Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے سیر ت النبی سے رجوع  کرنا چاہئے،سیف اللہ قصوری

    فرقہ واریت کے خاتمے کیلیے سیر ت النبی سے رجوع کرنا چاہئے،سیف اللہ قصوری

    گورنمنٹ جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ مریدکے میں تقریب صحیح بخاری،حافظ طلحہ سعید،محمد یعقوب شیخ و دیگر کا خطاب
    ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیس ایجوکیشن پنجاب ،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن کی شرکت

    گورنمنٹ جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ مریدکے کے زیرِ اہتمام تقریبِ صحیح بخاری سے جید علما کرام،مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امام بخاری رحمہ اللہ کے علمی ورثے کو دنیا بھر میں عام کریں گے اور اپنے طلباء کو جدید دور کے چیلنجز کے لیے تیار کریں گے،وطن عزیز پاکستان کو سیاسی و مذہبی فرقہ واریت سے نکالنے کا ذریعہ رسول اللہ کی سیرت کی تعلیمات کی طرف رجوع ہے، آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت ایسے علماء اور مشائخ کی ہے جن کی زندگی تقویٰ، علم و حکمت، امانت و دیانت اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی عملی تصویر ہو،دینی مدارس وطن عزیز پاکستان کے محافظ ہیں،

    ان خیالات کا اظہار سیکرٹری جنرل مرکزی مسلم لیگ پروفیسر سیف اللہ قصوری ،نائب صدر مرکزی مسلم لیگ پروفیسر طلحہ سعید ،حافظ عبد الرؤف ،ڈائریکٹر، ڈائریکٹوریٹ آف ریلیجیس ایجوکیشن پنجاب محبوب احمد،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شیخوپورہ میاں نذیر احمد ، چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن شیخوپورہ رانا نعیم عباس،اسسٹنٹ کمشنر مریدکے توصیف بھٹی،جوائنٹ سیکرٹری مرکزی مسلم لیگ محمد یعقوب شیخ ،مدیر گورنمنٹ جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ مفتی عبدالرحمن عابد،ڈائریکٹر الایمان ایجوکیشن کمپلیکس مفتی یوسف طیبی،سرپرست اعلیٰ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن مفتی عبداللطیف،ناظم اعلیٰ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن مفتی احسان الحق شہبازو دیگر نے تقریب صحیح بخاری سے خطاب کرتے ہوئے کیا. تقریب میں علماء کرام، جامعہ کے اساتذہ ،طلبہ کی کثیر تعداد شریک ہوئی،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ جامعہ الدعوۃ الاسلامیہ کا آغاز کرنے والے حافظ عبدالسلام بن محمد پر اللہ اپنی رحمت فرمائے اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اکٹھا کرے۔یہ جامعہ دین کی خدمت، تربیت اور تعلیم کا کارواں ہے، جو ہمیشہ آگے بڑھتا رہے گا۔ حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی بجائے ہمیں امام بخاری رحمہ اللہ کے طرز عمل کو اپنانا ہوگا، جو اعتدال، تحقیق اور علم کی روشنی سے بھرپور ہے۔ تمام مکاتب فکر میں صحیح بخاری کو جو مقام حاصل ہے اس کی روشنی میں ہمیں امت مسلمہ کی فکری رہنمائی کرنی چاہیے،حافظ عبد الرؤف ، محمد یعقوب شیخ ، مفتی عبدالرحمن عابد،مفتی یوسف طیبی، مفتی عبداللطیف، مفتی احسان الحق شہبازو دیگر کا کہنا تھاکہ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں فتنوں نے فرد اور معاشرے دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، یہ فتنے ایمان و عمل کو کمزور کرتے اور معاشرے میں فساد و انتشار پیدا کرتے ہیں،اخلاقی سطح پر بے حیائی، فحاشی اور عریانی کو عام کیا جا رہا ہے، جس سے خاندانی نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے،سیاسی سطح پر فتنہ انگیزی، بغاوت اور تکفیر امت کو مزید تقسیم کر رہی ہے ، اگر ہم ان فتنوں سے بچنا چاہتے ہیں تو ہمیں دین کے صحیح علم اور اس پر عمل کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، سنتِ نبوی ﷺ سے مضبوط تعلق قائم کرنا ہوگا،

  • ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ میرا،کسی نے قائل نہیں کیا،ٹرمپ

    ایران پر حملہ نہ کرنے کا فیصلہ میرا،کسی نے قائل نہیں کیا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے انہیں ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل نہیں کیا۔

    وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ کیا عرب اور اسرائیلی حکام نے آپ کو ایران پر حملہ نہ کرنے کے لیے قائل کیا؟اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ کسی نے مجھے قائل نہیں کیا، میں نے خود اپنے آپ کو قائل کیا،گزشتہ روز ایران میں 800 افراد کو پھانسی دی جانی تھی لیکن کسی کو پھانسی نہیں دی گئی، اس کا بہت بڑا اثر پڑا۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پوسٹ میں ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ کل جن افراد کو پھانسیاں دی جانی تھیں اب ایرانی قیادت انہیں پھانسی نہیں دے گی۔

    گزشتہ روز امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران پر ممکنہ امریکی فوجی حملہ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی،رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو نے بدھ کے روز صدر ٹرمپ سے بات کی، اسی روز امریکی صدر نے یہ بیان دیا کہ انہیں دوسری جانب سے انتہائی اہم ذرائع سے معلومات ملی ہیں جن کے مطابق ایران میں مظاہرین کی ہلاکتیں رک گئی ہیں اور مظاہرین کی سزائے موت پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا۔ اس سے قبل برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ آخری لمحوں میں تبدیل کیا،دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی خلیجی ملکوں کی سفارتی کوششوں کے باعث عمل میں آئی۔ سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے ہنگامی مذاکرات کیے اور ٹرمپ کو فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر یہ کہہ کر آمادہ کیا کہ تہران کو اپنے ‘اچھے عمل’ کا مظاہرہ کرنےکا موقع دینا چاہیے۔

  • جہاں آبادی نام کی چیز نہیں، وہاں پر بھی انٹرنیٹ ٹاورز لگے،کیوں؟وزیراعلیٰ بلوچستان

    جہاں آبادی نام کی چیز نہیں، وہاں پر بھی انٹرنیٹ ٹاورز لگے،کیوں؟وزیراعلیٰ بلوچستان

    وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے بہت سارے علاقوں میں انٹرنیٹ کے لیے کھمبے لگے ہوئے ہیں، یہ کس کے فنڈ سے لگے ہیں؟ کیوں لگے ہیں؟ جہاں آبادی نام کی چیز نہیں، وہاں پر بھی انٹرنیٹ ٹاورز لگے ہوئے ہیں، اس کے پیچھے کوئی دماغ ہے ، یہ سارے وہ ٹولز ہیں جو ریاست کے خلاف استعمال کیے گئے۔

    کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز بگٹی کا کہنا تھاکہ تین ارب روپے لگاکربلوچستان کے تمام اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور اسپتالوں میں فائبرکیبل بچھا رہے ہیں، بلوچستان میں اس کے ذریعے انٹرنیٹ فراہم کریں گے تاکہ پتا چل سکے کہ اس انٹرنیٹ کا استعمال کیا ہے۔ بلوچستان کے بہت سارے علاقوں میں انٹرنیٹ کیلئے کھمبے لگے ہوئے ہیں اورکس کے فنڈ سے لگے ہیں؟ کہاں سے لگے ہیں کیوں لگے ہیں؟ حیران ہوتا ہوں سانگان جیسے علاقے جہاں آبادی نام کی چیز نہیں وہاں پربھی انٹرنیٹ ٹاور لگے ہوئے ہیں،ہیلی کاپٹرپرجارہا ہوتا ہوں تو ان علاقوں میں 4 جی سروسز چل رہی ہوتی ہیں، ایسا کیوں ہے؟ اس کے پیچھے کوئی دماغ ہے یہ سارے وہ ٹولز ہیں جو ریاست کے خلاف استعمال کیے گئے۔

