Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مذاق تو نہیں کہ ہر بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوتے رہیں۔چیف الیکشن کمشنر

    مذاق تو نہیں کہ ہر بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوتے رہیں۔چیف الیکشن کمشنر

    الیکشن کمیشن نے اسلام آباد بلدیاتی انتخابات سے متعلق فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5رکنی کمیشن نے سماعت کی،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب انتخابی تاریخ کا اعلان کرے گا، ہم پر پابندی نہیں کہ سیکرٹری یونین کونسلز کے ذریعے ہی انتخابات کرائیں،تین صوبوں میں بلدیاتی انتخابات ہو چکے، پنجاب میں ہونے والے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے کہاکہ پنجاب سے متعلق معاملہ حل ہو چکا ہے، جلد انتخابات ہو جائیں گے،اسلام آباد میں اب تک مقامی حکومت کا قیام نہیں ہوا، مذاق تو نہیں کہ ہر بار بلدیاتی انتخابات ملتوی ہوتے رہیں۔

  • دہلی کار دھماکہ،کانگریس کا امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ

    دہلی کار دھماکہ،کانگریس کا امت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ

    کانگریس دہلی کے صدر دیوندر یادو نے دہلی میں حالیہ کار دھماکے کے بعد سکیورٹی کی ناقص صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

    ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دیوندر یادو نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت ابھی تک دھماکے کی تحقیقات میں کسی واضح نتیجے تک نہیں پہنچ سکی، جس سے ملک کی سلامتی اور عوام کی جان و مال کے تحفظ پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ “دارالحکومت میں اتنا بڑا دھماکہ ہونا اور حکومت کا اب تک کوئی ٹھوس جواب نہ دینا نہ صرف انتظامی ناکامی ہے بلکہ یہ عوام کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ بھی ہے۔”دیوندر یادو نے ممبئی 26/11 حملوں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت کے وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے سکیورٹی میں خامیوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے بقول، “جب ایک وزیر اس وقت ذمہ داری لے سکتا ہے تو آج امت شاہ کو بھی دہلی دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینا چاہیے۔”

    کانگریس رہنما نے انکشاف کیا کہ دھماکے سے پہلے وہ کار جس میں دھماکہ ہوا، تقریباً 11 گھنٹے تک دہلی کی مختلف سڑکوں پر آزادانہ طور پر گھومتی رہی۔ ان کے مطابق، “یہ بات حیران کن اور خوفناک ہے کہ دارالحکومت جیسے حساس علاقے میں کوئی گاڑی اتنے طویل وقت تک بغیر کسی چیکنگ کے حرکت کرتی رہی۔ یہ دہلی پولیس اور مرکزی وزارت داخلہ دونوں کی ناکامی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ دہلی پولیس براہِ راست مرکزی حکومت کے ماتحت ہے، اس لیے اس واقعے کی مکمل ذمہ داری بھی مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ یادو نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی اعلیٰ سطحی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ عوام کے سامنے اصل حقائق لائے جا سکیں۔

  • علیمہ خان پیش نہ ہوئی،نویں بار وارنٹ گرفتاری جاری

    علیمہ خان پیش نہ ہوئی،نویں بار وارنٹ گرفتاری جاری

    راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان کے نویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔

    علیمہ خان سمیت 11 ملزمان پر 26 نومبر احتجاج کے مقدمے کی سماعت جج امجد علی شاہ نے کی، جس میں علیمہ خان اور ان کے وکلاء آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئے جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان عدالت پیش ہوئے،عدالت نے علیمہ خان کو گرفتار کر کے 17 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دے دیا۔واضح رہے کہ علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف تھانہ صادق آباد میں مقدمہ درج ہے۔ علیمہ خان اور دیگر پر جھلاؤ گھیراؤ اور کار سرکار میں مداخلت کا الزام ہے،اس کے علاوہ علیمہ خان اور دیگر ملزمان پر کارکنان کو پُرتشدد احتجاج پر اکسانے کا بھی الزام ہے۔

  • اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی مزیدسخت کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی مزیدسخت کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں قائم ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس کی سکیورٹی کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد حالیہ سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر عدالتی عمل اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ڈسٹرکٹ کورٹس کمپلیکس میں سکیورٹی سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز جسٹس اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، اور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر واجد گیلانی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ڈی آئی جی سکیورٹی اور اے آئی جی اسپیشل برانچ نے موجودہ سکیورٹی انتظامات اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورٹس کمپلیکس کے مرکزی داخلی دروازے پر واک تھرو گیٹس کے ساتھ جدید اسکینرز نصب کیے جائیں گے تاکہ آنے والے سائلین اور وکلا کے سامان کی مؤثر جانچ پڑتال ہوسکے۔ صرف اسکیننگ کے بعد سکیورٹی کلیئرنس حاصل کرنے والے افراد کو اندر جانے کی اجازت دی جائے گی۔

    مزید برآں، انٹری پوائنٹس پر زِگ زیگ گرل لگانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی مشتبہ گاڑی یا شخص کی رفتار کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، کمپلیکس کی چھتوں پر تربیت یافتہ اسنائپرز تعینات کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی ہے تاکہ ہنگامی صورتِ حال میں فوری ردِ عمل دیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق، اجلاس میں وکلا کو سکیورٹی سے متعلق ٹریننگ دینے اور فرضی مشقیں کروانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ کسی ممکنہ دہشت گردی یا حملے کی صورت میں بروقت اور مربوط ردِ عمل ممکن بنایا جا سکے۔مزید یہ کہ سکیورٹی اہلکاروں کے موبائل فون کے غیر ضروری استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ڈیوٹی کے دوران ان کی توجہ مکمل طور پر فرائض پر مرکوز رہے۔

    اجلاس میں ایک ایمبولینس کو مستقل طور پر کمپلیکس کے باہر تعینات رکھنے کی بھی تجویز پیش کی گئی تاکہ کسی بھی ہنگامی طبی ضرورت کی فوری تکمیل ممکن ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اسلام آباد کے عدالتی اداروں کی سکیورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے قبل ہی مؤثر ردِ عمل ممکن بنایا جا سکے۔

  • افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے اسلام کے لبادہ میں چھپے مکروہ چہرے بے نقاب

    افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے اسلام کے لبادہ میں چھپے مکروہ چہرے بے نقاب

    افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے اسلام کے لبادہ میں چھپے مکروہ چہرے بے نقاب ہو گئے

    افغان طالبان رجیم اور فتنہ خوارج جیسے عناصر اسلام کے مقدس نام کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جو اسلام جیسے پرامن دین کو دہشت کی علامت بنانے پر تلے ہوئے ہیں،معصوم انسانوں کا خون بہانا، خودکش دھماکے کرنا اور مساجد کو نشانہ بنانا اسلام نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جنگ ہے،افغان طالبان رجیم ایک جانب امارات اسلامی کی بات کرتے ہیں اور دوسری جانب ہندوتوا نظریہ سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں،امارتِ اسلامیہ کے آفیشل اور نان آفیشل اکاؤنٹس دن رات پاکستان پر حملوں کی دھمکیاں دیتے ہیں،افغان طالبان رجیم بھارت میں ہونے والے دھماکہ کی مذمت کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں دہشتگردی پر خاموش رہتے ہیں

    دہشتگردی کی کارروائیوں پر اپنے رویہ سے بھارت سے اپنی وفاداری ثابت کرتے ہیں ،اسلام امن و امان کا حکم دیا ہےمگرافغان رجیم اور فتنہ الخوارج نفرت اور بربریت کے علَم بردار ہیں،افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے

  • ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس  سکول سسٹم کے طلبا کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس سکول سسٹم کے طلبا کے ساتھ نشست

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانونٹ جیسس اینڈ میری، بیکن ہاؤس اور روٹس سکول سسٹم کے طلباء و طالبات اور اساتذہ کے ساتھ خصوصی نشست ہوئی ہے

