Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے

    بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے

    بھارت جنگ بندی کیلئے کیسے امریکا کے پاؤں پڑا، حقائق سامنے آگئے۔ امریکی محکمہ انصاف کی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ 10 مئی کو جنگ بندی والے دن بھارتی سفارتخانہ اہم امریکی شخصیات سے رابطے میں تھا۔

    امریکی محکمہ انصاف میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق 10 مئی کو جس دن بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی ہوئی، بھارتی سفارتخانہ ٹرمپ انتظامیہ کی اہم شخصیات سے رابطے میں تھا۔وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز اور دیگر حکام سے لابنگ فرم کی مدد سے رابطہ کیا گیا، بھارت نے جس لابنگ فرم کو ہائر کیا اس کے سربراہ کی صدر ٹرمپ کے ساتھ تصویر بھی سامنے آگئی۔دستاویزات منظرعام پر آنے سے دہلی کے سفارتی حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ بھارتی اخبار دی ہندو کی ایڈیٹر سوہاسنی حیدر کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس سے رابطوں اور امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے بھارت لابنگ فرم پر انحصار کرتا ہے۔امریکی لابنگ فرم نے تصدیق کی ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی ملاقات بھی انہوں نے کروائی، لابنگ فرم کی خدمات حاصل کرنے والوں میں بھارتی سیکریٹری خارجہ وکرم مسری بھی شامل ہیں۔

  • سعودی فوجی اتحاد کی یمن میں فضائی کارروائیاں، علیحدگی پسند فورسز نشانہ

    سعودی فوجی اتحاد کی یمن میں فضائی کارروائیاں، علیحدگی پسند فورسز نشانہ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے یمن میں محدود پیمانے پر فضائی کارروائیاں کرنے اور ان میں علیحدگی پسند فورسز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ کارروائیاں یمن کے جنوبی صوبے الضالع میں کی گئیں، جہاں علیحدگی پسند عناصر کی جانب سے فوجی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا تھا۔سعودی فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد یمن میں ممکنہ بڑے تصادم کو روکنا اور خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنا تھا۔ اتحاد کے مطابق فضائی حملے علی الصبح تقریباً صبح 4 بجے کیے گئے، تاکہ کسی بھی قسم کی زمینی جھڑپ یا خانہ جنگی کے پھیلاؤ کو بروقت روکا جا سکے۔اتحاد نے مزید انکشاف کیا ہے کہ سدرن ٹرانزیشنل کونسل (ایس ٹی سی) کے سربراہ عیدروس الزبیدی طے شدہ پروگرام کے مطابق ریاض روانہ نہیں ہوئے بلکہ نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق عیدروس الزبیدی کو منگل کی شب عدن سے ریاض روانہ ہونا تھا، جہاں انہیں یمنی حکومت اور جنوبی علیحدگی پسندوں کے درمیان متوقع مذاکرات میں شرکت کرنا تھی۔

    سعودی اتحاد کے مطابق قانونی یمنی حکومت اور اتحاد کو مصدقہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ عیدروس الزبیدی نے ایک بڑی فوجی طاقت کو متحرک کر لیا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق الزبیدی نے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس ایک بڑی فورس صوبہ الضالع میں جمع کر لی تھی، جس سے کشیدگی میں شدید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ انہی خطرات کے پیش نظر پیشگی فضائی کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔ تاہم، کارروائیوں سے قبل ہی عیدروس الزبیدی ریاض جانے والی پرواز پر سوار نہیں ہوئے اور کسی نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہو گئے۔

    دوسری جانب یمن کے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک سخت بیان میں عیدروس الزبیدی پر غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الزبیدی کو غداری کے الزامات کے تحت نائب صدر، صدارتی لیڈرشپ کونسل کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ایوانِ صدر کے اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ عیدروس الزبیدی کو ان اقدامات اور مبینہ جرائم پر اٹارنی جنرل کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا۔ یمنی حکام کے مطابق ریاستی خودمختاری کو نقصان پہنچانے اور غیر قانونی فوجی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت یمن کے پہلے سے پیچیدہ سیاسی اور عسکری منظرنامے میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی کے اثرات مستقبل کی سیاسی مذاکراتی کوششوں پر بھی پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    تلہ گنگ،بس کھائی میں جا گری،5 مسافر جاں بحق،27 زخمی

    چکوال میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 5 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو گئیں جبکہ 27 افراد زخمی ہو گئے۔

    ریسکیو حکام کے مطابق یہ دلخراش واقعہ چکوال کے علاقے تلہ گنگ میں پیش آیا جہاں مسافروں سے بھری ایک بس کھائی میں جا گری،ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بدقسمت بس اسلام آباد سے کراچی جا رہی تھی اور حادثہ جی ٹی روڈ پر ڈھوک پٹھان کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بس تیز رفتاری کے باعث ڈرائیور کے قابو سے باہر ہو گئی جس کے نتیجے میں وہ گہری کھائی میں جا گری،حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق حادثے کے نتیجے میں 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ 27 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 7 خواتین بھی شامل ہیں، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا جہاں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور شدید زخمیوں کو بہتر علاج کے لیے بڑے طبی مراکز منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں 45 منٹ کی ملاقات

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جیل میں 45 منٹ کی ملاقات

    اڈیالہ جیل راولپنڈی میں پابندِ سلاسل سابق وزیراعظم اور بانی چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان سے ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ملاقات کروا دی گئی۔

    جیل ذرائع کے مطابق یہ ملاقات منگل کے روز طے شدہ شیڈول کے تحت عمل میں آئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی تقریباً 45 منٹ تک ایک دوسرے کے ساتھ رہے، جس دوران دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور باہمی گفتگو کی۔ ملاقات جیل قوانین اور سکیورٹی ضوابط کے مطابق کرائی گئی۔
    جیل حکام کے مطابق یہ ملاقات کوئی پہلی نہیں، اس سے قبل بھی گزشتہ منگل کو عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کروائی گئی تھی۔ تاہم اس دوران جیل انتظامیہ نے واضح کیا کہ بیرونِ جیل سے کسی بھی عزیز، رشتہ دار، پارٹی رہنما یا وکیل کو عمران خان یا بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔

    ذرائع کے مطابق ملاقات کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور ملاقات کا دورانیہ مکمل ہونے پر بشریٰ بی بی کو واپس جیل کے مقررہ حصے میں منتقل کر دیا گیا، جبکہ عمران خان اپنی بیرک میں واپس چلے گئے۔

  • بنگلہ دیشی فضائیہ کے  چیف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    بنگلہ دیشی فضائیہ کے چیف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات

    چیف آف دی ایئر سٹاف، بنگلہ دیش ایئر فورس، ایئر چیف مارشل حسن محمود خان کی قیادت میں اعلیٰ سطحی دفاعی وفد نے ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں سربراہ پاک فضائیہ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں فضائی افواج کے درمیان آپریشنل تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کو مزید مستحکم بنانے کی ایک اہم کڑی ہے۔

    ملاقات کے دوران دونوں سربراہان نے باہمی تعاون کے وسیع امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں بالخصوص تربیتی مشقوں اور ایرو اسپیس صنعت میں پیش رفت کے شعبوں میں اشتراک پر زور دیا گیا۔ ایئر ہیڈکوارٹرز آمد پر پاک فضائیہ کے چاق و چوبند دستے نے بنگلہ دیشی مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے معزز مہمان کا پُرتپاک استقبال کیا اور پاک فضائیہ کی حالیہ پیش رفت اور جدید صلاحیتوں کی تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان گہرے مذہبی اور تاریخی تعلقات قائم ہیں جو دونوں برادر ممالک کی افواج کے مابین مثالی عسکری تعاون کا مظہر ہیں۔انہوں نے جدید حربی چیلنجز سے مؤثر طور پر نمٹنے کے لیے بنگلہ دیش ایئر فورس کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ ایئر چیف نے اس امر پر زور دیا کہ پاک فضائیہ بنگلہ دیش ایئر فورس کے کیڈٹس اور پائلٹس کے لیے بنیادی سے لے کر اعلیٰ سطحی ٹرینگ کے وسیع مواقع فراہم کرے گی۔

    بنگلہ دیش ایئر فورس کی تربیتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایئر چیف نے اس امر کا اعادہ کیا کہ سپر مشاق تربیتی طیاروں کی فراہمی کے عمل کو تیز کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں پاک فضائیہ مکمل تربیتی نظام کی فراہمی کو بھی یقینی بنائے گی تاکہ طیاروں کی بروقت شمولیت، بہترین عملی تیاری اور طویل المدتی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے۔بنگلہ دیش ایئر فورس کے سربراہ نے پی اے ایف کے شاندار حربی ریکارڈ اور مسلسل عملی برتری کو سراہا۔ اُنہوں نے پاک فضائیہ کے وسیع عملی تجربے اور پیشہ ورانہ مہارت سے استفادہ حاصل کرنے میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ۔ بنگلہ دیش ایئر فورس کے چیف نے پی اے ایف کے مسلسل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنی فضائیہ کے فضائی بیڑے کی تعمیر نو کے لیے معاونت کی خواہش کا اظہار کیا۔

    دونوں سربراہان کے مابین جے ایف-17 تھنڈر طیاروں پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا جو دفاعی تعاون کے فروغ اور طویل المدتی شراکت داری کے روشن امکانات کی عکاسی کرتا ہے۔ بنگلہ دیشی ایئر چیف نے نیشنل ایرو اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک میں موجود جدید تکنیکی انفراسٹرکچر کو سراہا اور بالخصوص آئی ایس آر، سائبر، خلائی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور بغیر پائلٹ فضائی نظام کے شعبوں میں قائم جدید ترین سہولیات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ وفد نے نیشنل آئی ایس آر اینڈ انٹیگریٹڈ ایئر آپریشنز سینٹر اور پی اے ایف سائبر کمانڈ کا بھی دورہ کیا، جہاں پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں پر بریفنگ دی گئی۔

    بنگلہ دیش کے اس اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کا ایئر ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد کا دورہ دونوں ممالک کے مابین دفاعی تعاون کو مزید مستحکم بنانے اور صلاحیت سازی و آپریشنل اشتراک پر مبنی تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے

  • بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،ترجمان پاک فوج

    بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،ترجمان پاک فوج

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ سب سے پہلے آپ کا شکریہ جو آپ یہاں تشریف لائے، پریس کانفرنس کا مقصد صرف 2025 میں دہشتگردی کےخلاف آپریشنز ہے،

    ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف کا پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نیوز کا نفرنس کا مقصد دہشت گردی کیخلاف اقدامات کا احاطہ کرنا ہے ،خوارج کا اسلام سے ،پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، 2025 میں پاکستان کی فوج اور عوام دہشتگردی کیخلاف متحد رہیں،دہشتگری کیخلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، 2025 میں ریاست اورعوام کودہشتگردی پرمکمل وضاحت حاصل ہوئی،فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا پاکستان ،بلوچستان سےکوئی تعلق نہیں، گزشتہ سال کاونٹر ٹیرارزم کے لیے لینڈ مارک سال رہا،سال 2025میں دہشتگردوں کے خلاف 75ہزار 175آپریشن کئے گئے،1235پاکستانی شہید ہوئے،سال 2025 میں پاکستان نے 2597 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا،دہشتگردوں کیخلاف 14 ہزار 658 آپریشنز خیبر پختونخواہ میں کئے گئے۔ ملک کے دیگر حصوں میں 1739 آپریشنز کئے گئے، گزشتہ سال 27 خودکش بم دھماکے ہوئے، اور 75 ہزار 175 آپریشنز کئے گئے،خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے 3811 واقعات ہوئے، اس سال 2597 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔2021 میں 193دہشت گرد ہلاک ہوئے اور 592 شہادتیں ہوئیں یعنی ایک دہشت گرد کی ہلاکت کے پیچھے 3 شہادتیں ہوئیں۔ دوسری جانب 2025 میں 2597 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔ اور شہادتیں 1235 ہوئیں۔ یعنی 2025 میں 1 شہادت کے پیچھے 2 دہشت گرد مارے جارہے ہیں،پچھلے سال 27 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 2 دھماکوں میں خواتین کا استعمال کیا گیا۔

    افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ایک سوال ہے خیبرپختونخوا میں 80 فیصد دہشتگردی کے واقعات کیوں؟، ہمارے بہت سے دوست صحافی یہاں خیبرپختونخوا سے بیٹھے ہیں، یہ سوال آپ کے ذہن میں تو چیخ چیخ کر آتا ہو گا کہ کیوں، اِس کی بنیادی وجہ ہے Political criminal terror nexuses جو وہاں پر Flourish کر رہا ہے،خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے پیچھے دہشتگردوں کا سیاسی گٹھ جوڑ ہے۔ خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔پاکستان نے 2025 کے آپریشنز کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی ہے، جس کا مقصد دہشتگردوں کو مکمل طور پر شکست دینا ہے،افغانستان میں کوئی حکومت نہیں ہے، اور تمام دہشتگرد پراکسیز زیادہ تر افغانستان سے چل رہی ہیں اور بھارتی اس میں مکمل طور پر شامل ہے. افغانستان میں دہشتگردی کے مرکز بننے کے باوجود، پاکستان کی موقف کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔افغانستان دنیا بھر کے اسمگلرز اور دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے.علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے پڑوسی ممالک میں انتشار اور دہشت گردی کا باعث بن رہی ہیں،نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے ،دہشت گردی کرنے والے یہ خوارج ہیں، اِن کا دینِ اسلام سے کوئی تعلق نہیں، اِن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے یہ جہاں ملیں اِنہیں مار دو، اِن کے ہاتھ پائوں مختلف سمتوں سے کاٹ دو،ہمیں یقین ہے کہ دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہم نے جیتنی ہے

    خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات کی وجہ وہاں دہشت گردوں کے لئے سیاسی طور پر ساز گار ماحول ہے۔ڈی جی آئی ایس پی ار
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ معرکہ حق میں جب ہندوستان کا منہ کالا کیا جاتا ہے ساری دنیا نے دیکھا کہ کیاہوا،معرکہ حق میں دنیا نے دیکھا کہ کیسے پوری قوم بنیان المرصوص بن گئی ، ہندوستان کو وہ سبق سیکھایا گیا جو سیکھایا جانا ضروری تھا ،بھارت کے منہ سے ابھی تک سندور کی کالک نہیں جا رہی ، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات ریاست کی اولین ترجیح رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے،سیکیورٹی اداروں نے کراچی میں بھارتی پراکسی بی ایل اے کی دہشت گردانہ سازش کا خاتمہ کرکے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنایا، جو پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف ناقابل تسخیر عزم اور علاقائی سلامتی کے تحفظ کا ثبوت ہے۔افغان طالبان ہمیشہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ انہوں نے امریکہ کو شکست دی جبکہ حقائق کچھ اور ہے، انہیں امریکہ نے ہی بنایا۔ یہ گمراہ کن پروپیگنڈا سے نوجوانوں اور مذہبی طبقے کو گمراہ کرتے ہیں،افغان گروپ نے وعدہ کیا تھا کہ شدت پسندی کا خاتمہ کریں گے اور یہ کہا تھا کہ افغان سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا.

    دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ،پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی حفاظت، قوم کی حفاظت ہے۔ دہشتگرد ہماری یکجہتی اور امن کے دشمن ہیں۔ اس سال کے اقدامات نے ثابت کر دیا کہ پاکستان ہر قسم کے دہشتگردانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یاد رکھیں، یہ دہشتگرد اسلام کے دشمن نہیں، بلکہ فتنہ الہندوستان کے پٹھو ہیں،ہمارا نشانہ ٹی ٹی پی ہے، افغان طالبان نہیں،2021 میں افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو اپنی طرز کی تنظیم بنایا اور نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے اپنی تعداد بڑھائی جارہی ہے، اکتوبر 2025 میں دہشتگردوں پر پاک افغان بارڈر پر حملے کیے گئے، گھنٹوں میں درجنوں افغان پوسٹوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا، ہندوستان نے نام نہاد سندور آپریشن میں بچوں اور خواتین کو نشانہ بنایا ، ہندوستان کون ہوتا ہے کہ ہمارے کسی شہری کو نشانہ بنائے ، یہ حق ہندوستان کوکسی نےنہیں دیا کہ وہ پاکستان کےکسی شہری یا انفرا اسٹرکچرکو نقصان پہنچائے، ہندوستان کے آپریشن سندور کی کالک ابھی تک اس کے منہ سے نہیں جا رہی۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کےشرکاء کے ہمراہ گزشتہ سال پاک فوج کے شہداء کو سیلیوٹ پیش کیا۔

    جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ کون کون دہشت گرد ہیں اور کہاں کہاں کس کو جگہ دے رہے ہیں، افغانستان میں کئی دہشت گرد تنظیموں کے سرغنہ اور تربیتی کیمپ موجود ہیں، بنیادی ٹارگٹ کون ہے، اس پر نظر ڈالیں تو دس بڑے واقعات نظر آتے ہیں، ان میں کون ملوث ہے؟ یہ تمام افغانی ہیں، دہشت گردوں نے سویلین اور سافٹ ٹارگٹس پر حملے کیے، جعفر ایکسپریس حملے میں 21 سویلینز شہید کیے گئے، نوشکی میں سویلین بس پر حملہ کیا گیا، یہ تمام دہشت گردانہ حملے افغانیوں نے کیے۔ اے پی ایس وانا میں افغان دہشت گردوں نے اے پی ایس پشاور دہرانے کی کوشش کی۔کورکمانڈر پشاور درجنوں بار کے پی میں عوامی مقامات پر جا چکے ہیں، دیگر افسران جاتے ہیں لوگوں سے بات کرتے ہیں، جس نے جو کہنا ہے وہ کہے کیونکہ پاک فوج اور ہمارے عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے،یہ بات ذہن میں ڈالی جاتی ہے کہ ‘یہ تو فوج کی جنگ ہے’ نہیں ، یہ پاکستان کے عوام کی جنگ ہے اگر ہم اس کے سامنے نہیں کھڑے ہوں گے آپ کے اسکولوں اور دفتروں میں بم پھٹیں گے، بھارت پراکسیز کو مالی امداد دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں اور ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔

    ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں،ترجمان پاک فوج
    لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کا واقعہ پاکستانیوں کے ذہنوں سے کبھی نہیں جائے گا، ایف سی ہیڈ کوارٹرز کوئٹہ میں حملہ کیا جاتا ہے، اس میں تمام افغانی تھے، جس میں 8 سویلینز شہید ہوئے، نومبر میں ایف سی ہیڈکوارٹر پشاور پر حملہ کیا گیا، یہ قوم کی جنگ ہے، ایک ایک بچے کی جنگ ہے، بیانیہ بنایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ فوج کی جنگ ہے۔ افغان رابطہ کے تناظر میں بہت سارے دہشت گردوں کے کاغذات بھی ملتے ہیں، دہشت گردوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور انہیں پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھیجا جاتا ہے،جو یہ بیانیہ بناتے ہیں کہ جو باڑ لگی ہے وہاں دہشت گرد کیوں نہیں مارے جاتے، بالکل مارے جاتے ہیں، اپریل میں 71 دہشت گرد مارے گئے، چیونٹیوں کی لمبی لمبی قطاروں کی طرح ان کی تشکیلیں آتی ہیں، حسن خیل میں 12 دہشت گرد مارے گئے، خارجی امجد کو بھی سرحد پار کرتے ہوئے مارا گیا، دہشت گرد سرحد پر جہاں نظر آتے ہیں، ڈھیر کر دیے جاتے ہیں، ایک بیانیہ بنایا جاتا ہے کہ پاکستان فوج ڈرون استعمال کرتی ہے، خارجیوں نے آرمڈ کواڈ کاپٹرز استعمال کرنا شروع کیا، خوارج مساجد میں بیٹھ کر کواڈ کاپٹرز دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں، ان کا سرپرست اعلیٰ ہندوستان ان کو ہر چیز فراہم کرتا ہے، خوارج بچوں اور خواتین کو ڈھال بنا کر دہشت گردی کرتے ہیں، فوج صرف دہشت گردوں اور سہولت کاروں کو نشانہ بناتی ہے، سمبازہ میں کواڈ کاپٹر کا استعمال کیا گیا کیونکہ وہاں آبادی نہیں تھی، ہم ڈرونز اور کواڈ کاپٹرز کا استعمال نگرانی کے لیے کرتے ہیں،فوج کوئی کولیٹرل ڈیمیج نہیں کرتی، کور کمانڈر پشاور درجنوں جگہوں پر جا چکے ہیں اور روز جاتے ہیں، کیونکہ ہمارے اور عوام کے درمیان کچھ نہیں ہے، فلڈ ریلیف کی سرگرمیاں اور سڑکیں کلیئر کی جا رہی ہیں، جو کلیئرٹی اس سال پاکستانی قوم کو ملی ہے وہ اس سے پہلے نہیں تھی،فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان پر قیادت اور عوام کلیئر ہیں، یہ وضاحت ہمارے پاس 2023 میں بھی تھی اور آج بھی ہے، ہمیں اس بیانیے سے کوئی ٹس سے مس نہیں کر سکتا، خوارج دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ سویلین اور فوجی قیادت دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے ایک پیچ پر ہے، صوبائی سیاسی قیادت کو مکمل کلیئرٹی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور سے کیسے لڑنا ہے، یہ کلیئرٹی پاکستان کے طول و عرض میں عوام کو بھی ہے۔یہ حق صرف ریاستِ پاکستان کا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو سزا دے یا جزا دے، بھارت کون ہوتا ہے کہ پاکستان کے کسی شہری کو گزند پہنچائے،

    سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں،ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہناتھا کہ کیا فوج بیلچے لے کر معدنیات نکالنے گئی ہے، 5 ہزار کے قریب معدنیات کے لائسنس کس نے جاری کئے؟، کیا جی ایچ کیو نے جاری کئے، کیا وفاقی حکومت نے کئے، مائنز اینڈ منرل ڈیپارٹمنٹ خیبرپختونخوا نے جاری کئے، ایک یا دو لائسنس ہوں گے جو فوج کے ماتحت ادارے کے پاس ہوں گے، سیاست، سیاسی جماعتوں کا کام ہے، ہمارا کام یہ ہے کہ ہم دودھ کا دودھ، پانی کا پانی قوم کے سامنے کر دیں، دہشتگردی کا بیانیہ 2023 سے چلا تھا، کلیئرٹی کا سورس آپ کے فیلڈ مارشل ہیں، جو کہتے ہیں دہشتگردوں سے کوئی بات نہیں کرنی، اِدھر تو یہ کلیئرٹی تھی کہ بات کر لو، ڈی جی آئی ایس پی آر نے سہیل آفریدی اور اقبال آفریدی کے بیان چلا دیے۔ ایران، چین اور دیگر ممالک کہہ رہے ہیں کہ افغانستان دہشتگردی میں ملوث ہے جبکہ پی ٹی آئی حکومت اس حوالے سے جھوٹا بیانہ بنا رہی ہے ‘دہشتگردی پاکستان کے اندر سے ہو رہی ہے’،اے این پی نے سینوں پر گولیاں کھائیں،دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہوئے یہ (پی ٹی آئی) کہہ رہے کہ ہم نہیں کھڑے ہوں گے،ہم ان کیساتھ شامل ہوں گے،سوال یہ ہے کہ کبھی دہشتگردوں نے اِن (پی ٹی آئی) پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ ہم نے جنازے اُٹھائے ہیں، مزید جنازے اُٹھانے کی ہمت رکھتے ہیں، ہم نے جانیں لی ہیں، ہم مزید جانیں لیں گے، دہشتگردوں کو جہنم واصل کرینگے،بھارت پراکسیز کو پیسہ دیتا ہے اور ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ یہ وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی کرتے ہیں۔ ان کے پاس جدید ترین اسلحہ موجود ہے۔27 خودکش حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن نے پوری قوت لگائی، مگر خیبرپختونخوا، بلوچستان اور اسلام آباد سمیت پوری قوم اور سیکیورٹی اداروں نے یکجہتی سے دہشتگردی کو شکست دی۔ہم حق پر ہیں اور حق نے انشااللہ غالب آنا ہے،

    وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے، ترجمان پاک فوج
    وہ ڈی جی آئی ایس آئی آج کہاں ہے جسے وزیراعظم (عمران خان) نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا؟ ڈی جی آئی ایس پی آر
    یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،ترجمان پاک فوج
    آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟ترجمان پاک فوج
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ کہتے ہیں کہ فوج کے پی سے نکل جائے،غور سے سن لیں کہ فوج ایک وفاقی فورس ہے،یہ وہاں وفاقی ہدایات پر موجود ہے،ہمیں آئینی اور قانونی حکم ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی یقینی بنائیں،یہ آپ کو کوئی اجازت نہیں دے سکتا کہ آپ اپنی سیاست کے لیے،سہولتکاری کے لیے،اپنے صوبے اور علاقوں کو دہشتگردوں کے حوالے کردیں،ماضی میں جائیں،جب اسی طرح کے سیاسی بیانات پر فوج سوات سے گئی تھی تو کیا ہوا تھا؟ہزاروں سواتیوں،ان علاقے کے بچوں نے،فوجیوں نے،کے پی کے لوگوں نے قربانی دی،آپ وہاں دوبارہ دہشتگردوں کی اجارہ داری قائم کرنا چاہتے ہیں کہ آپریشن نہیں کرنے دیں گے،تاکہ سیاست اور دہشتگردی کا گٹھ جوڑ ہر جگہ پھیل جائے؟دہشتگردی کے خلاف جنگ ہماری سالمیت اور پاکستان کی جنگ ہے، ہمارے لئے تمام قومیں،سیاسی جماعتیں، مذاہب، فرقے سب برابر ہیں،یہ سیاسی بیانیہ بناتے ہیں کہ ہم تو بےاختیار تھے، حکومت بےاختیار ہوتی ہے، یہ حکومت بھی ہے، پچھلی بھی تھی اس سے پچھلی بھی تھی،یہ کہتے ہیں کہ فوج واپس چلی جائے، تو میری بات غور سے سنیں اور سمجھیں۔ فوج وفاق کے احکامات پر کام کرتی ہے، اور پاکستان کی سیکیورٹی ہماری آئینی ذمہ داری ہے۔ ہم کسی کے سیاسی مقاصد کے لیے یا کسی کی سہولت کاری کے تحت اس صوبے کو دہشت گردوں کے حوالے نہیں ہونے دیں گے،ایک شخص(عمران خان) پارٹی ڈکٹیٹر کی طرح چلاتا تھاوہ کہتا تھا میں بے اختیار تھا وہ بااختیار وزیر اعظم تھا،اس وقت ڈ ی جی آئی تھے وہ کہاں ہیں ، انہیں اپنی سیاست کے لئے استعمال کیا گیا، وہ بااختیار وزیراعظم تھا جو بعد میں کہتا ہے میرے پاس اختیار ہی نہیں تھا، وہ آرمی چیف کو باپ کہتا تھا، ہمارے لئے ایک ہی باپ ہے قائد اعظم محمد علی جناح ،۔آئین کی کتاب میں لکھا ہے کوئی قانون، سیاسی جماعت اور آزادی اظہار رائے پاکستان کی خودمختاری اور سالمیت کے منافی نہیں ہو سکتا، آئین یہ کہتا ہے یا نہیں، ہم نے اِس ملک کی خودمختاری اورسالمیت کا حلف لیا ہے یا نہیں لیا،وزیراعلی خیبر پختونخوا کہہ رہے ہیں کہ میرا لیڈر کہتا ہے کہ آپریشن نہیں ہونے دینگے،خیبرپختونخوا میں آپریشن آج بھی ہورہے ہیں، کچھ چیزیں بنیادی ہیں ان پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری آئین پاکستان دیتا ہے،دہشت گرد داعش کا ہو، القاعدہ کا یا ٹی ٹی پی کا۔ سب دہشت گرد ہیں، ان کا کوئی دین ایمان نہیں ہے، ہماری کسی کے لیے کوئی ہمدردی نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردوں کی صرف ایک قسم اچھی ہے اور وہ ہے مردہ دہشت گردی،آئین کہتا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سالمیت سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے،وہ(عمران خان) بااختیار وزیراعظم تھا، بعد میں کہتا ہے میرے پاس تو اختیار نہیں تھا، وہ اِتنا بااختیار وزیراعظم تھا کہ اُس نے آرمی چیف کو قوم کا باپ ڈکلیئر کر دیا تھا، 1947 سے آج تک کسی وزیراعظم کے پاس اِتنا اختیار نہیں تھا کہ وہ آرمی چیف کو باپ ڈکلیئر کر دے،آپ کے صوبے میں 3800 دہشتگردی کے واقعات ہو چکے ہیں۔ اور یہ صاحب مضحکہ خیز بات چیت کیوں کرتے ہیں، کیونکہ جب کوئی لاجگ اور آرگیومنٹ نہ ہو تو ایسی ہی بات چیت کرنی ہے جس کا نہ کوئی سر ہے، نہ پیر، نہ آگے، نہ پیچھے، کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے؟کیا اُس کی بیعت کر نی ہے، وزیراعلیٰ کے پی کا بیانیہ کھل کر سامنے آیا، اگر ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا خوارج کے پیروں میں بیٹھنا ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمیں واضح اور غیر مبہم رہنمائی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملتی ہے، جن کا مؤقف دوٹوک ہے کہ ان دہشت گردوں سے نہ کوئی بات کرنی ہے اور نہ ہی انہیں کوئی جگہ دینی ہے

