Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ کے بیٹے اوربیٹی کو بھی سنائی سزا

    بنگلہ دیش کی عدالت نے حسینہ کے بیٹے اوربیٹی کو بھی سنائی سزا

    بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے خلاف بدعنوانی کے تین مقدمات میں ڈھاکہ کی خصوصی عدالت نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنا دی۔یہ فیصلہ پرباچل نیو سٹی پروجیکٹ میں 30 کٹھا سرکاری اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے معاملات سے متعلق ہے

    یہ فیصلہ خصوصی جج-5 محمد عبداللہ المامون نے سنایا، جس کے مطابق شیخ حسینہ کو زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کے تین الگ معاملات میں ہر مقدمے میں سات، سات سال قید کی سزا دی گئی ہے۔فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب حسینہ سنگین الزامات کے باعث ملک سے فرار ہیں.شیخ حسینہ،جو اس وقت بنگلہ دیش چھوڑ کر بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں ان پر نہ صرف بدعنوانی بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مقدمات بھی چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف مذکورہ تینوں مقدمات میں الزام تھا کہ انہوں نے ڈھاکہ کے پورباچل علاقے میں سرکاری اراضی اپنے خاندان کے نام غیر قانونی طور پر الاٹ کرائی۔انہی تین مقدمات میں عدالت نے شیخ حسینہ کے بیٹے صجیب واجد جوئے اور بیٹی صائمہ واجد پُتول کو بھی مجرم قرار دیا ہے۔

    صجیب واجد کو پانچ سال قید اور ایک لاکھ ٹکا جرمانہ،صائمہ واجد کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی،عدالت کا کہنا تھا کہ دونوں نے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں براہ راست فائدہ حاصل کیا۔یہ مقدمات انسدادِ بدعنوانی کمیشن (ACC) کی اس تحقیقات کا حصہ ہیں جو جنوری 2024 میں کھولی گئی تھیں۔ حسینہ خاندان نے ہمیشہ ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیا ہے۔

    ڈھاکہ عدالت کے مطابق شیخ حسینہ کے خلاف مزید تین بدعنوانی کیسز کے فیصلے یکم دسمبر کو سنائے جائیں گے۔ تمام مقدمات میں سزا کی صورت میں مجموعی قید مدت مزید بڑھ سکتی ہے۔قبل ازیں انٹرنیشنل کرائم ٹریبونل (ICT) نے شیخ حسینہ کو جولائی 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران مبینہ ریاستی جبر اور تشدد کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں پر انسانیت مخالف جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی تھی۔عدالت کے مطابق اس دوران حکومتی کارروائیوں میں متعدد طلبا اور شہریوں کی جانیں گئیں، جبکہ حسینہ حکومت نے احتجاج دبانے کے لیے طاقت کا "غیر قانونی، غیر انسانی استعمال” کیا۔

    شیخ حسینہ اور ان کا خاندان ملک چھوڑنے کے بعد سے کسی بھی مقدمے میں عدالتوں میں پیش نہیں ہو رہا۔ ان کی قانونی ٹیم بھی غیر فعال ہے، جس کے باعث مقدمات یکطرفہ کارروائی کے طور پر آگے بڑھ رہے ہیں۔

  • وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ چل بسیں

    وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر اختیار ولی خان کی والدہ چل بسیں

    وزیر اعظم پاکستان کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و خیبر پختونخوا امور اختیار ولی خان کی والدہ وفات پا گئی ہیں۔

    اختیار ولی خان کی والدہ علیل تھیں اور زیر علاج تھیں،ان کی نمازجنازہ آج بروز جمعرات رات 08:00 بجے، نوخار ہاؤس کابل ریور، نوشہرہ میں ادا کی جائے گی۔

    اختیار ولی کی والدہ کی وفات پر وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، وزیر دفاع خواجہ آصف، احسن اقبال سمیت دیگر ن لیگی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے، مرحومہ کے لیے دعائے مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم کی بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت

    وزیراعظم شہبازشریف نے بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے ہر ممکن سہولیات دینے کا اعلان کیا ہے۔

    بحرین کے دارالحکومت منامہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بحرین اور پاکستان برادر ملک ہیں، ہماری اسٹریٹیجک شراکت داری کئی برسوں سے قائم ہے، بحرین کے دورے کا مقصد اقتصادی شعبوں میں نئی پیشرفت ہے، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، فن ٹیک اور دیگر شعبوں میں تعاون ضروری ہے، بحرین میں پاکستانیوں نے ثابت کیا ہے کہ شناخت سرحدوں میں نہیں دنیا کے ہر گوشے میں زندہ ہے، بحرین سے پاکستانیوں نے گزشتہ مالی سال میں 484 ملین ڈالر کی ترسیلات زر بھیجی، بحرین میں اعلیٰ قیادت کا پاکستانیوں کے لیے محبت اور تعاون پر دل سے شکرگزار ہوں، پاکستانی کیمونٹی سے درخواست ہے کہ وہ بحرین کے لیے بھی بہترین سفیر بنیں، بحرین مالیاتی ترقی، انسانی مرکزیت اور جدید معیشت کا روشن نمونہ ہے، پاکستان بحرین کی ترقی کے سفر سے سیکھنا چاہتا ہے اور بھرپور تعاون کا خواہاں ہے، پاکستان کے پاس افرادی قوت، وسائل، ابھرتی منڈی اور اسٹریٹیجک محل وقوع ہے جب کہ بحرین کے پاس مالیاتی مہارت اور عالمی تجربہ ہے، پاکستان اور بحرین مل کر عظیم کامیابیاں حاصل کرسکتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان معاشی اصلاحات اور نجی شعبے کی قیادت میں ترقی کے نئے دور میں داخل ہورہا ہے، میں بحرین کے سرمایہ کاروں کو پاکستان آنے کی دعوت دیتا ہوں، سرمایہ کار پاکستان آئیں، ہمارے ساتھ شراکت داری کریں، بحرینی کاروباری برادری کےساتھ نئی، دیرپا اوربامعنی اقتصادی راہیں کھولنےکیلئےتیار ہیں، ہم سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور کاروباری تعاون کیلئے ہرممکن سہولت فراہم کریں گے،پاکستان کے پاس نوجوانوں کی بڑی طاقت ہے، ہماری 60 فیصد آبادی 15 سے 30 سال کے درمیان ہے اور یہ نوجوان آبادی ایک چیلنج ہے، ایک بڑی نعمت اور موقع بھی ہے، نوجوانوں کو آئی ٹی، اے آئی، فنی تربیت اور جدید مہارتوں سے آراستہ کررہے ہیں، بحرین کے کاروباری اداروں کے ساتھ ملکر نئی راہیں کھول سکتے ہیں،پاکستان اور جی سی سی کا فری ٹریڈ معاہدہ حتمی مراحل میں ہے جو تعلقات کو نئی بلندی دے گا۔

  • بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ

    بھارتی وزیر دفاع کی گیڈر بھبکی کیخلاف سکھ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے

    بھارتی جبر و استبداد کا شکار سکھوں نےپاکستان کیخلاف دہشت گرد مودی کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ،سکھ رہنماؤں نےسکھ فوجیوں سے سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہونے کی ہدایت کر دی،سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” کا بھارت کیخلاف سکھوں کی پاک فوج میں کھلی بھرتی کا مطالبہ سامنے آیا ہے،سکھ فار جسٹس نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھارتی مقبوضہ پنجاب کے سکھ رضاکاروں کو پاک فوج میں شمولیت کی دعوت دینے کی درخواست کر دی