  • باغی ٹی وی کے اینکر زین العابدین شاہ کے اعزاز میں لاہور میں تقریب،ایوارڈ سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی کے اینکر زین العابدین شاہ کے اعزاز میں لاہور میں تقریب،ایوارڈ سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی سے شہرت حاصل کرنے والے، پاکستان میں کم عمری میں سب سے زیادہ پارلیمنٹیرینز کے انٹرویوز کرنے والے معروف نوجوان صحافی اور اینکر پرسن زین العابدین شاہ لندن سے پاکستان آئے،ان کی پاکستان آمد کے موقع پر لاہور کے معروف کیفیو کیفے جیل روڈ میں ایک پرتکلف ڈنر کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب کا اہتمام معروف بزنس مین اور زین العابدین شاہ کے قریبی دوست عبداللہ نے کیا، جبکہ گیسٹ کوآرڈینیشن کے فرائض معروف اینکر پرسن اور قاسم علی شاہ فاؤنڈیشن سے وابستہ اے آر ماڈھا نے انجام دیے۔دیار عشق کی اقرا ء پارس بھی منتظمین میں شامل تھیں جو معزز مہمانوں کے استقبال سے لے کر آخر تک تقریب میں متحرک رہیں، اس موقع پر ملکی میڈیا کے نامور اور ابھرتے ہوئے صحافیوں نے شرکت کر کے تقریب کو چار چاند لگا دیے،زین العابدین شاہ نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز لاہور سے کیا اور بعد ازاں لندن منتقل ہوئے، تاہم بیرونِ ملک قیام کے باوجود وہ صحافت سے مسلسل وابستہ رہے۔ اس وقت وہ لندن میں ایک نجی چینل کے مارننگ شو کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستانی صحافت کا نام روشن کر رہے ہیں۔

    زین العابدین شاہ کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں سینئر صحافی و اینکر پرسن عمر دراز گوندل، محمد شعیب،حمزہ علی، میمونہ چیمہ، شاکر اعوان، شہزاد روشن گیلانی، سلمان خان،عظیم بٹ، اعظم اعظم، ڈاکٹر ثمر عباس، احتشام اللہ بحلیم، فرحان خان، تحریم قاضی، اومان، چوہدری نعمان، نبیل رشید، احسن ظفر، راشد اکرم، اقرا آغا، خرم ملک, میاں طیب سولہری،مزمل حسین سیالوی، طارق بن نواز ،توقیر کھرل،ذیشان المانی،رانا مزمل حسین،رائے حیدر کھرل،احسن قاسم،سمیت میڈیا سے وابستہ دیگر نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

    تقریب کے دوران باغی ٹی وی کی 14ویں سالگرہ کے موقع پر زین العابدین شاہ کی شاندار صحافتی خدمات اور بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ایڈیٹر باغی ٹی وی ممتاز اعوان کی جانب سے انہیں اعزازی ایوارڈ بھی پیش کیا گیا،

    اس موقع پر زین العابدین شاہ نے مختصر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا صحافتی سفر باغی ٹی وی سے شروع ہوا اور آج بھی اسی ادارے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں دوستوں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں چند روز کے لیے آمد پر، خاص طور پر لاہور میں جس محبت اور خلوص کے ساتھ دوستوں نے استقبال کیا، وہ ان کے لیے باعثِ فخر اور خوشی ہے۔ انہوں نے تقریب کے منتظمین اور تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔تقریب کے اختتام پرشرکا کے لئے پرتکلف کھانے کا انتظام کیا گیا تھا، فوٹو سیشن کے ساتھ ساتھ کیک بھی کاٹا گیا،

  • پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ

    پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی جیل آمد، عمران خان کا طبی معائنہ

    راولپنڈی: پمز اسپتال کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نے اڈیالا جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق طبی معائنے کے لیے پمز اسپتال کے ڈاکٹرز کی تین رکنی ٹیم اڈیالا جیل پہنچی، جس نے مقررہ وقت پر معائنہ مکمل کیا۔جیل ذرائع کے مطابق ڈاکٹرز کی ٹیم میں ڈاکٹر ذوالفقار، ڈاکٹر عارف اور ڈاکٹر عاصل شامل تھے۔ ٹیم میں شامل ماہرین نے عمران خان کی مجموعی صحت کا جائزہ لیا، جب کہ آنکھوں اور دانتوں کا خصوصی معائنہ بھی کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم میں شامل جنرل فزیشن نے بانی پی ٹی آئی کا مکمل طبی معائنہ کیا اور مختلف پہلوؤں سے صحت کی صورتحال کا جائزہ لیا۔

    ذرائع کے مطابق معائنے کے دوران ڈاکٹرز نے عمران خان کو بعض ادویات تجویز کی ہیں، جنہیں باقاعدگی سے استعمال کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ڈاکٹرز کی ٹیم نے معائنے کے بعد اپنی ابتدائی سفارشات مرتب کر لیں، جب کہ تفصیلی میڈیکل رپورٹ جیل انتظامیہ کو ارسال کی جائے گی.

  • دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،وزیراعظم

    دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک سے غربت، بے روزگاری کے خاتمے ، قرضوں سے نجات حاصل کرنے اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے نہ تھی،ملک میں دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے، خوارج ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے،ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں وسائل پہنچ رہے ہیں،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ،تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے طریقوں سے عبادت اور تہوار منانے کا پورا حق ہے، اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو جو وسائل عطا کئے ہیں وہ شاید ہی کسی ملک کے پاس ہوں،وسائل کو اگر استعما ل کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے،معرکہ حق میں افواج پاکستان نے دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو رہتی دنیا تک نہیں بھولے گا

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پروفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطا اللہ تارڑ،وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اوردیگر حکام بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی کے ارکان کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتا ہوں یہ انتہائی خوش آئندبات ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی ایک ایسا کردار ادا کرنے جا رہی ہے جس کی اس وقت بہت ضرورت ہے، مملکت خداداد پاکستان بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی عظیم تحریک کے نتیجے میں لاکھوں مسلمانوں کی قربانیوں کے بعد وجود میں آئی،تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا، تحریک پاکستان میں زندگی کے ہر شعبے کے کروڑوں مسلمانوں اور اقلیتی برادری نے حصہ ڈالا،سیسل چوہدری ،سپریم کورٹ کے سابق جج رانا بھگوان داس اور اقلیتی برادری کے دیگر ارکان کی پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں کے لیے بڑی خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے کا مقصد ایسا خطے کا حصول تھا جہاں اسلام کا بول بالا ہو،پاکستان میں تمام مذاہب کو اپنے طریقوں سے عبادت کرنے اور تہوار منانے کا حق ہے،ہر پاکستانی کو اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے پر اپنا مقام پیدا کرنے کا حق ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان ترقی اور خوشحالی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے، قیام پاکستان میں علماء کرام کا بھی بہت اہم کردار تھا، اللہ تعالی نے پاکستان کو وہ تمام وسائل عطا کیے ہیں جو شاید ہی کسی دوسرے ملک کے پاس ہوں، اللہ تعالی نے ہمیں کھربوں ڈالر کے قدرتی وسائل عطا کر رکھے ہیں جن کو ہم استعمال کریں تو ہمارے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے، پاکستان کو صحیح معنوں میں رفاحی مملکت بنائیں گے، قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے ،غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ کرنا ہے، یہ کام مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، اس کےلئے وہ طریقے اور اسلوب اختیار کرنے ہوں گے جن کے لیے پاکستان معرض وجود میں آیا تھا ۔

