔ سپریم کورٹ نے اپیل اور ریویو دونوں میں سزائے موت برقرار رکھی۔ لیکن جسٹس باقر نجفی کے اضافی نوٹ نے اس درست فیصلے کو بھی متنازعہ بنا دیا۔ محترم جج صاحب کے بقول وہ ‘لو ان’ تعلقات، جن میں نور مقدم ملزم کے ساتھ رہ رہی تھی، اس گھناؤنے جرم کی بنیاد بنے۔ انہوں نے نئی نسل کو اس ‘اخلافی گراوٹ’ کے حوالے سے تنبیہ بھی کی کہ وہ ایسی ‘بغاوت’ سے دور رہیں تاکہ اس قسم کے ہولناک نتائج سے بچ سکیں-کیا منکوحہ عورتیں شوہروں کے ہاتھوں قتل نہیں ہوتیں؟ کیا جج صاحب نے اس حوالے سے کوئی تحقیق کی ہے؟ہمارے جج صاحبان عموماً اصولِ قانون، فلسفہ اور تاریخ میں کافی کمزور ہوتے ہیں، لیکن انہیں ان معاملات میں بھی حرفِ آخر بننے کا شوق ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے بعض اوقات وہ ایسی تشریحات کرتے ہیں جو مضحکہ خیز ہوتی ہیں۔ اس دنیا میں 8 ارب سے زائد انسان ہیں۔ 193 ممالک اقوامِ متحدہ کے رکن ہیں، جبکہ فلسطین اور ویٹیکن کو بھی غیر رکن ممالک کی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کی اکثریت ‘لو ان’ تعلقات کو تسلیم کرتی ہے۔ مغربی ممالک میں تو ان کی قبولیت سماجی طور پر شادی کے برابر ہے۔ اسلامی اور روایتی عیسائی ممالک میں اگرچہ یہ تصور موجود ہے، لیکن اس کی سماجی قبولیت کم ہے۔ بھارت میں بتدریج ان تعلقات کی قبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، اور چین میں بھی اسے پہلے کی نسبت زیادہ قبولیت حاصل ہے۔اس تناظر میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے: کیا کسی مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس عورت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہو، اسے قتل کر دے؟ کیا ‘لو ان’ تعلقات لاطینی امریکہ، یورپ اور شمالی امریکہ میں بھی ایسے جرائم کی بنیاد بنتے ہیں؟ کیا چین میں بھی ان تعلقات کو جرائم کی بنیاد سمجھا جاتا ہے؟ یہ بات درست ہے کہ پاکستان کا معاشرہ ‘لو ان’ تعلقات کو مذہبی، اخلاقی اور سماجی طور پر برا سمجھتا ہے، اس کے باوجود یہ تعلقات پاکستان میں ایک حقیقت ہیں، جس کا انکار ممکن نہیں۔ کیا ان تعلقات کو جسٹس صاحب کی طرف سے ان جرائم کی وجہ قرار دینا درست ہے؟ کیا جرم اور تعلقات میں کوئی منطقی نسبت نکلتی ہے؟ اگر کوئی شخص کسی کے ساتھ کاروباری شراکت کرے اور بعد میں ایک پارٹنر دوسرے کو بے دردی سے قتل کر دے، تو کیا کاروباری شراکت داری کو قتل کی بنیاد قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا جج صاحب نئی نسل کو کاروباری شراکت سے بھی باز رہنے کی نصیحت کریں گے.

  • منی پور : آزادی پسندوں کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ، متعدد زخمی

    منی پور : آزادی پسندوں کے حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک ، متعدد زخمی

    شورش زدہ بھارتی ریاست منی پور میں ایک حملے میں دو بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    خبررساں ادارے کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے آج صبح ریاست کے ضلع ٹینگنوپل میں فوج کی 22 آسام رائفلز کے ایک گشتی دستے پر گھات لگا کر حملہ کیا۔حملہ آور خود مکار ہتھیاروں سے لیس تھے ۔ حملے میں دو فوجیوں کے ہلاک اور کم از کم پانچ کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں جن میں سے دو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔واقعے کے بعد بھارتی فورسز نے حملہ آوروں کو پکڑنے کیلئے علاقے میں بڑے پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کر دیا ہے۔یاد رہے کہ منی پور میں مئی 2023ء سے سخت تشدد کی لپیٹ میں ہے ۔ اب تک ڈھائی سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ ہزاروں ہو چکے ہیں۔میتھی (ہندو) اور کوکی (عیسائی) قبائل کے درمیان بڑے پیمانے پر کشیدگی چلی آرہی ہے ۔

  • ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ٹانک،دہشتگردوں کے حملے، دو سرکاری اسکول بارودی مواد سے تباہ

    ضلع ٹانک میں دہشت گردی کی نئی لہر نے تعلیمی اداروں کو نشانہ بنا لیا۔ عسکریت پسندوں نے مختلف علاقوں میں دو سرکاری اسکولوں کو بارودی مواد سے اڑا کر تباہ کردیا،

    تفصیلات کے مطابق تھانہ گل امام کی حدود میں واقع گورنمنٹ ہائی اسکول گاؤں اکبری کو گزشتہ شب نامعلوم شدت پسندوں نے طاقتور دھماکا خیز مواد سے نشانہ بنایا۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ اسکول کی کئی کمروں کی دیواریں منہدم ہوگئیں اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے واقعہ کے وقت اسکول خالی تھا جس کے سبب کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    کڑی عمر خان میں بھی اسی نوعیت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں ایک گرلز پرائمری اسکول کو بارودی مواد کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ انتہائی علی الصبح کیا گیا تاکہ زیادہ تباہی اور خوف پھیلایا جا سکے۔ اسکول کی عمارت مکمل طور پر کھنڈر میں تبدیل ہوگئی ہے۔مقامی پولیس نے دونوں مقامات کا محاصرہ کرکے شواہد جمع کرنا شروع کر دیے ہیں جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائیاں تعلیمی سرگرمیوں کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہیں اور اس سلسلے میں شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    علاقے کے عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیمی اداروں پر حملے ترقی اور امن کے دشمنوں کی کارستانی ہیں۔ والدین میں بھی شدید تشویش پائی جارہی ہے اور لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی بڑھائی جائے۔ضلعی انتظامیہ نے فوری طور پر تعمیر نو اور سیکیورٹی کے مؤثر اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

  • 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے،اے این پی

    عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) نے 28 ویں آئینی ترمیم کیلئے تجاویز وفاقی حکومت کو ارسال کردیں۔

    اے این پی ترجمان کے مطابق 28ویں آئینی ترمیم میں پختونخوا کی تاریخی شناخت کو بحال کیا جائے۔ اے این پی صوبے کے نام کو ’’پختونخوا‘‘ تسلیم کرنے کے مطالبے کو دہراتی ہے تاکہ اس خطے کی تاریخی، لسانی اور تہذیبی شناخت کو آئینی حیثیت ملے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں تمباکو کاشتکاروں کے تحفظ اور صوبائی محصول کے حق کو یقینی بنایا جائے۔ 28ویں آئینی ترمیم میں مقامی حکومتوں کے مستقل قیام کو آئینی ضمانت دی جائے۔ اے این پی مطالبہ کرتی ہے کہ آرٹیکل 140 اے کے مطابق ملک بھر میں ہر چار سال بعد باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور انہیں آئینی تحفظ دیا جائے۔ یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ کسی بھی انتظامی اتھارٹی کو ان اداروں کو معطل، تحلیل یا ان کی جگہ لینے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا۔ آئین میں کسی بھی ترمیم کا مقصد عوامی مفاد، صوبائی حقوق کا تحفظ اور وفاقی جمہوریت کی مضبوطی ہونا چاہیے۔ اگر ان اصولوں کو نظرانداز کیا گیا تو عوامی نیشنل پارٹی ایسی کسی بھی ترمیم کی پارلیمان اور عوامی سطح پر بھرپور مزاحمت کرے گی۔

  • افغان ریاست سے منسلک سوشل میڈیا ہینڈلز کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیلئے استعمال

    افغان ریاست سے منسلک سوشل میڈیا ہینڈلز کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیلئے استعمال

    افغان ریاست سے منسلک سوشل میڈیا ہینڈلز کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے

    افغان اسٹیٹ نیوز پیپرز ڈپارٹمنٹ کے سرکاری ہینڈل کو خاموشی سے افغان ڈیفنس میں تبدیل کر کے براہ راست پراپیگینڈا پلیٹ فارم بنادیا گیا۔ پاکستانی سائبر ماہرین کی رپورٹ نے سرکاری افغان اکاؤنٹ کی اس خفیہ تبدیلی کو بے نقاب کر دیا۔ تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ یہ ہینڈل پہلے سرکاری اطلاعات فراہم کرتا تھا، مگر اب براہ راست پاکستان مخالف ڈیجیٹل آپریشن کا حصہ بن چکا ہے۔ اسلام آباد پر حملوں کے اشارے دینے والی پوسٹس کے پیچھے انہی ریاستی شناخت رکھنے والے افغان مینڈ لز کا ہاتھ ثابت ہو چکا ہے، جن کی تبدیلی انتہائی منظم انداز میں کی گئی۔ افغان عبوری حکومت کا سرکاری ایکس ہینڈل ذمہ دارانہ پیغام رسانی سے نکل کر پروپیگنڈا محاذ پر آگیا ہے۔ تبدیل شدہ افغان عبوری حکومت کا ایکس ہینڈل اب باقاعدہ ایک پراپیگنڈا مشین کے طور پر کام کر رہا ہے ، جس میں اسلام آباد کو دھماکوں سے اڑانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ پاکستانی سائبر ماہرین نے ثبوتوں کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد کو ٹارگٹ کرتی ہوئی یہ براہ راست دھمکی آمیز پوسٹس کسی عام اکاؤنٹ سے نہیں بلکہ ایک تبدیل شدہ افغان حکومتی ہینڈل سے جاری ہو رہی ہیں۔

  • خودکش حملہ آور بارےاطلاع دینے والے کیلئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    خودکش حملہ آور بارےاطلاع دینے والے کیلئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان

    تیراہ میں خودکش حملہ آور بارے حکومت کو صحیح اطلاع دینے والے کے لئے20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کر دیا گیا

    (خوارج) کالعدم لشکرِ اسلام اور ٹی ٹی پی نے تیراہ میں بدامنی پھیلانے کے لیے ایک خودکش گاڑی تیار کی ہے۔ یہ گاڑی پہلے نوے باغ اور بعد ازاں زرانچہ کے علاقوں میں دیکھی گئی ہے۔ خوارج نے اس کاروائی کے لیے آصف افغانی، جو آصف مہمند کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو تیار کیا ہے۔ مقامی آبادی میں چھپے خودکش حملہ آور کے بارے میں حکومت کو درست اطلاع فراہم کرنے والے افراد کے لیے 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے.

  • بنوں پولیس ،ہاتھی خیل قوم کا دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن ، تین دہشتگرد ہلاک

    بنوں پولیس ،ہاتھی خیل قوم کا دہشتگردوں کیخلاف مشترکہ آپریشن ، تین دہشتگرد ہلاک

    بنوں، ترخے اوبہ حدود تھانہ احمد زئی میں فتنہ الخوارج اور مقامی شہریوں کے درمیان شدید فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ڈی آئی جی بنوں سجاد خان کی خصوصی ہدایت پر SP Rural
    ، SDPOs، QRF، RRF، APCs,اور آرمی یونٹ نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر کاروائی کا آغاز کیا۔

    طویل فائرنگ کے تبادلے اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں علاقے میں سرچ آپریشن مکمل کیا گیا، جس کے دوران تین دہشتگرد ہلاک ہو گئے، جن کی لاشیں قانونی کاروائی کے لیے ہسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔آپریشن کے دوران ہاتھی خیل قوم کے بہادر شہریوں نے بنوں پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر دہشتگردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شدید فائرنگ کے باوجود پولیس نے علاقے کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

    ڈی آئی جی بنوں سجاد خان نے کہا کہ علاقے کا امن ہر صورت بحال رکھا جائے گا، سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور دہشتگردوں کے خلاف گھیرا مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ڈی پی او بنوں یاسر آفریدی نے کہا کہ عوام متحد ہیں، پولیس اور مقامی لوگ ایک مشترکہ محاذ پر ہیں۔ دہشتگردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔

  • آکسفورڈ یونیورسٹی،پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبا نے جیت لیا،بھارت کو شکست

    آکسفورڈ یونیورسٹی،پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبا نے جیت لیا،بھارت کو شکست

    آکسفورڈ یونیورسٹی میں ہونے والا پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبا نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا۔