    ڈی جی آئی ایس پی آر نے نشست کے دوران افواج ِ پاکستان کے آپریشنل اُمور اور داخلی صورتحال کے حوالے سے گفتگو کی ،پرنسپل کانونٹ جیسس اینڈ میری سکول نے افواج پاکستان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا ،اس خصوصی نشست میں اساتذہ اور طلباء نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ،طلباء اور اساتذہ نے اس موقع پر کہا کہ "ہمارے لیے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ہمیں آرمی سے بات چیت کا موقع ملا "ہمیں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے جو پاکستانی عوام کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں،ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں حقائق کو درست نقطہ نظر سے دیکھنے کی تلقین کی، ڈی جی آئی ایس پی آر نے ہمیں سوشل میڈیا کے حوالے سے پروپیگنڈا ، گمراہ کن اور نقصان دہ معلومات کے بارے میں آگہی دی،اساتذہ کا کہنا تھا کہ آج ہم نے سیکھا کہ ازلی دشمن کے تزویراتی تکبر کا مقابلہ کیسے کیا جائے، ہم پاک فوج کو ان کے پختہ عزم اور بہادری پر سلام پیش کرتے ہیں،طلبا کا کہنا تھا کہ بطور ذمہ دار شہری ہمیں سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا سے خود کو بچانا ہو گا ، میڈیا پر پھیلائی جانے والی خبروں میں سچائی جاننے کے لیے تحقیق کرنا ضروری ہے، پاک فوج اور پاکستانی عوام نے مل کر بھارت کے خلاف ایک مضبوط اتحاد قائم کیا ہے، ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ کس طرح پاک فوج ہمارے ملک کو دہشتگردی سے بچانے میں مدد کر رہی ہے،

  • بلوچستان دہشتگردانہ کاروائیوں پر سیکورٹی فورسز کا جواب،خیبر پختونخوا میں بھی جوابی وار

    بلوچستان دہشتگردانہ کاروائیوں پر سیکورٹی فورسز کا جواب،خیبر پختونخوا میں بھی جوابی وار

    بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشتگردوں کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع پنجگور کی تحصیل گوَرگو میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک شہری کو اغوا کرلیا اور اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق مغوی کی شناخت بختیار احمد ولد محمد عثمان کے نام سے ہوئی ہے۔ اغوا کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکیں، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا ہے۔اسی ضلع کے علاقے بالی سوراپ میں 40 سے 50 کے قریب مسلح افراد نے چیک پوسٹیں قائم کرکے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ ذرائع کے مطابق مسلح افراد کئی گھنٹوں تک علاقے میں موجود رہے جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ سرکاری سطح پر واقعے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم سیکیورٹی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    ضلع خضدار کے علاقے اورناچ کراس کے قریب کوئٹہ–کراچی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے چیکنگ پوائنٹس قائم کر کے گاڑیوں کی تلاشی لی۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما سردار علی محمد قلندارانی اور مولانا منظور احمد مینگل کے قافلے کو کچھ دیر کے لیے روکے رکھا، تاہم ابتدائی پوچھ گچھ کے بعد انہیں جانے دیا گیا۔ انتظامیہ کی جانب سے واقعے کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔ضلع نصیرآباد کے علاقے لندھی میں جیکب آباد سے گنداواہ جانے والی مسافر وین کو مسلح افراد نے لوٹ لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے وین کو اسلحے کے زور پر روکا، مسافروں سے نقدی اور قیمتی سامان چھین کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔کلی جمالدینی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے حاجی ثناءاللہ ولد عطااللہ جمالدینی اور نوربخش ولد میر احمد جمالدینی زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ٹیچنگ اسپتال نوشکی منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے کوہلو ریفر کردیا گیا ہے۔ پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کردی ہیں۔

    ضلع خاران کے علاقے کرم کاریز سے ایک شخص کی گولیوں سے چھلنی لاش برآمد ہوئی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق مقتول کی شناخت نادر ولد الہی بخش حسنی کے نام سے ہوئی، جسے گزشتہ رات نامعلوم مسلح افراد نے موٹر سائیکل پر سوار ہو کر کلی دشتکین سے اغوا کیا تھا۔ پولیس نے لاش قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

