Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اورافغانستان میں تجارتی بندش, مربوط حکمت عملی پاکستان کیلئے فائدہ مند

    پاکستان اورافغانستان میں تجارتی بندش, مربوط حکمت عملی پاکستان کیلئے فائدہ مند

    پاکستان کا11 اکتوبر 2025 کو افغان سرحد بند کرنا ردعمل نہیں بلکہ تجارتی نظام کی اصلاح کا باعث ہے

    پاکستان نے وہ تمام راستے بند کیے جو اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور دہشتگردی کے بنیادی ذرائع تھے، تجارتی بندش کایہ فیصلہ قومی سلامتی، معاشی بقا اور ریاستی رٹ کے لیے نہایت اہم اور دوررس ثابت ہوگا،افغانستان تجارتی بندش سے معاشی، سماجی اور ریاستی طور پر سب سے زیادہ نقصان میں ہے۔افغانستان کی 70 سے80٪ تجارت پاکستان کی سڑکوں اور بندرگاہوں پر منحصر ہے، افغانستان میں سامان کراچی کے راستے 3سے4 دن میں پہنچتا ہے، جبکہ ایران کے راستے سے 6سے8 دن میں پہنچے گا،وسطی ایشیائی ممالک کے راستے تجارتی سامان کو افغانستان کیلئے 30 دن سے بھی زیادہ لگ جائیں گے، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر اسمگلنگ کا سامان پاکستان میں داخل ہوتارہا،حقائق کے مطابق پاکستان کو ہرسال 3.4 کھرب روپے کا نقصان اسمگلنگ سے ہوتا تھا،افغان ٹرانزٹ سے تقریباً 1 کھرب روپے کا سامان واپس آ جاتا تھا، جو اضافی نقصان کا سبب بنتاتھا،طورخم کی بندش سے ایک ماہ میں افغانستان کو 45 ملین ڈالر کا نقصان ہوا،چند ہفتوں میں افغانستان کیلئے تمام سرحدوں کا مجموعی نقصان 200 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا، 5,000 سے زائد ٹرک پھنسے، اور افغان فصلیں و پھل، جو پاکستان میں منڈی کے انتظار میں تھے، ضائع ہو گئے ،ایران کے راستے تجارتی لاگت 50سے60٪ بڑھ گئی اور ہر کنٹینر پر 2,500 ڈالر اضافی کرایہ لگا

    افغانستان میں ادویات کی ترسیل بھی متاثر ہوئی کیونکہ افغانستان کی 50 فیصد سے زائد ادویات پاکستان کے راستے آتی تھی، متبادل راستے سست، مہنگے اور غیر محفوظ ہیں، اور افغانستان کی کمزور معیشت یہ بوجھ برداشت نہیں کر سکتی،جب اسمگلنگ رک گئی، تو 200,000 سے زیادہ خاندان جو اسمگلنگ، بیک فلو اور انڈر انوائسنگ سے وابستہ تھے بے روزگار ہو گئے،افغانستان سے تجارتی بندش عام پاکستانی کی زندگی پر تقریباً کوئی اثر نہیں ڈالتی، افغانستان سے اسمگل ہو کر آنے والا سامان بنیادی اشیائے ضرورت نہیں بلکہ لگژری سامان تھا،پاکستان کے پاس CPEC، چین کے ساتھ براہِ راست زمینی راستے موجود ہیں،تجارتی بندش سے اسمگلنگ نیٹ ورک ٹوٹیں گے، اسلحہ و منشیات کی ترسیل رکے گی، ٹریڈ کی بندش سے مشرقی صوبوں (پکتیا وغیرہ) پر مرکوز تجارت دیگر صوبوں اور راستوں، جیسے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کی طرف بڑھے گی، اس سے افغانستان میں اقتصادی تنوع (Diversification) اور شمولیت (Inclusivity) بڑھے گی،طویل المدتی یعنی 5سے10 سال میں پاکستان کو بھی اس کے فوائد حاصل ہوں گے۔ افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ دہشتگردوں کو تحفظ دیں گے یا پاکستان کے ساتھ مل کر ترقی کے سفر میں شامل ہوں گے۔