    دونوں ممالک کے آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبانے ‘پاکستان کے لیے بھارتی پالیسی واقعی قومی سکیورٹی کے لیے ہے یا عوامی جذبات کو بھڑکانے کے لیے سیاسی نعرہ ہے’ کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔اسٹوڈنٹس یونین کے موجودہ صدر موسیٰ ہراج نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی۔بھارتی طلبا مباحثے میں اٹھائے گئے سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ دے پائے۔ ڈیبیٹ ہال میں پاکستانی ٹیم کو 106،بھارتی ٹیم کو صرف 50 ووٹ مل پائے۔یوں پاکستانی طلبا نے پاک بھارت مباحثہ دو تہائی اکثریت سے جیت لیا۔آکسفورڈ یونیورسٹی مباحثے میں بھارت کو شکست دینے والی تین قابل فخر سٹوڈنٹس یونین کے موجودہ اور سابق صدور موسی ہراج ، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز و دیگر شامل ہیں،

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے مباحثے میں اپنی تقریر میں پاکتانی طالب علم احمد نواز نے کہا کہ پاکستان ایک حقیقت ہے، بھارت سے متاثر نہیں بلکہ اپنے مستقبل پر فوکس ہے، جب بھارت پاپولزم کی مشقوں میں مصروف ہے، پاکستان خاموشی سے تعمیر نو کے مقصد کی راہ پر گامزن ہے۔ احمد نواز نے دلائل سے بھرپور گفتگو میں مزید کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ میں علاقائی طاقت بن چکا ہے، امریکی انتظامیہ اور دنیا بھر کے لیڈرز نے گزشتہ چند ہفتوں میں علاقائی سلامتی میں پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی ہے، پاکستان تنازع پر نہیں تعاون پر یقین رکھتا ہے۔

  • صوبے بھر میں ترقیاتی سرگرمیاں بھرپور رفتار سے جاری ہیں، شرجیل میمن

    صوبے بھر میں ترقیاتی سرگرمیاں بھرپور رفتار سے جاری ہیں، شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دنیا کا سب سے بڑا ہاؤسنگ پروگرام ایس پی ایچ ایف صرف ایک اسکیم نہیں بلکہ ایک نیا سماجی انقلاب ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ اب تک 20 لاکھ افراد کی ویریفکیشن مکمل ہو چکی، 15 لاکھ لوگوں کے اکاؤنٹس کھولے جا چکے، مزید 6.5 لاکھ گھروں کی تعمیر تکمیل کے قریب ہے، پروگرام کے ذریعے اب تک 10 لاکھ افراد کے لئے روزگار کے ذرائع پیدا ہوئے ہیں جبکہ 9 لاکھ خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دیئے جا چکے ہیں، کراچی میں صاف پانی اور نکاسی آب کے لئے 85.5 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے،شہریوں کو جلد سہولیات کی فراہمی کے لئے کے فور، حب، اسٹارم واٹر ڈرین اور KWSSIP-II جیسے اہم منصوبوں کے لئے فنڈز جاری کر دیئے گئے ہیں،حکومت سندھ اپنے ترقیاتی ایجنڈے پر پہلے سے زیادہ توجہ دے رہی ہے،واٹر، سینی ٹیشن اور میونسپل سروسز کی 293 اسکیمیں منظور ہو چکی ہیں،وزیراعلیٰ سندھ نے تمام منصوبوں کی بروقت فنڈ ریلیز یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں، شہری اور دیہی علاقوں میں سڑکوں اور رابطہ نظام کی بہتری پر تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے.وزیراعلیٰ سندھ اب تک 620 روڈ منصوبوں کا خود جائزہ لے چکے ہیں، کورنگی کاز وے برج، انڈر پاسز اور لیاری ٹرانسفارمیشن منصوبہ تکمیل کے قریب ہی، 970 کلومیٹر سڑکوں کی بحالی بھی جاری ہے،

    شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ نے ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لئے الیکٹرک بائیکس کی تعداد بڑھانے کی منظوری دے دی ہے،سندھ سولر انرجی پروجیکٹ کے لئے فنڈز جاری ہو چکے ہیں اور 25 ارب روپے کے رینیوایبل انرجی اقدامات پر کام شروع ہو چکا ہے،سندھ حکومت کا وژن ریزیلینس، خوشحالی اور مساوات پر مبنی ہے، اسی مقصد کے تحت صوبے بھر میں ترقیاتی سرگرمیاں بھرپور رفتار سے جاری ہیں،