    میرانشاہ روڈ کے قریب نامعلوم حملہ آوروں نے ایک شخص پر فائرنگ کر کے اسے موقع پر ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔تحصیل مٹہ کے علاقے شکردرہ میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما ممتاز علی خان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکے سے گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا جبکہ ممتاز علی خان محفوظ رہے۔ ڈی پی او سوات کے مطابق سڑک کنارے نصب بارودی مواد ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑایا گیا۔ دھماکے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سردی خیل علاقے میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ ذرائع کے مطابق کارروائی ایک سہولت کار کے گھر کے احاطے میں کی گئی۔ موقع سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ بعض حلقوں نے ہلاک شدگان کو شہری قرار دیا، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے ایسی تمام افواہوں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن خالصتاً انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا اور کوئی شہری نقصان نہیں ہوا۔اسی ضلع میں پولیس کے سابق ایس ایچ او سب انسپکٹر عابد وزیر کی شہادت نے حافظ گل بہادر گروہ کے اندرونی اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق عابد وزیر کو برطرفی کے بعد اغوا کیا گیا اور جرگہ مذاکرات کے باوجود حافظ گل بہادر نے رہائی سے انکار کرتے ہوئے ان کی ہلاکت کا حکم دیا۔ سیکیورٹی اداروں کے مطابق یہ واقعہ گروہ کے اندرونی اختلافات اور پولیس کے خلاف دشمنی کا نتیجہ ہے۔مزید برآں، حوید پولیس اسٹیشن کی حدود سے چار مقامی تاجروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا، جن پر حالیہ حملے میں پولیس کی مدد کا الزام تھا۔ اغوا شدگان میں نعیم اللہ اور برکت اللہ شامل ہیں۔ چند روز قبل اسی علاقے میں سابق پولیس افسر عابد وزیر کو بھی اغوا کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔

    خیبر پختونخوا امن جرگہ نے 15 نکاتی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں صوبائی خودمختاری، امن، اور معاشی حقوق پر زور دیا گیا ہے۔ اعلامیے میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطوں، صوبائی وسائل کے تحفظ، اور عوامی شمولیت کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ جرگے نے تجویز دی کہ ہر سیکیورٹی آپریشن سے قبل اسمبلی کو ان کیمرہ بریفنگ دی جائے اور ایک جامع "صوبائی ایکشن پلان” تشکیل دیا جائے۔ اعلامیے میں صوبائی مالیاتی حقوق کے نفاذ، مقامی حکومتوں کے استحکام، اور بھتہ خوری و دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف سخت اقدامات کی بھی سفارش کی گئی۔

    سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرّم میں دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانے تباہ کر دیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ اطلاع پر کی گئی، جس کے دوران دہشت گردوں کے زیر استعمال کئی کمپاؤنڈز کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا۔ کارروائی کے دوران علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • اسلام آباد دھماکہ،حملہ آور پاکستانی نہیں تھا، طلال چوہدری

    اسلام آباد دھماکہ،حملہ آور پاکستانی نہیں تھا، طلال چوہدری

    وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں خود کش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والا دہشتگرد پاکستانی نہیں تھا، وانا اور اسلام آباد کے حملوں میں شواہد دیکھ کر ہم نے بھارت اور افغانستان کا نام لیا، معلومات ثالثوں سے شیئرکریں گے۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا فرض ہے کہ وفاق کے ساتھ ایک پیج پر رہے، سہیل آفریدی نے کبھی نہیں کہا کہ وہ دہشتگردی کے معاملے پر اپنے لیڈر سے ملنا چاہتے ہیں، وانا اور اسلام آباد کے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کے لیے کیا ملاقات کی ضرورت ہے؟

    واضح رہے کہ 2 روز قبل اسلام آباد کے جی الیون سیکٹر میں کچہری کے نزدیک خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

  • تہران میں پانی کا شدید بحران

    تہران میں پانی کا شدید بحران

    ایران کے دارالحکومت تہران میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا۔ ایرانی ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پرشکیان نےکہا کہ آنے والے دنوں میں بارش نہ ہوئی تو تہران میں پانی کی شدید قلت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نومبر کے آخر یا دسمبر کے شروع میں تہران میں پانی کی راشننگ شروع کریں گے اور راشننگ کے دوران بھی بارش نہ ہوئی تو تہران خالی کرانا پڑسکتا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق تہران کے مرکزی ذخائر میں صرف 2 ہفتوں کا پانی باقی ہے اور لوگوں اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اس سال ایران میں بارش میں 40 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، ایران کے کئی صوبوں میں 50 سے 80 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہے اور ملک کے دیگر کئی علاقے بھی خشک سالی کا سامنا کررہے ہیں۔

  • چین میں ہم جنس پرستوں بارے ڈیٹنگ ایپس حذف

    چین میں ہم جنس پرستوں بارے ڈیٹنگ ایپس حذف

    چین میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لیے بنائی گئی دو مقبول ترین ڈیٹنگ ایپس “بلوڈ” (Blued) اور “فنکا” (Finka) کو ملک بھر کے ایپ اسٹورز سے ہٹا دیا گیا ہے، جس سے یہ خدشہ مزید گہرا ہوگیا ہے کہ بیجنگ آن لائن اور سماجی سطح پر اس برادری پر اپنا کریک ڈاؤن وسیع کر رہا ہے۔

    منگل کے روز تک ایپل کے ایپ سٹور پر یہ دونوں ایپس دستیاب نہیں تھیں، جبکہ اینڈرائیڈ صارفین کے لیے مقامی ایپ اسٹورز سے بھی انہیں مکمل طور پر حذف کر دیا گیا۔ چین میں گوگل پلے اسٹور پہلے ہی حکومت کے سخت سنسرشپ نظام معروف “گریٹ فائر وال” کے تحت بند ہے۔چین دنیا کے سب سے وسیع آن لائن سنسرشپ اور نگرانی کے نظاموں میں سے ایک رکھتا ہے، جس کے تحت حکومتی پالیسیوں، کمیونسٹ پارٹی کی قیادت یا اس کی آئیڈیالوجی پر تنقید برداشت نہیں کی جاتی۔ گزشتہ برسوں میں حکومت نے پاپ کلچر میں مردانہ کرداروں کی "نسوانی تصویر کشی” کے خلاف بھی مہم تیز کی تھی۔

    چین میں ایل جی بی ٹی کمیونٹی پر دباؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ دہائی میں پرائیڈ پریڈز منسوخ کر دی گئیں، فلموں اور ٹی وی شوز میں ہم جنس پرستی کے موضوعات پر پابندی لگا دی گئی، جبکہ وی چیٹ (WeChat) نے درجنوں ایل جی بی ٹی گروپس کے اکاؤنٹس بند کر دیے۔حکومت کی جانب سے ایپس کو ہٹانے کے فیصلے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ تاہم سی این این کے مطابق، معاملے سے واقف ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ کارروائی غالباً “ریگولیٹری تعمیل” کے مسائل سے متعلق ہے۔ذرائع نے مزید کہا کہ ایپس پر “فحش یا غیر شائستہ مواد” نشر کرنے کے الزامات بھی لگائے گئے ہیں۔

    ٹیک ویب سائٹ وائرڈ (Wired) کے مطابق، ایپل نے ان ایپس کو Cyberspace Administration of China کی ہدایت پر اپنے چین اسٹور سے ہٹایا۔ایپل کے ترجمان نے بیان میں کہا “ہم نے ان ایپس کو صرف چین کے اسٹور فرنٹ سے ہٹایا ہے۔ ہم ہر ملک کے قوانین کے مطابق عمل کرتے ہیں جہاں ہم کاروبار کرتے ہیں۔”

    بلوڈ کی بین الاقوامی ورژن HeeSay اب بھی چین سے باہر کے اسٹورز پر دستیاب ہے، جبکہ فنکا صرف چین کے اندر ہی کام کرتا ہے۔بلوڈ کے تقریباً 5 کروڑ 40 لاکھ رجسٹرڈ صارفین دنیا بھر میں ہیں، جبکہ فنکا کے 27 لاکھ صارفین ہیں۔

    چین نے 1997 میں ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے نکال دیا تھا، تاہم ملک اب بھی ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت نہیں دیتا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ چین نے اس نوعیت کی ایپس پر پابندی لگائی ہو۔ Grindr جیسی بین الاقوامی ایپ کو 2022 میں حذف کیا گیا تھا۔ایک صارف، جس کا خاندانی نام ژاؤ بتایا گیا، نے سی این این کو بتایا کہ ان ایپس نے کم شہری علاقوں میں ہم جنس پرستوں کو آپس میں رابطے کا نایاب موقع فراہم کیا تھا۔ان کا کہنا تھا “آن لائن جگہ پہلے ہی محدود تھی، اب جب یہ پلیٹ فارم بھی بند ہو رہے ہیں تو لگتا ہے کہ ہماری برادری کی جگہ سکڑتی جا رہی ہے۔”