  • جماعت اسلامی کا ایونٹ لاہور میں ہو رہا  کرینیں یہاں سےجا رہی ہیں۔مرتضیٰ وہاب

    جماعت اسلامی کا ایونٹ لاہور میں ہو رہا کرینیں یہاں سےجا رہی ہیں۔مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹاؤنز چیئرمین کو کہوں گا فوکس مینار پاکستان پر نہ رکھیں، ایونٹ لاہور میں ہو رہا ہے کرینیں یہاں سےجا رہی ہیں۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے کہا کہ نعیم الرحمان وہاں چلے گئے تصویریں آج بھی یہاں لگی ہوئی ہیں، لاہور میں نعیم الرحمان کا کوئی پوسٹر نظر آ جائے پھر بتائیے گا، میں سمجھتا ہوں جماعت اسلامی کو شہر کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے، میں کوئی جماعت اسلامی کا نہیں ہوں کہ پیسوں کو اکاؤنٹ میں رکھوں اورخرچ نہ کروں، کراچی شہر کا ماسٹر پلان 2003 میں جماعت اسلامی کے دور میں تبدیل ہوا، کراچی کی سڑکوں کو کمرشلائز کیا گیا، 2007 میں ماسٹر پلان تبدیل کیا گیا، ہم اختیارات کا رونا روئے بغیر کام کریں گے، شہر میں 10 ارب روپے گلیاں درست کرنے کے لیے خرچ کر رہے ہیں، گریکس کالونی میں آر او پلانٹ کے افتتاح پر آج یہاں ماڑی پور ٹاؤن کی تمام قیادت موجود ہے، پانی گریکس کے علاقے کی عوام کا دیرینہ مسئلہ تھا، بلاول بھٹو کے نظریے کے مطابق یہاں آر او پلانٹ کا افتتاح کیا، اس آر او کی خاص بات یہ کہ 5 کلو میٹر دور سے پانی لایا جائے گا، سمندر کا پانی میٹھا کرکے شہریوں کو دیا جا رہا ہے۔

    میئر کراچی کا مزید کہنا تھا کہ سیاست برائے تنقید ہو سکتی ہے اور سیاست برائے ترقی بھی ہوسکتی ہے، پریس کانفرنس سے مایوسی پھیلائی جا سکتی ہے یا پھر امیدیں جوڑی جا سکتی ہیں، ناقدین حکومت میں ہونے کے باجود بتاتے ہیں وہ کچھ نہیں کر پا رہے، 21 دسمبر تک دوسری حب کینال کا کام مکمل کر لیا جائے گا، اس سے ضلع غربی اور کیماڑی کے عوام کو اضافی پانی مل سکے گا، پہلا صعنتی پانی کا انفرااسٹرکچر 31 دسمبر تک فعال کرلیا جائے گا، پہلےفیز میں بیس ایم جی ڈی پانی ٹریٹ ہوگا، 20 آر او پلانٹس گلی محلوں میں اور لگائیں گے، خدا کی بستی، ملیر میں کام شروع ہوگیا ہے۔

  • ناصرشاہ کی زیر صدارت اجلاس، کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری

    ناصرشاہ کی زیر صدارت اجلاس، کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری

    وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی اسٹیرنگ کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا

    سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں اہم فیصلے ،مختلف تجاویز کی منظوری دی گئی،وزیر بلدیات کی زیر صدارت اجلاس میں کراچی، حیدرآباد، میرپور خاص اور سکھر کے میئرزنے شرکت کی،سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اسٹیرنگ کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری دی ،وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ اجلاس میں ریوائزڈ بجٹ کی منظوری کے حوالے سے دی گئی ہدایات کا جائزہ لیا گیا، وزیر بلدیات نے ماڈرن جی ٹی ایس کے حوالے سے سب کمیٹی بنانے کی ہدایت جاری کر دی ،ناصر شاہ نے ہدایت کی کہ صفائی ستھرائی کے لیے مربوط اور پائیدار نظام قائم کیا جائےصفائی ستھرائی کے نظام میں ادارے کی جانب سے اخراجات برداشت کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے ، سندھ سالڈ ویسٹ کی اسٹیرنگ کمیٹی کے اجلاس میں کمرشل اور رہائشی ایریا میں واقع دکان و مکان کی صفائی کی مد میں فیس کے حوالے سے مختلف تجاویز پر غور کیا گیا، اجلاس میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کی دفاتر دیگر مقامات پر منتقل کرنے کی منظوری دی گئی،

    سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اجلاس میں کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی منظوری دی گئی ،ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ سالڈ ویسٹ سے متعلقہ تمام نجی ادارے سندھ حکومت کی جانب سے مقررہ کم سے کم اجرت کی ادائیگی کو یقینی بنائے،عوام کو ریلیف دینے کے لیے سالڈ ویسٹ اپنے مانیٹرنگ نظام کو مزید بہتر بنائے ، اجلاس میں شریک میئرز نے صفائی ستھرائی اور عوام کو ریلیف دینے کے حوالے سے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔

  • تیجس حادثہ، بھارتی فضائیہ کے دیرینہ بحران بے نقاب

    تیجس حادثہ، بھارتی فضائیہ کے دیرینہ بحران بے نقاب

    دبئی ایئر شو میں بھارتی ساختہ جنگی طیارہ تیجس کا ہولناک حادثہ، جس میں پائلٹ موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا، محض ایک سانحہ نہیں، یہ بھارتی فضائیہ اور دفاعی ہوا بازی کے پورے نظام میں چھپے ہوئے دیرینہ بحرانوں کو پوری شدت کے ساتھ سامنے لے آیا ہے۔ حادثے نے نہ صرف تیجس پروگرام کی کارکردگی اور اس کی تکنیکی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ بھارت کے دفاعی منصوبہ بندی، آپریشنل سیفٹی اور سیاسی نعرہ بازی پر بھی بڑی بحث چھیڑ دی ہے۔

    اعداد و شمار بھارت کے دفاعی ہوابازی کے ’’سنگین بحران‘‘ کی واضح تصویر پیش کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق ستمبر 2023 تک بھارتی فضائیہ مجموعی طور پر 2,374 طیارے کھو چکی ہے، جن میں1,126 لڑاکا طیارے شامل ہیں،سینکڑوں ٹرینر و ٹرانسپورٹ طیارے،1,300 سے زائد پائلٹ مختلف حادثات میں جان گنوا چکے ہیں،بھارتی پارلیمانی ریکارڈ، جو کہ ہمیشہ محتاط الفاظ میں مرتب کیا جاتا ہے، خود یہ تسلیم کرتا ہے کہ 2017 سے 2022 کے دوران 34 طیارے حادثات کا شکار ہوئے۔ بہت سے کیسز میں انسانی غلطی ذکر کی گئی، مگر اس کے ساتھ ساتھ حقیقت یہ بھی ہے کہ پرانے طیارے، کمزور مینٹیننس، تکنیکی نقائص اور غیر پیشہ ورانہ نگرانی حادثات کا بنیادی سبب رہے۔

    تیجس کو بھارتی حکومت نے ’’آتما نربھر‘‘ (خود انحصاری) کے نعرے کے ساتھ ملکی ٹیکنالوجی کا ’’چمکتا ہوا ستارہ‘‘ بناکر پیش کیا۔ لیکن اندرونی حقیقت کچھ اور ہے۔تیجس پروگرام کے بڑے مسائل میں مسلسل ڈیزائن خامیاں،بے تحاشہ لاگت میں اضافہ،وقت پر ڈیلیوری میں تاخیر،ناقص کوالٹی کنٹرول،غیر ملکی پرزوں پر انحصار ،خاص طور پر امریکی GE F404 انجن،ملکی انجینئرز کا اپنا کویری (Kaveri) انجن بنانے میں ناکامی ہے،

    بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق تیجس کو زیادہ تر ’’سیاسی منصوبہ‘‘ کے طور پر آگے بڑھایا گیا، نہ کہ ایک مکمل، محفوظ اور جنگ کے قابل پلیٹ فارم کے طور پر۔ بعض ماہرین نے تو اسے "فلائنگ کوفن (اڑتا تابوت)” تک قرار دیا ، وہی لقب جو پہلے بھارت کے پرانے MiG-21 کے لیے استعمال ہوتا تھا۔