    وزیراعظم نے کہا کہ مئی 2025 میں معرکہ حق میں افواج پاکستان نے ہندوستان کو شکست فاش دی اور ایک ایسا سبق سکھایا جسے وہ رہتی دنیا تک بھلا نہیں پائے گا،یہ فتح اللہ تعالی کی نصرت اور اس کی کمال مہربانی اور افواج پاکستان کی جرأت، اعلی ترین تربیت ، بہترین ٹیکنالوجی اور 24کروڑ عوام کی دعاؤں کا نتیجہ ہے،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں معر کہ حق میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح سے نواز جس پر اللہ کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آج سب سے بڑا چیلنج دہشتگردی ہے،وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک لاکھ پاکستانی شہید ہو چکے ہیں جن میں عام شہری، مائیں، بہنیں، بچے، ڈاکٹر، انجینئرز، تاجر اور چاروں صوبوں کے باسی شامل ہیں۔ انہوں نے اپنے خون سے ملک کی آبیاری کی ہے، افواج پاکستان، پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کےکے ہزاروں افسر اور جوان بھی شہید ہوئے ہیں،انہوں نے قربانیاں دے کر نہ صرف دہشت گردی کا خاتمہ کیا بلکہ دیگر ممالک کو بھی بچایا ،آج دہشت گردی کے ناسور نے دوبارہ سر اٹھایا ہے ،خوارج ،ٹی ٹی پی اورٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ ہے ، ہمارے دشمنوں کے ذریعے انہیں ہر طرح کے وسائل پہنچ رہے ہیں ،جس طرح 2018 میں دہشت گردی کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا تھا مجھے مکمل یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی دہشتگردی کا سر کچلا جائے گا،دہشت گردی کو پاکستان کی سرحدوں سے اٹھا کر بحر ہند میں ڈبو دیں گے ۔وزیراعظم نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام شامل ہیں ،اللہ تعالی اس کمیٹی کو کامیابیاں عطا کرے،اسلام کا اعلیٰ و ارفع پیغام صوبوں میں پہنچائیں ،تدبر، فہم و فراست ،بردباری اور حوصلے کے ساتھ معاملات کو آگے لے کر چلنا ہے۔معاملات کو مل بیٹھ کر طے کرنے کی ضرورت ہے۔ق

    ومی پیغام امن کمیٹی کے کنوینر مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جس اعتماد کا اظہار وزیراعظم نے کیا ہے ہم اس پر پورا اترنے کی کوشش کریں گے، پشاور میں خیبرپختونخوا کے گورنر کے ساتھ تفصیلی ملاقات کے بعد یہ طے ہوا ہے کہ خیبر پختونخواکے تمام علماء کرام کی دو روزہ علماء مشائخ کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشاورت سے فیصلے کئے جائیں گے اوران کے تمام تحفظات کو دور کیا جائے گا،کمیٹی کے اراکین صوبے کے تمام علاقوں کا دورہ کریں گے ،پاک فوج کے جوانوں اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ وقت گزاریں گے اور بیانیہ کی جنگ میں صف اول کا کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مؤقف واضح ہے کہ پاکستان کا امن ہر چیز سے زیادہ عزیز ہے، اس وقت مدارس کے 15 میں سے 11 بورڈز کے ارکان یہاں موجود ہیں ،جن حالات میں پیغام امن کمیٹی کی تشکیل ہوئی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے پاکستان میں امن کی کوششوں کو استحکام ملے گا،علماء اور مفکرین کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے،علماء نظریاتی محاذ کو مستحکم کر رہے ہیں، 2018 میں مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے ہی پیغام پاکستان کا اجراء کیا تھا، جس کو ہم آگے لے کر چل رہے ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن کے قیام کے لیے کوششیں کامیاب رہیں گی،قومی پیغام امن کمیٹی میں اقلیتی برادری کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔

    جامعۃ الرشید کے مہتمم مولانا مفتی عبدالرحیم نے کہا کہ ریاست پاکستان اور حکومت کی طرف سے مضبوط قومی بیانیہ عوام تک جانا چاہیےجو سہولت کاری بھی ہو رہی ہے چاہے وہ سیاسی، مذہبی سطح پر ہویا تعلیمی اداروں کی طرف سے ہو اس کا خاتمہ ضروری ہے،شکوک و شبہات کا خاتمہ ضروری ہے،امن کمیٹی امن کا پیغام لے کر ہر جگہ پہنچے گی۔علامہ عارف حسین واحدی نے کہا کہ امن اور محبت کا پیغام عام کرنے کے لیے کمیٹی کی تشکیل انتہائی اہمیت کی حامل ہے، پاکستان اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے ،کبھی شر پسند اور منفی ذہنیت رکھنے والے اس کو نقصان نہیں پہنچا سکیں گے،خوارج کا دین اسلام سے تعلق ہے نہ ہی وہ پاکستان کے خیرخواہ ہیں، وہ ملک کا امن تباہ کر رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، اتحاد امت کے لیے ہم سب مل کر کوشش کر رہے ہیں، اندرونی و بیرونی تمام سازشوں کے سامنے مل کر کھڑے ہوں گے اور ملک کو امن کا گہوارہ بنانے میں حکومت کا ساتھ دیں گے۔

    علامہ محمد حسین اکبر نے کہا کہ فتنہ والخوارج اور فتنہ ا لہندوستان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے یہ کمیٹی بھرپور سرگرمی سے کام کرے گی، اس کمیٹی میں تمام مذاہب کے نمائندے شامل ہیں اور یہ قومی وحدت کا مظہر ہے،پیغام پاکستان کو نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔علامہ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ پاکستان اپنی تاریخ میں اس وقت بلند ترین مقام پہ کھڑا ہے، سیاسی اور عسکری قیادت کا ملک کی ترقی کے لیے مؤقف ایک ہے ، ہم نے پیغام دے دیا ہے کہ علماء پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔علامہ راغب نعیمی نے کہا کہ علمائے کرام پاک فوج کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،ملک میں قیام امن اور یکجہتی کے فروغ کےلئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔مولانا زبیر فہیم نے کہا کہ سیاسی، دینی اور عسکری قیادت جب مل کر کام کرے گی تو یہ ملک امن کا گہوارہ بنے گا۔

    مفتی محمد یوسف خان نے کہا کہ اللہ تعالی نے پاکستان کو معرکہ حق میں بڑی کامیابیوں سے ہمکنار کیا ہے،قومی پیغام امن کمیٹی اپنی ذمہ داری ادا کرے گی۔علامہ محمد آصف اکبر نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے بڑا مسئلہ فکری دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے، پاکستان کے امن کے لیے علماء کرام ،سیاسی وعسکری قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، ہم اپنے مدارس میں پیغام پاکستان کو بطور نصاب پڑھا رہے ہیں۔مولانا محمد عادل عطاری نے کہا کہ ہم سب مل کر وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا ساتھ دیں گے، معرکہ حق کے بعد پاکستان کی دنیا میں عزت میں اضافہ ہوا ہے، امن کمیٹی کے قیام سے انتہا پسند عناصر کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے۔ہندو کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے راجیش کمار نے کہا کہ پاکستان میں ہندو برادری خوشی اور خوشحالی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے ،ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ اس دھرتی ماں کی حفاظت رواداری، امن وآشتی کے فروغ کے لیے کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے،ہندو برادری ملک کے دفاع کے لیے افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے، پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔

    مسیحی برادری کے نمائندگی کرتے ہوئے بشپ آزاد مارشل نے کہا کہ ہم ایسا بیانیہ بنانے میں کامیاب ہوں گےجس سے امن کا پیغام پھیلے گا۔مولانا طیب پنج پیری نے کہا کہ وزیراعظم نے ملک اقتصادی ترقی کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے، امن کی کوششوں میں ہم وزیراعظم کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔مولانا محمد توقیر عباس نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے علماءکرام حکومت کے ساتھ ہیں، سکیورٹی ادارے وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں، نظریاتی سرحدوں کی حفاظت علماء کی ذمہ داری ہے ، یہ کمیٹی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے دہشت گردی پھیلانے والے عناصر کو ناکام بنائے گی۔

    ڈائریکٹر جنرل مذہبی تعلیمات ڈاکٹر غلام قمر نے کہا کہ ملک میں 36 ہزار مدارس ہیں رجسٹرڈ مدار س میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جارہی ہے اور بچوں کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جارہی ہےتاکہ وہ جب مدارس سے فارغ ہوں تو انہیں روزگار کے اچھے مواقع میسر آسکیں۔ انہوں نےکہا کہ اساتذہ کی بھی جدید خطوط پر تربیت کی جارہی ہے، کچھ حلقوں کی طرف سے غلط پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ مدارس میں درس نظامی کی تعلیم کو متاثرکیا جارہا ہے ، نہ ہم ایسا کررہے ہیں نہ ہی کیا جائے گا۔

  • پارٹی کاوائس چئیرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا،شاہ محمود قریشی

    پارٹی کاوائس چئیرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا،شاہ محمود قریشی

    پی ٹی آئی کےوائس چئیرمین شاہ محمود قریشی نے عدالت میں نجی ٹی وی کے نمائندہ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اللہ کرے 2026 پاکستان کےلیے بہتر کرے، پاکستان کی خیر کرے،اللہ پاکستان کو اندرونی،بیرونی خطرات سے محفوظ رکھے

    صحافی نے سوال کیا کہ کیا آپ فوادچوہدری کی نینشل ڈائیلاگ کمیٹی کا ساتھ دینگے؟جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں پارٹی کاوائس چئیرمین ہوں،پارٹی پالیسی سےنہیں ہٹ سکتا،یہ سوچناہوگاکہ آخر اس سیاسی کشمکش کا حل کیا ہے؟مزاحمت کےبعد تومفاہمت ہی ہوتی ہے،گفتگو سے ہی ملک آگے بڑھ سکتا ہے،مذاکرات کااختیاربانی نے محمودخان اچکزئی کودیا ہوا ہے،ہم توجیلوں میں پڑے ہیں ہمارے پاس معلومات کم آتی ہیں ،محمودخان اچکزئی بہتر فیصلہ کرسکتے ہیں کہ کیاکرناہے؟فوادچوہدری اورمیں ایک پارٹی میں رہے ہیں ،میں اسپتال تھا وہ میری عیادت کےلیے ملنے آئے تھے،اب اگرکوئی گھر مہمان آئے توان سے کیا کہوں کہ کہ آپ کیوں آئے ہو؟

  • اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر وزرا سمیت اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل

    اثاثوں کی تفصیلات جمع نہ کرانے پر وزرا سمیت اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثوں اور مالی واجبات کی تفصیلات مقررہ وقت میں جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے متعدد اراکین کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق قومی اسمبلی کے 32 اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے، جب کہ پنجاب اسمبلی کے 50 اور سندھ اسمبلی کے 33 اراکین کو بھی رکنیت کی معطلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ معطل کیے گئے تمام اراکین نے تاحال اپنے اثاثوں اور واجبات کی سالانہ تفصیلات جمع نہیں کروائیں، جو آئین اور انتخابی قوانین کے تحت لازم ہے۔اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب تک متعلقہ اراکین اپنی مکمل اور درست اثاثہ جات کی تفصیلات جمع نہیں کراتے، وہ نہ تو اسمبلی اجلاس میں شرکت کر سکیں گے اور نہ ہی ووٹنگ یا کسی پارلیمانی کارروائی کا حصہ بن سکیں گے۔ الیکشن کمیشن نے اس اقدام کو شفافیت اور احتساب کے عمل کو یقینی بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

    معطل اراکین قومی اسمبلی میں اہم سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں، جن میں وفاقی وزیر خالد مقبول صدیقی، سید علی موسیٰ گیلانی اور سید عبدالقادر گیلانی کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح پنجاب اسمبلی کے جن اراکین کی رکنیت معطل کی گئی ہے، ان میں رانا سکندر حیات، عدنان ڈوگر اور عامر حیات ہراج شامل ہیں، جب کہ سندھ اسمبلی کے معطل اراکین میں صوبائی وزیر سعید غنی بھی شامل ہیں۔

  • محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر

    محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر

    اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئینِ پاکستان کے سینئر رہنما اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں باضابطہ طور پر قائد حزب اختلاف مقرر کر دیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے بعد محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا منصب سنبھال لیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اسمبلی بزنس رولز کے تحت اپوزیشن لیڈر کی تقرری 16 جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگی۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام آئینی اور پارلیمانی تقاضے پورے کرنے کے بعد یہ تقرری عمل میں لائی گئی، جس کے بعد محمود خان اچکزئی ایوان میں اپوزیشن کی نمائندگی کریں گے۔

    قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ اس وقت خالی ہوا تھا جب 9 مئی کے کیس میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان کی نااہلی سامنے آئی۔ ان کی نااہلی کے بعد اپوزیشن اتحاد میں مشاورت کا عمل شروع ہوا، جس کے نتیجے میں محمود خان اچکزئی کے نام پر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی جانب سے اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس نامزدگی کو اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت اور دیگر اتحادی جماعتوں کی تائید حاصل رہی، جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا۔