    سکھ فار جسٹس کے سربراہ گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیر دفاع کی سندھ پر قبضے کی کھلی دھمکی کے پیشِ نظر پاکستان کو فوری سکھوں کیلئے خصوصی بھرتی کاراستہ کھولنا ہوگا،پاکستان سکھوں کیلئے بھرتی کا راستہ کھولے تاکہ وہ سندھ کے دفاع کیلئے پاک فوج میں شامل ہو سکیں،*سکھوں کی سب سے بڑی تحریک "سکھ فار جسٹس ” نے درخواست دی کہ؛سکھ رضاکاروں کی خصوصی فہرست اور ایک وقف سکھ دفاعی یونٹ کی تشکیل کی جائے،سکھ رضا کاروں کے اس یونٹ کی تعیناتی خاص طور پر سندھ کے دفاع کے لیے کی جائے ،جیسے ہی پاکستان اندراج کاپروٹوکول جاری کرے گا دنیا بھر میں ہزاروں سکھ رضاکار شامل ہونے کیلئے تیار ہیں ہم اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی قوانین کی بنیاد پر مضبوط مؤقف رکھتے ہیں ، عالمی قوانین کے تحت فوجیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ضمیر یا اخلاقی وجوہات کی بنا پر کسی جنگ میں حصہ لینے سے انکار کر سکتے ہیں،

    دنیا پاکستان کے مضبوط مؤقف اور بھارتی جارحیت کیخلاف اپنی مکمل حمایت کا اظہار کر رہے ہیں ،بھارتی جنگی سیاست اور دہشت گردی کے فروغ کے منصوبے کیخلاف دنیا پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے

  • بھارتی  وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ سندھ

    بھارتی وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی گیدڑ بھپکیاں کبھی کامیاب نہیں ہوں گی، بھارت کو بدترین شکست دلانے والے وزیر دفاع کا بیان کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے۔

    سندھ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہ کوئی سندھ کو پاکستان سے الگ کر سکتا ہے اور نہ ہی جغرافیہ بدل سکتا ہے، سندھ متحد اور پاکستان کے ساتھ رہے گا، بھارتی وزیر دفاع کے بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، ان کی یہ بوکھلاہٹ 9 مئی کے بعد شروع ہوئی،سندھ اسمبلی نے پاکستان بنانے کی قرارداد پاس کی، اس قرارداد میں بڑی تفصیل سے ماضی اور حال پر بات کی گئی ہے، 624 بی سی کے نقشے میں سندھ کا نقشہ تھا، سندھ کے مسلمانوں اور ہندؤں نے ساتھ مل کر جدوجہد کی تھی، 1947 میں ہمارا ملک بنا، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں سندھو دریا میں یا تو پانی بہے گا یا مودی تمہاری خون بہے گا، ہم سندھو دریا کا ہر قیمت پر تحفظ کریں گے، ہماری فورسز بھارت کو جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں،

  • ٹک ٹاک نے  شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک نے شفافیت کیلئے جدید اے آئی کنٹرولز اور تعلیمی ٹولز لانچ کر دیے

    ٹک ٹاک (TikTok) نے ایسی کئی نئی اپ ڈیٹس متعارف کی ہیں جن کا مقصد لوگوں کو پلیٹ فارم پر اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو بہتر طور پر پہچاننے،سمجھنے اور اپنی پسند کے مطابق کنٹرول کرنے میں مدد دینا ہے۔ ٹک ٹاک کا کہنا ہے کہ اے آئی کو اگر ذمہ داری اور شفافیت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتی ہے، دریافت کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے، اور تحفظ میں اضافہ کر سکتی ہے۔ یہ اپ ڈیٹس کمیونٹی کو زیادہ واضح معلومات اور مزید اختیارات فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہیں تاکہ وہ اے آئی کے ساتھ اپنے تعامل کے حوالے سے بہتر فیصلہ کر سکیں۔

