Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکا میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ،پاکستان کی مذمت

    امریکا میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ،پاکستان کی مذمت

    پاکستان نے واشنگٹن میں افغان شہری کی جانب سے فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان دو دہائیوں میں متعدد ایسے حملوں کا سامنا کرچکا ہے۔

    پاکستان نے وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی فائرنگ سے فوجی کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان متاثرہ خاندانوں اور امریکی حکومت سے ہمدردی کا اظہارکرتا ہے، حملہ امریکا کی سرزمین پر دہشت گردی کی واضح کارروائی ہے، پاکستان دو دہائیوں میں متعدد ایسے حملوں کا سامنا کرچکا ہے، کئی دہشتگرد واقعات کے روابط افغانستان سے جڑے رہے ہیں، واشنگٹن واقعہ سرحد پار دہشتگردی کے بڑھتے خطرات کا اشارہ ہے،عالمی برادری دہشتگردی کے دوبارہ سر اٹھانے کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

    پاکستان نے مشترکہ عالمی انسداد دہشت گردی کوششوں کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور عالمی برادری کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔

  • انسانی حقوق تنظیموں کی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید

    انسانی حقوق تنظیموں کی مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید

    بھارت میں اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک تازہ بحث نے شدت اختیار کر لی ہے، جہاں مختلف انسانی حقوق تنظیموں اور سکھ، مسلمان اور دیگر اقلیتی حلقوں کی جانب سے وزیراعظم نریندر مودی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

    ناقدین کے مطابق بھارتی فوج اور ریاستی اداروں کو ہندوتوا نظریے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے ملک کے سیکولر تشخص پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں،رپورٹس کے مطابق اقليتی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ آر ایس ایس اور مودی حکومت کے گٹھ جوڑ نے ریاستی اداروں کے سیاسی استعمال کو بڑھایا ہے، جبکہ مذہبی آزادی کے ماحول پر دباؤ محسوس کیا جا رہا ہے،ناقدین کا دعویٰ ہے کہ رام مندر کی تعمیر اور اس مقام پر فوجی نمائندوں کی موجودگی بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی سیاست کی عکاس ہے۔

    اس حوالے سے متعدد مذہبی اور سماجی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد رام مندر کا قیام بھارت میں بڑھتے ہوئے نظریاتی تنازعات کو نمایاں کرتا ہے،ان کے مطابق عسکری قیادت کی طرف سے مندروں کے دورے اور سرکاری سطح پر ہندوتوا نظریہ کے فروغ کے اشارے ملک میں اقلیتوں کے لیے عدم تحفظ کے احساس کو بڑھا رہے ہیں،انسانی حقوق ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مضبوط اقدامات ناگزیر ہیں

  • قومی اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی

    قومی اسمبلی اجلاس کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی

    قومی اسمبلی حکومت اور اتحادی جماعتوں کے 240 ارکان کی موجودگی کے باوجود کورم کی عدم تکمیل کے باعث اجلاس جاری نہ رکھ سکی۔

    جمعہ کو ہونے والے اجلاس کے آغاز میں ہی اپوزیشن رکنِ اسمبلی نے کورم کی نشاہدہی کردی، جس کے بعد ایوان کی کارروائی معطل کرنا پڑی۔اجلاس شروع ہوتے ہی رکن قومی اسمبلی محبوب جان نے ایوان میں کورم پورا نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ کورم کی گنتی کے دوران واضح ہوا کہ ایوان میں مطلوبہ تعداد 84 ارکان موجود نہیں، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کی کارروائی آگے بڑھانا مناسب نہ سمجھا۔کورم پورا نہ ہونے پر اسپیکر نے کارروائی فوری طور پر روک دی اور اجلاس پیر کی شام 5 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت اور اس کی اتحادی جماعتوں کے مجموعی طور پر 240 ارکان قومی اسمبلی میں موجود ہیں، اس کے باوجود اجلاس میں مطلوبہ حاضری یقینی نہ بنائی جاسکی، جس پر اپوزیشن نے حکومت کی پارلیمانی کارکردگی پر شدید تنقید بھی کی ہے۔ایوان میں ایک بار پھر کورم کی نشاندہی سے نہ صرف قانون سازی کا عمل متاثر ہوا بلکہ حکومتی بینچوں کی عدم دلچسپی بھی نمایاں طور پر سامنے آئی ہے۔

  • بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    بولان گھر میں دھماکہ،ڈی آئی خان 22 دہشتگرد ہلاک،گوادر ایک گرفتار

    پاکستان: خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی، جھڑپوں اور سیکیورٹی کارروائیوں کے متعدد واقعات