    ہمارے لیے تمام سیاسی جماعتیں، تمام صوبے اور تمام فرقے برابر ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
    ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ حال ہی میں شام سے 2500 کے قریب غیر ملکی دہشتگرد افغانستان منتقل ہوئے ہیں اور وہ صرف افغانی نہیں اور قومیت کے دہشتگرد ہیں۔ ریاست ہوگی تو سیکیورٹی ہوگی اور سیکیورٹی ہوگی تو کاروبار اور ترقی ممکن ہوگی،دنیا نے معرکۂ حق میں دیکھا کہ پاکستانی عوام جب بنیانُ المرصوص بنتے ہیں تو دشمن بے نقاب ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں بعد میں پیش آنے والے 540 دہشت گردی کے واقعات نے واضح کر دیا کہ دہشت گردی کا گڑھ افغانستان ہے،سیاسی بات چیت حکومت نے کرنی ہے، ہم سیاسی جماعتوں سے بات چیت نہیں کرتے نہ ہم نے کہا ہے کہ ہم نے کسی سے بات چیت کرنی ہے،یہ ہندوستانی میڈیا پر آ کر کہہ رہے ہیں کہ 2026 میں بھارت اور افغانستان مل کر پاکستان پر حملہ کرینگے آ جائو تم دونوں کا شوق پورا کرینگے ٹی وی پر نہ بیٹھو، تم بھی ساتھ آؤ ویڈیو چلا کر بتائیں گے کہ تم دونوں کا کیا حشر کیا ،خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہیں، ملٹری آپریشن نہیں کرنا تو کیا کرنا ہے؟ کیا نور ولی محسود کو صوبے کا وزیر اعلیٰ بنانا ہے، کیا اُس کی بیعت کر لینی ہے؟افغانستان میں حکومت بدلنے کا حق افغان عوام کے پاس ہے،

  • ڈی جی وائلڈلائف کیخلاف مبینہ کرپشن ،درخواستوں پر انکوائری نہ ہونے کا انکشاف

    ڈی جی وائلڈلائف کیخلاف مبینہ کرپشن ،درخواستوں پر انکوائری نہ ہونے کا انکشاف

    لاہور: ڈی جی وائلڈلائف پنجاب مبین الٰہی کے خلاف مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق درخواستوں پر گزشتہ دو سال سے انکوائری نہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق جہلم کے شہری اور مقامی سی بی او کے سیکرٹری جنرل راجہ محمد قیصر نمبردار نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزیراعلیٰ پنجاب کو مبینہ کرپشن کے شواہد ارسال کیے تھے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ دو برس سے مختلف فورمز پر دی گئی درخواستوں کے باوجود عملی کارروائی نہیں کی گئی۔راجہ محمد قیصر نمبردار کے مطابق انہوں نے 25 فروری 2024 کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی وزیر کو ڈی جی وائلڈلائف مبین الٰہی کے خلاف انکوائری کے لیے تحریری درخواستیں دیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کے شکایات سیل کو بھی درخواست بھجوائی گئی، جو یکم مئی 2025 کو ارسال کی گئی۔ شکایات سیل کی جانب سے 25 جون کو درخواست وصول ہونے کی تصدیق کی گئی، تاہم 2 جولائی کو بغیر کسی وضاحت کے شکایت حل ہونے کا پیغام موصول ہوا۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس دوران ان سے تفصیلات جاننے کے لیے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

    دوسری جانب، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری کی طرف سے فروری 2025 میں مبینہ انکوائری کے احکامات سیکرٹری جنگلات و جنگلی حیات پنجاب تک پہنچے، جس کے بعد متعلقہ محکمے نے اس وقت کے ڈی جی وائلڈلائف سے رپورٹ طلب کی۔ تاہم درخواست گزار کے مطابق باقاعدہ تفتیش کے بغیر ہی کارروائیاں ختم کر دی گئیں اور مبینہ طور پر مبین الٰہی کو چھٹی پر بھیجنے کے بعد دوبارہ ڈی جی وائلڈلائف تعینات کر دیا گیا۔ اب انہیں 20ویں گریڈ میں ترقی کے لیے کورس پر بھیجے جانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔الزامات کے مطابق مبین الٰہی پر کالا باغ سی بی او کو مقررہ کوٹے سے زائد ٹرافی ہنٹنگ پرمٹس جاری کرنے کا الزام ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ چار کے بجائے سات پرمٹس جاری کیے گئے۔ اس کے علاوہ لاہور چڑیا گھر کے ہولوگرام منصوبے میں نجی کمپنی سے اور چڑیا گھروں کے لیے جانوروں کی خریداری کے دوران کراچی کے جانوروں کے تاجروں سے ترقیاتی منصوبوں کے عوض مبینہ طور پر کک بیکس وصول کی گئیں۔مزید یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالا باغ اور پدھری کی نجی رجسٹرڈ شکار گاہوں میں غیر ملکی مہمانوں اور رشتہ داروں کے لیے بغیر مقررہ فیس اور ضروری این او سیز کے غیرقانونی شکار کروایا گیا۔

    راجہ محمد قیصر نمبردار کا کہنا ہے کہ ڈی جی وائلڈلائف مبینہ طور پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے مختلف انکوائریوں کو التوا میں ڈلواتے رہے ہیں، جبکہ بعض معاملات عدالتوں میں بھی زیر التوا ہیں۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام الزامات کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور عوامی اعتماد بحال ہو۔

  • یونیورسٹی آف لاہور،چھلانگ لگانے سے قبل طالبہ کی 27 منٹ کی موبائل کال

    یونیورسٹی آف لاہور،چھلانگ لگانے سے قبل طالبہ کی 27 منٹ کی موبائل کال

    نجی یونیورسٹی کی طالبہ کی عمارت سے چھلانگ لگانے کی کوشش، اہم انکشافات سامنے آگئے

    لاہور میں نجی یونیورسٹی کی ایک طالبہ کی جانب سے عمارت سے چھلانگ لگانے کی کوشش کے واقعے میں ابتدائی تفتیش کے دوران اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ عمارت سے کودنے سے قبل تقریباً 27 منٹ تک فون پر بات کرتی رہی، تاہم واقعے سے قبل کی گئی آخری کال کا ریکارڈ طالبہ نے خود ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

    ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالبہ واقعے کے روز صبح یونیورسٹی پہنچی تھی، تاہم وہ کلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ ذہنی دباؤ کا شکار تھی اور تعلیمی نتائج پر شدید عدم اطمینان محسوس کر رہی تھی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبہ کو ایک ٹیسٹ میں 35 میں سے 18 نمبر ملے تھے، جس پر وہ کافی پریشان تھی۔پولیس ذرائع کے مطابق طالبہ نے اپنی کم نمبر آنے کی بات اپنے والد اور بھائی سے بھی شیئر کی تھی، جس کے بعد اس کی ذہنی کیفیت مزید متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

    پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے بیان کی روشنی میں تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا جبکہ یونیورسٹی اور اطراف میں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج تحویل میں لے لی گئی ہے تاکہ واقعے سے قبل اور بعد کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔پولیس کے مطابق تاحال طالبہ کے لواحقین کی جانب سے کسی قسم کی قانونی کارروائی کے لیے درخواست جمع نہیں کرائی گئی، تاہم قانون کے مطابق تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے تفتیش جاری رکھی جائے گی۔

    دوسری جانب خودکشی کی کوشش کرنے والی طالبہ اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق طالبہ کو دماغ پر شدید چوٹ آئی ہے جبکہ کمر اور گھٹنوں میں فریکچر بھی تشخیص ہوا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ طالبہ کی حالت تشویشناک مگر قابو میں ہے اور اسے مکمل طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

  • پاکستان کبڈی کے چار کھلاڑیوں پر چار سالہ پابندی

    پاکستان کبڈی کے چار کھلاڑیوں پر چار سالہ پابندی

    لاہور میں ہونے والی نیشنل کبڈی چیمپئن شپ کے دوران پاکستان کبڈی کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے، جہاں ڈوپنگ قوانین کی خلاف ورزی پر قومی سطح کے چار کھلاڑیوں پر چار، چار سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

    اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن آف پاکستان (اے ڈی او پی) نے قواعد و ضوابط کے تحت باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پابندی کا اعلان کیا ہے۔ذرائع کے مطابق نیشنل چیمپئن شپ کے دوران عبیداللہ راجپوت، ملک بن یامین، رانا حیدر اور کاشف سندھو کو ڈوپ ٹیسٹ کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم چاروں کھلاڑیوں نے ٹیسٹ دینے سے انکار کر دیا۔ اینٹی ڈوپنگ قوانین کے مطابق ڈوپ ٹیسٹ سے انکار کو بھی مثبت ٹیسٹ تصور کیا جاتا ہے، جس پر کھلاڑی کے خلاف وہی کارروائی کی جاتی ہے جو ممنوعہ ادویات کے استعمال پر کی جاتی ہے۔

    اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ کھیلوں میں شفافیت، دیانت داری اور مساوی مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ڈوپنگ کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے۔ قوانین کے تحت ڈوپ ٹیسٹ سے انکار سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر چار سال کی پابندی ناگزیر تھی۔

    دوسری جانب پاکستان کبڈی فیڈریشن نے بھی اس معاملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اپنی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس 12 جنوری کو لاہور میں طلب کر لیا ہے۔ اجلاس میں چاروں کھلاڑیوں کو طلب کیا گیا ہے، جہاں وہ ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر اپنا مؤقف بیان کریں گے۔پاکستان کبڈی فیڈریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اینٹی ڈوپنگ آرگنائزیشن کی جانب سے پابندی عائد کی جا چکی ہے، تاہم فیڈریشن اپنے قوانین کے مطابق الگ سے بھی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ ڈسپلنری کمیٹی کھلاڑیوں کے بیانات، شواہد اور رپورٹ کی روشنی میں آئندہ لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

  • برطانیہ میں شدید سردی ،برفباری ، درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا

    برطانیہ میں شدید سردی ،برفباری ، درجہ حرارت منفی 12 ڈگری تک گر گیا

    برطانیہ اس وقت موسمِ سرما کی شدید ترین سرد لہر کی لپیٹ میں ہے، جہاں جنوبی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا ہے۔ شدید برفباری اور یخ بستہ ہواؤں کے باعث ملک بھر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو گئے ہیں، سینکڑوں اسکول دوسرے روز بھی بند رہے، جبکہ ٹرینوں، پروازوں اور سڑکوں پر سفر شدید تعطل کا شکار ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ رات سے آج صبح تک برطانیہ کا کم ترین درجہ حرارت نورفوک کے علاقے مارہم میں منفی 12.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ لندن، برمنگھم، بورن ماؤتھ اور ساؤتھمپٹن میں بھی پارہ منفی 8 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیا، جسے رواں موسمِ سرما کی سرد ترین رات قرار دیا جا رہا ہے۔شدید برفباری کے باعث سڑک، ریل اور فضائی سفر بری طرح متاثر ہوا۔ صبح کے اوقات میں دفتر جانے والوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، متعدد ریلوے لائنیں برف کے باعث بند ہو گئیں۔ریلوے آپریٹر LNER نے لندن کنگز کراس، لیڈز اور ایڈنبرا کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو ’’اگلے نوٹس تک سفر مؤخر کرنے‘‘ کی ہدایت جاری کی، جس کی وجہ پٹری میں خرابی بتائی گئی۔ اسی طرح ایڈنبرا اور ایبرڈین کے درمیان شدید برفباری کے باعث ’’سفر نہ کرنے‘‘ کی وارننگ بھی دی گئی۔گریٹ ناردرن کے مطابق نورفوک میں پوائنٹس منجمد ہونے کے باعث کنگز لن اور ایلی کے درمیان ٹرین سروس معطل رہی۔ مرسی ریل کی ورل لائن پر بھی ماگھل اور رائس لین، جبکہ لیورپول اور راک فیری کے درمیان سروسز منسوخ کر دی گئیں۔

    مغربی لندن میں الزبتھ لائن، گریٹ ویسٹرن ریلوے اور ہیتھرو ایکسپریس کو اوورہیڈ برقی تاروں کو نقصان پہنچنے کے باعث شدید تعطل کا سامنا رہا۔ برسٹل پارک وے، کلیکٹن اور سیلبی کے علاقوں میں بھی پوائنٹس فیل ہونے سے سروس متاثر ہوئی۔ٹرانسپورٹ فار لندن کے مطابق ناردرن لائن کننگٹن اور بیٹرسی پاور اسٹیشن کے درمیان جزوی طور پر معطل رہی، جبکہ پکڈیلی لائن پر اوک وُڈ اور کاکفوسٹرز کے درمیان خراب ٹرین کے باعث کوئی سروس دستیاب نہ تھی۔میٹروپولیٹن لائن پر ویمبلے پارک سے ایلڈگیٹ تک تاخیر رہی، جبکہ سینٹرل، سرکل اور ڈسٹرکٹ لائنز پر بھی تکنیکی خرابیوں کے باعث خلل پیدا ہوا۔

    اسکاٹ ریل نے انورنیس سے ایبرڈین، کائل آف لوکھالش، ایلگن اور وِک کے ساتھ ساتھ ایبرڈین سے مونٹروز تک مختلف روٹس پر برفباری کے باعث تعطل کی اطلاع دی۔ایبرڈین ایئرپورٹ سے پانچ پروازیں منسوخ ہوئیں جن میں ایمسٹرڈیم جانے والی چار KLM پروازیں اور گیٹ وِک جانے والی ایک ایزی جیٹ پرواز شامل ہے، جبکہ ایمسٹرڈیم سے آنے والی تین پروازیں بھی منسوخ کر دی گئیں۔ انورنیس ایئرپورٹ پر بھی ایمسٹرڈیم سے آنے اور جانے والی پروازیں منسوخ رہیں۔ایبرڈین شائر، شیٹ لینڈ اور اورکنی میں خراب موسم کے باعث اسکول دوسرے روز بھی بند رہے، جہاں طلبہ کو کرسمس تعطیلات کے بعد اضافی چھٹی ملی۔انگلینڈ کے مختلف علاقوں، جن میں چیشائر، لنکا شائر، نارتھمبرلینڈ، یارکشائر، لنکن شائر اور نورفوک شامل ہیں، میں بھی درجنوں اسکولوں کی بندش کے بعد آج اسکول کھلنے یا نہ کھلنے سے متعلق طلبہ اور والدین کو اپ ڈیٹ کا انتظار رہا۔

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے جنوبی انگلینڈ کے کچھ حصوں میں مزید برف، تیز ہوائیں اور بارش متوقع ہے، جہاں بحرِ اوقیانوس سے آنے والا کم دباؤ کا نظام آرکٹک سرد ہوا سے ٹکرائے گا۔میٹ آفس کے مطابق جمعرات اور جمعہ کو جنوبی علاقوں کے بلند مقامات پر بھی برفباری ہو سکتی ہے، جبکہ شمالی اور وسطی انگلینڈ میں مزید برف یا تیز بارش اور ہواؤں کا امکان ہے۔ماہر موسمیات ایڈن میک گیورن کے مطابق 20 فیصد امکان ہے کہ یہ نظام شمالی راستہ اختیار کرے، جس سے انگلینڈ اور ویلز میں تیز ہوائیں اور شدید بارش ہو سکتی ہیں، جبکہ شمالی انگلینڈ، جنوبی اسکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں مزید برف پڑ سکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 30 فیصد امکان یہ بھی ہے کہ یہ نظام شمالی فرانس سے گزرے، جس کے نتیجے میں جنوبی انگلینڈ کے بلند علاقوں میں شدید برفباری ہو سکتی ہے۔ تاہم سب سے زیادہ امکان یہی ہے کہ جنوبی برطانیہ میں تیز بارش اور ہوائیں چلیں گی، جبکہ وسطی انگلینڈ میں برف کے باعث خلل کا خطرہ رہے گا۔

    محکمہ موسمیات نے شمالی اسکاٹ لینڈ کے لیے دو ایمبر (Amber) برفباری وارننگز جاری کی ہیں، جو شام تک مؤثر رہیں گی۔ اس کے علاوہ جنوب مغربی انگلینڈ، شمالی انگلینڈ، مشرقی انگلینڈ اور ویلز میں ییلو (Yellow) برف اور برفانی سڑکوں کی وارننگ نافذ ہے، جبکہ شمالی آئرلینڈ میں ییلو آئس وارننگ جاری کی گئی ہے۔ایمبر وارننگ کے تحت شدید موسمی حالات کے باعث سفر میں رکاوٹ، بجلی کی بندش اور جان و مال کو خطرے کا خدشہ ہوتا ہے، جبکہ ییلو وارننگ کا مطلب ہے کہ کچھ حد تک خلل ممکن ہے، تاہم بیشتر افراد روزمرہ معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔ایمبر وارننگ والے علاقوں میں ایبرڈین، ایبرڈین شائر، مورے، ہائی لینڈ، اینگس اور پرتھ اینڈ کنروس شامل ہیں۔

    برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے لیے جمعہ تک ایمبر کولڈ ہیلتھ الرٹس جاری کیے ہیں، خبردار کیا گیا ہے کہ شدید سردی صحت اور فلاح و بہبود کو متاثر کر سکتی ہے۔گزشتہ رات کمبریا کے علاقے شاپ میں درجہ حرارت منفی 10.9 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بینف شائر کے ٹومِنٹول میں 52 سینٹی میٹر (ایک فٹ آٹھ انچ) تک برف پڑنے کی تصدیق کی گئی ہے۔کالمیک فیریز نے بھی اعلان کیا ہے کہ آج اسکاٹ لینڈ کے مغربی ساحل پر فیری سروسز متاثر رہیں گی۔دوسری جانب برطانوی حکومت نے بتایا ہے کہ شدید سردی کے باعث لاکھوں گھرانوں کو ہیٹنگ کے اخراجات میں مدد کے لیے 25 پاؤنڈ کولڈ ویدر ادائیگیاں فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ بڑھتے ہوئے سرد موسم کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