    ایک نیا کنٹرول جو اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کے لیے ہے، جلد ہی “Manage Topics” فیچر میں آزمایا جائے گا۔ اس سیٹنگ کے ذریعے صارفین یہ طے کر سکیں گے کہ ان کی For You فیڈ میں اے آئی سے بنایا گیا کانٹینٹ کس حد تک دکھائی دے۔جو لوگ اے آئی سے تخلیق کردہ کہانیوں یا تعلیمی ویڈیوز سے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں، وہ اس طرح کے کنٹنٹ کی مقدار بڑھا سکیں گے، جبکہ وہ صارفین جو کم دیکھنا چاہتے ہیں، اسے کم کر سکیں گے۔ یہ ٹول افراد کو ،ٹک ٹاک کو منفرد بنانے والے تخلیقی تنوع کو محدود کیے بغیر،اپنی فیڈ کواپنی پسند کے مطابق ڈھالنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ یہ کنٹرول، اُن ٹولز کے مجموعہ میں اضافہ کرتا ہے جو لوگوں کو کنٹنٹ کی سفارشات کو ذاتی نوعیت کا بنانے اور اپنی پسندیدہ اشیاء کو دریافت کرنے میں مدد دیتا ہے، جیسا کہ حسب ضرورت کی ورڈ فلٹرز اور ”Not interested“ بٹن۔

    شفافیت کو مزید مضبوط بنانےکی غرض سے ،ٹک ٹاک اپنے اے آئی لیبلنگ سسٹمز کو بھی بہتر بنا رہا ہے۔ پلیٹ فارم پہلے ہی متعدد ایسے طریقے استعمال کرتا ہے، جن میں کریئیٹرز کے لیبل، اے آئی ڈیٹیکشن (AI detection models)ماڈلز، اور C2PA Content Credentials شامل ہیں، تاکہ اے آئی سے تیار کردہ ویڈیوز کی نشاندہی کی جا سکے۔ اب تک 1.3 ارب سے زائد ویڈیوز کو لیبل کیا جا چکا ہے۔ ایپ اب "نظر نہ آنے والی واٹر مارکنگ(invisible watermarking) “ کے نام سے دستیاب ایک حل کا تجربہ کر رہی ہے۔

    نظر نہ آنے والے واٹر مارکس ایک مضبوط تکنیکی ”واٹر مارک“ کے ذریعے حفاظتی اقدامات کی ایک نئی پرت کا اضافہ کرتے ہیں، جسے صرف ٹک ٹاک کے سسٹمز ہی پڑھ سکتے ہیں، اور اس طرح دوسروں کے لیے انہیں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ واٹر مارکس ایڈیٹنگ یا ری پوسٹنگ کے بعد بھی برقرار رہتے ہیں، جس سے AI لیبلنگ مزید قابلِ اعتماد اور پائیدار ہو جاتی ہے۔ آنے والے چند ہفتوں میں، ٹک ٹاک اپنے ٹولزمثلاً AI Editor Proکے ذریعے بنائے گئے اے آئی کانٹینٹ اور C2PA Content Credentials کے ساتھ اپ لوڈ کیے گئے کانٹینٹ میں نظر نہ آنے والے واٹر مارکس شامل کرنا شروع کرے گا۔

    عالمی سطح پرٹک ٹاک اے آئی سے متعلق تعلیم میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے 20 لاکھ ڈالر کا نیا اے آئی لٹریسی فنڈ قائم کیا ہے۔ یہ فنڈ غیر منافع بخش اداروں اور ماہرین کی معاونت کرے گا تاکہ وہ ایسا تعلیمی کانٹینٹ تیار کریں جو لوگوں کو سمجھنے میں مدد دے کہ اے آئی کیسے کام کرتا ہے، اے آئی سے تیار کردہ کانٹینٹ کو کیسے پہچانا جائے، اور اے آئی کو محفوظ اور ذمہ داری کے ساتھ کس طرح استعمال کیا جائے۔ ایک درجن سے زائد ممالک میں شراکت دار ایسے وسائل تیار کریں گے جو میڈیا لٹریسی، ٹیکنالوجی کے ذمہ دارانہ استعمال، اور شفافیت سے تعلق رکھنے والے ٹک ٹاک کے ٹولز سے آگاہی کو فروغ دیں گے۔