    تیجس کا دبئی ایئر شو میں گرنا نئے سوالات پیدا کرتا ہے،کیا ناقص حفاظتی ریکارڈ رکھنے والے ممالک کے طیاروں کو عالمی ایئر شوز میں اسی آزادی کے ساتھ مظاہرے کی اجازت ہونی چاہئے؟پیچیدہ فضائی کرتب ایسے طیاروں کے لیے زیادہ خطرناک کیوں ہوتے ہیں جن میں بنیادی ڈھانچے اور کنٹرول سسٹم کے مسائل موجود ہوں؟کیا بین الاقوامی ایئر شوز کو بھارتی طیاروں کے لیے مزید سخت سیکیورٹی سرٹیفکیشن کی ضرورت ہے؟ایسے ایونٹس میں جہاں ہزاروں تماشائی موجود ہوتے ہیں، کسی بھی ملک کے طیارے کی تکنیکی لاپرواہی ناقابلِ معافی خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

    بھارت میں ’’خود انحصاری‘‘ اور ’’قومی فخر‘‘ کے سیاسی نعروں نے کئی بار انسانی جانوں کی قیمت پر دفاعی منصوبوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔تیجس کے بار بار پیش آنے والے مسائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ سیفٹی سے زیادہ سیاسی فائدہ،پروفیشنل ازم سے زیادہ بیانیہ سازی،حقائق سے زیادہ آپٹکس ترجیح پاتے ہیں۔یہ صورتحال نہ صرف پائلٹس کی جانوں بلکہ بھارتی فضائیہ کے پروفیشنل وقار کے لیے بھی سنگین خطرہ ہے۔

    ماہرین اس نتیجے پر متفق ہیں کہ بھارت کی دفاعی ہوا بازی کو فوری بنیادوں پر مندرجہ ذیل اقدامات کرنے ہوں گے،آزادانہ اور شفاف تکنیکی آڈٹ،بیرونی ماہرین کی نگرانی میں سیفٹی ریویو،تمام طیاروں کے لیے سخت مینٹیننس پروٹوکول،پائلٹس کے لیے جدید ٹیکنیکل ٹریننگ،سیاسی دباؤ سے آزاد پراجیکٹ مینجمنٹ،اگر یہ اصلاحات نہ کی گئیں تو بھارت نہ صرف مزید طیارے کھوئے گا بلکہ مزید پائلٹس خطرے میں پڑیں گے، اور تیجس سمیت دیگر منصوبے محض ’’نمائشی‘‘ کامیابیوں کے سوا کچھ ثابت نہیں ہوں گے۔

  • بھارتی میڈیا نے تیجس حادثہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا دیا

    بھارتی میڈیا نے تیجس حادثہ کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرا دیا

    بھارت کے گودی میڈیا نے ایک مرتبہ پھر بھارت کی نااہلی چھپانے کیلئے تیجس حادثہ امریکی انجن پر ڈال دیا

    جنرل (ر) بخشی اور ارنب گوسوامی کی طیارہ حادثہ کی ذمہ داری امریکی انجن پر ڈال کر بھارت کی دفاعی کمزوری چھپانے کی کوشش میں لگے رہے، ارنب گوسوامی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے GE 404 انجن کی تاخیر سے فراہمی نے بھی بھارت کی دفاعی تیاری میں خطرناک خلا پیدا کر دیا، تیجس امریکی جنرل الیکٹرک کے بنائے ہوئے انجن سے چلتا ہے، اور جنرل الیکٹرک بھارت کا کبھی دوست نہیں رہا،امریکی حکومت نے تیجس کیلئے اگلی نسل کے انجنوں کی ڈلیوری سست کرنے کی کوشش کی،امریکہ ایل سی اے پروگرام اور تیجس کو ایک خطرہ سمجھتا ہے،

    جنرل بخشی نے کہا کہ آپ نہیں جانتے کہ کب سندور 2.0 دوبارہ بھڑک اٹھے، جی ای 404 انجن ہمیں دو سال پہلے مل جانا چاہیے تھا، ہم نے ایک ارب ڈالر نقد ادا کیے ہیں، ابھی تک ہمیں صرف دو انجن ملے ہیں،