    ملک کے مختلف حصوں خصوصاً خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دہشت گردی، فائرنگ، ڈرون حملے، بارودی مواد کے دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے متعدد افسوسناک واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    باجوڑ: سیکیورٹی فورسز نے متعدد بارودی سرنگیں ناکارہ بنا دیں

    باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے جنّت شاہ میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی جانب سے مختلف مقامات پر نصب متعدد بارودی مواد (IEDs) برآمد کرکے کامیابی سے ناکارہ بنا دیا۔یہ وہی علاقہ ہے جہاں ایک روز قبل دو نوجوان شہید ہوئے تھے جب وہ دہشت گردوں کے نصب کردہ ایک بارودی آلے کی زد میں آ گئے تھے۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بارودی مواد بڑے سانحے کا سبب بن سکتا تھا، تاہم بم ڈسپوزل اسکواڈ نے پیشہ ورانہ مہارت سے تمام ڈیوائسز کو تلف کر دیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کو آپریشنز کے ذریعے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن دہشت گرد فرار ہوتے ہوئے مختلف مقامات پر بارودی سرنگیں اور IEDs نصب کر گئے تھے، جو وقتاً فوقتاً المناک واقعات کا باعث بنتی رہتی ہیں۔پاکستان آرمی قبائلی اضلاع میں وسیع ڈی مائننگ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ شہریوں کی جانیں محفوظ رہ سکیں اور علاقے میں مکمل امن بحال ہو سکے۔

    باجوڑ: ایم پی اے انور زیب خان کے گھر پر دھماکا، ایک شخص زخمی

    خار کے علاقے رگاگان میں صوبائی اسمبلی کے رکن انور زیب خان کے گھر پر بم دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق زخمی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ایم پی اے انور زیب خان نے تصدیق کی کہ واقعے کے وقت وہ گھر پر موجود نہیں تھے،پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ابتدائی طور پر سی ٹی ڈی نے واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔

    شمالی وزیرستان: TTP کمانڈر اندرونی اختلافات کی فائرنگ میں ہلاکڈیرہ اسماعیل خان: سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 22 شدت پسند ہلاک
    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران بھارت نواز تنظیم فتنہ الخوارج کے 22 دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔فورسز نے ایک مصدقہ ٹھکانے پر کارروائی کی جہاں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
    ترجمان آئی ایس پی آر کے مطابق یہ کارروائی آپریشن عزمِ استحکام کے تحت کی گئی، جو نیشنل ایکشن پلان کے سلسلے میں وفاقی ایپکس کمیٹی کی منظوری کے بعد جاری ہے۔مزید دہشت گردوں کی تلاش کے لیے علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔

    لکی مروت کے علاقے فتح خان خیل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو نامعلوم شدت پسندوں نے اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا۔اس کی لاش بنوں ضلع کے ہواڈ تھانے کی حدود سے ملی۔واقعے کی وجوہات سامنے نہیں آ سکیں۔ پولیس نے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے اور کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    ٹانک ضلع میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان بائیت اللہ جاں بحق ہو گیا۔مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آور موقع واردات سے فرار ہو گئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔تھانہ حوید کے علاقے شیخ لنڈک میں شدت پسندوں نے ایک کواد کاپٹر ڈرون کے ذریعے پولیس چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ڈرون سے بم گرنے کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار حمید اللہ، اسلم شاہ اور اسماعیل خان زخمی ہو گئے۔زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جبکہ پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

    گوادر میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے 18 سالہ مشتبہ شدت پسند ساتھی غلام قادر ولد مراد بخش کو کوسٹل اسپتال کے قریب سے گرفتار کر لیا۔حکام کے مطابق نوجوان کے دہشت گرد گروہوں سے ممکنہ روابط کی تحقیقات جاری ہیں۔بولان کی تحصیل سنی میں ایک گھر میں نصب دھماکہ خیز مواد پھٹنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہو گئے۔دھماکے کے نتیجے میں گھر کی چھت اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم افراد نے دو رات قبل گھر کے اندر بارودی مواد نصب کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹارگٹڈ اٹیک تھا۔

  • دہشت گردی امریکا میں ہو  یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے،علی امین گنڈا پور

    دہشت گردی امریکا میں ہو یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے،علی امین گنڈا پور

    سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے بانی پی ٹی آئی عمران خان صحت مند ہیں اور بشریٰ بی بی بھی ٹھیک ہیں۔

    ڈیرہ اسماعیل خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر تشویش کا اظہار کیا،اور کہا کہ مران خان سے ملاقات نہ کرانے کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، احتجاج بھی ریکارڈ کرائیں گے،انہوں نےبانی پی ٹی آئی کی جلد رہائی کا بھی مطالبہ کردیا،علی امین گنڈاپور نے گفتگو کے دوران دہشتگردانہ واقعات کی مذمت کی، ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی امریکا میں ہو یا کہیں بھی ، قابلِ مذمت ہے، علی امین گنڈاپور نے دہشت گردی کے خلاف مل کر مشترکہ حکمتِ عملی بنانے پر زور دیا۔

  • اضافی نمبر دینے کی پیشکش،پروفیسر  طالبہ کو ہراساں کرنے لگا

    اضافی نمبر دینے کی پیشکش،پروفیسر طالبہ کو ہراساں کرنے لگا

    بورے والا میں فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے سب کیمپس میں پروفیسر کی جانب سے طالبہ سے مبینہ طور پر ہراسانی کا واقعہ پیش آیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پروفیسر کی جانب سے مبینہ طور پر نتائج میں اضافی نمبر دینے کی پیشکش کی ویڈیو وائرل ہو گئی ، یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق طالبہ نے پروفیسر کے خلاف تحریری درخواست دی جس کے بعد معاملہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے وومن ہراسمنٹ یونٹ کو بھیجا گیا،یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کے ویمن ہراسمنٹ یونٹ نے طالبہ کی شکایت وائس چانسلر کو بھیج دی جس کے بعد وائس چانسلر نے ایکشن لیتے ہوئے پروفیسر کو معطل کرکے یونیورسٹی میں اس کا داخلہ بند کر دیا،پرنسپل نے بھی انکوائری مکمل ہونے تک اپنا استعفا جمع کرادیا،پروفیسر کی جانب سے مبینہ طور پر نتائج میں اضافی نمبر دینے کی پیشکش پر طالبہ نے 31 اکتوبر کو پروفیسر کے خلاف تحریری شکایات دی تھی۔

  • وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالے ملزم کے قریبی افراد کے گھروں پر چھاپے

    وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنیوالے ملزم کے قریبی افراد کے گھروں پر چھاپے

    امریکی تفتیش کاروں نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد آج مشتبہ حملہ آور اور اس سے منسلک دیگر افغان شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔

    ایف بی آئی نے ریاست واشنگٹن اور سان ڈیاگو میں کارروائی کے دوران متعدد گھروں کی تلاشی لی، اس حوالے سے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ وہ مشتبہ شخص کی رہائش گاہ تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں سے بہت سے الیکٹرانک آلات بشمول موبائل فونز، لیب ٹاپس اور آئی پیڈز کو قبضے میں لیا گیا ہے اور ان کے تجزیے کا عمل جاری ہے۔ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے بتایا کہ فائرنگ کی وجوہات جاننے کے لیے گرفتار افغان شہری رحمان اللہ کے رشتہ داروں سے بھی تفتیش کی گئی،ہ مشتبہ حملہ آور واشنگٹن میں اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔

    دوسری جانب امریکی حکام نے 29 سالہ افغان شہری رحمان اللہ لکنوال کی تصویر جاری کرتے ہوئے تصدیق کی کہ مشتبہ حملہ آور ماضی میں افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے،سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مشتبہ حملہ آور رحمان اللہ کو امریکا آنےکی اجازت ماضی میں امریکی حکومت کے لیے کام کرنے کی وجہ سے دی گئی تھی۔

    یاد رہے کہ نیشنل گارڈز پر فائرنگ کے بعد امریکا نے افغان باشندوں کی امیگریشن کی درخواستوں پر مزید کام غیر معینہ مدت تک روکنے اور بائیڈن دور میں افغانستان سے امریکا آنے والے ہر غیر ملکی کی دوبارہ جانچ پڑتال کا حکم دیا ہے۔

  • چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملنے سے انکار

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملنے سے انکار

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سے ملنے سے انکار کردیا

    جیو نیوز کے مطابق رات بھر اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دینے کے بعد وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے مگر ان کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات نہیں ہوسکی،چیف جسٹس سے ملاقات نہ ہونے پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، علیمہ خان اور وکلاچیف جسٹس کے سیکرٹری کے آفس سے واپس روانہ ہوگئے،اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہماری شنوائی نہیں ہوئی، ہمیں چیف جسٹس کی طرف سے پیغام ملا کہ میں آپ سےنہیں مل سکتا ہم نےفیصلہ کیاہے آج نہ قومی اسمبلی نہ سینیٹ اجلاس چلنے دیں گے جب کہ آئندہ منگل کوہائیکورٹ کے باہربھی اور اڈیالہ جیل کے باہربھی اکٹھےہوں گے۔

    ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے وزیراعلیٰ کے پی سے ملنےسےانکارکردیا ہے، چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ کسی سے ملاقات نہیں کررہے، چیف جسٹس نے نہ تو ایڈووکیٹ جنرل اور نہ کسی وکیل سے ملاقات کی۔

  • عمران سے ملاقات نہ کروانے پر علیمہ عدالت پہنچ گئیں

    عمران سے ملاقات نہ کروانے پر علیمہ عدالت پہنچ گئیں

    علیمہ خان نے عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی۔

    علیمہ خان نے 24 مارچ کے عدالتی حکم پر عملدرآمد نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی،درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالتی حکم عدولی پر ذمہ داران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور توہین عدالت کے مرتکب افراد کو قانون کے مطابق سزا دی جائے،علیمہ خان کی جانب سے دائر درخواست میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل، وفاقی سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری داخلہ پنجاب کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ آج عدالتوں کے دروازےعوام کے لیے بند ہیں، عدالتوں کی توہین ہے کہ ان کے آرڈرز نہیں مانے جا رہے، عمران خان کو نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا۔

  • افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان کا تاجکستان میں ڈرون حملہ، 3 چینی شہری ہلاک

    افغانستان سے تاجکستان پر کواڈ کاپٹر ڈرون حملے میں 3 چینی کارکن ہلاک ہو گئے

    چینی میڈیا کے مطابق افغانستان سے ہونے والے حملے میں تاجکستان میں 3 چینی شہری ہلاک ہوگئے، نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا گیا،افغانستان سے آئے حملہ آوروں نے ڈرون کے ذریعے نجی کمپنی کے کیمپ کو نشانہ بنایا جس میں تین چینی باشندے ہلاک ہوئے، اس واقعے کے بعد تاجکستان نے افغانستان سے حملے کو دہشتگردی قرار دیدیا ہے۔چینی میڈیا نے بتایا کہ تاجکستان حکومت نے افغان طالبان رجیم سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ چین نے تاجکستان پر حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    تاجک وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک کے جنوب میں یہ حملہ ہوا ہے، بیان میں بتایا گیا کہ یہ حملہ، آتشیں اسلحہ اور دستی بموں سے لدے ڈرون سے کیا گیا، جس میں چینی شہریت کے تین ملازمین اپنی جان سے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب اس ملک کے صوبہ ختلون پر افغان سرزمین سے مسلح حملے میں تین چینی شہری مارے گئے۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے جمعرات، کو ایک بیان میں کہا کہ یہ حملہ ہتھیاروں اور گرینیڈ سے لیس ڈرون کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا۔بیان کے مطابق اس حملے کا ہدف ’شاہین‘ نامی نجی کمپنی کا ہیڈ کوارٹر تھا۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے طالبان سے کہا ہے کہ وہ سرحدی استحکام اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کریں۔تاجکستان کی وزارت خارجہ نے مزید کہا ہے کہ افغانستان اور تاجکستان کے درمیان سرحدی علاقوں میں سلامتی کو برقرار رکھنے اور امن و استحکام کے قیام کے لیے دوشنبہ کی مسلسل کوششوں کے باوجود، "افغانستان میں مقیم جرائم پیشہ گروہوں” کی تخریبی کارروائیاں جاری ہیں۔

    غور طلب ہے کہ ابھی تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی طالبان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کیا ہے۔یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب کئی بین الاقوامی تنظیموں اور ممالک کا خیال ہے کہ افغانستان میں سرگرم عسکریت پسند گروپ وسطی ایشیا کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

    تاجک حکام کے مطابق یہ واقعہ تاجکستان میں سرحد کے قریب چینی کارکنوں پر افغان حملے کے دوران پیش آیا۔ چینی شہری ایک فیکٹری میں کام کر رہے تھے اور افغان ڈرون اور فائرنگ کے حملے میں ہلاک ہوئے۔چینی میڈیا کے مطابق حملہ ڈرون کے ذریعے کیا گیا، جس پر دستی بم اور آتشیں اسلحہ نصب تھا

    افغانستان میں موجود دہشتگردوں سے پاکستان ہی نہیں دیگر پڑوسی بھی محفوظ نہیں ،تاجکستان نے اس سرحد پار دہشتگرد حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے افغان حکام سے فوری اور مؤثر سرحدی سکیورٹی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