    یہ اپ ڈیٹس ٹک ٹاک کے اُس مسلسل عزم کی عکاسی کرتی ہیں جس کے تحت وہ اپنی کمیونٹی کو اعتماد کے ساتھ اے آئی کو سمجھنے اور استعمال کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اے آئی ٹیکنالوجی کے ترقی کرنے کے ساتھ ،ٹک ٹاک محفوظ، شفاف اور تخلیقی ڈیجیٹل تجربات کو فروغ دینے کے لیے اپنے ٹولز اور شراکتوں میں مزید توسیع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

  • بھارتی وزیرِ دفاع کے سندھ بارے بیان پر گھوٹکی میں ہندو برادری کا بھرپور احتجاج

    بھارتی وزیرِ دفاع کے سندھ بارے بیان پر گھوٹکی میں ہندو برادری کا بھرپور احتجاج

    گھوٹکی: بھارتی وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے حالیہ اشتعال انگیز بیان نے نہ صرف پاکستان بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی بلکہ سندھ کی ہندو برادری بھی شدید ردِعمل دینے پر مجبور ہوگئی۔ اسی سلسلے میں گھوٹکی میں ہندو کمیونٹی نے ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی جس میں ہر عمر کے افراد نے بھرپور شرکت کی۔

    ریلی گھنٹہ گھر سے شروع ہو کر بھٹائی چوک تک پہنچی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر بھارت کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے بھارتی حکومت اور وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات خطے کے امن کے لیے خطرہ ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ “پاکستان ہے تو سندھ ہے، اور سندھ اور پاکستان ہماری ماں ہیں۔ ہم اس سرزمین کے وفادار شہری ہیں، کسی بھی غیر ملکی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کریں گے”۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارتی وزیرِ دفاع اپنے نامناسب اور اشتعال انگیز بیان پر فوری طور پر معافی مانگیں۔احتجاج کے دوران شرکاء نے “سندھ زندہ باد” اور “پاکستان زندہ باد” کے نعرے بھی لگائے، جبکہ ریلی کے دوران مختلف سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے تقاریر کرتے ہوئے کہا کہ گھوٹکی سمیت پورے سندھ کی ہندو کمیونٹی پاکستان کی سلامتی اور یکجہتی کے ساتھ کھڑی ہے۔ اشتعال انگیز بیانات نہ صرف نفرت پھیلاتے ہیں بلکہ اقلیتوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں۔

    گھوٹکی کی یہ ریلی پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک واضح مثال قرار دی جا رہی ہے جہاں اقلیتی برادری بھی ملکی سالمیت اور وقار کے تحفظ کے لیے یک آواز نظر آئی۔

  • ساحر شمشاد مرزا کی عہدے سے سبکدوشی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

    ساحر شمشاد مرزا کی عہدے سے سبکدوشی،چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اپنے عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔

    27ویں آئینی ترمیم کے تحت ان کی سبکدوشی کے ساتھ ہی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کا عہدہ بھی ختم ہوگیا ہے، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا 3 سال عہدے پر رہنے کے بعد اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں،جنرل ساحر شمشاد مرزا نے پاک فوج میں 40 سالہ شاندار عسکری خدمات مکمل کیں،جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اِنٹر سروسز فورم تھا جو تینوں مسلح افواج کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کےلیے کام کرتا تھا،پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کردہ 27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کردیا گیا جبکہ آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔

    جنرل ساحر شمشاد مرزا نے اپنے اعزاز میں جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹر میں منعقد کی گئی الوادعی تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ ہمارے ارد گرد کی دنیا ایک ناقابل تصور رفتار سے تبدیل ہو رہی ہے، اس تبدیلی سے ہماری اندرونی اور بیرونی آزمائشوں پر گہرے اثرات مرتّب ہو رہے ہیں،یہ اثرات ہائبرڈ محاذ آرائی سے لے کر جنگ تک محیط ہیں، ان حالات میں ہماری مسلح افواج کو زیادہ ہم آہنگی، مشترکہ تعاون اور یکسوئی کے ساتھ تیار رہنا ہوگا،مسلح افواج کے درمیان ہم آہنگی، مشترکہ حکمت عملی اور تعاون کو اہم ضرورت سمجھتا ہوں ناکہ ایک خواہش،

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پروارنٹ کا عندیہ

    سینیٹ قائمہ کمیٹی میں سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پروارنٹ کا عندیہ

    چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری کی زیر صدارت سینیٹ کی پلاننگ اینڈ ڈویلمپنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا

    وزیر مملکت برائے پلاننگ ارمغان سبحانی، این ایچ اے اور دیگر حکام نے کمیٹی میں شرکت کی،کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پر تحفظات کا اظہارکیا، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ کمیٹی سیکرٹری مواصلات کی عدم شرکت پر وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتی ہے،کمیٹی کو سکھر حیدرآباد، کراچی حیدرآباد موٹروے سمیت مختلف منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی،کمیٹی نے کراچی حیدرآباد موٹروے پر کام شروع کرنے میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا،کمیٹی نے سیکرٹری مواصلات کو آئندہ اجلاس میں طلب کرلیا، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ سیکرٹری مواصلات آئندہ اجلاس میں شریک نہ ہوئے تو وارنٹ جاری کر سکتے ہیں،سکھر حیدرآباد موٹرو کے حوالے سے ڈیڑھ سال میں یہ 12ویں میٹنگ ہے ، رہی،

    کمیٹی کو سکھر حیدرآباد موٹروے پر مئی میں کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی، بتایا گیا کہ سکھر حیدرآباد موٹروے کے تین سیکشنز پر مئی میں کام شروع ہوجائیگا،کمیٹی کی کوششوں کے باعث پروجیکٹ میں بہت پیشرفت ہوئی ہے، چیئرپرسن سینیٹر قرۃ العین مری نے کہا کہ موٹروے پر پہلے اگست پھر مارچ اور اب مئی کی تاریخ دی جا رہی ہے،یقینی بنایا جائے کہ سکھر حیدرآباد موٹروے پر کام شروع کرنے میں مزید تاخیر نہ ہو،

  • عمران خان نے مذاکرات کا اختیار مجھ سے لے لیا،بیرسٹر گوہر

    عمران خان نے مذاکرات کا اختیار مجھ سے لے لیا،بیرسٹر گوہر

    چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہےکہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے مذاکرات میں بہت کوشش کی لیکن کچھ نہیں ہوسکا، اب مذاکرات کا اختیار عمران خان نے محمود اچکزئی اور علامہ ناصر کو دیا ہے، اگر انہوں نے مجھ سے مذاکرات سے متعلق مشورہ مانگا تو میں ضرور دوں گا،محمود خان اچکزئی، علامہ راجہ ناصر کے ساتھ ہمارا الائنس ہے، ہم تحریک تحفظ پاکستان کے ذریعے ہم جدوجہد جاری رکھیں گے،مولانا زیرک سیاستدان ہیں ان کو شامل کرنے کے لیے بہت کوشش کی، مولانا ہمارے پاس نہیں آئے، میرا نہیں خیال کہ اب وہ ہمارے پاس آئیں گے تاہم ہم کوشش کریں گے ان کو آن بورڈ کریں،26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ہیں اور آزاد عدلیہ چاہتے ہیں، عمران خان کو آخری سزا 16 جنوری کو ہوئی، جوڈیشل پالیسی کے مطابق 35 دنوں میں فیصلہ ہونا چاہیے تھا مگر 10 ماہ سے زیادہ ہوگئے اب تک ان کا کیس نہیں لگ سکا۔