    بھارتی سرکار اور اس کا گودی میڈیا اپنی ان حرکات کی وجہ سے نا صرف جگہسائی کا سبب بنتے ہیں بلکہ بھارتی عوام کو بھی اصلی مسائل کی طرف سے ہٹاتے ہیں ،اس ذاتی سیاسی اور معاشی مفاد کی خاطر بھارت ایک خطرناک بند گلی میں داخل ہوتا جا رہا ہے امریکا پر ملبہ ڈالنا بارآور ثابت نہ ہوا، طیارہ حادثہ بھارتی دفاعی صنعت کی ناکامی کا واضح عکاس ہے

  • بنوں میں سیکورٹی فورسز کا مشترکہ آپریشن ، 8 دہشتگردہلاک

    بنوں میں سیکورٹی فورسز کا مشترکہ آپریشن ، 8 دہشتگردہلاک

    سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں مشترکہ آپریشن کر کے 8 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بنوں ریجن میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر آپریشن کیا گیا، آپریشن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک کر دیے گئے،سکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران خوارج کے ٹھکانے کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، بھارتی حمایت یافتہ ہلاک خوارج سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا، ہلاک دہشت گرد سکیورٹی فورسز کے خلاف متعدد دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے، ہلاک خوارج قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔

    کامیاب کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسزکے مضبوط تعاون کی عکاس ہے، مشترکہ تعاون سے علاقے میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خوارج کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے منظم، مربوط اور ہم آہنگ حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، علاقے میں موجود کسی بھی دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہیں، ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے "عزمِ استحکام” وژن کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔

  • بھارت نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

    بھارت نے ٹرمپ کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے

    آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے دار بھارت نے بالآخر امریکی دباو کےآگے گھٹنے ٹیک دیئےہیں

    روس سے تیل خریدنے پالیسی پر مودی حکومت نے یو ٹرن لے لیا، امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنیوں کا 10 سالہ تیل معاہدہ امریکی پابندیوں کے سامنے بے معنی ہو گیا، مودی کے قریبی ارب پتی تاجر دوست مکیش امبانی نے بھی امریکی حکم مان کر روسی تیل خریدنا چھوڑ دیا۔امریکی اخبار کے مطابق روسی تیل کی خریداری رکنے کے بعد ریلائنس کو مشرق وسطیٰ اور ممکنہ طور پر امریکا سے مہنگا تیل خریدنا پڑے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یکم دسمبر سے بھارتی کمپنی کی ریفائنری غیر روسی خام تیل پر چلائی جائے گی جبکہ امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریلائنس کی طرف سے روسی تیل کی خریداری بند کرنا واشنگٹن کے لیے ایک اہم رعایت ہے۔امریکی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت برسوں روسی تیل سے اربوں ڈالر کماتا رہا لیکن ٹرمپ کے 50 فیصد ٹیرف کے سامنے مودی سرکار نے روسی تیل نہ خریدنے کا فیصلہ کیا، ایک بھارتی کمپنی کے روسی تیل کے سودوں کی مالیت 33 ارب ڈالر سے زائد تھی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا تھا کہ روسی تیل کے ساتھ امریکا بھارت تجارتی معاہدے پر پیشرفت نہیں ہو سکتی تھی۔

  • اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے مقرر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے مقرر

    وفاقی آئینی عدالت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز کی انٹرا کورٹ اپیل سماعت کے لیے مقرر کردی گئی۔
    وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 6 رکنی لارجر بینچ 24 نومبر کو ساڑھے 11 بجے انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کرے گا۔

    بینچ میں جسٹس حسن رضوی، جسٹس باقر نجفی، جسٹس کے کے آغا، جسٹس روزی خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ بھی شامل ہیں۔سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے اسلام آباد میں ججز کا تبادلہ درست قرار دیا تھا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی

  • وزارت تجارت نے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی ختم کر دی

    وزارت تجارت نے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی ختم کر دی

    وزارت تجارت نے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی ختم کر دی۔

    پاکستان میں سونے سمیت قیمتی دھاتوں اور جواہرات کی درآمد و برآمد میں اصلاحات کے تناظر میں وزارت تجارت نے وزارت تجارت نے 2013 کے آرڈر میں ترامیم کرکے سونے کی امپورٹ ایکسپورٹ پر پابندی ختم کر دی۔ سابقہ نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق درآمدات کے لیے ضروری دستاویزات فراہم کرنا لازمی ہوگا، قیمتی دھاتوں اور جواہرات کی درآمد اور برآمد کے لیے متعلقہ اسکیمز کے تحت اجازت ہوگی۔آپریشنل مسائل کی صورت میں، متعلقہ کسٹمز افسر سے رضامندی حاصل کر کے ایک بار کسٹمز اسٹیشن تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ برآمد کی آمدنی اب اسی بینک کے ذریعے ہوگی جو اصل درآمد سنبھالے گا۔

  • کوئی کہے میں نے کسی کی سفارش کی  تو استعفیٰ تک دے سکتی ہوں،مریم نواز

    کوئی کہے میں نے کسی کی سفارش کی تو استعفیٰ تک دے سکتی ہوں،مریم نواز

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہےکہ ممکن ہے نچلے لیول پرکرپشن پوری طرح کنٹرول میں نہ ہو مگر اب ٹاپ لیول پر ممکن نہیں۔

    27 ویں نیشنل ڈیفنس سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ پنجاب میں میرٹ کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی، سیاسی بنیاد پر کوئی بھرتی نہیں کی گئی، کوئی کہہ دے کہ میں نے کسی کی سفارش کی ہے تو استعفیٰ تک دے سکتی ہوں، ممکن ہے نچلے لیول پرکرپشن پوری طرح کنٹرول میں نہ ہو مگر اب ٹاپ لیول پر ممکن نہیں، کھربوں روپے کے پروجیکٹس چل رہے ہیں لیکن کرپشن کی کوئی شکایت نہیں،پنجاب میں بہت کچھ کرچکے ہیں اور بہت کچھ ہونےجارہا ہے، ہم پرتنقید کرنے والے صحافی کی اہلیہ بھی یہ کہنے پرمجبور ہیں کہ پنجاب میں محفوظ سمجھتی ہوں، میرے بارے میں جلسوں میں رکیک جملے کہے گئے، والد کے ساتھ کھڑے ہونے پر جیل میں ڈال دیاگیا مگر آج مکافات عمل ہے، وہ جانتے تھے ان کو نہ گرایا گیا تو ہماری جگہ نہیں بنتی، سیاسی اخلاقیات کا معیار مقرر کرنا چاہیے،الزام لگایا ہے تو ثابت بھی کریں، گالم گلوچ اور الزام تراشی کا جواب پرفارمنس کے بیانیے سے دیں گے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، احتساب نہ ہونے پر پبلک سیکٹر میں پرفارمنس زیرو ہوجاتی ہے، احتساب اور جوابدہی کے احساس کے بغیرگڈ گورننس ممکن نہیں،خوف اور غصے سے کام نہیں لیا جاسکتا، بیوروکریسی کی طرف سے مثبت تعاون ملا، ناکامیوں کا ملبہ بیوروکریسی یا دوسروں پر ڈالنا میرا وطیرہ نہیں، 5 سال میں پنجاب کرپشن فری ہوگا، ووٹ نہ ملنےکا ڈر ہو تو کوئی اچھا کام نہیں کیا جاسکتا، تجاوزات اٹھانے پرلوگ ناراض بھی ہوئے، کہتے تھے بیٹی آتی ہے تو گھر چمکاتی ہے، ہم دنیا کا سب سے بڑا ویسٹ مینجمنٹ پروگرام شروع کیا ہے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے این ڈی یو کے وفد کا پر تپاک خیر مقدم کیا وزیراعلیٰ نے نیشنل سکیورٹی ورکشاپ کے شرکاء کو حکومت پنجاب کے عوامی فلاح وبہبود کے پراجیکٹس اوراقدامات سے آگاہ کیا اور شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیئے،